কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ১৪২৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لاالہ الا اللہ نجات دہندہ ہے
١٤٢٤۔۔ حضرت ایوب (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اکرم نے خبر دی کہ لاالہ الا اللہ کا قائل کوئی شخص جہنم میں نہ داخل ہوگا ۔ رواہ ابن عساکر۔
1424 - عن أيوب قال: "إن نبي الله صلى الله عليه وسلم أخبرني أنه لا يدخل النار أحد يقول لا إله إلا الله". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لاالہ الا اللہ نجات دہندہ ہے
١٤٢٥۔۔ اے ابوذر ! لوگوں میں خوشخبری پہنچادو کہ جس نے لاالہ الا اللہ کہہ لیا جنت میں داخل ہوجائے گا۔ ابوداؤد الطیالسی ، بروایت ابی ذر (رض) ۔
1425 – "يا أبا ذر بشر الناس أنه من قال لا إله إلا الله دخل الجنه" (ط عنه) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل الایمان متفرقہ
١٤٢٦۔۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ نبی کریم نے فرمایا : ہم اور تم پہلے بنی عبدمناف کہلاتے تھے آج سے ہم فقط بنی عبداللہ ہیں۔ الشیرازی فی الاالقاب۔
1426 - عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم قال "كنا وأنتم بنو عبد مناف فنحن وأنتم اليوم بنو عبد الله ". (الشيرازي في الألقاب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل الایمان متفرقہ
١٤٢٧۔۔ ازمسند حصین بن عوف الخثعمی ، حصین بن عوف سے روایت ہے کہ ہم رسول اکرم کے پاس جمعہ کے روز پہنچے تو آپ نے ہم سے سوال کیا کہ ہم کون ہیں ؟ ہم نے عرض کیا بنی عبدمناف۔ آپ نے فرمایا نہیں تم بنی عبداللہ ہو، یعنی اللہ کے بندے ہو اور اب اباء و اجداد پر فخر کرنا ترک کردو۔ الکبیر للطبرانی ، بروایت جھم البلوی۔
1427 - من مسند حصين بن عوف الخثعمي " وافينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الجمعة فسألنا من نحن؟ فقلنا بنو عبد مناف فقال أنتم بنو عبد الله". (طب عن جهم البلوي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل الایمان متفرقہ
١٤٢٨۔۔ از صدیق (رض)۔ طارق بن الشہاب رافع بن الطائی سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوبکر صدیق نے فرمایا اللہ نے اپنے نبی کو ہدایت دے کر مبعوث فرمایا لوگ اسلام میں داخل ہوئے بعض توای سے ہیں کہ وہ اسلام میں داخل ہوئے تو اللہ نے ان کو ہدایت سے نوازا اور بعض ایسے ہیں کہ ان کو اسلام میں تلوار کے ذریعہ مجبور کیا گیا پھر اللہ نے اسی کی بدولت ان کو ظلم وستم کا نشانہ بننے سے امان بخشی ، اور یہ سب اللہ کے اعوان و انصار ہیں اور اللہ کے عہد اور ذمہ میں اللہ کے ہمسائے ہیں۔ اور جو ان پر ظلم کرے گا وہ درحقیقت اللہ کے ذمہ کو توڑنے والا ہوگا۔ ابن راھویہ، ابن ابی عاصم، البغوی ، ابن خزیمہ۔
1428 - (من مسند الصديق رضي الله عنه) عن طارق بن شهاب عن رافع بن الطائي قال "قال لي أبو بكر إن الله بما بعث نبيه صلى الله عليه وسلم دخل الناس في الإسلام فمنهم من دخل فيه فهداه الله ومنهم من أكره بالسيف فأجارهم الله من الظلم وكلهم أعوان الله وجيران الله في خفارة (2) الله وفي ذمة الله ومن يظلم أحدا منهم فإنه يخفرن به". (ابن راهويه وابن أبي عاصم والبغوي وابن خزيمة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل الایمان متفرقہ
١٤٢٩۔۔ سعید بن عامر جویریہ بن اسماء سے روایت کرتے ہیں کہ یوم ابوبکر (رض) کی ابوسفیان سے سخت کلامی ہوگئی۔ ابوقحافہ والد ابی بکر نے فرمایا تم کیا کہتے ہو ابوسفیان کو ؟ حضرت ابوبکر (رض) سے عرض کیا ! اے اباجان اللہ نے اسلام کے ذریعہ بعض گھرانوں کو ہدایت سے سرفراز فرمایا ، اور بعض کو پست ورسوا کیا۔ سومیراگھر ان گھرانوں میں شامل ہے جن کو رفعت عطا کی گئی۔ اور ابوسفیا کا گھران گھرانوں میں ہے جن کو اللہ نے پست ورسوا کیا۔ ابن عساکر۔
1429 - عن سعيد بن عامر عن جويرية بن أسماء قال: "أغلط أبو بكر يوما لأبي سفيان فقال له يا أبا بكر لأبي سفيان تقول هذه المقالة قال يا أبت إن الله رفع بالإسلام بيوتا ووضع فكان بيتي فيما رفع وبيت أبي سفيان فيما وضع الله". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فضائل الایمان متفرقہ
١٤٣٠۔۔ ابوبشر جعفر بن ابی وحشیہ سے مروی ہے کہ قبیلہ خولان کا ایک شخص اسلام سے مشرف ہوگیا تو اس کی قوم نے اس کو کفر میں داخل کرنا چاہا اور اس پر ظلم ڈھایا، حتی کہ اس کو آگ میں ڈال دیا۔ لیکن ان کے جسم کے فقط وہ حصے جل سکے جن کو پہلے وضو کا پانی مس نہ ہوتا تھا۔ وہ شخص ابوبکر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت ابوبکر (رض) سے فرمایا ہے میرے لیے بخشش کی دعا مانگو، اس شخص نے عرض کیا آپ زیادہ حق دار ہیں تو آپ نے فرمایا تم آگ میں ڈالے گئے لیکن آگ تم کونہ جلاس کی ۔ پھر آپ نے ان کے لیے استغفار کیا۔ پھر وہ شخص وہاں سے چلے آئے اور ملک شام میں سکونت اختیار کرلی ۔ لوگ ان کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے تشبیہ دینے لگے۔ ابن عساکر۔
1430 - عن أبي بشر جعفر بن أبي وحشية "أن رجلا من خولان أسلم فأراده قومه على الكفر فألقوه في النار فلم يحترق إلا أمكنة لم يكن فيما مضى يصيبها الوضوء فقدم على أبي بكر فقال له استغفر لي قال أنت أحق قال أبو بكر إنك ألقيت في النار فلم تحترق فاستغفر له ثم خرج إلى الشام فكانوا يشبهونه بإبراهيم". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٣١۔۔ شرحبیل بن مسلم الخولانی سے مروی ہے کہ اسود بن قیس بن ذمی الخمار نے یمن میں نبوت کا دعوت کیا۔ پھر اس نے ابی مسلم الخولانی کو پیغام بھیجا۔ وہ اس کے پاس پہنچے تواسود نے ان سے پوچھا کیا تم میرے رسول اللہ ہونے کی شہادت دیتے ہو ؟ ابومسلم الخولانی نے فرمایا نے سنا نہیں کہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟ اسود نے کہا کیا تم محمد کے رسول اللہ ہونے کی شہادت دیتے ہو ؟ ابومسلم نے فرمایا بالکل اس پر اسود نے آگ بھڑکانے کا حکم دیا اور پھر ابومسلم کو اس میں ڈال دیا گیا۔ لیکن آگ ان پر کچھ بھی اثر انداز نہ ہوسکی۔ اسود بن قیس کو کسی نے مشورہ دیا کہ اگر تم اس شخص کو اپنے ہاں سے نہ نکالوگے تو یہ تمہارے پیروکاروں کو بھی تم سے گمراہ کردے گا۔ تواسود نے ان کے نکلنے کا حکم دے دیا، یہ مدینہ تشریف لائے اس وقت آپ کی وفات ہوچکی تھی اور حضرت ابوبکر کو خلافت کی ذمہ داری سونپ دی گئی تھی ابومسلم نے اپنی سواری کو مسجد کے دروازے پر بٹھایا، اور اتر کر مسجد کے ستون کے عقب میں نماز ادا کرنے کھڑے ہوگئے۔ حضرت عمر بن خطاب کی نظر ان پر پڑگئی حضرت عمر اٹھ کر ان کی طرف آئے اور دریافت کیا کہ کس علاقے کے باشندے ہو ؟ ابومسلم نے کہا اہل یمن سے تعلق ہے حضرت عمر نے دریافت کیا اس شخص کا کیا ہوا جس کو کذا ب اسود نے نذر آتش کردیا تھا عرض کیا وہ عبداللہ بن ثوب ہے حضرت عمر (رض) نے فرمایا میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتاہوں کیا تم وہی شخص ہو ؟ عرض کیا اللہ کا فضل ہے ہاں میں وہی شخص ہوں حضرت عمر (رض) ان سے لپٹ پڑے اور رو دیے پھر ان کو لے کر حضرت ابوبکر کے پاس پہنچے اور اپنے اور حضرت ابوبکر کے درمیان ان کو بٹھالیا۔ فرمایا تمام تعریفیں اللہ کے لیے جس نے مجھے موت سے قبل امت محمدیہ میں وہ شخص دکھایا جس کے ساتھ ابراہیم خلیل اللہ کا ساسلوک ہوا لیکن آگ اس کو گزند نہ پہنچا سکی۔ ابن عساکر۔
1431 - عن شرحبيل بن مسلم الخولاني أن الأسود بن قيس بن ذي الخمار "تنبأ باليمن فبعث إلى أبي مسلم الخولاني فأتاه فقال: أتشهد أني رسول الله قال: ما أسمع قال: أتشهد محمدا رسول الله قال: نعم فأمر بنار عظيمة ثم ألقى أبا مسلم فيها فلم تضره فقيل للأسود بن قيس إن لم تنف هذا عنك أفسد عليك من اتبعك فأمره بالرحيل فقدم المدينة وقد قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم واستخلف أبو بكر فأناخ راحلته بباب المسجد ودخل يصلي إلى سارية فبصر به عمر بن الخطاب فقام إليه فقال: ممن الرجل فقال من أهل اليمن فقال: ما فعل الذي حرقه الكذاب؟ قال: ذاك عبد الله بن ثوب قال فنشدتك بالله أنت هو؟ قال اللهم نعم فاعتنقه عمر وبكى ثم ذهب به وأجلسه فيما بينه وبين أبي بكر الصديق فقال: الحمد لله الذي لم يمتني حتى أراني في أمة محمدا صلى الله عليه وسلم من صنع به كما صنع بإبراهيم خليل الرحمن فلم تضره النار". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٣٢۔۔ ازمسند عمر (رض)، حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا میں ہر مسلمان کا پشت پناہ ہوں۔ الشافعی ، المصنف لعبدالرزاق ، ابن ابی شیبہ ، بخاری و مسلم۔
1432 - ومن مسند عمر رضي الله عنه عن مجاهد قال: قال عمر: "أنا فئة كل مسلم". (الشافعي عب ش ق) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٣٣۔۔ عقبہ بن عامر حضرت عمر بن خطاب سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم نے فرمایا جو اللہ پر یقین تام رکھتے ہوئے وفات کرجائے تو وہ جنت کے آٹھویں دروازوں میں سے جس سے چاہے داخل ہوجائے۔ ابن مردویہ۔
1433 - عن عقبة بن عامر عن عمر بن الخطاب أن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من مات وهو موقن بالله فإن للجنة ثمانية أبواب فيدخل من أيها شاء". (ابن مردويه) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٣٤۔۔ از مسند علی (رض)، حضرت علی سے منقول ہے کہ لوگوں میں فصیح ترین اور اعلم بااللہ وہ شخص ہوگا جو اہل لاالہ الا اللہ کی تعظیم و حرمت میں تمام لوگوں سے سخت اور زیادہ محبت کرنے والاہوگا۔ الحلیہ۔
1434 - (ومن مسند علي رضي الله عنه) عن علي قال: "أفصح الناس وأعلمهم بالله عز وجل أشد الناس حبا وتعظيما لحرمة أهل لا إله إلا الله". (حل) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٣٥۔۔ ازمسند انس بن مالک (رض) ، حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر نکلنے لگے تو دروازے میں حضرت معاذ (رض) کو پایا فرمایا اے معاذ۔ عرض کیا لبیک یارسول اللہ ، فرمایا جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو جنت میں داخل ہوجائے گا حضرت معاذ نے عرض کیا کیا لوگوں کو خوش خبرنہ سنادوں فرمایا چھوڑ دو ، تاکہ اعمال میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی سعی و کوشش جاری رکھیں کیونکہ مجھے ان کے اعتمار کرکے بیٹھے رہنے کا خوف ہے۔ الحلیہ۔
1435 - (ومن مسند أنس بن مالك) خرج النبي صلى الله عليه وسلم ومعاذ بالباب فقال: "يا معاذ قال لبيك يا رسول الله قال: من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة. قال: معاذ ألا أخبر الناس قال لا دعهم فليتنافسوا في الأعمال فإني أخاف أن يتكلوا". (حل) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٣٦۔۔ حضرت معاذ سے مروی ہے کہ وہ حضور کے پیچھے سواری پر بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا لوگوں کو خوش خبری سنادو کہ جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو جنت میں داخل ہوجائے گا معاذ نے عرض کیا مجھے یہ ڈر ہے کہ کہیں لوگ بھروسہ کرکے نہ بیٹھ جائیں تو فرمایا پھر چھوڑ دو ۔ الحلیہ، المسند لابی یعلی۔
1436 - عن معاذ بن جبل كان رديف النبي صلى الله عليه وسلم فقال " بشر الناس أنه من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة فقال: إني أخشى أن يتكلوا عليها قال فلا". (حل ع) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٣٧۔۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا اس شخص کی جزاء و انعام جس پر اللہ نے توحید کا انعام فرمایا جنت ہی ہے۔ ابن النجار۔
1437 - عن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "ما جزاء من أنعم الله عليه بالتوحيد إلا الجنة". (ابن النجار) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٣٨۔۔ ازمسند بشر بن سحیم الغفاری۔ بشر بن سحیم سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا جاؤ لوگوں میں نداء کردو کہ جنت میں مسلم جان کے سوا کوئی داخل نہ ہوسکے گایا فرمایا مومن کے سوا کوئی داخل نہ ہوسکے گا۔ اور ایام تشریق کھانے پینے کے ایام ہیں ان میں روزہ نہ رکھو۔ ابوداؤد ، ابن جریر ، ابونعیم ، ابن عساکر۔ ایام تشریق پانچ ایام ہیں عیدین اور عیدالاضحی کے بعد کے تین یوم۔
1438 - (ومن مسند بشر بن سحيم الغفاري) عن بشر بن سحيم قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "انطلق فناد في الناس أنه لا يدخل الجنة إلا نفس مسلمة وفي لفظ إلا مؤمن وإن أيام التشريق أيام أكل وشرب فلا تصوموهن". (ط وابن جرير وأبو نعيم كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٣٩۔۔ بشر بن سخیم سے مروی ہے کہ رسول اکرم نے ایام حج میں خطبہ دیا اور فرمایا کہ جنت میں مسلم جان کے سوا کوئی داخل نہ ہوسکے گایا فرمایا مومن کے سوا کوئی داخل نہ ہوسکے گا۔ اور یہ کھانے پینے کے ایام ہیں ، یعنی ایام تشریف ۔ ابن جریر۔
1439 - عن بشر بن سحيم قال: خطب النبي صلى الله عليه وسلم أيام الحج فقال: "إنه لا يدخل الجنة إلا نفس مسلمة وفي لفظ إلا مؤمن، فإن هذه أيام أكل وشرب يعني أيام التشريق". (ابن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٤٠۔۔ از مسند جابر بن عبداللہ۔ جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص حضور کی خدمت میں آیا اور عرض کیا یارسول اللہ دو واجب کرنے والی چیزیں کیا ہیں ؟ فرمایا جابر بن عبداللہ جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہوجائے گا اور جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہو تو وہ جہنم میں داخل ہوجائے گا۔ الدیلمی۔
1440 - (ومن مسند جابر بن عبد الله) عن جابر بن عبد الله قال جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "يا رسول الله ما الموجبتان؟ قال: من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة، ومن مات يشرك بالله شيئا دخل النار".(الديلمي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٤١۔۔ ازمسند الجارود بن المعلی، الجارود العبدی سے مروی ہے کہ میں رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں ایک دین پر کاربند ہوں اب اگر میں اپنا دین ترک کرکے آپ کا دین اپنالوں و کیا مجھے یہ پروانہ مل سکتا ہے کہ الہ مجھے آخرت میں عذاب نہ فرمائیں۔ فرمایا جی ہاں ۔ ابونعیم۔
1441 - (ومن مسند الجارود بن المعلى) عن الجارود العبدي قال:أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: "إن لي دينا فإن تركت ديني ودخلت في دينك فلي أن لا يعذبني الله في الآخرة قال نعم". (أبو نعيم) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٤٢۔۔ ازمسند عبداللہ بن عمرو (رض) ۔ عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اکرم ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا جس کی خواہش ہو کہ اس کو جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کردیا جائے ، تو اس کی موت اس حال میں آنی چاہیے کہ وہ اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتاہو۔ اور لوگوں کے ساتھ بھی وہی سلوک روا رکھے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو۔ ابن جریر۔
1442 - (ومن مسند عبد الله بن عمرو) عن عبد الله بن عمرو قال: "قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فينا خطيبا فقال: من سره أن يزحزح عن النار ويدخل الجنة فليدركه موته وهو يؤمن بالله واليوم الآخر، وليأت إلى الناس ما يحب أن يؤتى إليه". (ابن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آگ کانہ جلانا۔
١٤٤٣۔۔ ازمسند عقبہ بن عامر الجہنی، عقبہ بن عامر الجہنی سے مروی ہے کہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ کے ہمراہ تھے اور ہر دن ہم میں سے کسی کی اونٹوں کی چرانے کی باری ہوتی تھی تو جس دن میری باری آئی میں لوٹا تو دیکھا کہ رسول اکرم ایک حلقہ میں اصحاب کرام سے فرما رہے تھے کہ جس نے اچھی طرح وضوء کیا پھر دورکعات نماز اللہ کی رضا کے لیے ادا کیں تو اللہ اس کے گزشتہ گناہوں کو معاف فرمادیں گے یہ سن کر میں نے خوشی کے مارے اللہ کہا پیچھے سے کسی نے میرے شانوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا میں متوجہ ہوا تو دیکھا کہ حضرت ابوبکر موجود ہیں آپ نے فرمایا اے ابن عامر، اس سیپہلے بات اس سے زیادہ افضل ہے میں نے عرض کیا وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا رسول اللہ نے فرمایا جو لاالہ الا اللہ کہتاہو اور اس کی زبان اس کے دل کی تصدیق کرتی ہو تو وہ جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس سے چاہے داخل ہوجائے۔ ابن النجار۔
1443 - (ومن مسند عقبة بن عامر الجهني) عن عقبة بن عامر الجهني قال "كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض أسفاره وكان على كل رجل منا رعية الإبل يوما فكان اليوم الذي أرعي فيه فانصرفت فبصرت بالنبي صلى الله عليه وسلم في حلقة يحدثهم فسعيت إليه فأدركته يقول: من توضأ فأحسن وضوءه، ثم ركع ركعتين يريد بهما وجه الله غفر الله له ما كان قبلهما من الذنوب" فكبرت فإذا رجل يضرب على كتفي فالتفت فإذا هو أبو بكر الصديق فقال له التي قبلها يا ابن عامر أفضل منها قلت وما هي؟ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من قال لا إله إلا الله يصدق لسانه قلبه دخل من أي أبواب الجنة الثمانية شاء". (ابن النجار) .
তাহকীক: