কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ১৪০৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل چہارم ۔۔۔ شہادتین کی فضیلت میں
١٤٠٤۔۔ ازمسند صدیق (رض) عثمان (رض) سے مروی ہے کہ اصحاب رسول حضور کی وفات پر سخت غمزدہ اور افسوسناک تھے حتی کہ لوگ طرح طرح کے وساوس کا شکار ہورہے تھے میں بھی انہی میں سے تھا، میں نے ابوبکر (رض) سے کہا اللہ نے اپنے نبی کو اٹھالیا اور میں اس دین کی نجات کے متعلق سوال نہ کرسکا، ابوبکر نے فرمایا میں اس بارے میں سوال کرچکا ہوں آپ نے فرمایا تھا کہ مجھ سے جس نے وہ کلمہ قبول کرلیاجو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا تھا لیکن انھوں نے انکار فرمادیا تھا پس وہی اس دین کی نجات ہے۔ ابن سعد، ابن ابی شیبہ، مسنداحمد، المسند لابی یعلی، الضعفاء للعقیلی (رح) ، شعب الایمان، السنن لسعید۔
1404 - (من مسند الصديق) عن عثمان "أن رجالا من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم حين توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم حزنوا عليه حتى كاد بعضهم يوسوس وكنت منهم فقلت لأبي بكر توفى الله نبيه صلى الله عليه وسلم قبل أن أسأله عن نجاة هذا الأمر قال أبو بكر: قد سألته عن ذلك فقال: "من قبل مني الكلمة التي عرضتها على عمي فردها علي فهي له نجاة". (ابن سعد ش حم ع في الأفراد عق هب ص) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل چہارم ۔۔۔ شہادتین کی فضیلت میں
١٤٠٥۔۔ عثمان (رض) سے مروی ہے کہ میرے دل میں یہ تمنااٹھی کہ کاش میں نے آپ سے سوال کرلیا ہوتا کہ شیطان ہمارے دلوں میں جو وسوسے ڈالتا ہے اس کے لیے کیا چیز نجات دہندہ ہے ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا میں اس بارے میں آپ سے پوچھ چکاہوں آپ نے فرمایا تھا کہ اس کی نجات یہ ہے کہ تم وہی کلمہ کہو۔۔۔ جس کا میں نے اپنے چچا کو ان کی موت کے وقت حکم دیا تھا، کہ اس کو کہہ لیں مگر انھوں نے نہیں کیا۔ مسنداحمد، المسند لابی یعلی، السنن لسعید۔
1405 - عن عثمان قال "تمنيت أن أكون سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم ماذا ينجينا مما يلقي الشيطان في أنفسنا قال أبو بكر قد سألت عن ذلك قال: "ينجيكم عن ذلك أن تقولوا ما أمرت به عمي عند الموت أن يقوله فلم يفعله". (حم ع ص) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل چہارم ۔۔۔ شہادتین کی فضیلت میں
1402 ۔۔ حضرت ابوبکر سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ اس بات کی نجات کس چیز میں ہے جس میں ہم ہیں ، فرمایا جس نے لاالہ الا اللہ کی شہادت دیدی یہی اس کے لیے نجات ثابت ہوگا۔ المسند لابی یعلی ، ابن منیع، الضعفاء للعقلی (رح) ، الدارقطنی فی الافراد۔
1406 - عن أبي بكر قال قلت "يا رسول الله ما نجاة هذا الأمر الذي نحن فيه فقال من شهد أن لا إله إلا الله فهو له نجاة". (ع وابن منيع عق قط في الأفراد) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل چہارم ۔۔۔ شہادتین کی فضیلت میں
1407 ۔۔ حضرت ابوبکر سے مروی ہے کہ مجھے آپ نے حکم فرمایا کہ نکل کرجاؤ اور لوگوں میں منادی کردو کہ جس نے شہادت دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، اس کے لیے جنت واجب ہوگئی، میں نکلا تو مجھے عمر (رض) سے ملے اور مجھ سے سوال کیا تو میں نے خبردیدی لیکن عمر (رض) نے کہا آپ کے پاس واپس جائیں اور آپ سے کہیں کہ لوگوں کو عمل کرنے دیجئے کیونکہ مجھے خوف کہ لوگ بھروسہ کر بیٹھے رہیں گے میں حضور کے پاس واپس آیا اور آپ کو حضرت عمر کی بات کہی ، آپ نے فرمایا عمر نے سچ کہا پس میں رک جاتاہوں۔ المسند لابی یعلی ، الالکائی فی الذکر۔
اس میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز متروک ہے نیز حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ابوبکر (رض) کی طرف منسوب احادیث میں سے یہ حدیث بہت غریب ہے لیکن حضرت ابوہریرہ (رض) سے یہ حدیث محفوظ ہے۔
اس میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز متروک ہے نیز حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ابوبکر (رض) کی طرف منسوب احادیث میں سے یہ حدیث بہت غریب ہے لیکن حضرت ابوہریرہ (رض) سے یہ حدیث محفوظ ہے۔
1407 - عن أبي بكر قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أخرج فناد في الناس: من شهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله وجبت له الجنة فخرجت فلقيني عمر فسألني فاخبرته فقال عمر ارجع إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقل له دع الناس يعملون فإني أخاف أن يتكلوا عليها فرجعت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرته ما قال عمر فقال صدق عمر فأمسكت". (ع واللالكائي في الذكر) وفيه سويد بن عبد العزيز متروك قال الحافظ بن كثير الحديث غريب جدا من حديث أبي بكر والمحفوظ عن أبي هريرة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لاالہ الا اللہ نجات دہندہ ہے
١٤٠٨۔۔ حضرت ابوبکر سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ اس بات کی نجات کس چیز میں ہے ؟ فرمایا اسی کلمہ میں جس کو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا تھا، مگر انھوں نے انکار فرمادیا تھا وہ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ، کی شہادت ہے۔ دوسری جگہ محمد کی بجائے، انی، کا لفظ ہے معنی میں کوئی تفاوت نہیں۔ الاوسط للطبرانی ، ابومسھر فی نسختہ۔
1408 - عن أبي بكر قال قلت يا رسول الله فيم نجاة هذا الأمر قال "في الكلمة التي أردت عليها عمي فأبى، شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وفي لفظ وأني رسول الله". (طس وأبو مسهر في نسخته) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لاالہ الا اللہ نجات دہندہ ہے
١٤٠٩۔۔ ابو وائل سے مروی ہے کہ مجھے بیان کیا گیا کہ حضرت ابوبکر کی طلحہ بن عبیداللہ سے ملاقات ہوئی توطلحہ نے آپ سے پوچھا کہ میں نے ایک کلمہ کے متعلق نبی اکرم سے سنا تھا، کہ وہ جنت کو واجب کرنے والا ہے، مگر مجھے اس کلمہ کے متعلق سوال کرنے کی نوبت نہیں آئی ، حضرت ابوبکر نے فرمایا میں وہ کلمہ جانتا ہوں وہ لاالہ الا اللہ ہے۔ ابن رواھویہ، المسند ابی یعلی، ابن منیع، الدار قطنی فی الافراد، المعرفہ لابی نعیم۔ اس کے روات ثقہ لوگ ہیں۔
1409 - عن أبي وائل قال: حدثت أن أبا بكر لقي طلحة بن عبيد الله فقال: "ما لي أراك واجما قال كلمة سمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إنها موجبة" فلم أسأل عنها فقال أبو بكر أنا أعلمها هي لا إله
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لاالہ الا اللہ نجات دہندہ ہے
١٤١٠۔۔ ابوبکر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اکرم سے سوال کیا اس امر کی نجات کس چیز میں ہے ؟ فرمایا جس نے مجھ سے وہ کلمہ قبول کرلیا جو میں نے اپنے چچاپر پیش کیا تھا مگر انھوں نے انکار کردیا تھا، تو وہ کلمہ اس کے لیے نجات ثابت ہوجائے گا۔ المسند لابی یعلی، المحاملی فی الامالیہ۔
1410 - عن أبي بكر قال قلت يا رسول الله ما نجاة هذا الأمر قال: "من قبل الكلمة التي عرضتها على عمي فردها فهي له نجاة" (ع) (والمحاملي في أماليه) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لاالہ الا اللہ نجات دہندہ ہے
١٤١١۔۔ محمد بن جبیر سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کا حضرت عثمان پر گزرا ہوا اور ان کو سلام کیا مگر انھوں نے جواب نہ دیا، حضرت عمر (رض) حضرت ابوبکر کے پاس جاکر اس کی شکایت کی حضرت ابوبکر نے حضرت عثمان سے پوچھا کیا بات ہے تم نے اپنے بھائی کے سلام کا جواب کیوں نہیں دیا ؟ حضرت عثمان نے عرض کیا، اللہ کی قسم میں نے ان کا سلام سناہی نہیں ، میں تو اپنے آپ میں مگن تھا، حضرت ابوبکر نے پوچھاتم کن خیالات میں محو تھے ؟ عرض کیا شیطان کے خلاف کچھ خیالات تھے وہ میرے نفس میں ایسے ایسے خیالات القا کررہا تھا کہ جن کو میں روئے زمین کے خزانوں کے عوض بھی اپنی زبان پر بھی لا ناپسند نہیں کرتا، جب شیطان میرے دل میں ایسے وساوس پیدا کرتا ہے تو میرے دل میں تمنا اٹھتی ہے کہ کاش میں اس سے نجات کے متعلق حضور سے سوال کرچکا ہوتا۔۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا اللہ کی قسم میں نے رسول اللہ سے اس کی شکایت کی تھی اور اس سے نجات کے متعلق بھی سوال کیا تھا، آپ نے فرمایا تھا کہ اس سے نجات کے لیے تم وہی کلمہ کہوجو میں نے اپنے چچا پر ان کی موت کے وقت پیش کیا تھا مگر انھوں نے انکار فرمادیا تھا۔ المسند لابی یعلی۔ علامہ بویصری زوائد العشرہ میں اس کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس کی سند حسن ہے۔
1411 - عن محمد بن جبير أن عمر مر على عثمان فسلم عليه فلم يرد عليه فدخل على أبي بكر فاشتكى ذلك إليه فقال أبو بكر: "ما منعك أن ترد على أخيك؟ قال والله ما سمعت وأنا أحدث نفسي قال أبو بكر فبماذا تحدث نفسك قال خلاف الشيطان فجعل يلقي في نفسي أشياء ما أحب أني تكلمت بها وإن لي ما على الأرض قلت في نفسي حين ألقى الشيطان ذلك في نفسي يا ليتني سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم ما ينجينا من هذا الحديث الذي يلقي الشيطان في أنفسنا فقال أبو بكر والله لقد اشتكيت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وسألته ما الذي ينجينا من هذا الحديث الذي يلقي الشيطان في أنفسنا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ينجيكم من ذلك أن تقولوا مثل الذي أمرت به عمي عند الموت فلم يفعل". (ع) قال: البوصيري في زوائد العشرة سنده حسن.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لاالہ الا اللہ نجات دہندہ ہے
١٤١٢۔۔ ابوبکر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اکرم سے ہمارے قلوب میں جنم لینے والے وساوس کے بارے میں سوال کیا تھا آپ نے فرمایا، لاالہ الا اللہ کی شہادت ہے۔ ابوبکر الشافعی فی الغیلالیات۔
1412 - عن أبي بكر الصديق قال سألت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن كفارة أحداثنا قال "شهادة أن لا إله إلا الله". (أبو بكر الشافعي في الغيلانيات) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لاالہ الا اللہ نجات دہندہ ہے
١٤١٣۔۔ امام زہری ، سعید بن المسیب، سے سعید عبداللہ بن عمرو (رض) سے ، عبداللہ عثمان (رض) سے وہ حضرت ابوبکر سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا، اس امر کی نجات اسی کلمہ میں ہے جو میں نے اپنے چچا ابوطالب پر ان کی موت کے وقت پیش کیا تھا وہ ہے ، لاالہ الا اللہ کی شہادت۔ خطط۔
1413 - عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن عبد الله بن عمرو عن عثمان بن عفان عن أبي بكر الصديق قال قال النبي صلى الله عليه وسلم: "النجاة من هذا الأمر ما الممت عليه عمي أبا طالب عند الموت شهادة أن لا إله إلا الله". (خط) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لاالہ الا اللہ نجات دہندہ ہے
١٤١٤۔۔ ازمسند عمر (رض) بن الخطاب جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ میں نے عمر بن خطاب سے سنا وہ طلحہ بن عبیداللہ کو فرما رہے تھے کہ کیا بات ہے کہ جب سے حضور کی وفات ہوئی۔۔۔ میں تمہیں پراگندہ و غبار آلود اور پریشان دیکھ رہاہوں ؟ شاید تمیہں اپنے چچازاد بھائی کی امارت سے گرانی گزری ہے طلحہ نے کہا، معاذ اللہ ایسی بات نہیں ہے بلکہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میں ایک ایساکلمہ جانتا ہوں کہ جو شخص موت کے وقت اس کو کہہ لے وہ روح نکلتے وقت ایک نئی روح اور تازگی محسوس کرے گا اور وہ کلمہ قیامت کے روز اس کے لیے نورثابت ہوگا لیکن پھر میں رسول اللہ سے اس کلمہ کے بارے میں پوچھ نہ سکا اور نہ آپ نے مجھے اس کی خبر دی پس یہی بات میرے لیے پریشان کن ہے حضرت عمر نے فرمایا وہ کلمہ میں جانتا ہوں ۔ حضرت طلحہ نے کہا اللہ ہی کے لیے اس پر تمام تعریفیں ہیں وہ کون ساکلمہ ہے ؟ فرمایا وہ وہی کلمہ لاالہ الللہ ہے جو آپ نے اپنے چچا پر پیش کیا تھا، طلحہ نے عرض کیا آپ نے سچکہا۔ ابن ابی شیہ، مسنداحمد، النسائی، المسند لابی یعلی، الدارقطنی ، المعرفہ لابی نعیم رواہ مسنداحمد، المسند لابی یعلی، ابن ماجہ، المستدرک للحاکم، ابونعیم ، السنن لسعید، عن طلحۃ بن عمر (رض)۔ کیا آپ کو چچازاد کی امارت سے گرانی گزری ہے ؟ اس سے خلافت ابی بکر (رض) مراد ہے۔
1414 - (ومن مسند عمر بن الخطاب) عن جابر بن عبد الله قال سمعت عمر بن الخطاب يقول لطلحة بن عبيد الله "ما لي أراك قد شعثت وأغبرت مذ توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلك ساءتك أمارة ابن عمك قال: معاذ الله! ولكني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إني لأعلم كلمة لا يقولها رجل عند حضرة الموت إلا وجد روحه لها روحا حين تخرج من جسده وكانت له نورا يوم القيامة فلم أسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عنها ولا أخبرني بها فذلك الذي دخلني قال عمر فأنا أعلمها قال فلله الحمد، فما هي؟ قال هي الكلمة التي قالها لعمه لا إله إلا الله قال صدقت". (ش حم ن ع قط في الأفراد وأبو نعيم في المعرفة) (رواه حم ع هـ ك وأبو نعيم ص عن طلحة عن ابن عمر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لاالہ الا اللہ نجات دہندہ ہے
١٤١٥۔۔ حمران سے مروی ہے کہ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا میں نے رسول اکرم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں ایک ایساکلمہ جانتاہوں کہ کوئی بندہ تہہ دل سے اس کو نہیں کہتا ، کہ وہ پھر اسی پر مرجائے مگر اللہ اس کو جہنم کی آگ پر حرام فرمادیں گے۔ عمر (رض) بن الخطاب نے فرمایا میں تمہیں بتاتاہوں کہ وہ کون ساکلمہ ہے ؟ وہ وہی کلمہ اخلاص ہے جو اللہ نے محمد، اور اس کے اصحاب کے لیے لازم کیا، اور وہی کلمہ تقوی ہے ، جس پر اللہ کے نبی نے اپنے چچا ابوطالب کو اصرار کیا ، وہ لاالہ الا اللہ کی شہادت ہے۔ مسنداحمد، المسند لابی یعلی، ابن خزیمہ، صحح لابن حبان، بخاری و مسلم، المستدرک للحاکم فی البعث، السنن لسعید۔
1415 - عن حمران أن عثمان قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:"إني لأعلم كلمة لا يقولها عبد حقا من قلبه يموت على ذلك إلا حرمه الله على النار فقال عمر بن الخطاب: "أنا أحدثكم ما هي، هي كلمة الإخلاص التي ألزمها الله محمدا وأصحابه وهي كلمة التقوى التي ألاص عليها نبي الله عمه أبا طالب عند الموت شهادة أن لا إله إلا الله".
(حم ع والشافعي وابن خزيمة حب ق ك في البعث ص) .
(حم ع والشافعي وابن خزيمة حب ق ك في البعث ص) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لاالہ الا اللہ نجات دہندہ ہے
١٤١٦۔۔ یحییٰ بن طلحہ بن عبیداللہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ انھوں نے طلحہ بن عبیداللہ کو غم گین دیکھا انھوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے فرمایا میں نے رسول اکرم کو فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میں ایک ایساکلمہ جانتاہوں اور دوسرے روایت کے مطابق میں ایسے کلمات جانتاہوں جن کو کوئی بندہ موت کے وقت نہیں کہتا، مگر اس کو کشادگی مل جاتی ہے ، اور دوسری روایت کے مطابق اللہ اس کو مصیبت سے نجات و کشادگی میسر فرما دیتے یہں ، اور اس کی وجہ سے اس کا چہرہ منور روشن ہوجاتا ہے ، اور وہ خوش کن چیزیں دیکھتا ہے لیکن میں اس کے بارے میں قسمت سے سوال نہ کرسکا۔۔ حتی کہ آپ کی وفات ہوگئی ، حضرت عمر نے فرمایا میں جانتا ہوں کہ وہ کون ساکلمہ ہے پھر حضرت عمر نے پوچھا کیا کوئی کلمہ اس کلمہ سے بہتر جانتے ہو جس کی طرف رسول اکرم نے اپنے چچا کو ان کی موت کے وقت بلایا، تھا حضرت طلحہ چونک کر بولے ہاں وہی اللہ کی قسم ہاں وہی۔۔ حضرت عمر نے فرمایا وہ لاالہ الا اللہ ہے۔ مسنداحمد، المسند لابی یعلی، الجوھری فی امالیہ۔
1416 - عن يحيى بن طلحة بن عبيد الله قال:"رأى عمر طلحة بن عبيد الله حزينا فقال ما لك؟ فقال: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم (2) إني لأعلم كلمة وفي لفظ كلمات لا يقولهن عبد عند الموت إلا نفس عنه وفي لفظ إلا نفس الله عنه كربة وأشرق لها لونه ورأى ما يسره فما منعني أن أسأل عنها إلا القدرة عليها حتى مات فقال عمر إني لأعلم ما هي؟ قال: هل تعلم كلمة هي أفضل من كلمة دعا إليها رسول الله صلى الله عليه وسلم عمه عند الموت قال طلحة هي والله هي قال عمر لا إله إلا الله" (حم ع والجوهري في أماليه) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لاالہ الا اللہ نجات دہندہ ہے
١٤١٧۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اکرم نے حکم فرمایا کہ میں لوگوں میں منادی اعلان کردوں کہ جس نے اخلاص کے ساتھ اس بات کی شہادت دیدی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہا ہے اس کا کوئی ساجھی نہیں وہ جنت میں داخل ہوجائے گا میں نے عرض کیا یارسول اللہ تب تو لوگ اعتماد کرکے بیٹھ جائیں گے و آپ نے فرمایا پھر چھوڑ دو ۔ المسند لابی یعلی، ابن جریر ، الصحیح لابن حبان۔
زوجہ طلحہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور کی وفات کے بعد حضرت عمر کا طلحہ پر گزر ہوا تو حضرت عمر (رض) سے دریافت کیا کیا بات ہے کہ میں تم کو پریشان وپراگندہ ہیبت دیکھ رہاہوں کیا تم کو اپنے چچازاد کی امارت ناگوار گزری ہے ؟ حضرت طلحہ نے عرض کیا ہرگز نہیں لیکن میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میں ایک ایساکلمہ جانتاہوں کہ اگر کوئی اس کو اپنی موت کے وقت کہہ لے توہ وہ کلمہ اس کے صحیفہ اعمال کے لیے نورثابت ہوگا اور اس کے جسم روح موت کے لمحہ میں اس کی وجہ سے ایک نئی روح اور فرحت محسوس کریں گے لیکن میں آپ سے اس کلمہ کو پوچھ نہ سکا۔ حتی کہ آپ کی وفات ہوگئی۔ حضرت عمر نے فرمایا میں جانتا ہوں وہ وہی کلمہ ہے جو آپ نے اپنے چچاپران کی موت کے وقت پیش کیا تھا۔ اور آپ کو اگر اس سے زیادہ نجات والا کوئی اور کلمہ معلوم ہوتا تو ضرور اس کا حکم فرماتے۔ النسائی، ابن ماجہ، البغوی، الکبیر للطبرانی، ابن خزیمہ، المسند لابی یعلی، الصحیح لابن حبان، المروزی فی الجنائز، ابن منذہ فی غرائب شعبہ، السنن لسعید۔
زوجہ طلحہ (رض) سے مروی ہے کہ حضور کی وفات کے بعد حضرت عمر کا طلحہ پر گزر ہوا تو حضرت عمر (رض) سے دریافت کیا کیا بات ہے کہ میں تم کو پریشان وپراگندہ ہیبت دیکھ رہاہوں کیا تم کو اپنے چچازاد کی امارت ناگوار گزری ہے ؟ حضرت طلحہ نے عرض کیا ہرگز نہیں لیکن میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میں ایک ایساکلمہ جانتاہوں کہ اگر کوئی اس کو اپنی موت کے وقت کہہ لے توہ وہ کلمہ اس کے صحیفہ اعمال کے لیے نورثابت ہوگا اور اس کے جسم روح موت کے لمحہ میں اس کی وجہ سے ایک نئی روح اور فرحت محسوس کریں گے لیکن میں آپ سے اس کلمہ کو پوچھ نہ سکا۔ حتی کہ آپ کی وفات ہوگئی۔ حضرت عمر نے فرمایا میں جانتا ہوں وہ وہی کلمہ ہے جو آپ نے اپنے چچاپران کی موت کے وقت پیش کیا تھا۔ اور آپ کو اگر اس سے زیادہ نجات والا کوئی اور کلمہ معلوم ہوتا تو ضرور اس کا حکم فرماتے۔ النسائی، ابن ماجہ، البغوی، الکبیر للطبرانی، ابن خزیمہ، المسند لابی یعلی، الصحیح لابن حبان، المروزی فی الجنائز، ابن منذہ فی غرائب شعبہ، السنن لسعید۔
1417 - عن عمر قال: "أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أؤذن في الناس أن من شهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له مخلصا دخل الجنة فقلت: يا رسول الله إذا يتكلوا قال فدعهم". (ع وابن جرير حب) ورواه البزار بلفظ قال دعهم يتكلوا عن سعدي زوج طلحة قالت "مر عمر بطلحة بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ما لك كئيبا أساءتك إمرة ابن عمك؟ قال لا ولكني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إني لأعلم كلمة لا يقولها أحد عند موته إلا كانت نورا لصحيفته، وإن جسده وروحه ليجدان بها روحا عند الموت" فلم أسأله حتى توفي قال أنا أعلمها هي التي أراد عمه عليها ولو علم أن شيئا أنجى له منها لأمره". (ن هـ والبغوي طب وابن خزيمة ع حب والمرزوي في الجنائز وابن مندة في غرائب شعبة ص) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لاالہ الا اللہ نجات دہندہ ہے
١٤١٨۔۔ ازمسند انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا جس نے اخلاص کے ساتھ لاالہ الا اللہ کہہ لیا جنت میں داخل ہوجائے گا حضرت انس نے عرض کیا یارسول اللہ کیا میں لوگوں کو خوش خبری نہ سنادوں ؟ فرمایا نہیں مجھے خوف ہے کہ لوگ بھروسہ کرکے بیٹھ رہیں گے۔ ابن النجار۔
1418 - (ومن مسند أنس بن مالك) عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من قال لا إله إلا الله مخلصا دخل الجنة قال يا نبي الله أفلا أبشر الناس قال إني أخاف أن يتكلوا". (ابن النجار) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لاالہ الا اللہ نجات دہندہ ہے
١٤١٩۔۔ ازمسند عبداللہ بن سلام عبداللہ بن سلام (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم کو لاالہ الا اللہ کی شہادت دیتے ہوئے سنا اور اس کے ساتھ آپ فرما رہے تھے کہ میں اس بات کی گواہی دیتاہوں کہ جو بندہ اس کی شہادت دے گا وہ جہنم سے بری قرار پائے گا۔ ابوالشیخ فی الاذان۔
1419 - (ومن مسند عبد الله بن سلام) عن عبد الله بن سلام قال "سمع النبي صلى الله عليه وسلم نداء وهو (2) يشهد أن لا إله إلا الله فقال وأنا أشهد أن لا يشهد بها أحد إلا برئ من النار" (أبوالشيخ في الأذان) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لاالہ الا اللہ نجات دہندہ ہے
١٤٢٠۔۔ یوسف بن عبداللہ بن سلام سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنے والد سے روایت کی وہ فرماتے ہیں کہ ہم حضور کے ساتھ محوسفر تھے کہ آپ نے ایک قوم کی بات سنی وہ آپ سے دریافت کررہی تھی کہ یارسول اللہ کون ساعمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ پر ایمان لانا، راہ خدا میں جہاد کرنا، اور گناہوں کی آلائش سے پاک حج کرنا۔ پھر آپ نے وادی میں کسی کوسنا وہ ، اشھد ان لاالہ الا اللہ واشھد ان محمد رسول اللہ کہہ رہا تھا آپ نے فرمایا میں بھی شہادت دیتاہوں کہ کوئی اس کلمہ کی شہادت نہ دے گا مگر وہ شرک سے بری ہوجائے گا۔ ابن عساکر۔
1420 - عن يوسف بن عبد الله بن سلام عن أبيه قال: " بينا نحن نسير مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ سمع القوم وهم يقولون أي الأعمال أفضل يا رسول الله؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إيمان بالله وجهاد في سبيل الله وحج مبرور ثم سمع نداء في الوادي أشهد أن لا إلا إلا الله وأشهد ان محمدا رسول الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أشهد ولا يشهد بها أحد إلا برئ من الشرك". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لاالہ الا اللہ نجات دہندہ ہے
١٤٢١۔۔ ازمسند عبداللہ بن عمررضی الہ عنہما۔۔ اللہ عزوجل قیامت کے روز میری امت کے ایک فرد کو تمام مخلوق کے سامنے بلائیں گے پھر اس کے اعمال ناموں کے ننانوے دفتر اس کے سامنے پیش ہوں گے ۔ ہر دفتر انتہا نظر تک پھیلاہوگا پھر اللہ اس سے فرمائیں گے کیا تو ان میں سے سکی چیز کا انکار کرتا ہے ؟ شاید اعمال نامہ لکھنے والے محافظ فرشتوں نے کچھ ظلم کردیاہو ؟ وہ عرض کرے گا نہیں پروردگار۔۔ پھر اللہ اس سے فرمائیں گے کیا تیرے پاس ان کا کوئی عذر ہے ؟ وہ عرض کرے گا نہیں پروردگار۔۔ پھر اللہ اس سے فرمائیں گے لیکن ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے اور آج کے دن تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔۔۔ پھر ایک کاغذ کا پرزہ نکالا جائے گا جس میں اشھد ان لاالہ الا اللہ واشھد ان محمد عبدہ ورسولہ ، درج ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے جا اس کو وزن کرالے۔ بندہ عرض کرے گا پروردگار اتنے عظیم دفتروں کے مقابلے میں یہ اتناساپرزہ کیا کرے گا، کہا جائے گا آج کے دن تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔۔ اور پھر تمام دفتروں کو ایک پلڑے میں اور اس کاغذ کے پرزے کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے گا۔۔ اور کاغذ کا وہ پرزہ اس قدر وزنی ہوجائے گا کہ وہ تمام دفتر اڑتے پھریں گے ۔ بیشک اللہ کے نام کے مقابلہ میں کوئی شی وزنی نہیں ہے۔ مسنداحمد، صحیح ترمذی، حسن غریب۔ المستدرک للحاکم، شعب الایمان، بروایت ابن عمرو (رض) ۔
1421 - (ومن مسند عبد الله بن عمر) "أن الله سيخلص رجلا من أمتي على رؤوس الخلائق يوم القيامة فينشر عليه تسعة وتسعين سجلا كل سجل مثل مد البصر فيقول أتنكر من هذا شيئا أظلمك كتبتي الحافظون؟ فيقول لا يا رب فيقول أفلك عذر فيقول لا يا رب فيقول بلى عندنا لك حسنة، وإنه لا ظلم عليك اليوم فتخرج بطاقة فيها أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله فيقول أحضر وزنك فيقول يا رب ما هذه البطاقة مع هذه السجلات فيقال فإنك لا تظلم فتوضع البطاقة في كفة والسجلات في كفة فطاشت السجلات وثقلت البطاقة ولا يثقل مع اسم الله تعالى شيء". (حمت حسن غريب ك هب عن ابن عمرو) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لاالہ الا اللہ نجات دہندہ ہے
١٤٢٢۔۔ علی (رض) ابی طالب فرماتے ہیں میں نے حضور کو فرماتے ہوئے سنا آپ فرما رہے تھے کہ میں نے جبرائیل سے سنا کہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں ۔ اے میرے بندو ! جو میرے پاس اس حال میں آیا کہ اخلاص کے ساتھ لاالہ الا اللہ کی شہادت دے رہاہو ووہ میرے قلعہ میں داخل ہوجائے گا اور جو میرے قلعہ میں داخل ہوگیا وہ میرے عذاب سے مامون ہوگیا۔ ابن عساکر۔
1422 - عن أبي الصلت الهروي حدثنا علي بن موسى الرضي حدثني أبي موسى حدثني أبي جعفر حدثني أبي محمد حدثني أبي علي حدثني أبي الحسن حدثني أبي علي بن أبي طالب قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول "سمعت جبريل يقول قال الله عز وجل أنا الله الذي لا إله إلا أنا يا عبادي فمن جاء منكم بشهادة أن لا إله إلا الله بالإخلاص دخل حصني ومن دخل حصني أمن من عذابي". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لاالہ الا اللہ نجات دہندہ ہے
١٤٢٣۔۔ عتبان بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ میں رسول اکرم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نابیناانسان ہوں ، میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان کیچڑ وغیرہ کا پانی پڑتا ہے تو میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لائیں اور میرے گھر کی مسجد میں ایک مرتبہ نماز ادا فرمادیں تاکہ میں اس مقام کو نماز کے لیے منتخب کرلوں، حضور نے فرمایا ان شاء اللہ کرلوں گا۔ پھر آپ حضرت ابوبکر کے پاس سے گزرے تو حضرت ابوبکر کو آپ نے اپنے ساتھ چلنے کا فرمایا۔ حضرت ابوبکر آپ کے ساتھ چل دیے آپ نے عتبان بن مالک کے گھر پہنچ کر اندر آنے کے لیے اجازت طلب کی پھر اجازت ملنے پر اندر داخل ہوگئے پھر آپ نے بیٹھنے سے قبل دریافت کیا کہ تم کہاں مجھ سے نماز پڑھوانا چاہتے ہو ؟ حضرت عتبان کہتے ہیں کہ میں نے اپنی مطلوبہ جگہ کی طرف اشارہ کردیا پھر نماز سے فراغت کے بعد ہم نے آپ کو خزیرہ گوشت اور آٹے سے تیار شدہ کھانے پر روک لیا، جو ہم نے آپ کے لیے تیار کیا تھا، پھر اہل محلہ کو بھی آپ کی آمد کی اطلاع ہوگئی اور آپ سے ملاقات کی خواہش میں لوگوں کا جم غفیر ہوگیا۔۔ حتی کہ گھرلوگوں سے بھرگیا۔ آپ نے دریافت کیا مالک بن الدخشن یا الدخشین کہاں ہے ؟ مجمع میں سے ایک شخص نے کہا وہ منافق آدمی ہے اللہ اور اس کے رسول سے محبت نہیں رکھتا۔ حضور نے فرمایا ایسامت کہو کیونکہ وہ لاالہ الا اللہ کا قائل ہے اور اس کے ساتھ اللہ کی رضا کا متلاشی ہے لوگوں نے کہا ہم تو یارسول اللہ اس کے چہرے اور اس کی باتوں کو منافقین کی طرف مائل دیکھتے ہیں آپ نے فرمایا ایسا کہنا مناسب نہیں کیونکہ وہ لاالہ الا اللہ کا قئل ہے اور اس کے ساتھ اللہ کی رضا کا طالب ہے لوگوں نے کہا یارسول اللہ بیشک پھر آپ نے فرمایا قیامت کے روز کوئی شخص اللہ کی رضا کے لیے لاالہ الا اللہ کہتا ہوا نہ آئے گا مگر اس کو آگ پر حرام کردیا جائے گا۔ المصنف لعبدالرزاق۔
1423 - عن عتبان بن مالك قال: " أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت إني قد أنكرت بصري وإن السيول تحول بيني وبين مسجد قومي ولوددت أنك جئت فصليت في مسجد بيتي مكانا أتخذه مسجدا فقال النبي صلى الله عليه وسلم افعل إن شاء الله فمر النبي صلى الله عليه وسلم على أبي بكر فاستتبعه فانطلق معه فاستأذن فدخل فقال وهو قائم أين تريد أن أصلي؟ فأشرت إليه حيث أريد، ثم حبسناه على خزيرة صنعناه له فسمع به أهل الوادي يعني أهل الدار فثابوا إليه حتى امتلأ البيت فقال أين مالك بن الدخشن أوالدخيشن فقال إن ذلك رجل منافق لا يحب الله ورسوله فقال النبي صلى الله عليه وسلم لا تقل وهو يقول لا إله إلا الله يبتغي بذلك وجه الله فقالوا يا رسول الله أما نحن فنرى وجهه وحديثه في المنافقين فقال النبي صلى الله عليه وسلم لا يقال (2) وهويقول لا إله إلا الله يبتغي بذلك وجه الله قالوا: بلى يا رسول الله قال: فلن يوافي بها عبد يوم القيامة يقول لا إله إلا الله يبتغي بذلك وجه الله إلا حرم على النار". (عب) .
তাহকীক: