কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ১৩৮৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز ہر سے سوال ہوگا
١٣٨٤۔۔ حضرت قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ہمیں ذکر کیا گیا کہ حضرت عمر (رض) بن الخطاب فرماتے تھے کہ اسلام کے مضبوط کڑے۔۔ لاالہ الا اللہ کی شہادت نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، اور اللہ کے قائم کردہ مسلمان حاکم کی اطاعت کرنا۔ رستہ فی الایمان۔
1384 - عن قتادة قال ذكر لنا أن عمر بن الخطاب كان يقول: "عروة الإسلام شهادة أن لا إله إلا الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة والطاعة لمن ولاه الله من المسلمين". (رسته في الإيمان) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز ہر سے سوال ہوگا
١٣٨٥۔۔ سوید بن حجیر سے مروی ہے کہ میں آپ سے عرفہ مزدلفہ کے درمیان ملا تو میں نے آپ کی ناقہ کی نکیل تھام لی اور کہا مجھے ایساعمل بتا دیجئے جو مجھے جنت سے قریب اور جہنم سے دور کردے ؟ فرمایا اگرچہ تو نے مختصرا سی بات کہی ہے مگر درحقیقت یہ بہت بڑی اور عظیم بات ہے فرض نماز قائم کرو۔ فریضہ زکوۃ اد اکرو، بیت اللہ کا حج کرو، اور لوگوں کا جو سلوک اپنے پسند کرتے ہو وہی ان کے ساتھ بھی کرو۔ اور جو بات کہ لوگوں سے اپنے لیے ناپسند کرتے لوگوں کے لیے بھی اس کو چھوڑ دو اب ناقہ کی لگام چھوڑ دو ۔ ابن جریر۔
1385 - عن سويد بن حجير قال أخبرني قال "لقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بين عرفة والمزدلفة فأخذت بخطام ناقته فقلت ماذا يقربني من الجنة ويباعدني من النار فقال أما والله إن كنت أوجزت المسألة لقد أعظمت وأطولت أقم الصلاة المكتوبة وأد الزكاة المفروضة واحجج البيت وما أحببت أن يفعل بك الناس فافعله بهم وما كرهت أن يفعله الناس بك فدع الناس منه، خل خطام الناقة". (ابن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل سوم۔۔ ایمان کے مجازی معنی اور حصوں کے بیان میں
١٣٨٦۔۔ از مسند عمر (رض) سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) حضور کے پاس حاضر ہوئے ، اور کہا کہ اللہ کی قسم میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ حضور نے فرمایا کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا، جب تک میں اس کے نزدیک اس کی ذات سے اس کے اہل سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ! حضرت عمر (رض) نے فرمایا، اللہ کی قسم ۔ آپ مجھے میری جان اور میرے اہل سے زیادہ محبوب ہیں۔ المدنی رستہ فی الایمان۔
1386 - (مسند عمر رضي الله عنه) عن سعيد بن المسيب رضي الله عنه قال " جاء عمر إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال والله لأحبك فقال النبي صلى الله عليه وسلم لن يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من نفسه وأهله قال عمر: والله لأنت أحب إلي من نفسي وأهلي". (العدني ورسته في الإيمان) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل سوم۔۔ ایمان کے مجازی معنی اور حصوں کے بیان میں
١٣٨٧۔۔ از مسند علی (رض) علاء بن عبدالرحمن سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت علی (رض) کی طرف اٹھ کر کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے امیرالمومنین ایمان کیا ہے ؟ فرمایا ایمان چار ستونوں پر قائم ہے ، صبر ، عدل ، یقین اور جہاد۔ شعب الایمان۔
1387 - (ومن مسند علي كرم الله وجهه) عن العلاء بن عبد الرحمن قال قام رجل إلى علي بن أبي طالب فقال يا أمير المؤمنين ما الإيمان قال:"الإيمان على أربع دعائم على الصبر والعدل واليقين والجهاد". (هب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل سوم۔۔ ایمان کے مجازی معنی اور حصوں کے بیان میں
١٣٨٨۔۔ قبیض بن جابر الاسدی سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت علی (رض) کی طرف کھڑا ہوا اور کہنے لگا اے امیرالمومنین ایمان کیا ہے ؟ فرمایا ایمان چار ستونوں پر قائم ہے اور صبر یقین جہاد اور عدل، پھر صبر کے چار شعبے ہیں شوق ، خوف، زہد اور انتظار ، جو جنت کا مشتاق ہو وہ شہوتوں سے کنارہ کش ہوگیا۔ اور جس کو جہنم کا خوف دامن گیر ہواوہ محرمات کے ارتکاب سے باز آگیا۔ اور جس نے دنیا کی حقیقت کو دیکھ لیا اور اس پر دنیا کے مصائب آسان ہوگئے۔ اور یہی زہد ہے اور جو موت کا منتظر ہوا اور امور خیر کی طرف سرعت سے رواں ہوا۔
اور یقین کے بھی چار شعبے ہیں ذہانت میں غور کرنا دانائی حکمت کو سمجھنا اور عبرت انگیزی اختیار کرنا اور اگلے لوگوں کی سنت اپنانا سو جس نے ذہانت میں غور و تدبر سے کام لیا، حکمت و دانائی کو جان گیا۔ اور جس نے حکمت و دانائی کو پالیا اس نے عبرت حاصل کرلی اور جس نے عبرت حاصل کرلی وہ درحقیقت اولین میں شمار ہے۔ اور عدل کے بھی چار شعبے ہیں تعمق فہم، رونق ، علم شرعیت حکم روضہ حلم۔ سو جس نے تعمق فہم سے کام لیا اس نے جمیع علوم کی تفسیر کرلی۔ اور جس نے علم کو جان لیا اس نے احکام شرائع کی معرفت حاصل کی۔ اور جو احکام شریعت پر مستحکم ہوا اس نے دین میں کوئی کمی نہ چھوڑی اور وہ لوگوں میں بھی راحت وفراخی کے ساتھ جی سکے گا۔ اور جہاد کے بھی چار شعبے ہیں امربالمعروف نہی عن المنکر ہر کام میں سچائی اورفاسقین کے فسق سے بغض۔ سو جس نے معروف ونی کی کا حکم دیا اور اس نے مومن کی پشت پناہی کی اور جس نے منکر وشنیع بات سے منع کیا اس نے منافق کی ناک مٹی میں ملادی۔ اور جس نے ہر کام میں سچائی اختیار کی اپنے پر پڑنے والی ذمہ داریوں سے عہدہ برآمد ہوا اور جس نے فاسقین سے ان کے فسق کی وجہ سے بغض رکھا اور اللہ ہی کے لیے غضب آلود ہوا اللہ اس کے لیے غضب ناک ہوا۔ اس کے بعد سائل کھڑا ہو اور حضرت علی کے سراقدس کو بوسہ دیا۔ ابن ابی الدنیا فی الامر بالمعروف ونہی عن المنکر ، الالکائی ، کرر۔
اور یقین کے بھی چار شعبے ہیں ذہانت میں غور کرنا دانائی حکمت کو سمجھنا اور عبرت انگیزی اختیار کرنا اور اگلے لوگوں کی سنت اپنانا سو جس نے ذہانت میں غور و تدبر سے کام لیا، حکمت و دانائی کو جان گیا۔ اور جس نے حکمت و دانائی کو پالیا اس نے عبرت حاصل کرلی اور جس نے عبرت حاصل کرلی وہ درحقیقت اولین میں شمار ہے۔ اور عدل کے بھی چار شعبے ہیں تعمق فہم، رونق ، علم شرعیت حکم روضہ حلم۔ سو جس نے تعمق فہم سے کام لیا اس نے جمیع علوم کی تفسیر کرلی۔ اور جس نے علم کو جان لیا اس نے احکام شرائع کی معرفت حاصل کی۔ اور جو احکام شریعت پر مستحکم ہوا اس نے دین میں کوئی کمی نہ چھوڑی اور وہ لوگوں میں بھی راحت وفراخی کے ساتھ جی سکے گا۔ اور جہاد کے بھی چار شعبے ہیں امربالمعروف نہی عن المنکر ہر کام میں سچائی اورفاسقین کے فسق سے بغض۔ سو جس نے معروف ونی کی کا حکم دیا اور اس نے مومن کی پشت پناہی کی اور جس نے منکر وشنیع بات سے منع کیا اس نے منافق کی ناک مٹی میں ملادی۔ اور جس نے ہر کام میں سچائی اختیار کی اپنے پر پڑنے والی ذمہ داریوں سے عہدہ برآمد ہوا اور جس نے فاسقین سے ان کے فسق کی وجہ سے بغض رکھا اور اللہ ہی کے لیے غضب آلود ہوا اللہ اس کے لیے غضب ناک ہوا۔ اس کے بعد سائل کھڑا ہو اور حضرت علی کے سراقدس کو بوسہ دیا۔ ابن ابی الدنیا فی الامر بالمعروف ونہی عن المنکر ، الالکائی ، کرر۔
1388 - عن قبيضة بن جابر الأسدي قال "قام رجل إلى علي فقال "يا أمير المؤمنين ما الإيمان، قال: الإيمان على أربع دعائم على الصبر واليقين والجهاد والعدل، فالصبر على أربع شعب على الشوق والشفقة والزهادة والرقب فمن اشتاق إلى الجنة سلا عن الشهوات ومن أشفق عن النار رجع عن المحرمات ومن أبصر بالدنيا تهاون بالمصائبات ومن ارتقب الموت سارع إلى الخيرات، واليقين على أربع شعب على تبصرة الفطنة وتأول الحكمة وموعظة العبرة وسنة الأولين، فمن تبصر في الفطنة تأول الحكمة ومن تأول الحكمة عرف العبرة ومن عرف العبرة فكأنما كان في الأولين، والعدل على أربع شعب على غائص الفهم وزهرة العلم وشريعة الحكم وروضة الحلم فمن فهم فسر جميع العلم ومن علم عرف شرائع الحكم ومن أحكم لم يفرط أمره وعاش في الناس وهو في راحة، والجهاد على أربع شعب أمر بمعروف ونهي عن المنكر والصدق في المواطن وشنآن الفاسقين فمن أمر بالمعروف شد ظهر المؤمن ومن نهى عن المنكر أرغم أنف المنافق ومن صدق في المواطن قضى ما عليه ومن شنأ الفاسقين وغضب لله، غضب الله له فقام السائل عند هذا فقبل رأس علي". (ابن أبي الدنيا في الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر واللالكائي، كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی بنیاد چار چیزوں پر
١٣٨٩۔۔ خلاس بن عمرو سے مروی ہے کہ فرمایا کہ ہم حضرت علی بن ابی طالب کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کے پاس خزاعہ قبیلہ کا ایک شخص آیا اور کہنے لگا اے امیرالمومنین کیا آپ نے رسول اکرم سے اسلام کے بارے میں کچھ سنا ہے ؟ فرمایا ہاں میں نے رسول اکرم سے سنااسلام کی بناء چار چیزوں پر ہے صبر، یقین ، جہاد اور عدل پھر صبر کے چار شعبے ہیں شوق خوف ، زہد اور انتظار۔ جو جنت کا مشتاق ہواوہ شہوتوں سے کنارہ کش ہوگیا اور جس کو جہنم کا خوف دامن گیر ہواوہ محرمات کے ارتکاب سے باز آگیا۔ اور جس نے دنیا کی حقیقت کو دیکھ لیا اس پر دنیا کے مصائب آسان ہوگئے اور یہی زہد ہے اور جو موت کا منتظر ہوا امور خیر کی طرف سرعت رواں ہوا۔
اور یقین کے بھی چار شعبے ہیں ذہانت میں غور و فکر کرنا دانائی و حکمت کو سمجھنا اور عبرت انگیزی اختیار کرنا، اگلے لوگوں کی سنت اپنانا، سو جس نے ذہانت میں غورو سے کام لیا، حکمت و دانائی کو جان گیا اور جس نے حکمت و دانائی کو پالیا اس نے عبرت حاصل کرلی۔ اور جس نے عبرت حاصل کرلی سنت کا متبع ہوگیا۔ اور جس نے سنت کی اتباع کرلی وہ درحقیقت اولین میں شمار ہے اور جہاد کے بھی چار شعبے ہیں امربالمعروف نہی عن المنکر ، ہر کام میں سچائی اورفاسقین کے فسق سے بغض۔ سو جس نے معروف نیکی کا حکم دیا۔ اور اس نے مومنین کی پشت پناہی کی اور جس نے منکر وشنیع بات سے منع کیا اس نے منافق کی ناک میں مٹی ڈال دی۔ اور جس نے ہر کام میں سچائی اختیار کی اپنے پر پڑنے والی ذمہ داریوں سے عہدہ بڑا ہوا ، اور اس نے اپنے دین کی حفاظت کرلی۔ اور جس نے فاسقین سے ان کے فسق کی وجہ سے بغض رکھا اور اللہ ہی کے لیے غضب آلود ہوا اللہ اس کے لیے غضب ناک ہوا۔ عدل کے بھی چار شعبے ہیں گہری سوچ، علم کی فروانی ، احکام سے متعلق شریعت اور حلم وبردباری کی شادابی۔ سو جس نے گہرے غور تدبر سے کام لیا اور اس نے مجمل ولاینحل کی وضاحت حاصل کرلی۔ اور جس نے ذخیرہ علم کا محفوظ کرلیا اس نے احکام سے متعلق شرعیت کو جان لیا۔ اور جو حلم وبردباری کے شاداب باغ میں اتر اور وہ دین میں کامل رہا اور وہ لوگوں میں بھی ہنسی خوشی بسر کرے گا۔ الحلیہ۔
فرمایا کہ خلاس بن عمرو نے اس کو مرفوعا روایت کیا ہے اور حارث نے اس کو حضرت علی سے مرفوعا روایت کیا ہے اور قبیصہ بن جابر نے حضرت علی سے اپنے قول سے روایت کیا ہے اور علاء بن عبدالرحمن نے بھی حضرت علی سے اپنے قول کے ساتھ روایت کیا ہے۔
اور یقین کے بھی چار شعبے ہیں ذہانت میں غور و فکر کرنا دانائی و حکمت کو سمجھنا اور عبرت انگیزی اختیار کرنا، اگلے لوگوں کی سنت اپنانا، سو جس نے ذہانت میں غورو سے کام لیا، حکمت و دانائی کو جان گیا اور جس نے حکمت و دانائی کو پالیا اس نے عبرت حاصل کرلی۔ اور جس نے عبرت حاصل کرلی سنت کا متبع ہوگیا۔ اور جس نے سنت کی اتباع کرلی وہ درحقیقت اولین میں شمار ہے اور جہاد کے بھی چار شعبے ہیں امربالمعروف نہی عن المنکر ، ہر کام میں سچائی اورفاسقین کے فسق سے بغض۔ سو جس نے معروف نیکی کا حکم دیا۔ اور اس نے مومنین کی پشت پناہی کی اور جس نے منکر وشنیع بات سے منع کیا اس نے منافق کی ناک میں مٹی ڈال دی۔ اور جس نے ہر کام میں سچائی اختیار کی اپنے پر پڑنے والی ذمہ داریوں سے عہدہ بڑا ہوا ، اور اس نے اپنے دین کی حفاظت کرلی۔ اور جس نے فاسقین سے ان کے فسق کی وجہ سے بغض رکھا اور اللہ ہی کے لیے غضب آلود ہوا اللہ اس کے لیے غضب ناک ہوا۔ عدل کے بھی چار شعبے ہیں گہری سوچ، علم کی فروانی ، احکام سے متعلق شریعت اور حلم وبردباری کی شادابی۔ سو جس نے گہرے غور تدبر سے کام لیا اور اس نے مجمل ولاینحل کی وضاحت حاصل کرلی۔ اور جس نے ذخیرہ علم کا محفوظ کرلیا اس نے احکام سے متعلق شرعیت کو جان لیا۔ اور جو حلم وبردباری کے شاداب باغ میں اتر اور وہ دین میں کامل رہا اور وہ لوگوں میں بھی ہنسی خوشی بسر کرے گا۔ الحلیہ۔
فرمایا کہ خلاس بن عمرو نے اس کو مرفوعا روایت کیا ہے اور حارث نے اس کو حضرت علی سے مرفوعا روایت کیا ہے اور قبیصہ بن جابر نے حضرت علی سے اپنے قول سے روایت کیا ہے اور علاء بن عبدالرحمن نے بھی حضرت علی سے اپنے قول کے ساتھ روایت کیا ہے۔
1389 - عن خلاس بن عمرو قال كنا جلوسا عند علي بن أبي طالب إذا أتاه رجل من خزاعة فقال: "يا أمير المؤمنين هل سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينعت الإسلام قال نعم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "بني الإسلام على أربعة أركان: على الصبر واليقين والجهاد والعدل، والصبر أربع شعب الشوق والشفقة والزهادة والترقب فمن اشتاق إلى الجنة سلا عن الشهوات ومن أشفق عن النار رجع عن المحرمات ومن زهد في الدنيا تهاون بالمصيبات ومن ارتقب الموت سارع في الخيرات، ولليقين أربع شعب تبصرة الفطنة وتأول الحكمة ومعرفة العبرة واتباع السنة فمن أبصر الفطنة تأول الحكمة ومن تأول الحكمة عرف العبرة ومن عرف العبرة اتبع السنة فمن اتبع السنة فكأنما كان في الأولين، وللجهاد أربع شعب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر والصدق في المواطن وشنآن الفاسقين فمن أمر بالمعروف شد ظهر المؤمن ومن نهى عن المنكر أرغم أنف المنافقين ومن صدق في المواطن قضى الذي عليه
العلم ومن وعى زهرة العلم عرف شرائع الحكم ومن ورد روضة الحلم لم يفرط في أمره وعاش في الناس وهو في راحة". (حل) وقال كذا رواه خلاس بن عمرو مرفوعا ورواه الحارث عن علي مرفوعا مختصرا ورواه قبيصة بن جابر عن علي من قوله ورواه العلاء بن عبد الرحمن عن علي من قوله.
العلم ومن وعى زهرة العلم عرف شرائع الحكم ومن ورد روضة الحلم لم يفرط في أمره وعاش في الناس وهو في راحة". (حل) وقال كذا رواه خلاس بن عمرو مرفوعا ورواه الحارث عن علي مرفوعا مختصرا ورواه قبيصة بن جابر عن علي من قوله ورواه العلاء بن عبد الرحمن عن علي من قوله.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی بنیاد چار چیزوں پر
١٣٩٠۔۔ از مسند ایاس بن سہل الجہنی (رح) ایاس بن سہل الجہنی سے روایت ہے کہ حضرت معاذ نے کہا اے اللہ کے نبی کون سا ایمان افضل ہے ؟ فرمایا یہ کہ تم اللہ کے لیے محبت کرواللہ کے لیے نفرت رکھو۔۔ اور اپنی زبان کو اللہ کے ذکر میں تروتازہ رکھو۔ ابن مندہ، ابونعیم ایاس بن سہل (رح) کو بعض متاخرین نے صحابہ کرام میں شمار کیا ہے لیکن بندہ سیوطی (رح) کا خیال ہے کہ یہ تابعین میں سے ہیں۔
1390 - (مسند إياس بن سهل الجهني) عن إياس بن سهل الجهني قال قال معاذ: "يا نبي الله أي الإيمان أفضل قال: تحب لله وتبغض لله وتعمل لسانك في ذكر الله". (ابن مندة وأبو نعيم) وقال ذكره بعض المتأخرين في الصحابة وهو فيما أراه من التابعين.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی بنیاد چار چیزوں پر
١٣٩١۔۔ ازمسند براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اکرم سے سوال کیا گیا کہ ایمان کا کون ساکڑا مضبوط ترین ہے ؟ فرمایا اللہ ہی کے لیے محبت کرنا اور اللہ ہی کے لیے نفرت۔ شعب الایمان۔
1391 - ومن (مسند البراء بن عازب) عن البراء "أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم سئل أي عرى الإيمان أوثق فقال الحب لله والبغض لله". (هب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی بنیاد چار چیزوں پر
١٣٩٢۔۔ ازمسند جابر (رض) محمد بن منکدر حضرت جابر سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم سے ایمان کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : صبر وسخاوت ۔ المسند لابی یعلی، شعب الایمان۔
1392 - (ومن مسند جابر) عن محمد بن المنكمدر عن جابر "أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل عن الإيمان قال الصبر والسماحة". (ع هب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی بنیاد چار چیزوں پر
١٣٩٣۔۔ حضرت حسن ، حضرت جابر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم سے سوال کیا گیا کہ کون ساعمل افضل ہے ؟ فرمایا صبر وسخاوت ۔ المسند لابی یعلی ، شعب الایمان۔
1393 - عن الحسن عن جابر قال قيل "يا رسول الله أي الأعمال أفضل قال الصبر والسماحة". (ع هب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی بنیاد چار چیزوں پر
١٣٩٤۔۔ حضرت حسن ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا ایمان صبر وسخاوت کا نام ہے اور صبر اللہ کے محرمات سے اجتناب کرنا اور فرائض الٰہی کی ادائیگی کرنا۔ شعب الایمان۔
1394 - عن الحسن أيضا قال "الإيمان، الصبر، والسماحة، الصبر عن محارم الله وأداء فرائض الله". (هب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی بنیاد چار چیزوں پر
١٣٩٥۔۔ ازمسند ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ابوذر (رض) سے فرمایا بتاؤ! ایمان کا مضبوط ترین کڑا کون سا ہے ؟ انھوں نے عرضک یا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں تو آپ نے فرمایا اللہ ہی کے لیے دوستی کا رشتہ استورا کرنا، اور اللہ ہی کے لیے کسی سے محبت کرنا اور اللہ ہی کے لیے کسی سے نفرت کرنا۔ شعب الایمان۔
1395 - (ومن مسند ابن عباس) عن ابن عباس أنه صلى الله عليه وآله وسلم قال لأبي ذر "يا أبا ذر أي عرى الإيمان أوثق قال الله ورسوله أعلم قال الموالاة في الله والحب لله والبغض في الله". (هب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی بنیاد چار چیزوں پر
١٣٩٦۔۔ مجاہد (رح) سے منقول ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا اللہ ہی کے لیے دشمنی مول لو اور اللہ ہی کے لیے دوستی رکھو، کیونکہ ولایت الٰہی اس کے سوا حاصل نہیں ہوسکتی۔ اور کوئی شخص ایمان کا مزہ نہیں چکھ سکتا خواہ نماز روزوں کی کتنی ہی کثرت کرلے۔۔ جب تک کہ وہ اس بات کونہ پالے یعنی اللہ ہی کے لیے دشمنی و دوستی۔ شعب الایمان۔
1396 - عن مجاهد عن ابن عباس أنه قال "عاد في الله ووال في الله فإنه لا ينال ولاية الله إلا بذاك ولا يجد رجل طعم الإيمان وإن كثرت صلاته وصيامه حتى يكون كذلك". (هب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی بنیاد چار چیزوں پر
١٣٩٧۔۔ از مسند عمار (رض) فرمایا جس میں تین خصائل پیدا ہوگئے اس نے اپنا ایمان مکمل کرلیا فرمایا تین باتیں ایمان کی تکمیل ہیں، تھوڑے میں سے تھوڑا خرچ کرنا، اپنی جان سے انصاف کرنا، عالم کو سلام کرنا۔ ابن جریر۔
خرچ کرنے کا مصرف عام ہے خواہ اہل و عیال پر کیا جائے یا کسی مفلس وتنگدست پر۔ علامہ نووی فرماتے ہیں یہاں اگر عالم کو سلام کی تاکید ہے تو دوسرے مقام پر آیا ہے کہ سلام کروہر مسلمان شخص کو خواہ اس سے تعارف ہو یا نہیں۔ اور سلام کو خوب رواج دو ۔ اور یہی چیز باہمی فسادات کا قلع قمع کرنے والی بھی ہے۔
اور اپنے نفس سے انصاف کرو اس ارشاد نبوی کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ذات سے جو حقوق متعلق ہیں ان کی ادائیگی میں کوتاہی مت کرو خواہ خالق خداوندی کے حقوق ہوں یابندگان خالق کے سب کو بکمالہ ادا کرو۔ اور اپنے نفوس پر زائد از طاقت بوجھ ڈالنے سے بھی گریز کرو۔ نیز اپنے لیے ایسے دعوی نہ کرو جس کے تم حامل نہیں۔
خرچ کرنے کا مصرف عام ہے خواہ اہل و عیال پر کیا جائے یا کسی مفلس وتنگدست پر۔ علامہ نووی فرماتے ہیں یہاں اگر عالم کو سلام کی تاکید ہے تو دوسرے مقام پر آیا ہے کہ سلام کروہر مسلمان شخص کو خواہ اس سے تعارف ہو یا نہیں۔ اور سلام کو خوب رواج دو ۔ اور یہی چیز باہمی فسادات کا قلع قمع کرنے والی بھی ہے۔
اور اپنے نفس سے انصاف کرو اس ارشاد نبوی کا مطلب یہ ہے کہ اپنی ذات سے جو حقوق متعلق ہیں ان کی ادائیگی میں کوتاہی مت کرو خواہ خالق خداوندی کے حقوق ہوں یابندگان خالق کے سب کو بکمالہ ادا کرو۔ اور اپنے نفوس پر زائد از طاقت بوجھ ڈالنے سے بھی گریز کرو۔ نیز اپنے لیے ایسے دعوی نہ کرو جس کے تم حامل نہیں۔
1397 - (ومن مسند عمار) عن عمار قال "ثلاث من كن فيه استكمل الإيمان أو ثلاث من كمال الإيمان الإنفاق من الإقتار والإنصاف من نفسك وبذل السلام للعالم". (ابن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی بنیاد چار چیزوں پر
١٣٩٨۔۔ ازمسند عمار (رض) فرمایا جس میں تین خصائل پیدا ہوگئے اس نے اپنا ایمان مکمل کرلیا، تنگدستی میں بھی خرچ کرنا یعنی اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھتے ہوئے خرچ کرنا اور اپنی جان سے انصاف کرنا۔۔ مثلا کسی کو سلطان وقت کے پاس اس وقت تک نہ لے جائے جب تک کہ خود اسکوقصو وار نہ گرداں لے، اور عالم کو سلام کرنا۔ ابن جریر۔
1398 - (عن عمار) قال "ثلاث من كن فيه فقد استكمل الإيمان الإنفاق من الإقتار أن ينفق وهو يحسن بالله الظن والإنصاف من نفسك أن لا تذهب بالرجل إلى السلطان حتى تنصفه وبذل السلام للعالم" (ابن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی بنیاد چار چیزوں پر
١٣٩٩۔۔ حضرت عمار سے مروی ہے کہ فرمایا تین ایمان سے تعلق رکھتی ہیں جس نے ان کو جمع کرلیا اس نے یقیناً ایمان کو جمع کرلیا تھوڑے میں سے تھوڑا خرچ کرنا، اس بات پر اعتماد رکھتے ہوئے کہ اللہ اس کا عمدہ بدل ضرور دے گا، اور اپنی جان سے انصاف کرنا، (مثلا لوگوں کو قاضی کے پاس بغیر جرم کے نہ کھینچنا) اور عالم کو سلام کرنا۔ کرر۔
1399 - عن عمار قال "ثلاث من الإيمان من جمعهن جمع الإيمان، الإنفاق من الإقتار تنفق وأنت تعلم أن الله سيخلفك وإنصاف الناس منك لا تلجئهم إلى قاض وبذل السلام للعالم" (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی بنیاد چار چیزوں پر
١٤٠٠۔۔ ازمسند عمیر بن قتادہ اللیثی، عبداللہ بن عبید اللیثی سے مروی ہے کہ وہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے رویت کرتے ہیں کہ دریں اثناء کہ میں رسول اللہ کے پاس حاضر تھا کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں آیا اور استفسار کیا کہ یارسول اللہ ایمان کیا ہے ؟ فرمایا صبر وسخاوت۔ استفسار کیا یارسول اللہ کون سا اسلام افضل ہے ؟ فرمایا وہ جس کی زبان اور ہاتھ کی ایذا سے مسلمان محفوظ رہے ۔ استفسار کیا یارسولا للہ کون سی ہجرت افضل ہے ؟ فرمایا جو برائیوں سے ہجرت یعنی کنارہ کشی کرلے۔ استفسار کیا یارسول اللہ کون ساجہاد افضل ہے ؟ فرمایا جس میں خون بہہ پڑے اور گھوڑا زخمی ہوجائے ۔ استفسار کیا یارسول اللہ کون صدقہ افضل ہے ؟ فرمایا کم میں سے بھی خرچ کرنا۔ استفسار کیا یارسول اللہ کون سی نماز افضل ہے ؟ فرمایا جس میں قیام طویل ہو۔ الکبیر للطبرانی ، شعب الایمان۔
1400 - (ومن مسند عمير بن قتادة الليثي) عن عبد الله بن عبيد الليثي عن ابيه عن جده قال "بينما أنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ جاءه رجل فقال: يا رسول الله ما الإيمان قال الصبر والسماحة قال يا رسول الله فأي الإسلام أفضل قال من سلم المسلمون من لسانه ويده قال يا رسول الله فأي الهجرة أفضل قال من هجر السوء قال: يا رسول الله فأي الجهاد أفضل؟ قال: من أهريق دمه وعقر جواده قال يا رسول الله فأي الصدقة أفضل قال جهد المقل قال يا رسول الله فأي الصلاة أفضل قال طول القنوت". (طب هب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی بنیاد چار چیزوں پر
١٤٠١۔۔ ابوالدرداء (رض) سے مروی ہے کہ فرمایا ایمان کی بلندی چار چیزوں میں ہے : حکم الٰہی پر صابر رہنا قضا پر راضی رہنا، توکل میں اخلاص رکھنا اور رب کے آگے جھکا رہنا۔ ابن عساکر۔
1401 - عن أبي الدرداء قال "ذروة الإيمان أربع: الصبر للحكم والرضاء بالقضاء والإخلاص للتوكل والاستسلام للرب". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی بنیاد چار چیزوں پر
١٤٠٢۔۔ حضرت ابورزین کہتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم سے دریافت کیا کہ ایمان کیا چیز ہے ؟ آپنے فرمایا :
تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ گردانو، اور تمہارے نزدیک اللہ اور اس کا رسول ان کے ماسوا ہر ایک سے زیادہ محبوب ہوں اور تمہیں آگ میں جل جانا اس سے کہیں زیادہ محبوب ہو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ اور کسی سے بھی خواہ وہ غیرصاحب نسب ہو اللہ ہی کے لیے محبت کرو۔ پس جب تم اس حال کو پہنچ جاؤ گے تویقینا ایمان تمہارے دل میں یوں داخل ہوجائے جس طرح کہ تپتے دن میں پیاسے کو پانی کی محبت دل میں گھر کرجاتی ہے۔ ابن عساکر۔
تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ گردانو، اور تمہارے نزدیک اللہ اور اس کا رسول ان کے ماسوا ہر ایک سے زیادہ محبوب ہوں اور تمہیں آگ میں جل جانا اس سے کہیں زیادہ محبوب ہو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ اور کسی سے بھی خواہ وہ غیرصاحب نسب ہو اللہ ہی کے لیے محبت کرو۔ پس جب تم اس حال کو پہنچ جاؤ گے تویقینا ایمان تمہارے دل میں یوں داخل ہوجائے جس طرح کہ تپتے دن میں پیاسے کو پانی کی محبت دل میں گھر کرجاتی ہے۔ ابن عساکر۔
1402 - عن أبي رزين قال قلت "يا رسول الله ما الإيمان قال أن تعبد الله ولا تشرك به شيئا ويكون الله ورسوله أحب مما سواهما وتكون أن تحرق بالنار أحب إليك من أن تشرك بالله شيئا وتحب غير ذي نسب لا تحبه إلا لله فإذا فعلت ذلك فقد دخل حب الإيمان في قلبك كما دخل قلب الظمآن حب الماء في اليوم القائظ". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام کی بنیاد چار چیزوں پر
١٤٠٣۔۔ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم سے پوچھا گیا کہ کون سا ایمان افضل ہے ؟ فرمایا اللہ پر ایمان لانا پوچھا گیا پھر کیا افضل ہے ؟ فرمایا جہاد فی سبیل اللہ پوچھا گیا پھر کیا ؟ فرمایا گناہوں سے پاک حج۔ النسائی ١۔
1403 - عن أبي هريرة قال "سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم أي الإيمان أفضل قال إيمان بالله قيل ثم ماذا قال الجهاد في سبيل الله قيل ثم ماذا قال حج مبرور". (ن ) .
তাহকীক: