কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ১৩৬৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان تین چیزوں کے مجموعے کا نام ہے
١٣٦٤۔۔ حضرت ابوموسی سے مرو ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ایک اعرابی کی صورت میں رسول اکرم کے پاس تشریف لائے رسول اکرم اس صورت میں ان کو پہچان نہ سکے۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا : اے محمد ! ایمان کیا ہے ؟ فرمایا ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر یوم آخرت پر ملائکہ پر کتاب اللہ پر، نبیوں پر اور بعث بعد الموت پر ایمان لاؤ، نیز اچھی بری تقدیر پر بھی ایمان لاؤ۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے عرضک یا اگر میں ان پر ایمان لے آؤں تو کیا میں مومن ہوجاؤں گا ؟ آپ نے فرمایا بالکل ، جبرائیل نے کہا آپ نے سچ فرمایا، پھر استفسار کیا اسلام کیا ہے ؟ یہ کہ تم لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ، کی شہادت دو ، نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، بیت اللہ کا حج کرو، ماہ صیام کے روزے رکھو، جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا، اگر میں ان کو بجالاؤں تو کیا میں مسلمان ہوجاؤں گا، ؟ آپ نے فرمایا بالکل ۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا آپ نے سچ فرمایا، پھر استفسار کیا احسان کیا ہے ؟ فرمایا یہ کہ تم اللہ کی عبادت یوں کرو کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو۔۔ پس اگر یہ کیفیت نہیں حاصل ہوتی اور تم اللہ کو نہیں دیکھ رہے تو وہ تویقینا تمہیں دیکھ رہا ہے جبرائیل نے کہا آپ نے سچ فرمایا، پھر جبرائیل لوٹ گئے اور ابوہریرہ (رض) ان کی تلاش میں نکل پڑے مگر نہ پاسکے۔ پھر آپ نے فرمایا یہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے۔ تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے بمطابق دوسری روایت کے تمہیں تمہارا امردین سکھانے آئے تھے۔ کرر۔
1364 - عن أبي موسى قال: " أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم جبريل في صورة أعرابي ورسول الله صلى الله عليه وسلم لا يعرفه فقال يا محمد ما الإيمان قال أن تؤمن بالله واليوم الآخر والملائكة والكتاب والنبيين والبعث بعد الموت والقدر خيره وشره، قال فإذا فعلت ذلك؟ فأنا مؤمن؟ قال نعم قال: صدقت، قال فما الإسلام قال أن تشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتحج البيت وتصوم شهر رمضان قال فإذا فعلت ذلك فأنا مسلم؟ قال نعم قال صدقت، قال فما الإحسان قال أن تعبد الله كأنك تراه فإن لم تكن تراه فهو يراك قال صدقت ثم انصرف فالتفت النبي صلى الله عليه وسلم يطلب الرجل فلم يقدر عليه فقال النبي صلى الله عليه وسلم هذا جبرئيل جاءكم يعلمكم دينكم وفي لفظ أمر دينكم". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل دوم۔۔۔ اسلام کی حقیقت کے بیان میں
١٣٦٥۔۔ ازمسند صدیق (رض) ابن سیرین (رح) سے مروی ہے کہ ابوبکر وعمر (رض) لوگوں کو اسلام سکھاتے تھے اور فرماتے تھے اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اللہ کی فرض کردہ نماز کو اس کے وقت پر ادا کرو، کیونکہ اس کی کوتاہی میں ہلاکت کا اندیشہ ہے اور اپنے نفس کی خوشی کے ساتھ ادائیگی زکوۃ کرو، ماہ رمضان کے روزے رکھو، اور جس کو خلافت سونپی گئی ہو اس کی سنو اور اطاعت کرو۔ المصنف لعبدالرزاق ، ابن ابی شیبہ ، رستہ ففی الایمان ، ابن جریر۔
1365 - (من مسند الصديق) رضي الله عنه عن ابن سيرين قال "إن أبا بكر وعمر كانا يعلمان الناس الإسلام تعبد الله ولا تشرك به شيئا وتقيم الصلاة التي افترض الله عليك لوقتها فإن في تفريطها الهلكة وتؤدي الزكاة طيبة بها نفسك وتصوم رمضان وتسمع وتطيع لمن ولي الأمر". (عب ش ورسته في الإيمان وابن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل دوم۔۔۔ اسلام کی حقیقت کے بیان میں
١٣٦٦۔۔ ازمسند عمر (رض) حضرت حسن سے مروی ہے کہ ایک اعرابی حضرت عمر (رض) کی خدمت میں آیا اور کہا اے امیرالمومنین مجھے دین کی تعلیم دیجئے آپ نے فرمایا یہ کہ تم لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دو نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، بیت اللہ کا حج کروماہ صیام کے روزے رکھو، اور تم ظاہر کے مکلف ہو لہٰذا کسی کے اندرونی معاملات کی ٹوہ میں نہ پڑو، اور ہر ایسی چیز کے اختیار کرنے سے اجتناب کرو جس سے حیا کی جاتی ہے پھر اگر تم اللہ سے ملاقات کرو تو کہہ دینا مجھے ان باتوں کا عمرنے حکم دیا تھا۔ شعب الایمان ، الاصبہانی فی الحجہ۔
علامہ بیہقی نے فرمایا کہ امام بخاری نے فرمایا کہ یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ حضرت حسن نے حضرت عمر کر نہیں پایا، سعید بن عبدالرحمن اجمعحی کے حوالہ سے آئندہ آنے والی مسند ابن عمر میں یہ حدیث اس مرسل مذکورہ سے زیادہ اصح ہے۔
علامہ بیہقی نے فرمایا کہ امام بخاری نے فرمایا کہ یہ حدیث مرسل ہے کیونکہ حضرت حسن نے حضرت عمر کر نہیں پایا، سعید بن عبدالرحمن اجمعحی کے حوالہ سے آئندہ آنے والی مسند ابن عمر میں یہ حدیث اس مرسل مذکورہ سے زیادہ اصح ہے۔
1366 - (ومن مسند عمر) رضي الله عنه عن الحسن قال: "جاء أعرابي إلى عمر فقال يا أمير المؤمنين علمني الدين، قال: تشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتحج البيت وتصوم رمضان وعليك بالعلانية وإياك والسر وإياك وكل شيء يستحيا منه فإنك إن لقيت الله فقل أمرني بهذا عمر". (هب والأصبهاني في الحجة) قال هب قال خ هذا مرسل لأن الحسن لم يدرك عمر وما هو بإرساله أصح من حديث سعيد بن عبد الرحمن الجمحي الآتي في مسند ابن عمر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل دوم۔۔۔ اسلام کی حقیقت کے بیان میں
١٣٦٧۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایمان کی زیب وزینت چار اشیاء ہیں نماز ، زکوۃ ، جہاد اور امانت داری، ابن ابی شیبہ۔ ،
1367 - عن عمر قال عرى الإيمان أربع: "الصلاة والزكاة والجهاد والأمانة". (ش) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل دوم۔۔۔ اسلام کی حقیقت کے بیان میں
١٣٦٨۔۔ حضرت حسن سے مروی ہے کہ ایک اعرابی حضرت عمر کی خدمت میں آیا اور کہا اے امیرالمومنین مجھے دین کی تعلیم دیجئے آپ نے فرمایا یہ کہ تم لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دو ۔ نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، بیت اللہ کا حج کرو، ماہ صیام کے روزے رکھو اور تم ظاہر کے مکلف ہو لہٰذا کسی کے اندرونی معاملات کی ٹوہ میں نہ پڑؤ۔ اور ہر ایسی چیز کے اختیار کرنے سے اجتناب کرو جس سے حیا کی جاتی ہے پھر اگر تم اللہ سے ملاقات کروتو کہہ دینا مجھے ان باتوں کا عمر نے حکم دیا تھا پھر حضرت عمر نے فرمایا اے عبداللہ ان باتوں کو مضبوطی سے تھام لو پھر جب پروردگار سے ملاقات ہو توجی آئے کہو۔ الکامل لابن عدی ، شعب الایمان ، الالکانی۔
1368 - عن الحسن قال جاء أعرابي إلى عمر فقال "يا أمير المؤمنين:علمني الدين، قال: تشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتحج البيت وتصوم رمضان، وعليك بالعلانية وإياك والسر وكلما يستحيا منه وإذا لقيت الله فقل أمرني بهذا عمر، ثم قال يا عبد الله خذ بهذا فإذا لقيت الله فقل ما بدا لك". (عد هب واللالكائي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی مضبوطی چار چیزوں میں
١٣٦٩۔ حضرت عمر سے مروی ہے کہ ایمان کی مضبوطی چار اشیا ہیں اپنے وقت پر نماز قائم کرنا، نفس کی رضا، ورغبت کے ساتھ زکوۃ ادا کرنا، صلہ رحمی کرنا اور عہد کی پاسداری کرنا۔ سو جس نے ان میں سے کسی کو ترک کردیا اس نے اسلام کا ایک مضبوط کڑا چھوڑ دیا۔ ابویعلی الخلیلی فی جزء من حدیثہ۔
1369 - عن عمر قال "عرى الإسلام أربعة: إقام الصلاة لميقاتها وأداء الزكاة طيبة بها نفسك وصلة الرحم وإيتاء العهد فمن ترك منهن شيئا ترك عروة من الإسلام". (أبويعلى الخليلي في جزء من حديثه) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی مضبوطی چار چیزوں میں
١٣٧٠۔۔ از مسند علی (رض) سے مروی ہے اور حضرت زبیر سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اسلام کی بنا تین چیزوں پر ہے اہل لاالہ الا اللہ ، سو تم کسی کلمہ گو کو کسی گناہ کی وجہ سے کافر نہ کہو، اور نہ ان پر شرک کرنے کی شہادت دو اور تقادیر کے منجانب اللہ ہونے کی معرفت خواہ اچھی ہوں یابری۔ اور یہ کہ جب سے اللہ نے محمد کو مبعوث کیا، تب سے آخری مسلم جماعت تک جہاد جاری وساری رہے گا کسی ظالم کا ظلم اور کسی عادل کا عدل اس کو گزند نہ پہنچا سکے گا۔ الاوسط للطبرانی (رح) ۔ علامہ طبرانی فرماتے ہیں کہ اس روایت کو ثوری، ابن جریج، اور اوزاعی سے اسماعیل کے سوا کوئی اور روایت کرنے والا نہیں ہے۔ عن اسماعیل بن یحییٰ التیمی عن سفیان بن سعید عن الحارث عن علی وعن الاوزاعی عن یحییٰ بن ابی کثیر عن سعید بن المسیب عن علی وعن ابن جریج عن ابی الزبیر عن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
1370 - (ومن مسند علي) رضي الله عنه عن إسمعيل بن يحيى التيمي عن سفيان بن سعيد عن الحارث عن علي وعن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير عن سعيد بن المسيب عن علي وعن ابن جريج عن أبي الزبير عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: "بني الإسلام على ثلاث: أهل لا إله إلا الله لا تكفروهم بذنب ولا تشهدوا لهم بشرك، ومعرفة المقادير خيرها وشرها من الله، والجهاد ماض إلى يوم القيامة منذ بعث الله محمدا إلى آخر عصابة من المسلمين لا ينقض ذلك جور جائر ولا عدل عادل". (طس) وقال لم يروه عن الثوري وابن جريج والأوزاعي إلا إسمعيل.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی مضبوطی چار چیزوں میں
١٣٧١۔۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ ایمان کے قائم ہونے کے تین سہارے ہیں ایمان، نماز اور جماعت۔ پس کوئی نماز ایمان کے بغیر مقبول نہیں پھر جس نے ایمان اختیار کیا نماز ادا کی۔ اور جس نے نماز ادا کی جماعت کے ساتھ شامل ہوا۔ اور جو جماعت سے بالشت بھر جدا ہوا اس نے اسلام کا قلادہ اپنی گردن سے نکال پھینکا۔ ابن ابی شیبہ فی الایمان ، الالکائی۔
حدیث کے الفا، انماالایمان ثلاثہ اثافی، کا ترجمہ کیا گیا ہے ایمان کے قائم ہونے کے تین سہارے ہیں۔ اثافی اثفیہ کی جمع ہے اثافی چولہے کے تین کونے جن پر ہانڈی رکھی جاتی ہے اس مناسبت سے اس کا ترجمہ سہارا کیا گیا ہے۔ مختار الصحیح ج ١ ص ٣٦۔
حدیث کے الفا، انماالایمان ثلاثہ اثافی، کا ترجمہ کیا گیا ہے ایمان کے قائم ہونے کے تین سہارے ہیں۔ اثافی اثفیہ کی جمع ہے اثافی چولہے کے تین کونے جن پر ہانڈی رکھی جاتی ہے اس مناسبت سے اس کا ترجمہ سہارا کیا گیا ہے۔ مختار الصحیح ج ١ ص ٣٦۔
1371 - عن علي قال إنما الإيمان ثلاثة أثافي: "الإيمان، والصلاة،والجماعة، فلا تقبل صلاة إلا بالإيمان فمن آمن صلى ومن صلى جامع ومن فارق الجماعة قدر شبر خلع ربقة الإسلام من عنقه". (ش في الإيمان واللالكائي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی مضبوطی چار چیزوں میں
١٣٧٢۔۔ جناب حارث سے مروی ہے کہ حضرت علی نے حضور سے روایت کی کہ نماز ایمان کا ستون ہے جہاد عمل کی کوہان ہے اور زکوۃ اس کو پختہ کرتی ہے یہ فرمان آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا۔ ابونعیم فی عوالیہ۔
1372 - عن الحارث عن علي عن النبي صلى الله عليه وسلم قال "الصلاة عماد الإيمان، والجهاد سنام العمل، والزكاة، يثبت ذلك ثلاث مرات". (أبو نعيم في عواليه) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی مضبوطی چار چیزوں میں
١٣٧٣۔۔ ازمسندانس بن مالک ، حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک بوڑھا اعرابی ، جس کو علقمہ بن علاثہ کہا جاتا تھا نبی کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا یارسول اللہ میں ایک انتہائی بوڑھا آدمی ہوں اور قرآن سیکھنے کی قدرت نہیں رکھتا، لیکن اس بات کی عین یقین کے ساتھ شہادت دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمداللہ کے رسول ہیں اور اس کے بندے ہیں پھر جب وہ بوڑھا آپ کی خدمت سے اٹھ کر چلا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا آدمی فقیہ ہے یا فرمایا تمہارا ساتھی فقیہ ہے۔ ابن عساکر۔
1373 - (ومن مسند أنس بن مالك) عن أنس أن شيخا أعرابيا يقال له علقمة بن علاثة جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال "يا رسول الله: إني شيخ كبير وإني لا أستطيع أن أتعلم القرآن ولكني أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده (كذا) ورسوله حق اليقين فلما مضى الشيخ قال النبي صلى الله عليه وسلم فقه الرجل أو فقه صاحبكم". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی مضبوطی چار چیزوں میں
١٣٧٤۔۔ حضرت انس سے مروی ہے کہ ہم کو حضور سے زیادہ سوال کرنے سے ممانعت کی گئی تھی تو یہ ہماری خواہش ہوتی تھی کہ آپ کے پاس کوئی دیہاتی آکرسوال کرے اور ہم بھی اسے سنیں۔ تو ایک شخص نے آپ کے پاس آکرکہا، اے محمد ! ہمارے پاس تیرا ایک قاصد آیا تھا اس کا خیال تھا کہ تم اس بات کا دعوی کرتے ہو کہ اللہ نے آپ کو رسول بناکر بھیجا ہے ؟ کیا یہ سچ ہے آپ نے فرمایا اس نے سچ کہا ہے دیہاتی نے پوچھا آسمان کو کس نے پیدا کیا ؟ آپ نے فرمایا اللہ نے دیہاتی نے پھر پوچھا زمین کو کس نے پیدا کیا آپ نے فرمایا اللہ نے پھر پوچھا ان پہاڑوں کو ان کی جگہ کس نے نصب کیا ؟ فرمایا اللہ نے پوچھا اس میں ان منافع کو کس نے رکھا آپ نے فرمایا اللہ نے پھر دیہاتی نے کہا پس آپ کو اس ذات کیق سم اور اس کا واسطہ جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا پہاڑوں کو نصب کیا اور ان میں منافع کو رکھا، کیا واقعی اللہ نے آپ کو رسول بناکر بھیجا ہے ؟ آپ نے فرمایا بالکل۔ دیہاتی نے کہا اور آپ کے قاصد کا خیال ہے کہ ہمارے دن و رات میں پانچ نمازیں فرض کی گئی ہیں فرمایا س نے سچ کہا دیہاتی نے کہا، آپ کوا س ذات کی قسم جس نے آپ کو مبعوث فرمایا کیا واقعی اللہ نے اس کا آپ کو حکم دیا ہے فرمایا بالکل۔ دیہاتی نے کہا اور آپ کے قاصد کا یہ بھی خیال ہے کہ ہم پر ایک سال میں ایک ماہ کے روزے فرض کیے گئے ہیں ؟ فرمایا س نے سچ کہا، دیہاتی نے کہا آپ کو اس ذات کی قسم جس نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے کیا واقعی اللہ نے اس کا آپ کو حکم فرمایا ہے ؟ فرمایا بالکل پھر دیہاتی نے کہا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو مبعوث فرمایا میں اس میں کچھ کمی و زیادتی نہ کروں گا پھر جب دیہاتی چلا گیا تو آپ نے فرمایا اگر اس نے سچ بولا ہے تو جنت میں ضرور داخل ہوجائے گا۔ کرر۔
1374 - عن أنس قال "كنا نهينا أن نسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن شيء فكان يعجبنا أن يأتيه الرجل من أهل البادية فيسأله ونحن نسمع فأتاه رجل فقال: "يا محمد أتانا رسولك فزعم أنك تزعم أن الله أرسلك، قال صدق، فقال فمن خلق السماء قال الله، قال فمن خلق الأرض قال الله قال فمن نصب هذه الجبال قال الله، قال فمن جعل فيها هذه المنافع قال الله قال فبالذي خلق السموات والأرض ونصب الجبال وجعل هذه المنافع آلله أرسلك قال نعم، قال وزعم رسولك أن علينا خمس صلوات في يومنا وليلنا، قال صدق، قال بالذي أرسلك، آلله أمرك بهذا؟ قال نعم، قال وزعم رسولك أن علينا صوم شهر في سنتنا، قال صدق، قال فبالذي أرسلك، آلله أمرك بهذا؟ قال نعم، قال والذي بعثك بالحق نبيا لا أزيد عليهن ولا أنقص منهن، فلما مضى قال لئن صدق ليدخلن الجنه". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی مضبوطی چار چیزوں میں
١٣٧٥۔۔ تم ، ، لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ، کی شہادت دو ، نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، ماہ صیام کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنی ذات کے لیے پسند کرتے ہو۔ اور لوگوں کے لیے بھی اس چیز سے کراہت کرو جس سے اپنی ذات کے لیے کراہت کرتے ہو۔ الکبیر للطبرانی (رح) ، بروایت جریر۔
پس منظر۔۔۔ ایک شخص نے آکرحضور اکرم سے اسلام کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے یہ جواب عنایت فرمایا۔
پس منظر۔۔۔ ایک شخص نے آکرحضور اکرم سے اسلام کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے یہ جواب عنایت فرمایا۔
1375 – "تشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتصوم رمضان وتحج البيت وتحب للناس ما تحب لنفسك وتكره لهم ما تكره لنفسك". (طب عن جرير) قال جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فسأله عن الإسلام قال فذكره.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی مضبوطی چار چیزوں میں
١٣٧٦۔۔ از مسند جریر جریر (رض) سے مروی ہے کہ ایک اعرابی شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے اسلام سکھائیے آپ نے فرمایا تم اس بات کی شہادت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمداللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور نماز قائم کرو، زکوۃ اد اکرو، ماہ صیام کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو، لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنی ذات کے لیے پسند کرتے ہو اور لوگوں کے لیے بھی اس چیز سے کراہت کروجس سے اپنی ذات کے لیے کراہت کرتے ہو۔ ابن جریر۔
1376 - (ومن مسند جرير) عن جرير قال: " جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال علمني الإسلام، قال: تشهد ان لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتصوم رمضان وتحج البيت وتحب لنفسك وتكره لهم ما تكره لنفسك". (ابن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان کی مضبوطی چار چیزوں میں
١٣٧٧۔۔ ازمسند حکیم بن معاویہ النمیر حکیم (رض) بن معاویہ سے مروی ہے کہ وہ حضور کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ ہمارے رب نے آپ کو کس بات کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ؟ فرمایا یہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو، اور ہر مسلمان کی جان ومال دوسرے مسلمان پر حرام ہیں اے حکیم بن معاویہ یہ تیرا دین ہے تو جہاں بھی ہو یہ تیرے لیے کافی ہے۔ ابونعیم۔
1377 - (ومن مسند حكيم بن معاوية النميري) عن حكيم بن معاوية أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال "يا رسول الله بما أرسلك ربنا؟ قال أن تعبد الله ولا تشرك به شيئا وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وكل مسلم من مسلم حرام يا حكيم بن معاوية هذا دينك أينما تكن يكفك". (أبو نعيم) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند ہو
١٣٧٨۔۔ ازمسند سراقہ (رض) بن مالک مغیرہ بن سعد بن الاخزم اپنے والد سے یا اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں میں حضور سے کچھ سوال کرنے کی غرض سے حاضر ہوا مجھے بتایا گیا کہ آپ میدان عرفات میں ہیں۔ میں آپ کے پاس پہنچا اور اونٹنی کی مہار میں نے تھام لی آپ کے اصحاب یہ دیکھ کر مجھ پرچیخے۔ مگر اپ نے فرمایا اس کو چھوڑ دو معلوم ہوا کہ اس کی کیا حاجت ہے ؟ پھر میں نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے ایسا کوئی عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت سے قریب تر اور جہنم سے بعید تر کردے۔ آپ نے فرمایا اگرچہ تو نے مختصر سی بات کہی ہے مگر درحقیقت یہ بہت بڑی اور عظیم بات ہے۔ پھر آپ نے کچھ سکوت فرمایا اور پھر آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا تم اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، ماہ صیام کے روزے رکھو، لوگوں کے لیے بھی وہی پسند کر جو لوگوں سے اپنے لیے چاہتیہ و اور جو بات کہ لوگوں سے اپنے لیے ناپسند کرتے ہو لوگوں کے لیے بھی اس کو چھوڑ دو ۔ اب ناقہ کی زمام چھوڑ دو ۔ ابن جریر۔
1378 - (ومن مسند سراقة بن مالك) عن المغيرة بن سعد بن الأخزم عن أبيه أو عن عمه قال "أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أريد أن أسأله فقيل لي هو بعرفة فاستقبلته فأخذت بزمام الناقة فصاح بي أناس من أصحابه فقال: دعوه فارب ماجاء به فقلت يا رسول الله دلني على عمل يقربني من الجنة ويباعدني من النار فقال إن كنت أوجزت في الخطبة فقد أعظمت وأطولت فسكت ساعة ثم رفع رأسه إلى السماء فنظر فقال: تعبد الله ولا تشرك به شيئا وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتصوم رمضان وتحب للناس ما تحب أن يأتوا إليك، وما كرهت أن يأتوك إليك فدع الناس منه، خل زمام الناقة". (ابن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৭৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند ہو
١٣٧٩۔۔ از مسند عبداللہ بن الشخیر ، عبداللہ بن عامر المتفق سے مروی ہے کہ مجھے رسول اکرم کے متعلق خبر ملی تو میں آپ کی تلاش میں نکلا، کسی نے مجھے کہا کہ آپ وادی منی میں ہیں یا میدان عرفات میں۔ میں آپ کے پاس پہنچا اور آپ کی سواری کی نکیل میں نے تھام لی پھر میں نے کہا میں آپ سے دو چیزوں کے بارے میں سوال کروں گا یہ کہ مجھے کیا چیز جہنم سے نجات دلائے گی اور کیا چیز جنت میں دخول کا سبب بنے گی پھر آپ نے آسمان کی طرف دیکھا اور فرمایا اگرچہ تو نے مختصر سی بات کہی ہے مگر درحقیقت یہ بہت بڑی اور عظیم بات ہے اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور فرض نماز قائم کرو، فریضہ ادا کرو، زکوۃ کا، رمضان کے روزے رکھو، اور لوگوں کو جو سلوک اپنے لیے پسند کرتے ہو وہی ان کیس اتھ بھی کرو، اور جو بات کہ لوگوں سے اپنے لیے ناپسند کرتے ہو لوگوں کے بھی اس کو چھوڑ دو ۔ اب سواری کا راستہ چھوڑ دو ۔ الدیلمی۔
1379 - (ومن مسند عبد الله بن الشخير) عن عبد الله بن عامر المنتفق قال " وصف لي رسول الله صلى الله عليه وسلم فطلبته بمكة فقيل هو بمنى أو بعرفات فانطلقت إليه فأخذت بخطام راحلته فقلت شيئان أسألك عنهما، ما ينجيني من النار ويدخلني الجنة؟ فنظر إلى السماء وقال: لئن كنت أوجزت المسئلة لقد أعظمت وطولت اعبد الله ولا تشرك به شيئا، وأقم الصلاة المكتوبة وأد الزكاة المفروضة وصم رمضان وما تحب أن يفعله بك الناس فافعله بهم، وما تكره أن يأتي الناس فذر الناس منه،
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند ہو
١٣٨٠۔۔ ازمسند ابن عمر سے مروی ہے کہ رسول اکرم نے فرمایا دین پانچ اشیاء کا نام ہے ان میں سے اللہ کسی کو دوسری کے بغیر قبول نہ فرمائیں گے اس بات کی شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمداللہ کے رسول ہیں اور اس کے بندے ہیں اور اللہ پر اس کے ملائکہ پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پرا اور جنت جہنم پر اور اس موت کے بعد ایک مرتبہ دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لانایہ ایک چیز ہوئی اور دوسری نماز ہے اور پنج گانہ اسلام کا ستون ہے اللہ تعالیٰ ایمان کو نماز وزکوۃ جو تیسرارکن ہے کے بغیر قبول نہ فرمائیں گے اور جس نے ان کو انجام دیا لیکن رمضان کے روزے جو چوتھا رکن ہے عمداچھوڑ دیا تب بھی اللہ ایمان کو قبول نہ فرمائیں گے ۔ اور جس نے ان چاروں اشیاء کو انجام دیا اور اس کے لیے حج کی کشادگی میسر ہوئی لیکن اس نے حج نہیں کیا اور نہ اس کی طرف سے اس کے اہل نے حج بدل کیا تو اللہ اس کے ایمان کو قبول نہ فرمائیں گے اور نہ نماز ، زکوۃ اور روزوں کو قبول فرمائیں گے ۔ آگاہ رہو۔۔ حج اللہ کے فریضوں میں سے ایک فریضہ ہے اور اللہ فرائض میں سے کسی کو کسی کے بغیر قبول نہ فرمائیں گے۔ ابن جریر۔ اس کی اسنادی حیثیت ضعیف ہے۔
1380 - (ومن مسند ابن عمر) عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "الدين خمس لا يقبل الله منهن شيئا دون شيء شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله والإيمان بالله وملائكته وكتبه ورسله والجنة والنار والحياة بعد الموت هذه واحدة، والصلوات الخمس عمود الإسلام لا يقبل الله الإيمان إلا بالصلاة والزكاة ومن فعل هذا ثم جاء رمضان فترك صيامه متعمدا لم يقبل الله الإيمان، ومن فعل هؤلاء الأربع ثم تيسر له الحج ولم يحج عنه بعض أهله لم يقبل الله منه الإيمان ولا الصلاة ولا الزكاة ولا صيام رمضان ألا إن الحج فريضة من فرائض الله ولن يقبل الله شيئا من فرائضه دون بعض". (ابن جرير) وسنده ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند ہو
١٣٨١۔۔ ازمسند عبدالرحمن بن غنم الاشعری عبدالرحمن بن غنم سے مروی ہے کہ وہ آپ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ کے پاس جبرائیل اس صورت میں تشریف لائے جس میں آپ پہلے ان کو پہچانتے نہ تھے اور انھوں نے آکر آپ کے گھٹنوں پر اپنا ہاتھ رکھ دی اور کہا یارسول اللہ اسلام کیا ہے ؟ فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم اپنی ذات اللہ کے سپرد کرو۔ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ، کی شہادت دو نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، جبرائیل نے کہا اگر میں ان کو بجالاؤں تو کیا میں مسلمان ہوجاؤں گا ؟ آپ نے فرمایا بالکل۔ جبرائیل نے کہا آپ نے سچ فرمایا، پھر استفسار کیا، ایمان کیا ہے یارسول اللہ ، فرمایا ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر یوم آخرت پر ملائکہ پر کتاب اللہ پر، انبیاء پر ممات اور حیات پر حیات بعد الموت پر ایمان لاؤ۔ نیز حساب کتاب پر میزان پر جنت جہنم پر ایمان لاؤ، اور ہر بھلی وبری تقدیر پر ایمان لاؤ، جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا اگر میں یہ کرلوں تو کیا میں مومن ہوجاؤں گا، فرمایا جی۔ جبرائیل نے کہا آپ نے سچ فرمایا، پھر استفسار کیا احسان کیا ہے یارسول اللہ ؟ فرمایا یہ کہ تم اللہ سے یوں ڈرو گویا اسے دیکھ رہے ہو۔۔ جبرائیل نے کہا آپ نے سچ فرمایا پھر استفسار کیا قیامت کب واقع ہوگی یارسول اللہ فرمایا سبحان اللہ ، سبحان اللہ ، غیب کی پانچ باتوں کو اللہ کے ماسوا کوئی نہیں جانتا۔ اور اس بارے میں جس سے سوال کیا گیا ہے وہ خودسائل سے زیادہ علم نہیں رکھتا۔ ان اللہ عندہ علم الساعۃ وینزل الغیث ویعلم مافی الارحام، وماتدری نفس ماذاتکسب غدا وماتدری نفس بای ارض تموت۔ بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کو ہے وہی بارش نازل کرتا ہے اور رحموں میں جو کچھ ہے اس کو جانتا ہے اور کل آئندہ کو کوئی جی کیا کمانے والا ہے کوئی نہیں جانتا ہے اور کوئی جی نہیں جانتا کہ اس کی کہا موت آئے گی۔ اور اگر تم قبل از قیامت کے متعلق کچھ جانناچاہوتو میں تمہیں بتاتاہوں کہ اس کی کیا علامت ہیں وہ یہ ہیں کہ جب باندی اپنی مالکہ کو جنم دینے لگے اور عمارتیں فلک بوس ہونے لگیں اور توننگے پاؤں والے فقیر لوگوں کو دیکھے کہ وہ لوگوں کی گردنوں کے مالک بنے بیٹھے ہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کیا پوچھا یارسول اللہ وہ کون لوگ ہیں ؟ لیکن پھر وہ سائل شخص منہ موڑ کر چلا گیا آپ نے پوچھا سائل کہاں ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا ہم پھر اس کا راستہ نہیں پاسکے۔ حضور نے فرمایا یہ جبرائیل تھے تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے اور جب بھی وہ میرے پاس آئے میں نے ان کو پہچان لیا سوائے آج کی اس صورت کے ۔ ابن عساکر۔
1381 - ومن (مسند عبد الرحمن بن غنم الأشعري) عن عبد الرحمن بن غنم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم " أنه أتاه جبريل في صورة لم يعرفه فيها حتى وضع يده على ركبتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ما الإسلام؟ قال: الإسلام أن تسلم وجهك لله وتشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة، قال فإذا فعلت ذلك فقد أسلمت؟ قال نعم، قال صدقت فما الإيمان يا رسول الله؟ قال: الإيمان تؤمن بالله واليوم الآخر والملائكة والكتاب والنبيين وبالموت والحياة بعد الموت والحساب والميزان والجنة والنار والقدر كله خيره وشره، قال فإذا فعلت ذلك فقد آمنت؟ فقال نعم، قال صدقت قال فما الإحسان يا رسول الله؟ قال تخشى الله كأنك تراه فإنك إن لا تك تراه فإنه يراك، قال فإذا فعلت ذلك فقد أحسنت؟ قال نعم، قال صدقت، قال فمتى الساعة يا رسول الله؟ قال سبحان الله سبحان الله خمس من الغيب لا يعلمهن إلا الله ما المسؤول عنهن بأعلم بهن من السائل: إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الأرحام وما تدري نفس ماذا تكسب غدا وما تدري نفس بأي أرض تموت، وإن شئت أخبرتك بعلم ما قبلها. إذا ولدت الأمة ربتها وتطاول البنيان ورأيت الحفاة العالة على رقاب الناس، قال ومن هم يا رسول الله عريب. ثم ولى الرجل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أين السائل قالوا ما رأينا طريقه بعد، قال ذاكم جبريل يعلمكم دينكم وما جاءني قط إلا عرفته إلا اليوم". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز ہر سے سوال ہوگا
١٣٨٢۔۔ از مسند معاویہ بن حیدہ بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا یارسول اللہ میں آپ کے پاس اپنی انگلیوں کے شمار برابر قسم اٹھا کر آیاہوں اس بات پر کہ میں آپ کی اتباع کرو گا اور نہ آپ کے دین کی اتباع کرو، کیونکہ آپ ایسی بات لائے ہیں جو میں نہیں سمجھ سکا سوائے اس کے اب اللہ اور اس کا رسول جو کچھ سکھادیں پس اب میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ تیرے رب نے کس بات کے ساتھ تجھ کو مبعوث کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ فرمایا اسلام کے ساتھ میں نے کہا اسلام کی نشانی کیا ہے ؟ فرمایا یہ کہ تم ۔ لاالہ الللہ محمد رسول اللہ ، کی شہادت دو ۔ نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، شرک سے قطعا جدا ہوجاؤ اور ہر مسلمان کی جان ومال دوسرے مسلمان کے لیے حرام ہے۔ دونوں بھائی بھائی ہیں۔ باہم مددگار ہیں۔ جس نے اسلام کیس اتھ کسی کو شریک کیا اللہ اس کا کوئی عمل قبول نہ فرمائیں گے۔ اور میرا رب مجھے بلانے والا ہے پھر مجھ سے سوال کرے گا کہ میرے بندوں کو دعوت پہنچادی یا نہیں ؟ پس تم میں سے حاضرین وغائبین کو یہ دعوت پہنچادیں۔ اور تم قیامت کے روز مونہوں پر مہر لگے ہوئے بلائے جاؤ گے پس سب سے پہلے جو کسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے گا وہ ران اور ہاتھ ہیں، میں نے کہا یارسول اللہ کیا یہ ہمارا دین ہے فرمایا ہاں اور تم جہاں ہو گے یہ تمہیں کافی ہوگا اور تم اس حالت میں جمع کیے جاؤ گے کہ کچھ تم میں سے مونہوں کے بل آئیں گے اور کچھ قدموں پر اور کچھ سوار ہو کر آئیں گے۔ شعب الایمان۔
1382 - ومن (مسند معوية بن حيدة) عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال: " أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله ما جئتك حتى حلفت بعدد أصابعي هذه أن لا أتبعك ولا أتبع دينك فإني أتيت أمرا لا أعقل شيئا إلا ما علمني الله ورسوله وإني أسألك بم بعثك ربك إلينا؟ قال اجلس،ثم قال: بالإسلام، فقلت: وما آية الإسلام؟ قال: تشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتفارق الشرك وإن كل مسلم على كل مسلم حرام أخوان نصيران لا يقبل من مشرك أشرك مع إسلامه عملا وإن ربي داعي فسائلي هل بلغت عبادي فليبلغ شاهدكم غائبكم وإنكم تدعون مفدما على أفواهكم بالفدام فأول ما يسأل عن أحدكم فخذه وكفه، قلت يا رسول الله فهذا ديننا، قال نعم وأينما تحسن يكفك وإنكم تحشرون على وجوهكم وعلى أقدامكم وركبانا". (هب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৮৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیامت کے روز ہر سے سوال ہوگا
١٣٨٣۔۔ عروہ بن رویم ، معاویہ بن حکیم القشیری ، سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسوال اکرم کے پاس حاضر ہوئے اور کہا قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق اور دین حق کے مبعوث کیا ہے کہ میں آپ تک اس وقت تک نہیں آیا جب تک کہ اپنی قوم کو ان دونوں ہاتھ کی انگلیوں کے شمار برابر حلف نہیں دیا، کہ میں آپ کی اتباع کروں گا اور نہ آپ پر ایمان لاؤ ں گا، اور آپ کی تصدیق بھی نہ کروں گا، سو میں آپ کو خدا کا واسطہ دیتاہوں کہ مجھے بتائیے کہ اللہ نے آپ کو کس بات کے ساتھ مبعوث کیا ہے آپ نے فرمایا اسلام کے ساتھ میں نے پوچھا اسلام کیا ہے فرمایا یہ کہ تم اپنی ذات اللہ کے سپردو کرو۔ اس کے لیے اپنے نفس کو فارغ کرلو۔ پوچھا پھر ہماری ازواج کا ہم پر کیا حق ہے فرمایا جب تم کو کھانا ملے تو ان کو بھی کھلاؤ اور جب تمہیں پہننے کو ملے تو انھیں بھی پہناؤ، چہرے پر نہ مارو۔ برابھلا نہ کہو اور ان سے جدائی گھر سے باہر نہ کرو۔ جبکہ تم ان سے صحبت کرچکے ہو اور وہ تم سے عہد واثق بھی لے چکی ہیں۔ پھر آپ نے شام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم وہاں سوار پیدل اور مہر زدہ چہروں کے بل پیش کیے جاؤ گے اور اول چیز جو کلام کرے گی وہ اس کی ران ہوگی۔ کرر۔
1383 - عن عروة بن رويم عن معوية بن حكيم القشيري أنه قدم على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: " والذي بعثك بالحق ودين الحق ما تخلصت إليك حتى حلفت لقومي عدد هؤلاء يعني يعني عدد أنامل كفيه بالله لا أتبعك ولا أؤمن بك ولا أصدقك وإني أسألك بالله بما بعثك؟ قال بالإسلام، قال وما الإسلام؟ قال أن تسلم وجهك لله وأن تخلي له نفسك قال فما حق أزواجنا علينا قال أطعم إذا طعمت واكس إذا كسيت ولا تضرب الوجه ولا تقبحه ولا تهجر إلا في البيت كيف وقد أفضى بعضكم إلى بعض وأخذن منكم ميثاقا غليظا ثم أشار بيده قبل الشام فقال ههنا تحشرون ههنا تحشرون ركبانا ورجالا وعلى وجوهكم الفدام أول شيء يعرب عن أحدكم فخذه". (كر) .
তাহকীক: