কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ১৩৪৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے
١٣٤٤۔۔ اصنام جاہلیت میں سے سوائے ذوالخلصہ کے اور کوئی بت باقی نہ رہا۔ الکبیر للطبرانی ، بروایت جریر۔ یہ اس زمانہ میں فارس کے شہروں میں پایاجاتا تھا۔
1344 – "لم يبق من طواغيت الجاهلية إلا ذو الخلصة" (2) (طب عن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے
١٣٤٥۔۔ ضرور بالضرور یہ امراسلام جاری وساری رہے گا، جب تک کہ گردش لیل ونہار جاری ہے ، اور اللہ کسی پختہ اور ناپختہ مکان کونہ چھوڑیں گے ۔۔ بلکہ ہر گھر میں اس دین کو داخل فرمادیں گے معزز کو اس کی عزت کے ساتھ ذلیل کو اس کی ذلت کیس اتھ یعنی اسلام ومسلمین کو اس کے ساتھ عزت سے ہمکنار فرمائیں گے۔ اور کفر وکافر کو ان کے ساتھ ذلیل ورسوا کریں گے۔ مسنداحمد، الکبیر للطبرانی ، المستدرک لحاکم، السنن للبیہقی ، السنن لسعید، بروایت تمیم (رض) ۔
1345 – "ليبلغن هذا الأمر ما بلغ الليل والنهار ولا يترك الله عز وجل بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله هذا الدين يعز عزيزا أو يذل ذليلا عزا يعز الله به الإسلام وذلا يذل الله به الكفر". (حم طب ك ق ص عن تميم) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے
١٣٤٦۔۔ جو سر پر تلوار لٹکتے ہوئے اسلام لایا، اس شخص کا ہمسر نہیں ہوسکتا، جو اپنی خوشی ورغبت کے ساتھ اسلام لایا۔ ابونعیم بروایت انس (رض)۔
1346 – "ليس من أتى الإسلام طائعا كمن عصب رأسه بالسيف". (أبو نعيم عن أنس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے
١٣٤٧۔۔ اگر علماء یہود میں سے دس افراد بھی ایمان مجھ پر لے آئیں توروئے زمین کے تمام یہودی مجھ پر ایمان لے آئیں۔ مسنداحمد، بروایت ابوہریرہ۔
1347 – " لو آمن بي عشرة من أحبار اليهود لآمن بي كل يهودي على وجه الأرض". (حم عن أبي هريرة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے
١٣٤٨۔۔ جس یہودی یا نصرانی نے میری بات سنی لیکن میری اتباع نہ کی (وہ جہنم میں جائے گا) ۔ الدار قطنی فی الافراد ، بروایت ابن مسعود (رض)۔
1348 – "من سمع بي من يهودي أو نصراني ثم لم يتبعني فهو في النار". (قط في الأفراد عن ابن مسعود) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے
١٣٤٩۔۔ میری امت میں سے کسی نے یا یہودی یا نصرانی نے میری بات سنی لیکن مجھ پر ایمان نہ لایا وہ جنت میں داخل نہ ہوسکے گا۔ مسنداحمد، ابن جریر، طبرانی، بروایت ابی موسیٰ (رض) ۔
1349 – "من سمع بي من أمتي أو يهودي أو نصراني فلم يؤمن بي لم يدخل الجنة". (حم وابن جرير طب عن أبي موسى) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے
١٣٥٠۔۔ تم میں سے کوئی کسی کو یوں نہ کہے کہ اس کو میرا دوست نہیں جانتا، جب تک کہ اس کا علم نہ ہوجائے کہ وہ مومن ہے۔ الدیلمی ، بروایت ابن عباس (رض)۔
1350 – "لا يقولن أحدكم للمرء لا يعرفه خليلي حتى يعلم أنه مؤمن". (الديلمي عن ابن عباس) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے
١٣٥١۔۔ اے برادر تنوخ ! میں نے کسری کو خط لکھا تھا مگر اس نے اس کو پھاڑ ڈالا، اب اللہ اس کو اور اس کی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالے گا، اور میں نے شاہ نجاشی کو دعوت نامہ لکھا اس نے بھی پھاڑ ڈالا، اللہ اس کو اور اس کی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالے گا، اور اے تنوخ، میں نے تیرے ساتھی ھرقل کو بھی ایک دعوت نامہ لکھا تھا اس نے اس کو محفوظ رکھا، سو جب تک زندگی میں اچھائی کو اختیار کیے رکھے گا لوگ مسلسل اس سے جنگ کی حالت میں پائیں گے۔ مسنداحمد، بروایت التنوخی قاصد ھرقل۔
حدیث میں جس نجاشی کا تذکرہ ہے یہ دوسرانجاشی ہے اس سے پہلے نجاشی جس کا نام ، اصحمہ ، تھا حضورپر ایمان لے آیا تھا اسی نے مسلمانوں کو پناہ میسر کی تھی اور اسی کی حضور نے غائبانہ نماز جنازہ ادا کی تھی۔
حدیث میں جس نجاشی کا تذکرہ ہے یہ دوسرانجاشی ہے اس سے پہلے نجاشی جس کا نام ، اصحمہ ، تھا حضورپر ایمان لے آیا تھا اسی نے مسلمانوں کو پناہ میسر کی تھی اور اسی کی حضور نے غائبانہ نماز جنازہ ادا کی تھی۔
1351 – "يا أخا تنوخ أني كتبت بكتاب إلى كسرى فمزقه والله يمزقه ويمزق ملكه وكتبت إلى النجاشي بصحيفة فخرقها والله مخرقه ومخرق ملكه وكتبت إلى صاحبك بصحيفة فأمسكها فلن يزال الناس يجدون منه بأسا ما دام في العيش صفوة". (حم عن التنوخي رسول هرقل) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے
١٣٥٢۔۔ اے قتادہ بیری کے پتوں اور پانی سے غسل کرو اور زمانہ کفر کے یہ بال اتروا آؤ، بروایت قتادہ الرھاوی۔
1352 – "يا قتادة اغتسل بماء وسدر واحلق عنك شعر الكفر". (عن قتادة الرهاوي) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے
١٣٥٣۔۔ بیری کے پتوں اور پانی سے غسل کرو اور اپنے سے کفر کے یہ بال منڈوا دو ۔ الصغیر للطبرانی ، بروایت واثلہ۔
1353 – "اغتسل بماء وسدر واحلق عنك شعر الكفر". (طص حل عن واثلة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے
١٣٥٤۔۔ اے واثلہ ! جاؤ اور کفر کے بال اپنے سے دھوؤ اور پانی وبیری کے پتوں سے غسل کرلو۔ تمام، ابن عساکر، بروایت واثلہ (رض) ۔
1354 – "يا واثلة اذهب فاغتسل عنك شعر الكفر واغتسل بماء وسدر". (تمام وابن عساكر عن واثلة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل اول۔۔۔ ایمان کی حقیقت کے بیان میں۔
١٣٥٥۔۔ ازمسند عمر (رض) یحییٰ بن یعمر، ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے عمر (رض) بن خطاب نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ کے پاس حاضر خدمت تھے کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا، اس کے جسم پر دوسفید کپڑے تھے متناسب الاعضائ، اور اچھی شکل و صورت کا مالک تھا، اس نے آکر آپ سے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا میں آپ کے قریب ہوسکتا ہوں، آپ نے فرمایا ہوجاؤ، قریب تو وہ قریب ہوتے ہوتے اتناقریب آگیا کہ اس کے گھٹنے رسول اللہ کے گھٹنوں سے آملے۔ پھر اس نووارد نے عرض کیا : کیا میں کچھ سوال کرسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا کہ کرو سوال۔ عرض کیا مجھے اسلام کے بارے میں خبر دیجئے ؟ فرمایا اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، ، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا، اس نے عرض کیا تو کیا میں ان افعال کی ادائیگی کے بعد مسلمان ہوجاؤں گا ؟ فرمایا جی ہاں۔ اس شخص نے عرض کیا، آپ نے سچ فرمایا اس پر ہم کو تعجب ہوا کہ وہ شخص سائل ہونے کے باوجود جو کہ لاعلم ہوتا ہے تصدیق کررہا ہے، گویا اس کو پہلے اس کا علم تھا، پھر اس شخص نے سوال کیا یارسول اللہ مجھے ایمان کے بارے میں خبر دیجئے ؟ فرمایا یہ کہ تم اللہ اور اس کے ملائکہ اور فرشتوں اور رسولوں اور بعث بعد الموت پر ایمان لاؤ اور اس بات پر کہ جنت حق ہے جہنم حق ہے اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لاؤ، سائل نے عرض کیا اگر میں ایسا کرلوں تو کیا میں مومن ہوجاؤں گا، فرمایا جی ہاں سائل نے پھر سوال کیا مجھے قیامت کے متعلق خبر دیجئے ؟ فرمایا اس کے متعلق مسوئل کو سائل سے زیادہ علم نہیں ہے، یہ ان اشیاء خمسہ میں ہے جن کا علم ماسوا اللہ کے کسی کو نہیں۔ بیشک قیامت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ وہی بارش برساتا ہے ، اس پر سائل نے کہا، آپ نے سچ فرمایا۔ ابوداؤد الطیالسی۔
1355 - (من مسند عمر رضي الله عنه) عن يحيى بن يعمر عن ابن عمر قال: حدثني عمر بن الخطاب أنه كان عند رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فجاءه رجل عليه ثوبان أبيضان مقوم حسن النحو والناحية فقال: "أدنو منك يا رسول الله فقال: ادنوا فلم يزل يدنو حتى كانت ركبته عند ركبة رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ثم قال: أسألك قال: سل قال أخبرني عن الإسلام قال شهادة أن لا إله إلا الله وأني رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وحج البيت وصوم رمضان قال: فإذا فعلت ذلك فأنا مسلم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم نعم قال الرجل صدقت فجعلنا نعجب من قوله لرسول الله صلى الله عليه وأسلم صدقت كأنه أعلم منه ثم قال يا رسول الله أخبرني عن الإيمان قال: أن تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله والبعث بعد
الموت والجنة والنار وتؤمن بالقدر خيره وشره قال فإذا فعلت ذلك فأنا مؤمن قال: نعم قال: صدقت قال: فأخبرني عن الساعة قال: ما المسؤول عنها بأعلم من السائل هن خمس لا يعلمهن إلا الله إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث الآية، فقال الرجل: صدقت". (ط) .
الموت والجنة والنار وتؤمن بالقدر خيره وشره قال فإذا فعلت ذلك فأنا مؤمن قال: نعم قال: صدقت قال: فأخبرني عن الساعة قال: ما المسؤول عنها بأعلم من السائل هن خمس لا يعلمهن إلا الله إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث الآية، فقال الرجل: صدقت". (ط) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل اول۔۔۔ ایمان کی حقیقت کے بیان میں۔
١٣٥٦۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایمان نیت اور زبان سے حاصل ہوتا ہے اور ہجرت جان ومال کے ذریعہ سے ہوتی ہے الدارقطنی فی الافراد فرماتے ہیں کہ اس کی روایت میں ابوعصمہ نوح بن مریم متفرد ہے اور وہ کذاب ہے لہٰذا اس روایت کا اعتبار نہیں۔
1356 - عن عمر قال: "الإيمان بالنية واللسان، والهجرة بالنفس والمال". (قط في الأفراد قال تفرد به أبو عصمة نوح بن مريم وهو كذاب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل اول۔۔۔ ایمان کی حقیقت کے بیان میں۔
١٣٥٧۔۔ محارب بن دثار ، حضرت عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا، ہم حضور کے پاس حاضر خدمت تھے کہ آپ کی خدمت میں ایک سفید لباس میں ملبوس ، عمدہ خوشبو میں بسا ہوا شخص حاضر ہوا، اور اس نے آکر اپنا ہاتھ حضور کے گھٹنوں پر رکھ کر بیٹھتے ہوئے کہا، ایمان کیا ہے، یارسول اللہ فرمایا یہ کہ تم اللہ پر یوم آخرت پر، ملائکہ پر کتاب اللہ پرا اور انبیاء پر ایمان لاؤ، نیز جنت اور جہنم پر ایمان لاؤ، اور اس بات پر ایمان لاؤ کہ تقدیر اچھی اور بری برحق ہے سائل نے عرض کیا اگر میں ایسا کرلوں تو کیا میں مومن ہوجاؤں گا، ؟ فرمایا بالکل۔ سائل نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔ اس پر ہم کو تعجب ہوا کہ وہ شخص سائل ہونے کے باوجود آپ کی تصدیق کررہا ہے۔ سائل نے پھر سوال کیا اسلام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تم نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، بیت اللہ کا حج کرو، ماہ صیام کے روزے رکھو، جنابت سے غسل کرو، سائل نے عرض کیا تو کیا میں ان افعال کی ادائیگی کے بعد مسلمان ہوجاؤں گا۔ فرمایا بالکل ۔ سائل نے پھر سوال کیا : احسان کیا چیز ہے ؟ فرمایا تم اللہ کے لیے یوں عمل کرو گویا کہ اسے دیکھ رہے ہو۔۔ پس اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے وہ تویقینا تمہیں دیکھ ہی رہا ہے سائل نے کہا : آپ نے سچ فرمایا ۔ پھر سوال کیا، وقوع قیامت کب ہوگا ؟ فرمایا اس کے متعلق مسوئل سائل سے زیادہ علم نہیں رکھتا، سائل نے کہا، آپ نے سچ فرمایا، پھر سائل منہ موڑ کر چل دیا، آپ نے فرمایا سائل کو میرے پاس حاضر کرو اور اس کو تلاش کرو لیکن اصحاب رسول پر اس پر قادر نہ ہوسکے۔ تب آپ نے فرمایا، یہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے تمہیں تمہارا دین سمجھانے آئے تھے اور سوائے اس مرتبہ کے اس سے قبل جب بھی کسی صورت میں میرے پاس تشریف لائے میں نے ان کو پہچان لیا۔ رسہ فی الایمان۔
1357 – "عن محارب بن دثار عن عمر قال: " بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا أتاه رجل أبيض الثياب طيب الريح فوضع يده على ركبة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله ما الإيمان قال أن تؤمن بالله واليوم الآخر والملائكة والكتاب والنبيين والجنة والنار وبالقدر خيره وشره قال فإذا فعلت ذلك فأنا مؤمن؟ قال نعم قال صدقت فتعجبنا من قوله لرسول الله صلى الله عليه وسلم صدقت، قال: فما الإسلام قال تقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتحج البيت وتصوم رمضان وتغتسل من الجنابة قال فإذا فعلت ذلك فأنا مسلم قال نعم، قال: صدقت فتعجبنا من قوله لرسول الله صلى الله عليه وسلم صدقت، قال: فما الإحسان قال تعمل لله كأنك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك قال: صدقت، قال: فمتى الساعة قال ما المسؤول عنها بأعلم من السائل قال صدقت، ثم أدبر وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم علي بالرجل فالتمسوه فلم يقدروا عليه فقال هذا جبرئيل جاءكم ليريكم دينكم وما أتاني في صورة قط إلا عرفته قبل مرتي هذه". (رسته في الإيمان) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل اول۔۔۔ ایمان کی حقیقت کے بیان میں۔
١٣٥٨۔۔ عمر بن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگوں کے ایک مجمع کے ساتھ رسول اکرم کے گردوپیش بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایساشخص حاضر مجلس ہوا جس پر نہ توآثار سفر تھے اور نہ ہی وہ اہل شہر میں سے تھا، وہ اہل مجلس کو عبور کرتا ہوا حتی کہ عین رسول اکرم کے سامنے آکر دوزانو بیٹھ گیا۔ جس طرح ہم میں سے کوئی نماز میں بیٹھتا ہے۔ اور پھر اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھ دیے پھر کہا اے محمد ! اسلام کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا، اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی شہادت دو ، کہ اللہ کے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، بیت اللہ کا حج وعمرہ کرو، جنابت سے غسل کرو، وضو کو تام کرو، ماہ صیام کے روزے رکھو، سائل نے عرض کیا، تو کیا میں ان افعال کی ادائیگی کے بعد مسلمان ہوجاؤں گا ؟ فرمایا بالکل ۔ سائل نے کہا، آپ نے سچ فرمایا اے محمد، پھر پوچھا ایمان کیا ہے۔ فرمایا یہ کہ تم اللہ پر اور اس کے ملائکہ پر کتابوں اور رسولوں پر ایمان لاؤ، نیز جنت جہنم اور میزان پر ایمان لاؤ۔ اور بعث بعد الموت پر ایمان لاؤ اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لاؤ، سائل نے عرض کیا اگر میں ایسا کرلوں تو کیا میں مومن ہوجاؤ ں گا۔ ؟ فرمایا جی ۔ پھر کہا آپ نے سچ فرمایا، اللالکائی بخاری و مسلم فی البعث۔
1358 - عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: "بينا نحن جلوس عند النبي صلى الله عليه وسلم في أناس إذ جاء رجل ليس عليه سحناء السفر وليس من أهل البلد حتى ورك بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم كما يجلس أحدنا في الصلاة ثم وضع يده على ركبتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا محمد ما الإسلام قال: الإسلام أن تشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وأن تقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتحج البيت وتعتمر وتغتسل من الجنابة وتتم الوضوء وتصوم رمضان قال فإن فعلت هذا فأنا مسلم قال نعم قال صدقت يا محمد، قال ما الإيمان قال الإيمان أن تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله وتؤمن بالجنة والنار والميزان وتؤمن بالبعث بعد الموت وتؤمن بالقدر خيره وشره قال: فإذا فعلت هذا فأنا مؤمن قال: نعم قال: صدقت". (اللا لكائي ق في البعث) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل اول۔۔۔ ایمان کی حقیقت کے بیان میں۔
١٣٥٩۔۔ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضور کے اخیرزمانہ میں ایک نوجوان سفید لباس میں ملبوس آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آکراستفسار کیا آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ فرمایا بیشک ۔ پھر اجازت طلب کی کہ کیا میں آپ کے قریب ہوسکتا ہوں ؟ فرمایا قریب آسکتے پھر اس شخص نے اپنے ہاتھ آپ کے گھٹنوں پر رکھ دیے ، پھر اس نووارد نے مکرر استفسار کیا کیا آپ اللہ کے رسول ہیں ؟ فرمایا یقیناً دو مرتبہ یہ مکالمہ ہوا ۔ پھر سائل نے سوال کیا : اسلام کیا ہے ؟ فرمایا یہ کہ تم اس بات کی شہادت دو کہ اللہ کے سوا کوئی پرستش کے لائق نہیں وہ تنہا معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ساجھی نہیں۔ اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اور یہ کہ تم نماز قائم کرو زکوۃ ادا کرو، ماہ صیام کے روزے رکھو، بیت اللہ کا حج کرو، پھر پوچھا ایمان کیا ہے ؟ فرمایا یہ کہ تم اللہ پر اور اس کے ملائکہ پر اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور یوم آخرت اور ہر طرح کی تقدیر پر ایمان لاؤ، پھر پوچھا احسان کیا ہے ؟ فرمایا یہ کہ تم اللہ کی عبادت یوں کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم نہیں دیکھ رہے وہ تویقینا تمہیں دیکھ رہا ہے سائل نے عرض کیا اگر میں کیفیت کو پالوں تو کیا مین محسن شمار ہوں گا ؟ فرمایا بالکل۔
حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ کے پیغمبر نے بیان کیا کہ حضرت موسیٰ کی حضرت آدم کی حضرت آدم سے ملاقات ہوئی حضرت موسیٰ نے حضرت آدم سے سوال کیا : کیا آپ وہی آدم ہیں۔۔ کہ اللہ نے آپ کو اپنے دست قدرت سے تخلیق فرمایا ؟ اور پھر آپ کو مسجود ملائکہ بنایا ؟ اگر آپ اس عصیان کا ارتکاب نہ فرماتے تو آپ کی اولاد میں سے کوئی جہنم میں داخل نہ ہوتا حضرت آدم نے فرمایا کیا آپ وہی موسیٰ ہیں جن کو اللہ نے اپنی رسالت اور اپنے ساتھ کلام کرنے کے لیے منتخب فرمایا ؟ اس کے باوجود تم مجھ پر ایسی چیز کے متعلق کیسے ملامت کررہے ہو جبکہ اللہ نے اس کو میری پیدائش سے قبل میری تقدیر میں لکھ دیا تھا ؟ الغرض دونوں کا مناظرہ ہو اور حضرت آدم موسیٰ پر غالب آگئے۔ ابن جریر۔
حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ کے پیغمبر نے بیان کیا کہ حضرت موسیٰ کی حضرت آدم کی حضرت آدم سے ملاقات ہوئی حضرت موسیٰ نے حضرت آدم سے سوال کیا : کیا آپ وہی آدم ہیں۔۔ کہ اللہ نے آپ کو اپنے دست قدرت سے تخلیق فرمایا ؟ اور پھر آپ کو مسجود ملائکہ بنایا ؟ اگر آپ اس عصیان کا ارتکاب نہ فرماتے تو آپ کی اولاد میں سے کوئی جہنم میں داخل نہ ہوتا حضرت آدم نے فرمایا کیا آپ وہی موسیٰ ہیں جن کو اللہ نے اپنی رسالت اور اپنے ساتھ کلام کرنے کے لیے منتخب فرمایا ؟ اس کے باوجود تم مجھ پر ایسی چیز کے متعلق کیسے ملامت کررہے ہو جبکہ اللہ نے اس کو میری پیدائش سے قبل میری تقدیر میں لکھ دیا تھا ؟ الغرض دونوں کا مناظرہ ہو اور حضرت آدم موسیٰ پر غالب آگئے۔ ابن جریر۔
1359 - عن عمر "أن رجلا شابا عليه ثياب بياض وذلك في آخر عمر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أتاه فقال: أنت رسول الله قال نعم قال أدنو منك؟ قال ادن مني فوضع يده على ركبتيه فقال أنت رسول الله؟ قال نعم مرتين قال ما الإسلام قال أن تشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا رسول الله وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتصوم رمضان وتحج البيت، قال فما الإيمان قال: تؤمن بالله ملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر والقدر كله، قال فما الإحسان قال تعبد الله كأنك تراه فإن كنت لا تراه فإنه يراك قال فإذا فعلت ذلك فأنا محسن قال نعم" قال عمر وحدثني نبي الله صلى الله عليه وسلم "أن موسى عليه الصلاة والسلام لقي آدم فقال أنت آدم الذي خلقك الله بيده وأسجد لك ملائكته ولولا الذي ركبت لم يدخل أحد من ولدك النار قال أنت موسى الذي اصطفاك الله برسالته وبكلامه فكيف تلومني في أمر قد كان كتب علي قبل أن أخلق فتحاجا فحج آدم موسى". (ابن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل اول۔۔۔ ایمان کی حقیقت کے بیان میں۔
١٣٦٠۔۔ ازمسند علی (رض) حضرت علی (رض) سے مروی ہے ، آپ نے فرمایا، جب سے اللہ نے آدم کو مبعوث فرمایا تب سے ایمان یہی چلاآرہا ہے کہ لاالہ الا اللہ کی شہادت دینا اور اس بات کا اقرار کرنا کہ ہر قوم کے لیے اللہ کے ہاں سے جو شریعت اور طریقہ نازل ہوا ہے سب برحق ہے اور کوئی اقرار کنندہ اپنی شرعیت کو چھوڑنے والا نہیں ہوسکتا، لیکن غفلت وتساہل کی بنا پر اس کو ضائع کرنے والا ہوسکتا ہے۔ ابن جریر فی تفسیرہ۔
1360 - (من مسند علي رضي الله عنه) عن علي قال "الإيمان منذ بعث الله آدم شهادة أن لا إله إلا الله والإقرار بما جاء من عند الله لكل قوم ما جاءهم من شريعة ومنهاج ولا يكون المقر تاركا ولكنه مضيع". (ابن جرير في تفسيره) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان تین چیزوں کے مجموعے کا نام ہے
١٣٦١۔۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے حضور اکرم سے سوال کیا کہ ایمان کس چیز کا نام ہے ؟ آپ نے فرمایا قلبی معرفت ، اقرار باللسان ، اور عمل بالاعضاء کا نام ہے۔ ابوعمرو بن حمدان فی فوائدہ۔
1361 - عن علي قال سألت النبي صلى الله عليه وآله وسلم عن الإيمان ما هو قال " معرفة بالقلب وإقرار باللسان وعمل بالأركان". (أبوعمرو بن حمدان في فوائده) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان تین چیزوں کے مجموعے کا نام ہے
١٣٦٢۔۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ آپ (رض) نے فرمایا کہ ایمان زبان سے اقرار کرنے دل میں یقین رکھنے اور اعضاء کے ساتھ عمل بجالانے کا نام ہے اور یہ گھٹتا و بڑھتا رہتا ہے۔ ابن مردویہ۔ اس کی اسنادی حیثیت ضعیف ہے۔
1362 - عن علي قال: قال صلى الله عليه وآله وسلم "الإيمان اقرار باللسان، وعقد بالقلوب، وعمل بالجوارح والأركان، وهو يزيد وينقص". (ابن مردويه) وسنده ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایمان تین چیزوں کے مجموعے کا نام ہے
١٣٦٣۔۔ ازمسند علقمہ (رض) ابن سوید بن علقمہ بن الحارث ابی سلمہ الدرانی سے روایت کرتے ہیں کہ ابوسلیمان الدارنی نے کہا میں نے علقمہ بن سوید بن علقمہ بن الحارث سے سناوہ کہتے ہیں میں نے اپنے جدامجد علقمہ بن الحارث سے سنا وہ فرما رہے تھے کہ میں حضور اکرم کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا اور میں اپنی قوم کے حاضر ہونے والے دیگر افراد سمیت ساتواں شخص تھا ہم نے حضور اکرم کو سلام عرض کیا آپ نے جواب مرحمت فرمایا، پھر ہم نے حضور سے گفتگو کی ، آپ کو ہماری گفتگو خوشگوار گزری تو آپ نے پوچھا کہ تم کون سے قبیلے کے لوگ ہو ؟ ہم نے عرض کیا ہم مومن ہیں۔ آپ نے فرمایا ہر قول کی ایک حقیقت ہوتی ہے تمہارے اس قول ایمان کی حقیقت کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا پندہ باتیں اس قول کی حقیقت ہیں۔ پانچ کا آپ نے ہمیں حکم فرمایا تھا اور دیگرپانچ ہمیں آپ کے قاصدوں کے ذریعہ معلوم ہوئیں اور آخری پانچ وہ ہیں جن کے ساتھ ہم زمانہ جاہلیت میں متصف ہوگئے تھے اور ہم اب تک ان باتوں پر عمل پیرا ہیں، الایہ کہ آپ کسی کی ممانعت فرمادیں۔۔ آپ نے استفسار فرمایا، میری کہی ہوئی پانچ باتیں کون سی ہیں ؟ ہم نے عرض کیا آپ نے ہمیں حکم دیا ہم اللہ پر اور اس کے ملائکہ پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائیں اور پانچویں یہ کہ اچھی وہ بری تقدیر پر بھی ایمان لائیں، آپ نے فرمایا اور وہ پانچ جو میرے قاصدوں نے کہیں۔۔ کون سی ہیں ؟ ہم نے عرض کیا : آپ کے قاصدوں نے ہم کو حکم دیا کہ ہم اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور وہ تن تنہا ہے اس کا کوئی ساجھی نہیں ۔ اور آپ اس کے بندے اور رسول ہیں، اور یہ کہ ہم فرض نماز قائم کریں ، فرض زکوۃ ادا کریں ماہ رمضان کے روزے رکھیں اور گرجانے کی استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج بھی کریں۔ آپ نے مزید استفسار کیا کہا اور وہ پانچ باتیں کون سی ہیں جن کو تم نے زمانہ جاہلیت میں اپنایا ؟ ہم نے عرض کیا، فراخی کے وقت شکر کرنا، مصیبت کے وقت صبر کرنا ملاقات کے وقت سچ بولنا، قضاء الٰہی پر راضی رہنا اور دشمنوں پر مصیبت آن پرے تو اس پر خوشی نہ کرنا، یہ سن کر رسول اللہ نے فرمایا یہ تو بڑے فقیہ وادیب لوگ ہیں۔ ان خصال کو اپنانے سے ممکن ہے کہ نبوت کی فصلیں پالیں۔ پھر آپ ہماری طرف مسکراتے ہوئے متوجہ ہوئے اور فرمایا میں مزید پانچ باتوں کی تم کو بطور خاص نصیحت کرتا ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ لیے خیری کی تمام خصلتیں مکمل رمادے۔۔ جس چیز کونہ کھانا ہوا سے جمع نہ کرو۔ جس جگہ رہائش اختیار نہ کرنی ہو اس کی تعمیر نہ کرو۔ جو چیز کہ کل کو تم سے چھوٹ جانے والی ہے اس میں مقابلہ بازی نہ کرو اور اس اللہ سے ڈرتے رہو، جس کی طرف تم کو جانا ہے اور اسمیں رغبت و کوشش کرو، جس کی طرف تم کو کوچ کرنا ہے ، اور جہاں تمہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہے۔ المستدرک للحاکم۔
1363 - (من مسند علقمة) ابن سويد بن علقمة بن الحارث عن أبي سليمان الداراني قال سمعت علقمة بن سويد بن علقمة بن الحارث يقول سمعت جدي علقمة بن الحارث يقول "قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا سابع سبعة من قومي، فسلمنا على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فرد علينا فكلمناه فأعجبه كلامنا وقال: ما أنتم؟ قلنا مؤمنون، قال لكل قول حقيقة فما حقيقة إيمانكم؟ قلنا: خمس عشرة خصلة، خمس أمرتنا بها، وخمس أمرتنا بها رسلك، وخمس تخلقنا بها في الجاهلية، ونحن عليها إلى الآن إلا أن تنهانا يا رسول الله قال: وما الخمس التي أمرتكم بها؟ قلنا: أمرتنا أن نؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسوله والقدر خيره وشره، قال: وما الخمس التي أمرتكم بها رسلي؟ قلنا: أمرتنا رسلك أن نشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأنك عبده ورسوله ونقيم الصلاة المكتوبة ونؤدي الزكاة المفروضة ونصوم شهر رمضان ونحج البيت إن استطعنا إليه السبيل، قال: وما الخصال التي تخلقتم بها في الجاهلية؟ قلنا: الشكر عند الرخاء والصبر عند البلاء والصدق في مواطن اللقاء والرضاء بمر القضاء وترك الشماتة بالمصيبة إذا حلت بالأعداء، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فقهاء أدباء كادوا أن يكونوا أنبياء من خصال ما أشرفها وتبسم إلينا ثم قال: أوصيكم بخمس خصال ليكمل الله لكم خصال الخير لا تجمعوا ما لا تأكلون ولا تبنوا ما لا تسكنون، ولا تنافسوا فيما غدا عنه تزولون، واتقوا الله الذي إليه تحشرون وعليه تقدمون وارغبوا فيما إليه تصيرون وفيه تخلدون". (ك) .
তাহকীক: