কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ১৬৮৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سوم ۔۔ کتاب الایمان کا تتمہ وملحقات فصل۔۔ صفات کے بیان میں
١٦٨٤۔۔ از مسند نواس (رض) بن سمعان، الکلابی۔ نواس (رض) ، بن سمعان سے مروی ہے کہ میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہر دل رب العالمین کی انگلیوں میں سے دوانگلیوں کے درمیان رہتا ہے چاہے تو وہ سیدھا مستقیم رکھے اور چاہے توکج رو کردے۔ تو رسول اللہ اسی وجہ سے فرماتے تھے کہ اے دلوں کے پھیرنے والے ہمارے دل اپنے دین پر ثابت قدم رکھ اور میزان تقدیر اللہ کے ہاتھ میں ہے اس کو پست وبالا کرتا رہتا ہے اور دوسرے الفاظ یہ ہیں کہ دل اس کی انگلیوں کے درمیان ہے چاہے توا سے سیدھارکھے چاہے توا سے اس کو پست وبالا کرتا رہتا ہے اور دوسرے الفاظ یہ ہیں کہ دل اس کی انگلیوں کے درمیان ہے چاہے توا سے سیدھارکھے چاہے توا سے ٹیڑھا کردے اور میزان اس کے ہاتھ میں ہے سو وہ اقوام کو رفعت عطا کرتا ہے اور پست کرتا ہے اور قیامت تک یہی معاملہ جاری وساری ہے۔ الدارقطنی فی الصفات۔
1684 - ومن مسند النواس بن سمعان الكلابي عن النواس بن سمعان قال: "سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ما من قلب إلا وهو بين أصبعين من أصابع رب العالمين إن شاء أن يقيمه أقامه وإن شاء أن يزيغه أزاغه، قال: فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول يا مقلب القلوب ثبتنا على دينك، والميزان بيد الرحمن يخفضه ويرفعه، وفي لفظ بين أصابع إن شاء أقامه وإن شاء أزاعه فكان يقول يا مقلب القلوب ثبت قلوبنا على دينك، والميزان بيده يرفع أقواما ويخفض أقواما إلى يوم القيامة". (قط في الصفات) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سوم ۔۔ کتاب الایمان کا تتمہ وملحقات فصل۔۔ صفات کے بیان میں
١٦٨٥۔۔ از مسند ابی رزین العقیلی ۔ ابی رزین العقیلی سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہمارا رب بندے کی یاس وقنوط اور اپنی رحمت اس کے قریب ہونے پر مسکراتا ہے ہم نے عرض کیا یارسول اللہ کیا پروردگار بھی مسکراتا ہے فرمایا ہاں میں نے کہا پروردگار مسکرائے توہم خیر سے ہرگز محروم نہ ہوں گے۔ الدارقطنی فی الصفات۔
1685 - ومن مسند أبي رزين العقيلي عن أبي رزين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "ضحك ربنا من قنوط عباده وقرب عفوه قلت: يا رسول الله ويضحك الرب قال: نعم قلت لن نعدم من رب يضحك خيرا". (قط في الصفات) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سوم ۔۔ کتاب الایمان کا تتمہ وملحقات فصل۔۔ صفات کے بیان میں
١٦٨٦۔۔ شہر بن حوشب سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ام المومنین ام سلمہ (رض) سے دریافت کیا کہ آپ جب آپ کے پاس ہوتے تو آپ کی دعا اکثر کیا ہوتی تھی ؟ فرمایا آپ کی دعا اکثریہ ہوتی تھی۔ یامقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک۔ اے دلوں کے پھیرنے والے میرا دل اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ پھر آپ نے ایک مرتبہ فرمایا اے ام سلمہ ہر آدمی کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے دوانگلیوں کے درمیان رہتا ہے چاہے تو وہ اس کو سیدھا مستقیم رکھے اور چاہے توکج رو کردے۔ ابن ابی شیبہ۔
1686 - عن شهر بن حوشب قال: "قلت لأم سلمة يا أم المؤمنين ما كان أكثر دعاء رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا كان عندك؟ قالت كان أكثر دعائه: يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك، ثم قال يا أم سلمة إنه ليس من آدمي إلا وقلبه بين أصبع (2) من أصابع الله ما شاء منها أقام وما شاء أزاغ". (ش) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سوم ۔۔ کتاب الایمان کا تتمہ وملحقات فصل۔۔ صفات کے بیان میں
١٦٨٧۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ آپ یہ دعامانگے تھے۔ یامقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک۔ اے دلوں کے پھیرنیو الے میرا دل اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ اور یہ دعا مانگتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اے عائشہ کیا تو نہیں جانتی کہ ابن آدم کا دل اللہ ہی انگلیوں کے درمیان ہے چاہے تو وہ اسے ہدایت کی طرف پلٹ دے اور چاہے توا سے گمراہی کی طرف لوٹادے تو وہ یوں پلٹ دینے پر قادر ہے۔ ابن ابی شیبہ۔
1687 - عن عائشة رضي الله عنها قالت: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك قلت: يا رسول الله إنك تدعو بهذا الدعاء قال يا عائشة أو ما علمت أن قلب ابن آدم بين أصابع الله إن شاء أن يقلبه إلى هداية (2) وإن شاء أن يقلبه إلى ضلالة قلبه". (ش) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام اپنے شباب کو پہنچا
١٦٨٨۔۔ از مسند عمر (رض) ، ایک شخص سے مروی ہے کہ میں مدینہ میں حضرت عمر بن خطاب کی مجلس میں موجود تھا کہ آپ (رض) نے اپنے کسی ہم نشین سے فرمایا تم نے حضور کو اسلام کی صفت کس طرح بیان کرتے ہوئے سنا ؟ اس نے کہا میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اسلام اونٹ کے بچہ کی مانند نوخیزی وکسمپرسی کے عالم میں اٹھا، پھر اس کے سامنے کے ثنائی دانت نکلے ۔ پھر برابر کے رباعی دانت نکلے پھر رباعی کے بعد والے دانت نکلے۔ پھر اسلام اپنے عنفوان شباب کے آخری مرحلہ بزول پر آیا اور اس کے کچیلی والے دانت بھی نکل آئے اس پر حضرت عمر نے ارشاد فرمایا کہ بزول کے بعد سوائے نقصان وتنزلی کے کچھ نہیں رہ جاتا۔ مسنداحمد، المسند لابی یعلی بروایت رجل ۔
اس روایت میں مجہول روای غالبا حضرت العلاء بن الحضرمی (رض) ہیں۔ اور روایت میں اسلام کو ایک اونٹ کے بچے کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے اس کی ارتقائی منازل کو بیان کیا گیا ہے آخری مرحلہ بزول کا فرمایا حالت بزول میں اونٹ آٹھویں سال میں داخل ہوجاتا ہے اور یہ اس کی قوت کا انتہائی اور بڑھاپے کا ابتدائی زمانہ ہوتا ہے اسی وجہ سے روایت کے آخر میں حضرت عمر کا ارشاد ہے کہ بزول کے بعد سوائے نقصان وتنزلی کے کچھ نہیں رہ جاتا، یعنی عنقریب اسلام اس حالت میں پہنچ کر حاملین اسلام کی زبوں حالی کی وجہ سے اپنا عروج واقبال کھوبیٹھے گا۔
اس روایت میں مجہول روای غالبا حضرت العلاء بن الحضرمی (رض) ہیں۔ اور روایت میں اسلام کو ایک اونٹ کے بچے کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے اس کی ارتقائی منازل کو بیان کیا گیا ہے آخری مرحلہ بزول کا فرمایا حالت بزول میں اونٹ آٹھویں سال میں داخل ہوجاتا ہے اور یہ اس کی قوت کا انتہائی اور بڑھاپے کا ابتدائی زمانہ ہوتا ہے اسی وجہ سے روایت کے آخر میں حضرت عمر کا ارشاد ہے کہ بزول کے بعد سوائے نقصان وتنزلی کے کچھ نہیں رہ جاتا، یعنی عنقریب اسلام اس حالت میں پہنچ کر حاملین اسلام کی زبوں حالی کی وجہ سے اپنا عروج واقبال کھوبیٹھے گا۔
1688 - من مسند عمر رضي الله عنه عن رجل قال: "كنت في المدينة في مجلس فيه عمر بن الخطاب، فقال لبعض جلسائه: كيف سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصف الإسلام؟ قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن الإسلام بدأ جذعا ثم ثنيا ثم رباعيا ثم سديسا ثم بازلا"، فقال عمر: ما بعد البزول إلا النقصان". (حم ع) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৮৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام اپنے شباب کو پہنچا
١٦٨٩۔۔ از مسند عبداللہ بن عمرو (رض) ۔ ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اسلام اجنبی پردیسی حالت میں اٹھا اور عنقریب اسی طرح لوٹ جائے گا جس طرح اٹھا تھا۔ سو غرباء کے لیے خوشی کا مقام ہے صحابہ کرام نے عرض کیا، یارسول اللہ یہ غرباء کون ہیں ؟ فرمایا اپنے دین کی حفاظت کے لیے اس کو لے کر گناہوں کے مقام سے راہ فرار اختیار کرنے والے۔ ان کو اللہ روز قیامت حضرت عیسیٰ مریم کے ساتھ اٹھائے گا۔ ابن عساکر۔
1689 - ومن مسند عبد الله بن عمرو عن ابن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن الإسلام بدأ غريبا وسيعود كما بدأ فطوبى للغرباء، فقالوا يا رسول الله ومن الغرباء؟ قال الفرارون بدينهم يبعثهم الله عز وجل يوم القيامة مع عيسى ابن مريم". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام اپنے شباب کو پہنچا
١٦٩٠۔۔ از مسند ابن مسعود (رض)۔ ابن مسعود سے مروی ہے فرمایا کہ اسلام کی تلوار میں کند پڑگیا تو پھر اس کو کبھی کوئی چیز درست نہ کرسکے گی۔ ابن عساکر۔ یعنی اسلام کا انحطاط شروع ہوگیا تو پھر اس کی ترقی روبہ زوال ہی رہے گی۔
1690 - ومن مسند ابن مسعود عن ابن مسعود الأثلم "في الإسلام ثلمة لا تجبر بعده أبدا". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اسلام اپنے شباب کو پہنچا
١٦٩١۔۔ از مسند عبدالرحمن بن سمرہ بن حبیب العبسی، عبدالرحمن بن سمرہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اکرم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اسلام ان دومسجدوں کی طرف سے اس طرح سمت کر منحصر ہوجائے گا جس طرح سانپ اپنے بل کی طرف لپک کر داخل ہوجاتا ہے۔ اور ایمان مدینہ کی طرف یوں تیری سے آئے گا جس طرح سیلاب نشیب میں آنافانا اترجاتا ہے۔ پھر اسی اثنا میں عرب اپنے اعراب گنوار لوگوں سے اعانت کے طلب گار ہوں گے تو ان کی آواز پیش رواں میں سے صلاح کار اور پیچھے رہ جانے والوں میں سے معزز واخیار لوگ اپنے مددگار کے ہمراہ نکلیں گے اور پھر ان کے اور روم کے مابین جنگ چھڑ جائے گی لیکن جنگ ان پر حالت شکست میں الٹ جائے گی۔ پھر یہ انطاکیہ کے نشیبی مقام پر جمع ہوں گے اور وہاں جنگ چھڑے گی۔ اور تین دنوں تک جنگ کے شعلے بھڑکیں گے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ دونوں فریقوں سے مدد اٹھالیں گے ۔۔ حتی کہ خون کا بازار اس قدر گرم ہوگا کہ گھوڑوں کے پاؤں مکمل خون میں ڈوب جائیں گے تب ملائکہ بارگاہ رب العزت میں عرض کریں گے اے الہ تو کیوں اپنے بندوں کی مدد نہیں فرمارہا، پروردگار فرمائیں گے ابھی ان کے شہداء کی تعداد بڑھنے دو ۔ پھر ان کے ایک تہائی لوگ شہادت پالیں گے اور ایک تہائی نصرت یاب ہوجائیں گے اور ایک تہائی سختی جنگ کی شکایت کرتے ہوئے منہ موڑ کر چلے جائیں گے اور یہ لوگ زمین میں دھنس جائیں گے۔
تب اہل روم کہیں گے کہ ہم تمہیں اس وقت تک نہ چھوڑیں گے جب تک کہ تم ہماری اصل کے (عجمی ) لوگوں کو ہمارے سپرد نہ کردو تو عرب عجم سے کہیں گے کہ جاؤ تم اہل روم کے ساتھ شامل ہوجاؤ، عجم کہیں گے کیا ایمان کے بعد کفر کے مرتکب ہوتے ہو ؟ کہ پہلے ہم کو اپنی حمایت میں جنگ کی چکی میں پیدا اور اب انہی اغیار دشمن کے حوالہ کرتے ہو ؟ تب عرب ان کی حمیت میں غضبناک ہوں گے اور روم پر حملہ آور ہوجائیں گے اور قتال کریں گے اور اس وقت اللہ بھی غصہ میں آئیں گے اور اپنی تلوار ونیزہ چلائیں گے دریافت کیا اے عبداللہ بن عمر (رض) اللہ کی تلوار ونیزہ کیا ہے ؟ فرمایا مومن کی تلوار ونیزہ۔ پھر تمام اہل روم نیست ونابود ہوجائیں گے سوائے کسی مخبر کے کوئی بچ کر نہ جاسکے گا پھر یہ مسلمان روم کے شہروں کا رخ کریں گے اور اس کے قلعوں اور شہروں کو فقط اللہ اکبر کی گونج ہی سے فتح کرلیں گے تکبیر کہیں گے تو اس کی دیواریں گرپڑیں گی اور ایک بار تکبیر کہیں گے تو اس کی ایک دیوار گرپڑئے گی ایک اور بار تکبیر کہیں گے تو دوسری دیوار بھی گرجائے گی صرف بحیری دیوار گرنے سے رہ جائے گی پھر یہ رومیہ کی طرف بڑھیں گے اور اس کو بھی تکبیر سے فتح کرلیں گے اور اس دن غنیمت کا مال کثرت کی وجہ سے اندازے کے ساتھ تقسیم کیا جائے گا۔ ابونعیم۔
ابن عمرو فرماتے ہیں پانچ بڑی جنگیں چھڑیں گی دو ہوچکی ہیں اور بقیہ تین میں سے پہلی ترک کے ساتھ عظیم جنگ ہوگی دوسری اعماق میں یعنی اہل روم کے ساتھ جس کا ابھی ذکر ہوا ۔ تیری دجال کے ساتھ ان کے بعد جنگ نہ ہوگی اور روایت بالا کے شروع میں حضرت ابن عمرو کا کچھ فرمان جو یہاں مذکور نہیں ہے وہ یہ ہے کہ روم میں ایک لڑکاپیدا ہوگا جو قدرتا بہت جلد جوانی کی منازل طے کرلے گا وہ روم کی سلطنت کا مالک بنے گا اور کہے گا کہ یہ مسلمان آخر کب تک ہمارے علاقوں پر قابض رہیں گے سویاتو میں نہ رہوں یا اس مذہب کو صفحہ ہستی سے مٹاڈالوں اس کے مقابلے میں مصر وشام وغیرہ کے لوگ نکلیں گے جن کے ساتھ عجم بھی ہوں گے یہ دریا ر عرب میں جمع ہو کرروم کے خلاف جنگ ترتیب دیں گے اور عرب کے اعراب کو بھی مدد کے لیے پکاریں گے جیسا کہ ذکر کیا گیا۔ یہ جنگوں میں سے سب سے عظیم ترین جنگ ہوگی جس میں جیت بالاآخر مسلمانوں کی ہوگی اس فتح سے فراغت ہوتے ہی مسلمانوں کو خوش کن خبر ملے گی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لاچکے ہیں یہ لوگ بیت المقدس میں مقام ایلیاء پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جاکرملیں گے اور ان کے جھنڈے تلے جمع ہوجائیں گے۔ خلاصہ از الفتن لنعیم بن حماد۔
تب اہل روم کہیں گے کہ ہم تمہیں اس وقت تک نہ چھوڑیں گے جب تک کہ تم ہماری اصل کے (عجمی ) لوگوں کو ہمارے سپرد نہ کردو تو عرب عجم سے کہیں گے کہ جاؤ تم اہل روم کے ساتھ شامل ہوجاؤ، عجم کہیں گے کیا ایمان کے بعد کفر کے مرتکب ہوتے ہو ؟ کہ پہلے ہم کو اپنی حمایت میں جنگ کی چکی میں پیدا اور اب انہی اغیار دشمن کے حوالہ کرتے ہو ؟ تب عرب ان کی حمیت میں غضبناک ہوں گے اور روم پر حملہ آور ہوجائیں گے اور قتال کریں گے اور اس وقت اللہ بھی غصہ میں آئیں گے اور اپنی تلوار ونیزہ چلائیں گے دریافت کیا اے عبداللہ بن عمر (رض) اللہ کی تلوار ونیزہ کیا ہے ؟ فرمایا مومن کی تلوار ونیزہ۔ پھر تمام اہل روم نیست ونابود ہوجائیں گے سوائے کسی مخبر کے کوئی بچ کر نہ جاسکے گا پھر یہ مسلمان روم کے شہروں کا رخ کریں گے اور اس کے قلعوں اور شہروں کو فقط اللہ اکبر کی گونج ہی سے فتح کرلیں گے تکبیر کہیں گے تو اس کی دیواریں گرپڑیں گی اور ایک بار تکبیر کہیں گے تو اس کی ایک دیوار گرپڑئے گی ایک اور بار تکبیر کہیں گے تو دوسری دیوار بھی گرجائے گی صرف بحیری دیوار گرنے سے رہ جائے گی پھر یہ رومیہ کی طرف بڑھیں گے اور اس کو بھی تکبیر سے فتح کرلیں گے اور اس دن غنیمت کا مال کثرت کی وجہ سے اندازے کے ساتھ تقسیم کیا جائے گا۔ ابونعیم۔
ابن عمرو فرماتے ہیں پانچ بڑی جنگیں چھڑیں گی دو ہوچکی ہیں اور بقیہ تین میں سے پہلی ترک کے ساتھ عظیم جنگ ہوگی دوسری اعماق میں یعنی اہل روم کے ساتھ جس کا ابھی ذکر ہوا ۔ تیری دجال کے ساتھ ان کے بعد جنگ نہ ہوگی اور روایت بالا کے شروع میں حضرت ابن عمرو کا کچھ فرمان جو یہاں مذکور نہیں ہے وہ یہ ہے کہ روم میں ایک لڑکاپیدا ہوگا جو قدرتا بہت جلد جوانی کی منازل طے کرلے گا وہ روم کی سلطنت کا مالک بنے گا اور کہے گا کہ یہ مسلمان آخر کب تک ہمارے علاقوں پر قابض رہیں گے سویاتو میں نہ رہوں یا اس مذہب کو صفحہ ہستی سے مٹاڈالوں اس کے مقابلے میں مصر وشام وغیرہ کے لوگ نکلیں گے جن کے ساتھ عجم بھی ہوں گے یہ دریا ر عرب میں جمع ہو کرروم کے خلاف جنگ ترتیب دیں گے اور عرب کے اعراب کو بھی مدد کے لیے پکاریں گے جیسا کہ ذکر کیا گیا۔ یہ جنگوں میں سے سب سے عظیم ترین جنگ ہوگی جس میں جیت بالاآخر مسلمانوں کی ہوگی اس فتح سے فراغت ہوتے ہی مسلمانوں کو خوش کن خبر ملے گی کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لاچکے ہیں یہ لوگ بیت المقدس میں مقام ایلیاء پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جاکرملیں گے اور ان کے جھنڈے تلے جمع ہوجائیں گے۔ خلاصہ از الفتن لنعیم بن حماد۔
1691 - ومن مسند عبد الرحمن بن سمرة بن حبيب العبسي (2) عن عبد الرحمن بن سمرة سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "والذي نفسي بيده ليأرزن الإسلام إلى ما بين المسجدين كما تأرز الحية إلى جحرها، وليأرز الإيمان المدينة (3) كما يحوز السيل الدمن، فبينما هم على ذلك استغاث العرب بأعرابها فخرجوا في محلبة لهم، كمصابيح (4) من مضى، وخير من بقى، فاقتتلوا هم والروم فتنقلب بهم الحرب حتى تردوا عميق انطاكية فيقتتلون بها ثلاث ليال، فيرفع الله النصر عن كلا الفريقين حتى تخوض الخيل في الدم إلى ثنيتها (5) وتقول الملائكة: أي رب ألا تنصر عبادك؟ فيقول: حتى تكثر شهداؤهم فيستشهد ثلث، وينصر ثلث، ويرجع ثلث شاكا فيخسف بهم، فتقول الروم لن ندعوكم إلا أن تخرجوا إلينا، كل من كان أصله منا، فتقول العرب للعجم الحقوابالروم فتقول العجم الكفر بعد الإيمان، فيغضبون عند ذلك فيحملون على الروم فيقتتلون فيغضب الله عند ذلك، فيضرب بسيفه ويطعن برمحه. قيل يا عبد الله بن عمر وما سيف الله ورمحه؟ قال سيف المؤمن ورمحه، حتى يهلك الروم جميعا فما يفلت منهم إلا مخبر، ثم ينطلقون إلى أرض الروم فيفتحون حصونها ومدائنها بالتكبير يكبرون تكبيرة فيسقط جدرها، ثم يكبرون تكبيرة أخرى فيسقط جدار، ثم يكبرون تكبيرة أخرى فيسقط جدار آخر، ويبقى جدارها البحيري لا يسقط، ثم يستجيزون إلى رومية فيفتحونها بالتكبير ويتكايلون يومئذ غنائمهم كيلا بالغرائر". (نعيم) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ دل اور اس کے تغیرات کے بیان میں
١٦٩٢۔۔ از مسند عمر (رض)۔ امام زہری حضرت عمر سے انقطاعا روایت کرتے ہیں کہ آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : اس شخص کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ جو بسا اوقات حاضر و دماغ رہتا ہے اور نہ حاضر عقل اور اس کی یادداشت بھی برقرار نہ رہتی ہو ؟ اور بسا اوقات ا سکادماغ اور عقل کام کرنے لگ جاتے ہوں۔ آپ کے ہم نشینوں نے کہا، ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ، اسے امیرالمومنین حضرت عمر نے فرمایا دل بھی چاند کی مانند گرہن ہوجاتا ہے پس جب یہ کیفیت دل پر طاری ہوجائے تو اس کا دماغ عقل اور یادداشت بھی ماؤف ہوجاتی ہے اور جب اس کیفیت کے بادل دل سے چھٹتے ہیں تودماغ عقل اور یادداشت سب دوبارہ لوٹ آتی ہیں۔ ابن ابی الدنیا فی کتاب الاسراف۔
1692 - من مسند عمر رضي الله عنه عن الزهري أن عمر بن الخطاب قال لأصحابه: "ما تقولون في الرجل لا يحضره أحيانا ذهنه ولا عقله ولا حفظه، وأحيانا يحضره ذهنه وعقله؟ قالوا: ما ندري يا أمير المؤمنين، قال عمر: إن للقلب طخاء كطخاء القمر (2) فإذا غشى ذلك القلب ذهب ذهنه وعقله وحفظه، فإذا انجلى عن قلبه أتاه عقله وذهنه وحفظه". (ابن أبي الدنيا في كتاب الإسراف) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ دل اور اس کے تغیرات کے بیان میں
١٦٩٣۔۔ حضرت قتادہ سے مروی ہ کہ ہمیں خسی نے ذکر کیا کہ حضرت عمر کا فرمان ہے کہ میں اپنے دل کا تو مالک نہیں ہوں لیکن اس کے سوا میں عدل کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہوں۔ ابن جریر۔
1693 - عن قتادة قال: "ذكر لنا أن عمر بن الخطاب قال: أما قلبي فلا أملك، ولكن أرجو أن أعدل فيما سوى ذلك". (ابن جرير) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ دل اور اس کے تغیرات کے بیان میں
١٦٩٤۔۔ ا زمسند انس (رض)۔ زید الرقاشی سے مروی ہے کہ حضرت انس نے فرمایا رسول اکرم اکثر یہ دعا فرماتے تھے کہ یامقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک۔ اے دلوں کے پھیرنے والے میرا دل اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔
اس پر صحابہ کرام نے سوال کیا یارسول اللہ کیا آپ بھی ہم پر خوف کرتے ہیں جبکہ ہم آپ پر اور آپ کے لائے ہوئے دین پر ایمان لے آئے ہیں آپ نے انگلیوں سے اشارہ فرمایا : یعنی دل ہمہ وقت رحمن کی انگلیوں کے درمیان متحرک رہتا ہے۔ ابن ابی شیہ، الدار قطنی فی الصفات۔
اس پر صحابہ کرام نے سوال کیا یارسول اللہ کیا آپ بھی ہم پر خوف کرتے ہیں جبکہ ہم آپ پر اور آپ کے لائے ہوئے دین پر ایمان لے آئے ہیں آپ نے انگلیوں سے اشارہ فرمایا : یعنی دل ہمہ وقت رحمن کی انگلیوں کے درمیان متحرک رہتا ہے۔ ابن ابی شیہ، الدار قطنی فی الصفات۔
1694 - ومن مسند أنس عن زيد الرقاشي عن أنس قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم يكثر أن يقول: يا مقلب القلوب ثبت قلبي دينك. قالوا يا رسول الله: آمنا بك وبما جئت به فهل تخاف علينا؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: هكذا وأشار بأصبعه". (ش قط في الصفات) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ دل اور اس کے تغیرات کے بیان میں
١٦٩٥۔۔ حضرت سفیان سے مروی ہے کہ حضرت انس نے فرمایا رسول اکرم اکثر یہ دعا فرماتے تھے : یامقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک۔ اے دلوں کے پھیرنے والے میرا دل اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ اس پر صحابہ کرام نے سوال کیا یارسول اللہ کیا آپ اب بھی ہم پر ڈرتے ہیں جبکہ ہم آپ پر ایمان لے آئے ہیں اور آپ کے لائے ہوئے دین پر یقین کرلیا ؟ آپ نے فرمایا تم کیا جانو، تمام مخلوق کے دل اللہ عزوجل کی دوانگلیوں کے درمیان ہیں۔ الدار قطنی فی الصفات۔
1695 - عن أبي سفيان عن أنس قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك. فقالوا: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم أتخشى علينا وقد آمنا بك وأيقنا بما جئتنا به؟ فقال: وما تدري أن قلوب الخلائق بين أصبعين من أصابع الله عز وجل". (قط في الصفات) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ دل اور اس کے تغیرات کے بیان میں
١٦٩٦۔۔ از مسند حنظلہ بن الربیع الاسیدی ، حنظلہ الاسیدی جو رسول اللہ کے کاتبین میں شامل ہیں فرماتے ہیں کہ ہم آپ کے پاس حاضر تھے آپ نے جنت وجہنم کا ذکر کیا تو ہم پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ گویا کہ ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں پھر میں کھڑا ہوا اور اپنے اہل خانہ کی طرف چلا گیا۔ اور وہاں اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہنسی کھیل میں مشغول ہوگیا پھر مجھے حضور کی محفل میں طاری ہونے والی وہ کیفیت یاد آگئی میں نکلا اور حضرت ابوبکر سے ملاا ورعرض کیا اے ابوبکر، وہ میں تو منافق ہوگیاہوں آپ (رض) نے دریافت فرمایا کیا بات ہے ؟ میں نے عرض کیا ہم جب نبی کے پاس حاضر ہوتے ہیں اور آپ ہم سے جنت وجہنم کا تذکرہ فرماتے ہیں تو گویا وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ پھر جب ہم وہاں سے نکلتے ہیں تو اولاد اور بیویوں کے ساتھ لہو ولعب اور بےکار چیزوں میں مشغول ہوجاتی ہیں اور اس وقت کو بھول جاتے ہیں حضرت ابوبکر نے فرمایا ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے پھر میں آپ کے پاس حاضرہوا اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا اے حنظلہ اگر اہل و عیال کے پاس بھی تمہاری وہی کیفیت برقرار رہے جو میرے ہاں ہوتی ہے تو فرشتے تم سے بستروں پر مصافحہ کرنے لگیں دوسری روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے۔ لیکن اے حنظلہ یہ تو وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔ الحسن بن سفیان۔ ابونعیم۔
1696 - ومن مسند حنظلة بن الربيع الأسيدي عن حنظلة الكاتب الأسيدي، وكان من كتاب النبي صلى الله عليه وسلم قال: "كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فذكرنا الجنة والنار حتى كأنا رأي عين، فقمت إلى أهلي وولدي فضحكت ولعبت فذكرت الذي كنا فيه، فخرجت فلقيت أبا بكر فقلت: نافقت يا أبا بكر. قال: وما ذاك؟ قلت نكون عند النبي صلى الله عليه وسلم يذكرنا الجنة والنار كأنا رأي عين فإذا خرجنا من عنده عافسنا الأزواج والأولاد الضيعات فنسينا. فقال أبو بكر إنا لنفعل ذلك، فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم، فذكرت له ذلك فقال: يا حنظلة لو كنتم عند أهليكم كما تكونون عندي لصافحتكم الملائكة على فرشكم وفي الطريق، يا حنظلة ساعة وساعة". (الحسن بن سفيان وأبو نعيم) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ دل اور اس کے تغیرات کے بیان میں
١٦٩٧۔۔ حنظلہ الاسیدی۔ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا اگر اہل و عیال کے پاس بھی تمہاری وہی کیفیت برقرار رہے جو میرے ہاں ہوتی ہے تو فرشتے تم پر اپنے پروں کا سایہ کرنے لگیں۔ ابوداؤد الطیالسی ، ابونعیم۔
1697 - عن حنظلة الأسيدي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (2) "لو كنتم تكونون كما تكونون عندي لأظلتكم الملائكة بأجنحتها" (3) (ط وأبو نعيم – (4)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ طلب مغفرت کو پسند فرماتے ہیں
١٦٩٨۔۔ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ میں نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ جب ہم آپ کے پاس حاضر ہوتے ہمارے قلوب پر رقت طاری ہوتی ہے ؟ اور دنیا سے ہم بےرغبت ہوتی ہیں ؟ اور آخرت کا شوق ہمارے دلوں پر طاری ہوتا ہے آپ نے فرمایا اگر میرے پاس سے جانے کے بعد بھی تمہاری وہی کیفیت برقرار رہے جو میرے ہاں ہوتی ہے تو فرشتے تمہاری زیارت کو آئیں گے اور راہ چلتے تم سے مصافحہ کرنے لگیں، لیکن اگر تم سے گناہ ہونے معدوم ہوجائیں تو اللہ دوسری ایسی قوم کو لابسائے گا جو گناہ کی مرتکب ہوگی حتی کہ ان کے گناہ آسمان سے باتیں کرنے لگیں گے پھر وہ اللہ سے مغفرت کے طلب گار ہوں گے تو ان سے جو کچھ بھی سرزد ہوا ان سب کے باوجود اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں گے اور اسے کوئی پروا نہیں۔ ابن النجار۔
1698 - عن أبي هريرة قال: قلت يا رسول الله إنا إذا كنا عندك رقت قلوبنا، وزهدنا في الدنيا، ورغبنا في الآخرة. فقال: لو تكونون إذا خرجتم من عندي كما تكونون عندي، لزارتكم الملائكة، ولصافحتكم في الطريق، ولو لم تذنبوا لجاء الله بقوم يذنبون حتى تبلغ خطاياهم عنان السماء، فيستغفرون الله فيغفر لهم على ما كان منهم ولا يبالي. (ابن النجار) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬৯৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ طلب مغفرت کو پسند فرماتے ہیں
١٦٩٩۔۔ حضرت ابوہرہرہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ جب ہم آپ کے حاضر ہوتے ہیں تو ہمارے قلوب پر رقت طاری ہوتی ہے ؟ اور دنیا سے ہم بےرغبت ہوتے ہیں اور آخرت کا شوق ہمارے دلوں پر طاری ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر تم اسی حال پر رہو۔۔۔ جو میرے ہاں ہوتا ہے تو فرشتے تمہاری زیارت کو آئیں اور راہ چلتے تم سے مصافحہ کرنے لگیں، لیکن اگر تم سے گناہ ہونے پر معدوم ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ دوسری ایسی قوم کو لابسائے گا جو گناہ کی مرتکب ہوگی حتی کہ ان کے گناہ آسمان سے باتیں کرنے لگیں گے پھر وہ اللہ سے مغفرت کے طلب گارہوں گے تو ان سے جو کچھ بھی سرزد ہوا ان سب کے باوجود اللہ ان کی مغفرت فرمائیں گے اور اسے کوئی پروا نہیں ۔ ابن النجار۔
1699 - عن أبي هريرة قال: قلت يا رسول الله إذا كنا عندك رقت قلوبنا، وزهدنا في الدنيا، ورغبنا في الآخرة فقال: لو تكونون على الحال التي عندي لزارتكم الملائكة، ولصافحتكم في الطريق، ولو لم تذنبوا لجاء الله بقوم يذنبون حتى تبلغ خطاياهم عنان السماء فيستغفرون فيغفر لهم على ما كان منهم ولا يبالي". (ابن النجار) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ طلب مغفرت کو پسند فرماتے ہیں
١٧٠٠۔۔۔ از مسند عبداللہ بن رواحہ۔ حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ میرا ہاتھ تھام کر فرماتے تھے آؤ کچھ دیر ایمان تازہ کرلیں، کیونکہ دل اس ہانڈی سے زیادہ جو شدت جوش سے ابل رہی ہو، متغیر ہوتا ہے رہتا ہے۔ ابوداؤد الطیالسی۔
1700 - ومن مسند عبد الله بن رواحة عن أبي الدرداء قال: "كان عبد الله بن رواحة يأخذ بيدي فيقول: تعال نؤمن ساعة، إن القلب أسرع تقلبا من القدر إذا استجمعت غليانها". (ط) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ طلب مغفرت کو پسند فرماتے ہیں
١٧٠١۔۔ حضرت ابوالدرداء (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ ب مجھ سے ملاقات کرتے تو فرماتے عویمر ! آؤ بیٹھو ، چندگھڑی مذاکرہ کریں توہم کچھ دیر بیٹھ کر ایمان کا مذاکرہ کرتے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ یہ ایمان کی مجلس ہے اور ایمان کی مثال قمیص کی سی ہے کہ کبھی تم پہنچی ہوئی قیمص کو اتارتے ہو، اور کبھی اتاری ہوئی قمیص کو پہن لیتے ہو، دل اس ہانڈی سے جو شدت جوش سے ابل رہی ہو، زیادہ الٹ پلٹ ہوتا ہے۔ ابن عساکر۔
1701 - عن أبي الدرداء قال: "كان عبد الله بن رواحة إذا لقيني قال لي يا عويمر اجلس نتذاكر ساعة، فنجلس فنتذاكر، ثم يقول: هذا مجلس الإيمان مثل الإيمان مثل قميصك بينا إنك قد نزعته إذ لبسته وبينا إنك قد لبسته إذ نزعته، القلب أسرع تقلبا من القدر إذا استجمعت غليانها". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ طلب مغفرت کو پسند فرماتے ہیں
١٧٠٢۔۔ از مسند ابن عمرو (رض) ، عبداللہ بن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ کو فرماتیہ وئے سنا، تمام بنی آدم کے دل ایک دل کی مانند رحمن کی انگلیوں میں سے دوانگلیوں کے درمیان رہتے ہیں وہ جیسے چاہتا ہے ان کو الٹتا پلٹتا ہے پھر آپ نے دعا فرمائی۔ اللھم مصرف القلوب صرف قلوبنا الی طاعتک۔ اے دلوں کے پھیرنے والے ہمارے دل اپنی طاعت وفرماں برادری کی طرف پھیردے۔ ابن عساکر۔
1702 - (ومن مسند ابن عمرو) عن عبد الله بن عمرو أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن قلوب بني آدم كلها بين أصبعين من أصابع الرحمن كقلب واحد يصرفه كيف يشاء. ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم مصرف القلوب اصرف قلوبنا إلى طاعتك". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ طلب مغفرت کو پسند فرماتے ہیں
١٧٠٣۔۔ از مسند ابن مسعود (رض)۔ حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ فرمایا کہ دل کو کسی بات پر مجبور نہ کر کیونکہ دل کوئی جب مجبور کیا جاتا ہے تو وہ اندھا ہوجاتا ہے۔ محمد بن عثمان الاذرعی فی کتاب الووسوسہ۔
1703 - ومن مسند ابن مسعود عن ابن مسعود قال: "لا تكره قلبك إن القلب إذا أكره عمي". (محمد بن عثمان الأذرعي في كتاب الوسوسة) .
তাহকীক: