কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ১৭২৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ اخلاق جاہلیت کی مذمت میں
١٧٢٤۔۔ ازمسند معایہ، بن حیدۃ (رض) ۔ بہز بن حکیم اپنے والد حکیم سے اور حکیم بہز کے دا ا یعنی اپنے والد معاویہ بن حیدہ سے نقل کرتے ہیں فرمایا حضور کے پاس دو آدمی فخربازی کرنے لگے، ایک بنی مضر سے تھا، دوسرایمن سے تعلق رکھتا تھا، یمانی نے کہا میں حمیر سے ہوں نہ کہ مضروربیع سے ہوں۔ اس کو حضور نے فرمایا یہ تیرے نصیبہ و شرافت کی بدبختی ہے تیرے دادا کی ہلاکت ہے اور تیرے پیغمبر سے تیری دوری ہے۔ ابن عساکر۔
1724 - ومن مسند معاوية بن حيدة، عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال: " افتخر رجلان عند النبي صلى الله عليه وسلم، أحدهما من مضر والآخر من اليمن، فقال اليماني: إني من حمير لا من ربيعة أنا ولا من مضر، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم فاشقى لنجتك (2) واتعس لجدك وأبعد لك من نبيك". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ اخلاق جاہلیت کی مذمت میں
١٧٢٥۔۔ ازمسند ابوہریرہ ۔ حضرت ابوہریرہ سے منقول ہے کہ فرمایا جب اہل نزار عصبیت میں کہنے لگیں، اے نزار اور اہل یمن کہنے لگیں اے قحطان توضروروشر اتر آتا ہے اور مدد ونصرت اٹھ جاتی ہے۔ اور جنگ مسلط کردی جاتی ہے۔ ابونعیم۔
1725 - ومن مسند أبي هريرة رضي الله عنه عن أبي هريرة قال: "إذا قالت نزار يا نزار وقالت أهل اليمن يا قحطان نزل الضر ورفع النصر وسلط عليهم الحديد". (نعيم) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ اخلاق جاہلیت کی مذمت میں
١٧٢٦۔۔ حضرت عمر سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ان کے پاس اندر آنے کی اجازت طلب کی اور یوں کہنے لگا معزز و شرفاء کے فرزند کو اجازت دی جائے۔ حضرت عمر نے فرمایا اس کو اجازت دیدو۔ آنے پر اس سے دریافت فرمایا تو کون ہے ؟ کہا میں فلاں بن فلاں بن فلاں اور یوں زمانہ جاہلیت کے کئی اشراف ومعززین کے نام گنوائے حضرت عمر نے فرمایا نہیں تویوسف (علیہ السلام) بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام) ہے ؟ کہا نہیں۔ فرمایا پھر معزز و شرفاء کے فرزند تو وہ ہیں تو بدترین لوگوں کا فرزند ہے جن کا شمار اہل جہنم میں ہوتا ہے۔ المستدرک للحاکم۔
1726 - عن عمر أنه استأذن عليه رجل فقال استأذنوا لابن الأخيار فقال عمر: "ائذنوا له فلما دخل قال من أنت؟ فقال أنا ابن فلان ابن فلان ابن فلان فعد رجالا من أشراف الجاهلية، فقال عمر: أنت يوسف بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم قال: لا قال: ذاك ابن الأخيار، فأنت ابن الأشرار إنما تعد على رجال أهل النار". (ك) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ اخلاق جاہلیت کی مذمت میں
١٧٢٧۔۔ حضرت جابر سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ کے ہمراہ تھے ایک مہاجر نے انصاری کو کسی بات پر دھتکاردیا، انصاری نے حمایت کے لیے پکارا ! اے انصار۔۔ مہاجری نے بھی پکارا اے مہاجرین۔۔۔ رسول اللہ نے سناتو فرمایا یہ کیا جاہلیت کے نعرے لگ رہے ہیں لوگوں نے حقیقت حال کی خبر دی آپ نے فرمایا یہ دعوے چھوڑ دو یہ انتہائی متعفن اور غلیط ہیں۔
توچونکہ حضور کے ہجرت فرمانے کے وقت مہاجرین قلیل تعداد میں تھے پھر مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوگیا اور یہ بات بھی عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین کو پہنچی جو پہلے ہی مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد سے خارکھائے بیٹھا تھا تو اس نے اپنے لوگوں سے پوچھا کیا واقعی ایسا ہوا ہے ؟ اچھا جب ہم مدینہ پہنچیں گے توہم معزز و شرفاء لوگ ان رذیلوں کو وہاں سے دربدر کردیں گے حضرت عمر نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یارسول اللہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن اڑادوں، آپ نے فرمایا چھوڑ اس کو لوگوں میں چہ میگوئیاں ہوں گی کہ محمد اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرنے لگ گیا ہے۔ المصنف لعبدالرزاق۔
توچونکہ حضور کے ہجرت فرمانے کے وقت مہاجرین قلیل تعداد میں تھے پھر مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوگیا اور یہ بات بھی عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین کو پہنچی جو پہلے ہی مہاجرین کی بڑھتی ہوئی تعداد سے خارکھائے بیٹھا تھا تو اس نے اپنے لوگوں سے پوچھا کیا واقعی ایسا ہوا ہے ؟ اچھا جب ہم مدینہ پہنچیں گے توہم معزز و شرفاء لوگ ان رذیلوں کو وہاں سے دربدر کردیں گے حضرت عمر نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یارسول اللہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن اڑادوں، آپ نے فرمایا چھوڑ اس کو لوگوں میں چہ میگوئیاں ہوں گی کہ محمد اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرنے لگ گیا ہے۔ المصنف لعبدالرزاق۔
1727 - عن جابر قال: " كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكسع رجل من المهاجرين، رجلا من الأنصار، فقال الأنصاري: يا للأنصار، وقال المهاجر: يا للمهاجرين. فسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ما بال دعوى الجاهلية فأخبروه بالذي كان، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: دعوها فإنما منتنة وكان المهاجرون لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم أقل من الأنصار ثم إن المهاجرين كثروا بعد فسمع ذلك عبد الله بن أبي فقال: أقد فعلوها؟ لئن رجعنا إلى المدينة ليخرجن الأعز منها الأذل. فقال عمر: دعني يا رسول الله أضرب عنق هذا المنافق. فقال: دعه لا يتحدث الناس أن محمدا يقتل أصحابه". (عب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھاباب۔۔۔ امور متفرقہ کے بیان میں
١٧٢٨۔۔ از مسند عمر (رض)۔ سعید بن یسار سے مروی ہے کہ جب حضرت عمر کو یہ خبرموصول ہوئی کہ ملک شام میں ایک شخص نے اپنے مومن ہونے کا دعوی کیا ہے حضرت عمر نے وہاں کے امیر کو پیغام بھیجا کہ اس کو میرے پاس بھیج دو ، جب وہ آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے اس سے پوچھا کیا تو اپنے مومن ہونے کا مدعی ہے ؟ عرض کی جی ہاں۔ فرمایا تفوہ ! وہ کیسے ؟ عرض کیا کیا آپ لوگ رسول اللہ کے ساتھ تین اصناف کے لوگ نہ تھے ؟ مشرک، منافق، مومن، تو آپ کن میں سے تھے ؟ حضرت عمر اس کی بات کو سمجھ گئے اور ازراہ خوشی اس کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔ شعب الایمان۔
1728 - من مسند عمر رضي الله عنه عن سعيد بن يسار قال: "لما بلغ عمر بن الخطاب أن رجلا بالشام يزعم أنه مؤمن فكتب إلى أميره أن ابعثه إلي، فلما قدم قال: أنت الذي تزعم أنك مؤمن؟ قال: نعم يا أمير المؤمنين، قال: ويحك ومما ذاك؟ قال: أو لم تكونوا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم أصنافا مشرك ومنافق ومؤمن؟ فمن أيهم كنت؟ فمد عمر إليه معرفة لما قال حتى أخذ بيده". (هب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہود کے میلہ اور تہوار میں شرکت کی ممانعت
١٧٢٩۔۔ حضرت عمر سے منقول ہے کہ فرمایا دشمن خدا لوگوں ، یعنی یہود کی عیدومحافل سرور میں جانے سے اجتناب کرو۔ التاریخ للبخاری، بخاری و مسلم۔
1729 - عن عمر قال: "اجتنبوا أعداء الله اليهود في عيدهم" (خ في تاريخه ق) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہود کے میلہ اور تہوار میں شرکت کی ممانعت
١٧٣٠۔۔ حضرت قتادہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا جو دعوی کرے کہ میں عالم ہوں، درحقیقت وہ جاہل ہے اور جو مومن ہونے کا دعوی کرے وہ کافر ہے۔ رستہ فی الایمان حدیث غیرثابت و موضوع ہے۔ دیکھیے اللتی الاصل لھا فی الاحیاء ص ٢٩٢۔ نیز دیکھئے تحذیر المسلمین ، ١١٢۔ اور بہت سی کتب میں اس کو ضعیف و موضوع قرارد یا ہے جن کا ذکر موجب طوالت ہے ان کے حوالہ جات کی تفصیل کے لیے رجوع فرمائیے۔ موسوعۃ الاحادیث والاثار الضعیفہ، والموضوعہ۔ ج ١٠، ص ١٥٤۔۔
1730 - عن قتادة قال: "قال عمر بن الخطاب: من قال إني عالم؟ فهو جاهل، ومن قال إني مؤمن فهو كافر". (رسته في الإيمان) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہود کے میلہ اور تہوار میں شرکت کی ممانعت
١٧٣١۔۔ سعید بن یسار سے مروی ہے کہ جب حضرت عمر کو یہ خبرموصول ہوئی کہ ملک شام میں ایک شخص اپنے مومن ہونے کا دعوی کرتا ہے حضرت عمر نے وہاں کے امیر کو پیغام بھیجا کہ اس کو میرے پاس بھیج دو ۔ جب وہ آپ کی خدمت میں آیا تو آپ نے اس سے پوچھا کیا تو اپنے مومن ہونے کا مدعی ہے۔ عرض کیا آپ لوگ رسول اللہ کے ساتھ تین اصناف کے لوگ نہ تھے ؟ مومن، کافر، منافق، تو اللہ کی قسم میں کافر نہیں ہوں اور نہ میں نفاق والا۔ حضرت عمر نے اس کی بات پر ازراہ خوشی فرمایا ہاتھ دو ۔ ابن ابی شیبہ فی الایمان۔
1731 - عن سعيد بن يسار قال: "بلغ عمر أن رجلا بالشام يزعم أنه مؤمن فكتب عمر فقدم على عمر فقال: أنت الذي تزعم أنك مؤمن؟ قال: هل كان الناس على عهد النبي صلى الله عليه وسلم إلا على ثلاثة منازل مؤمن، وكافر، ومنافق، والله ما أنا بكافر، ولا نافقت. فقال عمر: ابسط يدك رضا بما قال". (ش في الإيمان) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہود کے میلہ اور تہوار میں شرکت کی ممانعت
١٧٣٢۔۔ حضرت عمر سے منقول ہے کہ فرمایا : دشمن خدا لوگوں یعنی یہود و نصاری کی عیدوں میں ان کے مجمع کو جانے سے اجتناب کرو کیونہ ان پر خدائے تعالیٰ کی ناراضگی اترتی ہے تو مجھے خطرہ ہے کہ کہیں وہ تم پر بھی نہ اترآ جائے۔ اور یہ کہ تم ان کے باطن سے تو واقف ہو نہیں پھر کہیں انہی کے رنگ میں نہ رنگ جاؤ۔ التاریخ للبخاری، شعب الایمان۔
1732 - عن عمر قال: "اجتنبوا أعداء الله اليهود والنصارى في عيدهم يوم جمعهم، فإن السخط ينزل فأخشى أن يصيبكم ولا تعلموا بطانتهم فتخلقوا بأخلاقهم". (خ في تاريخه هب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہود کے میلہ اور تہوار میں شرکت کی ممانعت
١٧٣٣۔۔ ازمسند علی (رض)۔ علقمہ (رح) بن قیس سے مروی ہے کہ میں نے حضرت علی کو کوفہ کی جامع مسجد کے منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اکرم کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ فرما رہے تھے کہ کوئی آدمی زنا کے وقت مومن نہیں رہتا، اور کوئی آدمی چوری کے وقت مومن نہیں رہتا، اور نہ کسی کی ذی شرف شی پر ڈاکہ ڈالتے وقت حالانکہ لوگ اس کی طرف نگاہیں بھرے دیکھ رہے ہوتے ہیں مومن رہتا، اور کوئی آدمی شراب نوشی کے وقت مومن نہیں رہتا۔ ایک شخص نے سوال کیا : اے امیرالمومنین تو کیا جس نے زناء کیا کفر کیا ؟ حضرت علی نے فرمایا کہ ہمیں رسول اللہ کا حکم ہے کہ رخصت کی احادیث کو مبہم رکھیں کوئی مومن زنا کے وقت مومن نہیں رہتا، جبکہ وہ اعتقاد رکھتا ہو کہ یہ زناء اس کے لیے حلال ہے کیونکہ اس کی حلت پر ایمان لانا صریحا کفر ہے اسی طرح کوئی آدمی چوری کے وقت مومن ہیں رہتا، جبکہ وہ اعتقاد رکھتاہو کہ یہ چوری اس کے لیے حلال ہے کیونکہ اس کی حلت پر ایمان لاناصریحا کفر ہے اسی طرح کوئی آدمی شراب نوشی کے وقت مومن نہیں رہتا، جبکہ وہ اعتقاد رکھتاہو کہ یہ شراب نوشی اس کے لیے حلال ہے کیونکہ اس کی حلت پر ایمان لاناصریحا کفر ہے اسی طرح کسی کی ذی شرف شی پر ڈاکہ ڈالتے وقت مومن نہیں رہتا، حالانکہ لوگ اس کی طرف نگاہیں بھرے دیکھ رہے ہوتے ہیں جبکہ وہ اعتقاد رکھتاہو کہ یہ ڈاکہ زنی اس کے لیے حلال ہے کیونکہ اس کی حلت پر ایمان لاناصریحا کفر ہے۔ الکبیر للطبرانی ، الصغیر للطبرانی ۔ اس میں ایک روای اسماعیل بن یحییٰ التیمی متروک ومتہم ہے لہٰذا اس کا اعتبار نہیں۔
1733 - ومن مسند علي رضي الله عنه، عن علقمة بن قيس قال: "رأيت عليا على منبر الكوفة وهو يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا يزن الزاني حين يزني وهو مؤمن ولا يسرق السارق حين يسرق وهو مؤمن، ولا ينهب نهبة يرفع الناس إليها أبصارهم وهو مؤمن، ولا يشرب الرجل الخمر وهو مؤمن. فقال: يا أمير المؤمنين من زنى فقد كفر؟ فقال علي إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يأمرنا أن نبهم أحاديث الرخص، لا يزن الزاني وهو مؤمن أن ذلك الزنا له حلال فإن آمن بأنه له حلال فقد كفر، ولا يسرق السارق وهو مؤمن بتلك السرقة أنها له حلال، فإن سرقها وهو مؤمن انها حلال فقد كفر، ولا يشرب الخمر حين يشربها وهو مؤمن أنها حلال، فإن شربها وهو مؤمن أنها له حلال فقد كفر، ولا ينتهب نهبة ذات شرف ينتهبها وهو مؤمن أنها له حلال، فإن انتهبها وهو مؤمن أنها له حلال فقد كفر". (طب الصغير) وفيه إسماعيل بن يحيى التميمي متروك متهم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہود کے میلہ اور تہوار میں شرکت کی ممانعت
١٧٣٤۔۔ حضرت علی سے منقول ہے کہ فرمایا کہ ایمان دل میں ایک سپید نکتہ کی مانند شروع ہوتا ہے پھر جی سے جیسے ایمان بڑھتا ہے تو وہ سپیدی بھی پھیلتی جاتی ہے پس جب ایمان کامل ہوجاتا ہے توسارادل سپید اور صاف شفاف ہوجاتا ہے اور نفاق دل میں ایک سیاہ نکتہ کی مانند شروع ہوتا ہے پھر جی سے جیسے نفاق بڑھتا جاتا ہے وہ دل کی سیاہی بھی بڑھتی جاتی ہے پس جب نفاق کامل ہوجائے توسارادل سیاہ پڑجاتا ہے اللہ کی قسم اگر تم کسی مومن دل کو چیر کردیکھوتو اس کو سپید پاؤ اور اگر تم کسی منافق دل کو چیر کر دیکھو تو اس کو سیاہ پاؤ گے۔ ابن المبارک فی الزھد، ابوعبید فی الغریب ، رستہ و حسین فی الاستقامۃ، شعب الایمان، الالکائی، الاصبہانی فی الحجہ۔
1734 - عن علي قال: إن الإيمان يبدو لمظة بيضاء في القلب فكلما ازداد الإيمان عظما ازداد البياض فإذا استكمل الإيمان ابيض القلب كله، وإن النفاق يبدو لمظة سوداء فكلما ازداد النفاق عظما ازداد ذلك السواد، فإذا استكمل النفاق اسود القلب، وأيم الله لو شققتم عن قلب مؤمن لوجدتموه أبيض، ولو شققتم عن قلب منافق لوجدتموه أسود". (ابن المبارك في الزهد، وأبوعبيد في الغريب، ورستة وحسين في الاستقامة هب واللالكائي في السنة، والأصبهاني في الحجة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی نہ ابتداء ہے اور نہ انتہاء
١٧٣٥۔۔ حضرت علی سے منقول ہے کہ آپ کے پاس ایک یہودی آیا اور آپ سے سوال کیا کہ ہمارا رب کب سے ہے آپ کے چہرہ کا رنگ غصہ کی وجہ سے بدل گیا اور فرمایا جب کچھ نہ تھا وہ تب بھی تھا، اور جس طرح ازل میں تھا، اسی طرح آج بھی ہے اور وجود عدم کی کیفیات کچھ نہ تھیں وہ تب سے ہے نہ ابتداء تھی اور نہ ہی کوئی انتہا تھی وہ تب سے ہے اس کی ذات کے آگے تمام غایات ختم ہوچکی ہیں بلکہ وہی ہر غایت کی غایت ہے۔ اس معجزانہ کلام نے یہودی پر وہ اثر کیا کہ اس نے اسلام قبول کرلیا۔ ابن عساکر۔
1735 - عن علي أتاه يهودي فقال له: "متى كان ربنا؟ فتمعر وجه علي فقال علي: لم يكن فكان، هو كما كان، ولا كينونة كان بلا كيف كان، ليس قبل ولا غاية انقضت (2) الغايات دونه فهو غاية كل غاية، فأسلم اليهودي". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی نہ ابتداء ہے اور نہ انتہاء
١٧٣٦۔۔ الاصبغ بن نبلہ سے مروی ہے کہ ہم حضرت علی بن ابی طالب کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کے پاس ایک یہودی حاضر ہوا اور کہنے لگایا امیرالمومنین اللہ کب سے موجود ہوا ؟ ہم اس کی طرف لپکے اور اس قدر اس کو زودوکوب کیا کہ قریب تھا کہ اس کی جان لے بیٹھتے ۔ حضرت علی نے فرمایا اس کو چھوڑ دو ۔ پھر خود اس سے مخاطب ہوئے کہ اے یہود کے بھائی جو میں تجھے کہوں اس کو اپنے کانوں سے سن لو، اور دل میں اس کو محفوظ رکھ میں تجھے تیری کتاب ہی سے جو موسیٰ بن عمران لے کر آئے ہیں جواب دوں گا اگر تو نے اپنی کتاب پڑھ کر یاد کررکھی ہوگی تو میری بات کو اس کی مانند پائے گا۔
سن، ، وہ کب وجود میں آیا، یہ اس ذات کے متعلق پوچھا جاسکتا ہے جو پہلے موجود نہ ہو، پھروجود میں آئی ہو، بہرحال جو ہستی لازوال ہو، وہ بغیر کسی کیفیت کے ہوتی ہے اور بغیر حدوث وجود میں آئے موجود ہوتی ہے وہ ہمیشہ سے لازوال ہے وہ ابتدا سے بھی پہلے سے ہے اور انتہاء سے بھی آخر میں ہے وہ بغیر کسی کیفیت وغایت انتہاء کے لازوال ہے اس پر تمام غایات منقطع ہوجاتی ہیں وہ ہر غایت کی غایت ہے۔ اس بات کو سن کر یہودی روپڑا اور اعرض کیا یا امیرالمومنین اللہ کی قسم ! یہ بات حرفا توراۃ میں موجود ہے سوا اب شہادت دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمداللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ الاصبہانی فی الحجہ۔
سن، ، وہ کب وجود میں آیا، یہ اس ذات کے متعلق پوچھا جاسکتا ہے جو پہلے موجود نہ ہو، پھروجود میں آئی ہو، بہرحال جو ہستی لازوال ہو، وہ بغیر کسی کیفیت کے ہوتی ہے اور بغیر حدوث وجود میں آئے موجود ہوتی ہے وہ ہمیشہ سے لازوال ہے وہ ابتدا سے بھی پہلے سے ہے اور انتہاء سے بھی آخر میں ہے وہ بغیر کسی کیفیت وغایت انتہاء کے لازوال ہے اس پر تمام غایات منقطع ہوجاتی ہیں وہ ہر غایت کی غایت ہے۔ اس بات کو سن کر یہودی روپڑا اور اعرض کیا یا امیرالمومنین اللہ کی قسم ! یہ بات حرفا توراۃ میں موجود ہے سوا اب شہادت دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمداللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ الاصبہانی فی الحجہ۔
1736 - عن الأصبغ بن نباتة قال: كنا جلوسا عند علي بن أبي طالب فأتاه يهودي فقال: يا أمير المؤمنين متى كان الله؟ فقمنا إليه فلهزناه حتى كدنا نأتي على نفسه، فقال علي: خلوا عنه، ثم قال اسمع يا أخا اليهود ما أقول لك بأذنك واحفظه بقلبك، فإنما أحدثك عن كتابك الذي جاء به موسى بن عمران، فإن كنت قد قرأت كتابك وحفظته فإنك ستجده كما أقول، إنما يقال متى كان لمن لم يكن ثم كان، فأما من يزل بلا كيف يكون كان بلا كينونة، كائن لم يزل قبل القبل وبعد البعد لا يزال بلا كيف ولا غاية ولا منتهى، إليه انقطعت دونه الغايات فهو غاية كل غاية. فبكى اليهودي وقال: والله يا أمير المؤمنين إنها لفي التوراة هكذا حرفا حرفا، وإني أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله". (الأصبهاني في الحجة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی نہ ابتداء ہے اور نہ انتہاء
١٧٣٧۔۔ محمد بن اسحق ، نعمان بن سعد سے روایت کرتے ہیں کہ چالیس یہودی حضرت علی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے ہمیں اپنے رب کے اوصاف بیان کروجو آسمان میں ہے کہ وہ کن کیفیات کے ساتھ ہے ؟ کیسے وجود پذیرہوا ؟ کب ہوا ؟ اور کس چیز پر وہ مستوی ہے۔ حضرت علی نے فرمایا اے گروہ یہود، سنو مجھ سے اور یہ پروا نہ کرو کہ کسی اور سے بھی سوال کرو گے۔
میرا رب وہ ایسی اول ترین ہستی ہے جس کی کسی چیز سے ابتداء نہیں ہوئی، جس کی کسی چیز سے ترکیب نہیں ہوئی، وہ کسی موہومی کیفیت کا نام نہیں اور نہ ہی کسی جسمانی ہیولے کا نام ہے جو نظروں میں قریب ودور ہوسکتا ہے وہ کسی پردے میں محجوب نہیں کہ جگہ کا محتاج ہو وہ کسی حادثے ووقوعہ سے وجود پذیر نہیں ہوا کہ یہ اس کو فانی کہا جاسکے بلکہ وہ اس بات سے عظیم اور بالاتر ہے کہ اشیاء کی کیفیات خواہ جو بھی ہوں کے ساتھ متصف ہو۔ وہ زوال پذیر ہوا اور نہ کبھی ہوگا، نہ اس کی ایک شان فناہوکر دوسری تبدیل ہوگی آخراس کو کس طرح اجسام واشباہ کے ساتھ متصف کیا جاسکتا ہے ؟ اور کیسے فصیح ترین زبانوں کے ساتھ اس کی صفات بیان کی جاسکتی ہیں ؟ وہ اشیاء میں داخل ہی نہیں تھا کہ کہا جائے کہ اس نے وجود پالیا، اور نہ کسی چیز سے اس کی بنا ہوئی کہ کہا جائے وہ بن گیا۔ بلکہ وہ ہر کیفیت سے آزاد ہے وہ شہ رگ سے قریب تر ہے جسم وشباہت میں ہر شی سے بعید تر ہے۔ اس پر بندوں کا ایک لحظہ اور ایک لفظ کا نکلنا ایک قدم کا قریب ہونا اور ایک قدم کا دور ہونا خواہ انتہائی تاریک رات کے آخری پہر میں ہوتب بھی ان چیزوں کی نقل و حرکت اللہ سے مخفی نہیں رہتی ، چودھویں رات کے ماہتاب اور بھڑکتے دن کے آفتاب کے اپنے اپنے محوروں کی گردش کا کوئی لمحہ، روشنی وشعاعوں سمیت اس سے پوشیدہ نہیں ہوتا، اپنی ظلمتوں سمیت آنے والی رات اور اپنی ضیاء پاشیوں سمیت جانے والے دن کی کوئی کیفیت اس سے اوجھل نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنی قدرت تکوینیہ میں جو چاہے اس پر پوری طرح حاوی محیط ہے وہ ہر کون ومکان ، ہر لمحہ وگھڑی ، ہر انتہاء ومدت کو خوب خوب جاننے والا ہے ، مدت وغایت صرف مخلوق پر مسلط ہے حدود کا دائرہ اس کے سوا ہر ایک کو محیط ہے۔ اس نے اشیاء کو پہلے سے کسی طے شدہ اصول کے مطابق تخلیق نہیں فرمایا اور نہ اپنے سے اول ترین اشیا کی مدد سے پیدا کیا، بلکہ جس کو جی سے چاہا پیدا کیا اور اس کی تخلیق کو مکمل قائم فرمایا، اور اس کی صورت گری کی۔ اور بہترین صورت بنائی وہ اپنی علو شان میں یکتا ہے۔ کسی شے کی اس کو رکاوٹ نہیں اس کو اپنی مخلوق کی طاعت سے ذرہ بھر نفع نہیں ، پکارنے والوں کی حاجت روائی کرنا اس کا وطیرہ ہے ملائکہ آسمان و زمین کی وسعتوں میں اس کی اطاعت پر سرافگندہ ہیں بوسیدہ ہوجانے والے مردوں کے ذرہ ذرہ کا علم اس کو یوں ہے جس طرح جیسے جی پھرنے والے کے متعلق اس کا علم ۔ بلند وبالا آسمانوں کے اندر جو کچھ ہے اس کو اسی طرح معلوم ہے جس طرح پست زمینوں کے ذرات تک کا علم ہے۔ اس کا علم ہرچیز کو محیط ہے اس کو آوازوں کے اختلاط سے چنداں حیرانی پریشانی کا سامنا نہیں ۔ طرح طرح کی بولیاں اس کو ایک دوسرے سے مشغول نہیں کرتیں، وہ ہر طرح کی مختلف آوازوں کو سنتا اور بھرپور سمجھتا ہے وہ بغیر اعضاء وجوارح کے ان کے ساتھ مانوس ہے۔ صاحب تدبیر ، بصیر اور تمام امور کا بخوبی جاننے والا ہے ، زندہ پائندہ ہے ہر عیب سے منزہ ہے اس نے موسیٰ سے اعضا والات کے بغیر اور ہونٹ اور دیگرمخارج اصوات کے بغیر کلام کیا۔ وہ پاکیزہ وعالی شان ہر طرح کی کیفیات سے مبراومنزہ ہے جس نے گمان کیا کہ ہمارا الہ ممدود و محدود ہے، وہ درحقیقت اپنے خالق ومبعود سے جاہل ہے اور جس نے کہا کہ کون ومکان اس کو گھیرے ہوئے ہیں وہ حیران پریشان اور ملتبس رہے گا، وہ توبل کہ اس کے برعکس ہر مکان کو گھیرے ہوئے ہے پس اگر ے اے مکلف انسان تورحمن کی صفات قرآن کے خلاف بیان کرسکتا ہے تواتناہی کردکھا کہ ہمیں جبرائیل (علیہ السلام) میکائیل (علیہ السلام) اور اسرافیل (علیہ السلام) کی صفات اور شکل و صورت بیان کردے ؟ صدافسو س تو اپنی مثل مخلوق کی ہیبت وصفت بیان نہیں کرسکتا، تو خالق و معبود کی ہیت وصفت بیان کرنے پر کی سے آمادہ ہمت ہوا ؟ تو ان ہیبت والات کے رب کی صفت کا ادراک ہی نہیں کرسکتا، ؟ چہ جائے کہ اس ذات کا ادراک کرے جسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند اور جو کچھ آسمان و زمین میں ہے اور ان کے درمیان ہے وہ سب اسی کا ہے۔ اور وہ عرش عظیم کا پروردگار ہے۔ الحلیہ۔ صاحب حلیہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ نعمان کی حدیث ہے ابن اسحاق نے بھی اس کو اسی طرح مرسلا روایت کیا ہے۔
میرا رب وہ ایسی اول ترین ہستی ہے جس کی کسی چیز سے ابتداء نہیں ہوئی، جس کی کسی چیز سے ترکیب نہیں ہوئی، وہ کسی موہومی کیفیت کا نام نہیں اور نہ ہی کسی جسمانی ہیولے کا نام ہے جو نظروں میں قریب ودور ہوسکتا ہے وہ کسی پردے میں محجوب نہیں کہ جگہ کا محتاج ہو وہ کسی حادثے ووقوعہ سے وجود پذیر نہیں ہوا کہ یہ اس کو فانی کہا جاسکے بلکہ وہ اس بات سے عظیم اور بالاتر ہے کہ اشیاء کی کیفیات خواہ جو بھی ہوں کے ساتھ متصف ہو۔ وہ زوال پذیر ہوا اور نہ کبھی ہوگا، نہ اس کی ایک شان فناہوکر دوسری تبدیل ہوگی آخراس کو کس طرح اجسام واشباہ کے ساتھ متصف کیا جاسکتا ہے ؟ اور کیسے فصیح ترین زبانوں کے ساتھ اس کی صفات بیان کی جاسکتی ہیں ؟ وہ اشیاء میں داخل ہی نہیں تھا کہ کہا جائے کہ اس نے وجود پالیا، اور نہ کسی چیز سے اس کی بنا ہوئی کہ کہا جائے وہ بن گیا۔ بلکہ وہ ہر کیفیت سے آزاد ہے وہ شہ رگ سے قریب تر ہے جسم وشباہت میں ہر شی سے بعید تر ہے۔ اس پر بندوں کا ایک لحظہ اور ایک لفظ کا نکلنا ایک قدم کا قریب ہونا اور ایک قدم کا دور ہونا خواہ انتہائی تاریک رات کے آخری پہر میں ہوتب بھی ان چیزوں کی نقل و حرکت اللہ سے مخفی نہیں رہتی ، چودھویں رات کے ماہتاب اور بھڑکتے دن کے آفتاب کے اپنے اپنے محوروں کی گردش کا کوئی لمحہ، روشنی وشعاعوں سمیت اس سے پوشیدہ نہیں ہوتا، اپنی ظلمتوں سمیت آنے والی رات اور اپنی ضیاء پاشیوں سمیت جانے والے دن کی کوئی کیفیت اس سے اوجھل نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنی قدرت تکوینیہ میں جو چاہے اس پر پوری طرح حاوی محیط ہے وہ ہر کون ومکان ، ہر لمحہ وگھڑی ، ہر انتہاء ومدت کو خوب خوب جاننے والا ہے ، مدت وغایت صرف مخلوق پر مسلط ہے حدود کا دائرہ اس کے سوا ہر ایک کو محیط ہے۔ اس نے اشیاء کو پہلے سے کسی طے شدہ اصول کے مطابق تخلیق نہیں فرمایا اور نہ اپنے سے اول ترین اشیا کی مدد سے پیدا کیا، بلکہ جس کو جی سے چاہا پیدا کیا اور اس کی تخلیق کو مکمل قائم فرمایا، اور اس کی صورت گری کی۔ اور بہترین صورت بنائی وہ اپنی علو شان میں یکتا ہے۔ کسی شے کی اس کو رکاوٹ نہیں اس کو اپنی مخلوق کی طاعت سے ذرہ بھر نفع نہیں ، پکارنے والوں کی حاجت روائی کرنا اس کا وطیرہ ہے ملائکہ آسمان و زمین کی وسعتوں میں اس کی اطاعت پر سرافگندہ ہیں بوسیدہ ہوجانے والے مردوں کے ذرہ ذرہ کا علم اس کو یوں ہے جس طرح جیسے جی پھرنے والے کے متعلق اس کا علم ۔ بلند وبالا آسمانوں کے اندر جو کچھ ہے اس کو اسی طرح معلوم ہے جس طرح پست زمینوں کے ذرات تک کا علم ہے۔ اس کا علم ہرچیز کو محیط ہے اس کو آوازوں کے اختلاط سے چنداں حیرانی پریشانی کا سامنا نہیں ۔ طرح طرح کی بولیاں اس کو ایک دوسرے سے مشغول نہیں کرتیں، وہ ہر طرح کی مختلف آوازوں کو سنتا اور بھرپور سمجھتا ہے وہ بغیر اعضاء وجوارح کے ان کے ساتھ مانوس ہے۔ صاحب تدبیر ، بصیر اور تمام امور کا بخوبی جاننے والا ہے ، زندہ پائندہ ہے ہر عیب سے منزہ ہے اس نے موسیٰ سے اعضا والات کے بغیر اور ہونٹ اور دیگرمخارج اصوات کے بغیر کلام کیا۔ وہ پاکیزہ وعالی شان ہر طرح کی کیفیات سے مبراومنزہ ہے جس نے گمان کیا کہ ہمارا الہ ممدود و محدود ہے، وہ درحقیقت اپنے خالق ومبعود سے جاہل ہے اور جس نے کہا کہ کون ومکان اس کو گھیرے ہوئے ہیں وہ حیران پریشان اور ملتبس رہے گا، وہ توبل کہ اس کے برعکس ہر مکان کو گھیرے ہوئے ہے پس اگر ے اے مکلف انسان تورحمن کی صفات قرآن کے خلاف بیان کرسکتا ہے تواتناہی کردکھا کہ ہمیں جبرائیل (علیہ السلام) میکائیل (علیہ السلام) اور اسرافیل (علیہ السلام) کی صفات اور شکل و صورت بیان کردے ؟ صدافسو س تو اپنی مثل مخلوق کی ہیبت وصفت بیان نہیں کرسکتا، تو خالق و معبود کی ہیت وصفت بیان کرنے پر کی سے آمادہ ہمت ہوا ؟ تو ان ہیبت والات کے رب کی صفت کا ادراک ہی نہیں کرسکتا، ؟ چہ جائے کہ اس ذات کا ادراک کرے جسے اونگھ آتی ہے اور نہ نیند اور جو کچھ آسمان و زمین میں ہے اور ان کے درمیان ہے وہ سب اسی کا ہے۔ اور وہ عرش عظیم کا پروردگار ہے۔ الحلیہ۔ صاحب حلیہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ نعمان کی حدیث ہے ابن اسحاق نے بھی اس کو اسی طرح مرسلا روایت کیا ہے۔
1737 - عن محمد بن إسحاق عن النعمان بن سعد، "أن أربعين من اليهود دخلوا على علي فقالوا له: صف لنا ربك هذا الذي في السماء كيف هو - وكيف كان؟ ومتى كان؟ وعلى أي شيء هو؟ فقال علي: معشر اليهود اسمعوا مني، ولا تبالوا أن تسألوا أحدا غيري، إن ربي عز وجل هو الأول لم يبد مما ولا ممازج معما، لا حال وهما، ولا شبح يتقصا، ولا محجوب فيحوى، ولا كان بعد أن يكن، فيقال حادث بل جل أن يكيف بتكيف الأشياء (2) كيف كان بل لم يزل ولا يزول لاختلاف الأزمان ولا تقلب شان بعد شان، وكيف يوصف بالأشباح، وكيف ينعت بالألسن الفصاح، من لم يكن بالأشياء فقال كائن، ولم يبن منها فيقال بائن (3) بل هو بلا كيفية، وهو أقرب من حبل الوريد وأبعد في الشبه من كل بعيد، لا يخفى عليه من عباده شخوص لحظة، ولا كرور لفظة، ولا ازدلاف ربوة (4) ، ولا انبساط خطوة في غسق ليل داج ولا إدلاج، ولا يتغشى عليه القمر المنير ولا انبساط الشمس ذات النور بضوءهما في الكرور، ولا إقبال ليل مقبل ولا إدبار نهار مدبر، إلا وهو محيط بما يريد من تكوينه، فهو العالم بكل مكان وكل حين وأوان وكل نهاية ومدة والأمد إلى الخلق مضروب والحد إلى غيره منصوب ، لم يخلق الأشياء من أصول أولية ولا بأوائل كانت قبله بدية، بل خلق ما خلق فأقام خلقه فصور فأحسن صورته توحد في علوه فليس لشيء منه امتناع، ولا له بطاعة شيء من خلقه انتفاع، أجابته للداعين شريعة (2) والملائكة في السموات والأرضين له مطيعة، علمه بالأموات البائدين كعلمه بالأحياء المنقلبين، وعلمه بما في السموات العلى كعلمه بما في الأرضين السفلى وعلمه بكل شيء لا تحيره الأصوات ولا تشغله اللغات، سميع للأصوات المختلفة فلا جوارح فيه (3) مؤتلفة، مدبر بصير عالم بالأمور، حي قيوم سبحانه كلم موسى تكليما بلا جوارح ولا أدوات ولا شفة ولا لهوات سبحانه وتعالى عن تكيف (4) من زعم أن إلهنا ممدود (5) فقد جهل الخالق المعبود، ومن ذكر أن الأماكن به تحيط لزمته الحيرة والتخليط، بل هو المحيط بكل مكان فإن كنت صادقا أيها المتكلف لوصف الرحمن بخلاف التنزيل فصف لنا جبرئيل وميكائيل وإسرافيل هيهات أتعجز (2) عن صفة مخلوق مثلك وتصف الخالق المعبود، وإنما لا تدرك صفة رب الهيئة والأدوات، فكيف من لا تأخذه سنة ولا نوم وله ما في السموات وما في الأرض وما بينهما وهو رب العرش العظيم". (حل) وقال من حديث النعمان. (كذا رواه ابن إسحاق مرسلا) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی نہ ابتداء ہے اور نہ انتہاء
١٧٣٨۔۔ از مسند ابن عمر (رض)۔ ابن سیرین سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) یوں کہنے کا ناپسند فرماتے تھے کہ میں اس اس بات میں اسلام لایا۔ کیونکہ اسلام تو محض اللہ ہی کے لیے ۔ المصنف لعبدالرزاق۔
1738 - ومن مسند ابن عمر عن ابن سيرين أن ابن عمر كره هذه الكلمة، أن يقول أسلمت في كذا وكذا، "إنما الإسلام لله رب العالمين". (عب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی نہ ابتداء ہے اور نہ انتہاء
1739 ۔۔ فضالہ بن عبید سے مروی ہے کہ فرمایا، اسلام تین کمروں پر مشتمل ہے نیچے والا، اوپر والا، اور بالاخانہ، نیچے والا اسلام ہے یعنی اس کے فرائض وواجبات۔ اوپر والا کمرہ نوافل کا ہے ، اور بالاخانہ جہاد ہے۔ ابن عساکر۔
1739 - عن فضالة بن عبيد قال: "الإسلام ثلاثة أبيات، سفلى وعلى وغرفة، فالسفلى الإسلام، والعلى النوافل، والغرفة الجهاد". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی نہ ابتداء ہے اور نہ انتہاء
1740 ۔۔ از مسند ابی الدرداء (رض) ، حضرت ابوالدرداء سے مروی ہے کہ فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، ایمان قمیص کی مانند ہے کہ آدمی کبھی اس کو زیب تن کرلیتا ہے اور کبھی اتار پھینکتا ہے۔ المصنف لعبدالرزاق۔
1740 - مسند أبي الدرداء، عن أبي الدرداء قال: "والذي نفسي بيده ما الإيمان إلا كالقميص تقمصه مرة وتضعه أخرى". (عب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی نہ ابتداء ہے اور نہ انتہاء
١٧٤١۔۔ مراسیل سعید بن جبیر (رح) ، فرمایا : بندہ جب کسی کے متعلق کہتا ہے کہ اللہ کو پہلے اس کا علم نہ تھا تو اللہ فرماتے ہیں میرا بندہ اس سے بات عاجز ہوگیا کہ جان لیتا کہ میرا رب جانتا ہے۔ ابن عساکر۔
1741 - مراسيل سعيد بن جبير قال: "إن العبد إذا قال لشيء لم يكن الله يعلم ذلك يقول الله عز وجل عجز عبدي أن يعلم عبدي". (كر)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی نہ ابتداء ہے اور نہ انتہاء
١٧٤٢۔۔ مراسیل قتادہ (رح) ۔ حضرت قتادہ سے مروی ہے کہ رسول کریم نے بنی نجران کے پادری سے فرمایا ، اے ابوالحارث اسلام لے آ اس نے کہا میں نے دین حق کا مسلمان ہوں۔ آپ نے پھر فرمایا، اسلام لے آ اس نے کہا میں آپ سے پہلے ہی مسلمان ہوں، آپ نے فرمایا تو جھوٹ بولتا اسلام سے تجھے تین باتیں مانع و رکاوٹ ہیں اللہ کے لیے تیرا اولاد کو ماننا، تیرا خنزیر کھانا اور تیرا شراب پینا۔ ابن ابی شیبہ۔
. 1742 - مراسيل قتادة عن قتادة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأسقف نجران: "يا أبا الحارث أسلم، قال: إني مسلم قال: يا أبا الحارث أسلم قال: قد أسلمت قبلك فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم: كذبت منعك من الإسلام ثلاثة: ادعاؤك لله ولدا، وأكلك الخنزير، وشربك الخمر". (ش) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی نہ ابتداء ہے اور نہ انتہاء
١٧٤٣۔۔ مسور بن مخرمہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے اسلام کو ظاہر فرمایا اور پھر ایک وقت تمام اہل مکہ مسلمان ہوگئے جبکہ ابھی نماز بھی فرض نہیں ہوئی تھی حتی کہ اگر آپ سجدہ والی آیت تلاوت فرماکرسجدہ کرتے تو سب لوگ سجدہ ریز ہوجاتے تھے حتی کہ کثرت ازدھام کی وجہ بعض لوگ سجدہ نہیں کرسکتے ، تھے ، لیکن پھر سرداران قریش طائف سے آگئے ولید بن مغیرہ ابوجہل وغیرہ تو انھوں نے ان لوگوں کو کہا تم اپنے آبائی دین کو چھوڑ بیٹھے ہو ؟ پھر یہ لوگ کافر ہوگئے۔ ابن عساکر۔
1743 - عن المصور بن مخرمة عن أبيه قال: "لقد أظهر رسول الله صلى الله عليه وسلم الإسلام فأسلم أهل مكة كلهم، وذلك قبل أن تفرض الصلاة حتى إن كان ليقرأ بالسجدة فيسجد ويسجدون وما يستطيع بعضهم أن يسجد من الزحام وضيق المكان لكثرة الناس، حتى قدم رؤوس قريش الوليد بن المغيرة وأبو جهل وغيرهما، وكانوا بالطائف في أرضهم فقال: تدعون دين آبائكم فكفروا". (كر) .
তাহকীক: