কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৭৪৩ টি
হাদীস নং: ১৭০৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ طلب مغفرت کو پسند فرماتے ہیں
١٧٠٤۔۔ از مسند طلحہ (رض) ، ابورجاء العطاردی سے مروی ہے کہ حضرت طلحۃ نے ہمیں نماز پڑھائی اور ہلکی نماز پڑھائی ہم نے عرض کیا اس کی کیا وجہ ہے فرمایا مجھے وساوس نے گھیرلیا تھا۔ المصنف لعبدالرزاق۔
1704 - من مسند طلحة عن أبي رجاء العطاردي قال: "صلى بنا طلحة فخفف، فقلنا ما هذا؟ قال: بادرت الوسواس". (عب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ شیطان اور اس کے وساوس کے بیان میں
١٧٠٥۔۔ از مسند زبیر (رض)۔ ابورجاء سے مروی ہے کہ حضرت زبیر نے ہمیں نماز پڑھائی توہل کی نماز پڑھائی عرض کیا گیا اس کی کیا وجہ ہے فرمایا مجھے وساوس جلد گھیر لیتے ہیں۔ المصنف لعبدالرزاق۔
1705 - ومن مسند الزبير عن أبي رجاء قال: "صلى بنا الزبير صلاة فخفف فقيل له، فقال: إني أبادر الوسواس". (عب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ شیطان اور اس کے وساوس کے بیان میں
١٧٠٦۔۔ حضرت زبیر سے مروی ہے کہ انھیں ایک شخص نے کہا اے اصحاب رسول یہ تم لوگوں کی کیا بات ہے تم سب لوگوں سے زیادہ ہلکی نماز پڑھاتے ہو ؟ فرمایا ہمیں وساوس جلد گھیر لیتے ہیں۔ ابن عساکر۔ ابن النجار۔
1706 - عن الزبير أن رجلا قال له: "ما شأنكم يا أصحاب رسول الله اخف الناس صلاة؟ قال: نبادر الوسواس". (كر وابن النجار) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ شیطان اور اس کے وساوس کے بیان میں
١٧٠٧۔۔ از مسند ابی بن کعب ، ابی بن کعب سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ سے عرض کیا، اے اللہ کے رسول قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے کہ میں اپنے دل میں ایسے ایسے وساوس پاتاہوں کہ مجھے ان کو ظاہر کرنے سے جل کر کوئلہ بن جانازیادہ محبوب ہے۔ آپ نے فرمایا تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں یقیناً شیطان مایوس ہوگیا ہے کہ اس زمین میں اس کی دوبارہ پرستش کی جائے گی لیکن وہ تمہارے چھوٹے چھوٹے اعمال سے راضی ہوگیا ہے۔ ابن راھویہ۔
1707 - من مسند أبي بن كعب قلت: "يا رسول الله والذي بعثك بالحق إنه ليعرض في صدري الشيء، وددت أن أكون حمما. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الحمد لله الذي يئس الشيطان أن يعبد بأرضكم هذه مرة أخرى، ولكنه قد رضي بالمحقرات من أعمالكم". (ابن راهويه) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ شیطان اور اس کے وساوس کے بیان میں
١٧٠٨۔۔ از مسند ابن مسعود ، حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ آپ سے وسوسہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ عین ایمان ہے۔ الکبیر للطبرانی ، ابن عساکر۔
1708 - ومن مسند ابن مسعود عن ابن مسعود قال: "سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الوسوسة قال: ذاك محض الإيمان". (طب كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭০৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ شیطان اور اس کے وساوس کے بیان میں
١٧٠٩۔۔ حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ ہم نے آپ سے ایسے کسی شخص کے بارے میں سوال کیا جو اپنے دل میں ایسے وسوسے جنم پاتا ہے کہ اس کو وہ وساوس زبان پر لانے سے زیادہ محبوب ہے کہ وہ آسمان سے نیچے گرے اور پرندے اس کو اچک لیں ؟ فرمایا یہ عین ایمان ہے یافرمایایہ واضح ایمان ہے۔ ابن عساکر۔
1709 - عن ابن مسعود قال: " سألنا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الرجل يجد الشيء لو خر من السماء فتخطفه الطير كان أحب إليه من أن يتكلم به. قال: ذاك محض الأيمان، أو صريح الأيمان". (كر) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ شیطان اور اس کے وساوس کے بیان میں
١٧١٠۔۔ از مسند عبید بن رفاعہ۔ مروی ہے کہ بنی اسرائیل کی ایک عورت پر شیطان کا اثر ہوگیا، شیطان نے اس کے اہل خانہ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ اس کا علاج صرف فلاں راہب کے پاس ہے اور راہب صومعہ میں رہتا تھا، اس عورت کے اہل خانہ نے اس راہب سے مسلسل بات چیت کی حتی کہ اس راہب نے عورت کو قبول کرلیا، پھر شیطان اس راہب کے پاس آکروسوسہ اندازی کرنے لگا حتی کہ وہ راہب عورت کے ساتھ غلط کاری میں ملوث ہوگیا اور اس کو حاملہ کردیا، پھر شیطان آکرکہنے لگا کہ اس کے اہل خانہ آئیں گے توتورسوا فضیحت ہوجائے گا لہٰذا ایسا کر کہ اس عورت کو قتل کرکے دفن کردے جب وہ آئیں تو کہہ دینا کہ وہ مرگئی تھی میں نے اس کو دفن کردیا گیا ہے سواسنے ایساہی کیا اور اس کو قتل کرکے دفن کردیا۔ اس کے اہل خانہ آئے تو شیطان نے ان کے دل میں ڈالا کہ اس نے خود قتل کرکے اسے دفن کردیا ہے۔ انھوں نے آکر اس سے یہ سوال کیا اس نے کہا وہ مرگئی تھی میں نے اس کو دفن کردیا ہے۔ شیطان نے اس راہب کو مزید ورغلایا کہ دیکھ میں ہی اس عورت پراثر انداز ہوا تھا اور اس کے اہل خانہ کے دل میں یہ بات ڈالی تھی کہ اس کا علاج صرف تیرے پاس ہے پھر میں نے تجھے وسوسہ میں مبتلا کردیا، کہ اس کا قتل کرکے دفن کردے۔ پھر میں نے ہی اس کے اہل خانہ کے دل میں ڈالا کہ تو نے اس کو خود قتل کرکے دفن کردیا ہے تواب تو میری قوت کا اندازہ کر ہی چکا ہے سو اب اگر تو میری بات مان لے تو میں تجھے نجات دلواسکتا ہوں پس مجھے دوسجدے کردے راہب نے شیطان کو دوسجدے کردیے یہی مطلب ہے اس فرمان باری کا : کمثل الشیطان اذ قال للانسان اکفر فلماکفر قال انی بری منک۔ شیطان کی مثال تو یہ ہے کہ وہ انسان کو کہتا ہے کہ کفر کر جب وہ کفر لیتا ہے تو کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری ہوں۔ ابن ابی الدنیا فی مکاندالشیطان ۔ ابن مردویہ، شعب الایمان۔
1710 - من مسند عبيد بن رفاعة: "أن امرأة في بني إسرائيل، فأخذها الشيطان فألقى في قلوب أهلها أن دواءها عند راهب كذا وكذا، وكان الراهب في صومعة، فلم يزالوا يكلمونه حتى قبلها، ثم أتاه الشيطان فوسوس إليه حتى وقع بها فأحبلها، ثم أتاه الشيطان فقال: الآن تفضح يأتي أهلها فاقتلها وادفنها، فإن أتوك فقل ماتت ودفنتها. فقتلها ودفنها، فأتى أهلها فألقى في قلوبهم أنه قتلها ودفنها، فأتوه فسألوه فقال: ماتت ودفنتها، فأتاه الشيطان فقال: أنا الذي أخذتها وألقيت في قلوب أهلها أن دواءها عندك، وأنا الذي وسوست إليك حتى قتلتها ودفنتها، وأنا الذي ألقيت في قلوب أهلها أنك قتلتها ودفنتها، فأطعني تنجو، اسجد لي سجدتين ففعل، فهو الذي قال الله تعالى: {كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلإِنْسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكَ} ". (ابن أبي الدنيا في مكائد الشيطان، وابن مردويه هب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ شیطان اور اس کے وساوس کے بیان میں
١٧١١۔۔ عبید بن رفاعہ الزرقی سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے نماز اور قرآن میں وسوسہ ڈالتا ہے آپ نے فرمایا اس شیطان کا نام خنزیر ہے۔ پس جب تجھے اس کا احساس ہو تو اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگ لے۔ المصنف لعبدالرزاق ۔ ابن ابی شیبہ، مسنداحمد، صحح مسلم۔
1711 - عن عبيد بن رفافة الزرقي قال: " قلت يا رسول الله الشيطان قد حال بيني وبين صلاتي وقراءتي يلبسها علي. فقال: ذاك شيطان يقال له خنزب فإذا أحسست به فاتفل على يسارك ثلاثا، وتعوذ بالله من شره". (عب ش حم م) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ شیطان اور اس کے وساوس کے بیان میں
١٧١٢۔۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ ہم اپنے دلوں میں ایسے وساوس محسوس کرتے ہیں کہ اگر ہمٰں دنیا اور اس کا سازوسامان مل جائے تب بھی تو ہم اس کے عوض ان خیالات کو زبان پر لا ناپسند نہیں کریں گے۔ آپ نے فرمایا کیا واقعی تم ایسے خیالات پاتے ہو ؟ عرض جی ہاں یارسول اللہ۔ آپ نے فرمایا یہ توخالص ایمان ہے۔ محمد بن عثمان الاذر عن فی کتاب الوسوسہ۔
1712 - قلنا: "يا رسول الله نا نجد شيئا في قلوبنا ما يحب أن نحدث وإن لنا الدنيا وما فيها. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: وإنكم لتجدونه؟ قالوا: نعم يا رسول الله. قال: ذاك محض الأيمان". (محمد بن عثمان الأذرعي في كتاب الوسوسة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ شیطان اور اس کے وساوس کے بیان میں
١٧١٣۔۔ شہر بن حوشب سے مروی ہے کہ میں اپنے ماموں کے ہمراہ حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا میرے ماموں نے آپ سے کہا، اے ام المومنین ہم میں سے کوئی شخص اپنے نفس میں ایسی بات پاتا ہے کہ اگر اس کو ظاہر کرے تو اس کو قتل کردیا جائے اور اگر مخفی رکھے تو اس کی آخرت خراب ہونے کا سوال ہے ؟ اس پر آپ نے تین بار اللہ کہا اور فرمایا اس کا احساس بھی مومن ہی کو ہوتا ہے۔ محمد بن عثمان ، فی کتاب الوسوسہ، ایمان کا جائزہ لیتارہنا چاہیے۔
1713 - عن شهر بن حوشب قال: "دخلت أنا وخالي على عائشة فقال لها خالي: يا أم المؤمنين الرجل منا يحدث نفسه بالأمر، إن ظهر عليه قتل ولو تكلم به ذهبت آخرته، فكبرت ثلاثا ثم قالت: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فكبر ثلاثا قال: لا يحس ذلك إلا مؤمن" (محمد بن عثمان الأذرعي في كتاب الوسوسة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ شیطان اور اس کے وساوس کے بیان میں
١٧١٤۔۔ حضرت ابودردائ، سے مروی ہے کہ فرمایا کہ آدمی کی فقاہت میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ اس بات کا اندازہ رکھے کہ دین کی فقہ وسمجھ بوجھ میں اضافہ ہورہا ہے یا نقصان ہورہا ہے ؟ اور آدمی کی فہم و دانائی میں یہ بات شامل ہے کہ وہ اس بات کا خیال رکھے کہ شیطان کے حملے کس کس جانب سے ہورہے ہیں۔ ؟ محمد بن عثمان الاذرعی فی کتاب الوسوسہ۔
1714 - عن أبي الدرداء قال، "من فقه الرجل أن يعلم أيزداد هو أم ينقص، ومن فهمه أن يعلم نزعات الشيطان أنى تأتيه". (محمد بن عثمان الأذرعي في كتاب الوسوسة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ شیطان اور اس کے وساوس کے بیان میں
١٧١٥۔۔ از مسند نامعلوم۔ امام زھری سے مروی ہے کہ بنی حارثہ انصار کے یحییٰ نامی کسی شخص نے ان کو خبر دی کہ حضور کے کچھ صحابہ کرام حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے کہ ہم شیطان کے ایسے وسوسے اپنے سینوں میں پاتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ثریا ستارے کی بلندی سے نیچے گرے۔۔ اس کو یہ اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ اس وسوسہ کو زبان پر لائے آپ نے دریافت کیا : کیا واقعی تم یہ خیال پاتیہ ہو عرض کیا جی ہاں فرمایا یہ توکھلاایمان ہے شیطان تو اس سے بھی نیچے گرانا چاہتا ہے لیکن بندہ اگر اس سے محفوظ رہے تو اس میں مبتلا کردیتا ہے۔ محمد بن عثمان الاذرعی فی کتاب الوسوسہ۔
1715 - ومن مسند من لم يسم عن الزهري: "أن يحيى رجلا من الأنصار من بني حارثة أخبره أن ناسا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، أتوا رسول الله فقالوا لرسول الله: أرأيت شيئا نجدها في صدورنا من وسوسة الشيطان، لأن يقع أحدنا من الثريا أحب إليه من أن يتكلم بها. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أقد وجدتم ذلك؟ قالوا: نعم. قال: ذلك صريح الأيمان. إن الشيطان يريد العبد فيما دون ذلك فإذا عصم العبد منه وقع فيما هنالك". (محمد بن عثمان الأذرعي في كتاب الوسوسة) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ شیطان اور اس کے وساوس کے بیان میں
١٧١٦۔۔ ثابت سے مروی ہے کہ میں دوران حج ایک حلقہ میں پہنچا میں ایسے دو حصوں کو پایا جنہوں نے نبی کو پایا تھا دونوں بھائی تھے میرا گمان ہے کہ ان میں سے ایک کا نام محمد تھا وہ دونوں وسوسہ کے متعلق آپ سے منقول حدیث کا مذاکرہ کررہے تھے کہ کسی نے آپ سے عرض کیا اگر کوئی آسمان سے نیچے گرجائے اس کو یہ اس سے زیادہ محبوب ہوگا کہ وہ ان وساوس کو نوک زبان پر لائے۔ اپ نے دریافت کیا یہ بات تم کو پیش آئی ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا جی ہاں یارسول اللہ۔ فرمایا یہ توعین ایمان ہے ثابت کہتے ہیں کہ میں نے اس موقعہ پر کہا کاش اللہ مجھے اس عین سے بھی نجات دے دے۔ اس پر ان دونوں بھائیون نے مجھے سختی سے جھڑکا اور اس سے منع کیا کہ کہا کہ ہم تجھے رسول اللہ کی حدیث نقل کررہے ہیں اور تو ہے کہ اللہ مجھے اس سے بچا کر راحت میں رکھے۔ البغوی۔ حدیث غریب ہے۔
1716 - عن ثابت قال: "حججت فدفعت إلى حلقة فيها رجلان أدركا النبي صلى الله عليه وسلم، أخوان أحسب أن اسم أحدهما محمد وهما يتذاكران أمر الوسواس عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، لأن يقع أحد من السماء أحب إليه من أن يتكلم بما يوسوس إليه قال: " قد أصابكم ذلك قالوا نعم يا رسول الله قال فإن ذلك محض الإيمان" قال ثابت: فقلت أنا يا ليت الله أراحنا من ذلك المحض قال فانتهراني وزبراني فقالا نحدثك عن رسول الله وتقول: يا ليت أن الله أراحنا". (البغوي وقال غريب) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ شیطان اور اس کے وساوس کے بیان میں
١٧١٧۔۔ عبداللہ بن زبیر سے مروی ہے کہ شیطان انسان کو وضو، بال اور ناخنوں جیسی معمولی معمولی باتوں میں مشغول رکھتا ہے۔ السنن لسعید۔
1717 - عن عبد الله بن الزبير قال: "إن الشيطان يأخذ الإنسان بالوضوء والشعر والظفر". (ص) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔ شیطان اور اس کے وساوس کے بیان میں
١٧١٨۔۔ ہشیم کہتے ہیں کہ ہمیں عوام بن حوشب نے خبر دی وہ ابراہیم سے نقل کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہا جاتا ہے کہ وسوسہ اندازی سب سے پہلے وضو میں شروع ہوتی ہے۔ السنن لسعید۔
1718 - حدثنا هشيم أنا العوام بن حوشب عن إبراهيم قال: "كان يقال إن أول ما يبدأ الوسوسة من قبل الوضوء" (ص) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭১৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ اخلاق جاہلیت کی مذمت میں
١٧١٩۔۔ از مسند عمر (رض)۔ قبیلہ بنی سلیم کے ایک شخص جس کو قبیصہ کہا جاتا تھا، سے مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم بصرہ کے ایک مقام الخزیبیہ میں عتبہ بن غزوان کے ہمراہ تھے انھوں نے سورة البقرہ کے اصحاب کے حوالہ سے لوگوں کو پکارناشروع کیا، ادھردوسرا آدمی بھی آل شیبان کے حوالہ سے لوگوں کو پکارنے لگا اور یہ جاہلیت کا تفاخر و غرور تھا تو میں اس پر حملہ آور ہوا، اس نے بھی مجھ پر نیزہ تان لیا اور کہنے لگا مجھ سے دور رہو، میں نے اس کے نیزے کو اپنی کمان پر لیا، اور اس کی ڈاڑھی اپنی مٹھی میں تھام لی اور اسے پکڑ کر حضرت عتبہ کے پاس لے آیاعتبہ نے ان کو محبوب کرلیا، اور اس کی رواداد حضرت عمر کی بارگاہ خلافت میں لکھ بھیجی۔ حضرت عمر نے جواب ارسال فرمایا، کہ اگر وہ تمہارا قیدی ہے اور جاہلیت کے دعوی پر مصر ہے توا سکی گردن اڑا دیتے لیکن اگر وہ محض نظربند ہے تو اس کو دعوت دو ۔ اور اس سے بیعت لو اور اس کی راہ چھوڑ دو ۔ محمد بن شیبان القزار فی حذبہ۔
1719 - من مسند عمر عن رجل من بني سليم يقال له قبيصة، قال: "كنا مع عتبة بن غزوان بالخريبة ، فإذا هو ينادي بأصحاب سورة البقرة، وإذا برجل ينادي يا آل شيبان فحملت عليه فثنى لي الرمح وقال: إليك عني فوضعت قوسي في رمحه، وأخذت بلحيته فجئت به إلى عتبة فحبسه، وكتب فيه إلى عمر فكتب إليه عمر، لو كنت ذا أسير ودعا بدعوى الجاهلية قدمته فضربت عنقه كان أهل ذاك فأما إذا حبسته فادعه فأحدث له بيعة وخل سبيله". (محمد بن شيبان القزاز في حزبه – (2)) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ اخلاق جاہلیت کی مذمت میں
١٧٢٠۔۔ فضلہ الغفاری سے مروی ہے کہ حضرت عمر باہرنکلے تو ایک شخص کو اپنی بڑائی کا دعوی کرتے ہوئے سنا کہ میں بطحاء مکہ کافر زندہ ہوں، حضرت عمر اس کے پاس ٹھہر گئے اور فرمایا اگر تو صاحب دین ہے تو تو واقعی مکرم ہستی ہے اور اگر تو صاحب عقل و فراست ہے تب بھی تو صاحب مروت عزت ہے، اور اگر تو صاحب مال ہے تو بھی تو صاحب شرافت ہے اور گریہ کچھ بھی نہیں تو تیرے اور ایک گدھے میں کوئی فرق نہیں ہے۔ الدینوری، العسکری فی الامثال۔
1720 - عن فضلة الغفاري قال: "خرج عمر بن الخطاب فسمع رجلا يقول أنا ابن بطحاء مكة فوقف عليه عمر فقال: إن يكن لك دين فلك كرم وإن يكن لك عقل فلك مروءة وإن يكن لك مال فلك شرف وإلا فأنت والحمار سواء". (الدينوري والعسكري في الأمثال) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ اخلاق جاہلیت کی مذمت میں
١٧٢١۔۔ از مسند ابی بن کعب ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ عہد نبوی میں دو شخص آپس میں حسب نسب بیان کرنے لگے ایک نے کہا میں فلاں بن فلاں بن فلاں ہوں۔ لیکن بتاتوکون ہے ؟ تیری ماں تجھے کھوبیٹھے تو رسول الل ہے فرمایا عہد موسیٰ میں دو آدمی آپس میں حسب نسب بیان کرنے لگے۔ الخ۔ ابن ابی شیبہ۔ عبد بن حمید۔ آگے حدیث مکمل ذکر نہیں کی چونکہ مکمل حدیث پچھلے ابواب میں گزرچکی ہے۔
1721 - ومن مسند أبي بن كعب قال: " انتسب رجلان على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أحدهما أنا فلان بن فلان بن فلان فمن أنت لا أم لك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: انتسب رجلان على عهد موسى" الحديث. (ش وعبد بن حميد) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ اخلاق جاہلیت کی مذمت میں
١٧٢٢۔۔ از ابن عمر۔ ابن عمر سے منقول ہے کہ فرمایا ہم کو حکم ہے کہ جب ہم کسی کو جاہلیت کی طرف نسبت کرتے دیکھیں تو اس کو باپ کے سوا انہی کیس اتھ لازم ملزوم کردیں اور اس کو کنیت کے ساتھ نہ پکاریں۔ ابن عساکر۔ الخطب فی المتفق ، والمفترق، النسائی، عمم، السنن لسعید، المسند لابی یعلی۔
1722 - ومن مسند ابن عمر عن ابن عمر قال: "أمرنا إذا سمعنا الرجل يتعزى بعزاء الجاهلية، ان نعضه بهن عن أبيه ولا نكني". (كر والخطيب في المتفق والمفترق ن عم ص ع) .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ اخلاق جاہلیت کی مذمت میں
١٧٢٣۔۔ عمرو (رح) بن شعیب اپنے والد شعیب (رح) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت عمرو بن عاص کے درمیان بات بڑھ گئی حضرت مغیرہ نے ان کو برابھلاکہا، حضرت عمرو نے فرمایا افسوس ، اے حصیص ! عمرو کے کسی جدامجد کا نام مجھے مغیرہ برابھلاکہتا ہے۔ حضرت عمرو کے فرزند عبداللہ بن عمرو نے اپنے والد سے عرض کیا اناللہ واناالیہ راجعون، آپ نے جاہلی قبائل والادعوی کیا ہے ؟ حضرت عمرو نے نادم ہو کرتیس غلام آزاد کردیے۔ ابن عساکر۔
1723 - عن عمرو بن شعيب عن أبيه قال: "وقع بين المغيرة بن شعبة وبين عمرو بن العاص كلام فسبه المغيرة فقال عمرو: يا لهصيص يسبني المغيرة فقال له عبد الله ابنه إنا لله وإنا إليه راجعون دعوت بدعوى القبائل فاعتق عمرو بن العاص ثلاثين رقبة". (كر) .
তাহকীক: