কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৫ টি
হাদীস নং: ১৫০৪০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الآداب والا حکام۔۔۔ " الإکمال "
15040 قاضی جب دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ سیر اور سیراب ہو۔
السنن للدارقطنی، الخطیب فی التاریخ، السنن للبیہقی ، وضعفہ عن ابی سعید (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے۔
السنن للدارقطنی، الخطیب فی التاریخ، السنن للبیہقی ، وضعفہ عن ابی سعید (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے۔
15040- "لا يقضي القاضي بين اثنين إلا وهو شبعان ريان". "قط والخطيب ق وضعفه عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০৪১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الآداب والا حکام۔۔۔ " الإکمال "
15041 کوئی بھی کسی ایک مسئلے میں دو فیصلے نہ کرے۔ ابوسعید النقاش فی القضاۃ عن ابی بکر (رض)
15041- "لا يقضي أحد في أمر بقضائين". "أبو سعيد النقاش في القضاة عن أبي بكر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০৪২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلے اور جامع احکام۔۔۔الاکمال
15042 بہرحال جب تم کرو جو کرو تو پہلے تقسیم کرلو، حق کو خوب سوچ سمجھ لو پھر قرعہ اندازی کرلو اور پھر کمی بیشی ایک دوسرے کے لیے حلال کرلو۔ ابوداؤد عن ام سلمۃ
15042- "أما إذا فعلتما ما فعلتما فاقتسما وتوخيا الحق، ثم استهما ثم تحالا". "د عن أم سلمة"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০৪৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلے اور جامع احکام۔۔۔الاکمال
15043 میں ایک بشر ہوں، ممکن ہے تم میں سے کوئی دوسرے سے زیادہ اچھا بولنے والا ہو اپنی حجت کو، پس میں جس کے لیے کسی دوسرے کے حق کا فیصلہ کردوں تو وہ اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا ہے جو میں نے اس کے لیے کاٹ دیا ہے۔ ابن ابی شیبہ عن انس (رض)
15043- "إنما أنا بشر ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض فمن قضيت له من حق أخيه فإنما أقطع له قطعة من نار". "ش عن أنس"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০৪৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلے اور جامع احکام۔۔۔الاکمال
15044 اے عمر ! چھوڑوہم کو کیونکہ صاحب حق کو کہنے کی گنجائش ہے۔
الاوسط والکبیر للطبرانی، حلیۃ الاولیاء عن ابی حمید الساعدی
الاوسط والکبیر للطبرانی، حلیۃ الاولیاء عن ابی حمید الساعدی
15044- "دعنا يا عمر فإن لصاحب الحق مقالا". "طس طب حل عن أبي حميد الساعدي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০৪৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلے اور جامع احکام۔۔۔الاکمال
15045 رک جا اے عمر ! قرض خواہ کو کہنے کا حق ہے۔ الکبیر للطبرانی عن جابر (رض)
15045- "مه يا عمر صاحب الدين له مقال". "طب عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০৪৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلے اور جامع احکام۔۔۔الاکمال
15046 اس کو چھوڑ دو بیشک حق کا طلب نبی سے زیادہ عذررکھنے والا ہے۔
حلیۃ الاولیاء عن ابوہریرہ (رض)
حلیۃ الاولیاء عن ابوہریرہ (رض)
15046- "دعوه، فإن طالب الحق أعذر من النبي صلى الله عليه وسلم". "حل عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০৪৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلے اور جامع احکام۔۔۔الاکمال
15047 چھوڑ دو اس کو، بیشک صاحب حق کو بات کہنے کا حق ہے۔
البخاری ، الترمذی عن ابوہریرہ (رض)
فائدہ : ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور قرض کا تقاضا کیا اور سختی کا برتاؤ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے اس کو پکڑنے کا ارادہ کیا تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ ارشاد فرمایا :
ابن عساکر عن ابی حمید الساعدی
البخاری ، الترمذی عن ابوہریرہ (رض)
فائدہ : ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور قرض کا تقاضا کیا اور سختی کا برتاؤ کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے اس کو پکڑنے کا ارادہ کیا تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ ارشاد فرمایا :
ابن عساکر عن ابی حمید الساعدی
15047- "دعوه فإن لصاحب الحق مقالا". "خ ت عن أبي هريرة أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فتقاضاه فأغلظ له فهم به أصحابه قال: فذكره ابن عساكر عن أبي حميد الساعدي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০৪৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلے اور جامع احکام۔۔۔الاکمال
15048 حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فیصلہ فرمادیا ہے کہ دونوں فریق قاضی کے روبرو بیٹھیں۔
سنن ابوداؤد ، مستدرک الحاکم عن عبداللہ بن الزبیر
امام منذری (رح) فرماتے ہیں : اس روایت کی سند میں مصعب بن ثابت ابوعبداللہ المدنی ہے، جس کی روایت قابل استدلال نہیں ہے۔
سنن ابوداؤد ، مستدرک الحاکم عن عبداللہ بن الزبیر
امام منذری (رح) فرماتے ہیں : اس روایت کی سند میں مصعب بن ثابت ابوعبداللہ المدنی ہے، جس کی روایت قابل استدلال نہیں ہے۔
15048- " قضى أن الخصمين يقعدان بين يدي الحكم". "د عن عبد الله بن الزبير"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০৪৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلے اور جامع احکام۔۔۔الاکمال
15049 نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا ہے کہ دونوں فریق قاضی کے سامنے بیٹھیں۔
مسند احمد ، مستدرک الحاکم عن عبداللہ بن الزبیر
مسند احمد ، مستدرک الحاکم عن عبداللہ بن الزبیر
15049- "قضى أن الخصمين يقعدان بين يدي الحاكم". "حم ك عن عبد الله بن الزبير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০৫০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلے اور جامع احکام۔۔۔الاکمال
15050 اے عمر ! ہم اور وہ اس کے سوا کسی اور بات کے زیادہ ضرورت مند تھے۔ وہ یہ کہ تو مجھے حسن ادائیگی کا حکم دیتا اور اس کو حسن اتباع کا حکم دیتا (کہ قرض مانگنے میں نرم رویہ اپناتے) اے عمر ! اس کو اس کا حق دے اور بیس صاع (من کے قریب) کھجور زیادہ دے، یہ اس کے بدلے جو تم نے اس کو رعب اور دبدبہ دکھایا ہے۔ الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم عن محمد بن حمزۃ بن یوسف بن عبداللہ بن سلام عن ابیہ عن جدہ عبداللہ بن سلام
15050- "يا عمر أنا وهو كنا أحوج إلى غير هذا؛ أن تأمرني بحسن الأداء وتأمره بحسن اتباعه، اذهب به يا عمر فأعطه حقه وزده عشرين صاعا من تمر مكان مارعته ". "طب ك عن محمد بن حمزة بن يوسف بن عبد الله بن سلام عن أبيه عن جده عبد الله بن سلام".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০৫১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلے اور جامع احکام۔۔۔الاکمال
15051 اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کے لیے اس کا حق رکھا ہے خبردار ! وارث (شرعی) کے لیے وصیت نہیں اولاد بستر والے (شوہر یا باندی کے مالک) کی ہے اور زانی کے لیے سنگساری ہے خبردار ! کوئی غلام آدمی اپنے آقاؤں کے سوا کسی اور کو اپنا والی نہ بنائے (جس نے وراثت وغیرہ اصل والیوں کے بجائے اوروں کو منتقل کی ہو) اور کوئی شخص اپنی والدیت غیر والد کے کہیں اور منسوب نہ کرے جس نے ایسا کیا اس پر اللہ کی لعنت ہے قیامت تک ہمیشہ ہمیشہ خبردار ! کوئی عورت اپنے شوہر کے گھر سے بغیر اجازت کے شوہر کا کوئی مال خرچ نہ کرے۔ خبردار ! عاریت (مانگے کی چیز) واپس کرنا ضروری ہے۔ منجہ (دودھ کے لیے دیا ہوا جانور یا پھل کے لیے دیا ہوا درخت وغیرہ) واپس کرنا ضروری ہے۔ قرض کی ادائیگی ضروری ہے اور ضمانت اٹھانے والا چٹی برداشت کرنے والا ہے (نقصان کی صورت میں)
الحسن بن سفیان، السنن للبیہقی ، ابن عساکر عن الحسن وروی ابن ماجہ بعضہ
الحسن بن سفیان، السنن للبیہقی ، ابن عساکر عن الحسن وروی ابن ماجہ بعضہ
15051- "إن الله قد جعل لكل ذي حق حقه ألا لا وصية لوارث والولد للفراش وللعاهر الحجر ألا لا يتولين رجل غير مواليه، ولا يدعى إلى غير أبيه، فمن فعل ذلك فعليه لعنة الله متتابعة إلى يوم القيامة ألا لا تنفق امرأة من بيت زوجها إلا بإذن زوجها ألا إن العارية مؤداة والمنحة مردودة والدين مقضى والزعيم غارم". "الحسن بن سفيان ق وابن عساكر عن الحسن وروى هـ بعضه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০৫২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلے اور جامع احکام۔۔۔الاکمال
15052 دو ملتوں والے ایک دوسرے کے وارث نہیں بن سکتے عورت اپنے شوہر کی دیت اور مال کی وارث ہوگی شوہر بیوی کی دیت اور مال کا وارث ہوگا۔ ہاں اگر کوئی ایک دوسرے کو عمداً قتل کردے تب وہ اس کے مال کا وارث نہ ہوگا۔ اور نہ اس کی دیت کا اگر کوئی ایک دوسرے کو غلطی سے قتل کر بیٹھے تو اس کے مال کا وارث ہوگا لیکن اس کی دیت کا وارث نہ ہوگا۔
جس عورت سے اس کا باپ، اس کا بھائی یا کوئی اور اس کے گھر کا فرد عورت کے اپنے گھر بار والی ہونے سے قبل اس کے لیے کسی چیز کا وعدہ کرلے پھر وہ اپنے گھر بار کی ہوجائے تو جس چیز کا اس کے ساتھ وعدہ کیا ہے وہ عورت کا حق ہے۔ ہاں اگر عورت اپنے گھر بار کی ہوجائے اور پھر اس کا باپ بھائی یا کوئی اور فرد اس کے لیے کسی چیز کا اکرام کرتا ہے تو وہ اسی کے لیے ہے (عورت اس کی مالکہ نہ ہوگی جب تک صراحتاً اس کو مالک نہ بنادے) اور بیٹی اور بہن گھر میں اکرام کی زیادہ مستحق ہیں یاد رکھو ! گواہ پیش کرنا مدعی (دعویدار) پر فرض ہے اور مسلمانوں کا ہاتھ دوسرے سب لوگوں پر ایک ہے (یعنی وہ دوسروں کے مقابلے میں ایک ہیں) ان کا خوف بھی برابر ہے (کسی غیر مسلم نے کسی مسلم کا ون بہادیا تو سب مسلمان اس کا قصاص لینے والے ہیں) اور کوئی مومن کسی (حربی) کافر کے بدلے قصاصاً قتل نہ ہوگا۔ اور مومنین میں سے قوی کو ضعیف پر اور سر یہ میں نکلنے والے کو (معرکہ میں نکل کر) بیٹھنے والے پر لوٹا دیا جائے گا (یعنی قوی اور ضعیف اور سریے میں جانے والا اور پیچھے معرکہ میں رہنے والا غنیمت میں برابر کے حصہ دار ہیں) اور مسلمانوں میں سے ادنیٰ ترین شخص کے مفادات کا لحاظ لازم ہے۔ السنن للبیہقی ، ابن عساکر عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ
جس عورت سے اس کا باپ، اس کا بھائی یا کوئی اور اس کے گھر کا فرد عورت کے اپنے گھر بار والی ہونے سے قبل اس کے لیے کسی چیز کا وعدہ کرلے پھر وہ اپنے گھر بار کی ہوجائے تو جس چیز کا اس کے ساتھ وعدہ کیا ہے وہ عورت کا حق ہے۔ ہاں اگر عورت اپنے گھر بار کی ہوجائے اور پھر اس کا باپ بھائی یا کوئی اور فرد اس کے لیے کسی چیز کا اکرام کرتا ہے تو وہ اسی کے لیے ہے (عورت اس کی مالکہ نہ ہوگی جب تک صراحتاً اس کو مالک نہ بنادے) اور بیٹی اور بہن گھر میں اکرام کی زیادہ مستحق ہیں یاد رکھو ! گواہ پیش کرنا مدعی (دعویدار) پر فرض ہے اور مسلمانوں کا ہاتھ دوسرے سب لوگوں پر ایک ہے (یعنی وہ دوسروں کے مقابلے میں ایک ہیں) ان کا خوف بھی برابر ہے (کسی غیر مسلم نے کسی مسلم کا ون بہادیا تو سب مسلمان اس کا قصاص لینے والے ہیں) اور کوئی مومن کسی (حربی) کافر کے بدلے قصاصاً قتل نہ ہوگا۔ اور مومنین میں سے قوی کو ضعیف پر اور سر یہ میں نکلنے والے کو (معرکہ میں نکل کر) بیٹھنے والے پر لوٹا دیا جائے گا (یعنی قوی اور ضعیف اور سریے میں جانے والا اور پیچھے معرکہ میں رہنے والا غنیمت میں برابر کے حصہ دار ہیں) اور مسلمانوں میں سے ادنیٰ ترین شخص کے مفادات کا لحاظ لازم ہے۔ السنن للبیہقی ، ابن عساکر عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ
15052- "لا يتوارث أهل ملتين المرأة ترث من عقل زوجها وماله وهو يرث من عقلها ومالها إلا أن يقتل أحدهما صاحبه عمدا فإن قتل لم يورث من ماله ولا من عقله شيئا، وإن قتل أحدهما صاحبه خطأ ورث من ماله ولم يرث من عقله أيما امرأة وعد أبوها وأخوها أو أحد من أهلها شيئا قبل أن يملك عصمتها ثم يملك عصمتها بالذي وعد أبوها أو أخوها أو أحد من أهلها فهو لها، فإذا ملكت عصمتها وأكرمها أبوها أو أخوها أو أحد من أهلها بشيء فهو له وأحق ما يكرم به ابنته أو أخته والبينة على المدعي ألا ويد المسلمين على من سواهم واحدة تتكافأ دماؤهم ولا يقتل مؤمن بكافر ويرد قوى المؤمنين على ضعيفهم ومتسريهم على قاعدهم ويعقد أدناهم". "ق وابن عساكر عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০৫৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلے اور جامع احکام۔۔۔الاکمال
15053 حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمادیا ہے کہ معدن (کان) میں ہلاک ہونے والے خون معاف ہے۔ کنویں میں گر کر ہلاک ہونے والے کا خون معاف ہے۔ کسی چوپائے کے چوٹ ماردینے کی سزا معاف ہے۔ نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکاڑ (وہ خزانہ جو اللہ نے زمین میں چھپا رکھا ہو کسی آدمی کا چھپایا ہوا نہ ہو) میں (مملک کا) خمس (پانچواں) حصہ ہے۔ نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ دیا ہے کہ کھجور کا پھل اس شخص کے لیے ہے جس نے اس کی تابیر کی (نر کھجور سے شگوفہ کی تیلیاں مادہ کھجور میں لاگئیں اور اس کی آبیاری کی) ہاں اگر درخت خریدنے والا شرط لگا دے (کہ پھل بھی میرا ہوگا تو پھر پھل اسی خریدار کا ہے) یونہی غلام کی ملکیت کی چیزیں غلام کو فروخت کرنے والے کی ہیں۔ ہاں اگر مشتری شرط لگادے (تو مشتری کی ہیں) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا ہے کہ بچہ بستروالے (شوہر یا باندی کے مالک) کا ہے اور زانی (بدکار) کے لیے سنگساری ہے، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ زمینوں اور گھروں میں شریک ایک دوسرے کے لیے شفعہ کا حق رکھتے ہیں ، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا ہے کہ پیٹ کا بچہ جو قتل کردیا جائے اس کے عوض ایک غلام یا باندی دینا ضروری ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا ہے کہ وہ میدان جو راستے میں پڑتا ہو پھر میدان کے مالک اس میں عمارت کھڑی کرنا چاہیں تو راستے کے لیے سات ہاتھ جگہ چھوڑی جائے گی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ ایک کھجور کا درخت یا دو یا تین اگر ان کے مالک مختلف ہوں تو ہر درخت کی جگہ اس کی شاخیں پہنچنے کی جگہ تک ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا ہے کہ باغوں کو نہر وغیرہ کے پانی سے بیچنے میں پہلے اوپر کی زمین میں ٹخنوں تک پانی چھوڑا جائے گا ، پھر اس کے نیچے والی زمین میں اتنا ہی پانی چھوڑا جائے گا حتیٰ کہ باغات اور زمنیں پوری ہوجائیں یا پانی ختم ہوجائے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا ہے کہ عورت اپنے مال میں سے کوئی چیز شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو نہیں دے سکتی۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا ہے کہ جد تین (دادی اور نانی) میراث کے چھٹے حصے میں برابر کی حصہ دار ہوں گی۔
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا ہے : جس نے اپنے غلام کا کوئی حصہ آزاد کیا تو اس پر لازم ہے کہ اگر وہ بقیہ حصہ کا بھی مالک ہے تو اس کو بھی آزاد کردے۔ اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا ہے کہ اسلام میں ضرر ہے (کسی کو) ناروا ضرر (تکلیف) پہنچانے کی اجازت ہے اور نہ بلاوجہ کسی ضرر کا بدلہ اور نقصان برداشت کرنے کی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا ہے کسی ظالم (ناجائز) پیدا ہونے والی شے کا کوئی حق نہیں (اس کا مطلب خاص طور پر یہ ہے کہ کسی شخص نے کوئی مردہ زمین آباد کی بعد میں کسی دوسرے نے اس میں کو ئف فصل یا درخت وغیرہ اگا کر اس پر اپنا حق جتانے کی ناجائز کوشش کی تو دوسرے کا زمین میں کوئی حق نہیں) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا ہے کہ شہر کے باغ میں کنویں کے بچے ہوئے پانی کے ساتھ باغ کو سیراب کرنا جائز ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل دیہات کے درمیان یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ ۔ نہر، جوہڑ اور تالاب وغیرہ، کا بچا ہوا پانی پینے سے مویشیوں کو نہیں روکا جاسکتا تاکہ وہ زائد اگی ہوئی خودرو گھاس پھونس چرسکیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیت کبری (قتل عمد کی دیت) میں فیصلہ فرمایا ہے تیس بنت لبون (وہ اونٹنی جو دو سال پورے کرکے تیسرے میں شروع ہوجائے) تیس حقہ (وہ اونٹنی جو چوتھے سال میں داخل ہوجائے) چالیس جذعہ (جو اونٹنی چار سال پورے کرکے پانچویں سال میں داخل ہوجائے) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا ہے دیت صغریٰ (قتل خطا کی دیت) میں تیس بنت لبون تیس حقہ اور بیس بنت مخاض اور بیس بنی مخاض (یعنی ایک سال پورا کرکے دوسرے سال میں داخل ہونے والی بیس اونٹنیاں اور بیس اونٹ) ۔
مسند احمد ، عبداللہ بن احمد بن حنبل، ابوعوان، الکبیر للطبرانی عن عبادۃ بن الصامت
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا ہے : جس نے اپنے غلام کا کوئی حصہ آزاد کیا تو اس پر لازم ہے کہ اگر وہ بقیہ حصہ کا بھی مالک ہے تو اس کو بھی آزاد کردے۔ اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا ہے کہ اسلام میں ضرر ہے (کسی کو) ناروا ضرر (تکلیف) پہنچانے کی اجازت ہے اور نہ بلاوجہ کسی ضرر کا بدلہ اور نقصان برداشت کرنے کی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا ہے کسی ظالم (ناجائز) پیدا ہونے والی شے کا کوئی حق نہیں (اس کا مطلب خاص طور پر یہ ہے کہ کسی شخص نے کوئی مردہ زمین آباد کی بعد میں کسی دوسرے نے اس میں کو ئف فصل یا درخت وغیرہ اگا کر اس پر اپنا حق جتانے کی ناجائز کوشش کی تو دوسرے کا زمین میں کوئی حق نہیں) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا ہے کہ شہر کے باغ میں کنویں کے بچے ہوئے پانی کے ساتھ باغ کو سیراب کرنا جائز ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل دیہات کے درمیان یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ ۔ نہر، جوہڑ اور تالاب وغیرہ، کا بچا ہوا پانی پینے سے مویشیوں کو نہیں روکا جاسکتا تاکہ وہ زائد اگی ہوئی خودرو گھاس پھونس چرسکیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیت کبری (قتل عمد کی دیت) میں فیصلہ فرمایا ہے تیس بنت لبون (وہ اونٹنی جو دو سال پورے کرکے تیسرے میں شروع ہوجائے) تیس حقہ (وہ اونٹنی جو چوتھے سال میں داخل ہوجائے) چالیس جذعہ (جو اونٹنی چار سال پورے کرکے پانچویں سال میں داخل ہوجائے) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا ہے دیت صغریٰ (قتل خطا کی دیت) میں تیس بنت لبون تیس حقہ اور بیس بنت مخاض اور بیس بنی مخاض (یعنی ایک سال پورا کرکے دوسرے سال میں داخل ہونے والی بیس اونٹنیاں اور بیس اونٹ) ۔
مسند احمد ، عبداللہ بن احمد بن حنبل، ابوعوان، الکبیر للطبرانی عن عبادۃ بن الصامت
15053- "قضى أن المعدن جبار والبئر جبار والعجماء جرحها جبار، وقضى في الركاز الخمس، وقضى أن ثمر النخل لمن أبرها إلا أن يشترط المبتاع وإن ملك المملوك لمن باعه إلا أن يشترط المبتاع، وقضى أن الولد للفراش وللعاهر الحجر وقضى بالشفعة بين الشركاء في الأرضين والدور وقضى في الجنين المقتول بغرة عبد أو أمة وقضى في الرحبة تكون من الطريق ثم يريد أهلها البنيان فيها فقضى أن يترك للطريق منها سبعة أذرع، وقضى في النخل أو النخلتين أو الثلاث يختلفون في حقوق ذلك فقضى لكل نخلة من أولئك مبلغ جريدها حريما لها، وقضى في شرب النخل من السيل أن الأعلى فالأعلى يشرب قبل الأسفل ويترك الماء إلى الكعبين ثم يرسل الماء إلى الأسفل الذي يليه فكذلك حتى تنقضي الحوائط أو يفنى الماء، وقضى أن المرأة لا تعطي من مالها شيئا إلا بإذن زوجها وقضى للجدتين من الميراث بالسدس بينهما بالسوية، وقضى أن من أعتق شركا في مملوك فعليه جواز عتقه إن كان له وقضى أن لا ضرر ولا ضرار وقضى أنه ليس لعرق ظالم حق وقضى بين أهل المدينة في النخيل لا يمنع نقع بئر وقضى بين أهل البادية أن لا يمنع فضل ماء ليمنع فضل الكلأ وقضى في الدية الكبرى المغلظة بثلاثين ابنة لبون وثلاثين حقة وأربعين جذعة وقضى في الدية الصغرى بثلاثين ابنة لبون وثلاثين حقة وعشرين ابنة مخاض وعشرين بني مخاض ذكور". "عم وأبو عوانة طب عن عبادة بن الصامت"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০৫৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلے اور جامع احکام۔۔۔الاکمال
15054 دودھ چھڑانے کے بعد حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی، بلوغت کے بعد یتیمی نہیں رہتی ملکیت کے بغیر (غلام کو) آزاد کرنے کا اختیار نہیں طلاق کا حق صرف نکاح کے بعد حاصل ہوتا ہے۔ قطع رحمی میں کسی قسم کا لحاظ نہیں ہجرت کے بعد واپس دیہات میں جاکر بسنا جائز نہیں ۔ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں۔ اولاد کے لیے کسی چیز کی قسم جائز نہیں جو اپنے والد کے ساتھ ہو، نہ عورت کے لیے جو شوہر کے ساتھ ہو اور نہ غلام کے لیے جو اپنے آقا کے ساتھ ہو۔ یعنی یہ تینوں خود مالک بننے کے اہل نہیں، لہٰذا ان کے مفاد میں قسم کھانا درست نہیں بلکہ ان کے سرپرستوں کے لیے کسی فائدہ کی قسم درست ہے اللہ کی معصیت میں کوئی نذر نہیں۔ اگر کوئی اعرابی دس حج کرے پھر وہ ہجرت کرے تو دوبارہ اس پر حج فرض ہے اگر وہ حج کرنے کی استطاعت رکھے۔ اگر کوئی بچہ دس حج کرے پھر وہ بالغ ہوجائے تو اس پر دوبارہ حج فرض ہے اگر وہ حج کرنے کی استطاعت رکھے ۔ اسی طرح اگر کوئی غلام دس حج کرے پھر وہ آزاد ہوجائے تو اس پر دوبارہ حج فرض ہے اگر وہ حج کرنے کی استطاعت رکھے۔ ابوداؤد ، السنن للبیہقی عن جابر (رض)
15054- " لا رضاع بعد فصال، ولا يُتْمَ بعد احتلام، ولا عتق إلا بعد ملك، ولا طلاق إلا بعد النكاح، ولا يمين في قطيعة رحم، ولا تَعَرّب بعد هجرة، ولا هجرة بعد الفتح، ولا يمين مع الوالد، ولا يمين لامرأة مع زوج، ولا يمين لعبد مع سيده، ولا نذر في معصية الله، ولو أن أعرابيا حج عشر حجج ثم هاجر كانت عليه حجة إن استطاع إليه سبيلا، ولو أن صبيا حج عشر حجج ثم احتلم كانت عليه حجة إن استطاع إليه سبيلا، ولو أن عبدا حج عشر حجج، ثم أُعتِق كانت عليه حجه إن استطاع إليه سبيلا". "ط ق عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০৫৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسری فصل۔۔۔ہدیہ اور رشوت کے بیان میں
15055 ایک دوسرے کو ہدیہ دیاکرو اس سے آپس میں محبت بڑھے گی۔
مسند ابی یعلی عن ابوہریرہ (رض)
مسند ابی یعلی عن ابوہریرہ (رض)
15055- "تهادوا تحابوا". "ع عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০৫৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسری فصل۔۔۔ہدیہ اور رشوت کے بیان میں
15056 ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو اس سے آپس میں محبت بڑھے گی اور مصافحہ کیا کرو دلوں کا کھوٹ دور ہوگا۔ ابن عساکر عن ابوہریرہ (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے۔ اسنی المطالب 514، تذکرۃ الموضوعات 65 ۔
کلام : روایت ضعیف ہے۔ اسنی المطالب 514، تذکرۃ الموضوعات 65 ۔
15056- "تهادوا تحابوا وتصافحوا يذهب الغل عنكم". "ابن عساكر عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০৫৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسری فصل۔۔۔ہدیہ اور رشوت کے بیان میں
15057 ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو ، تمہاری باہمی محبت میں اضافہ ہوگا، ہجرت کیا کرو تمہاری آل اولاد کی بزرگی اور مرتبہ بڑھے گا اور معزز لوگوں کی لرزشوں کو درگزر کیا کرو۔
ابن عساکر عن عائشہ (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے۔ الشذرۃ 128، ضعیف الجامع 2491 ۔
ابن عساکر عن عائشہ (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے۔ الشذرۃ 128، ضعیف الجامع 2491 ۔
15057- "تهادوا تزدادوا حبا وهاجروا تورثوا أبناءكم مجدا وأقيلوا الكرام عثراتهم". "ابن عساكر عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০৫৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسری فصل۔۔۔ہدیہ اور رشوت کے بیان میں
15058 ایک دوسرے کو کھانا طعام ہدیہ میں بھیجا کرو اس سے تمہارے رزقوں میں فراخی و کشادگی پیدا ہوگی۔ الکامل لابن عدی عن ابن عباس (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے ، ذخیرۃ الحفاظ 2496، ضعیف الجامع 2488 ۔
کلام : روایت ضعیف ہے ، ذخیرۃ الحفاظ 2496، ضعیف الجامع 2488 ۔
15058- "تهادوا الطعام بينكم فإن ذلك توسعة في أرزاقكم". "عد عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫০৫৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسری فصل۔۔۔ہدیہ اور رشوت کے بیان میں
15059 ایک دوسرے کو ہدایا دیا کرو بیشک ہدیہ دل کا کینہ صاف کرتا ہے اور کوئی عورت اپنی پڑوسن کو بکری کے پائے ہدیہ کرنے کو بھی معمولی نہ سمجھے۔ مسند احمد، الترمذی عن ابوہریرہ (رض)
کلام : روایت ضعیف ہے، ضعیف الترمذی، 378، ضعیف الجامع 2489 ۔
کلام : روایت ضعیف ہے، ضعیف الترمذی، 378، ضعیف الجامع 2489 ۔
15059- "تهادوا إن الهدية تذهب وحر الصدر ولا تحقرن جارة جارتها ولو بشق فرسن شاة". "حم ت" عن أبي هريرة.
তাহকীক: