কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৫ টি

হাদীস নং: ১৪০৮০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14080 سہل بن ابی حثمہ اور صبیحۃ تیمی اور جبیر بن الحویرث اور ھلال سے مروی ہے سب حضرات کے کلام کا خلاصہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا بیت المال سخ میں تھا اور مشہور تھا۔ اس کے باوجود اس کی حفاظت کوئی نہ کرتا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو کسی نے کہا : اے خلیفہ رسول اللہ ! آپ بیت المال پر کسی کو چوکیدار کیوں نہیں مقرر کرتے ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : نہیں، اس پر کا ہے کا خوف ! راوی نے کہا : میں نے عرض کیا : وہ کیوں (خوف کیوں نہیں ؟ ) فرمایا : اس پر تالا لگا ہوا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) اس میں مال دیتے رہتے تھے حتیٰ کہ کچھ باقی نہ بچتا تھا۔ جب حضرت ابوبکر (رض) مدینہ منتقل ہوگئے تو بیت المال بھی اسی گھر میں بنوالیا جہاں آپ رہائش پذیر تھے۔ آپ کے پاس قبیلہ اور جہینہ کی کانوں سے بہت مال آتا تھا نیز بنی سلیم کی معدن بھی خلافت ابی بکر میں کھل گئی تھی۔ چنانچہ اس کی زکوۃ بھی آئی۔ آپ (رض) سارا مال بیت المال میں رکھوادیا کرتے تھے۔ اور پھر اس کو لوگوں میں گروہ گروہ بنا کر تقسیم کرتے تھے۔ چنانچہ ہر سو آدمیوں کو ایک خاص حصہ دیدیتے تھے۔ اور مال کی تقسیم میں آزاد ، غلام، مرد ، عورت اور چھوٹے بڑے سب کو برابر رکھتے تھے۔ نیز آپ اونٹ گھوڑوں اور اسلحہ کو خرید لیتے تھے پھر ان کو جہاد فی سبیل اللہ میں کام لاتے تھے۔ ایک سال آپ نے دیہات سے لائی جانے والی چادریں خرید لیں۔ اور ان کو سردیوں میں مدینہ کے فقیر مسکینوں میں تقسیم کردیا۔ جب حضرت ابوبکر (رض) کی وفات ہوگئی اور ان کو دفن کردیا گیا تو حضرت عمر (رض) نے امناء (منشیوں) کو بلایا اور ان کے ساتھ حضرت ابوبکر (رض) کے بیت المال میں تشریف لے گئے۔ آپ کے ساتھ عبدالرحمن بن عوف اور عثمان بن عفان بھی تھے۔ جب ان لوگوں نے بیت المال کھولا تو اس میں کوئی دینار ملا اور نہ درہم۔ ہاں ایک ہلکا سا کپڑا پڑا تھا اس کو جھاڑا گیا تو اس میں سے ایک درہم گرا۔ تب ان حضرات کو حضرت ابوبکر (رض) پر بہت ترس اور رحم آیا۔ مدیہ میں ایک وزان ۔ ناپ تول کرنے والا تھا جو عہد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں بھی یہی کام کرتا تھا اور حضرت ابوبکر (رض) کے بیت المال کی ناپ تول کرنے والا بھی یہی شخص تھا اس سے پوچھا گیا کہ ابوبکر (رض) کے پاس جو مال آیا وہ کل ملا کر کس قدر ہوگا ؟ اس نے کہا دو لاکھ درہم ۔ لیکن آپ نے سب کا سب اللہ کی راہ میں غریب غرباء میں تقسیم فرماتے رہے اور سب کو جیسا کہ پیچھے گزرا برابر حصہ دیتے رہے۔

ابن سعد
14080- عن سهل بن أبي حثمة وصبيحة التيمي وجبير بن الحويرث وهلال دخل حديث بعضهم في بعض أن أبا بكر الصديق كان له بيت مال بالسنح معروف ليس يحرسه أحد فقيل له: يا خليفة رسول الله ألا تجعل على بيت المال من يحرسه؟ فقال: لا يخاف عليه، فقلت: لم قال عليه قفل وكان يعطى ما فيه حتى لا يبقى فيه شيء، فلما تحول أبو بكر إلى المدينة حوله فجعل بيت ماله في الدار التي كان فيها، وكان قدم عليه مال من معادن القبلية ومن معادن جهينة كثير، وانفتح معدن بني سليم في خلافة أبي بكر فقدم عليه منه بصدقته فكان يوضع ذلك في بيت المال، وكان أبو بكر يقسمه على الناس [نفرا نفرا] فيصيب كل مائة إنسان كذا وكذا وكان يسوي بين الناس في القسم الحر والعبد والذكر والأنثى والصغير والكبير فيه سواء وكان يشتري الإبل والخيل والسلاح، فيحمل في سبيل الله، واشترى عاما قطائف أتي بها من البادية، ففرقها في أرامل أهل المدينة، في الشتاء، فلما توفي أبو بكر ودفن دعا عمر بن الخطاب الأمناء، ودخل بهم بيت مال أبي بكر ومعه عبد الرحمن بن عوف وعثمان بن عفان ففتحوا بيت المال، فلم يجدوا فيه دينارا ولا درهما ووجدوا خيشةللمال [فنفضت] فوجدوا فيها درهما، فترحموا على أبي بكر وكان بالمدينة وزان على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان يزن ما كان عند أبي بكر من مال فسئل الوزان، كم بلغ ذلك المال الذي ورد على أبي بكر؟ قال: مائتي ألف. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৮১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14081 اے لوگو ! اگر تمہارا گمان ہے کہ میں نے تمہاری خلافت رغبت اور شوق سے لی ہے یا تم پر اور مسلمانوں پر غلبہ پانے کے لیے کی ہے تو ایسی بات ہرگز نہیں ۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے اس کو نہ رغبت کے ساتھ لیا ہے اور نہ تم پر اور نہ کسی مسلمان پر غلبہ پانے کے لیے کیا ہے۔ میں نے تو ایک دن یا ایک رات بھی اس کی حرص نہیں رکھی۔ اور کبھی خفیہ یا اعلانیہ اللہ سے اس کا سوال کیا ہے۔ میں نے ایک عظیم ذمہ داری کو اپنے گلے کا ہار بنایا ہے۔ جس کے اٹھانے کی مجھے طاقت نہی الہ یہ کہ اللہ پاک مدد کرے۔ میری تو دل کی خواہش ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی صحابی اس خلافت کو عدل کے ساتھ چلائے تو میں یہ ذمہ داری تم کو واپس کردیتا ہوں اور یہ سمجھو کہ میری کسی نے بیعت ہی نہیں کی میری کسی نے بیعت ہی نہیں کی۔ جس کو چاہو یہ ذمہ داری سونپ دو ۔ میں تم میں سے ایک عام سا آدمی ہوں۔ ابونعیم فی فضائل الصحابۃ
14081- عن أبي بكر أنه قال: يا أيها الناس إن كنتم ظننتم أني أخذت خلافتكم رغبة فيها أو إرادة استيثار عليكم وعلى المسلمين فلا، والذي نفسي بيده ما أخذتها رغبة فيها ولا استيثارا عليكم ولا على أحد من المسلمين ولا حرصت عليها ليلة ولا يوما قط، ولا سألت الله سرا ولا علانية ولقد تقلدت أمرا عظيما لا طاقة لي به إلا أن يعين الله تعالى ولوددت أنها إلى أي أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم على أن يعدل فيها فهي إليكم رد ولا بيعة لكم عندي، ولا بيعة لكم عندي، فادفعوا لمن أحببتم فإنما أنا رجل منكم. "أبو نعيم في فضائل الصحابة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৮২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14082 عروہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) کو خلیفہ بنایا گیا تو انھوں نے اپنا سارا مال آخری دینا و درہم تک بیت المال میں ڈال دیا اور فرمایا : میں اس میں تجارت کروں گا اور اس سے روزی تلاش کروں گا کیونکہ میں جب سے مسلمانوں کا امیر بنا ہوں انھوں نے مجھے تجارت اور روزی کمانے سے روک دیا ہے۔ الزھد للامام احمد
14082- عن عروة أن أبا بكر لما استخلف ألقى كل درهم له ودينار في بيت مال المسلمين وقال: كنت أتجر فيه وألتمس به فلما وليتهم شغلوني عن التجارة والطلب فيه. "حم في الزهد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৮৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14083 حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) کی وفات ہوئی تو انھوں نے نہ کوئی دینار چھوڑا اور نہ درہم۔ اور اس سے پہلے انھوں نے اپنا سارا مال بیت المال کے حوالے کردیا تھا۔

الزھد للامام احمد
14083- عن عائشة قالت: مات أبو بكر فما ترك دينارا ولا درهما وكان قد أخذ قبل ذلك ماله فألقاه في بيت المال. "حم فيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৮৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14084 عروۃ (رح) سے مروی ہے کہ ایک دن حضرت ابوبکر (رض) نے خطبہ دیا، خطبے کے دوران نواسہ رسول حضرت حسن (رض) آکر منبر پر چڑھ گئے اور بولے : میرے بابا کے منبر سے اتر جائیے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : یہ بات ہماری طرف سے اس کو سکھائی نہیں گئی۔ ابن سعد
14084- عن عروة أن أبا بكر خطب يوما فجاء الحسن فصعد إليه المنبر فقال: انزل عن منبر أبي، فقال علي: إن هذا شيء من غير من غير ملأ منا"ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৮৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14085 عبدالرحمن بن الاصبہانی سے مروی ہے کہ حضرت حسن بن علی (رض) حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آئے آپ (رض) منبر رسول اللہ پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ حضرت حسن (رض) نے کہا : میرے بابا کی مسند سے اتر جائیے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : تم سچ کہتے ہو۔ یہ تمہارے بابا کی ہی مسند ہے۔ پھر آپ (رض) نے حضرت حسن کو اپنی گود میں بٹھایا اور رو پڑے۔

حضرت علی (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! یہ میرے حکم سے نہیں ہوا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! تم سچ کہتے ہو ، میں بھی تم پر تہمت عائد نہیں کررہا۔ ابونعیم والجابری فی جزہ ۔
14085- عن عبد الرحمن بن الأصبهاني قال: جاء الحسن بن علي إلى أبي بكر وهو على منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: انزل عن مجلس أبي قال صدقت، إنه مجلس أبيك وأجلسه في حجره وبكى، فقال علي: والله ما هذا عن أمري، فقال: صدقت والله ما اتهمتك. "أبو نعيم والجابري في جزئه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৮৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14086 ابن رباح سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وافت کے بعد حاطب کو مقوقس شاہ مصر کے پاس (ایلچی بنا کر) بھیجا۔ وہ مشرق بستیوں کے کنارے پر سے گزرے تو ان سے صلح کی بات کی اور انھوں نے آپ کو جزیہ دیا۔ پھر وہ بستی والے اسی طرح چلتے رہے حتیٰ کہ مصر میں عمرو بن العاص نے لشکر کشی کی اور قتال کیا اور پہلا معاہدہ ختم ہوگیا۔ ابن عبدالحکم فی فتوح مصر
14086- عن ابن رباح قال: بعث أبو بكر الصديق بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم حاطبا إلى المقوقس بمصر فمر على ناحية قرى الشرقية فهادنهم وأعطوه، فلم يزالوا على ذلك حتى دخلها عمرو بن العاص، فقاتلوا فانتقض ذلك العهد. "ابن عبد الحكم في فتوح مصر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৮৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14087 محمد بن ابراہیم سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) ماریۃ (رض) کے اخراجات اٹھاتے تھے حتیٰ کہ آپ (رض) کی وفات ہوگئی پھر حضرت عمر (رض) ان کے اخراجات برداشت کرتے تھے حتیٰ کہ ماریہ ہی ان کے عہد خلافت میں انتقال کرگئیں۔ ابن سعد
14087- عن محمد بن إبراهيم قال: كان أبو بكر ينفق على مارية حتى توفي، ثم كان عمر ينفق عليها حتى توفيت في خلافته. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৮৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14088 ہمیں محمد بن عمر (واقدی) نے خبر دی کہ مجھے زمین اپنے لیے حمصی (خاص) نہیں کی سوائے نقیع کے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے (جہادی) گھوڑوں کے لیے خاص کررکھی تھی۔ ابوبکر (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تھا کہ آپ نے اس جگہ کو اپنے لیے خاص کیا تھا اور اس میں اپنے گھوڑوں کی حفاظت کرتے تھے جو جہاد میں کام آتے تھے۔ اور جب آپ (رض) کے زمانے میں کمزور لاغر اونٹ آپ کے پاس آتے تو ان کو ربذۃ بھیج دیتے اور جوان اونٹوں کی نگہبانی کرتا وہ بھی وہیں چراتا تھا۔ اور ربذۃ کو حمی (خاص) نہیں کیا تھا۔ بلکہ اہل چشموں کو حکم دیا تھا کہ جو ربذہ میں اپنے جانوروں کو پانی پلانے (چرانے) لائے ان کو روکا نہ جائے۔ لیکن جب حضرت عمر بن خطاب (رض) کا زمانہ آیا او لوگ زیادہ ہوگئے اور حضرت عمر (رض) نے ملک شام، مصر اور عراق کی طرف لشکر بھیجے تو ربذۃ کو حمی (خاص) کرلیا راوی کہتے ہیں اور مجھے وہاں کا عامل نگران مقرر کردیا۔ ابن سعد
14088- أخبرنا محمد بن عمر [هو الواقدي] حدثني عمرو بن عمير بن هني مولى عمر بن الخطاب عن جده أن أبا بكر الصديق لم يحم من الأرض إلا النقيعوقال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم حماه وكان يحميه للخيل التي يغزي عليها وكانت إبل الصدقة إذا أخذت عجافا أرسل بها إلى الربذة وما والاها ترعى هنالك ولا يحمي لها شيئا ويأمر أهل المياه لا يمنعون من ورد عليهم يشرب معهم ويرعى عليهم، فلما كان عمر بن الخطاب وكثر الناس وبعث البعوث إلى الشام وإلى مصر وإلى العراق حمى الربذة واستعملني على الربذة. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৮৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14089 حارث بن فضیل سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) نے یزید بن ابی سفیان (کو گورنر بنانے) کے متعلق حتمی ارادہ فرمالیا تو ان کو فرمایا : اے یزید ! تو جوان آدمی ہے اور تیرا نام خیر کے ساتھ لیا جاتا ہے یقیناً تیرے اندر لوگوں نے اچھی چیزیں دیکھی ہونگی یہ بات تیرے دل میں ہوگی۔ کہ وہ کیا اچھی باتیں ہیں اب میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں تیرا امتحان لوں اور تجھے تیرے گھر والوں سے دور بھیجوں۔ لہٰذا تو دیکھ لے کہ تو یہ ذمہ داری اٹھائے گا ؟ میں تجھے پہلے خبردا کردیتا ہوں کہ اگر تو نے اچھے کام کیے تو میں تمہارے (عہدے میں) اضافہ کردوں گا اور اگر تم نے برائی کا راستہ اختیار کیا تو تم کو معزول کردوں گا۔ پس میں تم کو خالد بن سعید کی جگہ گورنر بناتا ہوں۔

پھر حضرت ابوبکر (رض) نے ان کو ذاتی زندگی سے متعلق نصیحتیں فرمائیں پھر فرمایا : میں تم کو خاص طور پر ابوعبیدۃ (رض) بن الجراح کا خیال رکھنے کو کہتا ہوں ، تم اسلام میں ان کے مرتبے سے اچھی طرح واقف ہوگے ہی اور رسول اللہ نے ان کے متعلق ارشاد فرمایا تھا :

ہر امت کا کوئی امین ہوتا ہے، اس امت کا امین ابوعبیدۃ بن الجراح ہے۔

لہٰذا تم ان کی فضیلت کو اور ان کی مسابقت فی الاسلام کو مدنظر رکھنا۔ اور معاذ بن جبل کا بھی خیال رکھنا تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ان کی رفاقت کو جانتے ہوگے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تھا :

امام العلماء اپنے فریضے کو زیادہ نبھاتا ہے (اور ان سے بڑا عالم اس علاقے میں کوئی نہیں جہاں تم جارہے ہو) لہٰذا تم دونوں حضرات معاملے میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالنا اور وہ بھی تمہارے ساتھ خیر برتنے میں کوئی کمی نہ کریں گے۔

یزید نے عرض کیا : اے خلیفہ رسول اللہ ! جس طرح آپ نے مجھے ان کے متعلق نصیحتیں فرمائی ہیں آپ ان کو بھی میرے متعلق کچھ نصیحت فرمادیں۔

حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا : میں ان کو تمہارے متعلق نصیحت کرنے میں ہرگز کوتاہی نہ کروں گا۔ یزید نے عرض کیا : اللہ آپ پر رحم فرمائے اور آپ کو اسلام کی طرف سے اچھا بدلہ عطا کرے۔

ابن سعد

کلام : روایت کی سند میں انتہائی ضعیف راوی واقدی ہے۔ اس حدیث میں مذکورہ قولی بخاری کتاب المناقب مناقب ابی عبیدہ میں موجود ہے۔
14089- عن الحارث بن الفضيل قال: لما عقد أبو بكر ليزيد بن أبي سفيان فقال: يا يزيد إنك شاب تذكر بخير قد رؤي منك، وذلك شيء خلوت به في نفسك، وقد أردت أن أبلوك واستخرجك من اهلك، فانظر كيف أنت وكيف ولايتك؟ وأخبرك فإن أحسنت زدتك، وإن أسأت عزلتك وقد وليتك عمل خالد بن سعيد، ثم أوصاه بما أوصاه يعمل به في وجهه وقال له: أوصيك بأبي عبيدة بن الجراح خيرا، فقد عرفت مكانه من الإسلام، وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لكل أمة أمين وأمين هذه الأمة أبو عبيدة بن الجراح، فاعرف له فضله وسابقته، وانظر معاذ بن جبل فقد عرفت مشاهده مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، وإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يأتي إمام العلماء بربوةفلا تقطع امرا دونهما، وإنهما لن يألوا بك خيرا، قال يزيد: يا خليفة رسول الله أوصهما بي كما أوصيتني بهما قال أبو بكر: لن أدع أن أوصيهما بك، فقال يزيد: يرحمك الله وجزاك الله عن الإسلام خيرا. "ابن سعد" وفيه الواقدي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৯০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14090 جعفر بن عبداللہ بن ابی الحکم سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) نے اپنے امراء (گورنروں) یعنی یزید بن ابی سفیان، عمرو بن العاص اور شرحبیل بن حسنہ کو ملک شام کی طرف بھیجا تو ان کو فرمایا : اگر تم کسی ایک جگہ میں جمع ہوجاؤ تو تمہارے اور تمہارے ماتحت سب لوگوں کے امیر یزید بن ابی سفیان ہوں گے اور اگر تم مختلف لشکروں میں بٹ جاؤ تو جو جس لشکر میں ہوگا وہ ان سب کا امیر ہوگا۔
14090- عن جعفر بن عبد الله بن أبي الحكم قال: لما بعث أبوبكر أمراءه إلى الشام يزيد بن أبي سفيان وعمرو بن العاص وشرحبيل بن حسنة ويزيد بن أبي سفيان على الناس قال: إن اجتمعتم في كيد فيزيد على الناس، وإن تفرقتم فمن كانت الواقعة مما يلي معسكره فهو على أصحابه. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৯১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14091 ابن ابی عون وغیرہ سے مروی ہے کہ حضرت خالد بن ولید (رض) نے دعویٰ کیا کہ مالک بن نویرۃ نے۔ اپنے شاعری کے کلام میں ارتداد کا ارتکاب کرلیا ہے جو ان کو پہنچ گیا ہے۔ لیکن مالک نے اس بات کا خود انکار کردیا اور بولے : میں اسلام پر ثابت قدم ہوں میں نے کوئی اور نہ دین پسند کیا ہے اور نہ اسلام کو بدلا ہے۔ اس بات پر ابوقتادہ (رض) اور ابن عمر (رض) نے بھی شہادت پیش کی (کہ واقعی مالک اپنے اسلام پر قائم ہے) لیکن خالد (رض) نے مالک کو آگے بلایا اور ضرار بن الزور کو حکم دیدیا چنانچہ ضرار نے ان کی گردن اڑا دی۔ پھر خالد (رض) نے مالک کی بیوی پر قبضہ کرلیا۔ حضرت ابوبکر (رض) کو کہنے والے نے کہا : خالد نے (مالک کی بیوی کے ساتھ) زنا کیا ہے لہٰذا ان کو سنگسار کیجئے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : میں ان کو سنگسار نہیں کرسکتا کیونکہ انھوں نے تاویل کی تھی جس میں ان سے غلطی ہوگئی (تاویل یہ کی کہ وہ مرتد غیر مسلم کی بیوی ہے اور اس کے قتل کے بعد یہ ان کی قیدی اور باندی بن گئی ہے) ۔ کہنے والے نے حضرت ابوبکر (رض) کو کہا : کہ خالد نے ایک مسلمان (مالک) کو قتل کیا ہے لہٰذا اس کے قصاص میں ان کو قتل کیجئے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : میں ان کو قتل بھی نہیں کرسکتا کیونکہ انھوں نے تاویل کی تھی کہ جس میں اس سے غلطی ہوگئی کہ مالک نے ایسا شعر کہا ہے جو اس کے ارتداد کا ثبوت ہے پھر کہنے والے نے کہا : پھر آپ خالد کو (لشکر کی سپہ سالاری سے) معزول کردیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا میں کبھی بھی ایسی تلوار کو نیام میں نہیں ڈال سکتا جو اللہ نے کافروں پر سونت لی ہے۔ ابن سعد
14091- عن ابن أبي عون وغيره أن خالد بن الوليد ادعى أن مالك بن نويرة ارتد بكلام بلغه عنه، فانكر مالك ذلك، وقال: أنا على الإسلام ما غيرت ولا بدلت وشهد له بذلك أبو قتادة وعبد الله بن عمر فقدمه خالد وامر ضرار بن الأزور الأسدي فضرب عنقه، وقبض خالد امرأته، فقال لأبي بكر: إنه قد زنى فارجمه، فقال أبو بكر: ما كنت لأرجمه تأول فأخطأ، قال: فإنه قد قتل مسلما فاقتله قال: ما كنت لأقتله تأول فأخطأ، قال: فاعزله، قال: ما كنت لأشيمسيفا سله الله عليهم أبدا. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৯২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14092 ابو وجزۃ یزید بن عبید السعدی سے مروی ہے حضرت ابوبکر (رض) جرف (مدینے کے قریب ایک) مقام پر تشریف لے گئے جہاں اسلامی لشکر ٹھہرے ہوئے تھے۔ قبائل ایک دوسرے کے سامنے اپنے حسب نسب بیان کررہے تھے۔ آپ (رض) کے فزارہ قبیلے کے پاس سے گزر ہوا تو ان میں سے ایک اٹھا اور اس نے آپ کو عرض کیا : خوش آمدید ! پھر مزاریوں نے مل کر کہا کہ اے خلیفہ رسول ! ہم گھوڑوں کے عادی لوگ ہیں اور اپنے ساتھ گھوڑے لائے ہیں۔ ابوبکر (رض) نے فرمایا : اللہ تم کو ان میں برکت نصیب کرے۔ فزاری لوگ بولے : آپ اس لیے بڑا علم ہمارے قبیلے کے حوالے فرمادیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : میں اس کو اس کی جگہ سے تبدیل نہیں کرسکتا بنی عبس میں ہے۔ فزاری نے کہا : آپ ان کو ہم پر مقدم کررہے ہیں جن سے ہم کہیں بہتر ہیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اوکمینے ! چپ رہ۔ وہ تم سے بہتر ہیں، وہ پہلے اسلام لانے والے ہیں اور ان میں سے کوئی آدمی اسلام لانے کے بعد اسلام سے واپس نہیں لوٹا۔ حالانکہ تو بھی اور تیری قوم کے لوگ بھی اسلام سے ۔ ایک بار پھر چکے ہیں۔ عبسی جو میسرۃ بن مسروق تھا نے کہا اس کو کہا : کیا تو خلیفہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات نہیں سن رہا ؟ فزاری بولا : تو چپ رہ ! تجھے تو سب کچھ مل گیا ہے۔

ابن سعد
14092- عن يزيد بن عبيد السعدي أبي وجزة قال: مر أبو بكر بالناس في معسكرهم بالجرفينسب القبائل حتى مر ببني فزارة، فقام إليه رجل منهم فقال: مرحبا بكم، فقالوا: يا خليفة رسول الله نحن أحلاس الخيل وقد وفدنا الخيول معنا، قال: بارك الله فيكم، قالوا: فاجعل اللواء الأكبر معنا، فقال أبو بكر: لا أغيره عن موضعه وهو في بني عبس، فقال الفزاري: أتقدم علي من أنا خير منه؟ فقال أبو بكر: اسكت يالكع هو خير منك أقدم إسلاما ولم يرجع منهم رجل وقد رجعت وقومك عن الإسلام، فقال العبسي: وهو ميسرة بن مسروق ألا تسمع ما يقول يا خليفة رسول الله فقال: اسكت فقد كفيت. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৯৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14093 عبدالرحمن بن سعید بن یربوع سے مروی ہے کہ ابان بن سعید مدینے واپس تشریف لے آئے تو حضرت عمر (رض) نے ان کو فرمایا : تم کو یہ حق نہیں تھا کہ امام وقت کی اجازت کے بغیر اپنے عہدے کو چھوڑ کر واپس آجاتے۔ اور وہ بھی ایسے حالات میں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد لوگ اسلام میں کمزور پڑ رہے ہیں آپ تو اس عہدے کے امانت دار تھے۔

ابان بن سعید نے عرض کیا : اللہ کی قسم ! میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خوشنودی کے لیے یہ کام کرتا تھا، پھر (کچھ عرصہ) ابوبکر (رض) کی فضیلت اور مسابقت فی الاسلام کی وجہ سے یہ کام کیا۔ اب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کسی کے لیے بھی یہ عہدہ نہیں گوارا کرسکتا۔

پھر حضرت ابوبکر (رض) نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ اب کس کو بحرین پر گورنر بنا کر بھیجا جائے۔ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے فرمایا : ایسا ایک آدمی ہے جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بحرین والوں پر عامل (گورنر) بنایا تھا۔ ان کے ہاتھوں پر وہاں کے لوگوں نے اسلام قبول کیا اور اپنی اطاعت کا اظہار کیا۔ اور وہ بھی ان لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہے اور ان کے علاقے سے بھی واقف کار ہے۔ وہ ہے حضرت العلاء بن الحضرمی۔ لیکن حضرت عمر (رض) نے اس کا انکار کردیا اور عرض کیا کہ آپ ابان بن سعید ہی کو اس کام پر مجبور کریں۔ کیونکہ وہ بحرین والوں کا حلیف (دوست) ہے۔ لیکن حضرت ابوبکر (رض) نے ان کو اس عہدے پر مجبور کرنے سے انکار کردیا اور فرمایا : میں اسے شخص کو کیسے مجبور کرسکتا ہوں جو کہتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کسی کے لیے کوئی کام نہیں کرسکتا۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے علاء بن حضرمی کو بحرین بھیجنے پر اتفاق رائے کرلیا۔ ابن سعد
14093- عن عبد الرحمن بن سعيد بن يربوع قال: قال عمر بن الخطاب لأبان بن سعيد حين قدم المدينة: ما كان حقك أن تقدم وتترك عملك بغير إذن إمامك، ثم على هذه الحالة، ولكنك أمنته، فقال أبان أما أني والله ما كنت لأعمل لأحد بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم كنت عاملا لأبي بكر لفضله وسابقته وقديم إسلامه، ولكن لا أعمل لأحد بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم، وشاور أبو بكر أصحابه فيمن يبعث إلى البحرين، فقال له عثمان بن عفان: ابعث رجلا قد بعثه رسول الله صلى الله عليه وسلم إليهم فقدم عليه بإسلامهم وطاعتهم، وقد عرفوه وعرفهم وعرف بلادهم يعني العلاء الحضرمي فأبى ذلك عمر عليه وقال: أكره أبان بن سعيد بن العاص، فإنه رجل قد حالفهم فأبى أبو بكر أن يكرهه وقال: لا أكره رجلا يقول: لا أعمل لأحد بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأجمع أبو بكر بعثة العلاء بن الحضرمي إلى البحرين. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৯৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14094 مطلب بن سائب بن ابی وداعۃ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے عمرو بن العاص کو لکھا کہ میں نے خالد بن ولید کو حکم بھیج دیا ہے کہ وہ (اپنے لشکر کے ساتھ) تمہارے پاس آئے تاکہ تم کو کمک ملے۔ لہٰذا جب وہ تشریف لے آئیں تو ان کے ساتھ اچھا سولک رکھنا اور ان کو تنگی میں نہ ڈالنا اور نہ ان کے کاموں میں رکاوٹ ڈالنا اگرچہ میں نے تم کو ان پر اور دوسرے امراء پر مقدم کررکھا ہے۔ لہٰذا ان لوگوں سے بھی اپنی مہمات میں مشاورت کرتے رہو اور ان کی مخالفت نہ کرو۔ ابن سعد
14094- عن المطلب بن السائب بن أبي وداعة قال: كتب أبو بكر الصديق إلى عمرو بن العاص أني كتبت إلى خالد بن الوليد ليسير إليك مددا لك؛ فإذا قدم عليك فأحسن مصاحبته ولا تطاول عليه، ولا تقطع الأمور دونه، لتقديمي إياك عليه وعلى غيره شاورهم ولا تخالفهم. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৯৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14095 عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے ارادہ فرمایا کہ تمام لشکروں کو ملک شام کرادیں۔ عاملین میں سے سب سے پہلے آپ کے عامل حضرت عمرو بن العاص تھے۔ آپ (رض) نے ان کو حکم دیا کہ وہ فلسطین پر لشکر کشی کے ارادے سے ایلۃ مقام پر پہنچیں ۔ حضرت عمرو بن العاص (رض) کا لشکر جب مدینہ سے نکلا، تین ہزار افراد پر مشتمل تھا حسن چل رہے تھے اور عمرو بن العاص کو ۔ جو سوار تھے وصیت کرتے جارہے تھے : اے عمرو ! اپنے باطن میں اور ظاہر میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ اللہ سے حیاء کرتے رہنا بیشک وہ تجھے ہر آن دیکھ رہا ہے اور طرف بھی خوب دیکھ رہا ہے۔ دیکھو ! میں نے تم کو ایسے لوگوں پر بھی مقدم کردیا ہے (امیر) بنادیا ہے۔ وہ تجھ سے اسلام میں پہلے داخل ہونے والے ہیں اور ایسے لوگوں پر بھی تجھے مقدم کردیا ہے جو اسلام اور ابن اسلام سے نسبت تیرے زیادہ غنی ہیں۔ لہٰذا آخرت کے عاملین میں سے بن اور جو بھی تو عمل کرے اس کے ساتھ اللہ کی رضاء کو مدنظر رکھ۔ اپنے ساتھ والوں کے لیے ان کے باپ کے قائم مقام بن جا۔ لوگوں کے چھپے ہوئے اموال وعیوب کے پیچھے نہ پڑنا، بلکہ ان کے ظاہر پر اکتفاء کرنا۔ اپنے کام میں تندہی دکھانا۔ جب دشمن سے تیری مڈبھیڑ ہو تو سچائی کے ساتھ لڑائی کے جوہر دکھا، بزدلی کو پاس بھی نہ آنے دینا اور جو مال غنیمت میں خیانت کا مرتکب ہو اس کی پکڑ کر اور اس کو سزا دے اور جب تو اپنے ساتھیوں کو وعظ کرے تو مختصر بات کر۔ اپنی ذات کی اصلاح رکھ، تیری رعایا تیرے لیے درست ہوجائے گی۔ ابن سعد
14095- عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم قال: أجمع أبو بكر أن يجمع الجيوش إلى الشام كان أول من سار من عماله عمرو بن العاص، وامره أن يسلك على أيلة عامدا لفلسطين، وكان جند عمرو الذين خرجوا من المدينة ثلاثة آلاف فيهم ناس كثير من المهاجرين والأنصار وخرج أبو بكر الصديق يمشي إلى جنب راحلة عمرو بن العاص وهو يوصيه ويقول: يا عمرو؛ اتق الله في سر أمرك وعلانيته واستحيه فإنه يراك ويرى عملك وقد رأيت تقديمي إياك على من هم أقدم سابقة منك، ومن كان أعظم غنى عن الإسلام وأهله منك، فكن من عمال الآخرة، وأرد بما تعمل وجه الله، وكن والدا لمن معك ولا تكشفن الناس عن أستارهم، واكتف بعلانيتهم، وكن مجدا في أمرك وأصدق اللقاء إذا لقيت ولا تجبن وتقدم في الغلولوعاقب عليه وإذا وعظت أصحابك فأوجز، وأصلح نفسك تصلح لك رعيتك. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৯৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14096 عبدالحمید بن جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نے عمرو بن العاص (رض) کو ارشاد فرمایا : میں نے تم کو قبائلی بلی، عذرۃ، قضاعۃ کی تمام شاخوں اور اس علاقے میں جتنے باقی ماندہ عرب ہیں سب پر عامل بنادیا ہے۔ لہٰذا ن کو جہاد فی سبیل اللہ کی طرف بلانا اور جہاد کی ترغیب دینا۔ پس جو تیری بات مان لیں ان کو سواری دینا اور زادراہ دینا۔ ان کے ساتھ موافقت کا برتاؤ کرنا اور ہر قبیلے کو الگ الگ مقام پر اتارنا۔ ابن سعد
14096- عن عبد الحميد بن جعفر عن أبيه أن أبا بكر قال لعمرو بن العاص: إني قد استعملتك على من مررت من بلى وعذرة وسائر قضاعة ومن سقط هناك من العرب؛ فاندبهم إلى الجهاد في سبيل الله، ورغبهم فيه، فمن تبعك منهم فاحمله وزوده، ووافق بينهم واجعل كل قبيلة على حدتها ومنزلتها. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৯৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14097 حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ جس دن رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوا اسی روز حضرت ابوبکر (رض) کی بیعت کرلی گئی۔ اس سے اگلے روز حضرت فاطمہ (رض) حضرت علی (رض) کے ساتھ حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آئیں اور عرض کیا : میرے والد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی میراث مجھے دیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے پوچھا : کیا وراثت میں یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم کو دینے کا فرمایا تھا ؟ فاطمہ (رض) نے فرمایا : فدک، خیبر اور مدینے کے اموال صدقات میں میں ان کی وارث بنوں گی جس طرح آپ کے انتقال کے بعد آپ کی بیٹیاں وارث بنیں گی۔ حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم تیرا بات مجھ سے بہتر تھا اور تم میری بیٹیوں سے بہتر ہو۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تھا : ہم اپنا وارث کسی کو نہیں بناتے، جو چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ یعنی یہ مذکورہ اموال۔ لہٰذا اگر تم کو معلوم ہے کہ تمہارے والد مکرم نے یہ اموال تم کو عطا کردیئے ہیں تو ہاں کرو، ہم تمہاری بات خدا کی قسم قبول کریں گے اور تم کو یہ اموال دیدیں گے۔ حضرت فاطمہ (رض) نے فرمایا : میرے پاس ام ایمن (حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باندی اور آپ کی پرورش کرنے والی) آئی تھیں انھوں نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فدک دیدیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہاں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ باغ فدک تمہارے لیے ہے۔ پس تم نے بھی یہ سنا ہے اور میں تمہاری بات قبول کرتا ہوں۔ حضرت فاطمہ (رض) نے فرمایا : میرے پاس جو علم تھا میں نے تم کو بتادیا ۔ ابن سعد

کلام : روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے واقدی کے جو انتہائی ضعیف ہے۔
14097- عن عمر بن الخطاب قال: لما كان اليوم الذي توفي فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم بويع لأبي بكر في ذلك اليوم، فلما كان من الغد جاءت فاطمة إلى أبي بكر معها علي فقالت: ميراثي من رسول الله صلى الله عليه وسلم أبي، قال: أمن الرثةأو من العقد؟ قالت: فدك وخيبر وصدقاته بالمدينة أرثها كما ترثك بناتك إذا مت، فقال أبو بكر: أبوك والله خير مني وأنت خير من بناتي، وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا نورث ما تركناه صدقة يعني هذه الأموال القائمة فتعلمين أن أباك أعطاكها؛ فوالله لئن قلت: نعم لأقبلن قولك، ولأصدقنك، قالت: جاءتني أم أيمن فأخبرتني أنه أعطاني فدك قال عمر: فسمعته يقول: هي لك فإذا قلت قد سمعته فهي لك، فأنا أصدقك فأقبل قولك، قالت: قد أخبرتك بما عندي. "ابن سعد" ورجاله ثقات سوى الواقدي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৯৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14098 ام خالد بنت (خالد) بن سعید بن العاص سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) کی بیعت ہوجانے کے بعد میرے والد یمن سے مدینہ تشریف لے آئے ۔ انھوں نے حضرت علی (رض) اور حضرت عثمان (رض) کو کہا : تم بنی عبدمناف (ابوبکر) پر کس طرح راضی ہوگئے کہ وہ تمہاری جگہ ابوبکر (رض) نے اس پر کوئی مواخذہ نہ فرمایا : لیکن حضرت عمر (رض) کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی۔ میرے والد خالد تین ماہ بغیر ابوبکر (رض) کے بیعت کیے ٹھہرے رہے۔ پھر ایک مرتبہ حضرت ابوبکر (رض) خالد کے پاس جب وہ اپنے گھر میں تھے گزرے اور ان کو سلام کیا۔ خالد نے (سلام کے جواب کے بعد) عرض کیا : کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں آپ کی بیعت کروں ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا : مجھے اچھا لگے گا اگر تم اس خیر میں شامل ہوجاؤ جس میں سب مسلمان شامل ہیں۔ حضرت خالد (رض) نے فرمایا : میں آپ سے شام کا وعدہ کرتا ہوں اس وقت میں آپ کی بیعت کرلوں گا۔ چنانچہ وہ مقررہ وقت پر حاضر ہوئے اس وقت حضرت ابوبکر (رض) منبر پر تشریف فرما تھے۔ چنانچہ خالد نے آپ کی بیعت کرلی۔ حضرت ابوبکر (رض) کی رائے ان کے بارے میں اچھی تھی اور آپ (رض) خالد کی تعظیم کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت ابوبکر (رض) نے جب مسلمانوں کے لیے جھنڈا تیار کیا تو وہ جھنڈا لے کر خالد (رض) کے گھر تشریف لائے۔ حضرت عمر (رض) نے ابوبکر (رض) سے بات کی اور عرض کیا : آپ خالد کو والی بنا رہے ہیں حالانکہ وہ ایسا ایسا کہتے ہیں۔ اسی طرح حضرت عمر (رض) ابوبکر (رض) پر اصرار کرتے رہے حتیٰ کہ حضرت ابوبکر (رض) نے ابواروی الدوسی کو خالد (رض) کے پاس بھیجا۔ انھوں نے جاکر پیغام دیا کہ خلیہ رسول اللہ ! آپ کو فرماتے ہیں کہ ہمارا جھنڈا واپس کردیں۔ چنانچہ حضرت خالد (رض) نے جھنڈا نکال کر دیدیا اور فرمایا : اللہ کی قسم ! ہم کو تو تمہاری حکمرانی نے خوش کیا اور نہ تمہارے معزول کرنے نے ہم کو غم گین کیا۔ اور ملامت کرنے والا (بیخ کنی کرنے والا) تمہارے سوا کوئی اور ہے۔

ام خالد فرماتی ہیں : اتنے میں مجھے حضرت ابوبکر (رض) میرے والد کے پاس داخل ہوتے دکھائی دیئے۔ حضرت ابوبکر (رض) آکر میرے والد سے معذرت کرنے لگے۔ اور ان کو تاکید فرمائی کہ حضرت عمر (رض) سے اس کے متعلق کوئی بات نہ کریں۔ چنانچہ اللہ کی قسم ! میرے والد حضرت عمر (رض) پر ہمیشہ ترس کھاتے رہے حتیٰ کہ ان کی وفات ہوگئی۔ ابن سعد
14098- عن أم خالد بنت [خالد] سعيد بن العاص قالت: قدم أبي من اليمن إلى المدينة بعد أن بويع لأبي بكر، فقال لعلي وعثمان: أرضيتم بني عبد مناف أن يلي هذا الأمر عليكم غيركم؟ فنقلها عمر إلى أبي بكر فلم يحملها أبو بكر على خالد وحملها عمر عليه، وأقام خالد ثلاثة أشهر لم يبايع أبا بكر ثم مر عليه أبو بكر بعد ذلك مظهرا هو عليه وهو في داره فسلم عليه فقال له خالد: أتحب أن أبايعك؟ فقال أبو بكر: أحب أن تدخل في صالح مادخل فيه المسلمون فقال: موعدك العشية أبايعك، فجاء وأبو بكر على المنبر فبايعه وكان رأي أبي بكر فيه حسنا وكان معظما له، فلما بعث أبو بكر الجنود إلى الشام عقد له على المسلمين وجاء باللواء إلى بيته، فكلم عمر أبا بكر فقال: تولى خالدا وهو القائل ما قال؟ فلم يزل به حتى أرسل أبا أروى الدوسي، فقال: إن خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لك: اردد إلينا لواءنا فأخرجه إليه وقال: والله ما سرتنا ولايتكم ولا ساءنا عزلكم وأن المليم لغيرك فما شعرت إلا بأبي بكر داخل على أبي يتعذر إليه ويعزم عليه أن لا يذكر عمر بحرف فوالله ما زال أبي يترحم على عمر حتى مات. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৯৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14099 سلمۃ بن ابی سلمۃ بن عبدالرحمن بن عوف سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) نے خالد کو ان کے منصب سے معزول کیا تو ان کی جگہ یزید بن ابی سفیان کو ان کے لشکر پر سپہ سالار مقرر کردیا اور ان کا جھنڈا بھی یزید کو تھما دیا۔ ابن سعد
14099- عن سلمة بن أبي سلمة بن عبد الرحمن بن عوف قال: لما عزل أبو بكر خالدا ولى يزيد بن أبي سفيان جنده ودفع لواءه إلى يزيد. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক: