কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৫ টি

হাদীস নং: ১৪০৬০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14060 سعد بن ابراہیم عن عبدالررحمن بن عوف سے مروی ہے کہ حضور کی وفات کے بعد خلیفہ کے انتخاب کے موقع پر حضرت عبدالرحمن بن عوف حضرت عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ تھے۔ محمد بن مسلمۃ نے زبیر (رض) کی تلوار توڑ دی تھی۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق (رض) اٹھے اور لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا : اور ان سے معذرت کی فرمایا :

اللہ کی قسم ! میں نے کبھی دن میں اور نہ کبھی رات میں امارت (حکومت) کی لالچ کی اور نہ اس کی رغبت رکھی اور نہ ہی پروردگار سے تنہائی میں یا کھلے میں کبھی اس کا سوال کیا۔ لیکن مجھے فتنے کا ڈر ہے۔ مجھے امارت میں کوئی کشادگی اور مسرت نہیں ہے بلکہ مجھے ایک عظیم ذمہ داری گلے میں ڈال دی گئی ہے، جس کے اٹھانے کی مجھ میں طاقت ہے اور نہ قوت مگر اللہ عزوجل کی مدد کے ساتھ۔ میری تو خواہش ہے کہ لوگوں میں سب سے مضبوط آدمی جب اس بار کو اپنے کاندھوں پر اٹھائے۔

چنانچہ مہاجرین نے آپ (رض) کی کہی ہوئی سب باتوں کو قبول کیا اور آپ کی معذرت کو قبول کیا صرف حضرت علی اور حضرت زبیر (رض) نے فرمایا : ہمیں غصہ صرف اس بات کا ہے کہ مشاورت میں ہمارا انتظار نہ کیا گیا۔ ہم بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد ابوبکر (رض) کو اس منصب کا سب سے بڑا حقدار سمجھتے ہیں۔ وہ حضور کے صاحب غار ہیں اور ثانی اثنین کے لقب یافتہ ہیں۔ ہم آپ کے شرف اور بزرگی کو خوب جانتے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تو اپنی زندگی ہی میں آپ (رض) کو نماز پڑھانے کا حکم کردیا تھا (اور یہ مقام صرف امام حاکم کا ہے) ۔

مستدرک الحاکم، للبیہقی قال الحاکم صحیح علی شرط الشیخین ، واقرہ الذھبی
14060- عن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف أن عبد الرحمن بن عوف كان مع عمر بن الخطاب وأن محمد بن مسلمة كسر سيف الزبير، ثم قام أبو بكر فخطب الناس واعتذر إليهم وقال: والله ما كنت حريصا على الإمارة يوما ولا ليلة قط ولا كنت فيها راغبا ولا سألتها الله في سر ولا علانية، ولكني أشفقت من الفتنة وما لي في الإمارة من راحة ولكني قلدت أمرا عظيما ما لي به طاقة ولا يد إلا بتقوية الله عز وجل ولوددت أن أقوى الناس عليها مكاني اليوم، فقبل المهاجرون منه ما قال وما اعتذر به، وقال علي والزبير، وما غضبنا إلا لأنا أخرنا عن المشاورة، وإنا نرى أبا بكر أحق الناس بها بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم، إنه لصاحب الغار وثاني اثنين، وإنا لنعرف شرفه وكبره ولقد أمره رسول الله صلى الله عليه وسلم بالصلاة بالناس وهو حي. "ك هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৬১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14061 طارق شہاب سے مروی ہے کہ بذاخہ ، اسد اور غطفان قبائل کے وفود حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی خدمت میں صلح کی درخواست لے کر آئے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے ان کو دو باتوں کا اختیار دیا : بین الحرب المجلیۃ اوالسلم المخزیۃ انھوں نے پوچھا کہ الحرب المجلیۃ تو ہم کو معلوم ہوگیا کیا ہے یعنی کھلی جنگ۔ لیکن السلم المخزیۃ، ذلت آمیز صلح یہ کیا ہے ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : تم زرہیں اور مویشی (بطور جزیہ) ادا کرو گے، ان لوگوں کو چھوڑ دو گے جو اونٹوں کی دموں کے پیچھے پھرتے ہیں حتیٰ کہ اللہ پاک اپنے نبی کے خلیفہ اور مسلمانوں کو کوئی دوسری راہ سمجھا دے تب وہ تم سے معذرت کریں گے۔ تم ہمارے مقتولوں کی دیت ادا کرو گے اور ہم تمہارے مقتولوں کی دیت نہیں ادا کریں گے۔ ہمارے مقتول جنت میں ہوں گے اور تمہارے مقتول جہنم میں۔ تم کو جو ہمارا مال ہاتھ لگے گا تم کو وہ واپس کرنا ہوگا لیکن تمہارا مال جو ہمارے ہاتھ آیا وہ ہمارے لیے مال غنیمت ہوگا۔ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : میں نے بھی ایک رائے قائم کی ہے میں آپ کو بتاتا ہوں۔ وہ زرہیں اور مویشی دیں گے آپ کا اچھا خیال ہے ، وہ ان لوگوں کو چھوڑ دیں گے جو اونٹوں کے پیچھے رہتے ہیں (ان سے کوئی تعرض نہ کریں گے) حتیٰ کہ اللہ اپنے نبی کے خلیفہ کو اور مسلمانوں کو کوئی راہ سمجھا دے تو وہ ان سے معذرت کرلیں گے ، یہ آپ کا اچھا خیال ہے۔ جو ان کا مال ہمارے ہاتھ آئے گا وہ ہمارے لیے مال غنیمت ہوگا اور ہمارا مال ان کے ہاتھ لگے گا تو وہ واپس کرنے کے پابند ہوں گے، یہ آپ کا اچھا خیال ہے، ان کے مقتول جہنم میں ہیں اور ہمارے جنت میں (اس کا عقیدہ) ی بھی آپ کا اچھا خیال ہے لیکن یہ بات کہ وہ ہمارے مقتولوں کی دیت ادا کریں گے (یہ درست نہیں) بلکہ وہ ہمارے مقتول نہیں ہیں بلکہ وہ (شہادت پانے والے) اللہ کے حکم پر قتل ہونے والے ہیں لہٰذا ان کی کوئی دیت واجب الاداء نہیں ہے۔

چنانچہ اس فیصلے پر سب لوگ عمل کرتے رہے۔ ابوبکر البرقانی، السنن للبیہقی

ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں روایت صحیح ہے اور بخاری نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے۔
14061- عن طارق بن شهاب قال: جاء وفد بذاخة وأسد وغطفان إلى أبي بكر يسألونه الصلح فخيرهم أبو بكر بين الحرب المجلية أو السلم المخزية، قال: فقالوا: هذه الحرب المجلية قد عرفناها فما السلم المخزية؟ قال أبو بكر: تؤدن الحلقة والكراع وتتركون أقواما يتبعون أذناب الإبل حتى يرى الله خليفة نبيه والمسلمين أمرا يعذرونكم به وتدون قتلانا ولا ندي قتلاكم، وقتلانا في الجنة وقتلاكم في النار، وتردون ما أصبتم منا ونغنم ما أصبنا منكم، قال: فقال عمر: رأيت رأيا وسأشير عليك، أما أن يؤدوا الحلقة والكراع فنعم ما رأيت، وأما أن يتركوا أقواما يتبعون أذناب الإبل حتى يرى الله خليفة نبيه والمسلمين أمرا يعذرونهم به فنعم ما رأيت، وأما ان نغنم ما أصبنا منهم ويردون ما أصابوا منا فنعم ما رأيت، وأما أن قتلاهم في النار وقتلانا في الجنة فنعم ما رأيت، وأما أن يدوا قتلانا فلا قتلانا قتلوا على أمر الله فلا ديات لهم فتتابع الناس على ذلك. "أبو بكر البرقاني ق" قال ابن كثير صحيح وروى "خ" بعضه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৬২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14062 حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکرصدیق (رض) نے (جب خلافت کی ذمہ داری اٹھالی تو) خطبہ دیا اللہ کی حمدوثناء بجا لائے پھر فرمایا :

عقل مندوں میں سے بھی عقل مند ترین وہ شخص ہے جو تقویٰ اختیار کرنے والا ہے اور نادانوں کا نادان ہے جو فجور و معاصی میں منہمک ہے۔ دیکھو سچ میرے ہاں امانت ہے اور کذب خیانت ہے۔ یاد رکھو ! طاقت ور میرے لیے کمزور ہے جب تک کہ میں اس سے حق وصول نہ کرلوں۔ اور ضعیف میرے نزدیک قوی و طاقت ور ہے جب تک کہ اس کا حق ادا نہ دلوادوں۔ آگا رہو ! میں تم پر والی (حاکم) بنا ہوں، لیکن میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔ میری تمنا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص میری جگہ اس کام کے لیے عہدہ برآ ہوجائے۔ اللہ کی قسم ! اگر تمہارا خیال ہو کہ اللہ نے جس طرح اپنے نبی کو وحی کے ساتھی مضبوط رکھا میں بھی اسی طرح عمل دکھاؤں۔ تو میں محض ایک بشر ہوں تم میرا خیال رکھو۔

حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں : جب اگلا روز ہوا تو آپ بازار کی طرف چل دیئے۔ حضرت عمر (رض) نے ان سے پوچھا : کہاں جارہے ہو ؟ فرمایا : بازار۔ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : اب آپ پر ایسی ذمہ داری عائد ہوگئی ہے جو آپ کو اس بازار کے کاروبار سے دور رکھنا چاہتی ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : سبحان اللہ ! کیا یہ ذمہ داری مجھے اپنے اہل و عیال کی ذمہ داری سے دور کردے گی ؟ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : ہم آپ کے لیے قاعدے کے مطابق وظیفہ (تنخواہ) مقرر کردیتے ہیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : افسوس اے عمر ! مجھے خوف ہے کہ کہیں مجھے (بیت المال کا) مال لینے کی گنجائش نہ ہو۔

پھر آپ (رض) (کا مسلمانوں نے وظیفہ طے کردیا) اور آپ (رض) نے دو سال سے کچھ اوپر (مدت خلافت میں) صرف آٹھ ہزار درہم (بیت المال کے اپنی تنخواہ کی مد میں) خرچ کیے ۔ لیکن جب ان کی موت کا وقت سر پر آیا تو فرمانے لگے : میں نے تو عمر کو کہا تھا کہ یہ مال مجھے لینا درست نہ ہوگا لیکن وہ اس وقت مجھ پر غالب آگئے۔ پس جب میں مرجاؤں تو میرے ذاتی مال میں سے آٹھ ہزار درہم بیت المال میں لوٹا دینا۔ چنانچہ جب وہ مال حضرت عمر (رض) کے پاس پیش کیا گیا تو انھوں نے فرمایا : اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے، انھوں نے اپنے بعد والوں کو سخت مشقت میں ڈال دیا۔

السنن للبیہقی
14062- عن الحسن أن أبا بكر الصديق خطب الناس فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال: إن أكيس الكيس التقوى وأحمق الحمق الفجور ألا إن الصدق عندى الأمانة والكذب الخيانة، ألا إن القوي ضعيف حتى آخذ منه الحق، والضعيف عندي قوي حتى آخذ له الحق، ألا وإني قد وليت عليكم ولست بخيركم، لوددت أن قد كفاني هذا الأمر أحدكم والله إن أنتم أردتموني على ما كان الله يقيم نبيه بالوحي ما ذلك عندي إنما أنا بشر فراعوني، فلما أصبح غدا إلى السوق فقال له عمر: أين تريد؟ قال: السوق؟ قال: قد جاءك ما يشغلك عن السوق، قال: سبحان الله يشغلني عن عيالي، قال: نفرض بالمعروف، قال: ويح عمر، إني أخاف أن لا يسعني أن آكل من هذا المال شيئا فأنفق في سنتين وبعض أخرى ثمانية آلاف درهم، فلما حضره الموت قال: قد كنت قلت لعمر: إني أخاف أن لا يسعني أن آكل من هذا المال شيئا فغلبني، فإذا أنا مت خذوا من مالي ثمانية آلاف درهم وردوها في بيت المال، فلما أتي بها عمر قال: رحم الله أبا بكر لقد أتعب من بعده تعبا شديدا. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৬৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14063 میمون بن مہران سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) کے پاس جب کوئی قضیہ (کیس) آتا تو آپ پہلے کتاب اللہ میں دیکھتے اگر اس میں اس کا حل پاتے تو اس کے ساتھ فیصلہ فرما دیتے۔ اگر کتاب اللہ میں اس کا فیصلہ نہ پاتے تو دیکھتے کہ کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی عمل اس جیسے قضیے میں پیش آیا ہے۔ اگر ایسا کوئی فیصلہ سنت نبوی میں ہوتا تو اس کے مطابق فیصلہ فرما دیتے۔ اگر ایسا کوئی مسئلہ معلوم نہ ہوتا تو باہر نکلتے اور مسلمانوں سے سوال کرتے اور فرماتے : میرے پاس ایسا ایسا مسئلہ آیا ہے، میں نے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ میں دیکھا مگر میں نے اس بارے میں کچھ نہ پایا کیا تم کو معلوم ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے مسئلہ میں کیا فیصلہ فرمایا ہے ؟ پھر بسا اوقات تو پوری جماعت کھڑی ہوجاتی اور کہتی : ہاں یہ یہ فیصلہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے۔ تب حضرت ابوبکر صدیق (رض) سنت رسول کے مطابق فیصلہ نافذ فرما دیتے اور ارشاد فرماتے : تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمارے اندر ایسے لوگ بنادیئے جنہوں نے ہمارے نبی کے فرمان کو محفوظ رکھا۔ اگر اس طرح بھی مسئلہ حل نہ ہوتا تو مسلمانوں کے سرداروں اور علماء کو بلا کر ان سے مشاورت فرماتے۔ جب ان کی رائے کسی مسئلے پر جمع ہوجاتی تو اس کے ساتھ فیصلہ فرما دیتے۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) اپنے عہد خلافت میں ایسا کوئی مسئلہ پاتے کہ جس میں کتاب اللہ اور سنت رسول سے راہنمائی نہ ملتی تو حضرت ابوبکر (رض) کے فیصلہ جات کو دیکھتے اگر ابوبکر (رض) نے اس بارے میں کوئی فیصلہ فرمایا ہوتا تو اس کے ساتھ فیصلہ فرما دیتے ورنہ پھر مسلمانوں کے سرداروں اور علماء کو بلا کر مشاورت فرماتے اور جب ان کی رائے کسی مسئلے پر مجتمع ہوجاتی تو اس کے ساتھ فیصلہ فرما دیتے۔

سنن الدارمی، السنن للبیہقی
14063- عن ميمون بن مهران قال: كان أبو بكر إذا ورد عليه خصم نظر في كتاب الله، فإن وجد فيه ما يقضى به قضى به بينهم، وإن لم يجد في كتاب الله نظر هل كانت من النبي صلى الله عليه وسلم فيه سنة فإن علمها قضى بها، فإن لم يعلم خرج فسأل المسلمين، فقال: أتاني كذا وكذا فنظرت في كتاب الله وفي سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم أجد في ذلك شيئا فهل تعلمون أن النبي صلى الله عليه وسلم قضى في ذلك بقضاء؟ فربما قام إليه الرهط، فقالوا: نعم: قضى فيه بكذا وكذا، فيأخذ بقضاء رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول عند ذلك: الحمد لله الذي جعل فينا من يحفظ عن نبينا، وإن أعياه ذلك دعا رؤوس المسلمين وعلماءهم فاستشارهم فإذا اجتمع رأيهم على الأمر قضى به وإن عمر بن الخطاب كان يفعل ذلك فإن أعياه أن يجد في القرآن أو السنة نظر هل كان لأبي بكر فيه قضاء فإن وجد أبا بكر قد قضى فيه بقضاء قضى به وإلا دعا رؤوس المسلمين وعلماءهم واستشارهم فإذا اجتمعوا على الأمر قضى بينهم. "الدارمي ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৬৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14064 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جب سقیفہ میں حضرت ابوبکر (رض) کی بیعت کرلی گئی اور آئندہ روز حضرت ابوبکر (رض) منبر پر بیٹھے تو حضرت عمر (رض) اپنی جگہ سے اٹھے اور حضرت ابوبکر (رض) سے پہلے بولے : اللہ کی حمدوثناء کی پھر فرمایا :

اے لوگو ! گزشہت کل میں نے ایک بات کہی تھی جو میں نے قرآن میں دیکھی تھی اور نہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمائی تھی۔ بلکہ میرا ذاتی خیال تھا کہ ابھی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے معاملات کو منظم فرمائیں گے۔

پس اب اللہ تعالیٰ نے تمہارے اندر اپنی کتاب چھوڑ دی ہے۔ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا راستہ ہے۔ اگر تم نے اس کو مضبوطی سے تھام لیا تو اللہ تم کو بھی ہدایت سے نوازدے گا جس طرح اپنے پیغمبر کو سیدھی راہ دکھائی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے امور سلطنت ایسے شخص کو سونپ دیئے ہیں جو تم میں سب سے بہتر ہے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھی ہے، ثانی اثنین اذھما فی الغار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یارغار ہے۔ اٹھو اور ان کی بیعت کرو۔ چنانچہ بیعت سقیفہ کے بعد یہ عام بیعت ہوئی جو (سب) لوگوں نے کی۔

پھر حضرت ابوبکر (رض) نے خطبہ ارشاد فرمایا : پہلے اللہ کی حمدوثناء کی پھر فرمایا :

اے لوگو ! مجھے تمہارا والی (حاکم) بنایا گیا ہے حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔ اگر میں اچھا کروں تو میری مدد کرو، اگر برا کروں تو مجھے سیدھا کردو۔ سچائی امانت ہے جھوٹ خیانت ہے۔ تمہارا ضعیف میرے نزدیک قوی ہے حتیٰ کہ میں اس کا حق دلادوں انشاء اللہ۔ تمہارا قوی میرے لیے ضعیف ہے جب تک کہ میں اس سے (حق والے کا) حق نہ لے لوں (یادرکھو ! ) کوئی قوم جہاد کو نہیں چھوڑتی مگر اللہ پاک ان پر ذلت مسلط کردیتا ہے۔ کسی قوم میں فحش کام عام نہیں ہوتے مگر اللہ پاک ان کو عمومی مصائب وآفات میں مبتلا فرما دیتا ہے تم میری اطاعت کرتے رہو جب تک کہ میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا رہوں، جب میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی میں مبتلا ہوجاؤ تو تم پر میری اطاعت نہیں۔ پس اب نماز کے لیے اٹھ کھڑے ، اللہ تم پر رحم کرے۔ ابن اسحاق فی السیرۃ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں : اس کی اسناد صحیح ہے۔
14064- عن أنس قال: لما بويع أبو بكر في السقيفة وكان الغد جلس أبو بكر على المنبر، فقام عمر فتكلم قبل أبي بكر فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال: يا أيها الناس إني قد كنت قلت لكم بالأمس مقالة ما كنت وجدتها في كتاب الله ولا كانت عهدا عهدها إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم ولكني قد كنت أرى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سيدبر أمرنا، وأن الله تعالى قد أبقى فيكم كتابه الذي هو هدي رسول الله صلى الله عليه وسلم فإن اعتصمتم به هداكم الله لما كان هداه له، وإن الله قد جمع أمركم على خيركم صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم وثاني اثنين إذ هما في الغار فقوموا فبايعوه فبايع الناس أبا بكر بيعة العامة بعد بيعة السقيفة، ثم تكلم أبو بكر فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال أما بعد أيها الناس، فإني قد وليت عليكم ولست بخيركم، فإن أحسنت فأعينوني وإن أسأت فقوموني، الصدق أمانة والكذب خيانة والضعيف فيكم قوي عندي حتى أريح عليه حقه إن شاء الله، والقوي فيكم ضعيف حتى آخذ الحق منه إن شاء الله لا يدع قوم الجهاد في سبيل الله إلا ضربهم الله بالذل ولا تشيع الفاحشة في قوم إلا عمهم الله بالبلاء، وأطيعوني ما أطعت الله ورسوله، فإذا عصيت الله ورسوله فلا طاعة لي عليكم، قوموا إلى صلاتكم يرحمكم الله. "ابن إسحاق في السيرة" قال ابن كثير: إسناده صحيح
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৬৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14065 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) منبر پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جگہ پر کبھی نہ بیٹھے حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی۔ اسی طرح عمر (رض) کبھی بھی ابوبکر (رض) کی جگہ نہ بیٹھے حتیٰ کہ عمر (رض) کی وفات ہوگئی۔ اسی طرح حضرت عثمان (رض) حضرت عمر (رض) کی جگہ کبھی نہ بیٹھے حتیٰ کہ عثمان (رض) کی وفات ہوگئی۔

الاوسط للطبرانی
14065- عن ابن عمر قال: لم يجلس أبو بكر في مجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر حتى لقي الله، ولم يجلس عمر في مجلس أبي بكر حتى لقي الله ولم يجلس عثمان في مجلس عمر حتى لقي الله. "طس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৬৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14066 حضرت ابو ہریرہ (رض) سے مروی ہے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اگر ابوبکر (رض) کو خلیفہ نہ منتخب کیا جاتا تو اللہ کی عبادت باقی نہ رہتی۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے یہ بات دوبارہ ارشاد فرمائی، پھر تیسری بار ارشاد فرمائی تو آپ کو کسی نے کہا : رک جاؤ ابوہریرہ !

حضرت ابوہریرہ (رض) نے (مزید جوش و خروش سے آپ کی ثابت قدمی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے) فرمایا :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسامہ بن زید کا لشکر سات سو افراد پر مشتمل ملک شام جنگ کے لیے روانہ فرمایا تھا۔ جب وہ لشکر مقام ذی خشب ، پر اترا تو مدینہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوگیا۔ مدینہ کے ارد گرد کے لوگ مرتد ہونے لگے۔ اصحاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد جمع لوگ کہنے لگے : روم جانے والے لشکر کو روک لیا جائے کیونکہ عرب مدینے کی اطراف میں اسلام سے برگشتہ ہورہے ہیں۔ تب حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ اگر کتوں کا غول ازواج مطہرات کو ان کے پاؤں سے کھینچتا پھرے تب بھی میں اس لشکر کو واپس نہیں ہونے دوں گا جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مہم پر روانہ فرما چکے ہیں اور اس جھنڈے کو نہیں کھولوں گا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لہرا چکے ہیں۔

چنانچہ (اسی ثابت قدمی کا نتیجہ تھا کہ) جب بھی اسامہ (رض) کا لشکر ایسے قبائل کے پاس سے گزرتا جو مرتد ہونے کا ارادہ کررہے تھے تو وہ عرب کہنے لگتے : اگر ان کے پاس قوت نہ ہوتی تو اتنا بڑا لشکر ایسے کٹھن موقع پر نہ نکلتا۔ لہٰذا ہم مرتد ہونے کو فی الحال موقوف رکھتے ہیں جب تک کہ ان کے دشمن سے مڈبھیڑ نہ ہوجائے۔

چنانچہ پھر مسلمانوں کا لشکر رومیوں سے ٹکرایا اور ان کو شکست فاش دیدی ادھر یہ (خبر سن کر مرتد ہونے کا ارادہ کرنے والے بھی باز آگئے اور دین پر) ثابت قدم ہوگئے۔

الصابونی فی المائتین، السنن للبیہقی، ابن عساکر

اس روایت کی سند حسن ہے۔
14066- عن أبي هريرة قال: والذي لا إله إلا هو لولا أن أبا بكر استخلف ما عبد الله، ثم قال الثانية، ثم قال الثالثة، فقيل له: مه يا أبا هريرة، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم وجه أسامة بن زيد في سبع مائة إلى الشام، فلما نزل بذي خشب قبض النبي صلى الله عليه وسلم وارتدت العرب حول المدينة واجتمع إليه أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا: رد هؤلاء توجه هؤلاء إلى الروم وقد ارتدت العرب حول المدينة فقال: والذي لا إله إلا هو لو جرت الكلاب بأرجل أزواج النبي صلى الله عليه وسلم ما رددت جيشا وجهه رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا حللت لواء عقده، فوجه أسامة فجعل لا يمر بقبيل يريدون الارتداد إلا قالوا لولا أن لهؤلاء قوة ما خرج مثل هؤلاء من عندهم، ولكن ندعهم حتى يلقوا الروم فلقوا الروم فهزموهم وقتلوهم ورجعوا سالمين فثبتوا على الإسلام. "الصابوني في المائتين ق في كر" وسنده حسن.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৬৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14067 عطاء بن السائب سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) کی بیعت کرلی گئی تو صبح کو حضرت ابوبکر (رض) اپنے ہاتھ پر چادریں اٹھا کر بازار کو نکلے۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : کہاں کا ارادہ ہے ؟ فرمایا : بازار کا۔ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : یہ آپ کیا (خریدو فروخت ) کررہے ہیں حالانکہ اب آپ کو مسلمانوں کا امیر بنادیا گیا ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے پوچھا : پھر میرے اہل خانہ کو میں کہاں سے کھلاؤں ؟ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : چلئے، ابوعبیدۃ آپ کے لیے وظیفہ مقرر کردیں گے۔ چنانچہ دونوں ابوعبیدۃ کے پاس گئے۔ حضرت ابوعبیدۃ (رض) نے فرمایا : میں آپ کے لیے مہاجرین میں سے ایک آدمی کا وظیفہ مقرر کرتا ہوں جو نہ زیادہ افضل ہو اور نہ بالکل گھٹیا۔ اور گرمی سردی کا لباس، جب آپ ایک چیز استعمال کرکے پرانی کردیں تو واپس کرکے دوسری لے لیں۔ چنانچہ دونوں نے حضرت ابوبکر (رض) اور ان کے اہل خانہ کے لیے نصف بکری اور سر اور تن کو ڈھانکنے کا کپڑا مقرر کردیا۔

ابن سعد
14067- عن عطاء بن السائب قال: لما بويع أبو بكر أصبح وعلى ساعده أبراد وهو ذاهب إلى السوق، فقال عمر: أين تريد؟ قال: السوق قال: تصنع ماذا وقد وليت أمر المسلمين؟ قال: فمن أين أطعم عيالي؟ فقال عمر: انطلق يفرض لك أبو عبيدة، فانطلقا إلى أبي عبيدة فقال: أفرض لك قوت رجل من المهاجرين ليس بأفضلهم ولا بأوكسهم وكسوة الشتاء والصيف إذا أخلقت شيئا رددته وأخذت غيره، ففرضا له كل يوم نصف شاة وما كساه في الرأس والبطن. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৬৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14068 میمون بن مہران سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) کو خلیفہ بنایا گیا تو ان کے اصحاب نے ان کے لیے دو ہزار (درہم) مقرر کردیئے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : کچھ زیادہ کرو کیونکہ میرے اہل و عیال ہیں اور تم نے مجھے تجارت سے روک دیا ہے۔ چنانچہ پھر انھوں نے پانچ سو درہم بڑھادیئے۔ ابن سعد
14068- عن ميمون بن مهران قال: لما استخلف أبو بكر جعلوا له ألفين فقال: زيدوني، فإن لي عيالا وقد شغلتموني عن التجارة فزادوه خمس مائة. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৬৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14069 حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ (رض) نے پیغام بھیجا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی میراث کا مطالبہ کیا جو اللہ پاک نے بطور مال غنیمت کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عطا فرمائی تھی۔ دراصل حضرت فاطمہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس صدقہ کو مانگ رہی تھیں جو (بطور اراضی) مدینہ میں تھا، باغ فدک (جو خیبر میں تھا) اور خیبر کی غنیمت کا مال خمس جو باقی بچ گیا تھا۔ اس تمام مال سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اہل کے نفقات کا بند و بست فرماتے تھے اور اللہ کی راہ میں حاجت مندوں کو تقسیم فرماتے تھے۔

چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ۔ جواب میں ارشاد فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : ہم (دنیاوی مال کا) کسی کو وارث بنا کر نہیں جاتے۔ جو ہم چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ آل محمد اس مال یعنی اللہ کے مال میں سے کھاتے رہیں گے لیکن ان کے لیے کھانے پینے سے زیادہ اس میں تصرف کرنے کا حق نہ ہوگا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا :

اللہ کی قسم میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدقات کو اس حالت سے تبدیل نہیں کرسکتا جس حالت پر وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں تھے۔ نیز میں ان صدقات میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس طرح تصرف فرماتے تھے اسی طرح تصرف کرتا رہوں گا۔

چنانچہ حضرت ابوبکر (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقے پر گامزن رہے اور ان اموال (یعنی زمینوں وغیرہ) کو کسی کو دینے سے انکار کردیا۔ جس کی وجہ سے حضرت فاطمہ (رض) کے دل میں ابوبکر (رض) کی طرف سے ناراضگی بیٹھ گئی۔ چنانچہ حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رشتہ داری مجھے بہت محبوب ہے اس سے کہ میں اپنی رشتہ داری قائم کروں۔ بہرحال ان صدقات میں جو میرے اور تمہارے درمیان اختلاف واقع ہوگیا ہے میں ان میں حق سے ذرہ پیچھے نہیں ہٹ سکتا اور اس طرز عمل کو ہرگز نہیں چھوڑ سکتا جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کرتا دیکھا ہے، میں اسی پر کاربند رہوں گا۔

ابن سعد، مسند احمد، البخاری، مسلم، ابوداؤد، النسائی، ابن الجارود، ابوعوانۃ، ابن حبان، السنن للبیہقی
14069- عن عائشة أن فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم أرسلت إلى أبي بكر تسأله ميراثها من رسول الله صلى الله عليه وسلم مما أفاء الله على رسوله، وفاطمة حينئذ تطلب صدقة النبي صلى الله عليه وسلم التي بالمدينة وفدكوما بقي من خمس خيبر فقال أبو بكر: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا نورث، ما تركناه صدقة إنما يأكل آل محمد من هذا المال يعني مال الله، ليس لهم أن يزيدوا على المأكل، وإني والله لا أغير صدقات النبي صلى الله عليه وسلم، عن حالها التي كانت عليه في عهد النبي صلى الله عليه وسلم، ولأعملن فيها بما عمل النبي صلى الله عليه وسلم فيها فعمل، فأبى أبو بكر أن يدفع إلى فاطمة منها شيئا فوجدتفاطمة على أبي بكر من ذلك، فقال أبو بكر: والذي نفسي بيده لقرابة رسول الله صلى الله عليه وسلم أحب إلي أن أصل من قرابتي، فأما الذي شجر بيني وبينكم من هذه الصدقات، فإني لا آلوفيها عن الحق، وإني لم أكن لأترك فيها أمرا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنعه فيها إلا صنعته. "ابن سعد حم خ م د ن ابن الجارود أبو عوانة حب ق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৭০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14070 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ جب حضرت فاطمہ (رض) بیمار پڑیں تو حضرت ابوبکر (رض) ان کے پاس آئے اور اندر آنے کی جازت چاہی۔ حضرت علی (رض) نے فاطمہ (رض) کو فرمایا : اے فاطمہ ! یہ ابوبکر آئے ہیں آپ سے اجازت چاہتے ہیں۔ حضرت فاطمہ (رض) نے حضرت علی (رض) سے پوچھا : کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں ان کو اندر آنے کی اجازت دیدوں ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : ہاں۔ چنانچہ حضرت فاطمہ (رض) نے خلیفہ ابوبکر صدیق (رض) کو اندر آنے کی اجازت مرحمت فرمادی۔ حضرت ابوبکر (رض) اندر آکر بنت رسول اللہ کو راضی کرنے لگے۔ اور فرمایا : اے اہل بیت ! اللہ کی قسم ! میں نے گھر، مال، اہل و عیال اور قبیلہ و خاندان صرف اللہ ورسول اور تمہارے خاندان کی رضاء کے لیے چھوڑے ہیں۔ السنن للبیہقی

یہ روایت مرسل اور صیح سند کے ساتھ حسن ہے۔
14070- عن الشعبي قال: لما مرضت فاطمة أتاها أبو بكر الصديق فاستأذن عليها فقال علي: يا فاطمة هذا أبو بكر يستأذن عليك، فقالت أتحب أن آذن له؟ قال: نعم، فأذنت له فدخل عليها يترضاها، وقال: والله ما تركت الدار والمال والأهل والعشيرة إلا ابتغاء مرضاة الله ورسوله ومرضاتكم أهل البيت. "ق" وقال هذا مرسل حسن بإسناد صحيح.

تتمة كتاب الخلافة مع الامارة الباب الأول في خلافة الخلفاء خلافة أبي بكر الصديق رضي الله عنه
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৭১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14071 ابو الطفیل مروی ہے کہ حضرت فاطمہ (رض) حضرت ابوبکر (رض) کے پاس تشریف لائیں اور عرض کیا : اے خلیفۃ رسول اللہ ! کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وارث آپ ہیں یا ان کے اہل خانہ ؟ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں، بلکہ ان کے اہل خانہ۔ عرض کیا : پھر خمس کا کیا بنا ؟ فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی نبی کو روزی دیتا ہے پھر اس کو اٹھالیتا ہے تو وہ روزی اس کے بعد آنے والے نائب کے لیے ہوتی ہے۔ پس جب میں والی بنا تو میں نے خیال کیا کہ اس روزی کو مسلمانوں پر واپس لوٹا دوں۔ حضرت فاطمہ (رض) نے عرض کیا : آپ اور جو آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا میں جانتی ہوں یہ کہہ کر آپ (رض) واپس تشریف لے گئیں۔ مسند احمد ، مسلم، ابوداؤد، ابن جریر، السنن للبیہقی
(14071 -) عن أبي الطفيل قال : جاءت فاطمة إلى أبي بكر الصديق فقالت : يا خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم ، أنت ورثت رسول الله صلى الله عليه وسلم أم أهله ؟ قال : لا بل أهله ، قالت : فما بال الخمس ؟ فقال : إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : إذا أطعم الله نبيا طعمة ، ثم قبضه ، كانت للذي يلى بعده ، فلما وليت رأيت أن أرده على المسلمين ، قالت : فأنت وما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم أعلم ثم رجعت.

(حم م د وابن جرير هق)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৭২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14072 قاسم بن محمد سے مروی ہے کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو انصار حضرت سعد بن عبادۃ کے پاس اکٹھے ہوئے۔ پھر ان کے پاس حضرات ابوبکر، عمر اور ابو عبیدۃ بن الجراح (رض) (مہاجرین صحابہ) تشریف لائے۔ پھر حبان بن المنذر جو بدری (اور انصاری) صحابی تھے اٹھ کر کھڑے ہوئے اور بولے : ایک امیر ہم (انصار) میں سے ہوگا اور ایک امیر تم (مہاجرین) میں سے ہوگا۔ اے جماعت (مہاجرین ! ) ہم ہرگز اس بوجھ کو تنہا تمہارے کاندھوں پر نہیں چھوڑیں گے۔ کیونکہ ہمیں خوف ہے کہ سلطنت کے بڑے ایسے لوگ نہ بن جائیں ہم نے جن کے باپوں اور بھائیوں کو تہ تیغ کیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو فرمایا : اگر یہ بات ہے تو تو مرجا اگر تجھ سے ہو سکے۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا : ہم امراء ہوں گے اور تم ہمارے وزراء ہوں گے۔ اور یہ سلطنت ہمارے اور تمہارے درمیان نصف ہوئی جس طرح کھجور کے پتے کو درمیان سے دو مساوی حصوں میں توڑا جائے تو وہ بالکل آدھا آدھا ہوجاتا ہے۔

چنانچہ سب سے پہلے حضرت ابوالنعمان بشیر بن سعد نے آپ (رض) کی بیعت کی (اور پھر عام بیعت ہوئی) جب لوگ حضرت ابوبکر (رض) کے پاس اکٹھے ہوئے تو آپ نے لوگوں کے درمیان مال تقسیم کیا۔ اور بنی عدی بن النجار کی ایک بڑھیا کو اس کا حصہ حضرت زید بن ثابت (رض) کے ہاتھوں بھیجا۔ بڑھیا نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ زید (رض) نے فرمایا : حصہ ہے عورتوں کا، حضرت ابوبکر (رض) نے بھیجا ہے۔ بڑھیا بولی ! کیا تم مجھے میرے دین میں رشوت دے رہے ہو۔ حاضرین نے کہا : ہرگز نہیں، بڑھیا بولی : پھر تم کیا اس بات سے خوفزدہ ہو کہ میں اپنے موقف سے پیچھے جاؤں گی ؟ لوگوں نے کہا : نہیں۔ بڑھیا بولی : اللہ کی قسم ! میں ہرگز اس سے کچھ نہیں لوں گی۔ حضرت زید (رض) حضرت ابوبکر (رض) کے پاس واپس آئے اور بڑھیا کی بات کہہ سنائی۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اور ہم بھی جو اس کو دے چکے ہیں ہرگز کبھی بھی واپس نہیں لیں گے۔ ابن سعد، ابن جریر
14072- عن القاسم بن محمد أن النبي صلى الله عليه وسلم لما توفي اجتمعت الأنصار إلى سعد بن عبادة، فأتاهم أبو بكر وعمر وأبو عبيدة بن الجراح فقام حباب بن المنذر، وكان بدريا فقال: منا أمير ومنكم أمير، فإنا والله ما ننفسهذا الأمر عليكم أيها الرهط، ولكنا نخاف أن يليه أقوام قتلنا آباءهم وإخوتهم، فقال له عمر إذا كان ذلك فمت إن استطعت فتكلم أبو بكر فقال: نحن الأمراء وأنتم الوزراء وهذا الأمر بيننا وبينكم نصفين كقد الأبلمةيعني الخوصة فبايع أول الناس بشير بن سعد أبو النعمان فلما اجتمع الناس على أبي بكر قسم بين الناسقسما فبعث إلى عجوز من بني عدي بن النجار [قسمها] مع زيد بن ثابت فقالت: ما هذا؟ قال: قسم قسمه أبو بكر للنساء، فقالت أتراشونيعن ديني؟ فقالوا: لا؛ فقالت: أتخافون أن أدع ما أنا عليه؟ فقالوا: لا؛ فقالت: والله لا آخذ منه شيئا أبدا؛ فرجع زيد إلى أبي بكر فأخبره بما قالت، فقال أبو بكر: ونحن لا نأخذ مما أعطيناها شيئا أبدا. "ابن سعد وابن جرير"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৭৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14073 عروہ (رح) سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) کو والی بنایا گیا تو انھوں نے خطبہ دیا ۔ پہلے اللہ کی حمدوثناء کی پھر ارشاد فرمایا :

اے لوگو ! مجھے تمہارا والی بنایا گیا ہے، لیکن میں کوئی تم سے بڑھ کر انسان نہیں ہوں۔ لیکن قرآن نازل ہوا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سنت کو رائج فرمایا ہم کو سکھایا اور ہم سیکھ گئے۔ پس تم بھی جان لو کہ عقل مندوں کا عقل مند صاحب تقویٰ ہے اور بیوقوفوں کا بیوقوف مبتلائے فسق وفجور ہے۔ تمہارا طاقت ور شخص میرے نزدیک کمزور ہے جب تک میں اس سے حق وصول نہ کرلوں، تمہارا کمزور میرے نزدیک طاقت ور ہے جب تک میں اس کو حق نہ دلوادوں۔ اے لوگو ! میں محض اتباع کرنے والا ہوں نئی راہ ایجاد کرنے والا نہیں ہوں۔ اگر میں اچھا کروں تو میری مدد کرو۔ اور اگر غلط راہ پر چلوں تو مجھے سیدھا کردو۔ بس میں اس پر اپنی بات موقوف کرتا ہوں اور اللہ سے اپنے لیے اور تمہارے لیے مغفرت مانگتا ہوں۔ ابن سعد، المحاملی فی امالیہ، الخطیب فی رواۃ مالک
14073- عن عروة قال: لما ولي أبو بكر خطب الناس، فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال: أما بعد أيها الناس قد وليت أمركم ولست بخيركم، ولكن نزل القرآن، وسن النبي صلى الله عليه وسلم السنن فعلمنا فعلمنا، اعلموا: أن أكيس الكيس [التقوى] ، وأن أحمق الحمق الفجور، وأن أقواكم عندي الضعيف حتى آخذ له بحقه، وأن أضعفكم عندي القوي حتى آخذ منه الحق؛ أيها الناس، إنما أنا متبع ولست بمبتدع؛ فإن أحسنت فأعينوني، وإن زغت فقوموني؛ أقول قولي هذا وأستغفر الله لي ولكم. "ابن سعد والمحاملي في أماليه خط في رواة مالك"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৭৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14074 عمیر بن اسحاق سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے شانے پر چادریں پڑی دیکھیں۔ آدمی نے عرض کیا : یہ کیا ہے ؟ آپ مجھے دیدیں میں آپ کا کام کردوں گا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : پرے رہو۔ مجھے تم اور ابن خطاب میرے اہل و عیال کی طرف سے دھوکا میں نہ ڈالو۔ ابن سعد، الزھد للامام احمد
14074- عن عمير بن إسحاق أن رجلا رأى على عنق أبي بكر الصديق عباءة، فقال: ما هذا؟ هاتها أكفيكها، فقال: إليك عني لا تغرني أنت وابن الخطاب من عيالي. "ابن سعد حم في الزهد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৭৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14075 حمید بن ہلال سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو جب خلیفہ بنایا گیا تو وہ اپنے کاندھے پر چادریں اٹھائے ہوئے بازار کو نکلے اور ارشاد فرمایا : مجھے میرے عیال سے دھوکا میں مبتلا نہ کرو۔ ابن سعد
14075- عن حميد بن هلال أن أبا بكر لما استخلف راح إلى السوق يحمل أبراداله وقال: لا تغروني من عيالي. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৭৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14076 حمید بن ھلال سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) کو حاکم بنایا گیا تو اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : خلیفہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اپنا وظیفہ مقرر کردو جو اس کے لیے کافی ہو۔

لوگوں نے کہا : ٹھیک ہے دو چادریں پہننے کے لیے جب وہ پرانی ہوجائیں تو ان کو دے کر دوسری لے لیں۔ اور سواری کا جانور جب وہ سفر کریں اور ان کے اہل و عیال کا نفقہ اسی طرح خلیفہ بننے سے چلتا تھا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : میں راضی ہوں۔ ابن سعد
14076- عن حميد بن هلال قال: لما ولي أبو بكر قال أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: أفرضوالخليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم ما يغنيه، قالوا: نعم برداه إن أخلقهما وضعهما وأخذ مثلهما وظهره إذا سافر ونفقته على أهله كما كان ينفق قبل أن يستخلف، قال أبو بكر: رضيت. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৭৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14077 ابن عمر (رض) ، عائشہ (رض) ، سعید بن المسیب (رح) ، صحیۃ الیتمی (رح) اور ابو وجزۃ کے والد (رح) وغیرہ حضرات سے مروی ہے اور ان سب حضرات کی گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ :

حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وافت بروز پیر بارہ ربیع الاول سن گیارہ ہجری کو ہوئی۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر (رض) کی (خلافت پر) بیعت کی گئی۔ آپ (رض) کا گھر سخ (مدینہ کے مضافات میں ایک مقام) پر تھا۔ جہاں قبیلہ بنی حارث بن خزرج کی آپ کی بیوی حبیبہ بنت خارجہ بن زید بن ابی زہیر رہا کرتی تھیں۔

آپ (رض) نے اس کو کھجور کی شاخوں سے ایک حجرہ بنا کر دے رکھا تھا۔ اس گھر میں مزید کچھ اضافہ نہ ہوا تھا کہ آپ (رض) مدینہ منتقل ہوگئے۔ لیکن اس سے قبل اور خلافت کے بعد آپ (رض) چھ ماہ سخ میں قیام پذیر رہے۔ اس دوران آپ (رض) ہر صبح پیدال مدینے تشریف لے جاتے تھے۔ کبھی کبھار اپنے گھوڑے پر بھی چلے جاتے تھے۔ آپ کے جسم پر ایک ازار اور ایک رنگی ہوئی چادر ہوتی تھی۔ آپ (رض) مدینہ جاکر لوگوں کو نماز پڑھاتے : پھر عشاء کی نماز پڑھا کر سخ واپس چلے جاتے تھے۔ جب آپ مدینہ میں حاضر ہوجاتے تو آپ ہی نماز پڑھاتے تھے ورنہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نماز پڑھاتے تھے ۔ جمعہ کے دن آپ شروع دن میں گھر پہنچ جاتے اور لوگوں کو جمعہ پڑھاتے تھے۔ آپ (رض) تجارت پیشہ تھے۔ اس لیے آپ ہر روز صبح کو بازار جاتے اور خریدو فروخت کرتے۔ اسی طرح آپ (رض) کا بکریوں کا ایک ریوڑ تھا۔ آپ شاک کو اسے دیکھنے جاتے تھے اور کبھی کبھار خود بھی بکریوں کو لے کر چرانے نکل جاتے تھے۔ ورنہ اکثر اوقات آپ کی بکریاں کوئی اور چراتا تھا۔ آپ (رض) ایک خاندان کی بکریوں کا دودھ بھی دوہا کرتے تھے۔ جب آپ (رض) کی بیعت کرلی گئی تو اس خاندان کی ایک بچی نے کہا : اب تو شاید ہماری بکریوں کا دودھ نہیں نکلا کرے گا۔ یہ بات حضرت ابوبکر (رض) نے سن لی تو آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : نہیں بلکہ میری عمر کی قسم ! میں ان کے لیے دودھ دوہوں گا۔ اور مجھے امید ہے کہ میرا یہ نیا کام پرانے کاموں پر اثر انداز نہ ہوگا۔ چنانچہ آپ (رض) پھر بھی ان کے لیے دودھ نکالتے رہے۔ بسا اوقات آپ اس گھرانے کی بچی کو کہتے : تجھے اونٹ کی آواز نکال کر دکھاؤں یا مرغے کی آواز نکال کر دکھاؤں۔ تو وہ جو کہتی آپ اس کو سناتے۔ آپ نے (اسی طرح لوگوں میں گم ہو کر) چھ ماہ بتادیئے۔ پھر آپ مستقل مدینہ آکر رہنے لگے۔ اور نظام حکومت کو مستقل دیکھنے لگے۔ تب آپ (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! لوگوں کی فلاح کے لیے مجھے اپنی تجارت چھوڑنا پڑے گی۔ ان کے لیے (اپنے دوسرے کام کاج سے) فارغ ہونا ضروری ہے۔ اور مستقل ان کی اصلاح و فلاح میں لگنے کی ضرورت ہے، لیکن اپنے اہل خانہ کے لیے بھی معاشی گزر بسر کا انتظام لازمی ہے۔ تب آپ (رض) نے تجارت ترک فرمادی اور آپ (رض) مسلمانوں کے بیت المال میں سے اپنے اہل خانہ کا خرچ لینے لگے۔ آپ (رض) (بیت المال سے) حج اور عمرہ بھی فرماتے۔ صحابہ کرام نے آپ کے لیے سالانہ چھ ہزار درہم مقرر فرمادیئے تھے۔ جب آپ (رض) کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ (رض) نے وصیت کی کہ ہمارے پاس جو بیت المال کا مال ہے وہ لوٹا دو ۔ کیونکہ میں اس مال میں سے کچھ بھی لینا نہیں چاہتا۔ اور میری فلاں فلاں جگہ والی جائیداد مسلمانوں کے لیے ہے اس مال کے بدلے جو میں نے بیت المال میں سے لیا ہے۔ چنانچہ آپ (رض) نے وہ اموال، دودھ والی اونٹنی، ایک غلام اور پانچ درہم کی قیمت کی ایک چادر حضرت عمر (رض) کو واپس بھجوادی۔

حضرت صدیق اکبر (رض) کی اپنے والد سے ملاقات

حضرت عمر (رض) نے فرمایا : انھوں نے اپنے بعد والوں کو سخت مشقت میں ڈال دیا۔ راوی حضرات کہتے ہیں : سن گیارہ ہجری کو حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو امیر حج بنا کر بھیجا تھا۔ پھر بارہ ہجری ماہ رجب میں حضرت ابوبکر (رض) نے عمرہ ادا کیا۔ چاشت کے وقت مکہ میں داخل ہوئے۔ وہہاں اپنے گھر میں تشریف لائے جہاں آپ کے والد حضرت ابوقحافہ (رض) (انتہائی ضعیف العمر) اپنے دروازے پر بیٹھے تھے اور ان کے ساتھ کم سن لڑکے بیٹھے تھے جن کو وہ باتیں سنا رہے تھے۔ ان کو کسی نے بتایا کہ یہ آپ کا بیٹا آیا ہے۔ یہ سن کر وہ (خوشی سے) کھڑے ہونے لگے۔ جبکہ حضرت ابوبکر (رض) جو ابھی سواری پر تھے جلدی جلدی سواری سے اترنے لگے اور ابھی اونٹنی بیٹھی بھی نہ تھی آپ (رض) اوپر سے کود آئے اور اپنے باپ کو آواز دینے لگے : ابا جان ! آپ کھڑے نہ ہوں۔ پھر دونوں باپ بیٹے بغل گیر ہوئے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے اپن باپ کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ ابوقحافہ (رض) اپنے بیٹے کی آمد کی خوشی میں روپڑے۔ مکہ کی طرف عتاب بن اسید، سہیل بن عمرو، عکرمہ بن ابی جھل اور حارث بن ہشام (سرداران قوم) بھی آگئے تھے۔ انھوں نے آپ (رض) کو سلام کیا سلام علیکم اے خلیفہ رسول اللہ ! پھر سب نے آپ (رض) کے ساتھ مصافحہ کیا۔ جب ان کے آپس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (کی یادوں) کا ذکر ہوا تو حضرت ابوبکر (رض) رونے لگے۔ پھر آنے والے معززین نے حضرت ابی قحافہ (رض) کے سلام کی دعا کی۔ حضرت ابوقحافہ (رض) نے اپنے بیٹے کو فرمایا : اے عتیق (ابوبکر (رض) کا لقب ! ) ان سرداروں کے ساتھ اچھی صحبت رکھا کر۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اباجان ! اللہ کی مدد کے بغیر نہ بدی سے اجتناب ممکن ہے اور نہ ہی کوئی نیکی اس کی مدد کے بغیر پوری ہوسکتی ہے۔ مجھے ایک عظیم ذمہ داری گلے کا ہار بنادی گئی ہے جس کے اٹھانے کی مجھ میں قوت نہیں ہے۔ اور نہ اللہ کے بغیر کچھ توفیق ممکن ہے۔

پھر حضرت ابوبکر (رض) گھر میں داخل ہوئے۔ غسل کیا اور نکلے۔ آپ کے پیچھے آپ کے اصحاب بھی چلنے لگے۔ آپ (رض) نے فرمایا : اپنے اپنے راستے چلو۔ لوگ آ آ کر بالمشافہ آپ (رض) سے ملتے رہے اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات پر بھی تعزیت کا اظہار کرتے رہے۔ جس کو سن سن کر حضرت ابوبکر (رض) رونے لگے۔ حتیٰ کہ آپ (رض) بیت اللہ شریف پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے اپنی چادر کا اضطباع کیا (الٹا کر زیب تن کی) ۔ پھر رکن (یمانی) کا استلام کیا (بوسہ لیا) پھر سات چکر کعبۃ اللہ کے گرد کاٹے اور دوگانہ نماز ادا کی۔ پھر واپس اپنے گھر چلے گئے۔ جب ظہر کا وقت ہوا تو پھر نکلے اور بیت اللہ کا طواف کیا پھر قریب ہی دارالندوہ کے بیٹھ گئے اور اعلان کیا : کوئی ہے جس کو کسی ظلم کی شکایت کرنا ہو یا کسی کو اپنے حق کا مطالبہ کرنا ہو۔ لیکن پھر کوئی نہ آیا بلکہ لوگوں نے (امن وامان کے حوالے سے) اپنے والی کی بھلائی اور تعریف بیان کی۔ پھر آپ (رض) نے نماز عصر ادا کی اور بیٹھ گئے پھر لوگ آپ سے الوداع ہوئے اور آپ (رض) مدینے کی طرف کوچ کرنے نکل پڑے۔ پھر جب اسی سال یعنی بارہ ہجری کو حج کا وقت آیا تو حضرت ابوبکر (رض) نے خود لوگوں کو حج کروایا اور حج افراد (بغیر عمرے کے) ادا کیا جبکہ مدینہ پر آپ حضرت عثمان (رض) کو خلیفہ بنا آئے تھے۔ ابن سعد

امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں : یہ اچھی روایت ہے اس کے متعدد شواہد مزید ہیں اور اس کی مثل روایت قبول عام پاتی ہے اور لوگ اس کو قبول کرتے ہیں۔
14077- عن ابن عمر وعائشة وسعيد بن المسيب وصبيحة التيمي ووالد أبي وجزة وغير هؤلاء دخل حديث بعضهم في بعض قالوا: بويع أبو بكر الصديق يوم قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الاثنين لاثنتي عشرة ليلة خلت من شهر ربيع الأول سنة إحدى عشرة من مهاجر رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان منزله بالسنحعند زوجته حبيبة بنت خارجة ابن زيد بن أبي زهير من بني الحارث بن الخزرج، وكان قد حجرعليه حجرة من سعففما زاد على ذلك حتى تحول إلى منزله بالمدينة، فأقام هناك بالسنح بعد ما بويع له ستة أشهر يغدو على رجليه إلى المدينة، وربما ركب على فرس له وعليه إزار ورداء ممشقفيوافي المدينة فيصلي الصلوات بالناس، فإذا صلى العشاء رجع إلى أهله بالسنح، فكان إذا حضر صلى بالناس وإذا لم يحضر صلى بهم عمر بن الخطاب، وكان يقيم يوم الجمعة في صدر النهار بالسنح يصبغ لحيته ورأسه ثم يروح لقدر الجمعة فيجمع بالناس، وكان رجلا تاجرا، فكان يغدو كل يوم السوق فيبيع ويبتاع وكانت له قطعة غنم يروحعليها وربما خرج هو بنفسه فيها، وربما كفيها فرعيت له، وكان يحلب للحي أغنامهم، فلما بويع له بالخلافة، قالت جارية من الحي: الآن لا تحلب لنا منائح دارنا؛ فسمعها أبو بكر، فقال: بلى لعمري لأحلبنها لكم، وإني لأرجو أن لا يغيرني ما دخلت فيه عن خلق كنت عليه؛ فكان يحلب لهم فربما قال للجارية من الحي يا جارية أتحبين أن أرغي لك أو أصرح؛ فربما قالت: أرغ وربما قالت: صرح فأي ذلك قالت: فعل؛ فمكث كذلك بالسنح ستة أشهر، ثم نزل بالمدينة، فأقام بها ونظر في أمره فقال: لا والله ما يصلح أمر الناس التجارة وما يصلح لهم إلا التفرغ والنظر في شأنهم وما بد لعيالي مما يصلحهم، فترك التجارة واستنفق من مال المسلمين ما يصلحه ويصلح عياله يوما بيوم ويحج ويعتمر، وكان الذي فرضوا له في كل سنة ستة آلاف درهم فلما حضرته الوفاة قال: ردوا ما عندنا من مال المسلمين؛ فإني لا أصيب من هذا المال شيئا وإن أرضي التي بمكان كذا وكذا للمسلمين بما أصبت من أموالهم؛ فدفع ذلك إلى عمر ولقوحاوعبدا صيقلا وقطيفة ما تساوي خمسة دراهم. فقال عمر: لقد أتعب من بعده، قالوا: واستعمل أبو بكر على الحج سنة إحدى عشرة عمر بن الخطاب ثم اعتمر أبو بكر في رجب سنة اثنتي عشرة، فدخل مكة ضحوة فأتى منزله وأبو قحافة جالس على باب داره ومعه فتيان أحداث يحدثهم إلى أن قيل له: هذا ابنك، فنهض قائما، وعجل أبو بكر أن ينيخ راحلته، فنزل عنها وهي قائمة فجعل يقول: يا أبت لا تقم، ثم لاقاه فالتزمه وقبل بين عيني أبي قحافة، وجعل الشيخ يبكي فرحا بقدومه، وجاؤوا إلى مكة عتاب بن أسيد وسهيل بن عمرو وعكرمة بن أبي جهل والحارث بن هشام فسلموا عليه، سلام عليك يا خليفة رسول الله، وصافحوه جميعا فجعل أبو بكر يبكي حين يذكرون رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم سلموا على أبي قحافةفقال أبو قحافة: يا عتيق هؤلاء الملأ فأحسن صحبتهم، فقال أبو بكر: يا أبت لا حول ولا قوة إلا بالله طوقت أمرا عظيما من الأمر لا قوة لي به، ولا يدان إلا بالله، ثم دخل فاغتسل وخرج وتبعه أصحابه فنحاهم، ثم قال: امشوا على رسلكم ولقيه الناس يتمشون في وجهه ويعزونه بنبي الله صلى الله عليه وسلم، وهو يبكي، حتى انتهى إلى البيت، فاضطبعبردائه، ثم استلم الركن ثم طاف سبعا وركع ركعتين، ثم انصرف إلى منزله، فلما كان الظهر خرج فطاف أيضا بالبيت، ثم جلس قريبا من دار الندوة، فقال: هل من أحد يشتكي من ظلامةأو يطلب حقا، فما أتاه أحد وأثنى الناس على واليهم خيرا، ثم صلى العصر، وجلس فودعه الناس، ثم خرج راجعا إلى المدينة، فلما كان وقت الحج سنة اثنتي عشرة حج أبو بكر بالناس تلك السنة وأفرد الحج واستخلف على المدينة عثمان بن عفان. "ابن سعد" قال ابن كثير: هذا سياق حسن وله شواهد من وجوه أخر ومثل هذا تقبله النفوس وتتلقاه بالقبول
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৭৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14078 حبان الصائغ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی انگوٹھی پر یہ نقش تھا : نعم القادر اللہ اللہ بہترین قدرت والا ہے۔ ابن سعد، الحیلی فی الدیباج، ابونعیم فی المعرفۃ
14078- عن حبان الصائغ قال: كان نقش حاتم أبي بكر نعم القادر الله. "ابن سعد والحبلى في الديباج وأبو نعيم في المعرفة"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪০৭৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14079 ابوسعید الخدری (رض) سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو انصار کے خطباء کھڑے ہوئے اور ان میں سے ایک آدمی کہنے لگا : اے گروہ مہاجرین ! رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب تم میں سے کسی آدمی کو امارت کی کوئی ذمہ داری سونپتے تھے تو اس کے ساتھ ایک آدمی ہمارا بھی ملا دیتے تھے۔ لہٰذا ہمارا خیال ہے کہ اب امارت کے بھی دو آدمی والی بنیں ایک تم میں سے اور ایک ہم میں سے۔ چنانچہ انصار کے دوسرے مقررین بھی اسی بات کا اصرار کرنے لگے۔ پھر حضرت زید بن ثابت (جو انصاری صحابی ہی تھے) کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مہاجرین میں سے تھے اور امام بھی مہاجرین میں سے ہوگا اور ہم اس کے مددگار بنیں گے ۔ جس طرح ہم پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے (انصار) مددگار تھے۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) کھڑے ہوئے اور فرمایا : جزاکم اللہ یا معشر الانصار خیر اوثبت قائلکم، اے گروہ انصار اللہ تم کو اچھا بدلہ عطا فرمائے اور تمہارے کہنے والے کو ثابت قدم رکھے۔ پھر آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : اگر تم اس کے علاوہ کوئی کام کرو گے (مثلاً دو امیروں والی بات) تو ہم ہرگز تمہارے ساتھ صلح نہ کریں گے۔ پھر حضرت زید بن ثابت (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) کا ہاتھ پکڑ کر لوگوں کو ارشاد فرمایا : یہ تمہارے ساتھ ہیں ان کی بیعت کرلو۔ پھر لوگ چل پڑے۔ اور حضرت ابوبکر (رض) نے منبر پر بیٹھ کر لوگوں کے چہروں کی طرف دیکھا لیکن۔ ان بیعت کرنے والوں میں حضرت علی (رض) نظر نہ آئے۔ ان کے متعلق پوچھا تو انصاری حضرات جاکر ان کو لے آئے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا کے بیٹے اور ان کے داماد ! کیا تم مسلمانوں کی۔ بنی ہوئی لاٹھی کو توڑنا چاہتے ہو۔ جو بیعت کرنے نہیں آئے حضرت علی (رض) نے فرمایا : اے خلیفہ رسول اللہ ! بیعت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ چنانچہ حضرت علی (رض) نے بھی آپ کی بیعت کرلی۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) کو زبیر بن العوام بھی نظر نہ آئے۔ ان کے متعلق پوچھا تو لوگ ان کو بھی لے آئے۔ ابوبکر (رض) نے ان کو فرمایا : اے رسول اللہ کی پھوپھی کے بیٹے ! اے رسول اللہ کے حواری۔ ساتھی کیا تو مسلمانوں کی لاٹھی توڑنا چاہتا ہے ؟ انھوں نے بھی حضرت علی (رض) کے مثل جواب دیا کہ کوئی حرج نہیں۔ بیعت میں پھر انھوں نے بھی بیعت کرلی۔

ابوداؤد، ابن سعد، مصنف ابن ابی شیبہ، ابن جریر، السنن للبیہقی، مستدرک الحاکم، ابن عساکر
14079- عن أبي سعيد الخدري قال: لما توفي رسول الله قام خطباء الأنصار، فجعل الرجل منهم يقول: يا معشر المهاجرين إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا استعمل رجلا منكم قرن معه رجلا منا فنرى أن يلي هذا الأمر رجلان أحدهما منكم والآخر منا، فتتابعت خطباء الأنصار على ذلك، فقام زيد بن ثابت فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان من المهاجرين، وإن الإمام يكون من المهاجرين ونحن أنصاره، كما كنا أنصار رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقام أبو بكر فقال: جزاكم الله يا معشر الأنصار خيرا، وثبت قائلكم، ثم قال: أما والله لو فعلتم غير ذلك لما صالحناكم، ثم أخذ زيد بن ثابت بيد أبي بكر فقال: هذا صاحبكم فبايعوه، ثم انطلقوا، فلما قعد أبو بكر على المنبر نظر في وجوه القوم، فلم ير عليا فسأل عنه فقام الناس من الأنصار، فأتوا به فقال أبو بكر: ابن عم رسول الله صلى الله عليه وسلم وختنه أردت أن تشق عصا المسلمين فقال: لا تثريب يا خليفة رسول الله فبايعه، ثم لم ير الزبير بن العوام فسأل عنه حتى جاؤوا به فقال: ابن عمة رسول الله صلى الله عليه وسلم وحواريه أردت أن تشق عصا المسلمين فقال مثل قوله: لا تثريب يا خليفة رسول الله فبايعاه. "ط وابن سعد ش وابن جرير ق ك كر"
tahqiq

তাহকীক: