কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৫ টি

হাদীস নং: ১৪১০০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14100 محمد بن ابراہیم بن الحارث الیتمی سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) نے خالد بن سعید کو معزول فرمایا تو ان کے متعلق شرحبیل بن حسنہ کو وصیت فرمائی۔ شرحبیل بن حسنہ بھی امراء میں سے تھے (اور کسی لشکر پر امیر تھے) حضرت ابوبکر (رض) نے شرحبیل کو فرمایا : خالد بن سعید کا خیال رکھنا۔ اپنی ذات پر ان کا حق یاد رکھنا ، جس طرح تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارا حق یاد رکھیں۔ اگرچہ اب وہ تم پر والی (حاکم) نہیں رہے ہیں۔ لیکن تم اسلام میں ان کا رتبہ جانتے ہو، نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوا تو خالد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے امیر (وگورنر) مقرر تھے۔ پھر میں نے بھی ان کو امیر مقرر کردیا تھا ، لیکن مجھے ان کو معزول کرنا زیادہ بہتر محسوس ہوا، امید ہے کہ یہی ان کے لیے ان کے دین کے حوالے سے بہتر ہوگا۔ میں جب بھی کسی کو امارت (حکمرانی) کے حوالے سے قابل رشک سمجھتا ہوں تو اس کو لشکروں کے امیر میں چن لیتا ہوں۔ پس (اے شرحبیل ! ) میں تم کو (خالد پر) اور اس کے ابن العم (اور دوسرے لوگوں) پرامیر مقرر کرتا ہوں، جب تم کو کوئی ایسا مسئلہ درپیش ہو، جس میں تم کو کسی پرہیزگار خیرخواہ کا مشورہ اور اس کی ضرورت محسوس ہو تو سب سے پہلے ابوعبیدۃ بن الجراح پھر معاذ بن جبل اور پھر خالد بن سعید کو تلاش کرنا۔ بیشک تم کو ان کے پاس نصیحت اور خیر خواہی ملے گی۔ اور ہاں ان لوگوں پر اپنی رائے مسلط کرنے سے گریز کرنا اور ان سے کسی طرح کی خبر چھپانے کی غلطی بھی نہ کرنا۔ ابن سعد
14100- عن محمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي قال: لما عزل أبو بكر خالد بن سعيد أوصي شرحبيل بن حسنة وكان أحد الأمراء، قال: انظر خالد بن سعيد فاعرف له من الحق عليك مثل ما كنت تحب أن يعرفه لك من الحق عليه، ولو خرج واليا عليك وقد عرفت مكانه من الإسلام وأن رسول الله صلى الله عليه وسلم توفي وهو له وال، وقد كنت وليته ثم رأيت عزله، وعسى أن يكون ذلك خيرا له في دينه ما أغبط أحدا بالإمارة وقد خيرته في امراء الأجناد فاختارك على غيرك وعلى ابن عمه فإذا نزل بك أمر يحتاج فيه إلى رأي التقي الناصح فليكن أول من تبدأ به أبو عبيدة بن الجراح ومعاذ بن جبل وليكن ثالثا خالد بن سعيد فإنك واجد عندهم نصحا وخيرا، وإياك واستبداد الرأي عنهم أو تطوي عنهم بعض الخبر. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১০১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14101 ابوجعفر سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ (رض) حضرت ابوبکر (رض) کے پاس اپنی میراث مانگنے آئیں، عباس بن عبدالمطلب (رض) بھی اپنی میراث مانگنے آئے، دونوں کے ساتھ حضرت علی (رض) بھی تشریف لائے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : ہم کسی کو وارث نہیں بناتے۔ ہم جو چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اہل و عیال بھی ہے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا (اللہ کا فرمان ہے) وورث سلیسان داؤد سلیمان داؤد کے وارث بنے۔ اور زکریا (کے متعلق فرمان الٰہی ہے انہوں) نے فرمایا یمرثنی ویرث من آل یعقوب مجھے ایسی اولاد یجئے جو میری وارث بنے اور وارث بنے آل یعقوب کی۔ حضرت ابوبکر (رض) نے جواباً ارشاد فرمایا : یہ حقیقت ہے ، اور اللہ کی قسم ! تم بھی بخوبی جانتے ہو جو میں جانتا ہوں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : بس یہ الہل کی کتاب ہے جو بول رہی ہے۔ پھر یہ حضرات خاموشی سے واپس چلے گئے۔ ابن سعد
14101- عن أبي جعفر قال: جاءت فاطمة إلى أبي بكر تطلب ميراثها وجاء العباس بن عبد المطلب يطلب ميراثه وجاء معهما علي، فقال أبو بكر: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا نورث، ما تركناه صدقة [وما] كان النبي يعول، فقال علي: ورث سليمان داود وقال زكريا: يرثني ويرث من آل يعقوب، قال أبو بكر: هو هكذا، وأنت والله تعلم مثل ما أعلم، فقال علي: هذا كتاب الله ينطق فسكتوا وانصرفوا. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১০২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14102 حضرت ابوسعیدخدری (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) کے پاس بحرین سے مال آیا تو میں نے مدینہ میں ابوبکر (رض) کے منادی کو یہ اعلان کرتے سنا : جس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی زندگی میں مال دینے کا وعدہ فرما گئے ہوں وہ آجائے۔ چنانچہ یہ اعلان سن کر کئی لوگ حضرت ابوبکر (رض) کے پاس پہنچ گئے ۔ حضرت ابوبکر (رض) نے ان کو مال دیا۔ پھر ابو بشیر (رض) بھی حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا تھا : اے ابوبشیر ! جب ہمارے پاس مال آئے تو تم آجانا۔ چنانچہ حضرت ابوبکر (رض) نے ان کو دو یا تین پیالے بھر کردرہم دیئے۔ ابوبشیر نے ان کو شمار کیا تو وہ چودہ سو درہم نکلے۔ ابن سعد
14102- عن أبي سعيد الخدري قال: سمعت منادي أبي بكر ينادي بالمدينة حين قدم عليه مال البحرين: من كانت له عدة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فليأت فيأتيه رجال فيعطيهم فجاء أبو بشير المازني فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لي: يا أبا بشير إذا جاءنا شيء فائتنا فأعطاه أبو بكر حفنتين أو ثلاثا فوجدها ألفا وأربع مائة [درهم] . "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১০৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14103 جابر (رض) بن عبداللہ سے مروی ہے کہ مجھے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تھا : اگر (میرے پاس) بحرین سے مال آیا تو میں تجھے اتنا اتنا اور اتنا عطا کروں گا۔ لیکن پھر بحرین سے مال نہ آیا حتیٰ کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی۔ پھر ابوبکر (رض) کے دور خلافت میں ان کے پاس بحرین سے مال آیا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : جس کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی وعدہ کیا ہو وہ آجائے۔ جابر (رض) کہتے ہیں : میں نے کہا : مجھ سے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وعدہ فرمایا تھا کہ جب میرے پاس بحرین سے مال آئے گا تو مجھے اتنا اتنا اور اتنا عطا فرمائیں گے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : پھر لو۔ چنانچہ میں نے پہلی مرتبہ (مٹھی بھر کر) لیا تو وہ پانچ سو درہم نکلے پھر میں نے دو مرتبہ اور اتنا ہی لے لیا۔ ابن سعد، مصنف ابن ابی شیبہ، البخاری، مسلم
14103- عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو قدم مال البحرين لأعطيتك هكذا وهكذا وهكذا، فلم يقدم حتى مات رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما قدم به على أبي بكر قال: من كانت له عدة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فليأت قلت: قد وعدني إذا جاء مال البحرين أن يعطيني هكذا وهكذا وهكذا، قال: خذ فأخذت أول مرة فكانت خمس مائة ثم أخذت الثنتين. "ابن سعد ش خ م"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১০৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14104 حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قرض کو ادا کیا اور حضرت ابوبکر (رض) نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وعدے پورے فرمائے۔ ابن سعد
14104- عن جابر قال: قضى علي بن أبي طالب دين رسول الله، صلى الله عليه وسلم وقضى أبو بكر عداته. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১০৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14105 قاسم (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق کو جب کوئی مسئلہ درپیش آتا جس میں ان کو اہل رائے اور اہل فقہ کے مشوروں کی ضرورت محسوس ہوتی تو آپ (رض) مہاجرین و انصار کے لوگوں کو بلاتے جن میں خاص طور پر عمر، عثمان، علی، عبدالرحمن بن عوف ، معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور زید بن ثابت (رض) ضرور شامل ہوتے۔ یہ سب حضرات خلافت صدیق میں فتوی جاری فرماتے تھے۔ لوگوں کے فتاویٰ انہی کے پاس آتے تھے۔ حضرت ابوبکر (رض) کا یہی معمول اپنی خلافت میں رہا۔ پھر حضرت عمر (رض) خلیفہ بنے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی مذکورہ افراد کو بلاتے تھے اور ان کے دور میں فتویٰ کا منصب عثمان، ابی اور زید (رض) کے سپرد تھا۔ ابن سعد
14105- عن القاسم أن أبا بكر الصديق كان إذا نزل به أمر يريد فيه مشاورة أهل الرأي وأهل الفقه دعا رجالا من المهاجرين والأنصار ودعا عمر وعثمان وعليا وعبد الرحمن بن عوف ومعاذ بن جبل وأبي بن كعب وزيد بن ثابت، وكل هؤلاء كان يفتي في خلافة أبي بكر وإنما تصير فتوى الناس إلى هؤلاء فمضى أبو بكر على ذلك، ثم ولي عمر فكان يدعو هؤلاء النفر وكانت الفتوى تصير وهو خليفة إلى عثمان وأبي وزيد. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১০৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14106 مسور (رح) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عثمان (رض) کو فرماتے ہوئے سنا : اے لوگو ! ابوبکروعمر اس مال سے خود کو اور اپنے رشتے داروں کو دور رکھتے تھے اور میں اس مال میں صلہ رحمی کرنے کو درست سمجھتا ہوں۔ ابن سعد
14106- عن المسور قال: سمعت عثمان يقول: يا أيها الناس إن أبا بكر وعمر كانا يتأولان في هذا المال ظلفأنفسهما وذوي أرحامهما وإني تأولت فيه صلة رحمى. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১০৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14107 زبیر بن المنذر بن ابی اسید الساعدی سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے سعد بن عبادۃ (رض) کو پیغام بھیجا کہ آؤ اور بیعت میں شامل ہوجاؤ۔ کیونکہ تمام لوگ اور آپ کی قوم والے بھی بیعت کرچکے ہیں۔ حضرت سعد (رض) نے جواب دیا : نہیں، اللہ کی قسم میں بیعت نہیں کروں گا جب تک کہ اپنے ترکش کے سارے تیر نہ آزمالوں اور اپنی قوم اور خاندان کے ساتھ مل کر تمہارے ساتھ جنگ کر کرلوں۔ یہ خبرحضرت ابوبکر (رض) کو ملی تو حضرت بشیر بن سعد (رض) نے فرمایا : اے خلیفہ رسول اللہ ! انھوں نے انکار کردیا ہے اور ہٹ دھرمی تک پہنچ گئے ہیں۔ وہ آپ کی بیعت ہرگز کرنے والے نہیں جب تک ان سے قتال نہ کیا جائے ، ان سے قتال کیا گیا تو ان کی اولاد اور ان کا خاوند بھی جنگ میں کود پڑے گا۔ پھر ان کا قبیلہ خزرج بھی پیچھے نہ رہے گا خزرج کا حلیف اوس ہے وہ بھی لازماً شریک جنگ ہوجائے گا۔ لہٰذا آپ سعد بن عبادۃ کو چھیڑیں ہی ناں۔ کیونکہ آپ کی حکومت مضبوط ہوچکی ہے وہ آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتے اور وہ اکیلے آدمی ہیں جو چھوڑ دیئے گئے ہیں۔

چنانچہ حضرت ابوبکر (رض) نے بشیر (رض) کی نصیحت کو قبول کیا اور سعد کو (ان کے حال پر) چھوڑ دیا۔

پھر جب حضرت عمر (رض) خلیفہ بنے تو سعد بن عبادہ (رض) ان کو ایک دن مدینے کے راستے میں برسراہ ملے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے سعد ! بولو ! سعد (رض) نے فرمایا : اے عمر ! تم بولو۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم ایسے شخص۔ ابوبکر (رض) کے ساتھی ہو جو ان کے ساتھی نہ بن سکے۔ حضرت سعد (رض) نے فرمایا : ہاں میں ایسا ہی ہوں ۔ اب حکومت کی باگ تمہارے ہاتھ میں آگئی ہے، حالانکہ اللہ کی قسم تمہارے پہلے ساتھی تم سے زیادہ ہم کو پسند تھے۔ اللہ کی قسم ہم تو تمہارے پڑوس کو بھی اچھا نہیں سمجھتے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جو شخص اپنے پڑوسی کے پڑوس کو اچھا نہیں سمجھتا وہاں سے منتقل ہوجاتا ہے۔ حضرت سعد (رض) بولے : میں بھی اس بات کو نہیں بھولوں گا اور تم کو چھوڑ کر تم سے اچھے پڑوسی کا پڑوس اختیار کروں گا۔

چنانچہ تھوڑا عرصہ بعد حضرت سعد (رض) خلافت عمر (رض) کے شروع میں ہجرت کرکے ملک شام (جہاد کی غرض سے) چلے گئے اور وہاں جو ران مقام پر انھوں نے وفات پائی۔ (رض) وارضاء عفاعلیہ۔

ابن سعد
14107- عن الزبير بن المنذر بن أبي أسيد الساعدي أن أبا بكر بعث إلى سعد بن عبادة أن أقبل فبايع، فقد بايع الناس وبايع قومك، فقال: لا والله لا أبايع حتى أراميكم بما في كنانتي وأقاتلكم بمن تبعني من قومي وعشيرتي، فلما جاء الخبر إلى أبي بكر قال بشير بن سعد: يا خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ إنه قد أبى ولجوليس بمبايعكم أو يقتل ولن يقتل حتى يقتل معه ولده وعشيرته ولن يقتلوا حتى تقتل الخزرج ولن تقتل الخزرج حتى تقتل الأوس فلا تحركوه، فقد استقام لكم الأمر فإنه ليس بضاركم إنما هو رجل وحده ما ترك، فقبل أبو بكر نصيحة بشير فترك سعدا، فلما ولي عمر لقيه ذات يوم في طريق المدينة فقال: ايهيا سعد فقال [سعد] : إيه يا عمر، فقال عمر: أنت صاحب ما أنت صاحبه فقال سعد: نعم أنا ذلك، وقد أفضي إليك هذا الأمر كان والله صاحبك أحب إلينا منك وقد أصبحت والله كارها لجوارك، فقال عمر: إنه من كره جوار جار تحول عنه فقال سعد: أما أني غير [مستنسئ] بذلك وأنا متحول إلى جوار من هو خير منك [قال] فلم يلبث إلا قليلا حتى خرج [مهاجرا] إلى الشام في أول خلافة عمر فمات بحوران"ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১০৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14108 ام ہانی بنت ابی طالب (رض) فرماتی ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت ابی طالب (رض) حضرت ابوبکر (رض) کے پاس ذوی القربیٰ ۔ رشتے داری کا حصہ مانگنے آئیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا : ذوی القربیٰ ۔ میرے رشتہ داروں کا حصہ میری زندگی تک ہے اور میری موت کے بعد نہیں۔ ابن راھویہ

کلام : روایت کی سند میں کلبی متروک (ناقابل اعتبار) راوی ہے۔

فائدہ : فرمان الٰہی ہے۔

واعلمو انما غنمتم من شیء فان للہ خمسہ وللرسول ولذی القربیٰ۔۔۔الخ

اور جان لو ! جو تم غنیمت حاصل کرو بیشک اللہ کے لیے اس کا پانچواں حصہ ہے اور رسول کے لیے اور رسول کے رشتے داروں کے لئے۔ الآیۃ
14108- عن أم هانئ بنت أبي طالب أن فاطمة أتت أبا بكر تسأله سهم ذوي القربى، فقال لها أبو بكر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سهم ذوي القربى لهم في حياتي وليس بعد موتي.

"ابن راهويه" وفيه الكلبي متروك.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১০৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14109 ابوالعفیف (رح) سے مروی ہے کہ میں حضرت ابوبکر (رض) کے پاس حاضر ہوا ۔ آپ (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد لوگوں سے بیعت لے رہے تھے۔ ایک جماعت اکٹھی ہو کر آپ (رض) کے پاس آئی۔ آپ (رض) نے ان کو فرمایا : میری بیعت کرو اللہ اور اس کی کتاب کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے پر۔ پھر آپ (جماعت کے) امیر کو یہی فرماتے پھر وہ اثبات میں ہاں کرتا تو آپ ان کو بیعت فرمالیتے۔ چنانچہ میں نے وہ شرط جان لی جس پر آپ لوگوں بےبیعت لیتے تھے۔ اس وقت میں ایک نوخیز لڑکا تھا جو بلوغت کے قریب پہنچا تھا۔ چنانچہ جب ایک جماعت آپ کے پاس سے اٹھی تو میں آپ کے پاس پہنچ گیا : میں نے عرض کیا : میں آپ کی بیعت کرتا ہوں اللہ اور اس کی کتاب کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے پر۔ آپ (رض) نے میری طرف نگاہ اٹھائی اور میری بات کو درست قرار دیا گویا میں نے آپ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا پھر آپ (رض) نے مجھے بیعت فرمالیا۔

الحارث ، ابن جریر، السنن للبیہقی
14109- عن أبي العفيف قال: شهدت أبا بكر الصديق وهو يبايع الناس بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فيجتمع إليه العصابة فيقول لهم: بايعوني على السمع والطاعة لله ولكتابه، ثم للأمير فيقول: نعم فيبايعهم فتعلمت شرطه الذي شرطه على الناس، وأنا يومئذ غلام محتلم أو نحوه فلما خلىمن عنده أتيته، فقلت أبايعك على السمع والطاعة للهولكتابه وللأمير، قال: فصعد فيالنظر وصوبه، فكأني أعجبته، ثم بايعني."الحارث وابن جرير ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১১০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14110 موسیٰ بن ابراہیم آل ربیعہ کے ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ ان کو یہ خبر ملی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) کو جب خلیفہ منتخب کرلیا گیا تو وہ اپنے گھر میں رنجیدہ وغمزدہ ہو کر بیٹھ گئے۔ حضرت عمر (رض) ان کے پاس تشریف لائے تو ابوبکر (رض) ان کو ملامت کرنے لگے اور فرمایا : تم نے مجھے اس کام کی مشقت میں ڈالا ہے ، میرے لیے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنا کتنا کٹھن ہے۔

حضرت عمر (رض) نے ان کو فرمایا : کیا آپ کو علم نہیں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : حاکم جب اجتہاد کرتا ہے اور درست فیصلہ کرتا ہے تو اس کو دہرا اجر ملتا ہے۔ اور اگر وہ اجتہاد کے نتیجے میں خطا کر بیٹھتا ہے تو اس کو ایک اجر ملتا ہے۔

گویا حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) کے لیے سہولت پیدا کردی۔

ابن راھویہ، فضانا الصحابۃ للخیثمۃ، شعب الایمان للبیہقی
14110- عن موسى بن إبراهيم عن رجل من آل ربيعة أنه بلغه أن أبا بكر حين استخلف قعد في بيته حزينا، فدخل عليه عمر فأقبل عليه يلومه وقال: أنت كلفتني هذا الأمر وشكا إليه الحكم بين الناس فقال له عمر: أو ما علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن الوالي إذا اجتهد فأصاب الحق فله أجران، وإن اجتهد فأخطأ الحق فله أجر واحد فكأنه سهل على أبي بكر. "ابن راهويه وخيثمة في فضائل الصحابة هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১১১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14111 عبداللہ (رض) بن عمرو بن العاص سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عمرو بن العاص (رض) کو لکھا :

تم پر سلام ہو ! مجھے تمہارا مراسلہ ملا، تم نے ان لشکروں کا لکھا تھا جو روم کی فتح میں تمہارے ساتھ مل گئے ہیں۔ یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے ساتھ جبکہ ہمارے پاس بڑا لشکر تھا ہماری مدد نہیں فرمائی ۔ جیسا کہ جنگ حنین میں ہوا اور ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوتے تھے ہمارے پاس صرف دو گھوڑے ہوتے تھے ۔ اور ہم میں سے ہر شخص کو اونٹ کی سواری بھی میسر نہ تھی جس کی وجہ سے ہم اونٹوں کے پیچھے پیچھے چلتے تھے۔ غزوہ احد میں ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے اور ہمارے پاس صرف ایک گھوڑا تھا جس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہوتے تھے۔ ایسی تنگی میں اللہ ہم کو غلبہ عطا فرماتا تھا اور ہمارے مخالفین پر ہماری مدد فرماتا تھا۔ پس اے عمرو ! جان لے اللہ کا سب سے زیادہ اطاعت گزار شخص وہ ہے جو معاصی ہے سب سے زیادہ بیزار ہو۔ پس اللہ کی اطاعت کر اور اپنے ساتھیوں کو بھی اس کی اطاعت کا حکم کرو۔ الاوسط للطبرانی

کلام : واقدی اس روایت میں متفرد ہے اور واقدی ضعیف راوی ہے۔
14111- عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: كتب أبو بكر إلى عمرو ابن العاص سلام عليك أما بعد فقد جاءني كتابك تذكر ما جمعت الروم من الجموع، وأن الله لم ينصرنا مع نبيه صلى الله عليه وسلم بكثرة جنود وقد كنا نغزو مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وما معنا إلا فرسان وإن نحن إلا نتعاقب الإبل، وكنا يوم أحد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وما معنا إلا فرس واحد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يركبه ولقد كان يظهرنا ويعيننا على من خالفنا واعلم يا عمرو أن أطوع الناس لله أشدهم بغضا للمعاصي فاطع الله ومر أصحابك بطاعته. "طس" وقال تفرد به الواقدي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১১২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14112 عیسیٰ بن عطیہ سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) کی بیعت کرلی گئی تو وہ اس سے اگلے روز لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا :

اے لوگو ! میری بیعت کرکے تم نے جو میرے متعلق اپنے رائے کا اظہار کیا ہے ہیں تم کو یہ تمہاری رائے واپس کرتا ہوں کیونکہ میں تم میں اچھا شخص نہیں ہوں۔ لہٰذا تم اپنے بہترین شخص کی بیعت کرلو۔

یہ سن کر لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور بولے : اے خلیفہ رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! تم ہم میں سب بہترین فرد ہو۔

حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا :

اے لوگو ! لوگ اسلام میں بخوشی اور بزور داخل ہوچکے ہیں۔ وہ اللہ کی پناہ میں آگئے ہیں اور اس کے پڑوسی بن گئے ہیں۔ س اگر تم سے ممکن ہو کہ اللہ تم سے اپنے کسی ذمے۔ اور وعدے کا سوال نہ کرے تو دریغ نہ کرو۔ اس کے ذمے اور عہد کا میرے ساتھ بھی شیطان لگا ہوا ہے جو میرے ساتھ حاضر رہتا ہے۔ پس جب تم مجھے غضب آلود دیکھو تو مجھ سے کنارہ کرلو۔ کہیں میں تمہارے بالوں اور کھالوں کا حلیہ نہ بگاڑدوں۔ اے لوگو ! اپنے لڑکوں کی کمائی کی دیکھ بھال رکھا کرو کیونکہ جو گوشت حرام سے پرورش پایا ہو اس کو جنت میں داخل ہونے کی گنجائش نہیں ہے۔ دیکھو ! اپنی نگاہوں کے ساتھ میرا خیال رکھو۔ اگر میں سیدھا چلوں تو میری مدد کرو، اگر میں کج روی اختیار کروں تو مجھے سیدھا کردو، اگر میں اللہ کی اطاعت کروں تو میری اطاعت کرو اور اگر میں اللہ کی نافرمانی میں مبتلا ہوجاؤں تو تم پر میری اطاعت نہیں۔ الواسط للطبرانی
14112- عن عيسى بن عطية قال: قام أبو بكر الغد حين بويع فخطب الناس فقال: يا أيها الناس إني قد أقلتكم رأيكم إني لست بخيركم فبايعوا خيركم فقاموا إليه فقالوا: يا خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم أنت والله خيرنا فقال: يا أيها الناس؛ إن الناس قد دخلوا في الإسلام طوعا وكرها فهم عواذ الله وجيران الله فإن استطعتم أن لا يطلبنكم الله بشيء من ذمته فافعلوا، إن لي شيطانا يحضرني، فإذا رأيتموني قد غضبت فاجتنبوني لا أمثل بأشعاركم وأبشاركم، يا أيها الناس تفقدوا ضرائب غلمانكم إنه لا ينبغي للحم نبت من سحت أن يدخل الجنة، ألا وراعوني بأبصاركم فإن استقمت فأعينوني، وإن زغت فقوموني وإن أطعت الله فأطيعوني وإن عصيت الله فأعصوني. "طس"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১১৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14113 عبدالرحمن بن عوف (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے اپنے مرض الوفات میں ان کو فرمایا : مجھے تین چیزوں کے کرنے کا افسوس ہے ، کاش میں ان کو نہ کرتا ۔ تین چیزوں کے نہ کرنے کا افسوس ہے۔ کاش میں ان کو انجام دیدیتا اور تین چیزوں کے متعلق میری خواہش تھی کہ کاش میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کے متعلق سوال کرلیتا۔

بہرحال وہ تین چیزیں جو میں نے انجام دیں کاش کہ میں ان کو نہ کرتا ، کاش میں فاطمہ کا درواہ نہ کھولتا اور اس کو چھوڑ دیتا اگرچہ لوگوں نے اس کو جنگ پر بند کردیا تھا (یعنی فاطمہ کی مخالفت نہ کرتا) کاش سقیفہ کے روز حکومت کی باگ ڈور دو آدمیوں میں سے کسی ایک کی گردن میں ڈال دیتا ابوعبیدۃ (رض) بن الجراح یا عمر (رض) ۔ پس ان میں سے کوئی بھی امیر بن جاتا اور میں ان کے لیے محض وزیر (مددگار) ہوتا۔ اور کاش کہ جب میں نے خالد کو مرتدین کے خلاف لشکر کشی کے لیے بھیجا تو میں وہ قصہ تمام کردیتا اگر مسلمان غالب آجاتے تو ٹھیک ورنہ میں لڑائی میں اور لشکروں کو مدد بہم پہنچانے میں مصروف رہتا۔

اور وہ تین چیزیں مجھ سے چھوٹ گئیں کاش کہ میں ان کا انجام دے لیتا جب اضعث بن قیس کو میرے پاس قیدی حالت میں پیش کیا گیا تو مجھے اسی وقت اس کی گردن اڑا دینا چاہیے تھے، کیونکہ مجھے خیال گزرا تھا کہ یہ شخص کسی بھی شرکو دیکھے گا تو میں اس کی مدد کرے گا۔ جب میرے پاس فجاوۃ کو لایا گیا تو کاش میں نے اس کو جلایا نہ ہوتا بلکہ یا تو عمدہ طریقے سے قتل کردیا ہوتا یا پھر اس کو آزاد کردیتا۔ اور کاش کہ جب میں نے ملک شام کی فتوحات کے لیے خالد کو بھیجا تھا اسی وقت عمر کو عراق کی طرف فتوحات کے لیے روانہ کردیا ہوتا تو میرے دونوں ہاتھ دائیں اور بائیں اللہ کی راہ میں برسرپیکار ہوجاتے۔ اور وہ تین باتیں جن کا مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرلینا تھا ایک تو مجھے یہ سوال کرنا تھا کہ یہ حکومت کی باگ ڈور کن لوگوں کے ہاتھ میں رہنی چاہیے تاکہ پھر ان سے کوئی اس کے بارے میں نزاع نہ کرے، نیز میری خواہش تھی کہ میں یہ سوال بھی آپ سے پوچھ لیتا کہ کیا انصار کو بھی اس حکومت میں لیا جائے ؟ اور یہ سوال بھی ضروری تھا کہ پھوپھی اور بھانجی کی میراث کے متعلق کیا حکم ہے۔ میرے دل میں میراث کے متعلق ان دونوں کا خیال رہتا ہے۔ ابوعبیدہ فی کتاب الاموال، العقیلی فی الضعفاء، فضائل الصحابۃ لجشۃ بن سلمان الطرابلسی، الکبیر للطبرانی، ابن عشاکر، السنن لسعید بن منصور

فائدہ : یہ حدیث حسن ہے ، مگر اس میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی کوئی بات نہیں ۔ اس کو امام بخاری (رح) نے کلام الصحابۃ میں تخریج کیا ہے۔
14113- عن عبد الرحمن بن عوف أن أبا بكر الصديق قال له في مرض موته: إني لا آسيعلى شيء إلا على ثلاث فعلتهن وددت أني لم أفعلهن وثلاث لم أفعلهن وددت أني فعلتهن وثلاث وددت أني سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عنهن، فأما اللاتي فعلتها وددت أني لم أفعلها فوددت أني لم أكن أكشف بيت فاطمة وتركته وإن كانوا قد غلقوهعلى الحرب ووددت أني يوم سقيفة بني ساعدة كنت قذفت الأمر في عنق أحد الرجلين أبي عبيدة بن الجراح أو عمر فكان أميرا وكنت وزيرا، ووددت حيث وجهت خالدا إلى أهل الردة أقمت بذي القصة فإن ظهر المسلمون ظهروا وإلا كنت بصدد لقاء أو مدد، وأما الثلاث اللاتي تركتهن ووددت أني فعلتهن فوددت أني يوم أتيت بالأشعث بن قيس أسيرا ضربت عنقه فإنه يخيل إلي أنه لا يرى شرا إلا أعان عليه ووددت أني يوم أتيت بالفجاءةلم أكن أحرقته وقتلته سريحا أو أطلقته نجيحا ووددت أني حيث وجهت خالدا إلى أهل الشام كنت وجهت عمر إلى العراق فأكون قد بسطت يدي يمينا وشمالا في سبيل الله، وأما الثلاث اللاتي وددت أني سألت عنهن رسول الله صلى الله عليه وسلم فوددت أني سألته فيمن هذا الأمر فلا ينازعه أهله ووددت أني كنت سألته هل للأنصار في هذا الأمر شيء؟ ووددت أني كنت سألته عن ميراث العمة وابنة الأخت فإن في نفسي منهما حاجة.

"أبو عبيد في كتاب الأموال عق وخيثمة بن سليمان الأطرابلسيفي فضائل الصحابة طب كر ص" وقال أنه حديث حسن إلا أنه ليس فيه شيء عن النبي صلى الله عليه وسلم وقد أخرج "خ" كتابه غير شيء من كلام الصحابة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১১৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14114 عبداللہ بن حکیم سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) کی بیعت کرلی گئی تو وہ منبر پر چڑھے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیٹھنے کی جگہ سے ایک درجہ نیچے بیٹھ گئے اور اللہ کی حمدوثناء کی پھر ارشاد فرمایا :

اے لوگو ! یاد رکھو ! عقل مند سے بھی عقل مند شخص متقی پرہیزگار ہے۔ احمق سے بھی احمق فسق وفجور میں مبتلا رہنے والا ہے۔ تمہارا طاقت ور آدمی میرے نزدیک کمزور ہے حتیٰ کہ میں اس سے حق وصول نہ کرلوں۔ میرے نزدیک تمہارا کمزور شخص طاقت ور ہے جب تک کہ میں اس کو حق نہ دلوادوں۔ میں محض اتباع کرنے والا ہوں، نئی راہ نکالنے والا نہیں۔ پس اگر میں اچھا کروں تو میری مدد کرو، اگر میں کج روی اختیار کروں تو مجھے سیدھا کردو اور اپنے نفسوں کا محاسبہ خود کرلو قبل اس سے کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے۔ یاد رکھو ! کوئی قوم جہاد فی سبیل اللہ کو ترک نہیں کرتی مگر اللہ پاک ان پر فقروفاقہ کو مسلط فرما دیتا ہے، نیز فحاشی جس قوم میں پھیلتی ہیں تو اللہ پاک ان کو عمومی عذاب میں مبتلا فرما دیتے ہیں۔ پس میری اطاعت کرتے رہو جب تک میں اللہ کی اطاعت کرتا رہوں۔ پس جب میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے لگوں تو تم پر میری اطاعت لازم نہیں ۔ میں اپنی اس بات کو کہتا ہوں اور اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ سے مغفرت کا سوال کرتا ہوں۔ الدینوری
14114- عن عبد الله بن عكيم قال: لما بويع أبو بكر صعد المنبر فنزل مرقاةمن مقعد النبي صلى الله عليه وسلم فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال: اعلموا أيها الناس أن أكيس الكيس التقي وأن أحمق الحمق الفجور وأن أقواكم عندي الضعيف حتى آخذ له بحقه، وأن أضعفكم عندي القوي حتى آخذ الحق منه، إنما أنا متبع ولست بمبتدع، فإن أحسنت فأعينوني وإن زغت فقوموني وحاسبوا أنفسكم قبل أن تحاسبوا ولا يدع قوم الجهاد في سبيل الله إلا ضربهم الله بالفقر، ولا ظهرت الفاحشة في قوم إلا عمهم الله بالبلاء، فأطيعوني ما أطعت الله فإذا عصيت الله ورسوله فلا طاعة لي عليكم أقول قولي هذا وأستغفر الله لي ولكم. "الدينوري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১১৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14115 حسن، ابوبکر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے خواب دیکھا کہ ان کے جسم پر ایک یمنی چادر کا حلہ (عمدہ جوڑا) ہے، لیکن ان کے سینے پر دوداغ ہیں۔ انھوں نے یہ خواب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ذکر کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یمنی چوڑا تو تیرے لیے اچھی اولاد ہے اور دوداغ تیرے لیے دو سال کی حکومت ہے یا (یوں کہہ لے) کہ تو دو سال تک مسلمانوں کا حاکم رہے گا۔ اللالکائی
14115- عن الحسن عن أبي بكر أنه رأى في المنام كأن عليه حلة حبرة وفي صدره كيتان فقصها على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: حلة حبرة خير لك من ولدك والكيتان: إمارة سنتين أو تلي أمر المسلمين سنتين. "اللالكائي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১১৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14116 سالم بن عبیدۃ (رض) جو اہل صفہ میں سے تھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مرض الموت میں بےہوش ہوگئے، پھر افاقہ ہوا تو پوچھا کہ کیا نماز کا وقت آگیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بلال کو حکم دو کہ وہ اذان دیدے اور ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں (یہ فرماکر) آپ پر پھر بےہوشی طاری ہوگئی پھر افاقہ ہوا تو پہلے والی بات ارشاد فرمائی۔ حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا : ابوبکر کمزور آدمی ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم یوسف (علیہ السلام) (کو مکر میں ڈالنے) والی عورتیں ہو۔ کہو بلال کو کہ وہ اذان دے اور ابوبکر کو نماز پڑھانے کا حکم دو ۔ چنانچہ نماز کھڑی ہوگئی۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا کیا نماز قائم ہوگئی ہے ؟ میرے لیے کسی کو بلاؤ جس کے سہارے سے میں چل سکوں۔ چنانچہ (آپ (علیہ السلام) کی باندی) ہریرہ اور ایک دوسرا شخص آگے بڑھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کا سہارا لیا اور آپ کے دونوں پاؤں زمین پر گھسیٹ رہے تھے حتیٰ کہ اسی طرح چلتے ہوئے آپ ابوبکر (رض) کے پاس پہنچ گئے اور وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پہلو میں بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر (رض) پیچھے ہٹنے لگے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ہیں روک دیا حتیٰ کہ نماز مکمل ہوگئی۔ پھر جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کوئی شخص نہ کہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موت ہوگئی ہے ورنہ میں اپنی اس تلوار کے ساتھ اس کی گردن اڑادوں گا۔

اتنے میں حضرت ابوبکر (رض) نے آکر ان کی کلائی تھامی اور چلتے ہوئے مجمع میں گھس گئے۔ لوگوں نے آپ کے لیے راستہ کشادہ کردیا۔ حتیٰ کہ آپ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب پہنچ گئے جہاں آپ استراحت فرما تھے۔ حضرت ابوبکر (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھک گئے اور دونوں کا چہرہ ایک دوسرے سے چھونے کے قریب ہوگیا۔ تب حضرت ابوبکر (رض) کو یہ بات کھل گئی کہ آپ کا انتقال ہوچکا ہے۔ چنانچہ حضرت ابوبکر (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب ہو کر فرمایا :

انک میت وانھم میتون۔

بےشک آپ مرنے والے ہیں اور وہ (سب) مرنے والے ہیں۔

لوگوں نے پوچھا : اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی ! کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوگیا ہے ؟ آپ (رض) کا انتقال ہوگیا ہے۔ پھر لوگوں نے پوچھا : اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی ! کیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی ؟ فرمایا : ہاں۔ پوچھا : اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی ! آپ بتائیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نماز جنازہ ہم کس طرح پڑھیں ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : ایک جماعت آکر نماز پڑھے اور چلی جائے پھر دوسری جماعت آئے۔ لوگوں نے پوچھا : اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی ! کیا ہم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دفن بھی کریں ؟ آپ (رض) نے فرمایا : ہاں۔ پوچھا : کہاں ؟ فرمایا : جہاں اللہ نے ان کی روح قبض فرمائی ہے۔ کیونکہ آپ کی روح اچھی جگہ ہی قبض فرمائی ہوگی۔ تب لوگوں کو اس بات کا بھی علم ہوگیا۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے (حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد جمع لوگوں کو) حکم فرمایا : تم اپنے ساتھی کو سنبھالو۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) وہاں سے نکلے۔ مہاجرین رو رہے تھے اور آپس میں صلاح مشورے کررہے تھے۔ مہاجرین نے طے کیا کہ ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس چلتے ہیں کیونکہ اس منصب (حکومت) میں ان کا بھی حق ہے۔ چنانچہ (حضرت ابوبکر (رض)) کی معیت میں مہاجرین انصار کے پاس پہنچے ۔ انصار نے کہا : ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر تم میں سے۔ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) کا ہاتھ تھام کر ارشاد فرمایا : دو تلواریں ایک نیام میں ٹھیک نہیں ہیں۔ پھر حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) کا ہاتھ پکڑ کر لوگوں سے پوچھا : ان تین چیزوں میں کوئی اس کا ہم رتبہ ہے ؟

اذھما فی الغار اذ یقول لصاحبہ لا تحزن ان اللہ معنا۔

جب وہ دونوں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر غار میں تھے، جب نبی نے اپنے ساتھی کو کہا رنج نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

اذیقول لصاحبہ کون تھا یہ حضور کا ساتھی ؟ اذھما فی الغار وہ دونوں غار میں کون تھے ؟ لا تحزن ان اللہ معنا، اللہ کس کے ساتھ تھا ؟ پھر حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) کا ہاتھ پھیلایا اور ان کی بیعت فرمالی۔ اور لوگوں کو بھی فرمایا : تم بھی بیعت کرو۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے بہت اچھی طرح حضرت ابوبکر (رض) کی بیعت کی۔ اللالکائی فی السنۃ
14116- عن سالم بن عبيدة وكان رجلا من أهل الصفة قال: أغمي على رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه فأفاق فقال: حضرت الصلاة؟ قالوا: نعم، فقال: مروا بلالا فليؤذن ومروا أبا بكر فليصل بالناس، ثم أغمي عليه ثم أفاق فقال مثل ذلك، فقالت عائشة: إن أبا بكر رجل أسيف فقال: إنكن صواحب يوسف مروا بلالا فليؤذن ومروا أبا بكر فليصل بالناس فأقيمت الصلاة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أقيمت الصلاة؟ قال: ادعوا لي إنسانا أعتمد عليه، فجاءت بريرة وآخر معها فاعتمد عليهما وأن رجلاه لتخطان في الأرض حتى أتى أبا بكر وهو يصلي بالناس فجلس إلى جنبه فذهب أبو بكر يتأخر فحبسه حتى فرغ من الصلاة فلما توفي نبي الله صلى الله عليه وسلم قال عمر: ليس يتكلم أحد بموته إلا ضربته

بسيفي هذا فأخذ بساعد أبي بكر ثم أقبل يمشي حتى دخل فأوسعوا له حتى دنا من نبي الله صلى الله عليه وسلم فانكب عليه حتى كاد يمس وجهه وجهه حتى استبان له أنه قد توفي فقال: إنك ميت وإنهم ميتون فقالوا: يا صاحب رسول الله توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: نعم فعلموا أنه كما قال، فقالوا: يا صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم هل يصلى على النبي صلى الله عليه وسلم؟ قال: نعم، قالوا: يا صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم بين لنا كيف نصلي عليه؟ قال: يجيء قوم فيصلون ويجيء آخرون، قالوا: يا صاحب رسول الله هل ندفن النبي صلى الله عليه وسلم؟ فقال: نعم؛ فقالوا: أين؟ قال: حيث قبض الله روحه، فإنه لم يقبض روحه إلا في مكان طيب فعلموا أنه كما قال، ثم قال: دونكم صاحبكم وخرج أبو بكر واجتمع المهاجرون يبكون ويتدابرون بينهم فقالوا: انطلقوا بنا إلى إخواننا من الأنصار، فإن لهم في هذا الحق نصيبا فأتوهم فقالت الأنصار: منا أمير ومنكم أمير، فقال عمر وأخذ بيد أبي بكر: سفيان في غمد واحد لا يصطلحان أو قال: لا يصلحان، وأخذ بيد أبي بكر، فقال: من له هذه الثلاثة، إذ يقول لصاحبه، من صاحبه؟ إذ هما في الغار، من هما؟ لا تحزن إن الله معنا، مع من؟ ثم بسط يده فبايعه، ثم قال: بايعوا فبايع بأحسن بيعة وأجملها. "اللالكائي في السنة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১১৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14117 اسماعیل بن سمیع، مسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نے ابوعبیدۃ (رض) کو پیغام بھیجا تم آجاؤ میں تم کو خلیفہ بناؤں گا۔ کیونکہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ :

ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور (اے ابوعبیدۃ ! ) تم اس امت کے امین ہو۔

حضرت ابوعبیدۃ (رض) نے فرمایا : میں ایسے شخص کے آگے نہیں ہوسکتا جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری امامت کا حکم فرمایا ہو۔ ابن عساکر
14117- عن إسماعيل بن سميع عن مسلم قال: بعث أبو بكر إلى أبي عبيدة هلم حتى أستخلفك، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن لكل أمة أمينا وأنت أمين هذه الأم ة، فقال أبو عبيدة: ما كنت لأتقدم رجلا أمره رسول الله أن يؤمنا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১১৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14118 قیس بن ابی حازم سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے لوگوں کو خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا :

اے لوگو ! مجھے تمہارا حاکم بنادیا گیا ہے حالانکہ میں تمہارا اچھا شخص نہیں ہوں۔ شاید تم مجھے مکلف کرو گے کہ میں تمہارے درمیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت کے مطابق چلوں ۔ جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو وحی کی وجہ سے (غلطیوں سے محفوظ و) معصوم تھے۔ جبکہ میں ایک عام بشر ہوں، درست بھی چل سکتا ہوں لغزش بھی کھا سکتا ہوں۔ لہٰذا جب میں درست راہ چلوں تو اللہ کی حمد کرو اور جب مجھ سے خطاء سرزد ہو تو مجھے سیدھی راہ دکھا دو ۔ ابوذر الھروی فی الجامع
14118- عن قيس بن أبي حازم قال: خطب أبو بكر الناس فقال: يا أيها الناس إني قد وليتكم ولست بخيركم، فلعلكم أن تكلفوني أن أسير فيكم بسيرة رسول الله صلى الله عليه وسلم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يعصم بالوحي، وإنما أنا بشر أصيب وأخطيء فإذا أصبت فاحمدوا الله وإذا أخطأت فقوموني. "أبو ذر الهروي في الجامع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১১৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14119 یحییٰ بن سعید سے مروی ہے کہ قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو اس وقت عمرو بن العاص عمان یا بحرین میں (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے گورنر مقرر) تھے۔ وہاں لوگوں کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کی خبر اور لوگوں کے حضرت ابوبکر (رض) کی خلافت پر جمع ہونے کی خبر ملی۔ اہل علاقہ نے حضرت عمرو بن العاص سے پوچھا : یہ کون شخص ہے جس پر لوگ متفق ہوگئے ہیں، کیا تمہارے رسول کا بیٹا ہے ؟ حضرت عمرو بن العاص (رض) نے فرمایا : نہیں، ایسا نہیں ہے۔ لوگوں نے پوچھا : تو کیا وہ ان کا بھائی ہے ؟ فرمایا : نہیں۔ لوگوں نے پوچھا : تب وہ لوگوں میں سب سے زیادہ تمہارے رسول کے قریب تھا ؟ فرمایا : نہیں۔ لوگوں نے پوچھا : پھر وہ کون ہے ؟ حضرت عمرو بن العاص (رض) نے فرمایا : بس لوگوں نے اپنے درمیان جس کو سب سے اچھا دیکھا اس کو اختیار کرلیا اور امیر بنالیا۔ لوگوں نے کہا : جب تک وہ ایسا کرتے رہیں گے ہمیشہ خیر پر قائم رہیں گے۔ ابن جریر
14119- عن يحيى بن سعيد عن القاسم بن محمد قال: توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وعمرو بن العاص بعمان أو البحرين فبلغتهم وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم واجتماع الناس على أبي بكر، فقال له أهل الأرض: من هذا الذي اجتمع الناس عليه ابن صاحبكم؟ قال: لا قالوا: فأخوه؟ قال: لا قالوا: فأقرب الناس إليه؟ قال: لا قالوا: فما شأنه؟ قال: اختاروا خيرهم؟ فأمروه فقالوا: لن يزالوا بخير مافعلوا هذا. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক: