কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৫ টি

হাদীস নং: ১৪১২০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14120 حضرت ابو ہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ (رض) حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) کے پاس تشریف لائیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی میراث کا مطالبہ کیا۔ دونوں حضرات شیخیں نے فرمایا : ہم نے آپ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : میرا کوئی وارث نہ بنے گا۔

مسند احمد، السنن للبیہقی

بیہقی کے الفاظ ہیں :

ہم کسی کو وارث نہیں بناتے بلکہ جو چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔
14120- عن أبي هريرة أن فاطمة جاءت أبا بكر وعمر تطلب ميراثها من رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالا: سمعناه يقول: لا أورث. "حم ق"

ولفظه: لا نورث ما تركناه صدقة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১২১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14121 ابوسلمۃ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت فاطمہ (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) سے عرض کیا : جب آپ مریں گے تو آپ کا وارث کون ہوگا ؟ ارشاد فرمایا : میری اولاد اور میرے اہل خانہ۔ حضرت فاطمہ (رض) نے عرض کیا : تب کیا بات ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وارث نہیں بن رہے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :

نبی کا کوئی وارث نہیں ہوتا۔

لیکن میں ان اہل و عیال کا خرچہ اٹھاؤں گا جن کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خرچ اٹھاتے تھے اور جن پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خرچ کرتے تھے میں بھی ان پر خرچ کرتا رہوں گا۔

مسند احمد، السنن للبیہقی

نیز اس کو امام ترمذی اور امام بیہقی نے موصولاً عن ابی سلمۃ عن ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے اور امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں یہ روایت حسن غریب ہے۔
14121- عن أبي سلمة أن فاطمة قالت لأبي بكر: من يرثك إذا مت؟ قال: ولدي وأهلي، قالت: فما لنا لا نرث رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن النبي لا يورث ولكني أعولمن كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعول، وأنفق على من كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينفق عليه."حم ق" ورواه "ت ق" موصولا عن أبي سلمة عن أبي هريرة وقال: ت حسن غريب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১২২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14122 عباس سے مروی ہے کہ انھوں نے حضرت معاویہ (رض) سے حضرت ابوبکر (رض) کی انگوٹھی کا نقش معلوم کیا تو انھوں نے فرمایا : ان کی انگوٹھی پر لکھا تھا :

عبد ذلیل لرب جلیل،

عظیم پروردگار کا ذلیل بندہ۔ الخثلی فی الدیباج

کلام : امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں : اس روایت کی سند تاریک (غیر معتبر) ہے۔
14122- عن العباس أنه سأل معاوية عن نقش خاتم أبي بكر الصديق فقال: عبد ذليل لرب جليل. "الختلي في الديباج" قال ابن كثير إسناده مظلم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১২৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14123 حمید بن عبدالرحمن حمیری سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو ابوبکر (رض) مدینے کی ایک جماعت کے ہمراہ تھے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے آکر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ کھولا اور فرمایا : آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، آپ کی زندگی اور موت دونوں کس قدر عمدہ تھیں۔ رب کعبہ کی قسم ! محمد کی وفات ہوگئی ہے۔

پھر ابوبکر (رض) اور عمر (رض) دونوں ایک دوسرے کو کھینچتے ہوئے لوگوں کے پاس پہنچ گئے۔ پہلے حضرت ابوبکر (رض) نے لوگوں سے خطاب کیا اور ایسی کوئی بات نہ چھوڑی جو انصار کے متعلق قرآن میں نازل ہوئی ہو یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی شان میں ذکر کی ہو بلکہ اس کو لوگوں کے آگے ذکر فرمادیا اور ارشاد فرمایا : تم جانتے ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تھا : اگر لوگ ایک وادی میں چل پڑیں جبکہ انصار دوسری وادی کی طرف چل دیں تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا۔ اور اے سعد ! تو خوب جانتا ہے کیونکہ تم اس وقت وہاں بیٹھے ہوئے تھے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

قریش اس حکومت کے والی ہوں گے ۔ پس لوگوں میں سے نیک لوگ ان کے نیکوں کے تابع ہوتے ہیں اور بدکار لوگ ان کے بدوں کے پیچھے۔ حضرت سعد (رض) نے فرمایا : (اے ابوبکر ! ) تم سچ کہتے ہو ، ہم وزراء ہوں گے اور تم امراء۔ مسند احمد، ابن جریر

فائدہ : یہ حدیث حسن ہے ، اگرچہ اس میں انقطاع ہے کیونکہ حمید بن عبدالرحمن بن عوف نے خلافت صدیق کا عرصہ نہیں پایا۔ ممکن ہے انھوں نے یہ روایت اپنے والد یا کسی اور صحابی سے روایت کی ہو۔ اور یہ ان کے درمیان مشہور ہے۔
14123- عن حميد بن عبد الرحمن الحميري قال: توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر في طائفة من المدينة، فجاء فكشف عن وجهه فقال: فدى لك أبي وأمي، ما أطيبك حيا وميتا مات محمد ورب الكعبة وانطلق أبو بكر وعمر يتقاودان حتى أتوهم فتكلم أبو بكر فلم يترك شيئا أنزل في الأنصار ولا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم في شأنهم إلا ذكره وقال: لقد علمتم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لو سلك الناس واديا وسلكت الأنصار واديا سلكت وادي الأنصار، ولقد علمت يا سعد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال وأنت قاعد: قريش ولاة هذا الأمر، فبر الناس تبع لبرهم، وفاجرهم تبع لفاجرهم، فقال له سعد: صدقت نحن الوزراء وأنتم الأمراء. "حم وابن جرير" قال ابن المنذر: هذا الحديث حسن وإن كان فيه انقطاع فإن حميد بن عبد الرحمن بن عوف لم يدرك أيام الصديق وقد يكون أخذه عن أبيه أو غيره من الصحابة وهذا كان مشهورا بينهم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১২৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14124 حضرت ابوسعیدخدری (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی بیعت کی گئی تو انھوں نے پوچھا : ” این علی لا ارا “ علی کہاں ہیں مجھے نظر نہیں آرہے ۔ لوگوں نے کہا : وہ آئے نہیں ہیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے دوبارہ پوچھا : اور زبیر کہاں ہیں ؟ لوگوں نے مثل سابق جواب دیا : وہ بھی نہیں آئے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : میرا گمان تو یہ تھا کہ یہ بیعت تمام مسلمانوں کی رضامندی سے ہورہی ہے۔ یہ بیعت پرانے کپڑے کی خریدو فروخت نہیں ہے۔ اس بیعت سے انکار کی کسی کو گنجائش ممکن نہیں ہے۔

چنانچہ حضرت علی (رض) تشریف لے آئے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے پوچھا : اے علی ! اس بیعت سے کس بات نے تجھے تاخیر میں ڈالا ؟ حضرت علی (رض) نے عرض کیا : میرا خیال تھا کہ میں حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چچا زاد ہوں اور ان کی دختر نیک کا شوہر بھی، اس لیے آپ کا خیال بھی ہوگا کہ اس معاملے میں میرا حق آپ سے پہلے تھا۔ پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : لیکن اے خلیفہ رسول اللہ ! مجھے آپ قصور وار نہ ٹھہرائیں، لائیے ہاتھ ! چنانچہ پھر حضرت علی (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) کی بیعت کرلی۔ پھر زبیر (رض) تشریف لائے تو ان سے بھی حضرت ابوبکر (رض) نے پوچھا : آپ کو بیعت کرنے میں دیر کیوں ہوئی ؟ حضرت زبیر (رض) نے جواب دیا میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپھی کا بیٹا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حواری ہوں۔ کیا آپ کو علم نہیں تھا کہ اس چیز میں میرا حق آپ سے پہلے تھا۔ لیکن پھر بھی آپ مجھے قصور وار نہ ٹھہرائیں، اے خلیفہ رسول اللہ ! چنانچہ انھوں نے بھی اپنا ہاتھ پھیلا دیا اور حضرت ابوبکر (رض) کی بیعت کرلی۔ السحاملی

فائدہ : امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں : اس روایت کی سند صحیح ہے۔
14124- عن أبي سعيد الخدري قال: لما بويع أبو بكر الصديق قال: أين علي لا أراه؟ قالوا: لم يحضر، قال ابن الزبير؟ قالوا: لم يحضر قال: ما حسبت إلا أن هذه البيعة عن رضا جميع المسلمين، إن هذه البيعة ليست كبيع الثوب الخلق، إن هذه البيعة لا مردود لها؛ فلما جاء علي قال: يا علي ما أبطأ بك عن هذه البيعة؟ قلت: إني ابن عم رسول الله صلى الله عليه وسلم وختنه على ابنته، لقد علمت أني كنت في هذا الأمر قبلك، قال: لا تزري بي يا خليفة رسول الله، فمد يده فبايعه، فلما جاء الزبير قال: ما أبطأ بك عن هذه البيعة؟ قلت: إني ابن عمة رسول الله صلى الله عليه وسلم وحواريه، أما علمت أني كنت في هذا الأمر قبلك؟ قال: لا تزري بي يا خليفة رسول الله ومد يده فبايعه. "المحاملي" قال ابن كثير إسناده صحيح.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১২৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14125 حصین بن عبدالرحمن بن عمرو بن سعد بن معاذ سے مروی ہے کہ دس ہجری کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (حجۃ الوداع کا) حج کرکے مکہ سے واپس لوٹے مدینہ آکر ٹھہرگئے۔ حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گیارہ ہجری کے سال کے ماہ محرم کا چاند دیکھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زکوۃ وصول کرنے والے کارندوں کو عرب علاقوں میں بھیجا۔ چنانچہ اس ذیل میں قبیلہ اسد اور طی کی طرف عدب بن حاتم (طائی) کو بھیجا۔ عدی (حضور کی وفات کے بعد) حضرت ابوبکر (رض) کے پاس تیس اونٹ زکوۃ کے لے کر آئے۔ اور ان کو حضرت ابوبکر (رض) کے حوالے کرتے ہوئے عرض کیا : اے خلیفہ رسول اللہ ! آج آپ کو ان کی حاجت ہے جبکہ میں ان کی طرف سے غنی اور مالدار ہوں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اے (نیک) مرد ! تو ہی ان کو لے لے۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا جب وہ تم سے معذرت کررہے تھے کہ تو واپس لوٹے گا اور خیر (مال تیرے ساتھ) ہوگا۔ پس (اے حاتم ! ) تو واپس بھی لوٹا اور اللہ کا مال بھی لایا۔ اب میں وہ وعدہ پورا کررہا ہوں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زندگی میں کیا تھا۔ لہٰذا پھر آپ (رض) نے (وہ اونٹ عدی کو دے کر وہ) وعدہ پورا کردیا۔ حضرت عدی (رض) نے عرض کیا : ہاں اب میں ان کو لے سکتا ہوں کیونکہ اب یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے میرے لیے عطیہ ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا پس لے جا۔ ابن سعد، ابن عساکر
14125- عن الحصين بن عبد الرحمن بن عمرو بن سعد بن معاذ قال: لما صدررسول الله صلى الله عليه وسلم من الحج سنة عشر قدم المدينة فأقام حتى رأى هلال المحرم سنة إحدى عشرة، فبعث المصدقين في العرب فبعث على أسد وطي عدي بن حاتم، فقدم بها على أبي بكر الصديق فأعطاه ثلاثين فريضةفقال عدي: يا خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم أنت إليها اليوم أحوج وأنا عنها غني، فقال أبو بكر: خذها أيها الرجل فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يتعذر إليك ويقول: ترجع ويكون خيرا فقد رجعت وجاء الله بالخير، وأنا منفذ ما وعد رسول الله صلى الله عليه وسلم في حياته فأنفذها فقال عدي: آخذها الآن فهي عطية من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال أبو بكر: فذاك.

"ابن سعد كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১২৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14126 حذیفہ (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی اور ابوبکر (رض) کو خلیفہ بنادیا گیا تو ان کو حکم بن ابی العاص کے متعلق کہا گیا مگر انھوں نے فرمایا : جو گرہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لگا گئے ہیں میں اس کو نہیں کھول سکتا۔ الکبیر للطبرانی، ابونعیم
14126- عن حذيفة قال: لما قبض النبي صلى الله عليه وسلم، واستخلف أبو بكر قيل له في الحكم بن أبي العاص فقال: ما كنت لأحل عقدة عقدها رسول الله صلى الله عليه وسلم. "طب وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১২৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14127 ابومعشر زیاد بن کلیب، ابراہیم سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض ہوگئی تو اس وقت حضرت ابوبکر (رض) وہاں موجود نہ تھے۔ پھر بعد میں وہ تشریف لائے۔ تاہنوز کسی کو جرات نہ ہوئی تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کو کھول کر دیکھ سکتا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے آپ کے چہرہ کو کھولا، آپ کی (پرنور) پیشانی کو بوسہ دیا اور (فرط گریہ سے) بولے : آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، آپ نے زندگی بھی اچھی کاٹی اور موت بھی اچھی پائی۔

انصار سقیفہ بنی ساعدہ ۔ کے مقام پر جمع ہوچکے تھے تاکہ (اپنے سردار) سعد بن عبادہ کی بیعت کرلیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے انصار کو فرمایا : امراء ہم میں سے ہوں گے اور وزراء تم بنو گے۔

پھر حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : میں تم سب مسلمانوں کے لیے دو آدمیوں پر مطمئن ہوں عمر یا ابوعبیدۃ۔ کیونکہ ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک قوم آئی تھی، انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ ہمارے ساتھ ایک امین (امانت دار) شخص بھیج دیں جو امانت کا حق ادا کرسکے۔ چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ ابوعبیدۃ کو بھیجا تھا۔ پس میں بھی تمہارے لیے ابوعبیدۃ پر راضی ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے لوگوں کو مخاطب ہو کر فرمایا : تم میں سے کس کا دل یہ بات گوارا کرے گا کہ ان قدموں کو اپنے پیچھے چھوڑ دے جن کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آگے کیا تھا چنانچہ یہ کہہ کر حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) کی بیعت فرمالی اور پھر دوسرے لوگوں نے بھی ان کی بیعت کرلی۔ ابن جریر
14127- عن أبي معشر زياد بن كليب عن إبراهيم قال: لما قبض النبي صلى الله عليه وسلم كان أبو بكر غائبا، فجاء ولم يجتريء أحد أن يكشف عن وجهه، فكشف عن وجهه، وقبل بين عينيه وقال: بأبي وأمي طبت حيا وطبت ميتا، واجتمع الأنصار في سقيفة بني ساعدة ليبايعوا سعد بن عبادة فقال أبو بكر: منا الأمراء ومنكم الوزراء، ثم قال أبو بكر: إني قد رضيت لكم أحد هذين الرجلين عمر أو أبو عبيدة، إن النبي صلى الله عليه وسلم جاءه قوم فقالوا: ابعث معنا حق أمين فبعث معهم أبا عبيدة، وأنا أرضى لكم أبا عبيدة، فقام عمر فقال: أيكم تطيب نفسه أن يخلف قدمين قدمهما النبي صلى الله عليه وسلم، فبايعه عمر وبايعه الناس. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১২৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14128 مجاہد (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے ایک مرتبہ خطبہ کے دوران لوگوں کو ارشاد فرمایا :

مجھے امید ہے کہ تم بزدلی اور زیتون کے تیل سے سیر ہوجاؤ گے۔ یعنی مزید ان کی رغبت نہ کرو گے۔

ھناد
14128- عن مجاهد قال: خطبهم أبو بكر قال: إني لأرجو أن تشبعوا من الجبن والزيت."هناد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১২৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14129 ابوحذیفہ اسحاق بن بشر قریشی سے مروی ہے کہ ہمیں محمد بن اسحاق نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر (رض) نے دل میں عزم کیا کہ روم پر لشکر کشی کی جائے ابھی اس خیال پر کسی کو اطلاع نہیں دی تھی کہ حضرت شرحبیل بن حسنہ (سپہ سالار لشکر) آپ کے پاس حاضر خدمت ہوئے اور بیٹھ گئے پھر عرض کیا : اے خلیفہ رسول اللہ ! آپ نے دل میں خیال باندھا ہے کہ روم پر لشکر بھیجیں گے ۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : ہاں، میرے دل میں یہ خیال ہے، لیکن میں نے ابھی اس پر کسی کو مطلع نہیں کیا ہے اور تو نے کس لیے اس کا سوال کیا ہے ؟ شرحبیل (رض) نے عرض کیا : ہاں، خلیفہ رسول اللہ ! میں نے خواب دیکھا ہے کہ آپ گویا لوگوں کے درمیان چل رہے ہیں سخت پہاڑی زمین پر۔ پھر آپ اوپر چڑھتے ہوئے بلند چوٹیوں میں سے ایک چوٹی پر پہنچ گئے ہیں۔ آپ کے ساتھ آپ کے ساتھی ہیں۔ آپ نے اوپر سے نیچے لوگوں کو دیکھا۔ پھر آپ نیچے اترے اور نرم زمین میں اتر آئے، جہاں کھیتیاں، آباد بستیاں اور قلعیں ہیں۔ آپ نے مسلمانوں کو فرمایا :

دشمنان خدا پر ٹوٹ پڑو، میں تم کو فتح اور غنیمت کی ضمانت دیتا ہوں۔

میں نے دیکھا پھر مسلمانوں نے ان سر سخت حملہ کیا میں بھی حملہ کرنے والوں میں شامل ہوں اور جھنڈا بھی میرے ہاتھوں میں ہے۔ میں ایک بستی والوں کی طرف بڑھا تو انھوں نے مجھ سے پناہ مانگی میں نے ان کو امان دیدی۔ پھر میں کیا دیکھتا ہوں کہ میں آپ کے پاس آیا تو آپ ایک عظیم قلعے کے پاس پہنچے اور اللہ نے اس کو آپ کے ہاتھوں فتح فرمادیا ہے۔ اہل قلعہ نے آپ کے آگے صلح کی درخواست پیش کی۔ پھر اللہ نے آپ کو بیٹھنے کی جگہ مرحمت فرمائی۔ آپ اس پر بیٹھ گئے ہیں۔ پھر آپ کو کہنے والے نے کہا : اللہ آپ کی مدد فرمائے گا اور آپ کو فتح سے ہمکنار کرے گا آپ اس کا شکر ادا کریں اور اس کی اطاعت کرتے رہیں۔ پھر آپ نے سورة نصر پڑھی :

اذاجاء نصر اللہ والفتح،

اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔

حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : تیری آنکھوں نے بہت اچھا دیکھا، انشاء اللہ خیر ہوگی۔ تو نے فتح کی خوشخبری سنائی ہے، اور میرے دنیا سے کوچ کرنے کی خبر بھی دیدی ہے۔ یہ کہہ کر حضرت ابوبکر (رض) کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ پھر ارشاد فرمایا : وہ بلند چوٹی جس پر تو نے ہم کو چلتا ہوا دیکھا حتیٰ کہ ہم بلند ترین چوٹی پر پہنچ گئے پھر ہم نے لوگوں پر نظر ڈالی، اس کی تعبیر ہے کہ ہم تمام تر مشقتیں اٹھا کر لشکر کشی کریں گے اور دشمنوں کو مشقت میں ڈال دیں گے، پھر ہم مزید ترقی کریں گے اور ہماری حکومت اور اسلام بھی بلندیوں کو پہنچ جائے گا۔

پھر جو تو نے دیکھا کہ ہم بلندیوں سے نرم زمین پر اتر آئے ہیں جو چشموں کھیتیوں اور بستیوں کے ساتھ آباد ہے، اس کی تعبیر ہے کہ ہم پہلے کی نسبت مزید خوشحالی اور فراخی میں آجائیں گے۔ اور جو میں نے کہا : دشمنوں پر ٹوٹ پڑو میں تمہارے لیے فتح اور مال غنیمت کا ضامن ہوں۔ یہ میری مسلمانوں کو جہاد کی دعوت ہے اور اس کے صلے میں فتح و غنیمت کی خوشخبری ہے جو وہ قبول کریں گے اور کافروں کے علاقوں تک پہنچ جائیں گے ، وہ جھنڈا جو تمہارے ہاتھوں میں ہے جس کے ساتھ تم ان کی ایک بستی میں داخل ہوئے اور انھوں نے امن مانگا پھر تم نے ان کو امن دیدیا۔ اس کی تعبیر ہے کہ تم مسلمانوں کے ایک لشکر پر امیر بنو گے اور تمہارے ہاتھوں اللہ پاک فتوحات فرمائے گا۔ اور وہ قلعہ جو اللہ نے مجھ پر فتح فرمایا وہ وہ فتوحات ہیں جو اللہ نے میرے لیے آسان فرمائی ہیں۔ وہ نشست جو اللہ نے مجھے بیٹھنے کے لیے مرحمت فرمائی اس کا مطلب ہے کہ اللہ پاک مجھے رفعت عطا کرے گا اور مشرکین کو ذلیل و پست کرے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا تھا :

ورفع ابویہ علی العرش

اور انھوں نے اپنے والدین کو عرش پر اٹھا کر بٹھایا۔

اور پھر جو مجھے اللہ کی اطاعت کا کہا گیا اور سورة نصر پڑھ کر سنائی گئی وہ میرے دنیا سے کوچ کرجانے کی خبر ہے۔ کیونکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اس سورة کے نزول کے ساتھ ان کی وفات کی خبر سنائی گئی تھی جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی یہی مراد لیا تھا کہ ان کی رحلت کا وقت آچکا ہے۔

پھر حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا : میں نیکی کا حکم کرتا رہوں گا، برائی سے روکتا رہوں گا، اور جن لوگوں نے اللہ کا حکم ترک کردیا ہے ان کے ساتھ نبرد آزما رہوں گا، اللہ کا مقابلہ کرنے والوں اور شرک کرنے والوں پر لشکروں کے لشکر بھیجتا رہوں گا زمین کے مشارق میں اور مغارب میں۔ حتیٰ کہ وہ عاجز آکر کہہ اٹھیں گے : اللہ ایک ہے ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں یا پھر وہ ذلت کے ساتھ جزیہ دیں گے ۔ یہ اللہ کا امر ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت ہے۔ پھر جب اللہ مجھے موت سے ہمکنار کردے گا تو اللہ پاک مجھے (دشمنوں کے آگے) عاجز ہونے والا، کمزور پڑنے والا نہ پائے گا اور نہ مجاہدین کے ثواب سے بےرغبتی کرنے والا دیکھے گا۔

پھر حضرت ابوبکر (رض) نے انہی دنوں میں لشکروں کے امراء مقرر کیے اور شام کی طرف لشکروں کو روانہ کیا۔ (رض) وارضاہ عنہ۔ ابن عساکر
14129- عن أبي حذيفة إسحاق بن بشر القرشي قال: حدثنا محمد بن إسحاق قال: إن أبا بكر لما حدث نفسه أن يغزو الروم لم يطلع عليه أحد إذ جاءه شرحبيل بن حسنة فجلس إليه فقال: يا خليفة رسول الله تحدثك نفسك أنك تبعث إلى الشام جندا؟ فقال: نعم قد حدثت نفسي بذلك وما أطلعت عليه أحدا، وما سألتني عنه إلا لشيء، قال: أجل يا خليفة رسول الله إني رأيت فيما يرى النائم كأنك تمشي في الناس فوق حرشفةمن الجبل ثم أقبلت تمشي حتى صعدت قنةمن القنان العالية، فأشرفت على الناس ومعك أصحابك ثم إنك هبطت من تلك القنان إلى أرض سهلة دمثةفيها الزرع والقرى والحصون فقلت للمسلمين، شنوا الغارة على أعداء الله وأنا ضامن لكم بالفتح والغنيمة فشد المسلمون وأنا فيهم معي راية فتوجهت بها إلى أهل قرية فسألوني الأمان فأمنتهم، ثم جئت فأجدك قد جئت إلى حصن عظيم ففتح الله لك وألقوا إليك السلم ووضع الله لك مجلسا فجلست عليه ثم قيل لك يفتح الله عليك وتنصر فاشكر ربك واعمل بطاعته ثم قرأ: {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} إلى آخرها ثم انتبهت فقال له أبو بكر: نامت عيناك خيرا رأيت وخيرا يكون إن شاء الله. ثم قال: بشرت بالفتح ونعيت إلي نفسي ثم دمعت عينا أبي بكر ثم قال: أما الحرشفة التي رأيتنا نمشي عليها حتى صعدنا إلى القنة العالية فأشرفنا على الناس فإنا نكابد من أمر هذا الجند والعدو مشقة ويكابدونه، ثم نعلو بعد ويعلو أمرنا، وأما نزولنا من القنة العالية إلى الأرض السهلة الدمثة والزرع والعيون والقرى والحصون، فإنا ننزل إلى أمر أسهل مما كنا فيه من الخصب والمعاش، وأما قولي للمسلمين: شنوا الغارة على أعداء الله؛ فإني ضامن لكم الفتح والغنيمة فإن ذلك دنو المسلمين إلى بلاد المشركين، وترغيبي إياهم على الجهاد والأجر والغنيمة التي تقسم لهم وقبولهم، وأما الراية التي كانت معك فتوجهت بها إلى قرية من قراهم ودخلتها واستأمنوا فأمنتهم، فإنك تكون أحد أمراء المسلمين، ويفتح الله على يديك، وأما الحصن الذي فتح الله لي فهو ذلك الوجه الذي يفتح الله لي، وأما العرش الذي رأيتني عليه جالسا فإن الله يرفعني ويضع المشركين، قال الله تعالى ليوسف: {وَرَفَعَ أَبَوَيْهِ عَلَى الْعَرْشِ} وأما الذي أمرني بطاعة الله وقرأ علي السورة فإنه نعى إلي نفسي وذلك أن النبي صلى الله عليه وسلم نعى الله إليه نفسه حين نزلت هذه السورة وعلم أن نفسه قد نعيتإليه، ثم قال: لآمرن بالمعروف ولأنهين عن المنكر ولأجهدن فيمن ترك أمر الله ولأجهزن الجنود إلى العادلين باللهفي مشارق الأرض ومغاربها حتى يقولوا: الله أحد أحد لا شريك له أو يعطوا الجزية عن يد وهم صاغرون، هذا أمر الله وسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فإذا توفاني الله فلا يجدني الله عاجزا ولا وانياولا في ثواب المجاهدين زاهدا فعند ذلك أمر الأمراء وبعث إلى الشام البعوث. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৩০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14130 محارب بن دثار سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) کو والی (خلیفہ) بنایا گیا تو حضرت عمر (رض) کے سپرد عہدہ قضاء ہوا اور ابوعبیدۃ (رض) کے سپرد بیت المال کی نظامت سپرد ہوئی۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے ان کو فرمایا : میری مدد کرو۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) سال بھر اس طرح خالی رہے کہ کوئی دو آدمی اپنے جھگڑالے کر آئے اور نہ آپ (رض) نے کسی دو شخصوں کے درمیان فیصلہ فرمایا۔ السنن للبیہقی، مسند عمر
14130- عن محارب بن دثار قال: لما ولي أبو بكر ولي عمر القضاء وولي أبو عبيدة المال وقال: أعينوني، فمكث عمر سنة لا يأتيه اثنان ولا يقضي بين اثنين. "ق".

"مسند عمر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৩১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14131 حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات (پرملال) ہوگئی تو انصار کہنے لگے : ” منا امیر ومنکم امیر “ ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر تم میں سے۔ حضرت عمر (رض) نے ان کے پاس آکر فرمایا : اے جماعت انصار ! کیا تم کو معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو حکم فرمایا تھا کہ وہ لوگوں کی امامت کریں۔ اب تم میں سے کس کو اچھا لگے گا کہ وہ ابوبکر سے آگے بڑھے۔ تب انصار (کی آنکھیں کھل گئیں اور وہ) بولے : ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ ابوبکر سے آگے بڑھیں۔ ابن سعد، ابن ابی شیبہ، مسنداحمد، النسائی، مسند ابی یعلی، السنن لسعید بن منصور، ابن جریر، مستدرک الحاکم
14131- عن ابن مسعود قال: لما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت الأنصار: منا أمير ومنكم أمير. فأتاهم عمر فقال: يا معشر الأنصار ألستم تعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد أمر أبا بكر أن يؤم الناس فأيكم تطيب نفسه أن يتقدم أبا بكر؟ فقالت الأنصار: نعوذ بالله أن نتقدم أبا بكر. "ابن سعد ش حم ن ع ص وابن جرير ك"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৩২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14132 ابوالبختری سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوعبیدۃ (رض) کو فرمایا : اپنا ہاتھ آگے لاؤ تاکہ میں تمہاری بیعت کرلوں، کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے آپ ارشاد فرما رہے تھے : تم اس امت کے امین ہو۔ حضرت ابوعبیدۃ (رض) نے فرمایا : میں ایسے شخص سے آگے نہیں بڑھ سکتا جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا تھا کہ ہماری امامت کریں ۔ پس وہ یعنی ابوبکر (رض) ہماری امامت کراتے رہے حتیٰ کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی۔ مسنداحمد

کلام : ابوالبختری کا نام سعید بن فیروز ہے، لیکن انھوں نے حضرت عمر (رض) کو نہیں پایا۔
14132- عن أبي البختري قال: قال عمر لأبي عبيدة: ابسط يدك حتى أبايعك فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: أنت أمين هذه الأمة ف قال أبو عبيدة: ما كنت لأتقدم بين يدي رجل أمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يؤمنا فأمنا حتى مات.

"حم" وأبو البختري اسمه سعيد بن فيروز لم يدرك عمر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৩৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14133 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو ارشاد فرمایا : مجھے ایک صحیفہ (کاغذ) اور دوات لا کردو۔ میں ایک تحریر لکھ دیتا ہوں، جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہوگے۔

یہ سن کر پردے کے پیچھے سے عورتیں بولیں :۔ اے مردود ! کیا تم لوگ نہیں سن رہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا فرما رہے ہیں ؟ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے ان کو جواب دیا : تم تو یوسف (علیہ السلام) والی عورتیں ہو۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مریض ہوجاتے ہیں تو تم آنکھیں پونچھنے بیٹھ جاتی ہو اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تندرست ہوجاتے ہیں تو تم ان کی گردن پر سوار ہوجاتی ہو۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ان عورتوں کو چھوڑو یہ تم سے بہتر ہیں۔ الاوسط للطبرانی
14133- عن عمر قال: لما مرض النبي صلى الله عليه وسلم قال: ادعوا لي بصحيفة ودواة أكتب كتابا لا تضلوا بعده أبدا فقال النسوة من وراء الستر: ألا تسمعون ما يقول رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقلت: إنكن صواحبات يوسف إذا مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم عصرتن أعينكن، وإذا صح ركبتن عنقه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: دعوهن فإنهن خير منكم. "طس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৩৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14134 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : ہماری خبر یہ ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو انصار نے ہماری مخالفت کی اور سب کے سب انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں اکٹھے ہوگئے۔ نیز علی اور زبیر نے بھی ہماری مخالفت کرنے والوں کے ساتھ مخالفت کی۔ جبکہ عامۃ المہاجرین اکٹھے ہو کر حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پاس اکٹھے ہوگئے اور ان کو عرض کیا : اے ابوبکر ! آپ ہمارے ساتھ ہمارے انصاری بھائیوں کے پاس چلیں۔ چنانچہ ہم انصار سے ملاقات کی غرض سے چل پڑے۔ جب ہم ان کے قریب پہنچے تو اس کے دو صلح پسند لوگ ہم سے ملے اور ان کی قوم جس طرف جھک گئی تھی انھوں نے اس کو ہم کو خبر دی۔ انھوں نے پہلے ہم سے پوچھا : اے جماعت مہاجرین ! کہاں چلے جارہے ہو ؟ ہم نے کہا : ہم اپنے ان انصاری بھائیوں کے پاس جارہے ہیں۔ اب تمہارا جانا ضروری نہیں رہا تم اپنا فیصلہ خود کرسکتے ہو۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم ان کے پاس ضرور جائیں گے۔ چنانچہ ہم چل پڑے اور سقیفہ بنی ساعدۃ میں انصار کے پاس پہنچ گئے۔ وہاں ان کے درمیان ایک شخص چادر اوڑھے۔ سب سے نمایاں تھا میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا : یہ سعد بن عبادۃ ہے۔ میں نے پوچھا : اس کو کیا ہوگیا : لوگوں نے کہا : اس کو بخار آرہا ہے۔ پھر ہم تھوڑی دیر بیٹھے تو ان کا خطیب خطبہ دینے اٹھا اور اس نے اللہ ورسول کی شہادت دی، اللہ کی حمدوثناء بیان کی جو اس کی شان ہے۔ پھر بولا :

امابعد ! ہم ” انصار اللہ “ ہیں ، اللہ کے مددگار اور اسلام کے جھنڈے اور اے جماعت مہاجرین تم ہم میں سے ایک جماعت ہو۔ تمہارے کچھ لوگ اپنی راہ چلے ہیں، جن کا ارادہ ہے کہ صرف وہی اس منصب پر قابض ہوجائیں اور ہم کو نکال باہر کریں۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے بولنا چاہا اور اپنی بات کو سانچے میں ڈھالا تو مجھے یہ بات عجیب لگی کہ ابوبکر کے آگے میں اس کو پیش کروں۔ میں نے کچھ اچھی باتیں سوچ رکھی تھیں جن کو میں نے بولنا چاہا تو حضرت ابوبکر (رض) نے مجھے فرمایا : ذرا ٹھہر جا۔ چنانچہ میں نے بھی ابوبکر (رض) کو غصہ دلانا مناسب نہ سمجھا۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے بات شروع کی وہ مجھ سے زیادہ علم والے اور صاحب وقار نکلے۔ اللہ کی قسم ! میں نے جو بات بھی بولنے کے لیے بنائی تھی اور مجھے اچھی لگی تھی ابوبکر نے بلا تکلیف وہی بات یا اس سے اچھی بات پیش کی۔ حتیٰ کہ آپ (رض) نے فرمایا :

اے انصار تم نے تو خیر کی بات اپنے لیے ذکر کی ہے واقعی تم اس کے اہل ہو۔ لیکن ہم حکومت کا حق اس قبیلہ قریش کے لیے سمجھتے ہیں۔ یہ عرب میں نسب اور مقام کے اعتبار سے اوسط العرب ہیں۔ جن سے تمام عرب کی شاخیں ملتی ہیں۔ اور میں تمہارے واسطے اس منصب پر دو آدمیوں سے مطمئن اور راضی ہوں۔ تم ان دونوں میں سے جس کی چاہو بیعت کرلو۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے میرا ہاتھ پکڑا اور ابوعبیدۃ بن الجراح کا ہاتھ پکڑا ، وہ بھی مجلس میں موجود تھے۔

مجھے حضرت ابوبکر (رض) کی ارشاد کردہ کوئی بات ناگوار محسوس نہ ہوئی۔ سوائے اس آخری بات کے۔ میں نے کہا : اللہ کی قسم مجھے آگے لا کر میری گردن اڑادی جائے بغیر کسی گناہ کے، یہ مجھے زیادہ محبوب ہے اس بات سے کہ میں ایسی قوم پر امیر بنوں جن کے درمیان ابوبکر موجود ہوں۔ واللہ ! ان کی موت کے وقت میرا نفس مجھے گمراہ کردے تو اور بات ہے ، مگر اب میں ایسی کوئی بات محسوس نہیں کرتا۔

انصار میں سے ایک کہنے والے نے کہا : میں اس مسئلے کا حل پیش کرتا ہوں جو سب کے لیے خوشگوار ہوگا۔ ایک امیر ہم میں سے ہوجائے اور ایک امیر تم میں سے اے جماعت قریش ! یہ کہنا تھا کہ شوروغوغا بلند ہوگیا اور آوازیں بلند ہونے لگیں۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں تب مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں اختلاف کا بیج نہ پڑجائے، لہٰذا میں نے کہا : اے ابوبکراپنا ہاتھ لائیے۔ انھوں نے اپنا ہاتھ دیا تو میں نے ان کی بیعت کرلی اور دوسرے مہاجرین نے بھی بیعت کرلی پھر انصار نے بھی بیعت کرلی۔ پھر ہم سعد بن عبادہ پر لپکے۔ ایک انصاری نے کہا : تم سعد کو قتل کرو گے کیا ؟ میں نے کہا سعد کو تو اللہ قتل کرے گا۔ اللہ کی قسم اس صورت حال میں ہم نے ابوبکر کی بیعت سے بڑھ کر کوئی موافق صورت نہ پائی۔ ہمیں ڈر تھا کہ اگر ہم تم سے جدا ہوگئے اور کسی کی بیعت نہ کی تو تم ہمارے جانے کے بعد کوئی اور بیعت کر اوگے۔ اب یا تو ہم ان کی بیعت کرتے جو ہماری مرضی کے خلاف تھا یا ہم ان کی مخالفت کرتے تو فساد پیدا ہوتا۔ پس اب سن لو جس نے مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر کسی کی بیعت کی اس کی کوئی بیعت نہیں اور نہ اس کی کوئی اہمیت جس کی بیعت کی جائے، ایسے دونوں بیعت کرنے اور کرانے والے کو قتل کیا جاسکتا ہے۔

مسند احمد، البخاری، ابوعبید فی الغرائب، السنن الکبری للبیہقی
14134- عن ابن عباس قال: قال عمر بن الخطاب: إنه كان من خبرنا حين توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم أن الأنصار خالفونا واجتمعوا بأسرهم في سقيفة بني ساعدة وخالف عنا علي والزبير ومن معهما واجتمع المهاجرون إلى أبي بكر الصديق فقالوا: يا أبا بكر انطلق بنا إلى إخواننا هؤلاء من الأنصار، فانطلقنا نريدهم؛ فلما دنونا منهم لقينا رجلان صالحان، فذكرا ما تمالاعليه القوم فقالا: أين تريدون يا معشر المهاجرين؟ فقلنا: نريد إخواننا هؤلاء من الأنصار، فقالا: لا عليكم أن لا تقربوهم، اقضوا أمركم، فقلت: والله لنأتينهم، فانطلقنا حتى أتيناهم في سقيفة بني ساعدة، فإذا رجل مزمل بين ظهرانيهم، فقلت: من هذا؟ قالوا: سعد بن عبادة، فقلت: ماله؟ قالوا: يوعكفلما جلسنا قليلا تشهد خطيبهم فأثنى على الله بما هو أهله، ثم قال: أما بعد فنحن أنصار الله وكتيبة الإسلام وأنتم معشر المهاجرين رهط منا، وقد دفتدافة من قومكم، فإذا هم يريدون أن يختزلونامن أصلنا وأن يحضنونامن هذا الأمر. فلما أردت أن أتكلم وكنت زورتمقالة أعجبتني أريد أن أقدمها بين يدي أبي بكر، وكنت أداري منه بعض الحدةفلما أردت أن أتكلم قال أبو بكر: على رسلك؛ فكرهت أن أغضبه فتكلم أبو بكر فكان هو أعلم مني وأوقر، والله ما ترك من كلمة أعجبتني في تزويري إلا قال في بديهته مثلها أو أفضل منها، حتى سكت قال: ما ذكرتم من خير فأنتم له أهل ولن نعرف هذا الأمر إلا لهذا الحي من قريش هم أوسط العرب نسبا ودارا، وقد رضيت لكم أحد هذين الرجلين فبايعوا أيهما شئتم، وأخذ بيدي وبيد أبي عبيدة بن الجراح وهو جالس بيننا، فلم أكره مما قال غيرها كان والله أن أقدم فيضرب عنقي لا يقربني ذلك من إثم أحب إلي من أن أتأمر على قوم فيهم أبو بكر، اللهم إلا أن تسول لي نفسي عند الموت شيئا لا أجده الآن فقال قائل الأنصار: أنا جذيلهاالمحكك وعذيقها المرجب منا أمير ومنكم أمير يا معشر قريش، وكثر اللغط وارتفعت الأصوات حتى فرقتمن أن يقع اختلاف؛ فقلت: ابسط يدك يا أبا بكر فبسط يده فبايعته وبايعه المهاجرون، ثم بايعه الأنصار ونزوناعلى سعد بن عبادة فقال منهم: قتلتم سعدا، فقلت: قتل الله سعدا، أما والله ما وجدنا فيما حضرنا أمرا هو أوفق من مبايعة أبي بكر، خشينا إن فارقنا القوم ولم تكن بيعة أن يحدثوا بعدنا بيعة؛ فإما أن نبايعهم على ما لا نرضى، وإما أن نخالفهم فيكون فيه فساد فمن بايع أميرا من غير مشورة المسلمين فلا بيعة له، ولا بيعة للذي بايعه تغرةأن يقتلا. "حم خ وأبو عبيد في الغرائب ق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৩৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14135 سالم بن عبید (رض) جو اصحاب صفہ میں سے تھے سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر تھے۔ آپ (رض) سے پوچھا گیا : اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی ! کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوگیا ہے ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : ہاں۔ تب لوگوں کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کا علم ہوا۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نکلے اور مہاجرین بھی جمع ہوگئے۔ انھوں نے آپس میں مشورہ کیا۔ طے پایا کہ انصاری بھائیوں کے پاس چلتے ہیں، ان کا بھی اس معاملے میں حصہ ہے۔ چنانچہ مہاجرین چل کر انصار کے پاس آئے ۔ ایک انصاری نے کہا : ہم میں سے ایک آدمی امیر ہوگا اور ایک آدمی تم میں سے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ایک نیام میں دو تلواریں جمع ہوجائیں تو وہ درست نہیں رہ سکتیں۔ پھر انھوں نے حضرت ابوبکر (رض) کا ہاتھ تھاما اور لوگوں کو فرمایا : کون ہے جس کو ان کی تین باتوں کا اعزاز حاصل ہو۔ اذھمافی الغار۔ جب وہ دونوں غار (ثور) میں تھے وہ دونوں کون تھے ؟ اذیقول لصاحبہ جب اس (یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) نے اپنے ساتھی کو کہا : کون تھا اس کا ساتھی ؟ لا تحزن ان اللہ معنا، رنج نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اللہ کس کے ساتھ تھا ؟ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) کا ہاتھ پھیلایا اور فرمایا : ان کی بیعت کرلو۔ چنانچہ لوگوں نے ان کی بیعت کرلی اور اچھی طرح بیعت کی اور نبہائی۔ السنن للبیہقی
14135- عن سالم بن عبيد وكان من أصحاب الصفة قال: كان أبو بكر عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقيل له: يا صاحب رسول الله توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: نعم فعلموا أنه كما قال، ثم خرج فاجتمع المهاجرون يتشاورون فبينما هم كذلك إذ قالوا: انطلقوا بنا إلى أخواننا من الأنصار فإن لهم في هذا الحق نصيبا، فانطلقوا فأتوا الأنصار فقال رجل من الأنصار: منا رجل ومنكم رجل، فقال عمر: سيفان في غمد واحد إذا لا يصطلحان، فأخذ بيد أبي بكر فقال: من هذا الذي له هذه الثلاث؟ إذ هما في الغار، من هما؟ إذ يقول لصاحبه، من صاحبه؟ لا تحزن إن الله معنا، مع من هو؟ فبسط عمر يد أبي بكر فقال: بايعوه فبايع الناس أحسن بيعة وأجملها. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৩৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14136 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : خلافت نہیں ہے مشورے کے بغیر۔

ابن ابی شیبہ، ابن الانباری فی المصاحف
14136- عن عمر أنه قال: لا خلافة إلا عن مشورة. "ش وابن الأنباري في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৩৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14137 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) منبر پر بیٹھے اللہ کی حمدوثناء کی ، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر خیر فرمایا ان پر درود بھیجا پھر ارشاد فرمایا :

اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جب تک چاہا ہمارے درمیان زندہ رکھا اور ان پر وحی من جانب اللہ وحی نازل ہوتی رہی، جس کے ذریعہ رسول پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حلال و حرام کرتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اٹھا لیا اور جو اللہ پاک نے وحی سے واپس اٹھانا تھا اٹھا لیا اور جس کو باقی رکھنا تھا باقی رکھا۔ بعض اٹھ جانے والی وحی کو ہم نے یاد رکھا، جو قرآن ہم پہلے پڑھتے تھے ان میں یہ آیت بھی تھی :

لا ترغبوا عن آباء کم فانہ کفر بکم ان ترغبوعن آباء کم۔

اپنے آباء سے (اپنی نسبت کا) انکار نہ کرو بیشک یہ تمہاری اپنی ذات کا انکار ہے کہ تم اپنے آباء سے انکار کرو۔

نیز پہلے آیت رجم کا بھی نزول ہوا تھا پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی رجم کیا اور ہم نے بھی رجم کیا۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! میں نے اس آیت رجم کو یاد رکھا ، پڑھا اور پھر اچھی طرح سمجھا۔ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ کہیں گے عمر نے مصحف میں اس چیز کا اضافہ کردیا ہے جو اس میں نہیں ہے تو میں اس کو ضرور اپنے ہاتھ سے لکھ دیتا۔ اور یاد رکھو رجم تین صورتوں میں لازم ہے، حمل ظاہر ہوجائے، زانی یا زانیہ خود اعتراف زنا کرلے یا چار عادل گواہ شہادت دیدیں جیسے کہ اللہ نے حکم فرمایا ہے۔

لوگو ! مجھے خبر ملی ہے کہ بعض لوگ حضرت ابوبکر (رض) کی خلافت میں چہ میگوئیاں کرتے ہیں کہ وہ بلا سوچ سمجھے کی خلافت تھی۔ میری زندگی کی قسم ! ہاں اسی طرح ہوا۔ لیکن اللہ پاک نے ان کو خلافت اور بھلائی سے ہمکنار کیا اور خلافت کے شر سے ان کو بچا لیا۔ اب تم اس شخص (عمر) سے اپنا خیال رکھو، اس کی طرف گردنیں اٹھ رہی ہیں جس طرح حضرت ابوبکر (رض) کی طرف اٹھی تھیں۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو لوگوں کا حال یہ تھا کہ ہم کو خبر ملی کہ انصار شقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے ہیں اور سعد بن عبادۃ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ یہ سن کر میں اٹھا اور ابوبکر (رض) اور ابوعبیدۃ (رض) بھی اٹھے ہم ان کی طرف پریشانی کے عالم میں نکلے کہ کہیں وہ اسلام میں فتنہ نہ کھڑا کردیں۔ ہماری راستے میں دو انصاریوں سے ملاقات ہوئی، دونوں سچے آدمی تھے۔ عویم بن ساعدہ اور معن بن عدی۔ انھوں نے کہا : تم کہاں جارہے ہو ؟ ہم نے کہا تمہاری قوم کی اطلاع ملی ہے ان کے پاس جارہے ہیں۔ دونوں بولے : واپس چلے جائیں کیونکہ تمہاری مخالفت ہرگز نہیں کی جائے گی اور نہ تمہاری مرضی کے خلاف کچھ ہوگا۔ ، لیکن ہم نے مڑنے سے انکار کردیا۔ جبکہ میں کلام ڈھونڈ رہا تھا کہ کیا کیا بولوں گا۔ حتیٰ کہ ہم قوم کے پاس پہنچ گئے۔ وہ لوگ سعد بن عبادۃ پر جھکے پڑے تھے سعد چارپائی پر تھا اور مرض میں مبتلا تھا۔ جب ہم ان کے پاس پہنچ گئے تو انھوں نے ہم سے بات کی اور بولے : اے جماعت قریش ! ہم میں سے بھی ایک امیر ہو اور تم میں سے بھی ایک امیر ہوجائے۔ حباب بن منذر نے کہا : میں اس مسئلے کا تسلی بخش حل پیش کرتا ہوں جو خوشگوار ہوگا۔ اگر تم چاہو واللہ ! ہم اس منصب کو واپس کردیتے ہیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : تم ذرا ٹھہر جاؤ۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں میں کچھ بولنے کو ہوا تو حضرت ابوبکر (رض) نے مجھے بھی خاموش کرادیا۔ پھر آپ (رض) نے اللہ کی حمدوثناء بیان کی پھر فرمایا : اے جماعت انصار ! اللہ کی قسم ہم تمہاری فضیلت کا انکار ہرگز نہیں کرتے، نہ اسلام میں تمہارے مرتبے اور محنت کا انکار کرتے ہیں اور نہ اپنے اوپر تمہارے واجب حق کو بھولتے ہیں۔ لیکن تم جانتے ہو کہ یہ قبیلہ قریش عرب میں اس مرتبے پر ہے جہاں کوئی اور ان کا ہم سر نہیں، اور عرب ان کے آدمی کے سوا کسی پر راضی نہیں ہوں گے۔ پس ہم امراء بنتے ہیں اور تم وزراء ۔ پس اللہ سے ڈرو اور اسلام میں پھوٹ نہ ڈالو اور اسلام میں فتنے پیدا کرنے والوں میں اول نہ بنو۔ دیکھو میں تمہارے لیے ان دو آدمیوں پر راضی ہوں تم ان میں سے کسی ایک کو چن لو مجھے (عمر کو) یا ابوعبیدۃ کو۔ تم ان میں سے جس کی بیعت کرو وہ تمہارے لیے بااعتماد ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ایسی کوئی بات نہ رہی جو میں کرنا چاہتا تھا مگر آپ (رض) نے وہ فرمادی سوائے اس آخری بات کے۔ اللہ کی قسم ! مجھے بغیر کسی گناہ کے قتل کیا جاتا، پھر مجھے زندہ کیا جاتا پھر قتل کیا جاتا پھر زندہ کیا جاتا یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند تھا کہ میں ایسی قوم پر امیر بنوں جس میں ابوبکر (رض) موجود ہوں۔ پھر میں نے کہا : اے مسلمان لوگو ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعدان کے پیچھے اس منصب کا سب لوگوں میں صحیح حقدار ثانی اثنین اذھما فی الغار ہے۔

یعنی ابوبکر جوہر خیر میں کھلی سبقت کرنے والے ہیں۔ پھر میں نے ان کا ہاتھ پکڑاتا کہ بیعت کروں لیکن ایک انصاری ہی نے مجھ سے پہلے آپ کے ہاتھ پر ہاتھ ماردیا اور مجھ سے پہلے بیعت کا شرف حاصل کرلیا پھر دوسرے لوگ بھی ہجوم کرکے بیعت میں شامل ہوگئے۔ جبکہ سعد بن عبادۃ (رض) کو لوگوں نے چھوڑ دیا۔ لوگ کہنے لگے : سعد تو مارا گیا، اللہ اس کا برا کرے۔ انھوں نے بیعت نہیں کی تھی۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : پھر ہم لوٹ آئے اور اللہ نے مسلمانوں کو ابوبکر پر جمع کردیا، میری زندگی کی قسم یہ سب اچانک ہوا، پھر اللہ نے ان کو خلافت کی خیر عطا کی اور خلافت کے شر سے محفوظ کردیا۔ پر جو اس بیعت کے لیے کسی اور کو چنے تو دونوں کا کوئی اعتبار نہیں۔ ابن ابی شیبہ
14137- عن ابن عباس أن عمر جلس على المنبر فحمد الله وأثنى عليه ثم ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى عليه، ثم قال، إن الله أبقى رسوله بين أظهرنا ينزل عليه الوحي من الله يحل به ويحرم به، ثم قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم فرفع منه ما شاء أن يرفع، وأبقي ما شاء أن يبقى، فتشبثنا ببعض وفاتنا بعض فكان مما كنا نقرأ من القرآن، لا ترغبوا عن آبائكم فإنه كفر بكم أن ترغبوا عن آبائكم ونزلت آية الرجم فرجم النبي صلى الله عليه وسلم ورجمنا معه، والذي نفس محمد بيده لقد حفظتها وقلتها وعقلتها لولا أن يقال كتب عمر في المصحف ما ليس فيه لكتبتها بيدي كتابا والرجم على ثلاث منازل حمل بين واعتراف من صاحبه أو شهود عدل كما أمر الله، وقد بلغني أن رجالا يقولون في خلافة أبي بكر: إنها كانت فلتة ولعمري إنها كانت كذلك ولكن الله أعطى خيرها ووقي شرها وإياكم هذا الذي ينقطع إليه الأعناق كانقطاعها إلى أبي بكر إنه كان من شأن الناس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم توفي فأتينا فقيل لنا إن الأنصار قد اجتمعت في سقيفة بني ساعدة مع سعد بن عبادة يبايعون فقمت وقام أبو بكر وأبو عبيدة بن الجراح نحوهم فزعين أن يحدثوا في الإسلام، فلقينا رجلين من الأنصار رجلا صدق عويمر بن ساعدة ومعن بن عدي، فقالا: أين تريدون؟ قلنا: قومكم لما بلغنا من أمرهم، فقالا: ارجعوا فإنكم لن تخالفوا ولن يؤتى بشيء تكرهونه فأبينا إلا أن نمضى أنا أزويكلاما أن أتكلم به حتى انتهينا إلى القوم وإذا هم عكوف هنالك على سعد بن عبادة وهو على سرير له مريض؛ فلما غشيناهم تكلموا فقالوا: يا معشر قريش منا أمير ومنكم أمير فقال الحباب بن المندر: أنا جذيلها المحكك وعذيقها المرجب إن شئتم والله رددناها جذعةفقال أبو بكر: على رسلكم. فذهبت لأتكلم فقال: أنصت يا عمر فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: يا معشر الأنصار إنا والله ما ننكر فضلكم ولا بلاغكم في الإسلام، ولا حقكم الواجب علينا ولكنكم قد عرفتم أن هذا الحي من قريش بمنزلة من العرب فليس بها غيرهم وأن العرب لن تجتمع إلا على رجل منهم فنحن الأمراء وأنتم الوزراء، فاتقوا الله ولا تصدعوا الإسلام ولا تكونوا أول من أحدث في الإسلام ألا وقد رضيت لكم أحد هذين الرجلين لي ولأبي عبيدة بن الجراح فأيهما بايعتم فهو لكم ثقة، قال: فوالله ما بقي شيء كنت أحب أن أقول إلا قد قاله يومئذ غير هذه الكلمة، فوالله لأن أقتل ثم أحيى ثم أقتل ثم أحيى في غير معصية أحب إلي من أن أكون أميرا على قوم فيهم أبو بكر، ثم قلت يا معشر المسلمين إن أولى الناس بأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم من بعده ثاني اثنين إذ هما في الغار أبو بكر السباق المبين، ثم أخذت بيده وبادرني رجل من الأنصار فضرب على يده قبل أن أضرب على يده فتتابع الناس وميل عن سعد بن عبادة فقال الناس: قتل سعد قتله الله ثم انصرفنا، وقد جمع الله أمر المسلمين بأبي بكر فكانت لعمري فلتة كما أعطى الله خيرها من وقي شرها، فمن دعا إلى مثلها فهو الذي لا بيعة له ولا لمن بايعه. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৩৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14138 حضرت اسلم سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد جب حضرت ابوبکر (رض) کی بیعت کی گئی تو حضرت علی (رض) اور حضرت زبیر (رض) حضرت فاطمہ (رض) بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آتے اور مشورہ کرتے اور اپنے معاملے میں سوچ بچار کرتے۔ یہ بات حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس پہنچی تو وہ حضرت فاطمہ (رض) کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اے بنت رسول اللہ ! مجھے مخلوق میں تیرے باپ سے زیادہ کوئی محبوب نہیں اور تیرے باپ کے بعد تجھ سے زیادہ ہم کو کوئی محبوب نہیں۔ اللہ کی قسم ! یہ کیا معاملہ ہے کہ یہ لوگ تمہارے پاس جمع ہو کر بات کرتے ہیں یہ باز آجائیں ورنہ میں ان کا دروازہ جلادوں گا۔ یہ کہہ کر حضرت عمر (رض) وہاں سے نکل آئے پھر مذکورہ حضرات اندر آئے تو حضرت فاطمہ (رض) نے فرمایا : جانتے ہو ، میرے پاس عمر آئے تھے وہ قسم کھا کر گئے ہیں کہ اگر تم دوبارہ ادھر اختلافی باتوں میں شامل ہوئے تو وہ تمہارا دروازہ جلادیں گے۔ اللہ کی قسم وہ جو کہہ کر گئے ہیں کر گزریں گے۔ لہٰذا تم اپنی رائے سے باز آجاؤ اور آئندہ میرے پاس اس لیے نہ آنا۔ چنانچہ وہ حضرات لوٹ گئے اور حضرت فاطمہ سے ان کے متعلق دوبارہ کوئی بات نہ کی حتیٰ کہ انھوں نے حضرت ابوبکر (رض) کی بیعت کرلی۔ مصنف ابن ابی شیبہ
14138- عن أسلم أنه حين بويع لأبي بكر بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم كان علي والزبير يدخلون على فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم ويشاورونها ويرجعون في أمرهم؛ فلما بلغ ذلك عمر بن الخطاب خرج حتى دخل على فاطمة، فقال: يا بنت رسول الله ما من الخلق أحد أحب إلي من أبيك، وما من أحد أحب إلينا بعد أبيك منك، وأيم الله ما ذاك بما نعي إن اجتمع هؤلاء النفر عندك أن آمر بهم أن يحرق عليهم الباب، فلما خرج عليهم عمر جاؤوها قالت: تعلمون أن عمر قد جاءني وقد حلف بالله لئن عدتم ليحرقن عليكم الباب، وايم الله ليمضين ما حلف عليه: فانصرفوا راشدين فروارأيكم ولا ترجعوا إلي فانصرفوا عنها ولم يرجعوا إليها حتى بايعوا لأبي بكر. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৩৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14139 حضرت عرورۃ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تدفین کے موقع پر موجود نہ تھے بلکہ وہ انصار میں تھے۔ چنانچہ ان کے آنے سے پہلے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تدفین کردی گئی۔ ابن ابی شیبہ
14139- عن عروة أن أبا بكر وعمر لم يشهدوا دفن النبي صلى الله عليه وسلم وكانا في الأنصار فدفن قبل أن يرجعا. "ش".
tahqiq

তাহকীক: