কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৫ টি

হাদীস নং: ১৪১৪০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14140 محمد بن سیرین (رح) سے مروی ہے کہ بنی زریق کے ایک آدمی نے بتایا کہ جب وہ دن (جس میں ابوبکر (رض)) کی بیعت کی گئی آیا تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نکل کر انصار کے پاس گئے اور ابوبکر (رض) بولے : اے انصار کی جماعت ! ہم تمہارے حق کا انکار نہیں کرتے کیونکہ تمہارے حق کا انکار کوئی مومن نہیں کرسکتا۔ اللہ کی قسم ہم کو جو خیر (مال اور بھلائی) حاصل ہوئی تم اس میں ہمارے (برابر کے) شریک ہوگے۔ لیکن عرب قریش ہی کے کسی آدمی کے امیر بننے پر راضی ہوں گے اور اسی کا اقرار کریں گے۔ کیونکہ قریش زبان میں سب سے فصیح ترین، وجاہت میں لوگوں میں سب سے بڑھ کر اور ٹھکانے میں عرب کے درمیان ہیں اور جسمانی توانائی میں سب سے بڑھ کر ہیں۔ لہٰذا آؤ اور عمر کی بیعت کرلو۔ لوگوں نے کہا : نہیں۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : کیوں ؟ لوگ بولے : ہم کو خوف ہے کہ ہم پر اوروں کو ترجیح دی جائے گی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جب تک میں زندہ ہوں تم پر کسی کو ترجیح نہ دی جائے گی لہٰذا تم ابوبکر کی بیعت کرلو۔ حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عمر (رض) کو فرمایا : تم مجھ سے زیادہ قوی ہو۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : آپ مجھ سے زیادہ افضل ہیں۔ دونوں نے اپنی اپنی بات دہرائی۔ تیسری مرتبہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) کو فرمایا : میری قوت آپ کی فضیلت کے ساتھ ہے۔ یعنی میں آپ کا بھرپور تعاون کروں گا پھر لوگوں کو فرمایا : ابوبکر (رض) کی بیعت کرلو۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) کی بیعت کے وقت لوگ حضرت ابوعبیدۃ بن الجراح کے پاس بھی آئے لیکن انھوں نے فرمایا تم میرے پاس آئے ہو حالانکہ تمہارے درمیان ثانی اثنین ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ
14140- عن محمد بن سيرين أن رجلا من بني زريق قال: لما كان ذلك اليوم خرج أبو بكر وعمر حتى أتوا الأنصار فقال: يا معشر الأنصار إنا لاننكر حقكم ولا ينكر حقكم مؤمن وإنا والله ما أصبنا خيرا إلا شاركتمونا فيه، ولكن لا ترضى العرب ولا تقر إلى على رجل من قريش لأنهم أفصح الناس ألسنة؛ وأحسن الناس وجوها وأوسط العرب دارا وأكثر الناس شحمة في العرب، فهلموا إلى عمر فبايعوه، فقالوا: لا فقال عمر: فلم؟ فقالوا: نخاف الأثرة فقال: أما ما عشت فلا بايعوا أبا بكر، فقال أبو بكر لعمر: أنت أقوى مني، فقال عمر: أنت أفضل مني، فقالاها الثانية، فلما كانت الثالثة قال له عمر: إن قوتي لك مع فضلك، فبايعوا أبا بكر، وأتى الناس عند بيعة أبي بكر أبا عبيدة بن الجراح فقال: تأتوني وفيكم ثاني اثنين. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৪১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14141 ابراہیم تیمی (رح) سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض ہوگئی تو حضرت عمر (رض) حضرت ابوعبیدہ بن الجراح (رض) کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اپنا ہاتھ پھیلاؤ میں آپ کی بیعت کروں گا۔ کیونکہ آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان کے مطابق اس امت کے امین ہیں۔ حضرت ابوعبیدۃ (رض) نے فرمایا : جب سے تم اسلام میں داخل ہوئے ہو میں نے تم سے کوئی ایسی بیوقوفی کی بات نہیں سنی (جیسی آج سنی ہے) کیا تو میری بیعت کرے گا حالانکہ تمہارے درمیان صدیق جو ثانی اثنین ہیں موجود ہیں۔ ابن سعد، ابن جریر
14141- عن إبراهيم التيمي قال: لما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم أتى عمر أبا عبيدة بن الجراح فقال: ابسط يدك فلأبايعك فإنك أمين هذه الأمة على لسان رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أبو عبيدة [لعمر] : ما رأيت لك فهة[قبلها] منذ أسلمت أتبايعني وفيكم الصديق وثاني اثنين. "ابن سعد وابن جرير"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৪২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14142 حمران سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے فرمایا : حضرت ابوبکر صدیق (رض) لوگوں میں سب سے زیادہ خلافت کے حقدار ہیں، کیونکہ وہ صدیق ہیں، ثانی اثنین ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غار کے یار ہیں جن کے متعلق اللہ نے فرمایا ثانی اثنین دو میں سے دوسرا اور وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے (حضرسفر کے) ساتھی ہیں۔ خیثمۃ بن سلیمان الاطرابلسی فی فضائل الصحابۃ
14142- عن حمران قال: قال عثمان بن عفان: إن أبا بكر الصديق أحق الناس بها يعني الخلافة؛ إنه لصديق، وثاني اثنين، وصاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم. "خيثمة بن سليمان الأطرابلسي في فضائل الصحابة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৪৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14143 حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نکلے اور ارشاد فرمایا : جس کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی عہد ہو وہ آجائے ۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی کو کچھ دینے کا وعدہ کررکھا ہوگا تو اس کا پورا کرنا پہلے اللہ پر ہے اور پھر آپ پر۔ اللالکانی
14143- عن عائشة قالت: خرج أبو بكر ثم قال: من كان عنده عهد من رسول الله صلى الله عليه وسلم فليأتنا، فقال عمر: لو كان منه عهد كان عهده إلى الله ثم إليك. "اللالكائي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৪৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14144 زید بن علی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوسفیان حضرت علی (رض) کے پاس حاضر ہوئے اور بولے : اے علی ! لوگوں نے ایک ایسے شخص کی بیعت کرلی ہے جس نے قریش قبیلے کو رسوا و ذلیل کردیا ہے۔ اللہ کی قسم ! اگر تم کہو تو میں اس شخص پر خلافت کے سارے دروازے بند کردیتا ہوں اور اس کے خلاف گھڑ سوار اور پیادہ لشکروں کو کھڑا کردیتا ہوں۔ حضرت علی (رض) نے ان کو فرمایا : اے ابوسفیان ! مومنین خواہ ان کے وطن اور جسم ایک دوسرے سے دور دور ہوں پھر بھی وہ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوتے ہیں۔ جبکہ منافقین خواہ ان کے وطن اور جسم قریب قریب ہوں لیکن وہ دھوکا باز قوم ہے جو ایک دوسرے کو بھی دھوکا دینے سے باز نہیں آتی۔ لہٰذا ہم ابوبکر کی بیعت کرچکے ہیں اور وہ حقیقتاً اس خلافت کے اہل ہیں۔ ابواحمد الدھقان فی حدیثہ

فائدہ : ابواحمدحمزۃ بن محمد بن العباس الدھقان ہیں، ثقہ ہیں، مادراء النہر کے باشندے تھے۔ 347 ھ میں وافت پائی۔ تاریخ بغداد 183/8 ۔
14144- عن زيد بن علي عن أبيه أن أبا سفيان جاء إلى علي فقال: يا علي بايعوا رجلا أذل قريش قبيلة، والله لئن شئت لنصد عنها عليه أقطارها ولأملأنها عليه خيلا ورجلافقال له علي: يا أبا سفيان إن المؤمنين وإن بعدت ديارهم وأبدانهم قوم نصحة بعضهم لبعض، وإن المنافقين وإن قربت ديارهم وأبدانهم قوم غششة بعضهم لبعض، وإنا قد بايعنا أبا بكر وكان لذلك أهلا. "أبو أحمد الدهقان في حديثه"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৪৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14145 زید بن علی اپنے آباء و اجداد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منبر پر کھڑے ہوئے اور تین بار ارشاد فرمایا کوئی ہے میری خلافت کو ناپسند کرنے والا، میں اس منصی کو واپس کرنے پر تیار ہوں۔ اور ہر بار حضرت علی (رض) نے کھڑے ہو کر جواب ارشاد فرمایا :

نہیں، اللہ کی قسم ! ہم آپ کو یہ منصب ہرگز واپس نہیں کرنے دیں گے اور نہ آپ سے اس ذمہ داری کو لیں گے ۔ کون ہے جو آپ کو پیچھے ہٹا سکتا ہے جبکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو آگے بڑھا چکے ہیں۔ ابن النجار
14145- عن زيد بن علي عن آبائه قال: قام أبو بكر على منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: هل من كاره فأقيله ثلاثا يقول ذلك، فعند ذلك يقوم علي بن أبي طالب فيقول: لا والله لا نقيلك ولا نستقيلك من ذا الذي يؤخرك وقد قدمك رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৪৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14146 ابوالنجتری سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوعبیدۃ (رض) کو فرمایا : آگے آؤ میں تمہاری بیعت کرتا ہوں کیونکہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم اس امت کے امین ہو۔ حضرت ابوعبیدۃ (رض) نے فرمایا : میں ایسے شخص کے آگے کھڑا ہو کر کیسے نماز پڑھا سکتا ہوں جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تھا کہ ہماری امامت کریں حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوگیا۔ ابن عساکر
14146- عن أبي البختري قال: قال عمر لأبي عبيدة: هلم حتى أبايعك فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إنك أمين هذه الأمة، فقال أبو عبيدة: كيف أصلي بين يدي رجل أمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يؤمنا حتى قبض. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৪৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14147 ابوطلحہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی تو انصار کے خطباء کھڑے ہوئے اور بولے : اے گروہ مہاجرین ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب تم میں سے کسی کو (امیر بنا کر ) بھیجتے تھے تو ایک آدمی ہمارا اس کے ساتھ ملا دیتے تھے۔ حضرت زید بن ثابت (رض) کھڑے ہوئے اور فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مہاجرین میں سے تھے اور ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انصار (مددگار) تھے۔ پس اب بھی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جگہ کھڑا ہوگا ہم اس کے انصار (مددگار ) ہوں گے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہارے قبیلے کو اچھا بدلہ عطا کرے اے گروہ انصار اور اللہ تمہارے کہنے والے کو ثابت قدم رکھے۔ اللہ کی قسم ! اگر تم اس کے علاوہ کچھ اور کہتے تو ہم کبھی اس پر تم سے صلح نہ کرتے۔ الکبیر للطبرانی

کلام : روایت ضعیف ہے دیکھئے : ذخیرۃ الحفاظ 4527
14147- عن أبي طلحة قال: لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم قام خطباء الأنصار فقالوا: يا معاشر المهاجرين، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا بعث رجلا منكم قرنه برجل منا فنحن نرى أن يلي هذا الأمر رجلان: رجل منكم ورجل منا، فقام زيد بن ثابت فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان من المهاجرين وكنا أنصار رسول الله صلى الله عليه وسلم فنحن أنصار من يقوم مقامه فقال أبو بكر جزاكم الله خيرا من حي يا معشر الأنصار وثبت قائلكم والله لو قلت غير هذا ما صالحناكم. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৪৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14148 ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض ہوگئی تو انصار نے کہا : ہم میں سے ایک امیر ہوجائے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے انصار کی جماعت ! کیا تم کو معلوم نہیں ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوبکر کو امامت کے لیے آگے کیا ۔ اب تم میں کس کا دل گوارا کرتا ہے کہ وہ ابوبکر سے آگے بڑھے۔ ابونعیم فی فضائل الصحابۃ
14148- عن ابن مسعود قال: لما قبض النبي صلى الله عليه وسلم قالت الأنصار، منا أمير فأتاهم عمر فقال: يا معشر الأنصار ألم تعلموا أن النبي صلى الله عليه وسلم قدم أبا بكر يؤم فأيكم تطيب نفسه أن يتقدم أبا بكر. "أبو نعيم في فضائل الصحابة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৪৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14149 قعقاع بن عمرو سے مروی ہے کہ میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے موقع پر حاضر ہوا ہم نے ظہر کی نماز ادا کرلی تو ایک آدمی آیا اور مسجد میں کھڑا ہوگیا۔ پھر اس کے اطلاع دینے کے بعد لوگوں نے ایک دوسرے کو خبر دی کہ انصار جمع ہوئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عہد چھوڑ کر سعد کو اپنا امیر بنانا چاہتے ہیں۔ مہاجرین اس خبر سے وحشت زدہ ہوگئے۔ ابن جریر
14149- عن القعقاع بن عمرو قال: شهدت وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما صلينا الظهر جاء رجل فقام في المسجد فأخبر بعضهم بعضا ان الأنصار قد اجتمعوا أن يولوا سعدا ويتركوا عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاستوحش المهاجرون من ذلك. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৫০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14150 ابونضرۃ سے مروی ہے کہ جب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوئی تو انصار (بنی سقیفہ میں) جمع ہوگئے اور انصار کا خطیب بولا : تم جانتے ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب تم میں سے کسی کو امیر بنا کر بھیجتے تو ہم میں سے بھی ایک امیر بنا کر بھیجتے اور جب تم میں سے ایک امین بھیجتے تو ہم میں سے بھی ایک امین بنا کر بھیجتے تھے۔ ابن جریر
14150- عن أبي نضرة قال: لما توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم اجتمعت الأنصار فقام خطيب الأنصار فقال: قد علمتم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا بعث منكم أميرا بعث منا أميرا: وإذا بعث منكم أمينا بعث منا أمينا. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৫১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14151 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے جنگ جمل کے روز ارشاد فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے ساتھ لوئی ایسا عہد نہیں فرمایا تھا جس کو ہم امارت (حکومت) کے سلسلے میں سند بناسکیں۔ لیکن یہ ہماری اپنی رائے تھی اگر وہ درست ہو تو اللہ کی طرف سے ہے۔ چنانچہ پھر ابوبکر کو خلیفہ بنایا گیا ان پر اللہ کی رحمت ہو، وہ اس منصب پر قائم رہے اور ثابت قدم رہے پھر عمر کو خلیفہ بنایا گیا وہ بھی اس منصب پر قائم رہے اور ثابت قدم رہے حتیٰ کہ دین اپنے صحیح ٹھکانے پر آگیا۔ مسند احمد ، نعیم بن حماد فی الفص، ابن ابی عاصم ، الضعفاء للعقیلی، اللالکانی ، اللبیہقی فی الدلائل، الدروقی، السنن لسعید بن منصور
14151- عن علي أنه قال يوم الجمل: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يعهد إلينا عهدا نأخذ به في الإمارة، ولكنه شيء رأيناه من قبل أنفسنا فإن يك صوابا فمن الله، ثم استخلف أبو بكر رحمة الله على أبي بكر فأقام واستقام ثم استخلف عمر رحمة الله على عمر فأقام واستقام حتى ضرب الدين بجرانه"حم ونعيم بن حماد في الفتن وابن أبي عاصم عق واللالكائي ق في الدلائل والدورقي ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৫২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14152 قیس بن عباد سے مروی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے ارشاد فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو (زمین میں) شق کیا اور جسم میں روح پھونکی اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ساتھ کوئی عہد کرجاتے تو میں اس پر جنگ وجدال کرتا اور ابن ابی قحافہ (ابوبکر) کو نہ چھوڑتا کہ وہ منبر رسول کے ایک درجے پر بھی قدم رکھ سکے۔ العشاری
14152- عن قيس بن عباد قال: قال علي بن أبي طالب: والذي فلق الحبة وبرأ النسمةلو عهد إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم عهدا لجالدت عليه ولم اترك ابن أبي قحافة يرقى درجة واحدة من منبره. "العشاري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৫৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14153 سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) ابوبکر (رض) کی بیعت کے لیے نکلے اور ان کی بیعت کرلی۔ پھر انھوں نے انصار کی بات سنی تو ارشاد فرمایا : اے لوگو ! تم میں سے کون ہے جو اس شخص کو موخر کرے جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مقدم فرماچکے ہیں۔

حضرت سعید بن المسیب (رح) فرماتے ہیں : حضرت علی (رض) نے (ابوبکر (رض)) کے حق میں مذکورہ ایسی بات ارشاد فرمائی تھی جو ابھی تک کسی نے نہ کی تھی۔ العشاری، اللالکائی، الاصبھانی فی الحجۃ
14153- عن سعيد بن المسيب قال: خرج علي بن أبي طالب لبيعة أبي بكر فبايعه، فسمع مقالة الأنصار، فقال علي: يا أيها الناس أيكم يؤخر من قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال سعيد بن المسيب: فجاء علي بكلمة لم يأت بها أحد منهم. "العشاري واللالكائي والأصبهاني في الحجة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৫৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14154 ابوالجحاف سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) کی خلافت پر بیعت ہوئی تو وہ تین دن تک اپنے گھر کا دروازہ اندر سے بند کرکے بیٹھ رہے اور لوگوں کے پاس ہر روز آکر ارشاد فرماتے :

اے لوگو ! میں تم کو تمہاری بیعت واپس کرتا ہوں۔ لہٰذا تم جس کی چاہو بیعت کرلو۔

اور ہر روز حضرت علی (رض) کھڑے ہو کر ان کو جواب ارشاد فرماتے تھے :

ہم اپنی بیعت واپس ہرگز نہیں لیتے اور نہ آپ کو پہلی بیعت فسخ کرنے دیں گے۔ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو مقدم کرچکے ہیں، اب کون آپ کو موخر کرسکتا ہے ؟ العشاری
14154- عن أبي الجحافقال: لما بويع أبو بكر أغلق بابه ثلاثة أيام يخرج إليهم في كل يوم فيقول: أيها الناس قد أقلتكم بيعتكم فبايعوا من أحببتم، وكل ذلك يقوم إليه علي بن أبي طالب فيقول: لا نقيلك ولا نستقيلك وقد قدمك رسول الله صلى الله عليه وسلم فمن ذا يؤخرك؟ "العشاري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৫৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14155 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا :

حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر (رض) کی امارت اللہ کی کتاب میں ہے :

واذاسرالنبی الی بعض ازواجہ حدیثاً ،

اور جب نبی نے اپنی بعض بیویوں کے ساتھ سرگوشی میں بات کی یعنی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حفصہ کو فرمایا : تیرا باپ اور عائشہ کا باپ میرے بعد لوگوں کے والی (حاکم) ہوں گی۔ لہٰذا تم اس بات کی کسی کو خبر نہ دینا۔

الکامل لا بن عدی، العشاری، ابن مردویہ ، ابونعیم فی فضائل الصحابۃ، ابن عساکر

کلام : روایت ضعیف ہے ، الکامل لابن عدی، ذخیرۃ الحفاظ 5969 ۔
14155- عن علي قال: والله إن إمارة أبي بكر وعمر لفي كتاب الله: {وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثاً} قال لحفصة: أبوك وأبو عائشة واليا الناس من بعدي؛ فإياك أن تخبري أحدا. "عد والعشاري وابن مردويه وأبو نعيم في فضائل الصحابة كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৫৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض)
14156 سوید بن غفلہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو سفیان حضرت علی اور حضرت عباس کے پاس آئے اور بولے : اے علی ! اور اے عباس ! کیا بات ہے کہ یہ حکومت قریش کے ذلیل ترین اور چھوٹے قبیلے میں کس طرح چلی گئی ؟ اللہ کی قسم ! اگر تم چاہو تو میں اس شخص پر گھڑسوار اور پیادہ لشکروں کی بھر مار کرسکتا ہوں۔ حضرت علی (رض) نے ان کو فرمایا : نہیں، اللہ کی قسم ! میں ہرگز نہیں چاہتا کہ تم ایسا قدم اٹھاؤ اور ان پر پیادہ وسوار لوگوں کو چڑھاؤ۔ اگر ہم ابوبکر کو اس منصب کا اہل نہ سمجھتے تو ہرگز ان کو خلافت پر نہ چھوڑتے۔ اے ابوسفیان ! مومنین تو ایک دوسرے کے لیے خیر خواہ ہوتے ہیں اور باہم محبت کرنے والے (شیروشکر) ہوتے ہیں ، خواہ ان کے وطن اور جسم دور دور ہوں۔ جبکہ منافقین ایک دوسرے کے لیے دھوکا باز ہوتے ہیں۔ ابن عساکر
14156- عن سويد بن غفلة قال: دخل أبو سفيان على علي والعباس فقال: يا علي وأنت يا عباس ما بال هذا الأمر في أذل قبيلة من قريش وقلهاوالله لئن شئت لاملأنها عليه خيلا ورجالا، فقال له علي: لا والله ما أريد أن تملأها عليه خيلا ورجالا، ولولا أنا رأينا أبا بكر لذلك أهلا ما خليناه وإياها، يا أبا سفيان إن المؤمنين قوم نصحة بعضهم لبعض متوادون وإن بعدت ديارهم وأبدانهم، وإن المنافقين قوم غششة بعضهم لبعض. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৫৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض) ۔ " مسند عمر "
14157 (مسند عمر (رض)) قیس بن ابی حازم سے مروی ہے ، ارشاد فرمایا : میں نے حضرت عمر (رض) کو دیکھا آپ ہاتھ میں کھجور کی شاخ لیے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں : خلیفہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ابوبکر (رض)) کی بات سنو۔ مصنف ابن ابی شیبہ
14157- عن قيس بن أبي حازم قال: رأيت عمر بن الخطاب وبيده عسيب نخل وهو يقول: اسمعوا لخليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ش".

قتاله رضي الله عنه مع أهل الردة
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৫৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض) ۔ " مسند عمر "
14158 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) مرتدین سے نمٹنے کے لیے تیار ہوئے اور اپنی سواری پر بیٹھ گئے تو حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے آپ کی سواری کی باگ ڈور تھام لی اور فرمایا : اے خلیفہ رسول اللہ کہاں جارہے ہیں ؟ میں آپ کو آج وہی بات کہتا ہوں جو آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد کے دن فرمائی تھی کہ : اپنی تلوار کو نیام میں کرلیجئے اور اپنی جان کے ساتھ ہم کو رنج میں نہ ڈالیے۔ اور مدینہ واپس تشریف لے چلئے۔ اللہ کی قسم ! اگر آج ہم کو آپ کی جان کا رنج پہنچ گیا تو اسلام کا نظام کبھی نہیں سینپ سکے گا۔

الدارقطنی فی غرائب مالک، الخلعی فی الخلبیات

کلام : روایت ضعیف ہے، اس میں ابوغزیۃ محمد بن یحییٰ الزھری متروک راوی ہے۔
14158- عن ابن عمر قال: لما ندرأبو بكر الصديق إلى ذي القصة في شأن أهل الردة واستوى على راحلته أخذ علي بن أبي طالب بزمام راحلته وقال: إلى أين يا خليفة رسول الله أقول لك ما قال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أحد: شم سيفكولا تفجعنا بنفسك، وارجع إلى المدينة فوالله لئن فجعنا بك لا يكون للإسلام نظام أبدا. "قط في غرائب مالك والخلعي في الخلعيات" وفيه أبو غزية محمد بن يحيى الزهري متروك.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৫৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض) ۔ " مسند عمر "
14159 (مسند ابی بکر (رض)) حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ جب عرب قبائل مرتد ہوگئے۔ اور مہاجرین کی رائے ایک ہوگئی جن میں میں بھی شامل تھا، تو ہم نے عرض کیا : اے خلیفہ رسول اللہ ! لوگوں کو چھوڑ دیئے وہ نماز پڑھتے رہیں اور زکوۃ ادا کرتے رہیں کیونکہ اگر ایمان ان کے دلوں میں داخل ہوگا تو وہ اس کا اقرار بھی کرلیں گے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر میں آسمان سے نیچے گر جاؤں تو یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ ایسی بات چھوڑ دوں جس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قتال کیا تھا۔ میں بھی اس پر ضرور قتال کروں گا ۔ چنانچہ آپ (رض) نے عرب مرتدین سے قتال کیا حتیٰ کہ وہ اسلام کی طرف لوٹ آئے۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ابوبکر کا وہ ایک دن عمر کی ساری آل سے بہتر ہے۔ العدنی
14159- "مسند أبي بكر" عن عمر قال: لما اجتمع رأي المهاجرين وأنا فيهم حين ارتدت العرب فقلنا: يا خليفة رسول الله اترك الناس يصلون ولا يؤدون الزكاة فإنهم لو قد دخل الإيمان في قلوبهم لأقروا بها فقال أبو بكر: والذي نفسي بيده، لأن أقع من السماء أحب إلي من أن أترك شيئا قاتل عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا أقاتل عليه فقاتل العرب حتى رجعوا إلى الإسلام، فقال عمر: والذي نفسي بيده لذلك اليوم خير من آل عمر. "العدني".
tahqiq

তাহকীক: