কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৫ টি

হাদীস নং: ১৪১৬০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض) ۔ " مسند عمر "
14160 زہری (رح) سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے مرتدین سے قتال کے لیے لشکر بھیجا تو ان کو ارشاد فرمایا : (جہاں بھی لشکر کشی کرو) پہلے وہاں رات بسر کرو جہاں کہیں تم اذان کی آواز سنو وبال قتال کرنے سے رک جاؤ کیونکہ اذان ایمان کا شعار (علامت ) ہے۔

الجامع لعبد الرزاق
14160- عن الزهري قال: لما بعث أبو بكر الصديق لقتال أهل الردة قال: بيتوافأينما سمعتم فيها الأذان فكفوا عنها فإن الأذان شعار الإيمان. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৬১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض) ۔ " مسند عمر "
14161 ابن اسحاق (رح) سے مروی ہے ، مجھے طلحہ بن عبیداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر (رض) جب لشکروں کو مرتدین سے لڑائی کے لیے روانہ فرماتے تو ان کو ارشاد فرماتے : جب تم کسی علاقے کو گھیرا ڈالو اگر وہاں تم کو اذان کی آواز سنائی دے تو جنگ سے رک جاؤ۔ حتیٰ کہ تم پھر ان سے سوال کرو کہ تم کو (اسلام میں ) کیا عیب نظر آیا۔ اگر تم کو اذان کی آواز سنائی نہ دے تو وہاں غارت گری کردو، قتل کرو، جلاؤ اور خوب خونریزی کرو اور تمہارے نبی کی موت کی وجہ سے تم میں کسی طرح کی کمزوری نظر نہ آنا چاہیے۔ السنن للبیہقی
14161- عن ابن إسحاق قال: حدثني طلحة بن عبيد الله بن أبي بكر يأمر أمراءهم حين كان يبعثهم في الردة إذا غشيتم دارا فإن سمعتم بها أذانا فكفوا حتى تسألوهم ماذا تنقموافإن لم تسمعون أذانا فشنوها غارة واقتلوا واحرقوا وانهكوافي القتل والجراح لا يرى بكم وهن لموت نبيكم. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৬২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض) ۔ " مسند عمر "
14162 عاصم بن خمرہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وافت کے بعد علقمۃ بن علاثۃ اپنے دین سے پھرگئے اور صلح کرنے (اسلام) میں آنے سے انکار کردیا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے ان کو فرمایا : تم سے رسوا کن صلح قبول کریں گے یا پھر تم کو کھلی جنگ میں آنا پڑے گا۔ علقمہ نے پوچھا : رسوا کن صلح کیا ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : یہ کہ تم شہادت دو گے ہمارے مقتول جنت میں ہیں اور تمہارے مقتول جہنم میں۔ نیز تم ہمارے مقتولوں کی دیت ادا کرو گے اور ہم تمہارے مقتولوں کی دیت نہیں دیں گے۔ چنانچہ انھوں نے رسوا کن صلح اختیار کرلی۔ السنن للبیہقی ، الجامع لعبد الرزاق
14162- عن عاصم بن ضمرة قال: ارتد علقمة بن علاثة عن دينه بعد النبي صلى الله عليه وسلم وأبى أن يجنح للسلم فقال أبو بكر: لا يقبل منك إلا سلم مخزية أو حرب مجلية قال: ما سلم مخزية؟ قال: تشهدون على قتلانا أنهم في الجنة، وأن قتلاكم في النار وتدونقتلانا ولا ندي قتلاكم، فاختاروا سلما مخزية. "ق عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৬৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض) ۔ " مسند عمر "
14163 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے : مجھے حکم ملا ہے کہ میں لوگوں سے قتال داری رکھوں حتیٰ کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ۔ نیز نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر وہ مجھے ایک رسی نہ دیں گے جو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زکوۃ میں دیتے تھے تو میں اس پر بھی ان سے قتال کروں گا۔ السنن للبیہقی
14163- عن أنس قال: قال أبو بكر: إنما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأني رسول الله ويقيموا الصلاة ويؤتوا الزكاة والله لو منعوني عقالا مما كانوا يعطون رسول الله صلى الله عليه وسلم لأقاتلنهم عليه. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৬৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض) ۔ " مسند عمر "
14164 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض ہوگئی تو مدینہ میں نفاق عام ہوگیا، عرب مرتد ہوگئے ، عجم مرتد ہوگئے دھمکیاں دینے لگے اور نہاوند میں اکٹھے ہوگئے اور بولے : اب وہ شخص مرچکا ہے جس کی وجہ سے عرب کی مدد کی جاتی تھی۔

چنانچہ حضرت ابوبکر (رض) مہاجرین اور انصار کو اکٹھا فرمایا اور پھر ارشاد فرمایا : عرب نے اپنی بکریاں اور اونٹ (زکوۃ میں دینے سے) روک لیے ہیں اور اپنے دین سے پھرگئے ہیں۔ جبکہ عجم نہاوند میں ہمارے خلاف جمع ہوگئے ہیں تاکہ تم سے قتال کریں۔ اور ان سب کا خیال ہے کہ جس شخص کی وجہ سے تمہاری مدد کی جاتی تھی اس کا انتقال ہوچکا ہے۔ اب تم لوگ مجھے مشورہ دو کیونکہ میں تم میں سے ایک عام آدمی ہوں میں تم کو اس آزمائش میں بھیجنا چاہتا ہوں۔

یہ سن کر حاضرین نے کافی دیر تک اپنے سر بگریبان کرلیے۔ پھر حضرت عمر (رض) بولے : میرا خیال ہے اللہ کی قسم ! اے خلیہ رسول اللہ ! آپ عرب سے صرف نماز قبول کرلیں اور زکوۃ ان سے چھوڑ دیں۔ کیونکہ ان کا زمانہ جاہلیت ابھی قریب ہی گزرا ہے، ابھی اسلام ان سے بدلہ نہ لے سکے گا۔ یا تو اللہ پاک ان کو خیر کی طرف واپس فرمادے گا یا پھر اللہ پاک اسلام کو غالب کردے گا، تب ہم طاقت ور ہوجائیں گے پھر ان کے ساتھ قتال کرلیں گے۔ ابھی یہ باقی ماندہ مہاجرین و انصار ہیں سارے عرب وعجم کا کیا مقابلہ کریں گے۔

پھر حضرت ابوبکر (رض) حضرت عثمان (رض) کی طرف متوجہ ہوئے۔ انھوں نے بھی اسی کی مثل کہا ۔ پھر حضرت علی (رض) کی طرف متوجہ ہوئے انھوں نے بھی اس کی مثل مشورہ دیا۔ پھر دوسرے مہاجرین نے بھی انہی کی پیروی کی۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) انصار کی طرف متوجہ ہوئے وہ بھی گزشتہ لوگوں کی طرح بولے۔ یہ صورت حال دیکھ کر حضرت ابوبکر (رض) منبر پر چڑھ گئے اللہ کی حمدوثناء کی پھر ارشاد فرمایا :

امابعد ! اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا جب حق ناپید تھا، ترش رو تھا، اسلام غریب تھا، دھتکارا ہوا تھا، اس کی رسی بوسیدہ ہوچکی تھی اور اس کے اہل و عیال کم پڑگئے تھے۔ پھر اللہ نے ان کو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جمع کردیا اور ان کی باقی رہنے والی کو امۃ وسطاً قرار دیا۔

اللہ کی قسم ! اب میں اللہ کے حکم کو قائم کرکے رہوں گا اور اس کی راہ میں جہاد کرتا رہوں گا حتیٰ کہ اللہ پاک ہمارے ساتھ اپنا وعدہ پورا کردے اور اپنا عہد پورا کردے ۔ پھر جو قتل ہوجائے گا وہ شہادت کی موت مرے گا اور جنت میں جائے گا اور جو پیچھے رہ جائیں گے وہ اللہ کی زمین میں اس کے خلیفہ بن کر رہیں گے اور حق کی عبادت کرنے والے ہوں گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے ہم کو فرمایا ہے جس کی وعدہ خلافی نہیں ہوتی :

وعدہ اللہ الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم،

اللہ نے وعدہ فرمایا ہے ان لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے اچھے اعمال کیے ان کو زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح ان لوگوں کو خلیفہ بنایا جو ان سے پہلے تھے۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر وہ مجھے ایک رسی دینے سے بھی انکار کریں گے جو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا کرتے تھے اور پھر ان کی مدد میں شجروحجر اور جن وانس بھی جمع ہوجائیں تو میں ان سے تب تک جہاد کرتا رہوں گا جب تک کہ میری روح اللہ سے نہیں جاملتی۔ بیشک اللہ نے نماز اور زکوۃ میں فرق نہیں کیا بلکہ ان کو ایک ساتھ ذکر کیا ہے۔

(یہ سن کر) حضرت عمر (رض) نے نعرہ اللہ اکبر بلند کیا اور فرمایا : اللہ کی قسم ! اللہ کی قسم ! جب اللہ نے ابوبکر کو قتال پر مضبوط اور پختہ عزم عطا کردیا تب مجھے خوب معلوم ہوگیا کہ یہی حق ہے۔

الخطیب فی رواۃ مالک
14164- عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: لما قبض النبي صلى الله عليه وسلم اشرأبالنفاق بالمدينة، وارتدت العرب، وارتدت العجم وأبرقت وتواعدوا نهاوند وقالوا: قد مات هذا الرجل الذي كانت العرب تنصر به فجمع أبو بكر المهاجرين والأنصار وقال: إن هذه العرب قد منعوا شاتهم وبعيرهم ورجعوا عن دينهم، وإن هذه العجم قد تواعدوا نهاوند ليجمعوا لقتالكم وزعموا أن هذا الرجل الذي كنتم تنصرون به قد مات فأشيروا علي فما أنا إلا رجل منكم وإني أثقلكم حملا لهذه البلية فأطرقوا طويلا ثم تكلم عمر بن الخطاب فقال: أرى والله يا خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تقبل من العرب الصلاة وتدع لهم الزكاة فإنهم حديث عهد بجاهلية لم يقدهمالإسلام، فإما أن يردهم الله إلى خير، وإما أن يعز الله الإسلام فنقوى على قتالهم، فما لبقية المهاجرين والأنصار يدان للعرب والعجم قاطبة فالتفت إلى عثمان فقال: مثل ذلك، وقال علي: مثل ذلك، وتابعهم المهاجرون ثم التفت إلى الأنصار فتابعوهم، فلما رأى ذلك صعد المنبر فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: أما بعد فإن الله بعث محمدا صلى الله عليه وسلم والحق قل شريد والإسلام غريب طريد قد رث حبله وقل أهله، فجمعهم الله بمحمد صلى الله عليه وسلم وجعلهم الأمة الباقية الوسطى والله لا أبرح أقوم بأمر الله وأجاهد في سبيل الله حتى ينجز الله لنا وعده ويفي لنا عهده، فيقتل من قتل منا شهيدا في الجنة، ويبقى من بقي منا خليفة الله في أرضه ووارث عبادة الحق فإن الله تعالى قال لنا ليس لقوله خلف: {وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ} والله لو منعوني عقالا مما كانوا يعطون رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم أقبل معهم الشجر والمدر والجن والإنس لجاهدتهم حتى تلحق روحي بالله إن الله لم يفرق بين الصلاة والزكاة، فجمعهما فكبر عمر وقال: والله قد علمت حين عزم الله لأبي بكر على قتالهم أنه الحق.

"خط في رواة مالك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৬৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض) ۔ " مسند عمر "
14165 صالح بن کیسان سے مروی ہے کہ جب ردۃ کا واقعہ پیش آیا (لوگ مرتد ہونے لگے) تو حضرت ابوبکر (رض) کھڑے ہوئے ، اللہ کی حمدوثناء کی ، پھر ارشاد فرمایا :

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہدایت بخشی اور کفایت کی ، عطا کیا اور غنی کردیا ۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا جس وقت علم مفقود تھا، اسلام اجنبی اور دھتکارا ہوا تھا، اس کی رسی بوسیدہ تھی اور اس کا عہد کمزور تھا، اللہ پاک اہل کتاب سے ناراض تھا لہٰذا اس نے ان کو خیر عطا نہیں کی اور ان سے شر کو دفع نہیں کیا جو ان کے پاس تھا۔ انھوں نے اپنی کتاب کو تبدیل کردیا تھا اور وہ باتیں اس میں ڈال دی تھیں جو اس میں سے نہیں تھیں۔ جبکہ عرب ان پڑھ اور اللہ سے نابلد تھے، اس کی عبادت کرتے تھے اور نہ اس کو پکارتے تھے۔ ان کی زندگی مشقت و سختی میں تھی، وہ دین میں گمراہ تھے، ممنوعہ زمین میں تھے۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ان کے کچھ رفقاء تھے۔ جن کو اللہ نے اپنے نبی محمد کے ساتھ جمع کردیا تھا پھر ان کو امت وسطاً قرار دیا، ان کو ان کے پیروکاروں کے ساتھ مدد عطا کی، ان کے دشمنوں پر ان کو نصرت عطا کی حتیٰ کہ پھر اللہ پاک نے اپنے نبی کو اٹھا لیا۔ پھر شیطان دوبارہ ان کی اس سواری پر سوار ہوگیا جس سے اللہ نے اس کو اتاردیا تھا۔ اس نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور ان کے ہلاک زدگان کا مردہ سنا :

وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افان مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم ومن ینقلب علی عقبیہ فلن یضر اللہ شیئا وسیجزی اللہ الشاکرین،

اور محمد صرف رسول ہی تو ہیں، ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں، کیا اگر وہ مرگئے یا شہید کردیئے گئے تو کیا تم پلٹ جاؤ گے ایڑیوں کے بل (الٹے پاؤں) اور جو الٹے پاؤں پھرا وہ اللہ کو کچھ نقصان نہیں دے گا اور عنقریب اللہ شکر گزاروں کو (اچھا) بدلہ عطا کرے گا۔

لوگو ! تمہارے آس پاس موجود عرب نے بکری اور انوٹ زکوۃ میں دینے سے روک لیے ہیں اب وہ اپنے دین میں نہیں رہے۔ اگر وہ اس کی طرف واپس آجائیں تو میں ان پر یہ جنگ مسلط نہیں کروں گا لیکن وہ پھر تمہارے دین میں تم سے قوی ہرگز نہ ہوں گے۔ یہ دین تم کو اس لیے دیکھنا پڑا ہے کہ تم سے تمہارے پیغمبر کی برکت چلی گئی ہے۔ لیکن وہ تم کو اس ذات پر نگہبان کے سپرد کرگیا ہے جو کافی ہے اور اول ہے۔ جس نے تمہارے نبی کو بھٹکا پایا تھا پھر اس کو ہدایت بخشی تھی ، فقیر پایا تھا پھر اس کو غنی و مالدار کردیا تھا :

ووجدک صالا فتھدی ووجدک عائلا فاغنی،

جبکہ تم کو اس نے جہنم کے کنارے پر کھڑا پایا تو تم کو اس سے بچا لیا۔

اب اللہ کی قسم ! میں نہیں چھوڑوں گا بلکہ اللہ کے امر پر قتال کرتا رہوں گا حتیٰ کہ اللہ پاک اپنا وعدہ پورا کردے اور اپنا عہد پورا کردے۔ جو ہم میں سے قتل ہوگیا وہ جنت میں ہوگا جو ہم میں سے بچ گیا وہ اللہ کا خلیفہ اور اس کا وارث ہوگا اس کی زمین پر۔ اللہ حق کا فیصلہ کرے گا اور اس کی بات میں کوئی وعدہ خلافی نہیں :

وعداللہ الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنھم فی الارض

یہ فرما کر حضرت ابوبکر (رض) منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔ ابن عساکر

کلام : امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں : اس روایت مذکورہ میں انقطاع ہے صالح بن کیسان اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے درمیان، لیکن روایت الفاظ متن کے حوالے سے بذات خود صحیح ہے کیونکہ اس کی بہت سی نظیریں موجود ہیں۔
14165- عن صالح بن كيسان قال: لما كانت الردة قام أبو بكر فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: الحمد لله الذي هدى فكفى وأعطى فأغنى إن الله بعث محمدا صلى الله عليه وسلم والعلم شريد والإسلام غريب طريد قد رث حبله وخلق عهده وضل أهله عنه ومقت الله أهل الكتاب فلم يعطهم خيرا لخير عندهم، ولا يصرف عنهم شرا لشر عندهم، وقد غيروا كتابهم، وألحقوا فيه ما ليس فيه والعرب الأميون صفر من الله لا يعبدونه ولا يدعونه أجهدهمعيشا وأضلهم دينا في ظلفمن الأرض معه فئة الصحابة فجمعهم الله بمحمد صلى الله عليه وسلم وجعلهم الأمة الوسطى نصرهم بمن اتبعهم ونصرهم على غيرهم حتى قبض الله نبيه صلى الله عليه وسلم فركب منهم الشيطان مركب الذي أنزله الله عنه وأخذ بأيديهم ونعىهلكهم {وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئاً وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ} إن من حولكم من العرب منعوا شاتهم وبعيرهم ولم يكونوا في دينهم، وإن رجعوا إليه أزهد منهم يومهم هذا ولم يكونوا في دينكم أقوى منكم يومكم هذا على ما فقدتم من بركة نبيكم صلى الله عليه وسلم ولقد وكلكم إلى الكافي الأول الذي وجد ضالا فهداه وعائلا فأغناه وكنتم على شفا حفرة من النار فأنقذكم منها والله لا أدع أقاتل على أمر الله حتى ينجز الله وعده ويوفي لنا عهده، ويقتل من قتل شهيدا من أهل الجنة ويبقى من بقي منا خليفة ووارثه في أرضه قضى الله الحق وقوله الذي لا خلف فيه: {وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ} ثم نزل "كر" قال ابن كثير فيه انقطاع بين صالح بن كيسان والصديق لكنه يشهد لنفسه بالصحة لجزالة ألفاظه وكثرة ماله من الشواهد
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৬৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض) ۔ " مسند عمر "
14166 حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ میرے والد اپنی تلوار سونتے ہوئے اپنی سواری پر تشریف فرما مرتدین کی طرف نکلے۔ حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے آکر ان کی سواری کی عنان تھام لی اور فرمایا : اے خلیفہ رسول اللہ ! کہاں جارہے ہیں، میں آج آپ کو وہی بات دہراتا ہوں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ احد میں آپ کو ارشاد فرمائی تھی کہ :

اپنی تلوار کو نیام میں کرلو اور اپنی جان کا غم ہمیں نہ دو ۔ اللہ کی قسم ! اگر ہم کو آپ کی طرف سے کوئی دکھ پہنچ گیا تو آپ کے بعد اسلام کا نظام نہیں ٹھہر سکے گا۔

یہ سن کر حضرت ابوبکر (رض) لوٹ گئے اور لشکر کو روانہ کردیا۔ زکریا الساجی
14166- عن عائشة قالت: خرج أبي شاهرا سيفه راكبا إلى راحلته ذي القصة فجاء علي بن أبي طالب فأخذ بزمام راحلته وقال: إلى أين يا خليفة رسول الله أقول لك ما قال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أحد شم سيفك ولا تفجعنا بنفسك فوالله لأن أصبنا بك لا يكون للإسلام بعدك نظام أبدا فرجع وأمضى الجيش. "زكريا الساجي"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৬৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت ابی بکرالصدیق (رض) ۔ " مسند عمر "
14167 حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) مرتدین سے جنگ کے لیے اپنی سواری پر سوار ہوئے تو حضرت علی (رض) نے ان کی سواری کی لگام تھام لی اور فرمایا : اے خلیفہ رسول اللہ ! کہا ! آج میں آپ کو وہی بات کہتا ہوں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کو جنگ احد کے دن فرمائی تھی۔

اپنی تلوار کو نیام میں کرلیں ، اپنی جان کا غم ہمیں نہ دیں۔ اور مدینے واپس لوٹ جائیں۔ اللہ کی قسم ! اگر ہم کو آپ کا صدمہ پہنچ گیا تو اسلام کا نظام کبھی قائم نہ ہوسکے گا۔

الدارقطنی فی غرائب مالک، الخلعی فی الخلعیات

کلام : مذکورہ روایت کی سند میں ابوغزیۃ محمد بنی یحییٰ الزہری متروک ہے۔

نوٹ : اس مضمون کی کئی احادیث وجوب الزکوۃ میں ذکر کی گئی ہیں۔
14167- عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: لما ندر أبو بكر الصديق رضي الله عنه إلى ذي القصة في شأن أهل الردة واستوى على راحلته أخذ علي بن أبي طالب رضي الله عنه بزمام راحلته وقال: إلى أين يا خليفة رسول الله أقول لك ما قال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أحد: شم سيفك ولا تفجعنا بنفسك وارجع إلى المدينة فوالله لئن فجعنا بك لا يكون للإسلام نظام أبدا. "قط في غرائب مالك والخلعي في الخلعيات" وفيه أبو غزية محمد بن يحيى الزهري متروك ثم اعلم رحمك الله أن بعض الأحاديث من هذا النوع ذكر في وجوب الزكاة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৬৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یزید بن ابی سفیان کو لشکر کا امیر بنانا
14168 (مسند صدیق (رض)) حضرت یزید بن ابی سفیان (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) نے مجھے ملک شام (لشکر دے کر) بھیجا تو مجھے ارشاد فرمایا :

اے یزید ! تیرے کچھ رشتے دار (شامل) ہیں۔ ممکن ہے تو ان کو امارت۔ حکومت میں ترجیح دے۔ اور یہی وہ بات ہے جس کا مجھے تجھ پر سب سے زیادہ خوف ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :

جو مسلمانوں کے کاموں کا حاکم بنے پھر وہ ان پر کسی کو ناحق امیر بنائے اس پر اللہ کی لعنت ہے۔ اللہ پاک اس کا کوئی نہ فرض قبول فرمائیں گے اور نہ نفل۔ حتیٰ کہ اس کو جہنم میں داخل کردیں گے۔ اور جو کسی کو اس کی محبت میں اس کے بھائی کا مال ۔ ناجائز طور پر دے، اس پر بھی اللہ کی لعنت ہے، یا فرمایا : اس سے اللہ کا ذمہ بری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اللہ پر ایمان لائیں پس وہ ایمان کی بدولت اللہ کی حمیٰ پناہ میں ہیں۔ پس جس نے اللہ کی حمی میں ناحق ظلم کیا اس پر اللہ کی لعنت ہے یا فرمایا : اس سے اللہ عزوجل کا ذمہ بری ہے۔

مسند احمد، منصور بن شعبہ البغدادی فی الریعین

کلام : روایت کا متن حسن جبکہ اسناد ضعیف ہے۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں : یہ حدیث کتب ستہ میں کوئی معیار نہیں رکھتی۔ انھوں نے اس حدیث سے اعراض اس کے شیخ بقیہ کی جہالت کی وجہ سے کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی صحت متن کی بات جو دل میں پیدا ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے مسلمانوں کے اوپر ان کے اچھے لوگوں کو ہی امیر بنایا ہے۔ جو اس روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے۔
14168- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن يزيد بن أبي سفيان قال أبو بكر: لما بعثني إلى الشام يا يزيد إن لك قرابة عسيت تؤثرهم بالإمارة وذلك أكبر ما أخاف عليك فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من ولي من أمور المسلمين شيئا فأمر عليهم أحدا محاباة له بغير حق فعليه لعنة الله لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا حتى يدخله جهنم ومن أعطى أحدا من مال أخيه محاباة له فعليه لعنة الله أو قال برئت منه ذمة الله إن الله دعا الناس إلى أن يؤمنوا بالله فيكونوا حمى الله، فمن انتهك في حمى الله شيئا بغير حق فعليه لعنة الله أو قال: برئت منه ذمة الله عز وجل.

"حم ك ومنصور بن شعبة البغدادي في الأربعين" وقال: حسن المتن غريب الإسناد وقال ابن كثير ليس هذا الحديث في شيء من الكتب الستة وكأنهم أعرضوا عنه لجهالة شيخ بقية قال: والذي يقع في القلب صحة هذا الحديث فإن الصديق كذلك فعل ولى على المسلمين خيرهم بعده.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৬৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خالد بن ولید کو لشکر کا امیر بنانا
14169 (مسند صدیق (رض)) نافع (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے خالد بن الولید کو مرتدین سے قتال کے لیے لکھا کہ تم جس کو پاؤ کہ اس نے مسلمانوں کو قتل کیا ہے اس کو قتل کردو اور عبرت ناک سزا دو ۔ اور جس نے بھی اللہ سے کنارہ کیا ہے، اس سے جنگ مول لی اور تم اس کے قتل میں بہتری سمجھو تو اس کو بلا دریغ قتل کردو۔

چنانچہ حضرت خالد بن الولید (رض) بزاخۃ میں ایک ماہ تک رہے۔ جہاں مرتدین تھے آپ اس علاقے میں بار بار آتے جاتے ، ان میں سے آپ نے بہتوں کو قتل کردیا، کسی کو جلادیا، کسی کو بندھوا کر پتھروں سے ہلاک کرادیا اور کسی کو پہاڑوں کی چوٹیوں سے کروادیا۔ ابن جریم
14169- "مسند الصديق" عن نافع قال: كتب أبو بكر إلى خالد بن الوليد في قتال أهل الردة، لا تظفرن بأحد قتل المسلمين إلا قتلته ونكلت به عبرة ومن أحببت ممن حاد الله أو ضاده ممن ترى أن في ذلك صلاحا فاقتله فأقام على بزاخة شهرا يصعد عنها ويصوب ويرجع إليها في طلب أولئك وقتلهم؛ فمنهم من أحرق، ومنهم من قمطه ورضخه بالحجارة، ومنهم من رمى به من رؤوس الجبال. "ابن جرير"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৭০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خالد بن ولید کو لشکر کا امیر بنانا
14170 عروۃ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکرصدیق (رض) نے خالد بن الولید کو مرتدین عرب کی طرف بھیجا تو ان کو فرمایا ان کو اسلام کی طرف بلاؤ اور اس میں ان کے فوائد بتاؤ نہ ماننے کی صورت میں نقصانات سے ڈراؤ۔ کوشش اور لاچ کرو کہ ان کو ہدایت مل جائے۔ پھر جو لوگ تمہاری بات کو قبول کرلیں گورے ہوں یا کلے ہر ایک کے اسلام کو قبول کیا جائے۔ قتال تو صرف ان لوگوں سے ہے جو ایمان لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوگئے۔ چنانچہ پھر بھی اگر کوئی اسلام کو قبول کرلے اور اس کا ایمان سچا ہو تو اس کے ساتھ جنگ کا کوئی جواز نہیں۔ اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ ہاں جو اسلام میں واپس نہ آئیں اور اس میں آکر پھر چکے ہوں ان کو قتل کرو۔ السنن للبیہقی
14170- عن عروة أن أبا بكر الصديق أمر خالد بن الوليد حين بعثه إلى من ارتد من العرب أن يدعوهم بدعاية الإسلام ويبينهم بالذي لهم فيه وعليهم ويحرص على هداهم فمن أجابه من الناس كلهم أحمرهم وأسودهم كان يقبل ذلك منه بأنه إنما يقاتل من كفر بالله على الإيمان بالله فإذا أجاب المدعو إلى الإسلام وصدق إيمانه لم يكن عليه سبيل وكان الله هو حسيبه، ومن لم يجبه إلى ما دعاه إليه من الإسلام ممن يرجع عنه ان يقتله."ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৭১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حبشہ کی لشکر کشی
14171 (مسند الصدیق) عبدالرحمن بن جبیر سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) نے اہل حبشہ کو ملک شام کی طرف بھیجا تو ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء کرنے کے بعد ان کو ملک شام کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا اور ملک شام کے فتح ہوجانے کی خوشخبری دی اور فرمایا تم وہاں مساجد بھی تعمیر کرو گے۔ ہمیں معلوم نہیں کہیں تم وہاں جاکر غافل نہ ہوجاؤ۔ کیونکہ ملک شام سرسبز اور فراوانی والی سرزمین ہے۔ وہاں تم کو طعام اور غلے کی کثرت ملے گی۔ وہاں جاکر تم (نعمتوں کی فراوانی میں) اکڑ نہ جانا۔ رب کعبہ کی قسم ! تم وہاں جاکر دھوکے میں پڑو گے اور اتراؤ گے۔ میں تم کو (سختی کے ساتھ) دس باتوں کی تاکید کرتا ہوں ان کو اچھی طرح یاد رکھنا۔ کسی بالکل لاغر بوڑھے کو قتل نہ کرنا، نہ چھوٹے بچے کو قتل کرنا، نہ عورت کو، کسی گھر کو ڈھانا نہیں، پھل دار درخت کو نہ کاٹنا، کسی مویشی کو بلاوجہ ذبح نہ کرنا ہاں مگر کھانے کے لئے، کھجور کے درخت کو نہ چلانا، جنگ میں کوتاہی نہ کرنا، بزدلی نہ دکھانا، مال غنیمت میں دھوکا نہ کرنا اور کچھ لوگ تم کو سر منڈے ملیں گے ان شیطانوں کو سرینوں پر تلوار مار مار کر قتل کردینا۔ اللہ کی قسم ! میں ان میں سے ایک آدمی کو قتل کروں یہ مجھے عام ستر کافروں کے مارنے سے زیادہ پسند ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

فقاتلوا ائمۃ الکفر انھم لا ایمان لھم،

پس کفر برغنوں کو قتل کرو، ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ ابن عساکر
14171- "مسند الصديق" عن عبد الرحمن بن جبير أن أبا بكر لما وجه الحبشة قام فيهم فحمد الله وأثنى عليه، ثم أمرهم بالمسير إلى الشام وبشرهم بفتح الله إياها حتى تبنوا فيها المساجد فلا نعلم أنكم إنما تأتونها تلهيا، فالشام شبيعة يكثر لكم فيها من الطعام فاياي والأشرأما ورب الكعبة لتأشرن ولتبطرن، وإني موصيكم بعشر كلمات فاحفظوهن: لا تقتلن شيخا فانيا، ولا ضرعاصغيرا، ولا امرأة، ولا تهدموا بيتا، ولا تقطعوا شجرا مثمرا، ولا تعقرن بهيمة إلا لأكل ولا تحرقوا نخلا، ولا تقصر، ولا تجبن، ولا تغلل، وستجدون آخرين محلقة رؤوسهم فاضربوا مقاعد الشيطان منها بالسيوف، والله لأن أقتل رجلا منهم أحب إلي من أن أقتل سبعين من غيرهم ذلك بأن الله قال: {فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لا أَيْمَانَ لَهُمْ} . "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৭২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روم کی طرف لشکرکشی
14172 (مسند الصدیق) اسحاق بن بشر سے مروی ہے کہ ہم کو ابن اسحاق نے زہری سے بیان کیا، زہری کہتے ہیں : ہم کو ابن کعب نے عبداللہ بن ابی اوفی الخراعی (رض) سے نقل کیا :

عبداللہ بن ابی اوفیٰ (رض) فرماتے ہیں : جب حضرت ابوبکر (رض) نے غزوہ روم کا ارادہ فرمایا تو علی، عمر، عثمان، عبدالرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید، ابوعبیدۃ بن الجراح اور بدری مہاجرین و انصاری صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہم کو بلایا۔ چنانچہ یہ سب حضرات حضرت ابوبکر (رض) کے پاس داخل ہوئے۔

راوی عبداللہ بن ابی اوفیٰ (رض) فرماتے ہیں : میں بھی ان میں شامل تھا۔

حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا :

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا احصاء (شمار) ممکن نہیں ہے، اعمال ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کلمہ کو جمع کردیا ہے، تمہیں آپس میں صلح جو بنادیا ہے ، تم کو اسلام کی ہدایت بخش دی ہے اور شیطان کو تم سے دور کردیا ہے۔ اب وہ اس بات کی طمع و لالچ نہیں کرسکتا کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ گے اور نہ تم کسی دوسرے الٰہ کو اپنا معبود بناسکتے ہو۔ پس عرب آج ایک ماں باپ کی اولاد ہیں۔ میں نے ارادہ کیا ہے کہ مسلمانوں کو شام کی طرف رومیوں سے جہاد کے لیے نکالوں تاکہ اللہ پاک مسلمانوں کو تقویت عطا کرے اور اپنے کلمے کو اونچا کرے، اس کے علاوہ اس میں خود مسلمانوں کے لیے بھی بڑا اجر اور بہت بڑا فائدہ ہے۔ اس لیے کہ جو اس جنگ میں ہلاک ہوا وہ شہادت کا رتبہ پائے گا اور پھر جو اللہ کے ہاں نیکوں کے لیے ذخیرہ ہے وہ بہت بہتر ہے۔ اور جو زندہ رہے گا وہ مسلمانوں کے لیے مدافعت کار اور اللہ کے ہاں مجاہدین کا اجر پانے والا ہوگا۔ میری یہی رائے ہے جو میں نے سوچی ہے۔ کوئی بھی آدمی مجھے اپنی رائے دے سکتا ہے۔

حضرت عمر (رض) کی تقریر

چنانچہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا :

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو جس کو چاہتا ہے خیر کے ساتھ مخصوص کردیتا ہے اللہ کی قسم ! ہم نے جب بھی کسی خیر کی طرف سبقت کی مگر آپ ہم سے ہمیشہ سبقت لے گئے۔ یہ محض اللہ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے عطا کردیتا ہے اور اللہ عظیم فضل والا ہے۔ اللہ کی قسم ! میں بھی آپ کے کے ساتھ بالکل اسی رائے کے ساتھ ملاقات کرنے والا تھا۔ ابھی آپ نے یہی بات ذکر فرمادی۔ بیشک آپ کی رائے درست ہے اللہ پاک بھی آپ کو سیدھی راہوں کی توفیق نصیب کرے۔

آپ کافروں پر گھوڑوں کے پیچھے گھوڑے دوڑادیں ، پیادوں کے پیچھے پیادوں کی قطار باندھ دیں اور لشکروں پر لشکر بھیجنا شروع کردیں بیشک اللہ پاک اپنے دین کی نصرت فرمائے گا، اسلام اور اہل اسلام کو عزت عطا کرے گا۔

پھر حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) اٹھے اور ارشاد فرمایا : اے خلیفہ رسول اللہ ! وہ اہل روم ہیں، سرخ رنگ والے فولاد اور سخت جنگجو لوگ ہیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ دفعتاً ساری طاقت ان پر نہ لاگیں، بلکہ گھڑ سواروں کا ایک لشکر ان کی طرف بھیج دیں جو ان کے مضافات میں غارت گری کریں اور پھر واپس آپ کے پاس آجائے، بار بار ایسا کیا جائے ، اس سے وہ کمزور پڑیں گے اور ان کے مصافات سے مال غنیمت بھی حاصل ہوگا، اس سے مسلمان اپنے دشمن پر مزید قوی ہوجائیں گے۔ پھر آپ یمن کے دوردراز علاقوں اور ربیعہ ومضر کے ادھر ادھر نکل جانے والے قبائل پر لشکر بھیجیں۔ پھر ان سب لشکروں کو اپنے پاس جمع کرلیں اس کے بعد اگر آپ کا خیال ہو تو آپ خود اپنی سربراہی میں اہل روم (کے قلب) پر ہلہ بول دیں اگر چاہیں تو کسی کی سالاری میں لشکروں کو روانہ کردیں۔

پھر لوگ خاموش ہوگئے۔

حضرت ابوبکر (رض) نے پھر پوچھا : تم لوگوں کا کیا خیال ہے (مجھے مزید رائے دو ) ۔ چنانچہ حضرت عثمان بن عفان (رض) اٹھے اور فرمایا : میں آپ کو اپنے دین والوں کے لیے خیر خواہ خیال کرتا ہوں اور ان پر مشقت کرنے والا۔ پس جب آپ نے کوئی رائے دیکھ لی ہے جو عامۃ المسلمین کے لیے باعث خیر ہے تو بس اللہ پر بھروسہ کرکے اس پر عمل کر گزرئیے۔ بیشک آپ پر کوئی قدغن نہیں۔

یہ سن کر طلحہ، زبیر، سعد، ابوعبیدۃ، سعید بن زید اور دیگر حاضرین مہاجرین اور انصار نے کہا : عثمان نے درست کہا۔

آپ جو رائے مناسب سمجھیں اس پر عمل کریں۔ ہم نہ آپ کی مخالفت کریں گے اور نہ آپ کو تہمت لگائیں گے۔ اور بھی اس طرح کی ذکر کیں۔

حضرت علی (رض) جو حاضرین میں موجود تھے ابھی تک خاموش تھے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اے ابوالحسن (علی) ! آپ کی کیا رائے ہے ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : اگر آپ اہل روم کی طرف نکلیں گے یا کسی کو بھی سالار بناکر بھیجیں گے ان کی مدد کی جائے گی انشاء اللہ ! حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اللہ پاک تمہیں بھی خیر کی خوشخبری عطا کرے، تم کو کہاں سے اس بات کا علم ہوا ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا :

میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :

یہ دین ہر اس پر غالب ہو کر رہے گا جو اس سے دشمنی مول لے گا حتیٰ کہ یہ دین اور اس کے ماننے والے غالب آجائیں گے۔

حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : سبحان اللہ ! کیسی عمدہ حدیث ہے یہ، تم نے مجھے خوش کردیا اللہ بھی تمہیں خوش کرے۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء کی جس کا وہ اہل ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجا اور پھر ارشاد فرمایا :

اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے تم پر اسلام کا انعام کیا ہے، جہاد کے ساتھ تمہارا اکرام کیا ہے اس دین کے ساتھ تم کو سارے ادیان پر فضیلت بخشی ہے۔ پس اے بندگان خدا شام ملک کی طرف اہل روم سے جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ۔ میں تم پر امیروں کو مقرر کردوں گا اور ان کے لیے جھنڈے بھی باندھ دوں گا۔ پس اپنے رب کی اطاعت کرو، اپنے امراء کی مخالفت نہ کرو اور اپنی نیتوں کو اور اپنے کھانے پینے کو درست رکھو۔

فان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون،

بےشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور وہ احسان کرنے والے ہیں۔

یہ سن کر لوگ خاموش ہوگئے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : واللہ ! اے مسلمانو کی جماعت ! کیا بات ہے تم خلیفہ رسول اللہ کو جواب نہیں دے رہے ؟ حالانکہ وہ تم کو اس کام کی طرف بلا رہے ہیں جس میں تمہاری بقاء ہے۔ ہاں اگر قریب کا سفر ہوتا اور آسان سفر ہوتا تو تم جلدی سے جواب دیتے۔

حضرت عمرو بن سعید (رض) نے فرمایا : اے ابن خطاب ! تو ہم کو مثالیں دیتے ہو منافقین کی مثالیں۔ تم ہم پر عیب لگاتے ہو، تم کو کیا رکاوٹ ہے تم نے کیوں جلدی نہیں کی ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : وہ جانتے ہیں کہ میں لبیک کہوں گا صرف ان کے پکارنے کی دیر ہے۔ اور وہ مجھے غزوہ پر بھیجیں تو میں بالکل تیار ہوں ۔ حضرت عمرو بن سعید نے فرمایا : ہم تمہارے لیے جنگ نہیں کریں گے بلکہ ہم اللہ کے لیے جنگ کریں گے ۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو دعا دی : اللہ تم کو اچھی توفیق دے۔ تم نے اچھا کہا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عمرو بن سعید کو فرمایا : بیٹھ جاؤ، اللہ تم پر رحم کرے ! عمر کے کہنے کا مقصد کسی مسلمان کو ایذاء دینا یا اس کو ملامت کرنا نہ تھا ان کا مقصد تو محض یہ تھا کہ زمین کی طرف جھکنے والے لوگ جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہوں ۔

حضرت خالد بن سعید (رض) اٹھے اور فرمایا : خلیفہ رسول اللہ نے سچ کہا ۔ پھر عمرو بن سعید کو فرمایا : اے بھائی بیٹھ جاؤ۔ پھر حضرت خالد (رض) نے ارشاد فرمایا :

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جس نے محمد کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ مبعوث کیا تاکہ وہ اس حق دین کو ہر دین پر غالب کردے۔ خواہ مشرکین کو برا کیوں نہ لگے۔ بیشک اللہ اپنے وعدے کو پورا کرنے والا ہے، اپنے دین کو غالب کرنے والا ہے، اپنے دشمن کو ہلاکت میں ڈالنے والا ہے۔ ہم مخالفت کرنے والے نہیں ہیں اور نہ اختلاف کرنے والے ہیں۔ آپ خیر خواہ شفیق اور مہربان حاکم ہیں۔ آپ جب بھی ہم سے کوچ کا تقاضا کریں گے ہم نکل پڑیں گے اور جب بھی آپ حکم کریں گے ہم اطاعت کریں گے۔

ان کی بات سن کر حضرت ابوبکر (رض) خوش ہوگئے اور فرمایا : اللہ تمہیں بھائی اور دوست کا اچھا بدلہ دے۔ تم رغبت کے ساتھ اسلام لائے، ثواب کی خاطر ہجرت کی۔ تم اپنے دین کو لے کر کفار سے بھاگے تھے تاکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرسکو۔ اللہ کا کلمہ بلند ہوجائے۔ پس اب تم لشکروالوں کے امیر ہو خوش ہوجاؤ اللہ تم پر رحم کرے۔ پھر عمرو واپس لوٹ گئے اور حضرت خالد بن سعید نیچے اتر گئے اور لشکر کی تیاری میں لگ گئے۔

حضرت ابوبکر (رض) نے بلال (رض) کو حکم فرمایا : لوگوں کو اعلان کرو کہ اے لوگو ! ملک شام میں رومیوں سے جہاد کے لیے نکلو۔ لوگوں نے دیکھ لیا تھا کہ ان کے امیر خالد بن سعید ہوں گے اور اس میں ان کو کچھ شک نہ تھا۔ پھر پہلا لشکر ترتیب دیدیا گیا۔ پھر دوسرے لوگ بھی معسکر میں اکٹھے ہونے لگے دس، بیس، تیس، چالیس، پچاس اور سو سو ہو کر لوگ ہر روز جمع ہونے لگے حتیٰ کہ ایک کثیر تعداد جمع ہوگئی۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) ایک دن لشکر گاہ میں آئے۔ آپ (رض) کے ساتھ دیگر صحابہ (رض) بھی تھے۔ آپ (رض) ان کے ہمراہ لشکر گاہ معسکر میں پہنچے۔ آپ (رض) نے وہاں ایک اچھی تعداد دیکھی، لیکن روم کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے ان کو کافی نہ سمجھا۔ چنانچہ آپ (رض) نے اپنے ساتھیوں کو فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے ، کیا اسی قدر لوگوں کو رومیوں سے جہاد کے لیے بھیجا جائے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں بھی تمام رومیوں کے لیے اتنی تعداد پر مطمئن نہیں ہوں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے دوسرے ساتھیوں سے پوچھا : تمہارا کیا خیال ہے ؟ انھوں نے عرض کیا : جو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : درست ہے ہمارا بھی یہی خیال ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : میں اہل یمن کے مسلمانوں کو خط نہ لکھوں ، ان کو ہم جہاد کی طرف بلاتے ہیں اور جہاد کے ثواب کی ترغیب دیتے ہیں۔ یہ بات تمام ساتھیوں نے درست سمجھی اور عرض کیا آپ کا خیال بہت اچھا ہے، ایسا ہی کیجئے۔

چنانچہ حضرت ابوبکر (رض) نے لکھا :

اہل یمن کے نام ترغیبی خط

بسم اللہ الرحمن الرحیم

خلیفہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے یمن کے ان مسلمانوں کی طرف جن پر یہ خط پڑھا جائے۔

تم سب کو سلام ہو۔

میں تم پر اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اما بعد !

اللہ تعالیٰ نے مومنین پر جہاد کو فرض کردیا ہے، ان کو حکم دیا ہے کہ ہلکے ہوں یا بوجھل اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلیں ۔ اور اپنے اموال اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کریں۔ جہاد ایک فریضہ ہے۔ جس کا ثواب اللہ کے ہاں عظیم ہے۔ ہم نے مسلمانوں سے تقاضا کیا ہے کہ وہ رومیوں سے جہاد کے لیے ملک شام کی طرف کوچ کریں۔ چنانچہ مسلمان اس کے لیے بہت جلد تیار ہوگئے ہیں اور ان کی نیت بھی اچھی ہے۔ پس اے بندگان خدا ! تم بھی جلدی اس طرف نکلو جہاں کے لیے دوسرے مسلمان تیار ہوچکے ہیں اور اپنی نیتوں کو درست رکھو بیشک تم دو نیکیوں میں سے ایک ضرور پانے والے ہو یا شہادت یا فتح اور غنیمت۔ بیشک اللہ پاک اپنے بندوں سے صرف ان کی بات پر راضی نہیں ہوتا بغیر عمل کے۔ اور جہاد دشمنوں کے لیے ہمیشہ جاری رہے گا حتیٰ کہ وہ دین حق پر آجائیں اور کتاب اللہ کے حکم پر اپنی گردنوں کو خم کردیں۔ پس اللہ تمہارے دین کی حفاظت فرمائے تمہارے قبول کو نور ہدایت سے منور فرمائے ، تمہارے اعمال کو پاکیزہ کرے اور تم کو صبر کرنے والے ثابت قدم مہاجرین کا ثواب عنایت کرے۔

پھر آپ (رض) نے یہ خط حضرت انس (رض) کے ہاتھوں ان کی طرف بھیج دیا۔ ابن عساکر
14172- "مسند الصديق" عن إسحاق بن بشر حدثنا ابن إسحاق عن الزهري حدثنا ابن كعب عن عبد الله بن أبي أوفى الخزاعي قال: لما أراد أبو بكر غزو الروم دعا عليا وعمر وعثمان وعبد الرحمن بن عوف وسعد ابن أبي وقاص وسعيد بن زيد وأبا عبيدة بن الجراح ووجوه المهاجرين والأنصار من أهل بدر وغيرهم، فدخلوا عليه وقال عبد الله بن أبي أوفى وأنا فيهم فقال: إن الله عز وجل لا تحصى نعماؤه وهو لا يبلغ جزاءها الأعمال، فله الحمد قد جمع الله كلمتكم وأصلح ذات بينكم وهداكم إلى الإسلام ونفى عنكم الشيطان، فليس يطمع أن تشركوا به ولا تتخذوا إلها غيره، فالعرب اليوم بنو أب وأم وقد رأيت أني أستنفر المسلمين إلى جهاد الروم بالشام ليؤيد الله المسلمين، ويجعل الله كلمته العليا مع أن للمسلمين في ذلك الحظ الأوفر لأنه من هلك منهم هلك شهيدا، وما عند الله خير للأبرار ومن عاش عاش مدافعا عن المسلمين مستوجبا على الله ثواب المجاهدين وهذا رأيي الذي رأيت، فأشار امرؤ علي برأيه. فقام عمر بن الخطاب فقال: الحمد لله الذي يخص بالخير من يشاء من خلقه والله ما استبقنا إلى شيء من الخير قط إلا سبقتنا إليه وذلك فضل الله يؤتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم، وقد والله أردت لقاءك بهذا الرأي الذي رأيت فما قضى أن يكون حتى ذكرته فقد أصبت أصاب الله بك سبل الرشاد سربإليهم الخيل في إثر الخيل وابعث الرجال بعد الرجال والجنود تتبعها الجنود فإن الله ناصر دينه معز الإسلام وأهله، ثم إن عبد الرحمن بن عوف قام فقال: يا خليفة رسول الله إنها الروم وبنو الأصفر حديد وركن شديد ما أرى أن تقتحم عليها اقتحاما، ولكن تبعث الخيل فتغير في قواصيأرضهم ثم ترجع إليك؛ فإذا فعلوا ذلك مرارا أضروا بهم وغنموا من أداني أرضهم فقووا بذلك على عدوهم ثم تبعث إلى أراضي أهل اليمن واقاصي ربيعة ومضر، ثم تجمعهم جميعا إليك، فإن شئت بعد ذلك غزوتهم بنفسك، وإن شئت أغزيتهم. ثم سكت الناس، قال: فقال لهم أبو بكر: ماذا ترون؟ فقال عثمان بن عفان: إني أرى أنك ناصح لأهل هذا الدين شفيق عليهم؛ فإذا رأيت رأيا تراه لعامتهم صلاحا فاعزم على إمضائه، فإنك غير ظنينفقال طلحة والزبير وسعد وأبو عبيدة وسعيد بن زيد ومن حضر ذلك المجلس من المهاجرين والأنصار: صدق عثمان ما رأيت من رأي فامضه، فإنا لا نخالفك ولا نتهمك وذكروا هذا وأشباهه وعلي في القوم لا يتكلم، قال أبو بكر: ماذا ترى يا أبا الحسن؟ فقال: أرى أنك إن سرت إليهم بنفسك أو بعثت إليهم نصرت عليهم إن شاء الله، فقال: بشرك الله بخير، ومن أين علمت ذلك؟ قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا يزال هذا الدين ظاهرا على كل من ناواهحتى يقوم الدين وأهله ظاهرون فقال: سبحان الله ما أحسن هذا الحديث لقد سررتني به سرك الله، ثم إن أبا بكر رضي الله عنه قام في الناس فذكر الله بما هو أهله، وصلى على نبيه صلى الله عليه وسلم ثم قال: يا أيها الناس إن الله قد أنعم عليكم بالإسلام وأكرمكم بالجهاد وفضلكم بهذا الدين على كل دين فتجهزوا عباد الله إلي غزو الروم بالشام فإني مؤمر عليكم أمراء وعاقد لهم، فأطيعوا ربكم ولا تخالفوا أمراءكم لتحسن نيتكم وشربكم وأطعمتكم {إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ} . قال: فسكت القوم فوالله ما أجابوا فقال عمر: والله يا معشر المسلمين مالكم لا تجيبون خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد دعاكم لما يحييكم؟ أما إنه لو كان عرضا قريبا وسفرا قاصدا لابتدرتموه. فقال عمرو بن سعيد: فقال: يا ابن الخطاب ألنا تضرب الأمثال أمثال المنافقين فما منعك إذ عبت علينا فيه أن تبتدئ به؟ فقال عمر: إنه يعلم أني أجيبه لو يدعوني وأغزو لو يغزيني قال عمرو بن سعيد: ولكن نحن لا نغزو لكم إن غزونا إنما نغزو لله، فقال عمر: وفقك الله، فقد أحسنت فقال أبو بكر لعمرو: اجلس رحمك الله؛ فإن عمر لم يرد بما سمعت أذى مسلم ولا تأنيبه إنما أراد بما سمعت أن ينبعث المتثاقلون إلى الأرض إلى الجهاد فقام خالد بن سعيد فقال: صدق خليفة رسول الله اجلس أي أخي فجلس وقال خالد: الحمد لله الذي لا إله إلا هو الذي بعث محمدا بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله ولو كره المشركون؛ فالله منجز وعده ومظهر دينه ومهلك عدوه ونحن غير مخالفين ولا مختلفين وأنت الوالي الناصح الشفيق ننفر إذا استنفرتنا ونطيعك إذا أمرتنا ففرح بمقالته أبو بكر وقال: جزاك الله خيرا من أخ وخليل فقد كنت أسلمت مرتغبا وهاجرت محتسبا قد كنت هربت بدينك من الكفار لكي ما يطاع الله ورسول الله وتعلو كلمته وأنت أمير الناس فسر يرحمك الله. ثم إنه رجع ونزل خالد بن سعيد فتجهز وأمر أبو بكر بلالا فأذن أن انفروا أيها الناس إلى جهاد الروم بالشام والناس يرون أن أميرهم خالد بن سعيد وكان الناس لا يشكون أن خالد بن سعيد أميرهم وكان أول خلق الله عسكر، ثم إن الناس خرجوا إلى معسكرهم من عشرة وعشرين وثلاثين وأربعين وخمسين ومائة كل يوم حتى اجتمع أناس كثير فخرج أبو بكر ذات يوم ومعه رجال من الصحابة حتى انتهى إلى عسكرهم؛ فرأى عدة حسنة لم يرض عدتها للروم، فقال لأصحابه: ما ترون في هؤلاء أن نشخصهمإلى الشام في هذه العدة؟ فقال عمر: ما أرضى هذه العدة لجموع بني الأصفر، فقال لأصحابه: ماذا ترون؟ فقالوا نحن نرى ما رأي عمر، فقال: ألا أكتب كتابا إلى أهل اليمن ندعوهم إلى الجهاد ونرغبهم في ثوابه؟ فرأى ذلك جميع أصحابه قالوا: نعم ما رأيت افعل، فكتب بسم الله الرحمن الرحيم من خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى من قريء عليه كتابي هذا من المؤمنين والمسلمين من أهل اليمن سلام عليكم فإني أحمد الله إليكم الذي لا إله إلا هو أما بعد فإن الله كتب على المؤمنين الجهاد وأمرهم أن ينفروا خفافا وثقالا ويجاهدوا بأموالهم وأنفسهم في سبيل الله، والجهاد فريضة مفروضة والثواب عند الله عظيم وقد استنفرنا المسلمين إلى جهاد الروم بالشام وقد سارعوا إلى ذلك وقد حسنت في ذلك نيتهم فسارعوا عباد الله ما سارعوا إليه ولتحسن نيتكم فيه، فإنكم إلى إحدى الحسنيين إما الشهادة، وإما الفتح والغنيمة، فإن الله تبارك وتعالى لم يرض لعباده بالقول دون العمل ولا يزال الجهاد لأهل عداوته حتى يدينوا بدين الحق ويقروا بحكم الكتاب حفظ الله لكم دينكم وهدى قلبكم وزكى أعمالكم ورزقكم أجر المجاهدين الصابرين وبعث بهذا الكتاب مع أنس رضي الله عنه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৭৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ روم کی طرف لشکرکشی
14173 عیاض الاشعری سے مروی ہے کہ میں جنگ یرموک میں حاضر تھا۔ لشکر پر پانچ امیر تھے : ابوعبیدۃ، یزید بن ابی سفیان، شرحبیل بن حسنہ، خالد بن الولید اور عیاض۔ یہ راوی عیاض الاشعری کے سوا کوئی اور عیاض تھے۔

راوی عیاض کہتے ہیں : حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا تھا : جب جنگ ہو تو ابو عبیدۃ تمہارے امیر (الامراء) ہوں گے۔ ہم نے حضرت ابوبکر (رض) کو خط لکھا کہ موت ہماری طرف جھپٹ رہی ہے ہمیں مزید کمک بھیجئے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے جواب بھیجا : میرے پاس تمہارا خط آیا ہے تم نے مجھ سے مدد مانگی ہے میں تم کو اس کا بتاتا ہوں جب سب سے زیادہ مدد کرنے والا اور لشکر میں موجود رہنے والا ہے وہ اللہ عزوجل ہے تم اس سے مدد مانگو بیشک محمد کی جنگ بدر میں تمہاری تعداد سے کم کے اندر مدد کی گئی تھی۔ ابن سعد
14173- عن عياض الأشعري قال: شهدت اليرموك وعليها خمسة أمراء: أبو عبيدة، ويزيد بن أبي سفيان، وشرحبيل بن حسنة، وخالد بن الوليد، وعياض، وليس عياض هذا الذي حدث فقال: إذا كان قتال فعليكم أبو عبيدة فكتبنا إليه أنه قد جاش إلينا الموت واستمددناه فكتب إلينا، إنه قد جاءني كتابكم تستمدوني، وإني أدلكم على من هو أعز نصرا واحضر جندا؛ الله عز وجل، فاستنصروه فإن محمدا صلى الله عليه وسلم قد نصر يوم بدر في أقل من عدتكم
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৭৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب (رض)

جان لے، اللہ تجھ پر رحم کرے ! کہ حضرت عمر (رض) کی خلافت، سیرت، عادات اور ذہانت سے متعلق کچھ روایات حرف الفاء کی کتاب الفضائل میں اور آپ کے بعض خطبات اور مواعظ حرم المیم کی کتاب المواعظ میں نقل کیے گئے ہیں۔
14174 (مسند صدیق (رض)) قیس بن ابی حازم (رض) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو دیکھا ، آپ کے ہاتھ میں کھجور کی شاخ ہے اور آپ لوگوں کو بٹھا رہے ہیں اور فرماتے جارہے ہیں : خلیفہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (ابوبکر (رض)) کی بات سنو۔ چنانچہ پھر حضرت ابوبکر (رض) کا شدید نامی غلام ایک تحریر لے کر آیا۔ اور وہ تحریر لوگوں کو پڑھ کر سنائی :

ابوبکر کہتا ہے : اس شخص کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو جس کا نام اس کاغذ میں ہے۔ اللہ کی قسم ! میں نے تمہارے ساتھ کسی طرح کی کوتاہی نہیں برتی (وہ نام عمر بن خطاب (رض) کا تھا) ۔

قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں : اس کے بعد میں نے عمر کو منبر پر دیکھا۔

مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، ابن حریر، اللالکائی فی السنۃ

فائدہ : حضرت ابوبکر (رض) وفات سے قبل اپنا خلیفہ حضرت عمر (رض) کو منتخب فرما گئے تھے۔ آپ (رض) حضرت عمر (رض) کا نام ایک کاغذ میں لکھ کر دے گئے تھے کہ لوگ یوں بیعت کریں کہ اس کاغذ میں جس کا نام ہے ہم اس کی بیعت کرتے ہیں۔ چنانچہ بیعت کے بعد اس کاغذ کو کو کھول کر دیکھا گیا تو اس میں حضرت عمر (رض) کا نام تھا۔
14174- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن قيس بن أبي حازم قال: رأيت عمر وبيده عسيب نخل وهو يجلس الناس يقول: اسمعوا لقول خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء مولى لأبي بكر يقال له: شديد بصحيفة فقرأها على الناس فقال: يقول أبو بكر: اسمعوا وأطيعوا لمن في هذه الصحيفة، فوالله ما آلو بكم، قال قيس: فرأيت عمر بعد ذلك على المنبر. "ش حم وابن جرير واللالكائي في السنة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৭৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14175 ابوسلمۃ بن عبدالرحمن، محمد بن ابراہیم بن الحارث الیتمی اور عبداللہ بن البہی ان حضرات کے کلام کا خلاصہ ہے کہ :

جب حضرت ابوبکرصدیق (رض) کی وفات کا وقت قریب آگیا تو انھوں نے عبدالرحمن بن عوف کو بلایا اور فرمایا : مجھے عمر بن خطاب کے متعلق رائے دو ۔ حضرت عبدالرحمن نے فرمایا : آپ جس بات کے متعلق مجھ سے پوچھ رہے ہیں، آپ مجھ سے زیادہ اس کو بخوبی جانتے ہیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : پھر بھی تم کہو۔ حضرت عبدالرحمن (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! وہ آپ کی رائے سے بھی بڑھ کر افضل ہیں۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے عثمان (رض) بن عفان کو بلایا اور فرمایا : مجھے عمر کے متعلق اپنی رائے دو ۔ حضرت عثمان (رض) نے عرض کیا : آپ ہم سے زیادہ ان کے متعلق خبر رکھتے ہیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اس کے باوجود تم کہو اے ابوعبداللہ ! حضرت عثمان بن عفان (رض) نے عرض کیا : اللہ گواہ ہے، میں ان کے متعلق یہی علم رکھتا ہوں کہ ان کا باطن ان کے ظاہر سے اچھا ہے اور ہمارے درمیان ان جیسا۔ اچھا کوئی نہیں ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اللہ آپ رحم فرمائے۔ اللہ کی قسم ! اگر تم ان کا ذکر چھوڑ دیتے تو میں تمہاری مخالفت نہ کرتا۔ ان کے ساتھ حضرت ابوبکر (رض) نے ابوالا عور سعید بن زید، اسید بن حفیر اور دیگر مہاجرین اور انصار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی مشورہ کیا۔ حضرت اسید نے فرمایا : اللہ جانتا ہے میں ان کو آپ کے بعدسب سے بہتر سمجھتا ہوں جو رضائے الٰہی کے لیے راضی ہوتے ہیں اور پروردگار کی ناراضگی کی وجہ سے ناراض ہوتے ہیں۔ نیز ان کا اندر باہر سے اچھا ہے ، اس لیے اس حکومت پر ان سے بڑھ کر کوئی قوی شخص نہیں آسکتا۔

بعض صحابہ کرام نے عبدالرحمن اور عثمان کے حضرت ابوبکر (رض) کے پاس داخل ہونے کی اور تنہائی میں ان کے مشورہ کرنے کی خبر سنی تو وہ بھی حضرت ابوبکر (رض) کے پاس حاضر ہوگئے۔ ان میں سے ایک نے عرض کیا : اگر آپ کا پروردگار آپ سے پوچھ لے کہ آپ ہم پر عمر کو خلیفہ کیوں بنا کر آئے ہیں تو آپ اپنے رب کو کیا جواب دیں گے ؟ حالانکہ آپ ان کی سخت مزاجی کو خوب جانتے ہیں، حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا : مجھے بٹھا دو (پھر) فرمایا : کیا مجھے اللہ کا خوف دلاتے ہو، ستیاناس ہو اس کا جو تمہاری حکومت سے متعلق ظلم کا فیصلہ کرے۔ میں کہوں گا : اے اللہ ! میں نے ان پر تیرے بندوں میں سے سب اچھے کو خلیفہ چنا ہے۔ تم اپنے پیچھے والوں کو بھی میری طرف سے یہ خبر سنادینا۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) کروٹ پر لیٹ گئے پھر آپ (رض) نے عثمان بن عفان (رض) کو بلایا اور فرمایا : لکھو :

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ وہ عہد نامہ ہے جو ابوبکر بن ابی قحافہ نے اپنی زندگی کے آخر میں دنیا سے نکلتے ہوئے اور اپنی اخروی زندگی کے شروع میں اس کے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا ہے، جس وقت کہ کافر بھی ایمان لے آتا ہے، فاجر (بھی خدا پر) یقین کرلیتا ہے، جھوٹا بھی سچ بولتا ہے، کہ میں اپنے بعدتم پر عمر بن خطاب کو خلیفہ منتخب کرتا ہوں، تم ان کی بات سننا اور ان کی اطاعت بجا لانا۔ میں نے (اس معاملے میں) اللہ سے، اس کے رسول سے، اس کے دین سے، اپنی جان سے اور تم سے بھلائی کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی ہے۔ پس اگر وہ عدل و انصاف کرے گا تو یہی میرا اس کے متعلق گمان ہے اور یہی میں اس کے بارے میں جانتا ہوں۔ لیکن اگر وہ بدل جائے تو ہر انسان جو گناہ کرتا ہے اس کا خود ذمہ دار ہے۔ میں نے تو خیر کا ہی ارادہ کیا ہے اور میں غیب کا علم نہیں رکھتا۔

وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۔

اور عنقریب وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا جان لیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹتے ہیں۔

پھر آپ (رض) نے تحریر پر مہر لگانے کا حکم دیا۔

بعض راوی کہتے ہیں : جب حضرت ابوبکر (رض) نے تحریر کا پہلا حصہ کھلوالیا اور ابھی عمر (رض) کا ذکر باقی تھا کہ آپ (رض) پر بےہوشی طاری ہوگئی ابھی آپ نے کسی کا نام نہیں لکھوایا تھا۔ چنانچہ حضرت عثمان (رض) نے خود ہی لکھ دیا کہ ” میں عمر بن خطاب کو خلیفہ چنتا ہوں “ پھر حضرت ابوبکر (رض) کو بھی ہوش آگیا۔ آپ (رض) نے حضرت عثمان (رض) کو فرمایا : تم نے کیا لکھا ہے پڑھ کر سناؤ، چنانچہ حضرت عثمان (رض) نے ساری تحریر اور عمر (رض) کا نام بھی پڑھ کر سنادیا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے اللہ اکبر کا نعرہ مارا اور ارشاد فرمایا : میرے بےہوش ہوجانے پر تم کو میری جان کا خطرہ ہوگیا اور لوگوں کے اختلاف میں پڑجانے کا خطرہ تم نے بھانپ لیا۔ اللہ تم کو اسلام اور اہل اسلام کی طرف سے اچھا بدلہ نصیب کرے۔ اللہ کی قسم ! تم خود بھی اپنا نام لکھنے کے اہل تھے۔ تم سے اسی اچھائی کی توقع تھی۔

چنانچہ (تحریر مکمل کرنے اور مہر کرنے کے بعد آپ (رض)) نے حکم دیا اور حضرت عثمان (رض) تحریر لے کر باہر آئے۔ آپ (رض) کے ساتھ حضرت عمر بن خطاب اور اسید بن سعید القرظی بھی تھے۔ حضرت عثمان (رض) نے لوگوں سے پوچھا : کیا تم بیعت کرتے ہو اس شخص کی جس کا نام اس خط میں ہے ؟ لوگوں نے کہا : ہاں، سب نے اس کا اقرار کیا، اس پر راضی ہوگئے اور اس پر بیعت بھی کرلی ۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عمر (رض) کو تنہائی میں بلایا اور نصیحتیں اور وصیتیں کیں جو بھی کیں۔ پھر حضرت عمر (رض) آپ کے پاس سے نکل آئے۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف پھیلا کر دعا کی :

اے اللہ ! میں نے اس میں ان لوگوں کی خیر کا ارادہ کیا ہے، مجھے ان پر فتنے کا خوف تھا، اس لیے میں نے ان میں یہ تقرر کردیا ہے، جس کو آپ خوب جانتے ہیں۔ میں نے ان کے بارے میں اپنی اچھی رائے اختیار کی ہے۔ میں نے ان پر ان کے سب سے اچھے اور سب سے قوی شخص کو والی بنادیا ہے، جو ان میں سب سے زیادہ حریص ہے ان کی بھلائی کا۔ اب میرے پاس آپ کا حکم آچکا ہے آپ ان میں میرے نائب کو بہتر ثابت کیجئے گا۔ یہ سب تیرے بندے ہیں اور ان کی پیشانی آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اے اللہ ! ان کے لیے ان کے والی کو صالح بنادے اور اس والی کو اپنے خلفاء راشدین میں سے بنادے، جو نبی الرحمت کی ہدایت اور صالحین کے طریقے کی پیروی کرے اور ان کی رعایا کو بھی ان کے لیے صالح بنادے۔ ابن سعد
14175- عن أبي سلمة بن عبد الرحمن ومحمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي وعبد الله بن البهي دخل حديث بعضهم في حديث بعض أن أبا بكر الصديق لما استعز بهدعا عبد الرحمن بن عوف وقال: أخبرني عن عمر بن الخطاب؟ فقال عبد الرحمن: ما تسألني عن أمر إلا وأنت أعلم به مني، فقال أبو بكر: وإن، فقال عبد الرحمن: هو والله أفضل من رأيك فيه، ثم دعا عثمان بن عفان فقال: أخبرني عن عمر، فقال: أنت أخبرنا به فقال على ذلك يا أبا عبد الله، فقال عثمان بن عفان: اللهم علمي به أن سريرته خير من علانيته وأنه ليس فينا مثله فقال أبو بكر: يرحمك الله والله لو تركته لما عدوتك وشاور معهما سعيد بن زيد أبا الأعور وأسيد بن الحضير وغيرهما من المهاجرين والأنصار فقال أسيد: اللهم أعلمه الخيرة بعدك يرضى للرضى ويسخط للسخط، الذي يسر خير من الذي يعلن ولم يل هذا الأمر أحد أقوى عليه منه، وسمع بعض أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم بدخول عبد الرحمن وعثمان على أبي بكر وخلوتهما به؛ فدخلوا على أبي بكر فقال له قائل منهم: ما أنت قائل لربك إذا سألك عن استخلافك عمر علينا، وقد ترى غلظته، فقال أبو بكر: أجلسوني أبالله تخوفوني خاب من تزود من أمركم بظلم أقول: اللهم استخلفت عليهم خير أهلك، أبلغ عني ما قلت لك من وراءك، ثم اضطجع ودعا عثمان بن عفان فقال: اكتب بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما عهد أبو بكر بن أبي قحافة في آخر عهده من الدنيا خارجا عنها وعند أول عهده بالآخرة داخلا فيها حيث يؤمن الكافر ويوقن الفاجر ويصدق الكاذب أني استخلفت عليكم بعدي عمر بن الخطاب فاسمعوا له وأطيعوا، وإني لم آل الله ورسوله ودينه ونفسي وإياكم خيرا، فإن عدل فذلك ظني به وعلمي فيه، وإن بدل فلكل امرئ ما اكتسب من الإثم، والخير أردت ولا أعلم الغيب: {وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ} والسلام عليكم ورحمة الله.

ثم أمر بالكتاب فختمه فقال بعضهم: لما أملى أبو بكر صدر هذا الكتاب بقي ذكر عمر فذهب به قبل أن يسمي أحدا؛ فكتب عثمان أني قد استخلفت عمر بن الخطاب، ثم أفاق أبو بكر فقال: اقرأ علي ما كتبت، فقرأ عليه ذكر عمر فكبر أبو بكر وقال: أراك خفت [إن أقبلت] نفسي في غشيتيتلك فتختلف الناس فجزاك الله عن الإسلام وأهله خيرا، والله إن كنت لها لأهلا ثم أمره فخرج بالكتاب مختوما ومعه عمر بن الخطاب وأسيد بن سعيد القرظي فقال عثمان للناس: أتبايعون لمن في هذا الكتاب؟ قالوا: نعم فأقروا بذلك جميعا ورضوا به، وبايعوا ثم دعا أبو بكر عمر خاليا وأوصاه بما أوصاه به، ثم خرج من عنده فرفع أبو بكر يديه مدا فقال: اللهم إني لم أرد بذلك إلا صلاحهم: وخفت عليكم الفتنة فعملت فيهم ما أنت أعلم به واجتهدت لهم رأيي، فوليت عليهم خيرهم وأقواهم عليهم، وأحرصه على ما أرشدهم، وقد حضرني من أمرك ما حضر فاخلفني فيهم فهم عبادك ونواصيهم بيدك، أصلح لهم واليهم واجعله من خلفائك الراشدين يتبع هدي نبي الرحمة وهدي الصالحين بعده وأصلح له رعيته. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৭৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14176 حضرت ابوبکر (رض) سے منقول ہے کہ انھوں نے حضرت عمر (رض) کو فرمایا : میں تم کو ایسے کام کی طرف بلارہا ہوں جس کو سپرد کردیا جائے وہ اس کی مشقت میں ڈال دیتا ہے۔ پس اے عمر ! اللہ سے ڈر اس کی اطاعت کرنے کے ساتھ ساتھ اور اس کی اطاعت کر اس سے ڈرتے ہوئے۔ بیشک متقی محفوظ ہوتا ہے۔ بیشک یہ منصب آزمائش ہے، اس کا مستحق وہی ہے جو اس پر عمل پیرا ہو۔ اگر کسی نے اس منصب پر آنے کے بعد حق کا حکم دیا، لیکن خود باطل پر عمل کیا، نیکی کا حکم لیکن خود برائی پر عمل کیا تو قریب ہے کہ اس کی امید ٹوٹ جائے اور اس کا عمل بےکار ہوجائے (اے عمر ! ) اگر تو لوگوں پر والی بنے تو کوشش کرنا کہ تیرے ہاتھ لوگوں کے خون سے خشک رہیں، تیرا پیٹ ان کے اموال سے خالی رہے اور تیری زبان ان کی عزتوں کے ساتھ کھیلنے سے بند رہے۔ اور ہر نیکی کی قوت اللہ کے طفیل ہی ممکن ہے۔ الکبیر للطبرانی
14176- عن أبي بكر أنه قال لعمر: أدعوك إلى أمر متعب لمن وليه فاتق الله يا عمر بطاعته، وأطعه بتقواه، فإن التقي أمر محفوظ، ثم إن الأمر معروض لا يستوجبه إلا من عمل به فمن أمر بالحق وعمل بالباطل وأمر بالمعروف وعمل بالمنكر يوشك أن ينقطع أمنيته وأن يحبط عمله فإن أنت وليت عليهم أمرهم؛ فإن استطعت أن تجف يدك عن دمائهم وأن تضمر بطنك من أموالهم وأن تجف لسانك عن أعراضهم فافعل، ولا قوة إلا بالله. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৭৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14177 حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے حضرت عمر (رض) کو خلیفہ بنادیا۔ حضرت علی اور طلحہ (رض) حضرت ابوبکر (رض) کے پاس داخل ہوئے اور پوچھا : آپ نے کس کو خلیفہ بنایا ہے ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عمر (رض) کا نام لیا۔ دونوں حضرات بولے : آپ اپنے پروردگار کو کیا جواب دیں گے ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : تم مجھے اللہ سے ڈراتے ہو، میں اللہ کو اور عمر کو تم سے زیادہ جانتا ہوں ۔ میں کہوں گا : میں نے ان پر تیرے بندوں میں سے سب سے اچھے شخص کو خلیفہ بنادیا ہے۔ ابن سعد
14177- عن عائشة قالت: لما حضر أبو بكر الوفاة فاستخلف عمر فدخل عليه علي وطلحة فقالا: من استخلفت؟ قال: عمر قالا: فماذا أنت قائل لربك؟ قال: أبالله تفرقانيلأنا أعلم بالله وبعمر منكما أقول: استخلفت عليهم خير أهلك. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৭৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14178 زید بن ابی الحارث سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے حضرت عمر (رض) کو پیغام دے کر بلوایا تاکہ ان کو خلیفہ بنائیں۔ لوگوں نے آپ سے عرض کیا : کیا آپ ہم پر عمر کو خلیفہ بنائیں گے، جو سخت مزاج ترش انسان ہیں۔ اگر وہ ہم پر والی بنادیئے گئے تو مزید ترش اور سخت مزاج ہوجائیں گے۔ پھر آپ اپنے رب سے ملو گے تو اس کو کیا جواب دو گے اگر آپ نے ہم پر عمر کو خلیفہ بنادیا ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : کیا تم مجھے اللہ سے ڈراتے ہو، میں کہوں گا : اے اللہ ! میں نے ان پر تیرے اہل میں سے سب سے بہتر انسان کو خلیفہ نامزد کردیا ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ

ابن جریر نے اس روایت کو اسماء بنت عمیس سے بھی روایت کیا ہے۔
14178- عن زيد بن الحارث أن أبا بكر حين حضره الموت أرسل إلى عمر يستخلفه؛ فقال الناس: تستخلف علينا عمر فظا غليظا، فلو قد ولينا كان أفظ وأغلظ، فما تقول لربك إذا لقيته وقد استخلفت علينا عمر؟ فقال أبو بكر: أبربي تخوفوني أقول: اللهم استخلفت عليهم خير أهلك. "ش" ورواه ابن جرير عن أسماء بنت عميس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৭৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14179 عثمان بن عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر بن خطاب سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی وفات کا وقت قریب آگیا تو انھوں نے حضرت عثمان (رض) بن عفان کو بلوا کر انھیں عہد نامہ املاء کروایا۔ لیکن عہد نامہ میں کسی کا نام املاء کروانے سے قبل ہی حضرت ابوبکر (رض) پر بےہوشی طاری ہوگئی۔ حضرت عثمان (رض) نے (از خود) عمر بن خطاب (رض) لکھ دیا۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) کو ہوش آیا تو انھوں نے حضرت عثمان (رض) سے پوچھا : تم نے کسی کا نام لکھ دیا ہے کیا ؟ حضرت عثمان (رض) نے عرض کیا : میں نے آپ کی کیفیت ملاحظہ کی تو مجھے ڈر ہوا کہیں آپ رخصت تو نہیں ہوگئے، یہ سوچ کر میں نے عمر بن خطاب لکھ دیا ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اللہ تم رحم کرے۔ اگر تم اپنا نام ہی لکھ دیتے تو تم بھی اس کے اہل اور مستحق تھے۔ پھر حضرت طلحہ بن عبیداللہ حضرت ابوبکر (رض) کے پاس داخل ہوئے اور عرض کیا : میں اپنے پیچھے والوں کا قاصد ہوں۔ وہ کہتے ہیں : آپ اپنی زندگی میں عمر کی سختی کو ہم پر جانتے ہیں۔ پھر آپ کی وفات کی بعد جبکہ ہمارے سارے امور ان کو سونپ دیئے جائیں گے تب ان کی سخت مزاجی کا کیا حال ہوگا ؟ اور اللہ آپ سے اس کے بارے میں سوال کرے گا، آپ دیکھ لیں، اپنے رب کو کیا جواب دیں گے ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : مجھے بٹھاؤ، کیا تم مجھے اللہ کا خوف دلاتے ہو۔ ہلاک ہو وہ شخص جو تمہارے معاملے میں غلط فہمی کا شکار ہو۔ جب اللہ مجھ سے سوال فرمائے گا تو میں عرض کروں گا : میں نے تیرے اہل پر ان کے سب سے اچھے شخص کو خلیفہ بنایا ہے۔ جاؤ لوگوں کو میری طرف سے یہ پیغام دے دو ۔ اللالکائی
14179- عن عثمان بن عبيد الله بن عبد الله بن عمر بن الخطاب قال: لما حضرت أبا بكر الصديق الوفاة دعا عثمان بن عفان فأملى عليه عهده، ثم أغمي على أبي بكر قبل أن يملي أحدا فكتب عثمان عمر بن الخطاب، فأفاق أبو بكر فقال لعثمان كتبت أحدا؟ فقال: ظننتك لما بك وخشيت الفرقة فكتبت عمر بن الخطاب فقال: يرحمك الله، أما لو كتبت نفسك لكنت لها أهلا، فدخل عليه طلحة بن عبيد الله فقال: أنا رسول من ورائي إليك، يقولون: قد علمت غلظة عمر علينا في حياتك، فكيف بعد وفاتك إذا أفضيت إليه أمورنا والله سائلك عنه فانظر ما أنت قائل؟ فقال: أجلسوني، أبالله تخوفوني، قد خاب امرؤ ظن من أمركم وهما، إذا سألني الله قلت: استخلفت على أهلك خيرهم لهم فأبلغهم هذا عني. "اللالكائي".
tahqiq

তাহকীক: