কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৫ টি

হাদীস নং: ১৪১৮০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14180 ابوبکر بن سالم بن عبداللہ بن عمر بن خطاب (رح) سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) کی وفات کا وقت قریب آیا تو انھوں نے یہ وصیت لکھوائی۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ عہد نامہ ہے ابوبکر صدیق کی طرف سے، اس کے دنیا میں آخری وقت کے موقع پر دنیا سے نکلتے ہوئے، اور آخرت کے پہلے وقت میں اس میں داخل ہوتے ہوئے، جس وقت کہ کافر ایمان لے آتا ہے، گناہ گار متقی بن جاتا ہے اور جھوٹا بھی سچ بولنے لگتا ہے۔ میں اپنے بعد عمر بن خطاب کو خلیفہ بنارہا ہوں۔ اگر وہ عدل و انصاف کا سلوک کریں تو یہی میرا ان کے متعلق گمان ہے اور اگر وہ ظلم کریں اور (میرے عہد کو) بدل دیں تو میں نے تو بھلائی کا ارادہ کیا تھا غیب کا مجھے علم نہیں۔

وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون،

اور عنقریب وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا جان لیں گے کس طرف پلٹتے ہیں۔

پھر حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو بلوایا اور ان کو ارشاد فرمایا : اے عمر ! نفرت کرنے والا تجھ سے نفرت کرے گا اور محبت کرنے والا تجھ سے محبت کرے گا۔ لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خیر سے نفرت کی جاتی ہے اور شر سے محبت۔ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : تو مجھے اس (تمہاری امارت) کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : لیکن اس (امارت) کو تمہاری ضرورت ہے۔ تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا اور ان کی صحبت بھی اٹھائی۔ تم نے دیکھا ہوگا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم کو اپنی ذات پر بھی ترجیح دیتے تھے۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم آپ کے اہل (یعنی امت) کو سیدھی راہ دکھائیں ، خواہ ان کی طرف سے ہم کو جو بھی صورت حال پیش آئے۔ تم نے مجھے بھی خوب دیکھا اور میرے ساتھ رہے، میں اپنے پہلے شخص کے نشانات پر چلتا ہوں۔ اللہ کی قسم ! میں جب بھی سویا تو میں نے یہی خواب دیکھا اور جب بھی بیداری میں ہوا تو یہی خیال رہا کہ میں اسی راستے پر ہوں اس سے منحرف نہیں ہوا ہوں۔ اے عمر ! تو جانتا ہے کہ اللہ کا جو حق رات میں ہے اللہ پاک اس کو دن میں قبول نہ فرمائیں گے اور جو حق اس کا دن کا ہے رات میں اس کو قبول نہ فرمائے گا۔ اور بیشک انہی لوگوں کے میزان عمل بھاری ہوں گے جن کے میزان عمل ان کے حق کی اتباع کرنے کی وجہ سے قیامت میں بھاری نکلیں۔ اور میزان پر لازم ہے کہ اگر اس میں حق رکھا جائے تو وہ بھاری ہوجائے۔ اور ان لوگوں کے میزان عمل ہلکے ہوں گے جن کے باطل کی اتباع کرنے کی وجہ سے میزان عمل قیامت میں ہلکے ہوجائیں کیونکہ جس میزان میں باطل رکھا جائے اس پر لازم ہے کہ وہ ہلکا ہوجائے۔ میں تم سب سے پہلے تمہارے اپنے نفس سے ڈراتا ہوں پھر لوگوں کی طرف سے تم کو محتاط رہنے کی تلقین کرتا ہوں۔ بیشک ان کی نگاہیں بلندی کی طرف اٹھ گئی ہیں اور ان کی خواہشات پھول گئی ہیں۔ وہ حیران ہیں ذلت کی وجہ سے۔ تم اس سے اپنا دامن بچائے رکھنا۔ پھر وہ تم سے خوفزدہ رہیں گے جب تک کہ تم اللہ سے خوفزدہ رہے یہ میری وصیت ہے اور میں تم سلام کہتا ہوں۔ ابن عساکر
14180- عن أبي بكر بن سالم بن عبد الله بن عمر بن الخطاب قال: لما حضر أبا بكر الموت أوصى بسم الله الرحمن الرحيم هذا عهد من أبي بكر الصديق عند آخر عهده بالدنيا خارجا منها، وأول عهده بالآخرة داخلا فيها حيث يؤمن الكافر ويتقي الفاجر ويصدق الكاذب، إني استخلفت من بعدي عمر بن الخطاب، فإن عدل فذلك ظني فيه، وإن جار وبدل، فالخير أردت ولا أعلم الغيب، {وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ} ثم بعث إلى عمر فدعاه فقال: يا عمر أبغضك مبغض وأحبك محب، وقد ما يبغض الخير ويحب الشر، قال: فلا حاجة لي فيها، قال: ولكن لها بك حاجة، وقد رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وصحبته ورأيت إثرته أنفسنا على نفسه حتى أن كنا لنهدي لأهله فضل ما يأتينا منه ورأيتني وصحبتني، وإنما اتبعت إثر من كان من قبلي، والله ما نمت فحلمت ولا شهدت فتوهمت، وإني لعلى طريق ما زغت تعلم يا عمر أن لله حقا في الليل لا يقبله بالنهار وحقا بالنهار لا يقبله بالليل، وإنما ثقلت موازين من ثقلت موازينه يوم القيامة باتباعهم الحق، وحق لميزان أن يثقل لا يكون فيه إلا الحق، وإنما خفت موازين من خفت موازينه يوم القيامة باتباعهم الباطل، وحق لميزان أن يخف لا يكون فيه إلا الباطل، إن أول ما أحذرك نفسك، وأحذرك الناس فإنهم قد طمحت أبصارهم وانتفخت أهواؤهم وإن لهم لحيرة عن ذلة تكون وإياك أن تكونه، فإنهم لن يزالوا خائفين لك فرقين منك ما خفت الله وفرقته وهذه وصيتي وأقرأ عليك السلام. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৮১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14181 حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) بھاری بدن ہوگئے اور ان پر اپنا آخری وقت کھل گیا تو انھوں نے لوگوں کو جمع کرکے ارشاد فرمایا : تم لوگوں کو میری حالت کا علم ہے اور مجھے اب اپنی موت کا گمان ہورہا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے میری بیعت کرنے پر تمہاری قسموں کو بری کردیا ہے، تم سے میرا معاہدہ ختم کردیا ہے اور تمہاری حکومت تم کو واپس کردی ہے۔ اب تم اپنے اوپر جس کو پسند کرو امیر منتخب کرلو۔ کیونکہ اگر تم میری زندی میں اپنا نیا امیر چن لو تو میرے مرنے کے بعد تمہارے اختلافات میں پڑنے کا اندیشہ کم ہے۔

چنانچہ لوگ آپ کو چھوڑ کر اٹھ گئے اور آپ کو اکیلا چھوڑ دیا۔ لیکن ان کی رائے کسی پر جمع نہ ہوسکی۔ چنانچہ وہ واپس آپ کے پاس آئے اور عرض کیا : اے خلیفہ رسول اللہ ! ہمیں آپ کی رائے قبول ہے۔ آپ (رض) نے فرمایا : شاید تم میری رائے سے اختلاف کرو۔ لوگوں نے کہا : نہیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : پھر تم راضی رہنے پر اللہ کو عہد دو ۔ لوگوں نے کہا : ٹھیک ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : مجھے کچھ مہلت دو ۔ میں اللہ، اس کے دین اور اس کے بندوں کی خیرخواہی میں کسی کو دیکھتا ہوں۔ چنانچہ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے عثمان (رض) کو پیغام بھیج کر بلوایا۔ ان کو فرمایا : مجھے تم کسی آدمی کا بتاؤ۔ اللہ کی قسم ! تم میرے نزدیک اس کے اہل ہو اور مناسب ہو۔ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : عمر۔ آپ (رض) نے فرمایا : عہد نامہ لکھو۔ چنانچہ انھوں نے عہد نامہ لکھنا شروع کیا۔ حتیٰ کہ نام لکھنے کی نوبت آئی تو حضرت ابوبکر (رض) پر غشی کا دورہ پڑگیا۔ پھر آپ بیدار ہوئے تو فرمایا : لکھو : عمر۔ سیف، ابن عساکر
14181- عن الحسن قال: لما ثقل أبو بكر واستبان له في نفسه جمع الناس إليه فقال لهم: إنه قد نزل بي ما قد ترون، ولا أظنني إلا لمماتي وقد أطلق الله تعالى أيمانكم من بيعتي، وحل عنكم عقدي، ورد عليكم أمركم؛ فأمروا عليكم من أحببتم، فإنكم إن أمرتم في حياة مني كان أجدر أن لا تختلفوا بعدي، فقاموا في ذلك وخلوه تخلية، فلم تستقم لهم، فرجعوا إليه فقالوا: رأينا لنا يا خليفة رسول الله رأيك، قال: فلعلكم تختلفون؟ قالوا: لا، فقال: فعليكم عهد الله على الرضا، قالوا: نعم، قال: فأمهلوني أنظر لله ولدينه ولعباده فأرسل أبو بكر إلى عثمان فقال: أشر علي برجل، فوالله إنك عندي لها لأهل وموضع، فقال عمر اكتب فكتب حتى انتهى إلى الإسم فغشي عليه فأفاق فقال: اكتب عمر. "سيف كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৮২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14182 حضرت اسلم سے مروی ہے کہ حضرت عثمان (رض) نے خلیفہ کا عہد لکھا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے آپ کو حکم دیا کہ وہ کسی کا نام نہ لکھیں۔ چنانچہ حضرت عثمان (رض) نے آدمی کا نام چھوڑ دیا۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) پر بےہوشی طاری ہوگئی۔ حضرت عثمان (رض) نے عہد نامہ میں عمر کا نام لکھ دیا۔ حضرت ابوبکر (رض) کو ہوش آگیا تو انھوں نے فرمایا : ہمیں عہد نامہ دکھاؤ۔ دیکھا تو اس میں عمر کا نام تھا۔ آپ (رض) نے پوچھا : یہ کس نے لکھا ؟ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : میں نے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اللہ تم پر رحم فرمائے اور اللہ تم کو اچھا بدلہ عطا کرے۔ اگر تم اپنا نام لکھ دیتے تو تم بھی یقیناً اس کے اہل تھے۔

الحسن بن عرفۃ فی جزہ

امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں اس کی اسناد صحیح ہے۔
14182- عن أسلم قال: كتب عثمان عهد الخليفة، فأمره أن لا يسمى أحدا وترك اسم الرجل فأغمي على أبي بكر؛ فأخذ عثمان العهد فكتب فيه اسم عمر؛ فأفاق أبو بكر فقال: أرنا العهد، فإذا فيه اسم عمر، فقال: من كتب هذا؟ قال: أنا، قال: رحمك الله وجزاك الله خيرا لو كتبت نفسك لكنت لذلك أهلا. "الحسن بن عرفة في جزئه" قال ابن كثير إسناده صحيح.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৮৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14183 سیف بن عمر، ابوضمرۃ عبداللہ بن المستور و الانصاری سے روایت کرتے ہیں، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں اور وہ عاصم سے روایت کرتے ہیں کہ :

حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے حالت مرض میں لوگوں کو جمع کیا۔ پھر کھچ لوگوں کو حکم دیا کہ ان کو منبر تک لے جائیں۔ پھر آپ نے جو خطبہ دیا یہ خطبہ آپ کی زندگی کا آخری خطبہ تھا۔ آپ نے اللہ کی حمدوثناء کی پھر ارشاد فرمایا :

اے لوگو ! دنیا سے احتیاط برتو، اس پر بھروسہ نہ کرو۔ یہ دھوکا کا سامان ہے۔ دنیا کو آخرت پر ترجیح نہ دو ۔ آخرت سے محبت رکھو۔ بیشک دونوں میں سے ایک کی محبت دوسرے کی نفرت پیدا کرتی ہے۔ اور یہ دین جو ہمارا ضامن ہے اس کا آخر بھی اسی طرح درست ہوگا جس طرح اس کا اول (زمانہ) درست ہوا تھا۔ اس دین میں والی کی ذمہ داری وہی اٹھاسکتا ہے جو تم میں سب سے زیادہ قدرت والا اور اپنے نفس پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والا ہو، جو حالت شدت میں تم میں سب سے زیادہ شدید ہو اور نرمی کے موقع پر تم میں سب سے زیادہ نرم ہو، اصحاب الرائے لوگوں کی رائے کو تم میں سب سے زیادہ جاننے والا ہو، لا یعنی (بےکار) کاموں میں قطعاً شغل نہ رکھتا ہو، پیش آمد، مصائب پر رنجیدہ وملول ہونے والا نہ ہو، سیکھنے سے حیاء نہ رکھتا ہو، بات واضح ہوجانے پر حیرانی کے سمندر میں غوطہ زن نہ رہتا ہو، اپنے کاموں پر قوی ہو، امور حکمرانی کے کسی کام میں کمی کوتاہی اور سستی کا شکار نہ ہو، آنے والے مسائل میں احتیاط اور پیش بندی کی گھات لگائے رکھتا ہو اور ان سب کاموں کا کما حقہ اہل عمر بن خطاب ہے۔

یہ فرما کر آپ منبر سے نیچے اتر آئے۔ ابن عساکر
14183- سيف بن عمر عن أبي ضمرة عبد الله بن المستورد الأنصاري عن أبيه عن عاصم قال: جمع أبو بكر الناس وهو مريض فأمر من يحمله إلى المنبر فكانت آخر خطبة خطب بها، فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: يا أيها الناس احذروا الدنيا ولا تثقوا بها غرارة، وآثروا الآخرة على الدنيا، فأحبوها فبحب كل واحدة منهما تبغض الأخرى، وإن هذا الأمر الذي هو أملك بنا لا يصلح آخره إلا بما صلح به أوله؛ فلا يحمله إلا أفضلكم مقدرة وأملككم لنفسه، أشدكم في حال الشدة وأسلسكم في حال اللين وأعلمكم برأي ذوي الرأي لا يتشاغل بما لا يعنيه ولا يحزن لما ينزل به، ولا يستحيي من التعلم، ولا يتحير عند البديهة قوي على الأمور لا يخور بشيء منها حده بعدوان ولا تقصير، يرصد لما هو آت عتاده من الحذر والطاعة وهو عمر بن الخطاب ثم نزل. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৮৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14184: حضرت سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ جب حضرت عمر بن خطاب (رض) کو والیو خلیفہ بنادیا گیا تو وہ منبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء کے بعد ارشاد فرمایا :

اے لوگو ! میں جانتا ہوں کہ تم لوگ مجھے شدت پسند اور سخت گیر سمجھتے ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا، میں آپ کا غلام اور خدمت گار تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے حکم :

بالمومنین رؤف رحیم،

وہ مومنین کے ساتھ نرم (اور) مہربان ہیں۔

کا پر تو تھے۔ جبکہ میں آپ کے سامنے ننگی تلوار تھا الایہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے نیام میں کردیتے یا مجھے کسی کام سے روک دیتے تو میں باز آجاتا تھا۔ ورنہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نرمی کی وجہ سے لوگوں پر جری ہوجاتا تھا ۔ چنانچہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اسی حال پر رہا حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات (پر ملال) ہوگئی۔ آپ جاتے وقت مجھ سے راضی تھے اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اس (احسان عظیم) پر جس کی مجھے سعادت نصیب ہوئی۔ پھر ان کے بعد حضرت ابوبکر (رض) کے لیے بھی میں اسی مقام پر فائز تھا، تم لوگ ابوبکر کی کرم نوازی اور نرمی و مہربانی کو جانتے ہو۔ میں آپ کا بھی خدمت گار تھا اور آپ (رض) کے لیے ننگی تلوار بنا رہتا تھا اور اپنی سختی کے ساتھ ان کی نرم مزاجی کو معتدل کرتا رہتا تھا الیہ کہ وہ مجھے روک کر آگے بڑھ جاتے تو میں رک جاتا تھا۔ ورنہ میں سختی کو آگے رکھتا تھا۔ پھر اسی طرح وقت گزرتا رہا حتیٰ کہ اللہ نے ان کو بھی اپنے پاس اٹھالیا، وہ بھی جاتے وقت مجھ سے راضی تھے۔ اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اس احسان پر، جس کی مجھے سعادت نصیب ہوئی۔ اس کے بعد آج تمہاری ذمہ داری میری طرف آگئی ہے اور میں خوب جانتا ہوں کہ کہنے والا کہے گا : کہ عمر تو ہم پر اس وقت بھی سخت گیر تھے جبکہ حکومت کی باگ کسی اور کے ہاتھ میں تھی، تو اب ان کی شدت کس حال پر ہوگی جبکہ تمام اموران کے ہاتھوں میں آگئے ہیں۔

پس جان لو ! تم میرے بارے میں کسی سے کوئی سوال نہ کرو کیونکہ تم خود مجھے جانتے ہو اور اچھی طرح آزما چکے ہو اور تم اپنے نبی کی سنت بھی جانتے ہو جس طرح میں جانتا ہوں اور میں نے جب بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ پوچھنے کا ارادہ کیا تو کبھی اس میں ندامت کا خیال نہیں کیا اور ان سے بڑھ کر سوال کرلیا ۔ اب تم اچھی طرح جان کو کہ میری پہلی والی شدت ظالم اور سرکش کے لیے اور طاقت ور سے کمزور کا حق دلانے کے لیے کئی گناہ بڑھ چکی ہے۔ لیکن ہاں میں اس شدت کے بعد پاکدامن اور سرتسلیم خم کرنے والوں کے لیے اس قدر نرم ہوں کہ ان کے لیے اپنا رخسار زمین پر رکھنے والا ہوں۔ نیز اگر کسی کا مجھ سے کبھی کوئی کام پڑا تو میں اس کے لیے اس کے ساتھ کسی کے پاس بھی چلنے سے عار محسوس نہیں کروں گا۔ پس کوئی بھی مجھے اپنے کام میں لاسکتا ہے۔ اے بندگان خدا ! اللہ سے ڈرو، اپنے نفسوں پر میری مدد اس طرح کرو کہ اپنے نفسوں کو (برائی) سے بچاتے ہوئے مجھ سے دور رکھو، نیز میرے نفس پر میری مدد کرو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے کے ساتھ۔ اور جن کاموں کو اللہ نے مجھے ولایت میں سونپ دیا ہے ان میں مجھے نصیحت کرکے میری مدد کرو ۔ یہ فرما کر آپ (رض) منبر سے نیچے اتر آئے۔

ابوحسین بن بشر ان فی فوائدہ، ابو احمد الدھقان فی الثانی من حدیثہ، مستدرک، اللالکائی
14184- عن سعيد بن المسيب قال: لما ولي عمر بن الخطاب خطب الناس على منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم حمد الله وأثنى عليه، ثم قال: يا أيها الناس إني علمت أنكم كنتم تونسون مني شدة وغلظة، وذلك أني كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وكنت عبده وخادمه وكان كما قال الله تعالى: {بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَحِيمٌ} فكنت بين يديه كالسيف المسلول إلا أن يغمدني أو ينهاني عن أمر فأكف، وإلا أقدمت على الناس لمكان لينه، فلم أزل مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على ذلك حتى توفاه الله وهو عني راض والحمد لله على ذلك كثيرا، وأنا به أسعد، ثم قمت ذلك المقام مع أبي بكر خليفة رسول الله بعده وكان قد علمتم في كرمه ودعتهولينه، فكنت خادمه كالسيف بين يديه أخلط شدتي بلينه، إلا أن يتقدم إلي فأكف، وإلا أقدمت فلم أزل على ذلك حتى توفاه الله وهو عني راض والحمد لله على ذلك كثيرا وأنا به أسعد، ثم صار أمركم إلي اليوم وأنا أعلم؛ فسيقول قائل: كان يشتد علينا والأمر إلى غيره، فكيف به إذا صار إليه؟ واعلموا أنكم لا تسألون عني أحدا قد عرفتموني وجربتموني وعرفتم من سنة نبيكم ما عرفت وما أصبحت نادما على شيء أكون أحب أن أسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم عنه إلا وقد سألته، فاعلموا أن شدتي التي كنتم ترون ازدادت أضعافا إذ صار الأمر إلي على الظالم والمعتدي والأخذ للمسلمين لضعيفهم من قويهم وإني بعد شدتي تلك واضع خدي بالأرض لأهل العفاف والكف منكم والتسليم، وإني لا آبىإن كان بيني وبين أحد منكم شيء من أحكامكم أن أمشي معه إلى من أحببتم منكم فلينظر فيما بيني وبينه أحد منكم، فاتقوا الله عباد الله وأعينوني على أنفسكم بكفها عني، وأعينوني على نفسي بالأمر بالمعروف والنهي عن المنكر وإحضاري النصيحة فيما ولاني الله من أمركم، ثم نزل. "أبو حسين بن بشران في فوائده وأبو أحمد الدهقان في الثاني من حديثه ك واللالكائي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৮৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14185 حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ سب سے پہلا خطبہ جو حضرت عمر (رض) نے کہا وہ آپ (رض) نے حمدوثناء کے بعد یہ فرمایا :

تم کو میرے ساتھ اور مجھے تمہارے ساتھ آزمائش میں ڈالا گیا ہے۔ مجھے اپنے دو ساتھیوں کے بعد خلیفہ بنایا گیا ہے۔ جو ہمارے ساتھ حاضر باش رہا ہم خود اس کا خیال رکھیں گے اور جو ہم سے دور ہوا ہم ان پر صاحب قوت اور امانت دار لوگوں کو والی بنائیں گے۔ جس نے اچھائی برتی ہم اس کے ساتھ نیکی میں اضافہ کریں گے اور جو برائی کی راہ چلا ہم اس کو برے انجام سے گزاریں گے، بس اللہ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے۔ ابن سعد، شعب الایمان للبیہقی
14185- عن الحسن قال: إن أول خطبة خطبها عمر حمد الله وأثنى عليه ثم قال: أما فقد ابتليت بكم وابتليتم بي وخلفت فيكم بعد صاحبي فمن كان بحضرتنا باشرناه بأنفسنا، ومهما غاب عنا، ولينا أهل القوة والأمانة فمن يحسن نزده حسنا ومن يسيء نعاقبه ويغفر الله لنا ولكم. "ابن سعد هب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৮৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14186 جامع بن شداد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے منبر پر چڑھتے ہوئے (خطبے سے قبل) سب سے پہلے یہ دعا کی :

اے اللہ ! میں سخت ہوں مجھے نرم بنادے میں ضعیف ہوں مجھے قوی بنادے اور میں بخیل ہوں مجھے سخی بنادے۔ ابن سعد
14186- عن جامع بن شداد عن أبيه قال: كان أول كلام تكلم به عمر بن الخطاب حين صعد المنبر أن قال: اللهم إني غليظ فليني وإني ضعيف فقوني، وإني بخيل فسخني. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৮৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14187 حمید بن ہلال سے مروی ہے کہ ہمیں ایسے شخص نے بیان کیا جو حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی وفات کے موقع پر حاضر تھا کہ جب حضرت عمر (رض) حضرت ابوبکر (رض) کی تدفین سے فارغ ہوئے تو ان کی قبر کی مٹی سے اپنے ہاتھ جھاڑے پھر اسی جگہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوگئے اور ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تم کو میرے ساتھ آزمائش میں مبتلاکردیاہی اور مجھے تمہارے ساتھ آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ میرے دو ساتھیوں کے چلے جانے کے بعد بھی تمہارے اندر باقی چھوڑ دیا ہے۔ اللہ کی قسم ! تمہارے معاملات کا کوئی کام میری موجودگی میں پیش آیا تو میرے سوا اس کو کوئی حل نہ کرے گا اور اگر میری عدم موجودگی میں تمہارا کوئی مسئلہ در پیش ہوا تو میں کسی صاحب امانت پر اس کی ذمہ داری ڈالنے سے ہرگز نہ کتراؤں گا۔ اگر تم اچھا چلتے رہے تو میں بھی تمہارے ساتھ اچھائی برتوں گا اور اگر لوگوں نے برائی کا راستہ اختیار کیا تو میں ان کو عبرت کا سامان بنادوں گا۔

روای کہتا ہے : اللہ کی قسم حضرت عمر (رض) اسی بات پر قائم رہے حتیٰ کہ دنیا سے جدا ہوگئے۔

ابن سعد، شعب الایمان للبیہقی
14187- عن حميد بن هلال: حدثنا من شهد وفاة أبي بكر الصديق فلما فرغ عمر من دفنه نفض يديه من تراب قبره، ثم قام خطيبا مكانه فقال: إن الله ابتلاكم بي، وابتلاني بكم، وأبقاني فيكم بعد صاحبي فوالله لا يحضرني شيء من أمركم فيليه أحد دوني ولا يتغيب عني فآلوفيه عن الجزءوالأمانة، ولئن أحسنوا لأحسنن إليهم، ولئن أساؤوا لأنكلن بهم قال الرجل: فوالله ما زال على ذلك حتى فارق الدنيا. "ابن سعد هب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৮৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14188 قاسم بن محمد سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : اب حکومت کی زمام مجھے تھما دی گئی ہے حالانکہ مجھے علم ہے کہ قریب اور دور والے اس کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اب لوگوں کو میں آگاہ کرتا ہوں کہ میں اس کے لیے اپنے دفاع میں لوگوں سے قتال کرنے سے دریغ نہیں کروں گا۔ لیکن اگر مجھے علم ہوگیا کہ کوئی مجھے سے زیادہ اس کام پر قوی اور طاقت والا ہے تو تب مجھے آگے بڑھ کر قتل ہوجانا زیادہ پسند ہوگا اس بات سے کہ میں ایسے شخص سے اس حکومت کو حاصل کرنے کی کوشش کروں۔ ابن سعد، ابن عساکر
14188- عن القاسم بن محمد قال: قال عمر بن الخطاب: ليعلم من ولي هذا الأمر من بعد أن سيريده عنه القريب والبعيد إني لأقاتل الناس عن نفسي قتالا ولو علمت أن احدا من الناس أقوى عليه مني لكنت أقدم فيضرب عنقي أحب إلي من أن أليه"ابن سعد كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৮৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14189 عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :

عہد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں وحی کے ساتھ بھی لوگوں کا مواخذہ کیا جاتا تھا۔ لیکن اب وحی کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہے۔ لہٰذا ہم تمہارے ظاہری اعمال پر تمہاری پکڑ کریں گے۔ جس نے ہم پر خیر کو ظاہر کیا ہم اس پر ایمان لائیں گے اور اس کو قریب کریں گے اور ہمیں اس کے اندرونی معاملات سے سروکار نہ ہوگا۔ پھر اللہ ہی اس کے اندرونی معاملات کا حساب فرمائے گا۔ اور اگر کسی نے ہمارے آگے شر کو ظاہر کیا تو ہم اس پر مطمئن نہ ہوں گے اور نہ اس کی تصدیق کریں گے اگر وہ کہے گا کہ اس کا باطن اچھا ہے۔ مصنف لعبد الرزاق
14189- عن عبد الله بن عتبة بن مسعود قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول: إن ناسا كانوا يأخذون بالوحي في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وإن الوحي قد انقطع وإنما نأخذكم الآن بما ظهر من أعمالكم فمن أظهر لنا خيرا آمناه وقربناه، وليس إلينا من سريرته شيء الله يحاسبه في سريرته ومن أظهر لنا شرا لم نأمنه ولم نصدقه، وإن قال: إن سريرته حسنة. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৯০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14190 حضرت زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ بازار کی طرف نکلا۔ حضرت عمر (رض) کو ایک جوان عورت کا سامنا ہوا۔ عورت نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! میرا شوہر ہلاک ہوگیا ہے اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو چھوڑ گیا ہے۔ اللہ کی قسم ! یہ تو ایک پایہ پکوانے کے قابل بھی نہیں (کما کر لاسکتے) اور نہ ان کے پاس کھیتی اور زمین ہے اور نہ مویشی جانور۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں ان کو بجوہی نہ کھاجائے۔ میں بنت خفاف بن ایماء الغفاری ہوں اور میرے والد خفاف صلح حدیبیہ میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔

یہ سن کر حضرت عمر (رض) کھڑے ہوگئے اور آگے نہ بڑھے بلکہ فرمایا : خوش آمدید تم تو قریبی نسب والی نکلیں کہ تمہارے باپ کو حضور کے ساتھ صحبت کا شرف حاصل رہا پھر آپ (رض) لوٹے اور ایک بار بردار تگڑے اونٹ کو کھولا جو (بیت المال والے) گھر میں بندھا ہوا تھا۔ پھر اس پر دو بورے رکھ کر طعام اور غلے سے بھرے۔ ان کے درمیان نفقہ (سازوسامان) اور کپڑے وغیرہ رکھے۔ پھر اونٹ کی مہارجاکر عورت کو تھما دی اور فرمایا : یہ اونٹ لو اور یہ سامان تمہارے پاس ختم نہ ہوگا کہ اللہ پاک اور عطا کردے گا۔

ایک آدمی نے حضرت عمر (رض) کو عرض کیا : اے امیر المومنین ! آپ نے اس کو زیادہ مال دیدیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تیری ماں تجھے روئے۔ اس کا باپ حدیبیہ کے موقع پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شریک تھا۔ اللہ کی قسم ! میں دیکھتا ہوں کہ اس کے باپ اور بھائی نے ایک قلعہ کا طویل زمانے تک محاصرہ کیا تھا جس کو ہم پر اللہ نے فتح کردیا۔ اب ہم اس قلعے سے مال غنیمت حاصل کرتے ہیں تو اس کے باپ اور بھائی کا اس میں کیوں حصہ نہیں ہوگا۔ البخاری، ابوعبیدۃ فی الاموال، السنن للبیہقی
14190- عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: خرجت مع عمر بن الخطاب إلى السوق فلحقت عمر امرأة شابة فقالت: يا أمير المؤمنين هلك زوجي وترك صبية صغارا والله ما ينضجون كراعاولا لهم زرع ولا ضرع، وخشيت أن يأكلهم الضبع وأنا؟؟ بنت خفاف بن إيماء الغفاري، وقد شهد أبي الحديبية مع النبي صلى الله عليه وسلم، فوقف معها عمر ولم يمض ثم قال: مرحبا بنسب قريب، ثم انصرف إلى بعير ظهيركان مربوطا في الدار فحمل عليه غرارتين ملأهما طعاما وجعل بينهما نفقة وثيابا، ثم ناولها بخطامه، ثم قال: اقتاديه، فلن يفنى حتى يأتيكم الله بخير، فقال رجل: يا أمير المؤمنين أكثرت لها فقال عمر: ثكلتك أمك شهد أبوها الحديبية مع النبي صلى الله عليه وسلم والله إني لأرى أبا هذه وأخاها قد حاصرا حصنا زمانا فافتتحناه، ثم أصبحنا نستفيء سهمانهما فيه. "خوأبو عبيدة في الأموال هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৯১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14191 ھمام سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس اہل کتاب (یہودیوں یاعیسائیوں) کا ایک آدمی آیا اور عرض کیا : اسلام علیک اے عرب کے بادشاہ ! حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کیا تم ایسا اپنی کتابوں میں پاتے ہو، نہیں بلکہ تم اپنی کتابوں میں یوں پاتے ہوگے : پہلے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، پھر خلیفہ پھر امیرالمومنین پھر اس کے بعد بادشاہوں کا دور ؟ کتابی نے عرض کیا : جی ہاں۔

ابن ابی شیبہ ، نعیم بن حماد فی الفتن
14191- عن همام قال: جاء إلى عمر رجل من أهل الكتاب فقال: السلام عليك يا ملك العرب، فقال عمر: هكذا تجدونه في كتابكم أليس تجدون النبي صلى الله عليه وسلم، ثم الخليفة، ثم أمير المؤمنين، ثم الملوك بعد؟ قال له: بلى. "ش ونعيم بن حماد في الفتن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৯২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14192 حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے کئی شہروں کی بنیاد ڈالی : مدینہ، بصرہ، کوفہ، بحرین، شام اور جزیرہ۔ ابن سعد
14192- عن الحسن أن عمر بن الخطاب مصر الأمصار؛ المدينة والبصرة والكوفة والبحرين ومصر والشام والجزيرة. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৯৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14193 ابوصالح الغفاری سے مروی ہے کہ حضرت عمروبن العاص (رض) نے حضرت عمر (رض) کو لکھا : ہم (مصر میں) جامع مسجد کے پاس آپ کے لیے گھر بناتے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو لکھا کہ ایک حجاز میں رہنے کے لیے مصر میں گھر کی کیا ضرورت ہے، تم ایسا کرو اس کو مسلمانوں کے لیے بازار بنادو۔ ابن عبدالحکم
14193- عن أبي صالح الغفاري قال: كتب عمرو بن العاص إلى عمر بن الخطاب، أنا قد خططنا لك دارا عند المسجد الجامع، فكتب إليه عمر أني لرجل من الحجاز تكون له دار بمصر، وأمره أن يجعلها سوقا للمسلمين. "ابن عبد الحكم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৯৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14194 حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ مجھے ابوبکر (رض) نے زکوۃ وصولی پر مقرر کیا۔ پھر ابوبکر (رض) کی وفات ہوگئی۔ پھر حضرت عمر (رض) نے ان سے پوچھا : اے انس ! کیا تو ہمارے لیے اونٹ لایا ہے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اونٹ ہمارے حوالے کردو جبکہ دوسرا مال تم لے لو۔ میں نے عرض کیا : وہ تو بہت زیادہ ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : خواہ کتنا ہو، وہ تمہارا ہے۔ وہ چار ہزار درہم تھے۔ چنانچہ میں اہل مدینہ میں سب سے زیادہ مالدار بن گیا۔

ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : کیا تو ہمارے پاس اونٹ لایا ہے ؟ میں نے عرض کیا : پہلے میں بیعت کروں گا پھر باقی خبردوں گا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تمہیں اچھی توفیق ملی ہے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ہاتھ بڑھایا تو میں نے ان کی بیعت کرلی سننے اور اطاعت کرنے پر۔ ابن سعد
14194- عن أنس بن مالك قال: استعملني أبو بكر على الصدقة فقدمت وقد مات أبو بكر فقال عمر: يا أنس أجئتنا بظهرقلت: نعم، قال: جئتنا بالظهر والمال لك؟ قلت: هو أكثر من ذلك، قال: وإن كان هو لك وكان المال هو أربعة آلاف، فكنت أكثر أهل المدينة مالا، وفي رواية: أجئتنا بظهر؟ قلت: البيعة ثم الخبر، فقال عمر: وفقت، فبسط يده فبايعته على السمع والطاعة. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৯৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14195 عمر بن عطیہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس حاضر ہو کر بیعت کی، میں ابھی (نو آموز) لڑکا تھا۔ میں نے کہا : میں بیعت کرتا ہوں اللہ کی کتاب پر اور نبی کی سنت پر، نیز یہ کہ اس کا فائدہ بھی ہمارے لیے اور نقصان بھی ہم پر ہے۔ آپ (رض) میری بات پر ہنس پڑے اور مجھے بیعت کرلیا۔ مسدد
14195- عن عمر بن عطية قال: أتيت عمر بن الخطاب فبايعته وأنا غلام على كتاب الله وسنة نبيه هي لنا وهي علينا فضحك وبايعني. "مسدد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৯৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت۔۔۔امیر المومنین بن خطاب
14196 (مسند عمر) نعمان بن بشیر سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک مجلس میں جس میں آپ کے گرد مہاجرین اور انصار بھی تھے، ارشاد فرمایا : کیا خیال ہے اگر میں بعض کاموں میں رعایت اور رخصت حاصل کرلوں تو تم کیا کروں گے ؟ لوگ چپ ہوگئے ۔ پھر آپ نے دو تین بار یہی سوال پوچھا۔ تب حضرت بشر بن سعد نے عرض کیا : اگر آپ نے ایسا کیا تو ہم آپ کو تیر کی طرح سیدھا کردیں گے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم بہت اچھا کروگے پھر ، تم بہت اچھا کرو گے پھر۔ ابوذر الھروی فی الجامع ، ابن عساکر
14196- "مسند عمر" عن النعمان بن بشير أن عمر بن الخطاب قال في مجلس وحوله المهاجرون والأنصار أرأيتم لو ترخصت في بعض الأمور ما كنتم فاعلين فسكتوا فقال ذلك مرتين أو ثلاثا فقال بشر بن سعد:لو فعلت ذلك قومناك تقويم القدحفقال عمر: أنتم إذا أنتم إذا. "أبو ذر الهروي في الجامع كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৯৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا لشکروں کو روانہ فرمانا
14197 (مسندعمر (رض)) عاصم بن ابی النحود حضرت عمر بن خطاب (رض) کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپ (رض) جب امیروں کو ان کے منصب پر بھیجتے تو ان پر مختلف شرائط عائد کرتے کہ وہ ان کی پابندی کریں ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہونا (یہ اس زمانے میں عجم کی خاص سواری تھی) جس سے بڑائی اور غرور کا اندیشہ تھا، چھنے ہوئے آٹے کی روٹی نہ کھانا، لوگوں کی ضروریات سے قطع نظر کرکے اپنے دروازے لوگوں پر بند نہ کرنا، اگر تم نے ایسا کوئی کام کیا تو تم کو اس کی سزا بھگتنا ہوگی۔ یہ فرما کر آپ ان کو رخصت کردیتے تھے۔

جب آپ کسی (امیر) کو واپس بلانا چاہتے تو ارشاد فرماتے :

میں نے تم کو مسلمانوں کے خونوں پر مسلط نہیں کیا، نہ ان کی عزتوں پر اور نہ ان کے اموال پر مسلط کیا ہے۔ بلکہ میں نے تم کو اس لیے ان پر مقرر کیا تھا تاکہ تم ان کو نماز قائم کرواؤ۔ ان کے اموال غنیمت کو ان کے درمیان تقسیم کرو، عدل کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کرو۔ پس جب تم پر کوئی معاملہ مشکل ہوجائے تو اس کو میرے پاس (لکھ) بھیجو۔ خبردار ! عرب کو مارنا نہیں ورنہ تم ان کو ذلت سے دو چار کرو گے، نہ ان کو بالکلیہ جنگ اور محاذ پر روک لو اور واپسی ہی نہ آنے دو اس سے وہ مشکل اور آزمائش میں پڑجائیں گے اور نہ ان پر غالب آنے کی کوشش کرو ورنہ ان کی رفاقت سے محروم ہوجاؤ گے اور قرآن کو تنہا رکھو۔ اس میں احادیث وغیرہ اور دوسرا کوئی کلام نہ لکھا کرو، نیز قرآن کے علاوہ دیگر آسمانی کتب نہ پڑھا کرو۔ شعب الایمان للبیہقی
14197- "مسنده" عن عاصم بن أبي النجود عن عمر بن الخطاب كان إذا بعث عماله شرط عليهم أن لا تركبوا برذونا ولا تأكلوا نقياولا تلبسوا رقيقا، ولا تغلقوا أبوابكم دون حوائج الناس، فإن فعلتم شيئا من ذلك فقد حلت بكم العقوبة، ثم يشيعهم، فإذا أراد أن يرجع قال: إني لم أسلطكم على دماء المسلمين، ولا على أعراضهم، ولا على أموالهم، ولكني بعثتكم لتقيموا بهم الصلاة، وتقسموا فيهم فيئهم، وتحكموا بينهم بالعدل فإذا أشكل عليكم شيء فارفعوه إلي، ألا فلا تضربوا العرب فتذلوها ولا تجمروهافتفتنوها ولا تعتلوا عليها فتحرموها جردوا القرآن"هب أيضا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৯৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا لشکروں کو روانہ فرمانا
14198 ابراہیم سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کو خبر ملی کہ ایک لشکرجنگ میں ڈٹا رہا ، حتیٰ کہ تمام اہل لشکر شہید کردیئے گئے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کاش وہ واپس لوٹ آتے تو میں ان کو مزید کمک پہنچا دیتا۔ ابن جریر
14198- عن إبراهيم عن عمر بن الخطاب بلغه أن قوما صبروا حتى قتلوا، فقال: لو فاؤوا لكنت لهم فئة"ابن جرير أيضا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪১৯৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا لشکروں کو روانہ فرمانا
14199 حیوۃ بن شریح سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) جب کسی امیر کو لشکر دے کر محاذ پر روانہ فرماتے تو ان کو تقویٰ کی نصیحت کرتے اور (امیر سے) امارت کی بیعت لیتے ہوئے ارشاد فرماتے :

اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور اللہ ہی کی مدد پر بھروسہ کرتا ہوں۔ تم اللہ کی تائید اور مدد کے ساتھ حق اور صبر کو لازم پکڑتے ہوئے کوچ کرو۔ جو لوگ اللہ کے ساتھ کفر کرتے ہیں ، تم ان کے ساتھ قتال کرو، ظلم اور سرکشی نہ کرو۔ بیشک اللہ پاک ظلم و سرکشی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ پھر جب تمہاری دشمن سے مڈبھیڑ ہوجائے تو بزدلی مت دکھاؤ، قدرت پانے پر کسی کا حلیہ نہ بگاڑو، فتح کے وقت (مال غنیمت میں) فضول خرچی نہ کرو۔ جہاد کے موقع پر (اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو) عبرت ناک سزا نہ دو (دشمنوں کی) عورتوں، بوڑھوں اور بچوں کو قتل نہ کرو، جب دونوں لشکروں کا سامنا ہو تو ان کے بےدریغ قتل سے پرہیز کرو، نیز اپنی کثرت تعداد کے موقع پر اور غارت گری کے موقع پر بےدریغ قتل سے پرہیز کرو (بلکہ ان کو راہ فرار کا موقع دو ) حصول غنیمت کے بعد خیانت میں مبتلا نہ ہوجاؤ۔ دنیوی اغراض و مقاصد سے جہاد کو پاکیزہ رکھو اور اس بیعت میں جو تم کررہے ہو عظیم کامیابی کی خوشخبری لو۔ فی کتاب المداراۃ

فائدہ : مولف (رح) فرماتے ہیں اس (روایت کی کتاب) کے تخریج کرنے والے کا نام مجھے معلوم نہیں ہوسکا، یہ قدیم کتاب ہے جس میں ابوخیثمہ سے بھی کثیر روایات منقول ہیں۔
14199- عن حيوة بن شريح عن عمر بن الخطاب كان إذا بعث أميرا أوصاهم بتقوى الله وقال عند عقدة الولاية: بسم الله وعلى عون الله وامضوا بتأييد الله والنصر ولزوم الحق والصبر، وقاتلوا في سبيل الله من كفر بالله، ولا تعتدوا إن الله لا يحب المعتدين، ثم لا تجبنوا عند اللقاء ولا تمثلواعند القدرة، ولا تسرفوا عند الظهور، ولا تنكلواعند الجهاد ولا تقتلوا امرأة ولا هرما ولا وليدا، وتوقوا قتلهم إذا التقى الزحفان وعند جمةالنهضات، وفي شن الغارات، ولا تغلواعند الغنائم ونزهوا الجهاد عن عرض الدنيا وأبشروا بالأرباح في البيع الذي بايعتم وذلك هو الفوز العظيم. "في كتاب المداراة ولا يحضرني اسم مخرجه إلا أنه قديم تكثر الرواية فيه عن أبي خيثمة أيضا".
tahqiq

তাহকীক: