কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৫ টি
হাদীস নং: ১৪২০০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کا لشکروں کو روانہ فرمانا
14200 عبداللہ بن کعب بن مالک الانصاری سے مروی ہے کہ انصار کا ایک لشکر فارس (ایران) کی سرزمین میں اپنے امیر کے ساتھ کسی محاذ پر تھا۔ حضرت عمر (رض) کی عادت مبارکہ تھی کہ ہر سال لشکروں کے پاس مزید لشکر بھیج کر پہلے والوں کو واپس بلالیتے تھے (تاکہ وہ اپنے اہل و عیال کے پاس واپس آجائیں) ان سے حضرت عمر (رض) غافل ہوگئے چنانچہ جب مقررہ مدت گزر گئی تو مذکورہ محاذ کا لشکر واپس آگیا۔ یہ بات حضرت عمر (رض) کو سخت ناگوار گزری ۔ آپ (رض) نے ان کو زجرد تنبیہ کی۔ وہ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے، انھوں نے عرض کیا : اے عمر ! آپ ہم سے غافل ہوگئے تھے اور آپ نے ہمارے متعلق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وہ حکم بھلا دیا تھا جس میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لشکروں کے بعد لشکر بھیجنے کی اور پہلے والوں کو واپس بلانے کی تاکید فرمائی تھی۔
ابن ابی داؤد، السنن للبیہقی
ابن ابی داؤد، السنن للبیہقی
14200- عن عبد الله بن كعب بن مالك الأنصاري أن جيشا من الأنصار كانوا بأرض فارس مع أميرهم، وكان عمر يعقبالجيوش في كل عام فشغل عنهم عمر، فلما مر الأجل قفلأهل ذلك الثغر فاشتد عليهم وتواعدهم وهم أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا: يا عمر إنك غفلت عنا، وتركت فينا ما أمر به النبي صلى الله عليه وسلم من أعقاب بعض الغزية بعضا. "د ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২০১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابوعبیدۃ (رض) کے متعلق فرمان عمر (رض)
14201 سوید (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوعبیدۃ (رض) بوڑھے ہوگئے تو انھوں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اگر وہ اپنے لشکر سمیت واپس آجاتے تو میں ان کے لیے فنتہ (کمک) کا سامان کردیتا۔ السنن للبیہقی
14201- عن سويد أنه سمع عمر بن الخطاب يقول: لما هرم أبو عبيدة: لو أتوني كنت فئتهم.
"ق".
"ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২০২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکروں سے متعلق
14202 ابوخزیمۃ بن ثابت سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) جب کسی کو عامل (امیر وگورنر) مقرر فرماتے تو کچھ انصار اور دوسرے لوگوں کو گواہ بنادیتے اور ان کی اور ان کی حضوری میں عامل کو ارشاد فرماتے :
میں نے تجھے مسلمانوں کے خون بہانے پر امیر نہیں بنایا، نہ ان کی عزتوں کو پامال کرنے پر۔ بلکہ میں نے تجھے ان پر اس لیے امیر مقرر کیا ہے تاکہ تو ان کے درمیان عدل و مساوات کے ساتھ ان کے اموال کو تقسیم کرے، ان کے درمیان نماز قائم کرائے۔ نیز آپ (رض) امیر پر یہ شرائط بھی لازم کرتے کہ وہ بغیر چھنے آٹے (اور میدے ) کی روٹی نہ کھائے، باریک لباس زیب تن نہ کرے اور ترکی (عجمی) گھوڑے پر سوار نہ ہو۔ یہ سب باتیں امیرانہ ٹھاٹھ ہیں جن سے آپ (رض) منع فرماتے تھے نیز وہ لوگوں کی ضرورت سے غافل ہو کر اپنا دروازہ ان پر بند نہ کرے۔ مصنف ابن ابی شیبہ، ابن عساکر
میں نے تجھے مسلمانوں کے خون بہانے پر امیر نہیں بنایا، نہ ان کی عزتوں کو پامال کرنے پر۔ بلکہ میں نے تجھے ان پر اس لیے امیر مقرر کیا ہے تاکہ تو ان کے درمیان عدل و مساوات کے ساتھ ان کے اموال کو تقسیم کرے، ان کے درمیان نماز قائم کرائے۔ نیز آپ (رض) امیر پر یہ شرائط بھی لازم کرتے کہ وہ بغیر چھنے آٹے (اور میدے ) کی روٹی نہ کھائے، باریک لباس زیب تن نہ کرے اور ترکی (عجمی) گھوڑے پر سوار نہ ہو۔ یہ سب باتیں امیرانہ ٹھاٹھ ہیں جن سے آپ (رض) منع فرماتے تھے نیز وہ لوگوں کی ضرورت سے غافل ہو کر اپنا دروازہ ان پر بند نہ کرے۔ مصنف ابن ابی شیبہ، ابن عساکر
14202- عن أبي خزيمة بن ثابت قال: كان عمر إذا استعمل رجلا أشهد عليه رهطا من الأنصار وغيرهم يقول: إني لم أستعملك على دماء المسلمين ولا على أعراضهم، ولكني استعملتك عليهم لتقسم بينهم بالعدل وتقيم فيهم الصلاة، واشترط عليه أن لا يأكل نقيا ولا يلبس رقيقا ولا يركب برذونا، ولا يغلق بابه دون حوائج الناس. "ش كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২০৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکروں سے متعلق
14203 عبدالرحمنبن سابط سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے سعید بن عامر الجمحی (رض) کو پیغام بھیجا کہ ہم تجھے ایک لشکر پر امیر مقرر کرتے ہیں تاکہ تم ان کے ساتھ لے کر دشمن کی سرزمین پر جاؤ اور ان کے ساتھ جہاد کرو۔ سعید بن عامر نے عرض کیا : اے عمر ! مجھے آزمائش میں نہ ڈالیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تم کو نہیں چھوڑوں گا۔ تم لوگوں نے میری گردن میں یہ ساری ذمہ داری ڈال دی ہے اور خود ایک طرف ہٹ گئے ہو۔ سنو ! میں تم کو ایسے لوگوں پر امیر بنا کر بھیج رہا ہوں جن سے تم افضل نہیں ہو، نیز میں تم کو اس لیے ان کے ساتھ نہیں بھیج رہا ہوں کہ تم ان کی کھالوں کو ادھیڑو، یا تم ان کی عزتوں سے پردہ اٹھاؤ بلکہ اس لیے بھیج رہا ہوں کہ تم ان کے ساتھ مل کر دشمنوں سے جہاد کرو اور ان کے اموال غنیمت کو ان کے درمیان تقسیم کرو ۔
ابن سعد۔ ابن عساکر
ابن سعد۔ ابن عساکر
14203- عن عبد الرحمن بن سابط قال: أرسل عمر بن الخطاب إلى سعيد بن عامر الجمحي فقال: إنا مستعملوك على هؤلاء لتسير بهم إلى أرض العدو فتجاهد بهم، فقال: يا عمر لا تفتني فقال عمر: والله لا أدعكم جعلتموها في عنقي، ثم تخليتم عني، إنما أبعثك على قوم لست أفضلهم، ولست أبعثك لتضرب أبشارهمولتنتهك أعراضهم، ولكن تجاهد بهم عدوهم وتقسم بينهم فيئهم. "ابن سعد كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২০৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکروں سے متعلق
14204 جعفر بن عبداللہ بن ابی الحکم سے مروی ہے کہ (امیر لشکر) حضرت عمرو بن العاص (رض) اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ عنہ کے بطریق (پیشوا) کے پاس گئے۔ بطریق نے ان کو خوش آمدید کہا، اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا اور خوب طویل گفتگو کی ۔ حضرت عمرو (رض) اس پر باتوں میں غالب آگئے اور اس کو اسلام کی دعوت دی۔ بطریق نے جب آپ (رض) کے کلام، فصیح البیانی اور آداب کو دیکھا اور سنا تو (مرعوب ہو کر وطن) حاضرین سے رومی زبان میں کہا اے رومیو ! بس آج تم میری بات مان لو، پھر خواہ ساری زندگی میری بات پر کان نہ دھرنا، دیکھو یہ مسلمانوں کا امیر معلوم ہوتا ہے ، تم نے نہیں دیکھا کہ میں نے جب بھی اس سے کوئی بات کی تو اس نے بذات خود اسی وقت اس کا جواب مجھے دیدیا اور یہ نہیں کہا : کہ میں اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرکے بتاؤں گا اور تم نے جو کہا ہے اس کو پہلے اپنے ساتھیوں پر پیش کروں گا۔ لہٰذا اب میری یہ بات مانو کہ اس کو یہاں سے نکلنے سے قبل قتل کردیتے ہیں پھر عرب ہمارے درمیان اور اپنے معاملے کے درمیان اختلافات میں پھنس کر وہ جائیں گے۔ طریق کی بات سن کر اس کے قریبی رومی نے کہا : نہیں یہ رائے درست نہیں ہے۔ حضرت عمرو بن العاص (رض) کے ساتھ ان کے ساتھیوں میں سے ایک ایسا ساتھی بھی ساتھ آیا تھا جو رومی زبان جانتا تھا، اس نے بادشاہ کی بات حضرت عمر (رض) سے ذکر کردی۔ چنانچہ حضرت عمرو (رض) وہاں سے نکل آئے اور جب دروازے سے نکل گئے تو اللہ اکبر کا نعرہ مارا اور ارشاد فرمایا : آئندہ میں کبھی ایسا کام نہیں کروں گا۔ آپ کے ساتھیوں نے بھی خدا کا شکر ادا کیا کہ سلامتی کے ساتھ ان کے مرغے سے نکل آئے۔
حضرت عمرو (رض) نے یہ سارا قصہ لکھ کر حضرت عمر (رض) کو بھیجا۔ حضرت عمر (رض) نے جواب لکھا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہ اس نے ہم پر اور تم پر یہ احسان فرمایا۔ آئندہ اپنی ذات کو یا کسی بھی مسلمان کو ایسے کسی خطرہ میں نہ ڈالنا، کسی بھی کافر سے کوئی بات کرنا مقصود ہو تو ایسی جگہ کا انتخاب کرو جو اس کے اور تمہارے درمیان برابر ہو، اس طرح تم ان کے دھوکا سے محفوظ رہو گے اور نیز اس کے لیے جو صلہ شکنی کا سامان ہوگا۔ والسلام۔
چنانچہ جب حضرت عمرو (رض) نے حضرت عمر (رض) کا خط پڑھا تو فرمایا : اللہ عمر پر رحم کرے، ایک شفیق باپ بھی اپنی اولاد پر اس سے زیادہ شفقت نہیں کرسکتا جتنی عمر اپنی رعایا کے ساتھ شفقت نوازی فرماتے ہیں۔ ابن سعد
حضرت عمرو (رض) نے یہ سارا قصہ لکھ کر حضرت عمر (رض) کو بھیجا۔ حضرت عمر (رض) نے جواب لکھا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہ اس نے ہم پر اور تم پر یہ احسان فرمایا۔ آئندہ اپنی ذات کو یا کسی بھی مسلمان کو ایسے کسی خطرہ میں نہ ڈالنا، کسی بھی کافر سے کوئی بات کرنا مقصود ہو تو ایسی جگہ کا انتخاب کرو جو اس کے اور تمہارے درمیان برابر ہو، اس طرح تم ان کے دھوکا سے محفوظ رہو گے اور نیز اس کے لیے جو صلہ شکنی کا سامان ہوگا۔ والسلام۔
چنانچہ جب حضرت عمرو (رض) نے حضرت عمر (رض) کا خط پڑھا تو فرمایا : اللہ عمر پر رحم کرے، ایک شفیق باپ بھی اپنی اولاد پر اس سے زیادہ شفقت نہیں کرسکتا جتنی عمر اپنی رعایا کے ساتھ شفقت نوازی فرماتے ہیں۔ ابن سعد
14204- عن جعفر بن عبد الله بن أبي الحكم قال: خرج عمرو بن العاص إلى بطريقعنهفي نفر من أصحابه فقال له البطريق: مرحبا بك وأجلسه معه على سريره وحادثه وأطال، ثم كلمه بكلام كثير وحاجه عمرو ودعاه إلى الإسلام، فلما سمع البطريق كلامه وبيانه وآدابه قال بالرومية: يا معشر الروم أطيعوني اليوم واعصوني الدهر، هذا أمير القوم ألا ترون كلما كلمته كلمة أجابني عن نفسه لا يقول: أشاور أصحابي، وأذكر لهم ما عرضت علي فليس إلا أن نقتله قبل أن يخرج من عندنا: فتختلف العرب بيننا وبين أمرهم، فقال من حوله من الروم ليس هذا برأي، وكان قد دخل مع عمرو بن العاص رجل من أصحابه يعرف كلام الروم، فألقى إلى عمرو ما قال الملك، وخرج عمرو من عنده فلما خرج من الباب كبر وقال: لا أعود لمثل هذا أبدا، وأعظم القوم ذلك وحمدوا الله على مارزقوا من السلامة، وكتب عمرو بذلك إلى عمر فكتب إليه عمر الحمد لله على إحسانه إلينا وإياك والتغرير بنفسك أو بأحد من المسلمين في هذا وشبهه بحسب العلجمنهم أن يتكلم من مكان سواء بينك وبينه فتأمن غائلته ويكون أكسر له فلما قرأ عمرو بن العاص كتاب عمر رحم عليه، ثم قال: ما الأب البر لولده بأبر من عمر بن الخطاب لرعيته. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২০৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکروں سے متعلق
14205 حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے، انھوں نے لوگوں کو ارشاد فرمایا :
مجھے امیر المومنین عمر بن خطاب (رض) نے تمہارے پاس۔ امیر بنا کر اس لیے بھیجا ہے کہ میں تم کو تمہارے پروردگار کی کتاب اور تمہارے نبی کی سنت سکھاؤں اور تمہارے راستوں کو صاف ستھرا رکھوں ۔ حلیۃ الاولیاء، ابن عساکر
مجھے امیر المومنین عمر بن خطاب (رض) نے تمہارے پاس۔ امیر بنا کر اس لیے بھیجا ہے کہ میں تم کو تمہارے پروردگار کی کتاب اور تمہارے نبی کی سنت سکھاؤں اور تمہارے راستوں کو صاف ستھرا رکھوں ۔ حلیۃ الاولیاء، ابن عساکر
14205- عن أبي موسى قال: إن أمير المؤمنين عمر بن الخطاب بعثني أعلمكم كتاب ربكم وسنة نبيكم وأنظف طرقكم. "حل كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২০৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لشکروں سے متعلق
14206 (مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ آپ (رض) جب لشکروں کو محاذ پر روانہ فرماتے تو ان کو تسلی دیتے تھے کہ میں تمہارے لیے فئۃ ہوں۔ یعنی جب جنگ میں کسی مشکل کا سامنا ہوجائے تو مجھ سے کمک حاصل کرنے کے لیے میرے پاس واپس آجاؤ۔ ابن جریر
14206- "مسند عمر" عن عمر أنه كان يقول للجيوش إذا بعثهم: أنا فئتكم. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২০৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کے مراسلات
14207 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے علاء بن الحضری جب وہ بحرین میں تھے کو لکھا کہ تم عتبہ بن غزوان کے پاس چلے جاؤ۔ میں تم ان کی جگہ امیر مقرر کرتا ہوں۔ یاد رکھنا ! کہ وہ اولین مہاجرین میں سے ہیں جن کے پاس تو جارہا ہے، وہ ایسے لوگوں میں سے ہیں جن کے لیے اللہ نے پہلے سے نیکی لکھ دی ہے۔ میں نے اس لیے ان کو معزول نہیں کیا ہے کہ وہ عفیف نہیں ہیں، دین میں مضبوطی نہیں ہیں یا سخت جنگجو نہیں ہیں، بلکہ میں نے ان کو اس لیے معزول کیا ہے کہ میرا خیال ہے کہ تم اس علاقے میں ان کی نسبت مسلمانوں سے زیادہ غنی ہو۔ لہٰذا تم ان کے حق کا خیال رکھنا۔ میں نے تم سے پہلے بھی ایک آدمی کو ان کی جگہ امیر مقرر کیا تھا لیکن وہ ان کے پاس پہنچنے سے قبل ہی وفات کر گیا۔ اب اگر اللہ پاک کو مقصود ہوا کہ تم کو امیر بنائے تو وہ تم کو امیر بنادے گا اور اگر مشیت ایزدی میں عتبہ ہی کی امارت لکھ دی گئی ہے تو پس ساری مخلوق اور ساری بادشاہت اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے (جس کو وہ چاہے عطا کرے) جان لے کہ اللہ کا امر محفوظ ہے، اس حفاظت کی بدولت جو اس نے نازل فرمائی ہے۔ لہٰذا تم اس بات کو دھیان میں رکھنا کہ تم کو کس لیے پیدا کیا گیا ہے، لہٰذا اس کے تعاقب میں رہنا اور اس کے ماسوا (لا یعنی کاموں) کو چھوڑ دینا۔ بیشک دنیا کا ایک انجام ہے جبکہ آخرت ابدی ہے۔ لہٰذا تم کو ایسی کوئی چیز جس کی بھلائی اور اس کا مزہ ختم ہونے والا ہو ایسے برائی میں نہ ڈال دے جس کا گناہ اور شر ہمیشہ باقی رہنے والا ہو۔ اللہ کی ناراضگی سے اللہ کی طرف بھاگتے رہو۔ بیشک اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے اپنے حکم اور علم میں اس کے لیے فضیلت کو جمع کردیتا ہے۔ پس ہم اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ سے سوال کرتے ہیں اس کی اطاعت اور تقویٰ کا اور اس کے عذاب سے نجات کا۔ ابن سعد
14207- عن الشعبي قال: كتب عمر بن الخطاب إلى العلاء بن الحضرمي وهو بالبحرين أن سر إلى عتبة بن غزوان فقد وليتك عمله، واعلم أنك تقدم على رجل من المهاجرين الأولين الذين قد سبقت لهم من الله الحسنى لم أعزله، أن لا يكون عفيفاصليبا شديد البأس ولكني ظننت أنك أغنى عن المسلمين في تلك الناحية منه فاعرف له حقه، وقد وليت قبلك رجلا فمات قبل أن يصل، فإن يرد الله تعالى أن تلي وليت وإن يرد أن يلي عتبة فالخلق والأمر لله رب العالمين، واعلم أن أمر الله محفوظ بحفظه الذي أنزله، فانظر الذي خلقت له فاكدح له ودع ما سواه؛ فإن الدنيا أمد والآخرة أبد فلا يشغلنك شيء مدبر خيره عن شيء باق شره واهرب إلى الله من سخطه؛ فإن الله يجمع لمن يشاء الفضيلة في حكمه وعلمه نسأل الله لنا ولك التقوى على طاعته والنجاة من عذابه. "ابن سعد"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২০৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کے مراسلات
14208 ابوحذیفہ اسحاق بن بشیر اپنے شیوخ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کو جب خلیفہ بنایا گیا تو انھوں نے ابوعبیدۃ بن الجراح (رض) کو لکھا :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ازبندہ بندا امیر المومنین عمر، بطرف ابی عبیدۃ بن الجراح
تم کو سلام ہو، میں تمہارے آگے حمد کرتا ہوں اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
اما بعد ! حضرت ابوبکر صدیق (رض) خلیفہ رسول وفات پاگئے ہیں، ان للہ وانا الیہ راجعون، ان پر اللہ کی رحمت اور برکات نازل ہوں وہ سچے حق کے عمل دار، انصاف کے حاکم، نیکی کے پابند اور پاکدامنی ونرمی کے خوگر ، دنیاوی راحتوں کو خیر آباد کہنے والے اور بردبار شخص تھے۔ ہم ان کی رحلت کی مصیبت پر اللہ سے ثواب کی امید رکھتے ہیں، بیشک ہماری، تمہاری اور تمام مسلمانوں کی مصیبتوں کا مداوا اللہ عزوجل کے پاس ہی ہے۔ میں اللہ سے پاکدامنی کا سوال کرتا ہوں۔ اس کی رحمت کے سائے میں تقویٰ کا سوال کرتا ہوں اور اس کی اطاعت کی توفیق مانگتا ہوں جب تک ہم زندہ ہیں اور موت کے بعد اس کی جنت میں داخل ہونے کا سوال کرتے ہیں، بیشک وہ ہر شے پر قادر ہے۔
ہمیں خبر ملی ہے کہ تم نے اہل دمشق کا محاصرہ کررکھا ہے۔ میں نے تم کو (محاذ پر) تمام مسلمانوں کا امیر بنایا تھا۔
تم اپنے لشکروں کے ساتھ حمص، دمشق کا محاصرہ کررکھا ہے۔ میں نے تم کو (محاذ پر) تمام مسلمانوں کا امیر بنایا تھا۔
تم اپنے لشکروں کے ساتھ حمص، دمشق اور ان کے علاوہ ارض شام کے اطراف میں بھی نظر رکھو۔ اس معاملے میں اپنی اور تمہارے ساتھ موجود مسلمانوں کی رائے کو بروئے کار لاؤ۔ لیکن میری اس تجویز کے نتیجے میں تم اپنے تمام لشکروں کو ادھر ادھر روانہ کرکے خود تنہا نہ رہ جانا جس سے دشمن تمہاری طرف میلی آنکھ اٹھائے، بلکہ زائد از ضرورت لشکر کو ادھر ادھر پھیلا دو اور جس قدر لشکر کی تم کو قلعے کے محاصرہ میں ضرورت ہو اس کو اپنے پاس ہی روک رکھو اور اپنے پاس روکنے والوں میں خالد بن الولید کا نام بھی شامل رکھو بیشک تم اس سے بےنیازی حاصل نہیں کرسکتے۔ ابن عساکر
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ازبندہ بندا امیر المومنین عمر، بطرف ابی عبیدۃ بن الجراح
تم کو سلام ہو، میں تمہارے آگے حمد کرتا ہوں اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
اما بعد ! حضرت ابوبکر صدیق (رض) خلیفہ رسول وفات پاگئے ہیں، ان للہ وانا الیہ راجعون، ان پر اللہ کی رحمت اور برکات نازل ہوں وہ سچے حق کے عمل دار، انصاف کے حاکم، نیکی کے پابند اور پاکدامنی ونرمی کے خوگر ، دنیاوی راحتوں کو خیر آباد کہنے والے اور بردبار شخص تھے۔ ہم ان کی رحلت کی مصیبت پر اللہ سے ثواب کی امید رکھتے ہیں، بیشک ہماری، تمہاری اور تمام مسلمانوں کی مصیبتوں کا مداوا اللہ عزوجل کے پاس ہی ہے۔ میں اللہ سے پاکدامنی کا سوال کرتا ہوں۔ اس کی رحمت کے سائے میں تقویٰ کا سوال کرتا ہوں اور اس کی اطاعت کی توفیق مانگتا ہوں جب تک ہم زندہ ہیں اور موت کے بعد اس کی جنت میں داخل ہونے کا سوال کرتے ہیں، بیشک وہ ہر شے پر قادر ہے۔
ہمیں خبر ملی ہے کہ تم نے اہل دمشق کا محاصرہ کررکھا ہے۔ میں نے تم کو (محاذ پر) تمام مسلمانوں کا امیر بنایا تھا۔
تم اپنے لشکروں کے ساتھ حمص، دمشق کا محاصرہ کررکھا ہے۔ میں نے تم کو (محاذ پر) تمام مسلمانوں کا امیر بنایا تھا۔
تم اپنے لشکروں کے ساتھ حمص، دمشق اور ان کے علاوہ ارض شام کے اطراف میں بھی نظر رکھو۔ اس معاملے میں اپنی اور تمہارے ساتھ موجود مسلمانوں کی رائے کو بروئے کار لاؤ۔ لیکن میری اس تجویز کے نتیجے میں تم اپنے تمام لشکروں کو ادھر ادھر روانہ کرکے خود تنہا نہ رہ جانا جس سے دشمن تمہاری طرف میلی آنکھ اٹھائے، بلکہ زائد از ضرورت لشکر کو ادھر ادھر پھیلا دو اور جس قدر لشکر کی تم کو قلعے کے محاصرہ میں ضرورت ہو اس کو اپنے پاس ہی روک رکھو اور اپنے پاس روکنے والوں میں خالد بن الولید کا نام بھی شامل رکھو بیشک تم اس سے بےنیازی حاصل نہیں کرسکتے۔ ابن عساکر
14208- عن أبي حذيفة إسحاق بن بشير عن شيوخه قال: كتب عمر بن الخطاب لما استخلف إلى أبي عبيدة بن الجراح: بسم الله الرحمن الرحيم من عبد الله عمر أمير المؤمنين إلى عبيدة بن الجراح سلام عليك فإني أحمد إليك الله الذي لا إله إلا هو أما بعد، فإن أبا بكر الصديق خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم قد توفي إنا لله وإنا إليه راجعون ورحمة الله وبركاته على أبي بكر الصديق العامل بالحق والآمر بالقسط والآخذ بالعرف واللين والستير. الوادع السهل القريب الحليم، ونحتسب مصيبتنا فيه ومصيبتكم ومصيبة المسلمين عامة عند الله، وأرغب إلى الله في العصمة بالتقى برحمته والعمل بطاعته ما أحيانا والحلول في جنته إذا توفانا، فإنه على كل شيء قدير، وقد بلغنا إحصاركم لأهل دمشق وقد وليتك جميع الناس فأثبتسراياك في نواحي أرض حمص ودمشق وما سواها من أرض الشام وانظر في ذلك برأيك ومن حضرك من المسلمين، ولا يحملك قولي هذا على أن تعرىعسكرك فيطمع فيك عدوك، ولكن من استغنيت عنه فسيره، ومن احتجت إليه في حصارك فاحتبسه، وليكن فيمن تحتبس خالد بن الوليد فإنه لا غنى بك عنه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২০৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کے مراسلات
14209 ضبۃ بن محصن سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کو لکھا :
حمدوصلاۃ کے بعد !
بسا اوقات لوگوں کو اپنے بادشاہ سے نفرت ہوجاتی ہے۔ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ مجھے یا تم کو اس کا سامنا کرنا پڑے۔ تم حدود کو ضرور قائم کرو خواہ دن کے تھوڑے حصے میں سہی اور جب تمہارے سامنے دوکام پیش آجائیں جن میں سے ایک اللہ کے لیے ہو اور دوسرا دنیا کے لیے تو اللہ کے لیے کام کو ترجیح دینا۔ بیشک دنیا ختم ہوجائے گی اور آخرت باقی رہنے والی ہے۔ اور فاسق وگنہگاروں کو ڈراتے رہنا اور ان کو (جرم کی سزا میں) ایک ایک ہاتھ اور ایک ایک پاؤں والا کردینا، مسلمانوں کے مریض کی عیادت کرتے رہنا، ان کے جنازوں میں حاضری دیتے رہنا، اپنا دروازہ ان کے لیے کھلا رکھنا، ان کے مسائل کو خود حل کرنا، یادرکھ ! تو بھی انہی میں سے ایک فرد واحد ہے، بس یہ کہ تجھ پر ذمہ داری کا بوجھ ان سے زیادہ ہے۔ مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے اپنا لباس ، طعام اور سواری میں نرالا انداز اختیار کرلیا ہے جو عام مسلمانوں کو میسر نہیں ہے۔ اے اللہ کے بندے اس جانور جیسا مت بن جو ایک سرسبزوادی میں گزرا تو اس کا ایک ہی مقصد رہ گیا کہ وہ کسی طرح کھا کھا کر فربہ ہوجائے۔ حالانکہ اس کی فربہی ہی میں اس کی اچانک موت کا راز لکھا ہے۔ یادرکھ ! ۔ امیر جب کج رو ہوجائے تو اس کی رعایا بھی کج روی اختیار کرلیتی ہے اور لوگوں میں سب سے بڑا بدبخت وہ ہے جس کی وجہ سے اس کی رعایا بدبخت ہوجائے۔ الدینوری
حمدوصلاۃ کے بعد !
بسا اوقات لوگوں کو اپنے بادشاہ سے نفرت ہوجاتی ہے۔ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ مجھے یا تم کو اس کا سامنا کرنا پڑے۔ تم حدود کو ضرور قائم کرو خواہ دن کے تھوڑے حصے میں سہی اور جب تمہارے سامنے دوکام پیش آجائیں جن میں سے ایک اللہ کے لیے ہو اور دوسرا دنیا کے لیے تو اللہ کے لیے کام کو ترجیح دینا۔ بیشک دنیا ختم ہوجائے گی اور آخرت باقی رہنے والی ہے۔ اور فاسق وگنہگاروں کو ڈراتے رہنا اور ان کو (جرم کی سزا میں) ایک ایک ہاتھ اور ایک ایک پاؤں والا کردینا، مسلمانوں کے مریض کی عیادت کرتے رہنا، ان کے جنازوں میں حاضری دیتے رہنا، اپنا دروازہ ان کے لیے کھلا رکھنا، ان کے مسائل کو خود حل کرنا، یادرکھ ! تو بھی انہی میں سے ایک فرد واحد ہے، بس یہ کہ تجھ پر ذمہ داری کا بوجھ ان سے زیادہ ہے۔ مجھے خبر ملی ہے کہ تم نے اپنا لباس ، طعام اور سواری میں نرالا انداز اختیار کرلیا ہے جو عام مسلمانوں کو میسر نہیں ہے۔ اے اللہ کے بندے اس جانور جیسا مت بن جو ایک سرسبزوادی میں گزرا تو اس کا ایک ہی مقصد رہ گیا کہ وہ کسی طرح کھا کھا کر فربہ ہوجائے۔ حالانکہ اس کی فربہی ہی میں اس کی اچانک موت کا راز لکھا ہے۔ یادرکھ ! ۔ امیر جب کج رو ہوجائے تو اس کی رعایا بھی کج روی اختیار کرلیتی ہے اور لوگوں میں سب سے بڑا بدبخت وہ ہے جس کی وجہ سے اس کی رعایا بدبخت ہوجائے۔ الدینوری
14209- عن ضبةبن محصن قال: كتب عمر بن الخطاب إلى أبي موسى الأشعري أما بعد فإن للناس نفرة من سلطانهم، فأعوذ بالله أن تدركني وإياك؛ فأقم الحدود ولو ساعة من النهار، وإذا حضر أمران أحدهما لله، والآخر للدنيا فآثر نصيبك من الله فإن الدنيا تنفد والآخرة تبقى وأخف الفساق واجعلهم يدا يدا ورجلا ورجلا عد مريض المسلمين واحضر جنائزهم، وافتح بابك وباشر أمورهم بنفسك، فإنما أنت رجل منهم غير أن الله جعلك أثقلهم حملا، وقد بلغني أنه نشأ لك ولأهل بيتك هيئة في لباسك ومطعمك ومركبك، ليس للمسلمين مثلها، فإياك يا عبد الله أن تكون بمنزلة البهيمة مرت بواد خصب، فلم يكن لها هم إلا التسمن وإنما حتفها في السمن، واعلم أن العامل إذا زاغ زاغت رعيته، وأشقى الناس من شقيت به رعيته. "الدينوري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২১০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کے مراسلات
14210 (مسند عمر (رض)) لیث بن سعد سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عمرو بن العاص (رض) کو خط لکھا :
ازبندہ خدا امیر المومنین عمر بطرف عمرو بن العاص
تم پر سلام ہو۔ میں تم کو اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ حمدوصلاۃ کے بعد ! مجھے تمہارے منصب کی طرف سے فکر لاحق ہے، جس پر تم فائز ہو ۔ دیکھو تم وسیع و عریض سرزمین پرامیر ہو۔ جس کے اہلیان کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے تعداد، قوت اور بروبحر پر قدرت بخشی ہے۔ تمہاری رعایا (یعنی اہل مصر) اس سے قبل قحط سالیوں وغیرہ کی وجہ سے جس قدرلگان بھرتی تھی اب خراج کی صورت میں ان سے اس کا نصف بھی وصول نہیں کیا جاتا۔ اور میں نے خراج کے بارے میں تم سے اکثر مرتبہ خط و کتابت کی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ واضح اور کھلی چیز ہے سوائے معمولی اور اتفاقیہ صورت حال کے۔ میرا خیال ہے کہ تم مر کر ہی میری بات کو قبول کرو گے۔ جب تم مجھے (خراج بھجوانے کی بجائے) لمبے چوڑے مسائل کا ذکر کرتے ہو جو میرے خیال کے موافق (درست) نہیں ہوئے تو (یادرکھو) میں ان کو قبول نہیں کرسکتا، سوائے اس صورت کے کہ تم سے جو خراج پہلے وصول کیا جاتا تھا وہی تم سے وصول کیا جائے۔ اور مجھے اس کے ساتھ اس بات کی وجہ بھی معلوم نہیں ہورہی کہ خطوط میں لکھی کسی چیز نے تم کو میرے خطوط سے متفرد کردیا ہے۔ پس اگر کسی واضح بات کا قطعیت کے ساتھ ذکر کرو تو ہماری معذرت اور برأت تم کو نفع مند ہوسکتی ہے اور اگر تم یونہی کھوکھلی باتیں کرو گے تو بات اس طرح معمول پر نہیں آئے گی جیسا تم سمجھ رہے ہو۔ ہاں میں یہ رعایت کرتا ہوں کہ گزشتہ سال (کے خراج) سے متعلق تم کو آزمائش میں نہ ڈالوں اس امید پر کہ تم میری بات پر لوٹ آؤ۔ مجھے معلوم ہے کہ تم کو خراج کی ادائیگی سے صرف تمہارے برے ارکان حکومت ہی روک رہے ہیں۔ اور تم جس چیز کے درپے ہو اور جس کے بارے میں گٹھ جوڑ کر رہے ہو تمہارے ارکان نے تم کو اس کے لیے جائے پناہ بنالیا ہے اور میرے پاس اللہ کے حکم سے ایسی دواء ہے جس میں اس مرض کی شفاء ہے جس کے متعلق میں تم سے پوچھ رہا ہوں۔ اے ابوعبیداللہ ! فکر نہ کرو تم سے حق لیا جائے گا اور تم خود اس کو ادا کرو گے۔ تمہارے ملک کی نہریں دودھ دیتی ہیں اور حق بات صاف سفید ہے۔ تم مجھے اور اس بات کو چھوڑ دو جو تمہارے جی میں کھٹک رہی ہے کیونکہ پوشیدہ امر کھل گیا ہے، والسلام۔
راوی کہتے ہیں پھر حضرت عمرو بن العاص (رض) نے حضرت عمر (رض) کو جواب لکھا :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بندہ خدا امیر المومنین عمر کی طرف عمرو بن العاص کی جانب سے۔
تم پر سلام ہو۔ میں تم کو اللہ کی حمدبیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
حمدوصلاۃ کے بعد !
مجھے امیر المومنین کا خط پہنچا خراج کے متعلق جس کی ادائیگی میں انھوں نے مجھے تاخیر کرنے والا پایا اور انھوں نے اپنے خط میں مصر میں فرعونوں کے دور کا حال اور ان کے اعمال کا بھی ذکر کیا، امیر المومنین کو تعجب ہے کہ پہلے زمانے میں اب سے دگنا خراج مختلف صورتوں میں ان سے لیا جاتا تھا اب اسلام کے دور میں اس سے کہیں کم کیوں نہیں ادا کیا جارہا۔
میری زندگی کی قسم ! خراج آج بہت زیادہ ہے اور کثیر ہے، زمین بھی زیادہ آباد کیونکہ لوگ پہلے اپنے کفر اور اپنی سرکشی پر اڑے ہوئے تھے خواہ اس وقت اپنی زمینوں کو آج اسلام کے زمانے سے ہم سے زیادہ آبا کرنے والے تھے۔ لیکن کفر کی نحوست نے ان کی کوششوں کو بار آور نہیں ہونے دیا نیز آپ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہاں کی نہر (دریائے نیل زمینوں کی پیداوار کی صورت میں ) دودھ دیتی ہے اور میں وہ دودھ دوہتا ہوں، اس طرح آپ نے اپنے خط میں بہت باتیں فرمائی ہیں، خبردار کیا ہے، تعرض کیا ہے اور برأت کا اظہار کیا ہے ایسی کسی بات سے جس کے متعلق آپ کا خیال ہے کہ ہم آپ کو اندھیرے میں رکھ رہے ہیں۔ میری زندگی کی قسم ! آپ نے بہت سخت زبان اور گالی گلوچ والی باتیں فرمائی ہیں، آپ کے لیے درست تھا کہ آپ قاعدے کے موافق سچی حتمی اور حق بات کہہ دیتے۔ حالانکہ ہم نے رسول اللہ کے حکم پر اور پھر ان کے بعد حضرت ابوبکر (رض) کے حکم پر بھی یہ ذمہ داری نبہائی۔ بحمد للہ ہم ہر زمانے میں اپنی امانت کو ادا کرنے والے رہے اور اللہ نے ہمارے ائمہ کا جو عظیم حق ہم پر رکھا ہم اس کی حفاظت کرتے رہے۔ ہم اس کے علاوہ کسی بھی (خیانت کی) صورت کو قبیح سمجھتے ہیں اور اس پر عمل کرنا براگردانتے ہیں۔ ہماری یہ صفت آپ بھی بہ خوبی جانتے ہیں اور پہلے تک آپ اس کی تصدیق کرتے رہے۔ ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اس طرح کے کھانے سے بری عادت سے اور ہر گناہ پر جراءت کرنے سے۔ آپ اپنا عہدہ ہم سے واپس لیجئے، بیشک اللہ نے مجھے اس گھٹیا طعام سے اور اس میں لاچ رکھنے سے پاک رکھا ہے۔ آپ نے اس خط کے بعد کسی آبرو کا خیال بھی نہ رکھا جس کے توسط سے آپ کسی بھائی کا اکرام کرسکتے اللہ کی قسم ! اے ابن الخطاب ! جب مجھ سے ایسی بات کی امید رکھی جائے تو میں خود اپنی ذات پر ایسا غضبناک ہوں اور اس کو اس خیانت سے پاک کرتا ہوں اور اس کا اکرام کرتا ہوں میں اپنے کسی ایسے عمل کے بارے میں نہیں جانتا جس کے متعلق مجھے کچھ جوابدہی کرنا پڑے۔
لیکن میں ایسی باتوں کو محفوظ رکھتا ہوں جن کو آپ محفوظ نہیں رکھتے۔ اگر میں یثرب کا یہودی ہوتا تب بھی میں کوئی زیادتی نہیں کرتا۔ بس اللہ آپ کی اور ہماری مغفرت فرمائے۔ میں بہت سی ایسی باتوں سے خاموشی اختیار کرتا ہوں جن کو میں جانتا ہوں لیکن ان کو زبان پر لانا خود کو پستی میں گرانے والی بات ہوتی۔ ہاں بس میں یہی کہتا ہوں کہ اللہ نے آپ کے حق کو ہم پر زیادہ کیا ہے جس سے کوئی جاہل نہیں۔ والسلام۔
حضرت عمروبن العاص (رض) کے غلام ابن قیس فرماتے ہیں پھر حضرت عمر (رض) نے حضرت عمرو (رض) بن العاص کو اس کا جواب لکھا جو ذیل پر مشتمل ہے :
تم پر سلام ہو، میں تم پر اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے (حمدوصلاۃ کے) بعد خراج سے متعلق میرے کثرت سے خطوط نے تم کو تعجب (اور پریشانی میں) ڈال دیا ہے، جبکہ تمہارا خط جو مجھے موصول ہوا ہے، یہ چھوٹی موٹی باتیں ہیں اور تم جانتے ہو کہ میں کھلے حق کے سوا تم سے کسی بات پر راضی نہیں ہونے والا۔ میں نے تم کو مصر اس لیے نہیں بھیجا کہ تم اس کے مال کو اپنے اور اپنے لوگوں کے لیے کھانے پینے کا طعام خیال کرو۔ میں نے تم کو اس لیے وہاں کی امارت سپرد کی تھی کہ تم خراج۔ جو مسلمانوں کا حق ہے خوب حاصل کرو گے اور اپنی حسن سیاست کو عمل میں لاؤ گے۔ جب تمہارے پاس میرا یہ خط پہنچے تو فوراً خراج کا مال روانہ کرادو۔ کیونکہ وہ مسلمانوں کا مال غنیمت ہے اور میرے پاس ایسے لوگ ہیں جن کو تم جانتے ہو وہ (سواری وغیرہ نہ ہونے کی وجہ سے جہاد پر جانے سے) رکے ہوئے ہیں۔ والسلام
چنانچہ پھر حضرت عمرو بن العاص (رض) نے ان کا جواب لکھا :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
از عمرو بن العاص بجانب عمر بن الخطاب۔
تم پر سلام ہو، میں تم پر اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
امابعد ! مجھے امیر المومنین کا خط موصول ہوا، آپ مجھے خراج کی ادائیگی میں تاخیر کرنے والا خیال کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ میں حق سے عناد رکھنے والا ہوں اور سیدھے راستے سے بھٹکنے والا ہوں۔ اللہ کی قسم ! میں آپ جانتے ہیں میں درست بات سے ہرگز اعراض کرنے والا نہیں، لیکن اہل ارض (اہل مصر) نے مجھے خراج کی ادائیگی میں کچھ مہلت مانگ لی ہے اس وقت تک کہ وہ غلہ اور پیداوار زمین سے حاصل کرلیں۔ میں نے مسلمانوں کی طرف بھی نظر ڈالی تو میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ان کو نرمی دینا بہتر بجائے اس کے کہ ان کے ساتھ سختی برتی جائے ورنہ پھر (پھوٹ اور اختلافات کے) اس انجام سے دوچار ہوں گے جس کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہوگا۔ والسلام۔ ابن عبدالحکم ایضاً
ازبندہ خدا امیر المومنین عمر بطرف عمرو بن العاص
تم پر سلام ہو۔ میں تم کو اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ حمدوصلاۃ کے بعد ! مجھے تمہارے منصب کی طرف سے فکر لاحق ہے، جس پر تم فائز ہو ۔ دیکھو تم وسیع و عریض سرزمین پرامیر ہو۔ جس کے اہلیان کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے تعداد، قوت اور بروبحر پر قدرت بخشی ہے۔ تمہاری رعایا (یعنی اہل مصر) اس سے قبل قحط سالیوں وغیرہ کی وجہ سے جس قدرلگان بھرتی تھی اب خراج کی صورت میں ان سے اس کا نصف بھی وصول نہیں کیا جاتا۔ اور میں نے خراج کے بارے میں تم سے اکثر مرتبہ خط و کتابت کی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ واضح اور کھلی چیز ہے سوائے معمولی اور اتفاقیہ صورت حال کے۔ میرا خیال ہے کہ تم مر کر ہی میری بات کو قبول کرو گے۔ جب تم مجھے (خراج بھجوانے کی بجائے) لمبے چوڑے مسائل کا ذکر کرتے ہو جو میرے خیال کے موافق (درست) نہیں ہوئے تو (یادرکھو) میں ان کو قبول نہیں کرسکتا، سوائے اس صورت کے کہ تم سے جو خراج پہلے وصول کیا جاتا تھا وہی تم سے وصول کیا جائے۔ اور مجھے اس کے ساتھ اس بات کی وجہ بھی معلوم نہیں ہورہی کہ خطوط میں لکھی کسی چیز نے تم کو میرے خطوط سے متفرد کردیا ہے۔ پس اگر کسی واضح بات کا قطعیت کے ساتھ ذکر کرو تو ہماری معذرت اور برأت تم کو نفع مند ہوسکتی ہے اور اگر تم یونہی کھوکھلی باتیں کرو گے تو بات اس طرح معمول پر نہیں آئے گی جیسا تم سمجھ رہے ہو۔ ہاں میں یہ رعایت کرتا ہوں کہ گزشتہ سال (کے خراج) سے متعلق تم کو آزمائش میں نہ ڈالوں اس امید پر کہ تم میری بات پر لوٹ آؤ۔ مجھے معلوم ہے کہ تم کو خراج کی ادائیگی سے صرف تمہارے برے ارکان حکومت ہی روک رہے ہیں۔ اور تم جس چیز کے درپے ہو اور جس کے بارے میں گٹھ جوڑ کر رہے ہو تمہارے ارکان نے تم کو اس کے لیے جائے پناہ بنالیا ہے اور میرے پاس اللہ کے حکم سے ایسی دواء ہے جس میں اس مرض کی شفاء ہے جس کے متعلق میں تم سے پوچھ رہا ہوں۔ اے ابوعبیداللہ ! فکر نہ کرو تم سے حق لیا جائے گا اور تم خود اس کو ادا کرو گے۔ تمہارے ملک کی نہریں دودھ دیتی ہیں اور حق بات صاف سفید ہے۔ تم مجھے اور اس بات کو چھوڑ دو جو تمہارے جی میں کھٹک رہی ہے کیونکہ پوشیدہ امر کھل گیا ہے، والسلام۔
راوی کہتے ہیں پھر حضرت عمرو بن العاص (رض) نے حضرت عمر (رض) کو جواب لکھا :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
بندہ خدا امیر المومنین عمر کی طرف عمرو بن العاص کی جانب سے۔
تم پر سلام ہو۔ میں تم کو اللہ کی حمدبیان کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
حمدوصلاۃ کے بعد !
مجھے امیر المومنین کا خط پہنچا خراج کے متعلق جس کی ادائیگی میں انھوں نے مجھے تاخیر کرنے والا پایا اور انھوں نے اپنے خط میں مصر میں فرعونوں کے دور کا حال اور ان کے اعمال کا بھی ذکر کیا، امیر المومنین کو تعجب ہے کہ پہلے زمانے میں اب سے دگنا خراج مختلف صورتوں میں ان سے لیا جاتا تھا اب اسلام کے دور میں اس سے کہیں کم کیوں نہیں ادا کیا جارہا۔
میری زندگی کی قسم ! خراج آج بہت زیادہ ہے اور کثیر ہے، زمین بھی زیادہ آباد کیونکہ لوگ پہلے اپنے کفر اور اپنی سرکشی پر اڑے ہوئے تھے خواہ اس وقت اپنی زمینوں کو آج اسلام کے زمانے سے ہم سے زیادہ آبا کرنے والے تھے۔ لیکن کفر کی نحوست نے ان کی کوششوں کو بار آور نہیں ہونے دیا نیز آپ نے ذکر فرمایا ہے کہ یہاں کی نہر (دریائے نیل زمینوں کی پیداوار کی صورت میں ) دودھ دیتی ہے اور میں وہ دودھ دوہتا ہوں، اس طرح آپ نے اپنے خط میں بہت باتیں فرمائی ہیں، خبردار کیا ہے، تعرض کیا ہے اور برأت کا اظہار کیا ہے ایسی کسی بات سے جس کے متعلق آپ کا خیال ہے کہ ہم آپ کو اندھیرے میں رکھ رہے ہیں۔ میری زندگی کی قسم ! آپ نے بہت سخت زبان اور گالی گلوچ والی باتیں فرمائی ہیں، آپ کے لیے درست تھا کہ آپ قاعدے کے موافق سچی حتمی اور حق بات کہہ دیتے۔ حالانکہ ہم نے رسول اللہ کے حکم پر اور پھر ان کے بعد حضرت ابوبکر (رض) کے حکم پر بھی یہ ذمہ داری نبہائی۔ بحمد للہ ہم ہر زمانے میں اپنی امانت کو ادا کرنے والے رہے اور اللہ نے ہمارے ائمہ کا جو عظیم حق ہم پر رکھا ہم اس کی حفاظت کرتے رہے۔ ہم اس کے علاوہ کسی بھی (خیانت کی) صورت کو قبیح سمجھتے ہیں اور اس پر عمل کرنا براگردانتے ہیں۔ ہماری یہ صفت آپ بھی بہ خوبی جانتے ہیں اور پہلے تک آپ اس کی تصدیق کرتے رہے۔ ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اس طرح کے کھانے سے بری عادت سے اور ہر گناہ پر جراءت کرنے سے۔ آپ اپنا عہدہ ہم سے واپس لیجئے، بیشک اللہ نے مجھے اس گھٹیا طعام سے اور اس میں لاچ رکھنے سے پاک رکھا ہے۔ آپ نے اس خط کے بعد کسی آبرو کا خیال بھی نہ رکھا جس کے توسط سے آپ کسی بھائی کا اکرام کرسکتے اللہ کی قسم ! اے ابن الخطاب ! جب مجھ سے ایسی بات کی امید رکھی جائے تو میں خود اپنی ذات پر ایسا غضبناک ہوں اور اس کو اس خیانت سے پاک کرتا ہوں اور اس کا اکرام کرتا ہوں میں اپنے کسی ایسے عمل کے بارے میں نہیں جانتا جس کے متعلق مجھے کچھ جوابدہی کرنا پڑے۔
لیکن میں ایسی باتوں کو محفوظ رکھتا ہوں جن کو آپ محفوظ نہیں رکھتے۔ اگر میں یثرب کا یہودی ہوتا تب بھی میں کوئی زیادتی نہیں کرتا۔ بس اللہ آپ کی اور ہماری مغفرت فرمائے۔ میں بہت سی ایسی باتوں سے خاموشی اختیار کرتا ہوں جن کو میں جانتا ہوں لیکن ان کو زبان پر لانا خود کو پستی میں گرانے والی بات ہوتی۔ ہاں بس میں یہی کہتا ہوں کہ اللہ نے آپ کے حق کو ہم پر زیادہ کیا ہے جس سے کوئی جاہل نہیں۔ والسلام۔
حضرت عمروبن العاص (رض) کے غلام ابن قیس فرماتے ہیں پھر حضرت عمر (رض) نے حضرت عمرو (رض) بن العاص کو اس کا جواب لکھا جو ذیل پر مشتمل ہے :
تم پر سلام ہو، میں تم پر اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے (حمدوصلاۃ کے) بعد خراج سے متعلق میرے کثرت سے خطوط نے تم کو تعجب (اور پریشانی میں) ڈال دیا ہے، جبکہ تمہارا خط جو مجھے موصول ہوا ہے، یہ چھوٹی موٹی باتیں ہیں اور تم جانتے ہو کہ میں کھلے حق کے سوا تم سے کسی بات پر راضی نہیں ہونے والا۔ میں نے تم کو مصر اس لیے نہیں بھیجا کہ تم اس کے مال کو اپنے اور اپنے لوگوں کے لیے کھانے پینے کا طعام خیال کرو۔ میں نے تم کو اس لیے وہاں کی امارت سپرد کی تھی کہ تم خراج۔ جو مسلمانوں کا حق ہے خوب حاصل کرو گے اور اپنی حسن سیاست کو عمل میں لاؤ گے۔ جب تمہارے پاس میرا یہ خط پہنچے تو فوراً خراج کا مال روانہ کرادو۔ کیونکہ وہ مسلمانوں کا مال غنیمت ہے اور میرے پاس ایسے لوگ ہیں جن کو تم جانتے ہو وہ (سواری وغیرہ نہ ہونے کی وجہ سے جہاد پر جانے سے) رکے ہوئے ہیں۔ والسلام
چنانچہ پھر حضرت عمرو بن العاص (رض) نے ان کا جواب لکھا :
بسم اللہ الرحمن الرحیم
از عمرو بن العاص بجانب عمر بن الخطاب۔
تم پر سلام ہو، میں تم پر اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
امابعد ! مجھے امیر المومنین کا خط موصول ہوا، آپ مجھے خراج کی ادائیگی میں تاخیر کرنے والا خیال کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ میں حق سے عناد رکھنے والا ہوں اور سیدھے راستے سے بھٹکنے والا ہوں۔ اللہ کی قسم ! میں آپ جانتے ہیں میں درست بات سے ہرگز اعراض کرنے والا نہیں، لیکن اہل ارض (اہل مصر) نے مجھے خراج کی ادائیگی میں کچھ مہلت مانگ لی ہے اس وقت تک کہ وہ غلہ اور پیداوار زمین سے حاصل کرلیں۔ میں نے مسلمانوں کی طرف بھی نظر ڈالی تو میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ان کو نرمی دینا بہتر بجائے اس کے کہ ان کے ساتھ سختی برتی جائے ورنہ پھر (پھوٹ اور اختلافات کے) اس انجام سے دوچار ہوں گے جس کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہوگا۔ والسلام۔ ابن عبدالحکم ایضاً
14210- "مسند عمر" عن الليث بن سعد قال: كتب عمر بن الخطاب إلى عمرو بن العاص من عبد الله أمير المؤمنين إلى عمرو بن العاص سلام عليك فإني أحمد إليك الله الذي لا إله إلا هو، أما بعد فإني فكرت في أمرك الذي أنت عليه، فإذا أرضك أرض واسعة عريضة رفيعة قد أعطى الله أهلها عددا وجلداوقوة في بر وبحر وأنها لا تؤدي نصف ما كانت تؤديه من الخراج قبل ذلك على قحوطلا جدوب ولقد أكثرت من مكاتبتك في الذي على أرضك من الخراج، فظننت أن ذلك شيئا بينا على غير نزرورجوت أن تفيق فترجع إلى ذلك، فإذا أنت تأتيني بمعاريضتغتالها ولا توافق الذي في نفسي، ولست قابلا منك دون الذي كانت تؤخذ به من الخراج قبل ذلك، ولست أدري مع ذلك ما الذي أنفرك من كتابي فلئن كنت مجزماكافيا صحيحا فإن البراءة لنافعة، ولئن كنت مضيعا فطنافإن الأمر على غير ما تحدث به نفسك، وقد تركت أن أبتلي ذلك منك في العام الماضي رجاء أن تفيق فترجع إلى ذلك، وقد علمت أنه لم يمنعك من ذلك إلا عمالك عمال السوء، وما تواليت عليه وتلفقاتخذوك كهفا، وعندي بإذن الله دواء فيه شفاء عما أسألك عنه، فلا تجزع أبا عبد الله أن يؤخذ منك الحق وتعطاه، فإن النهر يخرج الدر والحق أبلج، ودعني وما عنه تتلجلج فإنه قد برحالخفاء والسلام. قال: فكتب إليه عمرو بن العاص بسم الله الرحمن الرحيم لعبد الله عمر أمير المؤمنين من عمرو بن العاص سلام عليك فإني أحمد إليك الله الذي لا إله إلا هو، أما بعد فقد بلغني كتاب أمير المؤمنين في الذي استبطأني فيه من الخراج، والذي ذكر فيها من عمل الفراعنة قبلي، وإعجابه من خراجها على أيديهم ونقص ذلك منها منذ كان الإسلام، ولعمري الخراج يومئذ أوفر وأكثر، والأرض أعمر لأنهم كانوا على كفرهم وعتوهم أرغب في عمارة أرضهم منا منذ كان الإسلام وذكرت أن النهر يخرج الدر فحلبتها حلبا قطع ذلك درها، وأكثرت في كتابك وأنبت وعرضت وبرأتوعلمت أن ذلك عن شيء نخفيه على غير خبير فجئت لعمري بالمفظعاتالمقذعات ولقد كان لكم فيه من الصواب من القول رضينصارم بليغ صادق وقد عملنا لرسول الله صلى الله عليه وسلم ولمن بعده فكنا بحمد الله مؤدين لأمانتنا حافظين لما عظم الله من حق أئمتنا، نرى غير ذلك قبيحا والعمل به سيئا، فتعرف ذلك لنا وتصدق به قبلنا معاذ الله من تلك الطعمومن شر الشيم والاجتراء على كل مأثم فاقبض عملك فإن الله قد نزهني عن تلك الطعم الدنية والرغبة فيها بعد كتابك الذي لم تستبق فيه عرضا تكرم فيه أخا، والله يا ابن الخطاب لأنا حين يراد ذلك مني أشد لنفسي غضبا ولها إنزاهاوإكراما، وما علمت من عمل أرى علي فيه متعلقا ولكني حفظت ما لم تحفظ، ولو كنت من يهود يثرب ما زدت يغفر الله لك ولنا وسكت عن أشياء كنت بها عالما وكان اللسان بها مني ذلولا، ولكن
الله عظم من حقك ما لا يجهل، والسلام، قال ابن قيس مولى عمرو بن العاص فكتب عمر بن الخطاب إلى عمرو بن العاص سلام عليك فإني أحمد إليك الله الذي لا إله إلا هو، أما بعد فقد عجبت من كثرة كتبي إليك في إبطائك بالخراج وكتابك إلي ببنياتالطريق وقد علمت أني لست أرضى منك إلا بالحق البين، ولم أقدمك إلى مصر أجعلها لك طعمة ولا لقومك لكني وجهتك لما رجوت من توفير الخراج وحسن سياستك، فإذا أتاك كتابي هذا فاحمل الخراج، فإنما هو فيء المسلمين وعندي من تعلم قوم محصورون، والسلام، فكتب إليه عمرو بن العاص بسم الله الرحمن الرحيم لعمر بن الخطاب من عمرو بن العاص سلام عليك فإني أحمد إليك الله الذي لا إله إلا هو، أما بعد فقد أتاني كتاب أمير المؤمنين يستبطئني في الخراج، ويزعم أني أعند عن الحق أنكب عن الطريق وإني والله ما أرغب عن صالح ما تعلم ولكن أهل الأرض استنظروني إلى أن تدرك غلتهم فنظرت للمسلمين فكان الرفق بهم خيرا من أن يخرق بهم فنصير إلى ما لا غنى لهم عنه، والسلام. "ابن عبد الحكم أيضا".
الله عظم من حقك ما لا يجهل، والسلام، قال ابن قيس مولى عمرو بن العاص فكتب عمر بن الخطاب إلى عمرو بن العاص سلام عليك فإني أحمد إليك الله الذي لا إله إلا هو، أما بعد فقد عجبت من كثرة كتبي إليك في إبطائك بالخراج وكتابك إلي ببنياتالطريق وقد علمت أني لست أرضى منك إلا بالحق البين، ولم أقدمك إلى مصر أجعلها لك طعمة ولا لقومك لكني وجهتك لما رجوت من توفير الخراج وحسن سياستك، فإذا أتاك كتابي هذا فاحمل الخراج، فإنما هو فيء المسلمين وعندي من تعلم قوم محصورون، والسلام، فكتب إليه عمرو بن العاص بسم الله الرحمن الرحيم لعمر بن الخطاب من عمرو بن العاص سلام عليك فإني أحمد إليك الله الذي لا إله إلا هو، أما بعد فقد أتاني كتاب أمير المؤمنين يستبطئني في الخراج، ويزعم أني أعند عن الحق أنكب عن الطريق وإني والله ما أرغب عن صالح ما تعلم ولكن أهل الأرض استنظروني إلى أن تدرك غلتهم فنظرت للمسلمين فكان الرفق بهم خيرا من أن يخرق بهم فنصير إلى ما لا غنى لهم عنه، والسلام. "ابن عبد الحكم أيضا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২১১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت عمر (رض) کے مراسلات
14211 ہشام ابن اسحاق العامری سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت عمرو بن العاص کو لکھا کہ وہ مقوقس (شاہ مصر) سے پوچھیں کہ مصر کی خرابی اور آبادی کے اسباب کیا کیا ہیں ؟ حضرت عمرو (رض) نے مقوقس سے سوال کیا تو اس نے جواب دیا کہ مصر کی آبادی و بربادی کے پانچ اسباب ہیں، پہلا یہ کہ جب اہل مصر اپنی کھیتی باڑیوں سے فارغ ہوں تو ایک ہی وقت میں ان سے خراج لے لیا جائے، جب وہ اپنے انگوروں کا شیرہ نچوڑ کر فارغ ہوں تو اس وقت ان سے خراج اٹھالیا جائے (خراج نہ لیا جائے) ہر سال ان کے دریا (نیل اور دوسری نہروں) کو کھودا جائے، ان کے شگافوں کو بند کیا جائے پلوں کی مرمت کی جائے اور اس کے اہل سے مزید کوئی زیادتی نہ کی جائے۔ جب ان باتوں پر عمل کیا جائے گا تو مصر آباد رہے گا اور اگر ان باتوں کے خلاف عمل کیا گیا تو مصر برباد ہوگا۔ ابن عبدالحکم
14211-عن هشام بن إسحاق العامري قال: كتب عمر بن الخطاب إلى عمرو بن العاص أن يسأل المقوقس عن مصر من أين تأتي عمارتها وخرابها فسأله عمرو، فقال له المقوقس: تأتي عمارتها وخرابها من وجوه خمسة، الأول أن يستخرج خراجها في إبان واحد عند فروغ أهلها من زروع، ويرفع خراجها في إبان واحد عند فراغ أهلها من عصر كرومها، ويحفر في كل سنة خليجها ويسد ترعهاوجسورها ولا يقبل محل أهلها مريد البغي فإذا فعل هذا فيها عمرت وإن عمل فيها بخلافه خربت. "ابن عبد الحكم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২১২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتوحات خلافت عمر (رض)
14212 (مسند عمر (رض)) نافع (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کو جب قادسیہ کی فتح کی خوشخبری ملی تو آپ (رض) نے فرمایا :
میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں تم لوگوں کے درمیان اس قدر زندہ رہوں کہ تمہاری اولادیں بھی میرا زمانہ پالیں۔
لوگوں نے پوچھا : یا امیر المومنین ایسا کیوں ؟ فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے جب ایک آدمی میں عربی کا مکر اور عجمی کی چالاکی جمع ہوجائیں تو کیا انجام ہوگا۔ الدینوری
فائدہ : یعنی عجمیوں پر فتوحات کا دروازہ کھل چکا ہے۔ اب عرب وعجم کے اختلاط سے جو میرے خلاف سازشیں اٹھ سکتی ہیں اس پر آشوب زمانے میں جینے سے بہتر ہے کہ مجھے اللہ پاک اپنے پاس اٹھالے۔
میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں تم لوگوں کے درمیان اس قدر زندہ رہوں کہ تمہاری اولادیں بھی میرا زمانہ پالیں۔
لوگوں نے پوچھا : یا امیر المومنین ایسا کیوں ؟ فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے جب ایک آدمی میں عربی کا مکر اور عجمی کی چالاکی جمع ہوجائیں تو کیا انجام ہوگا۔ الدینوری
فائدہ : یعنی عجمیوں پر فتوحات کا دروازہ کھل چکا ہے۔ اب عرب وعجم کے اختلاط سے جو میرے خلاف سازشیں اٹھ سکتی ہیں اس پر آشوب زمانے میں جینے سے بہتر ہے کہ مجھے اللہ پاک اپنے پاس اٹھالے۔
14212- "مسند عمر" عن نافع قال: قال عمر بن الخطاب حين أتاه فتح القادسية: أعوذ بالله أن يعقبنيالله بين أظهركم حتى يدركنی أولادكم من هؤلاء، قالوا: ولم يا أمير المؤمنين؟ قال: ما ظنكم بمكر العربي ودهاء العجمي إذا اجتمعا في رجل. "الدينوري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২১৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتوحات خلافت عمر (رض)
14213 (مسند عمر (رض)) حکم بن عبدالرحمن بن ابی العصماء الخثعمی جو کہ فتح قیسار یہ میں شریک تھے سے مروی ہے کہ قیساریۃ شہر کا محاصرہ حضرت معاویہ (رض) نے چند ماہ کم سات سال تک جاری رکھا۔ پھر بالآخر اس کو فتح کرلیا اور اس کی فتح یابی حضرت عمر بن خطاب (رض) کو روانہ فرمائی۔ حضرت عمر (رض) نے کھڑے ہو کر اعلان فرمایا :
سنو ! قیساریہ قسرا (جبراً ) فتح ہوگیا ہے۔ ابوعبید
سنو ! قیساریہ قسرا (جبراً ) فتح ہوگیا ہے۔ ابوعبید
14213- "مسند عمر" عن الحكم بن عبد الرحمن بن أبي العصماء الخثعمي وكان ممن شهد فتح قيسارية قال: حاصرها معاوية سبع سنين إلا أشهرا، ثم فتحوها وبعثوا بفتحها إلى عمر بن الخطاب فقام عمر، فنادى ألا إن قيسارية فتحت قسرا. "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২১৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتوحات خلافت عمر (رض)
14214 یزید بن ابی حبیب سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت خالد بن ثابت فہمی کو بیت المقدس کسی لشکر کے ساتھ بھیجا جہاں انھوں نے قتال کیا۔ اس وقت حضرت عمر (رض) (ملک شام کے علاقے ) جابیہ میں تھے۔ اہل فلسطین نے حضرت خالد کو یہ پیش کش کی کہ قلعے کے اندر کا علاقہ ہمارے تصرف میں رہنے دیں اور ہم اس کا بدل (جزیہ کی شکل میں) تم کو دیں گے، جبکہ قلعے سے باہر کا علاقہ تمہارا ہوگا۔ حضرت خالد (رض) نے فرمایا : ہم اس بات پر تمہاری بیعت کرتے ہیں (معاہدہ کرتے ہیں) ، بشرطیکہ اس پر امیر المومنین راضی ہوں۔ چنانچہ خالد نے حضرت عمر (رض) کو صورت حال لکھی۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو لکھا کہ تم اپنی اسی حالت پر ٹھہرو میں خود تمہارے پاس چل کر آتا ہوں۔ چنانچہ حضرت خالد قتال سے باز آگئے۔ پھر حضرت عمر (رض) تشریف لائے تو اہل فلسطین نے ان کے لیے بیت المقدس کا دروازہ کھول دیا اسی شرط پر جو وہ خالد سے کرچکے تھے۔ راوی کہتے ہیں چنانچہ یہ فتح حضرت عمر (رض) کی طرف موسوم ہوئی ۔ فتح بیت المقدس علی یدعمر۔ ابوعبید ایضاً
14214- عن يزيد بن أبي حبيب أن عمر بن الخطاب بعث خالد بن ثابت الفهمي إلى بيت المقدس في جيش وعمر في الجابية فقاتلهم، فأعطوه أن يكون لهم ما أحاط به حصنها على شيء يؤدونه ويكون للمسلمين ما كان خارجا منها، قال خالد: قد بايعناكم على هذا، إن رضي به أمير المؤمنين فكتب إلى عمر يخبره بالذي صنع الله له؛ فكتب إليه أن قف على حالك حتى أقدم إليك، فوقف خالد عن قتالهم وقدم عمر مكانه ففتحوا له بيت المقدس على ما بايعهم عليه خالد بن ثابت قال: فبيت المقدس يسمى فتح عمر بن الخطاب. "أبو عبيد أيضا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২১৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتوحات خلافت عمر (رض)
14215 ہشام بن عمار سے مروی ہے کہ میں نے اپنے دادا حضرت عبداللہ بن ابی عبداللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب حضرت عمر بن خطاب (رض) جابیہ میں اترے تو آپ (رض) نے جدیلہ کے ایک آدمی کو بیت المقدس روانہ فرمادیا پھر بیت المقدس کو آپ (رض) نے صلحاً فتح کرلیا۔ فتح کے بعد (جب حضرت عمر (رض)) بیت المقدس میں تھے آپ (رض) کے پاس حضرت عمرو (رض) حاضر ہوئے ، ان کے ساتھ کعب احبار (رح) بھی تھے۔
حضرت عمر (رض) نے کعب احبار (رح) سے پوچھا : اے ابواسحاق ! کیا تم موضع صخرۃ کو جانتے ہو ؟ کعب (رح) نے فرمایا : وادی جہنم سے متصل دیوار سے اتنے اتنے گز ناپ لیں پھر وہاں کھدائی کروالیں۔ عین اسی مقام پر آپ کو آپ کا مقصود مل جائیں گا۔ جہاں یہود نے اپنے زعم کے مطابق عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کو سولی دی تھی وہاں اس وقت کوڑا کرکٹ تھا۔ چنانچہ لوگوں نے اس جگہ کھدائی کی تو واقعی وہاں صخرۃ چٹان برآمد ہوئی۔ حضرت عمر (رض) نے کعب (رح) سے پوچھا : تیرا کیا خیال ہے ہم مسجد کہاں بنائیں یا یہ پوچھا کہ قبلہ کس طرف ہے جہاں رخ کریں ؟ کعب نے عرض کیا : آپ صخرۃ کے پیچھے جائے نماز بنالیں۔ اس طرح آپ دونوں قبلوں کو جمع کرلیں گے قبلہ موسیٰ کو اور قبلہ محمد کو صلوٰت اللہ علیہما اجمھما۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : یہودیہ کا بیٹا ہے ناں اس لیے ان کی مشابہت کررہا ہے۔ پھر آپ (رض) نے مسجد بیت المقدس کے اگلے سرے میں مسجد (جائے نماز) بنالی۔ ابوعبیدایضاً
حضرت عمر (رض) نے کعب احبار (رح) سے پوچھا : اے ابواسحاق ! کیا تم موضع صخرۃ کو جانتے ہو ؟ کعب (رح) نے فرمایا : وادی جہنم سے متصل دیوار سے اتنے اتنے گز ناپ لیں پھر وہاں کھدائی کروالیں۔ عین اسی مقام پر آپ کو آپ کا مقصود مل جائیں گا۔ جہاں یہود نے اپنے زعم کے مطابق عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کو سولی دی تھی وہاں اس وقت کوڑا کرکٹ تھا۔ چنانچہ لوگوں نے اس جگہ کھدائی کی تو واقعی وہاں صخرۃ چٹان برآمد ہوئی۔ حضرت عمر (رض) نے کعب (رح) سے پوچھا : تیرا کیا خیال ہے ہم مسجد کہاں بنائیں یا یہ پوچھا کہ قبلہ کس طرف ہے جہاں رخ کریں ؟ کعب نے عرض کیا : آپ صخرۃ کے پیچھے جائے نماز بنالیں۔ اس طرح آپ دونوں قبلوں کو جمع کرلیں گے قبلہ موسیٰ کو اور قبلہ محمد کو صلوٰت اللہ علیہما اجمھما۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : یہودیہ کا بیٹا ہے ناں اس لیے ان کی مشابہت کررہا ہے۔ پھر آپ (رض) نے مسجد بیت المقدس کے اگلے سرے میں مسجد (جائے نماز) بنالی۔ ابوعبیدایضاً
14215- عن هشام بن عمار قال: سمعت جدي عبد الله بن أبي عبد الله يقول: لما نزل عمر بن الخطاب بالجابية أرسل رجلا من جديلة إلى بيت المقدس فافتتحه صلحا، ثم جاءه عمر ومعه كعب فقال: يا أبا إسحاق أتعرف موضع الصخرة؟ فقال: اذرع من الحائط الذي يلي وادي جهنم كذا وكذا ذراعا، ثم احتفر فإنك تجدها وهي يومئذ مزبلة، فحفروا فظهرت لهم فقال عمر لكعب: أين ترى أن نجعل المسجد أو قال القبلة فقال: اجعلها خلف الصخرة فتجمع قبلتين قبلة موسى وقبلة محمد صلى الله عليه وسلم، فقال: ضاهيت اليهودية فبناها في مقدم المسجد "أبو عبيد أيضا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২১৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتوحات خلافت عمر (رض)
14216 سعید بن عبدالعزیز سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اہل فسلطین کے کچھ لوگوں کو بیت المقدس کی فی سبیل اللہ صفائی کے لیے کام پر لگایا ۔ وہاں ایک بڑی کوڑی تھی۔
ابوعبیدایضاً
ابوعبیدایضاً
14216- عن سعيد بن عبد العزيز قال: تسخر1 عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنباط2 أهل فلسطين في كنس بيت المقدس، وكانت فيه مزبلة عظيمة. "أبو عبيد أيضا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২১৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتوحات خلافت عمر (رض)
14217 واقدی (رح) سے مروی ہے کہ وہ اپنے شیوخ سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر بن خطاب (رض) نے مدائن کسریٰ کو فتح کرلیا تو حضرت عمر (رض) کے پاس جو مال غنیمت بھیجا گیا ان میں دو چاند بھی تھے۔ آپ (رض) نے ان دونوں کو کعبہ میں لٹکا دیا۔ الازرقی
14217- عن الواقدي عن أشياخه قالوا: لما فتح عمر بن الخطاب مدائن كسرى كان فيما بعث إليه كان هلالان، فعلقهما في الكعبة. "الأزرقي".
"فتح مصر"
"فتح مصر"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২১৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتوحات خلافت عمر (رض)
14218 حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے اہل مصر کے ایک آدمی کو ارشاد فرمایا : عنقریب تمہارے پاس اہل اندلس آئیں گے جو رستم کی زیر کمان تم سے قتال کریں گے (اور اس قدر خونریزی ہوگی) کہ گھوڑے خون میں دوڑے پھریں گے پھر اللہ تبارک وتعالیٰ ان کو شکست فاش دیدیں گے۔ نعیم بن حماد، ابن عبدالحکم فی فترح مصر
14218- عن عمر بن الخطاب أنه قال لرجل من أهل مصر: ليأتينكم أهل الأندلس حتى يقاتلوكم برستم حتى تركض الخيل بالدم الذي بينها ثم يهزم الله. "نعيم بن حماد وابن عبد الحكم في فتوح مصر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২১৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتوحات خلافت عمر (رض)
14219 حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مروی ہے، ارشاد فرمایا : تم لوگ رستم سے جنگ کرو گے حتیٰ کہ اللہ پاک ان کو شکست دیدے گا پھر اس سے دوسرے سال حبشہ کے لوگ تمہارے پاس آئیں گے۔ نعیم
14219- عن عمر بن الخطاب قال: تقاتلون برستم يهزمهم الله، ثم تأتيكم الحبشة في العام الثاني. "نعيم".
তাহকীক: