কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৫ টি
হাদীস নং: ১৪২২০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتوحات خلافت عمر (رض)
14220 زید بن اسلم سے مروی ہے کہ جب حضرت عمر بن خطاب (رض) نے مصر کی فتح میں تاخیر محسوس کی تو سالار لشکر حضرت عمرو بن العاص (رض) کو لکھا : اما بعد !
مجھے انتہائی تعجب ہے کہ تم نے مصر کی فتح میں اس قدر دیر کردی، حالانکہ تم کئی سال سے قتال میں مصروف ہو۔ اس کا سبب محض یہ ہے کہ تم نبی چیزوں میں پڑگئے ہو اور تم بھی اپنے دشمنوں کی طرح دنیا کی محبت میں مشغول ہوگئے ہو۔ اور اللہ پاک کسی قوم کی مدد نہیں فرماتا جب تک کہ ان کی نیتیں درست نہ ہوں۔ اب میں تیری طرف چار ایسے افراد روانہ کررہا ہوں جن میں سے ہر ایک ہزار آدمیوں کے قائم مقام ہے، الایہ کہ ان کو بھی وہی چیز (یعنی عیش و عشرت) تبدیل نہ کردے، جس نے اوروں کو بھی کمزور کردیا ہے۔ پس جب تیرے پاس میرا یہ خط پہنچے تو لوگوں کو خطبہ دے، ان کو دشمن سے قتال پر جوش دلا، صبر اور حسن نیت کی ان کو ترغیب دے اور ان چار لوگوں کو دوسرے تمام لوگوں کے سینے پر رکھ۔ پھر لوگوں کو حکم دے کہ ایک ہی آدمی کی طرح سب اکٹھے ہلہ بول دیں۔ اور یہ حملہ جمعے کے روز زوال کے وقت ہونا چاہیے۔ اس گھڑی میں رحمت نازل ہوتی ہے، دعا قبول ہوتی ہے۔ اور لوگوں کو چاہیے کہ خدا کو چیخ چیخ کر پکاریں اور دشمنوں پر اس سے مدد مانگیں۔
چنانچہ جب حضرت عمر (رض) کے پاس خط پہنچا تو انھوں نے لوگوں کو جمع کیا اور ان کو خط پڑھ کر سنایا پھر ان چار افراد کو بلا کر لوگوں کے آگے کھڑا کیا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ باوضو ہوں، پھر دو رکعت نماز ادا کریں، پھر اللہ عزوجل کی طرف متوجہ ہوں اور اس سے مدد کا سوال کریں ۔ چنانچہ پھر اللہ پاک نے ان پر مصر کو فتح فرمادیا۔ ابن عبدالحکم
مجھے انتہائی تعجب ہے کہ تم نے مصر کی فتح میں اس قدر دیر کردی، حالانکہ تم کئی سال سے قتال میں مصروف ہو۔ اس کا سبب محض یہ ہے کہ تم نبی چیزوں میں پڑگئے ہو اور تم بھی اپنے دشمنوں کی طرح دنیا کی محبت میں مشغول ہوگئے ہو۔ اور اللہ پاک کسی قوم کی مدد نہیں فرماتا جب تک کہ ان کی نیتیں درست نہ ہوں۔ اب میں تیری طرف چار ایسے افراد روانہ کررہا ہوں جن میں سے ہر ایک ہزار آدمیوں کے قائم مقام ہے، الایہ کہ ان کو بھی وہی چیز (یعنی عیش و عشرت) تبدیل نہ کردے، جس نے اوروں کو بھی کمزور کردیا ہے۔ پس جب تیرے پاس میرا یہ خط پہنچے تو لوگوں کو خطبہ دے، ان کو دشمن سے قتال پر جوش دلا، صبر اور حسن نیت کی ان کو ترغیب دے اور ان چار لوگوں کو دوسرے تمام لوگوں کے سینے پر رکھ۔ پھر لوگوں کو حکم دے کہ ایک ہی آدمی کی طرح سب اکٹھے ہلہ بول دیں۔ اور یہ حملہ جمعے کے روز زوال کے وقت ہونا چاہیے۔ اس گھڑی میں رحمت نازل ہوتی ہے، دعا قبول ہوتی ہے۔ اور لوگوں کو چاہیے کہ خدا کو چیخ چیخ کر پکاریں اور دشمنوں پر اس سے مدد مانگیں۔
چنانچہ جب حضرت عمر (رض) کے پاس خط پہنچا تو انھوں نے لوگوں کو جمع کیا اور ان کو خط پڑھ کر سنایا پھر ان چار افراد کو بلا کر لوگوں کے آگے کھڑا کیا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ باوضو ہوں، پھر دو رکعت نماز ادا کریں، پھر اللہ عزوجل کی طرف متوجہ ہوں اور اس سے مدد کا سوال کریں ۔ چنانچہ پھر اللہ پاک نے ان پر مصر کو فتح فرمادیا۔ ابن عبدالحکم
14220- عن زيد بن أسلم قال: لما أبطأ على عمر بن الخطاب فتح مصر كتب إلى عمرو بن العاص، أما بعد فقد عجبت لإبطائكم عن فتح مصر تقاتلونهم منذ سنين وما ذاك إلا لما أحدثتم وأحببتم من الدنيا ما أحب عدوكم، وإن الله تعالى لا ينصر قوما إلا بصدق نياتهم وقد كنت وجهت إليك أربعة نفر، وأعلمتك أن الرجل منهم مقام ألف رجل على ما أعرف إلا أن يكون غيرهم ما غير غيرهم فإذا أتاك كتابي هذا فاخطب الناس وحضهم على قتال عدوهم، ورغبهم في الصبر والنية وقدم أولئك الأربعة في صدور الناس، وأمر الناس أن يكون لهم صدمة كصدمة رجل واحد وليكن ذلك عند الزوال يوم الجمعة، فإنها ساعة تنزل فيها الرحمة، ووقت الإجابة وليعج الناس إلى الله وليسألوه النصر على عدوهم، فلما أتى عمرو الكتاب جمع الناس وقرأه عليهم،ثم دعا أولئك النفر فقدمهم أمام الناس، وأمر الناس أن يتطهروا ويصلوا ركعتين، ثم يرغبون إلى الله ويسألونه النصر ففتح الله عليهم. "ابن عبد الحكم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২২১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتوحات خلافت عمر (رض)
14221 عبداللہ بن جعفر، عیاش بن عباس وغیرھما سے دونوں کی مرویات میں قدرے فرق کے ساتھ مروی ہے کہ جب حضرت عمرو بن العاص (رض) کو مصر کی فتح میں دیر ہوگئی تو انھوں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو مدد کے لیے لکھا :
حضرت عمر (رض) نے ان کو چار ہزار کا لشکر روانہ فرمادیا اور ہر ہزار پر انہی میں سے ایک ایک آدمی مقرر فرمادیا۔ نیز حضرت عمر (رض) نے حضرت عمرو بن العاص (رض) کو لکھا : میں تمہیں چار ہزار افراد کی کمک روانہ کررہا ہوں جبکہ ہر ہزار پر جو ایک ایک امیر مقرر کیا ہے، ان چاروں میں سے ہر ایک شخص بذات خود دشمن کے ایک ایک ہزار افراد پر بھاری ہے۔
زبیر بن العوام، مقداد بن الاسود بن عمرو، عبادۃ بن الصامت، اور مسلمۃ بن مخلد۔ اور جان لے کہ اب تیرے ساتھ بارہ ہزار افراد ہیں اور بارہ ہزار کی کی تعداد قلت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوسکتی۔
ابن عبدالحکم
حضرت عمر (رض) نے ان کو چار ہزار کا لشکر روانہ فرمادیا اور ہر ہزار پر انہی میں سے ایک ایک آدمی مقرر فرمادیا۔ نیز حضرت عمر (رض) نے حضرت عمرو بن العاص (رض) کو لکھا : میں تمہیں چار ہزار افراد کی کمک روانہ کررہا ہوں جبکہ ہر ہزار پر جو ایک ایک امیر مقرر کیا ہے، ان چاروں میں سے ہر ایک شخص بذات خود دشمن کے ایک ایک ہزار افراد پر بھاری ہے۔
زبیر بن العوام، مقداد بن الاسود بن عمرو، عبادۃ بن الصامت، اور مسلمۃ بن مخلد۔ اور جان لے کہ اب تیرے ساتھ بارہ ہزار افراد ہیں اور بارہ ہزار کی کی تعداد قلت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوسکتی۔
ابن عبدالحکم
14221- عن عبد الله بن جعفر وعياش بن عباس وغيرهما يزيد بعضهم على بعض أن عمرو بن العاص لما أبطأ عليه فتح مصر كتب إلى عمر بن الخطاب يستمده فأمده عمر بأربعة آلاف رجل على كل ألف رجل منهم رجل وكتب إليه عمر بن الخطاب أني قد أمددتك بأربعة آلاف رجل على كل ألف رجل منهم مقام الألف: الزبير بن العوام، والمقداد بن الأسود بن عمرو، وعبادة بن الصامت، ومسلمة بن مخلد، واعلم أن معك اثنى عشر ألف رجل، ولا يغلب اثنا عشر ألفا من قلة. "ابن عبد الحكم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২২২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتوحات خلافت عمر (رض)
14222 ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے مروی ہے کہ حضرت عمرو بن العاص (رض) نے بغیر کسی معاہدے اور شرائط کے مصر کو فتح فرمالیا تو حضرت عمر بن خطاب (رض) نے مصر کا دودھ نہیں نکالا بلکہ اس کو اس کے لیے بند کردیا تاکہ اسلام اور اہل اسلام کے لیے کشادگی اور سہولت ہو۔ ابن عبدالحکم
فائدہ : یعنی فتح کے بعد غنائم اور خراج وغیرہ وصول نہیں کیے بلکہ کچھ عرصہ کے لیے فاتحین اور اہل مصر کے مسلمانوں کے لیے ان کو چھوڑ دیا تاکہ وہ جنگ کی زبوں حالی سے اپنے حالات کو درست کرلیں۔
فائدہ : یعنی فتح کے بعد غنائم اور خراج وغیرہ وصول نہیں کیے بلکہ کچھ عرصہ کے لیے فاتحین اور اہل مصر کے مسلمانوں کے لیے ان کو چھوڑ دیا تاکہ وہ جنگ کی زبوں حالی سے اپنے حالات کو درست کرلیں۔
14222- عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن أن عمرو بن العاص فتح مصر بغير عهد ولا عقد، وأن عمر بن الخطاب حبس درها1 وصرها2 أن يخرج منه شيء نظرا للإسلام وأهله. "ابن عبد الحكم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২২৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتوحات خلافت عمر (رض)
14223 زید بن اسلم سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کا ایک بکس تھا جس میں ہر وہ معاہدہ موجود تھا جو انھوں نے کسی سے قائم کیا تھا، اس میں اہل مصر کا کوئی معاہدہ نہیں پایا گیا۔
ابن عبدالحکم
ابن عبدالحکم
14223- عن زيد بن أسلم قال: كان تابوت لعمر بن الخطاب فيه كل عهد بينه وبين أحد ممن عاهده فلم يوجد فيه لأهل مصر عهد. "ابن عبد الحكم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২২৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتوحات خلافت عمر (رض)
14224 عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے مروی ہے کہ حضرت عمرو بن العاص (رض) نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو مصر کے راہبوں کے متعلق سوال لکھا کہ ان میں سے کوئی مرجاتا ہے تو اس کا کوئی وارث نہیں ہوتا ۔ لہٰذا اس کے مال کا کیا کیا جائے حضرت عمر (رض) نے ان کو جواب لکھا :
جس کا کوئی پیچھے ہو تو اس کی میراث اس کے حوالے کردے اور جس کا پیچھے کوئی نہ ہو اس کی میراث کا مال مسلمانوں کے بیت المال میں ڈال دو کیونکہ اس کی ولاء (ترکہ) مسلمانوں کے لیے ہے (کیونکہ وہی ان کے حکمران ہیں ) ۔ ابن عبدالحکم
جس کا کوئی پیچھے ہو تو اس کی میراث اس کے حوالے کردے اور جس کا پیچھے کوئی نہ ہو اس کی میراث کا مال مسلمانوں کے بیت المال میں ڈال دو کیونکہ اس کی ولاء (ترکہ) مسلمانوں کے لیے ہے (کیونکہ وہی ان کے حکمران ہیں ) ۔ ابن عبدالحکم
14224- عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن عمرو بن العاص كتب إلى عمر بن الخطاب في رهبان يترهبون بمصر فيموت أحدهم وليس له وارث فكتب إليه عمر، أن من كان منهم له عقب فادفع ميراثه إلى عقبه، ومن لم يكن له عقب فاجعل ماله في بيت مال المسلمين فإن ولاءه للمسلمين "ابن عبد الحكم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২২৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتوحات خلافت عمر (رض)
14225 ابن شہاب زہری (رح) سے مروی ہے کہ مصر کی کچھ فتح معاہدے اور ذمہ میں ہوتی تھی جبکہ کچھ فتح تلوار کے زور پر ہوئی تھی۔ پھر حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ساری فتح کو ذمہ اور معاہدے پر قرار دیدیا تھا اور اسی پر اہل مصر کے ساتھ معاملہ کیا تھا جو آج تک قائم ہے۔ ابن عبدالحکم
14225- عن ابن شهاب قال: كان فتح مصر بعضها عهدا وذمة وبعضها عنوة فجعلها عمر بن الخطاب جميعا ذمة وحملهم على ذلك فمضى ذلك فيهم إلى اليوم. "ابن عبد الحكم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২২৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتوحات خلافت عمر (رض)
14226 لیث بن سعد سے مروی ہے کہ ہمیں لوگوں میں سے کسی کے متعلق یہ اطلاع نہیں ملی کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اس کے لیے ارض مصر میں سے کوئی جائیداد بطور عطیہ کردی ہو، سوائے ابن سندر کے، کیونکہ اس کو منیۃ الاصبخ کی زمین بطور جائیداد دیدی تھی جو ان کی وفات تک ان کے پاس رہی۔ ابن عبدالحکم
14226- عن الليث بن سعد قال: لم يبلغنا أن عمر بن الخطاب أقطع أحدا من الناس شيئا من أرض مصر إلا ابن سندر فإنه أقطعه أرض منية الأصبغ فلم تزل له حتى مات. "ابن عبد الحكم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২২৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتوحات خلافت عمر (رض)
14227 لیث بن سعد سے مروی ہے کہ مقوقس (شاہ مصر) نے گورنر اسلام عمرو بن العاص سے سوال کیا کہ وہ سفح المقطم زمین ان کو ستر ہزار دینار کے عوض فروخت کردیں۔ عمرو بن العاص (رض) کو اس پر تعجب ہوا کہ ایسی بنجرزمین اس قدر مہنگے داموں میں لینا چاہتے ہیں انھوں نے فرمایا : میں امیر المومنین کو لکھ کر پوچھتا ہوں۔
انہوں نے یہ واقعہ حضرت عمر (رض) کو لکھ کر بھیجا۔ حضرت عمر (رض) نے جواب میں فرمایا : اے عمرو ! تم اس شاہ مصر سے سوال کرو کہ وہ اس قدر بڑی رقم ایسی زمین کی کیوں دینا چاہتا ہے جس کو زراعت کیا جاسکتا ہے نہ اس میں پانی ہے اور نہ کوئی اور اس کا فائدہ ہے ؟ حضرت عمرو (رض) نے مقوقس سے سوال کیا تو اس نے کہا : ہم اپنی کتابوں میں اس زمین کے متعلق یہ بات پاتے ہیں کہ اس میں جنت کے درخت ہیں۔ حضرت عمرو (رض) نے امیر المومنین کو یہ جواب لکھ دیا۔ حضرت عمر (رض) نے جواب بھیجا کہ ہمیں تو یہی معلوم ہے کہ جنت کے درخت صرف اور صرف مومنین کے لیے ہیں۔ لہٰذا جو مسلمان تمہاری طرف انتقال کر جائیں ان کو اسی سرزمین میں دفن کرو اور کسی بھی قیمت پر اس کو فروخت نہ کرو۔
ابن عبدالحکم
انہوں نے یہ واقعہ حضرت عمر (رض) کو لکھ کر بھیجا۔ حضرت عمر (رض) نے جواب میں فرمایا : اے عمرو ! تم اس شاہ مصر سے سوال کرو کہ وہ اس قدر بڑی رقم ایسی زمین کی کیوں دینا چاہتا ہے جس کو زراعت کیا جاسکتا ہے نہ اس میں پانی ہے اور نہ کوئی اور اس کا فائدہ ہے ؟ حضرت عمرو (رض) نے مقوقس سے سوال کیا تو اس نے کہا : ہم اپنی کتابوں میں اس زمین کے متعلق یہ بات پاتے ہیں کہ اس میں جنت کے درخت ہیں۔ حضرت عمرو (رض) نے امیر المومنین کو یہ جواب لکھ دیا۔ حضرت عمر (رض) نے جواب بھیجا کہ ہمیں تو یہی معلوم ہے کہ جنت کے درخت صرف اور صرف مومنین کے لیے ہیں۔ لہٰذا جو مسلمان تمہاری طرف انتقال کر جائیں ان کو اسی سرزمین میں دفن کرو اور کسی بھی قیمت پر اس کو فروخت نہ کرو۔
ابن عبدالحکم
14227- عن الليث بن سعد قال: سأل المقوقس عمرو بن العاص أن يبيعه سفح المقطم بسبعين ألف دينار، فعجب عمرو من ذلك وقال: أكتب في ذلك إلى أمير المؤمنين، فكتب بذلك إلى عمر فكتب إليه عمر سله لم أعطاك به ما أعطاك وهي لا تزرع ولا يستنبط بها ماء ولا ينتفع بها؟ فسأله، فقال: إنا لنجد صفتها في الكتب أن فيها غراس الجنة، فكتب بذلك إلى عمر، فكتب إليه عمر إنا لا نعلم غراس الجنة إلا للمؤمنين فاقبر فيها من مات قبلك من المسلمين ولا تبعه بشيء. "ابن عبد الحكم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২২৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتوحات خلافت عمر (رض)
14228 ابن لبیعۃ سے مروی ہے کہ مقوقس نے حضرت عمرو (رض) کو کہا : ہم اپنی کتاب میں پاتے ہیں اس پہاڑ اور اس مقام کے درمیان جہاں تم نے پڑاؤ ڈالا ہے جنت کا درخت اگتا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے اس کی بات حضرت عمر (رض) بن خطاب کو لکھ بھیجی۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : وہ سچ کہتا ہے ، تم اس جگہ کو مسلمانوں کے لیے قبرستان بنادو۔ ابن عبدالحکم
14228- عن ابن لهيعة أن المقوقس قال لعمرو: إنا لنجد في كتابنا أن ما بين هذا الجبل وحيث نزلتم ينبت فيه شجر الجنة، فكتب بقوله إلى عمر بن الخطاب فقال: صدق فاجعلها مقبرة للمسلمين. "ابن عبد الحكم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২২৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح الاسکندریہ
14229 یزید بن ابی حبیب سے مروی ہے کہ جب حضرت عمرو (رض) بن العاص نے کئی ماہ تک اسکندریہ کا محاصرہ کیے رکھا اور یہ بات حضرت عمر بن خطاب (رض) کو پہنچی تو انھوں نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں سے اس کی فتح میں تاخیر اسی لیے ہورہی ہے کیونکہ وہ نئی چیزوں میں پڑگئے ہیں (یعنی عیش و عشرت کی زندگی میں) ۔ ابن عبدالحکم
14229- عن يزيد بن أبي حبيب قال: أقام عمرو بن العاص محاصر الإسكندرية أشهرا، فلما بلغ ذلك عمر بن الخطاب قال: ما أبطأوا فتحها إلا لما أحدثوا. "ابن عبد الحكم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৩০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح الاسکندریہ
14230 جنادۃ بن ابی امیہ سے مروی ہے کہ حضرت عمرو (رض) بن العاص نے عمر بن خطاب (رض) کو لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی معاہدے اور عقد کے محض طاقت کے بل پر اسکندریہ ہمارے لیے فتح فرمادیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو جواب میں ان کی رائے کو برا جانا اور ان کو حکم دیا کہ وہ اس کے قریب نہ لگیں۔ ابن عبدالحکم
فائدہ : یعنی زور بازو کے نتیجے میں فتح تو درست ہے لیکن اس لیے اس کو مال غنیمت سمجھنا اور اس کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردینا درست نہیں۔ قریب نہ لگیں سے یہی مراد ہے کہ اس کی اراضی وغیرہ کو مسلمانوں میں تقسیم نہ کریں، بلکہ پرانے مالکان کو قابض رہنے دیں اور ان پر خراج لازم کردیں جس سے مسلمانوں کو غنیمت بھی ملے گی اور اس سے وہ جہاد میں مدد حاصل کریں گے جبکہ پہلی صورت میں وہ زمین کی کاشتکاری اور بیلوں کی دموں کے پیچھے پھریں گے اور جہاد سے رہ جائیں گے۔
فائدہ : یعنی زور بازو کے نتیجے میں فتح تو درست ہے لیکن اس لیے اس کو مال غنیمت سمجھنا اور اس کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردینا درست نہیں۔ قریب نہ لگیں سے یہی مراد ہے کہ اس کی اراضی وغیرہ کو مسلمانوں میں تقسیم نہ کریں، بلکہ پرانے مالکان کو قابض رہنے دیں اور ان پر خراج لازم کردیں جس سے مسلمانوں کو غنیمت بھی ملے گی اور اس سے وہ جہاد میں مدد حاصل کریں گے جبکہ پہلی صورت میں وہ زمین کی کاشتکاری اور بیلوں کی دموں کے پیچھے پھریں گے اور جہاد سے رہ جائیں گے۔
14230- عن جنادة بن أبي أمية أن عمرو بن العاص كتب إلى عمر بن الخطاب أن الله قد فتح علينا الإسكندرية عنوة1 بغير عقد ولا عهد، فكتب إليه عمر يقبح رأيه ويأمره أن لا يجاورها. "ابن عبد الحكم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৩১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح الاسکندریہ
14231 حسین بن شفی بن عبید سے مروی ہے کہ جب اسکندریہ فتح ہوگیا تو اس کی تقسیم کے بارے میں لوگوں نے حضرت عمر (رض) سے اختلاف کیا۔ حضرت عمرو (رض) نے فرمایا : میں اس کی تقسیم پر قادر نہیں جب تک کہ امیر المومنین کو نہ لکھ دوں۔ چنانچہ انھوں نے امیر المومنین کو اس کی فتح کا حال لکھا کہ مسلمان اس کی تقسیم طلب کررہے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے لکھا : تم اس کو ہرگز تقسیم نہ کرو۔ بلکہ اس کو سابقہ حالت پر چھوڑ دو اور پھر اس کا خراج مسلمانوں کے لیے مال غنیمت بھی ہوگا اور ان کے لیے دشمنوں سے جہاد پر قوت کا سامان بھی ہوگا۔ چنانچہ حضرت عمرو (رض) نے کافروں کو ان کی اراضی پر مالک رہنے دیا اور ان پر خراج (ٹیکس) لاگو کردیا۔ ابن عبدالحکم
14231- عن حسين ين شفي بن عبيد قال: لما فتحت الإسكندرية اختلف الناس على عمرو في قسمها فقال عمرو: لا أقدر على قسمها حتى أكتب إلى أمير المؤمنين، فكتب إليه يعلمه بفتحها وشأنها، ويعلم أن المسلمين طلبوا قسمها فكتب إليه عمر لا تقسمها وذرهم يكون خراجها فيئا للمسلمين وقوة لهم على جهاد عدوهم، فأقرها عمرو وأحصى أهلها وفرض عليهم الخراج. "ابن عبد الحكم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৩২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح الاسکندریہ
14232 یزید بن ابی حبیب سے مروی ہے کہ جب حضرت عمرو بن العاص (رض) نے اسکندریہ کو فتح فرمالیا تو وہاں کے گھروں اور عمارتوں کو خالی پایا۔ آپ (رض) کا ارادہ بنا کہ ان میں رہائش اختیار کرلیں اور فرمایا : یہ رہائشیں ہم نے کما کر حاصل کی ہیں۔ چنانچہ انھوں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو اس کے متعلق لکھ کر اجازت چاہی۔
حضرت عمر (رض) نے (خط پڑھ کر) قاصد سے پوچھا : کیا میرے (مدینے) اور وہاں کے مسلمانوں کے درمیان (دریاوسمندر کا) پانی حائل ہے کیا ؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں، امیر المومنین ! دریائے نیل جب وہ چلتا ہے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے حضرت عمرو (رض) کو لکھا میں نہیں چاہتا کہ تم مسلمانوں کو ایسی جگہ رہائش دو کہ اس جگہ اور میرے درمیان پانی رکاوٹ ہو گرمی میں اور نہ سردی میں۔ چنانچہ حضرت عمرو (رض) اسکندریہ سے منتقل ہو کر فسطاط آگئے۔ ابن عبدالحکم
حضرت عمر (رض) نے (خط پڑھ کر) قاصد سے پوچھا : کیا میرے (مدینے) اور وہاں کے مسلمانوں کے درمیان (دریاوسمندر کا) پانی حائل ہے کیا ؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں، امیر المومنین ! دریائے نیل جب وہ چلتا ہے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے حضرت عمرو (رض) کو لکھا میں نہیں چاہتا کہ تم مسلمانوں کو ایسی جگہ رہائش دو کہ اس جگہ اور میرے درمیان پانی رکاوٹ ہو گرمی میں اور نہ سردی میں۔ چنانچہ حضرت عمرو (رض) اسکندریہ سے منتقل ہو کر فسطاط آگئے۔ ابن عبدالحکم
14232- عن يزيد بن أبي حبيب أن عمرو بن العاص لما فتح الإسكندرية ورأى بيوتها وبناءها مفروغا منها هم أن يسكنها وقال: مساكن قد كسبناها فكتب إلى عمر بن الخطاب يستأذنه في ذلك، قال عمر للرسول: هل يحول بيني وبين المسلمين ماء؟ قال: نعم يا أمير المؤمنين إذا جرى النيل فكتب عمر إلى عمرو أني لا أحب أن تنزل المسلمين منزلا يحول الماء بيني وبينهم في شتاء ولا صيف فتحول عمرو بن العاص من الإسكندرية إلى الفسطاط. "ابن عبد الحكم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৩৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح الاسکندریہ
14233 یزید بن ابی حبیب سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے سعد بن ابی وقاص (رض) کو جو مدائن کسریٰ میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے، بصرہ میں مقرر اپنے عامل کو اور حضرت عمرو بن العاص (رض) کو جو اسکندریہ میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے ، ان سب کو لکھا کہ :
میرے اور اپنے پڑاؤ کے مقام کے درمیان (سمندریا دریا کا) پانی حائل نہ ہونے دو تاکہ میں جب بھی تمہارے پاس آنا چاہوں اپنی سواری پر بیٹھ کر آجاؤں۔
چنانچہ یہ حکم سن کر سعد بن ابی وقاص مدائن کسریٰ سے کوفہ ، امیر بصرہ اپنے پہلے مقام سے بصرہ اور عمرو بن العاص اسکندریہ سے فسطاط آگئے تھے۔ ابن عبدالحکم
میرے اور اپنے پڑاؤ کے مقام کے درمیان (سمندریا دریا کا) پانی حائل نہ ہونے دو تاکہ میں جب بھی تمہارے پاس آنا چاہوں اپنی سواری پر بیٹھ کر آجاؤں۔
چنانچہ یہ حکم سن کر سعد بن ابی وقاص مدائن کسریٰ سے کوفہ ، امیر بصرہ اپنے پہلے مقام سے بصرہ اور عمرو بن العاص اسکندریہ سے فسطاط آگئے تھے۔ ابن عبدالحکم
14233- عن يزيد بن أبي حبيب أن عمر بن الخطاب كتب إلى سعد بن أبي وقاص وهو نازل بمدائن كسرى وإلى عامله بالبصرة وإلى عمرو بن العاص وهو نازل بالإسكندرية أن لا تجعلوا بيني وبينكم ماء متى أردت أن أرحل إليكم راحلتي أقدم عليكم قدمت، فتحول سعد بن أبي وقاص من مدائن كسرى إلى الكوفة وتحول صاحب البصرة من المكان الذي كان فيه فنزل البصرة وتحول عمرو بن العاص من الإسكندرية إلى الفسطاط. "ابن عبد الحكم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৩৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح الاسکندریہ
14234 ابوتمیم الجیشانی سے مروی ہے کہ حضرت عمروبن العاص (رض) نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر طرابلس کو فتح فرمادیا ہے اور طرابلس اور افریقہ کے درمیان محض نودن کے مسافت ہے۔ اگر امیر المومنین فرمائیں تو ہم افریقہ کا غزوہ کریں ؟ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ان کو لکھا :
نہیں، کیونکہ وہ افریقہ نہیں ہے بلکہ مفرقۃ (ہم سے تم کو جدا کرنے والا) ہے، وہ غدر کرنے والا (دھوکہ دہ) علاقہ ہے، کوئی بھی اس کے دھوکے میں پڑجاتا ہے۔ لہٰذا جب تک میں حیات ہوں کوئی وہاں غزوہ نہ کرے (کیونکہ اس کے اور عرب کے درمیان سمندر حائل ہے اور حضرت عمر (رض)) سمندر کے سفر سے کتراتے تھے۔ ابن سعد، ابن عبدالحکم
نہیں، کیونکہ وہ افریقہ نہیں ہے بلکہ مفرقۃ (ہم سے تم کو جدا کرنے والا) ہے، وہ غدر کرنے والا (دھوکہ دہ) علاقہ ہے، کوئی بھی اس کے دھوکے میں پڑجاتا ہے۔ لہٰذا جب تک میں حیات ہوں کوئی وہاں غزوہ نہ کرے (کیونکہ اس کے اور عرب کے درمیان سمندر حائل ہے اور حضرت عمر (رض)) سمندر کے سفر سے کتراتے تھے۔ ابن سعد، ابن عبدالحکم
14234- عن أبي تميم الجيشاني قال: كتب عمرو بن العاص إلى عمر بن الخطاب أن الله تعالى فتح علينا طرابلس وليس بينها وبين إفريقية إلا تسعة أيام فإن رأى أمير المؤمنين أن نغزوها؟ فكتب إليه عمر لا إنها ليست بإفريقية، ولكنها المفرقة غادرة مغدور بها لا يغزوها أحد ما بقيت. "ابن سعد وابن عبد الحكم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৩৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح الاسکندریہ
14235 مرۃ بن یشرح المعافری سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو تین بار فرماتے ہوئے سنا : افریقہ مفرقہ (جدا کرنے والا) ہے اور جب تک میری آنکھوں میں پانی ہے میں اس کی طرف کسی کو نہیں بھیجوں گا۔ ابن عبدالحکم
14235- عن مرة بن يشرح المعافري قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول لأفريقية المفرقة ثلاث مرات لا أوجه إليها أحد ما مقلت عيني الماء. "ابن عبد الحكم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৩৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح الاسکندریہ
14236 مسعود بن الاسود (رض) صحابی رسول جنہوں نے بیعت شجرۃ بھی کی تھی سے مروی ہے کہ انھوں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے غزوہ افریقہ کی اجازت طلب کی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : نہیں، افریقہ دھوکا وہ علاقہ ہے، جس کے ساتھ آدمی دھوکا میں پڑجاتا ہے۔ ابن عبدالحکم
14236- عن مسعود بن الأسود صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان بايع تحت الشجرة أنه استأذن عمر بن الخطاب في غزو إفريقية فقال عمر: لا إن إفريقية غادرة مغدور بها. "ابن عبد الحكم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৩৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتح الاسکندریہ
14237 سائب بن الاقرع سے مروی ہے کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں اس قدربڑا لشکر تیار ہوا جس کے مثل پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ اس کی خبر حضرت عمر (رض) کو پہنچی تو انھوں نے مسلمانوں کو جمع کیا، اللہ کی حمدوثناء کی پھر ارشاد فرمایا :
بولو ! مختصر بات کرو، حالات ہم پر مشکل صورت میں آگئے ہیں، ہمیں معلوم نہیں ہورہا کس طرف سے ان کو سنبھالیں۔ پھر آپ (رض) نے ان کو دشمنوں کے بڑی تعداد میں جمع ہونے کی خبر سنائی۔ پھر طلحہ (رض) نے اٹھ کر تقریر کی، پھر زبیر (رض) نے تقریر کی، پھر عثمان (رض) نے اٹھ کر تقریر کی اور طویل گفتگو پھر حضرت علی (رض) کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے امیر المومنین ! یہ آنے والے دشمن بتوں کی عبادت کرنے والے ہیں، اور اللہ پاک ان کے برے کاموں کو بدلنے میں سب سے زیادہ سخت ہیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ اہل کوٹہ کو لکھیں کہ ان کے دو تہائی افراد جہاں کے لیے کوچ کریں اور ایک تہائی افراد ان کے پیچھے اہل و عیال کی نگہداشت کریں اسی طرح اہل بصرہ کی طرف پیغام بھیجیں وہ بھی ایک لشکر کی تیاری کریں۔
حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : مجھے مشورہ دو ، میں اس لشکر پر کس کو امیر مقرر کروں ؟ لوگوں نے عرض کیا : امیر المومنین ! آپ ہمارے درمیان رائے میں سب سے افضل ہیں اور اپنے اہل کو ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے ہیں۔
حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : میں ان پر ایسے شخص کو امیر مقرر کروں گا جو پہلے نیزے پر ہی دشمن سے جاٹکرائے گا۔
اے سائب بن اقرع ! میرا یہ خط لے کر نعمان بن مقرن کے پاس جاؤ۔ اور اس کو حکم دو جیسا کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد کیا ہے، پھر فرمایا : اگر نعمان شہید ہوجائیں تو پھر اس لشکر کے امیر حذیفہ بن یمان ہوں گے ، اگر حذیفہ بھی شہید ہوجائیں تو جریر بن عبداللہ امیر ہوں گے۔ اگر اسلامی لشکر فتح یاب ہوجائے تو اے سائب ! تمہاری ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں کو جو مال غنیمت ہاتھ لگے تو کوئی ناحق مال میرے پاس لاؤ نہیں اور جس کا حق بنتا ہو اس کے مال کو اس سے روکو نہیں۔
سائب کہتے ہیں : چنانچہ میں حضرت عمر (رض) کا خط لے کر نعمان (رض) کے پاس گیا ۔ وہ اہل کوفہ میں سے دو تہائی اکثریت کو لے کر چل دیئے۔ پھر اہل بصرہ کو پیغام بھیج دیا پھر ان کو بھی ساتھ کرلیا اور نہاوند میں جاکر دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی۔ پھر سائب (رض) نے واقعہ نہاوند پوری تفصیل کے ساتھ بیان کیا۔ نعمان اس جنگ میں سب سے پہلے شہید ہوئے۔ پھر حضرت حذیفہ (رض) نے جھنڈا تھام لیا اور پھر اللہ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمادی۔
سائب کہتے ہیں میں نے اموال غنیمت کو جمع کیا اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردیا۔ پھر میرے پاس ذوالعیشین آئے اور بولے کہ نخیر جان کر خزانہ قلعہ میں ہے۔ میں قلعہ میں چڑھ کر گیا تو وہاں موتیوں کی دو ٹوکریاں رکھی تھیں۔ ایسا خزانہ میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اب میں نے ان کو مال غنیمت بھی نہیں سمجھا جو سپاہیوں کے درمیان تقسیم کردیتا اور نہ میں نے ان کو جزیہ کے بدلے حاصل کیا تھا۔ اور ابوعبیدراوی کو شک ہے وہ فرماتے ہیں یاسائب نے یہ فرمایا کہ ان کو میں نے حاصل کیا تھا۔ بہرصورت میں حضرت عمر (رض) کے پاس آیا ابھی ان کو فتح کی خوشخبری نہ ملی تھی آپ مدینے کے گشت پر تھے، دوران گشت لوگوں سے پوچھ گچھ فرما رہے تھے۔ مجھے دیکھا تو بول پڑے : دہت تیرے کی، ابن ملیکہ ! (سائب) تیرے پیچھے کا کیا حال ہے ؟ میں نے عرض کیا : یا امیر المومنین وہی حال ہے جو آپ چاہتے ہیں پھر سائب نے سارا واقعہ گوش گزار کیا اور نعمان کی شہادت کی خبر سنائی اور مسلمانوں کی فتح کی خوشخبری اور ہیروں کی ٹوکریوں کی خوشخبری بھی سنائی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ان دونوں ٹوکریوں کو لے جاؤ خواہ ایک درہم یا اس سے کم یا زیادہ میں کیوں نہ ہو ان کو فروخت کردو اور مسلمانوں کے درمیان ان کو تقسیم کردو سائب کہتے ہیں : چنانچہ میں ان ٹوکریوں کو لے کر کوفہ گیا، میرے پاس ایک قریشی جوان آیا جس کو عمر بن حریث کہا جاتا تھا اس نے دونوں ٹوکریوں کو خرید لیا اور سارے سپاہیوں اور ان کی اولاد کے بقدر کثیر درہم دیئے۔ پھر اس نے بھی ایک ٹوکری اتنی ہی قیمت میں حیرہ جاکر فروخت کردی جتنی قیمت میں اس نے دونوں ٹوکریاں خریدی تھیں۔ یہ اس کی پہلی کمائی تھی جو اس کو اتنا مال دے گئی۔ ابوعبید فی الاموال
بولو ! مختصر بات کرو، حالات ہم پر مشکل صورت میں آگئے ہیں، ہمیں معلوم نہیں ہورہا کس طرف سے ان کو سنبھالیں۔ پھر آپ (رض) نے ان کو دشمنوں کے بڑی تعداد میں جمع ہونے کی خبر سنائی۔ پھر طلحہ (رض) نے اٹھ کر تقریر کی، پھر زبیر (رض) نے تقریر کی، پھر عثمان (رض) نے اٹھ کر تقریر کی اور طویل گفتگو پھر حضرت علی (رض) کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے امیر المومنین ! یہ آنے والے دشمن بتوں کی عبادت کرنے والے ہیں، اور اللہ پاک ان کے برے کاموں کو بدلنے میں سب سے زیادہ سخت ہیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ اہل کوٹہ کو لکھیں کہ ان کے دو تہائی افراد جہاں کے لیے کوچ کریں اور ایک تہائی افراد ان کے پیچھے اہل و عیال کی نگہداشت کریں اسی طرح اہل بصرہ کی طرف پیغام بھیجیں وہ بھی ایک لشکر کی تیاری کریں۔
حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : مجھے مشورہ دو ، میں اس لشکر پر کس کو امیر مقرر کروں ؟ لوگوں نے عرض کیا : امیر المومنین ! آپ ہمارے درمیان رائے میں سب سے افضل ہیں اور اپنے اہل کو ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے ہیں۔
حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : میں ان پر ایسے شخص کو امیر مقرر کروں گا جو پہلے نیزے پر ہی دشمن سے جاٹکرائے گا۔
اے سائب بن اقرع ! میرا یہ خط لے کر نعمان بن مقرن کے پاس جاؤ۔ اور اس کو حکم دو جیسا کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد کیا ہے، پھر فرمایا : اگر نعمان شہید ہوجائیں تو پھر اس لشکر کے امیر حذیفہ بن یمان ہوں گے ، اگر حذیفہ بھی شہید ہوجائیں تو جریر بن عبداللہ امیر ہوں گے۔ اگر اسلامی لشکر فتح یاب ہوجائے تو اے سائب ! تمہاری ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں کو جو مال غنیمت ہاتھ لگے تو کوئی ناحق مال میرے پاس لاؤ نہیں اور جس کا حق بنتا ہو اس کے مال کو اس سے روکو نہیں۔
سائب کہتے ہیں : چنانچہ میں حضرت عمر (رض) کا خط لے کر نعمان (رض) کے پاس گیا ۔ وہ اہل کوفہ میں سے دو تہائی اکثریت کو لے کر چل دیئے۔ پھر اہل بصرہ کو پیغام بھیج دیا پھر ان کو بھی ساتھ کرلیا اور نہاوند میں جاکر دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی۔ پھر سائب (رض) نے واقعہ نہاوند پوری تفصیل کے ساتھ بیان کیا۔ نعمان اس جنگ میں سب سے پہلے شہید ہوئے۔ پھر حضرت حذیفہ (رض) نے جھنڈا تھام لیا اور پھر اللہ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمادی۔
سائب کہتے ہیں میں نے اموال غنیمت کو جمع کیا اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کردیا۔ پھر میرے پاس ذوالعیشین آئے اور بولے کہ نخیر جان کر خزانہ قلعہ میں ہے۔ میں قلعہ میں چڑھ کر گیا تو وہاں موتیوں کی دو ٹوکریاں رکھی تھیں۔ ایسا خزانہ میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اب میں نے ان کو مال غنیمت بھی نہیں سمجھا جو سپاہیوں کے درمیان تقسیم کردیتا اور نہ میں نے ان کو جزیہ کے بدلے حاصل کیا تھا۔ اور ابوعبیدراوی کو شک ہے وہ فرماتے ہیں یاسائب نے یہ فرمایا کہ ان کو میں نے حاصل کیا تھا۔ بہرصورت میں حضرت عمر (رض) کے پاس آیا ابھی ان کو فتح کی خوشخبری نہ ملی تھی آپ مدینے کے گشت پر تھے، دوران گشت لوگوں سے پوچھ گچھ فرما رہے تھے۔ مجھے دیکھا تو بول پڑے : دہت تیرے کی، ابن ملیکہ ! (سائب) تیرے پیچھے کا کیا حال ہے ؟ میں نے عرض کیا : یا امیر المومنین وہی حال ہے جو آپ چاہتے ہیں پھر سائب نے سارا واقعہ گوش گزار کیا اور نعمان کی شہادت کی خبر سنائی اور مسلمانوں کی فتح کی خوشخبری اور ہیروں کی ٹوکریوں کی خوشخبری بھی سنائی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ان دونوں ٹوکریوں کو لے جاؤ خواہ ایک درہم یا اس سے کم یا زیادہ میں کیوں نہ ہو ان کو فروخت کردو اور مسلمانوں کے درمیان ان کو تقسیم کردو سائب کہتے ہیں : چنانچہ میں ان ٹوکریوں کو لے کر کوفہ گیا، میرے پاس ایک قریشی جوان آیا جس کو عمر بن حریث کہا جاتا تھا اس نے دونوں ٹوکریوں کو خرید لیا اور سارے سپاہیوں اور ان کی اولاد کے بقدر کثیر درہم دیئے۔ پھر اس نے بھی ایک ٹوکری اتنی ہی قیمت میں حیرہ جاکر فروخت کردی جتنی قیمت میں اس نے دونوں ٹوکریاں خریدی تھیں۔ یہ اس کی پہلی کمائی تھی جو اس کو اتنا مال دے گئی۔ ابوعبید فی الاموال
14237- عن السائب بن الأقرع قال: زحف للمسلمين زحف لم يزحف لهم مثله فجاء الخبر إلى عمر فجمع المسلمين فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: تكلموا وأوجزوا ولا تطنبوا، فتفشغبنا الأمور فلا ندري بأيها نأخذ ثم أخبرهم به ثم قام طلحة فتكلم ثم قام الزبير فتكلم، ثم قام عثمان فذكر كلامه في حديث طويل، ثم قام علي فقال: يا أمير المؤمنين إن القوم إنما جاؤوا بعبادة الأوثان وإن الله أشد تغييرا لما أنكروا، وإني أرى أن تكتب إلى أهل الكوفة فيسير ثلثاهم ويبقى ثلث في ذراريهم وحفظ جزيتهم وتبعث إلى أهل البصرة فيوروا ببعث، فقال: أشيروا علي من استعمل عليهم؟ فقالوا: يا أمير المؤمنين أنت أفضل منا رأيا وأعلمنا بأهلك فقال: لأستعملن عليهم رجلا يكون لأول أسنة يلقاها، اذهب بكتابي هذا يا سائب بن الأقرع إلى النعمان بن مقرن، قال: فأمره بمثل الذي أشار به علي، قال: فإن قتل النعمان فحذيفة بن اليمان، فإن قتل حذيفة فجرير بن عبد الله، فإن قتل ذلك الجيش فلا أرينك وأنت على ما أصابوا من غنيمة فلا ترفعن إلي باطلا ولا تحبسن عن أحد حقا هو له، قال السائب: فانطلقت بكتاب عمر إلى النعمان فسار بثلثي أهل الكوفة وبعث إلى أهل البصرة، ثم سار بهم حتى التقوا بنهاوند، فذكر وقعة نهاوند بطولها، قال: فحملوا فكان النعمان أول مقتول وأخذ حذيفة الراية ففتح الله عليهم، قال السائب: فجمعت تلك الغنائم فقسمتها بينهم، ثم أتاني ذو العيينتين فقال: إن كنز النخيرجانفي القلعة. قال: فصعدت فإذا أنا بسفطين من جوهر لم أر مثلهما قط، قال: فلم أرهما من الغنيمة فأقسمها بينهم ولم أحرزهما بجزية أو قال: احرزهما شك أبو عبيد، ثم أقبلت إلى عمر وقد راثعليه الخبر وهو يتطوف المدينة، ويسأل فلما رآني قال: ويلك يا ابن مليكة ما وراءك؟ قلت: يا أمير المؤمنين الذي تحب ثم ذكر وقعتهم ومقتل النعمان، وفتح الله عليهم، وذكر شأن السفطين، فقال: اذهب بهما فبعهما إن جاءا بدرهم أو أقل من ذلك أو أكثر ثم اقسمه بينهم، قال: فأقبلت بهما إلى الكوفة، فأتاني شاب من قريش يقال له: عمر بن حريث، فاشتراهما بأعطية الذرية والمقاتلة، ثم انطلق بأحدهما غلى الحيرة، وباعه بما اشتراهما به مني فكان أول لهوة مال اتخذه. "أبو عبيد في الأموال
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৩৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان (رض)
جان لے ! اللہ تجھ پر رحم کرے، حضرت عثمان (رض) کی سیرت، خلافت، اخلاق اور ان کے شہید ہونے کے متعلق بعض روایات حرف الفاء کی کتاب الفضائل میں ذکر کی گئی ہیں۔
جان لے ! اللہ تجھ پر رحم کرے، حضرت عثمان (رض) کی سیرت، خلافت، اخلاق اور ان کے شہید ہونے کے متعلق بعض روایات حرف الفاء کی کتاب الفضائل میں ذکر کی گئی ہیں۔
14238 (مسند الصدیق) امام زہری (رح) سے مروی ہے کہ جب حضرت عثمان (رض) کو خلیفہ بنایا گیا تو وہ بارہ سال تک امیر رہے۔ چھ سال تک تو ان کے کسی کام پر لوگوں نے کوئی عیب زنی نہیں کی۔ آپ (رض) حضرت عمر بن خطاب (رض) کی نسبت قریش سے زیادہ محبت کرنے والے تھے، جبکہ حضرت عمر (رض) ان کے متعلق سخت رویہ رکھتے تھے۔ جب حضرت عثمان (رض) کو ان کا امیر بنایا گیا تو وہ ان کے لیے نرم خو اور صلہ رحمی کرنے والے بن گئے پھر مزید ان کے متعلق تساہل سے کام لینے لگے اور اپنے عزیز رشتہ داروں اور گھر والوں کو آخری چھ سالوں میں امور حکومت سپرد کرتے رہے۔ مروان کے لیے مصر کا پانچواں حصہ لکھ کر دیدیا اور اپنے رشتے داروں کو مال عطا کیا اور آپ (رض) فرماتے کہ :
ابوبکروعمر (رض) نے اپنا حصہ چھوڑ دیا جو ان کو لینا بنتا تھا جبکہ میں نے اپنے حصہ لیا اور اپنے عزیز رشتہ داروں میں تقسیم کردیا ہے۔ ابن سعد
ابوبکروعمر (رض) نے اپنا حصہ چھوڑ دیا جو ان کو لینا بنتا تھا جبکہ میں نے اپنے حصہ لیا اور اپنے عزیز رشتہ داروں میں تقسیم کردیا ہے۔ ابن سعد
14238- "مسند الصديق" عن الزهري قال: لما ولي عثمان عاش اثنتي عشرة سنة أميرا يعمل ست سنين لا ينقم الناس عليه شيئا، وإنه لأحب إلى قريش من عمر بن الخطاب لأن عمر كان شديدا عليهم، فلما وليهم عثمان لان لهم ووصلهم، ثم توانى في أمرهم، واستعمل أقرباءه وأهل بيته في الست الأواخر، وكتب لمروان بخمس مصر وأعطى أقرباءه المال، وقال: إن أبا بكر وعمر تركا من ذلك ما هو لهما وإني أخذته فقسمته بين أقربائي. "ابن سعد"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২৩৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14239 (مسند عمر (رض)) معدان بن ابی طلحۃ یعمری سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) جمعہ کے روز منبر پر کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمدوثناء اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر کے ذکر کے بعد ارشاد فرمایا :
میں نے ایک خواب دیکھا ہے، میں اس کو اپنی موت کی اطلاع سمجھتا ہوں، گویا ایک سرغ مرغا ہے اس نے مجھے چونچ ماری ہیں۔ میں نے یہ خواب اسماء بنت عمیس کو ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا کہ آپ کو کوئی عجمی آدمی قتل کرے گا۔ پھر فرمایا : اب لوگ مجھے کہتے ہیں کہ میں ان کے لیے کوئی خلیفہ چن جاؤں۔ حالانکہ اللہ پاک اپنے دین اور خلافت کو جس کے ساتھ اس نے نبی کو مبعوث فرمایا تھا ہرگز ضائع نہیں ہونے دے گا۔ اگر میری موت کا وقت جلد آجائے تو میں ان نفوس پر مجلس شوریٰ قائم کرجاتا ہوں، کہ جن سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات کے وقت راضی وخوش تھے : عثمان، علی، زبیر، طلحہ، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص (رض) اجمعین۔ پس ان چھ میں سے جس کی بھی تم بیعت کرلو پھر اس کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا اپنے اوپر لازم کرلینا۔ اور مجھے معلوم ہے کہ کچھ لوگ میرے بعد اس بارے میں طعنہ زنی کریں گے کہ میں نے ان کو ہاتھ ماردیا ہے اسلام پر، ایسی بات کرکے (اسلام میں اور منصب خلافت میں) رخنہ ڈالنے والے اللہ کے دشمن ہیں، کافر اور مگر اہ ہیں۔ اور میں نے کلالہ (جس کے نہ ماں باپ ہیں اور نہ اولاد) جو میرے نزدیک سب سے اہم مسئلہ تھا کہ متعلق نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس قدر سوال کیا کہ اللہ کی قسم ! میں نے جب سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت اختیار کی تھی تب سے اس مسئلے کے علاوہ کسی مسئلے کے بارے میں آپ نے مجھ پر اتنی سختی نہیں فرمائی جتنی اس کے سوال کے بارے میں فرمائی، حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی انگلی سے مجھے سینے میں کچھ لگاتے ہوئے فرمایا : تیرے لیے آیۃ الصیف جو سورة النساء کے آخر میں نازل ہوئی ہے کافی ہوجانا چاہیے۔ اور اگر میں زندہ رہا تو اس کے متعلق ایسا فیصلہ کروں گا جس کو قرآن پڑھنے والا اور قرآن سے ناواقف سب جان لیں گے۔ اور میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں شہروں کے امیروں پر کہ میں نے ان کو اس لیے بھیجا ہے تاکہ وہ لوگوں کو ان کا دین اور ان کے نبی کی سنت سکھائیں ان پر عدل کریں، ان کے اموال غنیمت ان کے درمیان (انصاف کے ساتھ) تقسیم کریں اور جن مسائل میں وہ لاعلم ہوں ان کو میرے پاس بھیجیں۔ پھر اے لوگو ! تم یہ دو چیزیں جو کھاتے ہو میں ان کو خبیث سمجھتا ہوں : لہسن اور پیاز۔ اللہ کی قسم ! میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ جب آپ کو کسی آدمی میں سے ان کی بو محسوس فرماتے تو اس کے متعلق حکم دیتے اور اس آدمی کو ہاتھ سے پکڑ کر مسجد سے باہر لایا جاتا حتیٰ کہ بقیع تک اس کو مسجد سے دور کردیا جاتا تھا۔ لہٰذا جو ان دو چیزوں کو کھائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ پکا کر ان کی بو ماردے۔
راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے جمعہ کو لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اور بدھ کے روز 26 ذی الحج کو آپ پر حملہ ہوگیا۔
مسند ابی داؤد، ابن سعد، مصنف ابن ابی شیبہ، مسنداحمد، ابن حبان، النسائی، الحمبدی، مسلم، ابوعوانۃ، مسند ابی یعلی
نیز حضرت عمر (رض) سے کلام، ثوم اور بصل (لہسن اور پیاز) سے متعلق روایت موفوعات بھی منقول ہے۔ النسائی ، ابن ماجہ
نیز ثوم اور بصل کا قصہ روایت کیا ہے۔ العدنی، ابن خزیمہ
میں نے ایک خواب دیکھا ہے، میں اس کو اپنی موت کی اطلاع سمجھتا ہوں، گویا ایک سرغ مرغا ہے اس نے مجھے چونچ ماری ہیں۔ میں نے یہ خواب اسماء بنت عمیس کو ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا کہ آپ کو کوئی عجمی آدمی قتل کرے گا۔ پھر فرمایا : اب لوگ مجھے کہتے ہیں کہ میں ان کے لیے کوئی خلیفہ چن جاؤں۔ حالانکہ اللہ پاک اپنے دین اور خلافت کو جس کے ساتھ اس نے نبی کو مبعوث فرمایا تھا ہرگز ضائع نہیں ہونے دے گا۔ اگر میری موت کا وقت جلد آجائے تو میں ان نفوس پر مجلس شوریٰ قائم کرجاتا ہوں، کہ جن سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وفات کے وقت راضی وخوش تھے : عثمان، علی، زبیر، طلحہ، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص (رض) اجمعین۔ پس ان چھ میں سے جس کی بھی تم بیعت کرلو پھر اس کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا اپنے اوپر لازم کرلینا۔ اور مجھے معلوم ہے کہ کچھ لوگ میرے بعد اس بارے میں طعنہ زنی کریں گے کہ میں نے ان کو ہاتھ ماردیا ہے اسلام پر، ایسی بات کرکے (اسلام میں اور منصب خلافت میں) رخنہ ڈالنے والے اللہ کے دشمن ہیں، کافر اور مگر اہ ہیں۔ اور میں نے کلالہ (جس کے نہ ماں باپ ہیں اور نہ اولاد) جو میرے نزدیک سب سے اہم مسئلہ تھا کہ متعلق نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس قدر سوال کیا کہ اللہ کی قسم ! میں نے جب سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت اختیار کی تھی تب سے اس مسئلے کے علاوہ کسی مسئلے کے بارے میں آپ نے مجھ پر اتنی سختی نہیں فرمائی جتنی اس کے سوال کے بارے میں فرمائی، حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی انگلی سے مجھے سینے میں کچھ لگاتے ہوئے فرمایا : تیرے لیے آیۃ الصیف جو سورة النساء کے آخر میں نازل ہوئی ہے کافی ہوجانا چاہیے۔ اور اگر میں زندہ رہا تو اس کے متعلق ایسا فیصلہ کروں گا جس کو قرآن پڑھنے والا اور قرآن سے ناواقف سب جان لیں گے۔ اور میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں شہروں کے امیروں پر کہ میں نے ان کو اس لیے بھیجا ہے تاکہ وہ لوگوں کو ان کا دین اور ان کے نبی کی سنت سکھائیں ان پر عدل کریں، ان کے اموال غنیمت ان کے درمیان (انصاف کے ساتھ) تقسیم کریں اور جن مسائل میں وہ لاعلم ہوں ان کو میرے پاس بھیجیں۔ پھر اے لوگو ! تم یہ دو چیزیں جو کھاتے ہو میں ان کو خبیث سمجھتا ہوں : لہسن اور پیاز۔ اللہ کی قسم ! میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ جب آپ کو کسی آدمی میں سے ان کی بو محسوس فرماتے تو اس کے متعلق حکم دیتے اور اس آدمی کو ہاتھ سے پکڑ کر مسجد سے باہر لایا جاتا حتیٰ کہ بقیع تک اس کو مسجد سے دور کردیا جاتا تھا۔ لہٰذا جو ان دو چیزوں کو کھائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ پکا کر ان کی بو ماردے۔
راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے جمعہ کو لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اور بدھ کے روز 26 ذی الحج کو آپ پر حملہ ہوگیا۔
مسند ابی داؤد، ابن سعد، مصنف ابن ابی شیبہ، مسنداحمد، ابن حبان، النسائی، الحمبدی، مسلم، ابوعوانۃ، مسند ابی یعلی
نیز حضرت عمر (رض) سے کلام، ثوم اور بصل (لہسن اور پیاز) سے متعلق روایت موفوعات بھی منقول ہے۔ النسائی ، ابن ماجہ
نیز ثوم اور بصل کا قصہ روایت کیا ہے۔ العدنی، ابن خزیمہ
14239- "مسند عمر" عن معدان بن أبي طلحة اليعمري أن عمر بن الخطاب قام على المنبر يوم الجمعة فحمد الله وأثنى عليه، ثم ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم وذكر أبا بكر، ثم قال: رأيت رؤيا لا أراها إلا، بحضور أجلي، رأيت كأن ديكا نقرني نقرتين أحمر، فقصصتها على أسماء بنت عميس، فقالت: يقتلك رجل من العجم، وإن الناس يأمروني أن أستخلف وأن الله عز وجل لم يكن ليضيع دينه وخلافته التي بعث بها نبيه صلى الله عليه وسلم وإن يعجل بي أمر فإن الشورى في هؤلاء الستة الذين مات النبي صلى الله عليه وسلم وهو عنهم راض عثمان وعلي والزبير وطلحة وعبد الرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقاص، فمن بايعتم منهم فاسمعوا له وأطيعوا، وإني أعلم أن أقواما سيطعنون في هذا الأمر بعدي أنا ضربتهم بيدي على الإسلام، فإن فعلوا فأولئك أعداء الله، الكفار الضلال، وإني لم أدع شيئا هو أهم عندي من أمر الكلالة، وايم الله ما أغلظ لي نبي الله صلى الله عليه وسلم في شيء منذ صحبته أشد مما أغلظ لي في شأن الكلالة حتى طعن بأصبعه في صدري وقال: تكفيك آية الصيف التي نزلت في آخر سورة النساء، وإني إن أعش فسأقض فيها بقضاء يعلمه من يقرأ القرآن ومن لا يقرأ القرآن، وإني أشهد الله على أمراء الأمصار أني إنما بعثتهم ليعلموا الناس دينهم وسنة نبيهم ويعدلوا عليهم ويقسموا فيئهم بينهم ويرفعوا إلي مما عمي عليهم، ثم إنكم أيها الناس تأكلون من شجرتين لا أراهما إلا خبيثتين هذا الثوم والبصل، وايم الله لقد كنت أرى نبي الله صلى الله عليه وسلم إذا وجد ريحهما من الرجل يأمر به فيؤخذ بيده فيخرج من المسجد حتى يؤتي به، البقيع، فمن أكلهما لا بد فليمتهما طبخا فخطب الناس يوم الجمعة وأصيب يوم الأربعاء لأربع بقين من ذي الحجة. "ط وابن سعد ش حم حب ن والحميدي م وأبو عوانة ع"، وروى المرفوع منه وهو قصة الكلالة والثوم والبصل "ن هـ" وروى قصة الثوم والبصل. "العدني وابن خزيمة"
তাহকীক: