কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৫ টি

হাদীস নং: ১৪২৪০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14240 حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں : انھوں نے (اپنے والد) حضرت عمر (رض) کو عرض کیا : میں لوگوں سے سن رہا ہوں کہ آپ کسی کو خلیفہ بنا کر نہیں جارہے ۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ عزوجل اپنے دین کی حفاظت بخوبی فرمائے گا۔ اگر میں خلیفہ بنا کر نہ جاؤں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی خلیفہ بنا کر نہیں گئے اور اگر میں کسی کو خلیفہ نامزد کر جاؤں تو حضرت ابوبکر (رض) بھی خلیفہ نامزد کر گئے تھے۔ میرے لیے دونوں صورتوں کی گنجائش ہے۔ (حضرت ابن عمر (رض)) فرماتے ہیں : جب آپ (رض) نے دونوں کا ذکر فرمادیا تو مجھے معلوم ہوگیا کہ اللہ کی قسم ! وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے برابر کسی کو نہیں جانتے یعنی آپ حضور کی اتباع میں کسی کو بھی خلیفہ نامزد کرنے والے نہیں ہیں۔

الجامع لعبد الرزاق، مسند احمد، العدنی، البخاری، مسلم، ابن ابی داود، الترمذی، ابوعوانۃ، ابن حبان، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی
14240- عن ابن عمر أنه قال لعمر: سمعت الناس يقولون مقالة زعموا أنك غير مستخلف فقال: إن الله عز وجل يحفظ دينه وإني إن لا أستخلف فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يستخلف وإن استخلف فإن أبا بكر قد استخلف قال: فوالله ما هو إلا أن ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبا بكر فعلمت أنه لم يكن ليعدل برسول الله صلى الله عليه وسلم أحد أو أنه غير مستخلف. "عب حم والعدني خ م د ت وأبو عوانة حب ك هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৪১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14241 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے اصحاب شوریٰ کو فرمایا : کیا تم مجھے اختیار دیتے ہو کہ میں تمہارے لیے (تم میں سے) کسی کو خلیفہ نامزدکردوں ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں سب سے پہلے اس پر راضی ہوتا ہوں کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمہارے متعلق ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : تم اہل آسمان میں امین ہو اور اہل زمین میں امین ہوں ۔ ابن منیع ، ابن ابی عاصم فی السنۃ، مستدرک الحاکم، ابونعیم
14241- عن ابن عمر أن عبد الرحمن بن عوف قال لأصحاب الشورى: هل لكم أن أختار لكم وأنقضي منها؟ فقال علي: أنا أول من رضي، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لك: أنت أمين في أهل السماء، أمين في أهل الأرض. "ابن منيع وابن أبي عاصم في السنة ك وأبو نعيم"1
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৪২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14242 عثمان بن عبداللہ قرشی سے مروی ہے : ہمیں یوسف بن اسباط نے مخلد الضبی سے ، مخلد نے ابراہیم نخعی سے، انھوں نے علقمہ سے اور علقمہ حضرت ابوذر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عثمان (رض) کی بیعت کا پہلا دن تھا اور مہاجرین وانصارمسجد (نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) میں جمع تھے، اس وقت حضرت علی (رض) تشریف لائے اور ارشاد فرمایا :

سب سے پہلی چیز جس کے ساتھ ابتداء کرنے والوں کو ابتداء کرنی چاہیے، بولنے والوں کو بولنا چاہیے اور بات کرنے والوں کو سب سے پہلے اس کو منہ سے نکالنا چاہیے وہ اللہ کی حمد اور اس کی ثناء ہے۔ جس کا وہ اہل ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود ہے۔ پھر فرمایا : پس تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو دائمی بقاء کے لیے تنہا ذات ہے، سلطنت کا اکیلا مالک ہے، اس کے لیے فخر، بذرگی اور زیباء ہے، اس کی بزرگی کے آگے دوسرے تمام الہٰوں اور معبودوں نے سر ٹیک دیئے ہیں، قلوب اس کی خشیت سے لرزتے ہیں، اس کا کوئی برابر نہیں ، اس کا کوئی شریک نہیں، کوئی اس کی مخلوق میں سے اس کا مشابہ نہیں۔ ہم اس کے لیے ان صفات کی گواہی دیتے ہیں جو اس نے اپنی ذات کے لیے بیان کی ہیں، اور اس کی مخلوق میں سے اہل علم نے بیان کی ہیں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کی صفت کو کوئی پا نہیں سکتا، اس کی حد کو کوئی مثال بھی بیان نہیں کی جاسکتی، وہ انگلیوں کے اشاروں سے بادل برسانے والا ہے، کھلے میدانوں اور پہاڑوں کی چوٹیوں کو موسلادھار بارش سے سیراب کرنے والا ہے، جب چشموں سے ڈول بھر بھر کر نکلتے ہیں اور چرند پرند، حشرات الارض اور تمام مخلوق زندگی پاتی ہے۔ بس پاک ہے وہ ذات جس کے دین کے آگے تمام دین سرنگوں ہیں اور اس کے دین کے سوا کوئی دین قابل اتباع نہیں۔ ہم شہادت دیتے ہیں کہ ہمارے سردار محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے پسندیدہ بندے، اس کے منتخب پیغمبر اور اس کے مقبول رسول ہیں۔ جن کو اللہ نے ہم سارے جہان والوں کی طرف مبعوث کیا ایسے وقت کہ لوگ بتوں کی عبادت میں منہمک تھے، گمراہی کے آگے جھکے ہوئے تھے، ایک دوسرے کا خون بہاتے تھے، اپنی اولاد کو قتل کرتے تھے، ان کے راستے ظلم وستم کے راستے تھے، ان کی زندگی ظلم کا نام تھی، ان کا امن بھی خوف کے دامن میں پناہ گیر تھا، ان کی عزت ذلت تھی، ایسے وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رحمت بن کر تشریف لائے حتیٰ کہ اللہ پاک نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طفیل ہم کو گمراہی سے بچا لیا اور ہم کو انہی کے طفیل جہالت سے ہدایت بخشی، ہم اس عرب کے معاشرہ والے تھے ، جن کی زندگی تمام اقوام میں تنگی ومشقت والی تھی، ان کا لباس سب سے گھٹیا لباس تھا، ہمارا سب سے عمدہ طعام اندرائن (کڑوا) پھل تھا ۔ ہمارا سب سے عمدہ لباس اون تھا۔ ہم آگے اور بتوں کے پجاری تھے۔ پھر اللہ نے ہم کو محمد کے طفیل ہدایت عطا کی، اور ان کو نور کا ایسا شعلہ بنایا جس سے زمین کے سارے مشرق ومغرب روشن ہوگئے، پھر اللہ نے ان کو اپنے پاس اٹھا لیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

ہائے ! کس قدر بڑی آفت اور کس قدر عظیم مصیبت تھی ان کا رخصت ہونا۔ اس غم میں تمام مومن برابر کے شریک ہیں، سب کی مصیبت ایک ہے، پھر ان کی جگہ ابوبکر (رض) کھڑے ہوگئے۔ اللہ کی قسم ! اے گروہ مہاجرین ! میں نے ایسا خلیفہ نہیں دیکھا انھوں نے کس قدر مضبوطی سے تلوار کو تھاما مرتدین سے جنگ کے دن (جب اسلام پر کڑی آزمائش کا وقت تھا) اللہ نے ان کے طفیل اپنے نبی کی سنت (اور دین) کو زندہ کیا۔ جب ابوبکر (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر وہ مجھے اس کا ایک رسی کو دینے سے بھی انکار کریں گے جو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا کرتے تھے تو میں اللہ کے لیے ان سے جہاد کروں گا۔ چنانچہ میں نے ان کی بات کو سنا اور اطاعت کی اور مجھے اچھی طرح علم ہوگیا تھا کہ ابوبکر کی رائے میں سراسر خیر ہے۔ پھر وہ دنیا سے بھوکے پیٹ ہی نکل گئے۔ میں ابوبکر کی یہ تعریف کیوں نہ کروں جبکہ وہ ثانی اثنین تھے، ان کی بیٹی ذات النطاقین (دو دپٹوں والی) تھی جو اپنی چادر کو اپنے سر پر لپیٹ لیتی اور مس کے پلو میں روٹیاں باندھ کر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (اور اپنے والد) کے لیے جاتی تھی۔ میں کیوں نہ یہ باتیں کہو ! ابوبکر (رض) نے تین عورتوں اور چار آدمیوں کو خرید (کر آزاد) کیا جن کو محض اللہ کے لیے کفار نے اذیتیں دیں، انہی میں سے ایک بلال بھی تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے مال کے ساتھ ہجرت کی تیاری کی، حضرت ابوبکر کے پاس اس دن چالیس ہزار درہم تھے، وہ انھوں نے سب کے سب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے کردیئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ساتھ مدینہ طیبہ ہجرت کرکے تشریف لے گئے۔ پھر ابوبکر کے بعد ان کی جگہ عمر فاروق بن الخطاب کھڑے ہوئے، انھوں نے (تہہ بندکس کر باندھ لیا اور) پنڈلیوں سے کپڑا اونچا کرلیا اور اپنی آستینیں چڑھا لیں۔ ان کو اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہ تھا۔ ہم دیکھتے تھے کہ سکینہ عمر کی زبان پر بول رہی ہے۔ اور میں ان کے لیے یہ باتیں کیوں نہ کہوں حالانکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ابوبکر اور عمر کے درمیان چلتا ہوا دیکھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے : ہم اسی طرح جئیں گے، اسی طرح مریں گے، اسی طرح ہم کو ساتھ ساتھ اٹھایا جائے گا اور اسی طرح اکٹھے جنت میں داخل ہوں گے ۔ میں فاروق کی خوبی کیوں نہ بیان کرو جبکہ شیطان ان کی آہٹ سے بھی بھاگتا تھا۔ پھر وہ شہید ہو کر چلے گئے، ان پر اللہ کی رحمت ہو۔ اور اے گروہ مہاجرین تم خوب جانتے ہو کہ تمہارے اندر ابوعبداللہ یعنی حضرت عثمان بن عفان جیسا کوئی صاحب فضیلت شخص نہیں ہے۔ کیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو یکے بعد دیگرے دو بیٹیاں شادی میں نہیں دیں۔ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی لخت جگر عثمان کی بوی کو دفن فرما کر ابھی قبرستان میں ہی موجود تھے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تعزیت کے لیے آئے اور آپ کو فرمایا : اے محمد ! اللہ حکم دیتا ہے کہ آپ عثمان کو اس کی دوسری بہن شادی میں دیدیں۔ میں کیوں نہ ان کے متعلق یہ کہوں حالانکہ ابوعبداللہ نے جیش العسرت (غزوہ تبوک) کی۔ مکمل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے گرم گرم سخینہ (آٹے گھی کھجور سے تیار کھانا) طباق میں تیارکروا کر حضور کے آگے پیش کیا، اس وقت وہ جوش مارہا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو کناروں سے کھاؤ، اس کی بلندی کو نہ گراؤ کیونکہ برکت اوپر سے نازل ہوتی ہے، چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیز گرم کھانا کھانے سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ کھانا کھایا جو گھی، شہد اور آٹے وغیرہ سے بنا ہوا تھا تو اس کے گرم ہونے کی وجہ سے اپنے ہاتھ کھینچ لیے اور مخلوق کے پیدا کرنے والے کی طرف اپنے ہاتھ بلند کرکے ارشاد فرمایا : اے عثمان ! اللہ نے تیرے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے ہیں تیرے مخفی اور اعلانیہ گناہ بخش دیئے۔ اے اللہ ! عثمان کی آج کی نیکی نہ بھلانا۔ پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : اے مہاجرین کی جماعت ! تمکو معلوم ہوگا کہ ایک مرتبہ ابوجہل کا اونٹ بدک گیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمر (رض) کو ارشاد فرمایا : اے عمر ! یہ اونٹ ہمارے پاس لاؤ ۔ اونٹ بھگ کر ابوسفیان کے قافلے میں شامل ہوگیا۔ اونٹ پر سونے چاندی کے حلقے والی لگام پڑی ہوئی تھی اور ابوجہل کا دیباج کا پالان تھا جو اونٹ پر پڑا ہوا تھا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمر (رض) کو فرمایا : اے عمر ! یہ اونٹ ہمارے پاس لاؤ۔ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! وہاں قافلے میں سرداران قریش اس سے تھوڑے ہی ہیں۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جانا کہ تعداد اور مادۃ عبدمناف کے لیے ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان کو ابوسفیان کے قافلے کی طرف بھیجا اونٹ لانے کے لیے حضرت عثمان ارشاد کی تعمیل کے لیے اپنے اونٹ پر بیٹھ کر چل دیئے جبکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان (کی دلیری) پر انتہائی تعجب ہورہا تھا چنانچہ عثمان ابوسفیان کے پاس پہنچے تو ابوسفیان جو اپنے سرداروں کے درمیان حبوہ باندھے بیٹھا تھا عثمان کو دیکھ کر تعظیماً واکراماً اٹھ کھڑا ہوا اور پوچھا : عبداللہ کے بیٹے (محمد) کو کیسے حال میں پیچھے چھوڑ کر آئے ہو ؟ حضرت عثمان (رض) نے ان کو فرمایا : قریش کے سرداروں کے درمیان ان کی بلندی اور کوہان پر بیٹھا چھوڑ آیا ہوں، اے ابوسفیان ! وہ سرداروں کے سردار ہیں، جو اس قدر بلندی پر پہنچ گئے ہیں کہ آفتاب ضیاء پاش تک ان کی رسائی ہے، اور وہ اس قدر راسخ ہیں گویا بحرذخار ہیں، ان کی آنکھیں (امت کے غم میں برسنے) والی ہیں، ان کے جھنڈے بلند ہیں۔ اے ابوسفیان ! محمد کو جدا کرکے ہمارے پاس کوئی قابل فخر چیز نہیں رہ جاتی اور محمد کے زوال کے ساتھ ہماری کمر ٹوٹ جانے والی ہے۔ ابوسفیان نے کہا : اے ابوعبداللہ ! ابن عبداللہ (محمد) کا اکرام کرو، وہ چہرہ مصحف شریف کا ورقہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ بہترین جانشین کا بہترین جانشین ہوگا، ابوسفیان بات کرتے جاتے اور زمین پر کبھی اپنے ہاتھ کو مارتے اور کبھی اپنے پاؤں کو مارتے۔ پھر انھوں نے اونٹ عثمان (رض) کے حوالے کردیا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : پس کونسی کرامت اور فضیلت عثمان کے لیے اس سے بڑی ہوگی۔ اللہ کا حکم جس کے متعلق چاہے گا نافذ ہو کر رہے گا۔ پھر ابوسفیان نے کھانے کی رقاب منگوائی جس میں خوب روغن ڈالا ہوا تھا پھر دودھ منگوایا اور بولے : اے ابوعبداللہ ! لو ! ابوعبداللہ عثمان نے فرمایا : میں اپنے پیچھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسی حد پر چھوڑ کر آیا ہوں کہ یہاں بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتا۔ پھر عثمان کو تاخیر ہوئی تو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہمارے ساتھی کو تاخیر ہوگئی ہے، اے صحابہ ! (لڑائی پر) میری بیعت کرو۔

ادھر ابوسفیان عثمان (رض) کو بولے : اگر تم نے ہمارا کھانا کھالیا تو ہم اونٹ کو اصلی حالت میں لوٹا دیں گے۔ چنانچہ حضرت عثمان (رض) نے ابوسفیان کے پیش کردہ کھانے میں سے تھوڑا چکھ لیا۔ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اپنے صحابہ سے بیعت لینے کے بعد عثمان (رض) واپس ان کے پاس پہنچ گئے۔

پھر حضرت علی (رض) نے (اپنے متعلق) ارشاد فرمایا : میں تم کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں بتاؤ کیا ایسا نہیں ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : اے محمد تلوار تو صرف ذوالفقار ہے، نوجوان صرف علی ہے۔ تم جانتے ہو، بتاؤ کیا یہ فرمان میرے علاوہ کسی اور کے لیے تھا ؟ میں تم کو واسطہ خداوندی دیتا ہوں بتاؤ کیا تم یہ نہیں جانتے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئے اور فرمایا : اے محمد ! اللہ آپ کو حکم فرماتا ہے کہ آپ علی سے محبت کریں اور جو علی سے محبت کرے اس سے بھی محبت رکھیں۔ بیشک اللہ بھی علی سے محبت فرماتا ہے۔ اور ہر اس شخص سے محبت فرماتا ہے جو علی کو محبوب رکھتا ہے۔ تب لوگوں نے حضرت علی (رض) کو جواباً بیک آواز عرض کیا : ہاں اللہ جانتا ہے ایسا ہی ہے۔ پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں تم کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب مجھے ساتویں آسمان پر لے جایا گیا تو نور کے خیموں تک مجھے اوپر اٹھالیا گیا پھر مجھے نور کے پردوں تک اوپر اٹھایا گیا۔ پھر اللہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کچھ چیزیں وحی فرمائیں۔ جب آپ واپس لوٹنے لگے تو پردوں کے پیچھے سے آپ کو آواز دی گئی : اے محمد ! تیرا باپ ابراہیم (علیہ السلام) بہترین باپ ہے اور تیرا بھائی علی بہترین بھائی ہے۔ اے مہاجرین و انصار ! تم جانتے ہو کہ یہ حقیقت ہے۔ یہ سن کر حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بات نہ سنی ہو جو آپ بیان فرما رہے ہیں تو میرے کان بہرے ہوجائیں۔ پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : تم لوگ جانتے ہو کہ مسجد میں میرے سوا کوئی اجنبی حالت میں داخل ہوتا تھا ؟ لوگوں نے کہا : اللہ گواہ ہے ، نہیں۔ پھر فرمایا : تم جانتے ہو کہ جب میں رسول اللہ کے دائیں طرف ہو کر قتال کرتا تھا تو ملائکہ آپ کے بائیں طرف ہو کر لڑتے تھے۔ لوگوں نے کہا : ہاں واللہ ! ایسا ہی ہے۔ پھر فرمایا : تم جانتے ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ارشاد فرمایا تھا :

میرے لیے جیسے ہارون موسیٰ کے لئے۔ لیکن یاد رکھو میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اور کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حسن اور حسین کے درمیان بھائی چارہ کرتے تھے۔ چنانچہ دو مرتبہ فرماتے : یا حسن ! فاطمہ کہتی : یارسول اللہ ! حسین اس سے چھوٹا ہے اور اس سے کمزور ہے۔ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فاطمہ کو فرماتے : کیا تو اس پر راضی نہیں ہے کہ میں کہوں : جلدی اے حسن ! اور جبرائیل کہے : جلدی اے حسین !۔ یعنی اگر میں حسن کو زیادہ طرف داری کرتا ہوں تو جبرائیل حسین کی حمایت زیادہ کرتے ہیں یوں دونوں میں مساوات ہوگئی۔

حضرت علی (رض) نے فرمایا : کسی اور مخلوق کو ہماری ایسی فضیلت حاصل ہے کیا ؟ ہم صبر کرنے والے ہیں کہ اللہ جو فیصلہ کرتا ہے وہ ہونے والا ہے۔ ابن عساکر
14242- عن عثمان بن عبد الله القرشي: حدثنا يوسف بن أسباط عن مخلد الضبي عن إبراهيم النخعي عن علقمة عن أبي ذر قال: لما كان أول يوم في البيعة لعثمان اجتمع المهاجرون والأنصار في المسجد وجاء علي ابن أبي طالب فأنشأ يقول: إن أحق ما ابتدأ به المبتدؤون، ونطق به الناطقون وتفوه به القائلون؛ حمد الله وثناء عليه بما هو أهله والصلاة على النبي محمد صلى الله عليه وسلم فقال: الحمد لله المتفرد بدوام البقاء المتوحد بالملك الذي له الفخر والمجد والسناء، خضعت الآلهة لجلاله يعني الأصنام، وكل ما عبد من دونه، ووجلت القلوب من مخافته، ولا عدل له ولا ند له ولا يشبهه أحد من خلقه، ونشهد له بما شهد لنفسه وأولو العلم من خلقه أن لا إله إلا هو ليست له صفة تنال ولا حد تضرب له فيه الأمثال، المدر صوبالغمام ببنانالنطاق، ومهطل الرباببوابل الطل فرش الفيافيوالآكام، بتشقيق الدمنوأنيق الزهر وأنواع المتحسن من النبات وشق العيون من جيوب المطر إذ شبعت الدلاء حياة للطير والهوام والوحش وسائر الأنام والأنعام فسبحان من يدان لدينه ولا يدان لغير دينه دين، وسبحان الذي ليس له صفة نفر موجود ولا حد محدود، ونشهد أن سيدنا محمد صلى الله عليه وسلم عبده المرتضى ونبيه المصطفى ورسوله المجتبى أرسله الله إلينا كافة والناس أهل عبادة الأوثان وخضوع الضلالة يسفكون دماءهم ويقتلون أولادهم ويحيفون سبيلهم عيشهم الظلم وأمنهم الخوف، وعزهم الذل، فجاء رحمة حتى استنقذنا الله بمحمد صلى الله عليه وسلم من الضلالة وهدانا بمحمد صلى الله عليه وسلم من الجهل ونحن معاشر العرب أضيق الأمم معاشا وأخسهم رياشاجل طعامنا الهبيد يعني شحم الحنظل وجل لباسنا الوبر والجلود مع عبادة الأوثان والنيران وهدانا بمحمد صلى الله عليه وسلم بعد أن أمكنه الله شعلة النور فأضاء بمحمد صلى الله عليه وسلم مشارق الأرض ومغاربها فقبضه الله إليه فإنا لله وإنا إليه راجعون، ما أجل رزيته وأعظم مصيبته، فالمؤمنون فيهم سواء، مصيبتهم فيه واحدة.

فقام مقامه أبو بكر الصديق، فوالله يا معشر المهاجرين ما رأيت خليفة أحسن أخذا بقائم السيف يوم الردة من أبي بكر الصديق يومئذ قام مقاما أحيا الله به سنة النبي صلى الله عليه وسلم فقال: والله لو منعوني عقالا لأجاهدنهم في الله فسمعت وأطعت لأبي بكر، وعلمت أن ذلك خير لي، فخرج من الدنيا خميصاوكيف لا أقول هذا في أبي بكر وأبو بكر ثاني اثنين وكانت ابنته ذات النطاقين يعني أسماء تتنطق بعباءة له وتخالف بين رأسها وما معها يعني رغيفين في نطاقها فتروح بهما إلى محمد صلى الله عليه وسلم وكيف لا أقول هذا، وقد اشترى سبعة ثلاث نسوة وأربعة رجال كلهم أوذي في الله وفي رسول الله، وكان بلال منهم وتجهز رسول الله صلى الله عليه وسلم بماله ومعه يومئذ أربعون ألفا فدفعها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فهاجر بها إلى طيبة، ثم قام مقامه الفاروق عمر بن الخطاب شمر عن ساقيه وحسر عن ذراعيه لا تأخذه في الله لومة لائم كنا نرى أن السكينة تنطق على لسانه، وكيف لا أقول هذا ورأيت النبي صلى الله عليه وسلم بين أبي بكر وعمر، فقال هكذا نحيى وهكذا نموت وهكذا نبعث وهكذا ندخل الجنة، وكيف لا أقول هذا في الفاروق والشيطان يفر من حسه فمضى شهيدا رحمة الله عليه، وقد علمتم معشر المهاجرين أنه ما فيكم مثل أبي عبد الله يعني عثمان بن عفان أو ليس قد زوجه النبي صلى الله عليه وسلم ابنتيه، ثم أتاه جبريل فقال حين أوعز إليه وهو في المقبرة: يا محمد إن الله يأمر أن تزوج عثمان أختها. وكيف لا أقول هذا وقد جهز أبو عبد الله جيش العسرة وهيأ للنبي صلى الله عليه وسلم سخينةأو نحوها فأقبل بها في صحفة وهي تفور فوضعها تلقاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم:كلوا من حافتها ولا تهدوا ذروتها فإن البركة تنزل من فوقها، ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يؤكل الطعام سخنا جدا فلما أكل رسول الله صلى الله عليه وسلم السخينة أو نحوها من سمن وعسل وطحين مد رسول الله صلى الله عليه وسلم يده إلى فاطر البرية ثم قال: غفر الله لك يا عثمان ما تقدم من ذنبك وما تأخر وما أسررت وما أعلنت، اللهم لا تنس هذا اليوم لعثمان، معشر المهاجرين تعلمون أن بعير أبي جهل ندفقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا عمر ائتنا بالبعير، فانطلق البعير إلى عير أبي سفيان، وكان عليه حلقة مزموم بها من ذهب أو فضة وكان عليه جلمدبج كان لأبي جهل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعمر: ائتنا بالبعير فقال عمر: يا رسول الله إن من هناك يعني ملأ قريش من عديأقل من ذلك، فعلم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن العدد والمادة لعبد مناف فوجه رسول الله صلى الله عليه وسلم عثمان إلى عير أبي سفيان ليأتي بالبعير، فانطلق عثمان على قعوده وكان النبي صلى الله عليه وسلم معجبا به جدا حتى أتى أبا سفيان فقام إليه مبجلا معظما وقد احتبى بملائته، فقال أبو سفيان: كيف خلفت ابن عبد الله؟ فقال له عثمان: بين هامات قريش وذروتها وسنام قناعتها يا أبا سفيان هو علم من أعلامها يا أبا سفيان سما محمد صلى الله عليه وسلم شمسا ماطرة وبحارا زاخرة وعيونه هماعة وولاؤهرافعة يا أبا سفيان فلا عري من محمد فخرنا ولا قصم بزوال محمد ظهرنا، فقال أبو سفيان: يا أبا عبد الله اكرم بابن عبد الله ذاك الوجه كأنه ورقة مصحف، إني لأرجو أنه يكون خلفا من خلف وجعل أبو سفيان يفحص بيده مرة ويركض الأرض برجله أخرى، ثم دفع البعير إلى عثمان، فقال علي: فأي مكرمة أسنى وأفضل من هذه لعثمان حتى مضى أمر الله فيمن أراد، ثم إن أبا سفيان دعا بصحفة كثيرة الإهالةثم دعا بظلمةفقال: دونك يا أبا عبد الله، فقال أبو عبد الله: قد خلفت النبي صلى الله عليه وسلم على حد لست أقدر أن أطعم فأبطأ أبو عبد الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم قد أبطأ صاحبنا بايعوني، فقال أبو سفيان: إن فعلت وطعمت من طعامنا رددنا عليك البعير برمتهفنال أبو عبد الله من طعام أبي سفيان وأقبل عثمان بعد ما بايعوا النبي صلى الله عليه وسلم. ثم قال علي: أناشدكم الله إن جبريل نزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا محمد لا سيف إلا ذو الفقار ولا فتى إلا علي فهل تعلمون هذا كان لغيري أناشدكم الله هل تعلمون أن جبريل نزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا محمد إن الله يأمرك أن تحب عليا، وتحب من يحبه، فإن الله يحب عليا، ويحب من يحبه قالوا: اللهم نعم، قال: أناشدكم الله هل تعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لما أسري بي إلى السماء السابعة رفعت إلى رفارف من نور ثم رفعت إلى حجب من نور فأوحي إلى النبي صلى الله عليه وسلم أشياء، فلما رجع من عنده نادى مناد من وراء الحجب يا محمد نعم الأب أبوك إبراهيم نعم الأخ أخوك علي، تعلمون معاشر المهاجرين والأنصار كان هذا. فقال عبد الرحمن بن عوف من بينهم: سمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم بهاتين وإلا فصمتا، أتعلمون أن أحدا كان يدخل المسجد جنبا غيري قالوا: اللهم لا، هل تعلمون أني كنت إذا قاتلت عن يمين النبي صلى الله عليه وسلم قاتلت الملائكة عن يساره، قالوا: اللهم نعم، فهل تعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أنت مني بمنزلة هارون من موسى ألا إنه لانبي بعدي، وهل تعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان آخى بين الحسن والحسين فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يا حسن مرتين، فقالت فاطمة: يا رسول الله إن الحسين لأصغر منه وأضعف ركنا منه، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا ترضين أن أقول أنا: هييا حسن ويقول جبريل: هي يا حسين فهل لخلق مثل هذه المنزلة نحن صابرون ليقضي الله أمرا كان مفعولا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৪৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14243 عن زافرعن رجل عن الحارث بن محمد عن ابی الطفیل عامر بن واثلۃ ، ابوالطفیل عامر بن واثلۃ سے مروی ہے کہ شوریٰ کے روز میں دروازے پر نگران تھا۔ اندر موجود (چھ) حضرات کے درمیان آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئیں، میں نے حضرت علی (رض) کو فرماتے ہوئے سنا :

لوگوں نے ابوبکر کی بیعت کی ، اللہ کی قسم میں اس منصب کا ان سے زیادہ اہل تھا۔ اور ان سے زیادہ حقدار بھی تھا۔ لیکن پھر میں نے ان کی بات کو سن لیا اور اطاعت کرلی اس خوف سے کہ کہیں لوگ (اختلافات کے باعث) کفار نہ بن جائیں اور تلوار سے ایک دوسرے کی گردن اڑانے لگیں پھر لوگوں نے عمر کی بیعت کرلی اور اللہ کی قسم میں ان سے زیادہ اس منصب کا اہل اور حقدار تھا، لیکن پھر بھی میں نے سنا اور اطاعت کی اس خوف سے کہ کہیں لوگ (اختلافات کے باعث) کفر کی طرف نہ لوٹنے لگیں اور ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگیں۔ پھر اب تم ارادہ کرتے ہو کہ عثمان کی بیعت کرو اب بھی میں سنوں گا اور اطاعت کروں گا۔ عمر نے مجھے پانچ لوگوں کے ساتھ شامل کیا ہے میں ان کا چھٹا آدمی ہوں ۔ انھوں نے ان پر میری کوئی فضیلت اور صلاحیت زیادہ محسوس نہیں کی۔ اور نہ تمہی پانچ افراد اس کو میرے لیے جانتے ہو، اب ہم سب اس میں برابر ہیں۔ اللہ کی قسم ! اگر میں چاہوں تو لوگوں سے بات کروں تو پھر کوئی عربی اور نہ عجمی ، نہ ذمی اور نہ کوئی مشرک میری بیان کردہ صفات سے انکار کی گنجائش کرسکتا ہے۔ میں ایسا بھی کرسکتا ہوں اگر چاہوں ، اب اے جماعت ! میں تم کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں ! بتاؤ تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھائی چارہ کیا ہو میرے سوا ؟ لوگوں نے کہا : اللھم لا، خدا جانتا ہے، نہیں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : اے جماعت ! میں تم کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں بتاؤ کیا تم میں ایسا کوئی شخص ہے جس کا چچا میرے چچا حمزۃ ، جن کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسد اللہ اور اسد رسولہ کہا یعنی اللہ اور اس کے رسول کا شیر، جیسا ہو ؟ لوگوں نے کہا : اللھم لا، پھر فرمایا کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس کا بھائی میرے بھائی جعفر جیسا ہو، جو ذوالجناحین تھے جو دوپروں کے ساتھ جنت میں مزین ہوں گے اور جنت میں ان کے ساتھ جہاں چاہیں گے اڑتے پھریں گے ؟ لوگوں نے کہا : نہیں۔ آپ (رض) نے فرمایا : کیا کوئی میری اولاد حسن و حسین جیسی اولاد رکھتا ہے، جو اہل جنت کے لوگوں کے سردار ہوں گے۔ لوگوں نے کہا : نہیں۔ فرمایا : کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس کی بیوی میری بیوی فاطمہ جیسی ہو ؟ جو بنت رسول اللہ ہے ؟ لوگوں نے کہا نہیں۔ فرمایا : کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس نے مجھ سے زیادہ مشرکوں کو قتل کیا ہو ہر جنگ کے وقت جب بھی وہ رسول اللہ کو پیش آئی ؟ لوگوں نے کہا نہیں ۔ حضرت علی (رض) نے پوچھا : کیا تم میں ایسا کوئی شخص ہے جو مجھ سے زیادہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زیادہ فائدہ پہنچانے والا ہو اس دن جب (آپ نے ہجرت کی اور) میں آپ کے بستر پر لیٹ گیا ، میں نے اپنی جان کے ساتھ آپ کی حفاظت کی گویا اپنا خون ان کے لیے پیش کردیا۔ لوگوں نے کہا : نہیں۔ پوچھا : کیا تم میں ایسا کوئی شخص ہے جو مال غنیمت کا خمس لیتا ہو میرے اور فاطمہ کے سوا ؟ لوگوں نے کہا : نہیں۔ پوچھا : کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جس کو کتاب اللہ میں مطہر کیا گیا ہو میرے سوا جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مہاجرین کے دروازوں کو بند کردیا تھا اور میرا دروازہ کھول دیا تھا تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دو چچا حمزہ اور عباس اٹھے اور انھوں نے پوچھا : یارسول اللہ ! آپ نے ہمارے دروازے بند کردیئے ہیں اور علی کا دروازہ کھول دیا ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے علی کا دروازہ کھولا ہے اور نہ تمہارے دروازے بند کیے ہیں، بلکہ اللہ ہی نے اس کا دروازہ کھولا اور تمہارے دروازے بند کیے ہیں۔ لوگوں نے کہا : نہیں۔ حضرت علی (رض) نے پوچھا : کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے اللہ نے جس کا نور آسمان سے تام کردیا ہو میرے سوا ؟ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وآت ذالقربیٰ حقہ، اور قرابت (رشتے) دار کو اس کا حق دو ، لوگوں نے کہا : نہیں۔ حضرت علی (رض) نے پوچھا : کیا تم میں میرے سوا کوئی ایسا شخص ہے جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بارہ دفعہ پکارا ہو، جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمان نازل فرمایا تھا :

یا ایھا الذین آمنوا ذا ناجیتم الرسول فقد موبین یدی نجواکم صدقۃ۔

اے ایمان والو ! جب تم رسول سے سر گوشی۔ کلام کرو تو اپنی سرگوشی سے صدقہ کردو۔

لوگوں نے کہا : نہیں۔ آپ (رض) نے پوچھا : کیا تم میں ایسا کوئی شخص ہے میرے سوا، جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھوں کو بند کیا ہو ؟ لوگوں نے کہا : نہیں۔ آپ (رض) نے پوچھا : کیا تم میں ایسا کوئی شخص ہے میرے سوا جو آخری موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہو جب آپ کو قبر میں رکھا گیا تھا (کیونکہ قبر میں اتارنے والا میں بھی تھا) ۔ لوگوں نے کہا : نہیں ۔ العقیلی

کلام : یہ روایت ضعیف بلکہ اس سے بھی بڑھ کر غیر اصل ہے۔ امام عقیلی ضعفاء میں فرماتے ہیں مذکورہ روایت کا حضرت علی (رض) سے منقول ہونا۔ کچھ حقیقت نہیں رکھتا، نیز اس میں دو مجہول آدمی راوی ہیں۔ ایک آدمی جس کا زافر نے نام نیں لیا اور حارث بن محمد۔

نیز فرماتے ہیں مجھے آدم بن موسیٰ نے کہا میں نے امام بخاری سے سنا ہے فرماتے ہیں کہ یہ طریق حارث بن محمد عن ابی الطفیل کنت علی الباب یوم الشوریٰ اس پر زافر کے علاوہ کسی نے زافر کی متابعت نہیں کی۔

نیز امام ابن جوزی (رح) نے اس کو موضوع من گھڑت مرویات میں شمار کیا ہے اور فرماتے ہیں زافر مطعون شخص ہے اور وہ مبہم آدمی سے روایت کرتا ہے۔ امام ذھبی میزان میں فرماتے ہیں : یہ روایت منکر اور غیر صحیح ہے۔ امام ابن حجر اللسان میں فرماتے ہیں : شاید اس روایت میں ساری آفت زافر کی طرف سے ہے۔ جبکہ امام ابن حجر اپنی امالیہ میں یہ بھی فرماتے ہیں زافر کذب کے ساتھ مہتم نہیں ہے ہاں جب اس کی روایت پر متابعت ہوجاتی ہے تو وہ حسن شمار ہوتی ہے (تب بھی اس روایت پر کوئی متابع نہیں) بہر صورت روایت مذکورہ ناقابل اعتبار اور غیر مستند ہے۔
14243- عن زافر عن رجل عن الحارث بن محمد عن أبي الطفيل عامر بن واثلة قال: كنت على الباب يوم الشورى، فارتفعت الأصوات بينهم فسمعت عليا يقول: بايع الناس لأبي بكر وأنا والله أولى بالأمر منه، وأحق به منه، فسمعت وأطعت مخافة أن يرجع الناس كفارا يضرب بعضهم رقاب بعض بالسيف، ثم بايع الناس عمر وأنا والله أولى بالأمر منه وأحق به منه فسمعت وأطعت مخافة أن يرجع الناس كفارا يضرب بعضهم رقاب بعض بالسيف، ثم أنتم تريدون أن تبايعوا عثمان إذا أسمع وأطيع، إن عمر جعلني في خمسة نفر أنا سادسهم لا يعرف لي فضلا عليهم في الصلاح ولا يعرفونه لي كلنا فيه شرع سواء وايم الله لو أشاء أن أتكلم ثم لا يستطيع عربيهم ولا عجميهم ولا المعاهد منهم ولا المشرك رد خصلة منها لفعلت، ثم قال: نشدتكم بالله أيها النفر جميعا أفيكم أحد آخى رسول الله صلى الله عليه وسلم غيري؟ قالوا: اللهم لا، ثم قال: نشدتكم الله أيها النفر جميعا أفيكم أحد له عم مثل عمي حمزة أسد الله وأسد رسوله وسيد الشهداء؟ قالوا: اللهم لا، ثم قال: أفيكم أحد له أخ مثل أخي جعفر ذي الجناحين الموشى بالجوهر يطير بهما في الجنة حيث شاء؟ قالوا: اللهم لا، قال: فهل أحد له سبط مثل سبطي الحسن والحسين سيدي شباب أهل الجنة؟ قالوا: اللهم لا، قال: أفيكم أحد له زوجة مثل زوجتي فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قالوا: اللهم لا. قال: أفيكم أحد كان أقتل لمشركي قريش عند كل شديدة تنزل برسول الله صلى الله عليه وسلم مني؟ قالوا: اللهم لا، قال: أفيكم أحد كان أعظم غنى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حين اضطجعت على فراشه ووقيته بنفسي وبذلت له مهجة دمي؟ قالوا: اللهم لا، قال: أفيكم أحد كان يأخذ الخمس غيري وغير فاطمة؟ قال: اللهم لا، قال: أفيكم أحد كان له سهم في الحاضر وسهم في الغائب غيري؟ قالوا: اللهم لا، قال: أكان أحد مطهرا في كتاب الله غيري حين سد النبي صلى الله عليه وسلم أبواب المهاجرين وفتح بابي فقام إليه عماه حمزة والعباس فقالا: يا رسول الله سددت أبوابنا وفتحت باب علي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما أنا فتحت بابه ولا سددت أبوابكم بل الله فتح بابه وسد أبوابكم؟ قالوا: اللهم لا، قال: أفيكم أحد تمم الله نوره من السماء غيري حين قال: {وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ} قالوا: اللهم لا، قال: أفيكم أحد ناجاه رسول الله صلى الله عليه وسلم اثنى عشرة مرة غيري حين قال الله تعالى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً} قالوا: اللهم لا، قال: أفيكم أحد تولى غمض رسول الله صلى الله عليه وسلم غيري؟ قالوا: اللهم لا، قال: أفيكم أحد آخر عهده برسول الله صلى الله عليه وسلم حين وضعه في حفرته غيري؟ قالوا: اللهم لا. "عق" وقال: لا أصل له عن علي وفيه رجلان مجهولان رجل لم يسمه زافر والحارث بن محمد حدثني آدم بن موسى قال سمعت "خ" قال الحارث ابن محمد عن أبي الطفيل كنت على الباب يوم الشورى لم يتابع زافر عليه انتهى، وأورده ابن الجوزي في الموضوعات وقال زافر مطعون فيه ورواه عن مبهم، وقال الذهبي في الميزان: هذا خبر منكر غير صحيح، وقال ابن حجر في اللسان: لعل الآفة في هذا الحديث من زافر مع أنه قال في أماليه: أن زافرا لم يتهم بكذب وأنه إذا توبع على حديث كان حسنا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৪৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14244 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ میں اپنے والد کے پاس حاضر خدمت تھا جب ان پر حملہ کیا گیا۔ لوگ ان کو دعائیں دے رہے تھے : اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ میرے والد حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں اپنے رب سے خیر کی آس رکھتا ہوں اور اپنے گناہوں پر اس کا خوف بھی دامن گیر ہے۔ لوگوں نے درخواست کی آپ خلیفہ منتخب کرجائیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں زندگی میں بھی اور موت میں بھی تمہارا بوجھ اٹھاؤں کیا ؟ میری تو حسرت ہے کہ کاش مجھے برابر سرابر میں چھوڑ دیا جائے، نہ مجھ سر اس کا وبال ہو اور خواہ اس کا فائدہ بھی نہ ہو۔ اگر میں خلیفہ بنا کر جاؤں تو مجھ سے بہتر شخص ابوبکر بھی خلیفہ بنا کر گئے تھے اور اگر میں تم کو یونہی چھوڑ جاؤں تو تم کو وہ ذات بھی یونہی چھوڑ گئی تھی جو مجھ سے بدرجہا بہتر ہے یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : تب میں نے جان لیا کہ جب آپ (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کردیا تو اب وہ ان کی اتباع میں ہرگز کسی کو خلیفہ منتخب کرکے نہیں جاسکتے۔ مسند احمد، مسلم، السنن للبیہقی
14244- عن ابن عمر قال حضرت أبي حين أصيب فأثنوا عليه، فقالوا: جزاك الله خيرا فقال: راغب وراهب فقالوا: استخلف فقال: أتحمل أمركم حيا وميتا، ولوددت أن حظي منها الكفاف لا علي ولا لي فإن أستخلف فقد استخلف من هو خير مني يعني أبا بكر، وإن أترككم فقد ترككم من هو خير مني رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال عبد الله: فعرفت أنه حين ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم غير مستخلف. "حم م ق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৪৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14245 عمرو بن میمون سے مروی ہے کہ میں حضرت عمر (رض) کے پاس حاضر ہوا تو آپ حذیفہ اور عثمان بن حنیف کے سامنے کھڑے تھے اور ان کو فرما رہے تھے :

تخافان ان تکونا حملتما الارض ما لا تطبق ؟ فقال عثمان : لوشئت لا ضعفت ارضی، وقال حذیفۃ : لقد حملت الارض امراھی لہ مطیقۃ وما فیھا کبیر فضل وقال : انظر امالدیکما ان تکونا حملتما الارض مالا تطیق۔

تم اس بات سے ڈر رہے ہو کہ کہیں تم کو دور کے سفر پر روانہ نہ کردیا جائے جس کی تم میں سہار نہ ہو ، عثمان بولے : اگر میں چاہوں تو اپنی زمین سے آگے مزید سفر بھی کرسکتا ہوں۔ حذیفہ بولے : اگر مجھے دور دراز کے سفر پر بھیجا جائے تو میں اس پر جاسکتا ہوں اور اس میں کوئی بڑی فضیلت نہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم دیکھ لو کہ اگر تم کو لمبے سفر پر بھیجا جائے تو تمہارے پاس کیا کچھ زادراہ ہے ؟ واللہ اعلم بمرادہ الصحیح۔

پھر آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر اللہ پاک نے مجھے سلامت رکھا تو میں عراق کے فقیروں کو ایسا غنی کردوں گا کہ وہ میرے بعد کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے۔ پھر بھی ان پر چوتھا دن نہ گزرا تھا کہ ان پر حملہ کردیا گیا۔

حضرت عمر (رض) جب مسجد میں داخل ہوتے تو صفوں کے درمیان کھڑے ہوجاتے تھے پھر ارشاد فرماتے : صفیں سیدھی کرلو۔ جب وہ صفیتں سیدھی کرلیتے تو آگے بڑھ کر (مصلی پر جاکر) تکبیر کہہ دیتے۔ چنانچہ حملہ کے موقع پر جب آپ نے تکبیر کہہ دی (نماز کی نیت باندھ لی) تو اسی جگہ آپ پر خنجر کے وار کیے گئے۔ عمرو بن میمون کہتے ہیں : میں نے اس وقت آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا قتلتی الکلب یا فرمایا اکلنی الکلب مجھے کتے نے قتل کردیا یا فرمایا مجھے کتا کھا گیا۔ عمرو فرماتے ہیں یاد نہیں آپ نے ان میں سے کیا فرمایا تھا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے عبدالرحمن بن عوف (رض) کا ہاتھ پکڑ کر ان کو آگے کردیا۔ جبکہ حملہ آور عجمی کافر بھاگ پڑا، اس کے ہاتھ میں دو دھاری خنجر تھا وہ دائیں بائیں جس آدمی کے پاس سے گزرتا اس پر حملہ کرتا جاتا حتیٰ کہ اس نے تیرا آدمیوں پر خنجر کے وار کیے، جن میں سے نو افراد جاں بحق ہوگئے۔ یہ منظر دیکھ کر ایک مسلمان نے پکڑنے کے لیے اس پر چادر ڈال دی جس میں وہ الجھ گیا، جب اس نے دیکھا کہ وہ پکڑا جاچکا ہے تو اس نے خود کو ذبح کرکے خود کشی کرلی، عمرو فرماتے ہیں : پھر ہم نے مختصر فجر کی نماز ادا کی۔ مسجد کے دور کے اطراف و جوانب والوں کو اس واقعہ کا پتہ نہ چل سکا۔ انھوں نے جب حضرت عمر (رض) کی آواز نہ سنی تو دو مرتبہ سبحان اللہ سبحان اللہ کہا۔ جب لوگ نماز پڑھ کر چلے گئے تو سب سے پہلے حضرت ابن عباس (رض) حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو فرمایا : دیکھ کر آؤ مجھے قتل کرنے والا کون تھا ؟ چنانچہ ابن عباس (رض) ایک چکر لگا کر آئے اور عرض کیا وہ مغیرۃ (رض) کا (کافر) کاریگر غلام تھا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے میری موت ایسے شخص کے ہاتھ نہیں لکھی جو اسلام کا دعویٰ کرتا ہو۔ اللہ اس کو قتل کرے، میں نے تو اس کو بھلی بات کا کہا تھا۔

پھر حضرت عمر (رض) نے حضرت ابن عباس (رض) کو مخاطب ہو کر فرمایا : تو اور تیرا باپ ہی پسند کرتے تھے کہ عجمی لوگ مدینے میں کثرت سے آئیں۔ ابن عباس (رض) نے عرض کیا : اگر آپ چاہیں تو ہم (ان کو نکال سکتے ہیں اور) ایسا کرسکتے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اب جبکہ وہ تمہاری بات کے ساتھ بات کرنے لگے ہیں۔ تمہاری نماز کے ساتھ نماز پڑھنے لگے ہیں اور تمہارے طریقوں پر چل پڑے ہیں۔

لوگوں نے حضرت عمر (رض) سے عرض کیا : آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں (اللہ شفاء دے گا) حضرت عمر (رض) نے۔ اس کے جواب میں نبیذ (مشروب) منگوایا وہ پیا تو وہ آپ کے پیٹ کے زخم سے نکل گیا۔ پھر آپ (رض) نے دودھ منگوایا وہ پیا تو وہ بھی زخم کے راستے سے جوں کا توں نکل گیا۔ تب آپ کو یقین ہوگیا کہ موت سر پر آگئی ہے۔ آپ (رض) نے اپنے بیٹے عبداللہ کو فرمایا : دیکھو ! مجھ پر کتنا قرض ہے ؟ عبداللہ نے حساب لگایا تو وہ چھیاسی ہزار درہم کے مقروض نکلے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : دیکھ اگر آل عمر کے پاس اتنا مال ہو تو میری طرف سے یہ قرض ادا کردو۔ اگر ان کے اموال میں سے میرا قرض مکمل پورا نہ ہو تو میرے قبیلے عدی بن کعب سے سوال کرلینا پھر بھی قرض کی مکمل ادائیگی نہ ہوجائے تو پھر قریش سے سوال کرلینا اور ان کے علاوہ کسی اور سے سوال نہ کرنا اور میرا قرض ادا کردینا۔

پھر فرمایا : اے عبداللہ ! ام المومنین عائشہ (رض) کے پاس جاؤ، ان کو سلام کرکے کہو : عمر بن خطاب ہاں امیر المومنین نہ کہنا کیونکہ آج سے میں امیر المومنین نہیں رہا، آپ سے اجازت مانگتے ہیں کہ ان کو دو ساتھیوں کے ساتھ دفن کردیا جائے۔ چنانچہ عبداللہ ابن عمر (رض) حضرت عائشہ (رض) کے پاس حاضر ہوئے اور ان کو بیٹھے روتا ہوا پایا۔ عبداللہ نے ان کو سلام کہا اور فرمایا : عمر بن طاب اپنے ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت چاہتے ہیں۔ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نے اس جگہ کو اپنے لیے کر رکھا تھا، لیکن آج میں اپنی ذات کو عمر پر ترجیح نہ دوں گی۔ چنانچہ جب حضرت ابن عمر (رض) اپنے والد کے پاس واپس حاضر ہوئے تو انھوں نے پوچھا : تمہارے پاس کیا خبر ہے ؟ ابن عمر (رض) نے عرض کیا : انھوں نے اجازت دیدی ہے۔ تب حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میرے نزدیک اس سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے پھر تاکیداً فرمایا : (اب بھی) جب میرا انتقال ہوجائے تو مجھے چار پائی پر اٹھا کرلے جانا پھر (دوبارہ) اجازت مانگنا، کہنا : عمر بن خطاب اجازت چاہتا ہے۔ اگر وہ اجازت دیدیں تو مجھے اندر داخل کردینا اور اگر اجازت نہ دیں تو مجھے مسلمانوں کے عام قبرستان میں لوٹا دینا۔ جب حضرت عمر (رض) کا جنازہ اٹھا تو لوگوں کا یہ حال تھا گویا ان کو آج ہی سب سے بڑی مصیبت لاحق ہوئی ہے۔ چنانچہ پھر عبداللہ بن عمر (رض) نے حضرت عائشہ (رض) کے دروازے پر جاکر اجازت مانگی اور عرض کیا عمر بن خطاب اجازت چاہتا ہے۔ حضرت عائشہ (رض) نے ان کو اجازت مرحمت فرمادی۔ یوں اللہ نے عمر (رض) کو اپنے رسول اور ان کے ساتھی ابوبکر کے ساتھ جگہ دے کر ان کا بہت اکرام فرمایا۔

خلیفہ مقرر کرنا چھ افراد کی شوریٰ کا ذمہ ہے

جب حضرت عمر (رض) کی موت کا وقت قریب ہوا تھا تو لوگوں نے ان سے عرض کیا : ہمارے لیے کوئی خلیفہ منتخب فرمادیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں اس منصب کا سب سے زیادہ حقدار اس چھ افراد کی جماعت میں سے ہر ایک کو سمجھتا ہوں کہ جن سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جاتے وقت راضی تھے۔ پس ان میں سے جس کو خلیفہ بنالیا جائے وہ میرے بعد (مسلمانوں کا) خلیفہ ہوگا۔ پھر آپ (رض) نے علی، عثمان ، طلحہ، زبیر، عبدالرحمن بنعوف اور سعد بن ابی وقاص کے اسماء گرامی لیے۔ اگر امارت سعد کے حصے میں ہے تو ان کے لیے ہوگی کیونکہ میں ان کو ان کی کسی کمزوری یا خیانت کی وجہ سے (سپہ سہ لاری سے) معزول نہیں کیا تھا اور اگر کسی اور کو خلیفہ بنایا جائے تو ان میں سے ہر ایک کو خلیفہ بنایا جاسکتا ہے۔ پھر اس کی مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔ جبکہ عبداللہ (میرا بیٹا) مشورہ کی حد تک شریک کار رہے گا۔ جبکہ وہ امارت میں کسی شے کا حقدار نہ ہوگا۔

چنانچہ جب یہ (ساتوں) حضرات جمع ہوئے تو عبدالرحمن (رض) بن عوف نے فرمایا : تم اپنے چھ میں سے تین کو چن لو۔ لہٰذا زبیر نے اپنی جگہ علی کے حق میں رائے دی ، طلحہ نے عثمان کے حق میں اور سعد نے عبدالرحمن بن عوف کے حق میں رائے دیدی۔ یوں اب انتخاب کا مرحلہ صرف تین میں رہ گیا پھر حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے فرمایا : تم میں سے کون اس (حق) سے دستبردار ہو کر مجھے انتخاب کا کام سپرد کرتا ہے ، اور میں تم کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ میں تم میں مسلمانوں کے لیے سب سے افضل اور سب سے بہترین شخص کو چننے میں کوئی کوتاہی نہیں برتوں گا ؟ ان سب حضرات نے اثبات میں اقرار کرلیا۔ پھر حضرت عبدالرحمن نے علی (رض) کے ساتھ خلوت میں گفتگو کی اور فرمایا : آپ کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ قرابت اور رشتے داری ہے اور آپ کو (اسلام میں) قدیم ہونے کی فضیلت حاصل ہے اب تم کو اللہ حاضر وناظر جان کر بولو اگر تم کو خلیفہ بنایا گیا تو تم انصاف کرو گے اور اگر عثمان کو خلیفہ بنایا گیا تو تم ان کو سنو گے اور اطاعت کرو گے ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : بالکل ، پھر حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے حضرت عثمان (رض) کو خلوت میں لے جاکر پہلے کی طرح گفتگو کی حضرت عثمان (رض) نے بھی اس کا جواب اثبات میں دیا تو عبدالرحمن (رض) نے فرمایا : اپنا ہاتھ پھیلاؤ اے عثمان ! چنانچہ انھوں نے ہاتھ پھیلایا تو حضرت علی (رض) نے ان کی بیعت کرلی اور دوسرے لوگوں نے بھی بیعت کرلی۔

ابن سعد ، ابوعبید فی الاموال، ابن ابی شیبہ، البخاری، النسائی، ابن حبان، السنن للبیہقی، ابوداؤد
14245- عن عمرو بن ميمون قال: جئت وإذا عمر واقف على حذيفة وعثمان بن حنيف، وهو يقول: تخافا أن تكونا حملتما الأرض ما لا تطيق؟ فقال عثمان: لو شئت لأضعفت أرضي، وقال حذيفة: لقد حملت الأرض أمرا هي له مطيقة وما فيها كبير فضل فقال: انظرا مالديكما إن تكونا حملتما الأرض ما لا تطيق، ثم قال: والله لئن سلمني الله لأدعن أرامل العراق لا يحتجن بعدي إلى أحد أبدا، فما أتت عليه إلا رابعة حتى أصيب وكان إذا دخل المسجد قام بين الصفوف ثم قال: استووا فإذا استووا تقدم فكبر فلما طعن مكانه فسمعته يقول: قتلني الكلب أو أكلني الكلب، فقال عمرو: فما أدري أيهما قال، فأخذ عمر بيد عبد الرحمن فقدمه، وطار العلجوبيده سكين ذات طرفين ما يمر برجل يمينا ولا شمالا إلا طعنه حتى أصاب معه ثلاثة عشر رجلا فمات منهم تسعة فلما رأى ذلك رجل من المسلمين طرح عليه برنساليأخذه فلما ظن أنه مأخوذ نحر نفسه فصلينا الفجر صلاة خفيفة، فأما نواحي المسجد فلا يدرون ما الأمر إلا أنهم حين فقدوا صوت عمر جعلوا يقولون: سبحان الله مرتين؛ فلما انصرفوا كان أول من دخل عليه ابن عباس، فقال: انظر من قتلني فجال ساعة، ثم جاء فقال: غلام المغيرة الصنعفقال عمر: الحمد لله الذي لم يجعل منيتي بيد رجل يدعي الإسلام قاتله الله لقد أمرت به معروفا. ثم قال لابن عباس: لقد كنت أنت وأبوك تحبان أن تكثر العلوج بالمدينة فقال ابن عباس: إن شئت فعلنا، فقال: بعدما تكلموا بكلامكم وصلوا بصلاتكم ونسكوا نسككم، فقال له الناس: ليس عليك بأس، فدعا بنبيذ فشربه فخرج من جرحه، ثم دعا بلبن فشربه فخرج من جرحه، فظن أنه الموت، فقال لعبد الله بن عمر: انظر ما علي من الدين فحسبه فوجده ستة وثمانين [ألف درهم] ، فقال: إن وفى بها مال آل عمر فأدها عني من أموالهم وإن لم تف أموالهم فسل بني عدي بن كعب فإن لم تف من أموالهم فسل قريشا ولا تعدهمإلى غيرهم فأدها عني، ثم قال: يا عبد الله اذهب إلى عائشة أم المؤمنين فسلم وقل يستأذن عمر بن الخطاب ولا تقل أمير المؤمنين فإني لست اليوم بأمير المؤمنين أن يدفن مع صاحبيه. فأتاها عبد الله بن عمر فوجدها قاعدة تبكي، فسلم عليها ثم قال: يستأذن عمر بن الخطاب أن يدفن مع صاحبيه، قالت: قد كنت والله أريده لنفسي ولأوثرنه اليوم على نفسي فلما جاء قيل هذا عبد الله بن عمر، قال: ما لديك؟ قال: أذنت لك، فقال عمر: ما كان شيء أهم عندي من ذلك، ثم قال: إذا أنا مت فاحملوني على سريري، ثم استأذن فقل: يستأذن عمر بن الخطاب، فإن أذنت لك فأدخلني، وإن لم تأذن فردني إلى مقابر المسلمين، فلما حمل فكأن الناس لم تصبهم مصيبة إلا يومئذ فسلم عبد الله بن عمر، فقال: يستأذن عمر بن الخطاب فأذنت له حيث أكرمه الله مع رسوله ومع أبي بكر، فقالوا له حين حضره الموت: استخلف، فقال: لا أجد أحدا أحق بهذا الأمر من هؤلاء النفر الذين توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهم راض، فأيهم استخلف فهو الخليفة بعدي، فسمى عليا وعثمان وطلحة والزبير وعبد الرحمن بن عوف وسعدا فإن أصابت الإمرة سعدا فذلك، وإلا فأيهم استخلف فليستعن به فإني لم أعزله عن عجز ولا خيانة وجعل عبد الله يشاور معهم، وليس له من الأمر شيء. فلما اجتمعوا قال عبد الرحمن بن عوف: اجعلوا أمركم إلى ثلاثة نفر فجعل الزبير أمره إلى علي، وجعل طلحة أمره إلى عثمان، وجعل سعد أمره إلى عبد الرحمن، فأتمر أولئك الثلاثة حين جعل الأمر إليهم فقال عبد الرحمن: أيكم يتبرأ من الأمر ويجعل الأمر إلي ولكم الله علي ألا آلوا عن أفضلكم وأخيركم للمسلمين؟ قالوا: نعم فخلا بعلي فقال: إن لك من القرابة من رسول الله صلى الله عليه وسلم والقدم فالله عليك لئن استخلفت لتعدلن ولئن استخلف عثمان لتسمعن ولتطيعن، قال: نعم وخلا بعثمان فقال له مثل ذلك فقال عثمان: نعم، ثم قال: لعثمان: أبسط يدك يا عثمان فبسط يده فبايعه علي والناس. "ابن سعد وأبو عبيد في الأموال ش خ ن حب ق ط"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৪৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14246 عمرو بن میمون اودی سے مروی ہے کہ جب حضرت عمر بن خطاب (رض) کی وفات کا وقت قریب آگیا تو انھوں نے فرمایا : میرے پاس علی، طلحہ، زبیر، عثمان، عبدالرحمن بن عوف اور سعد کو بلاؤ۔ پھر آپ (رض) نے ان میں سے صرف علی اور عثمان سے بات چیت کی۔ حضرت علی (رض) کو فرمایا : اے علی ! یہ لوگ تمہاری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رشتے داری کو جانتے ہیں اور اللہ نے جو تم کو علم اور فقہ کی دولت بخشی ہے اس کو بھی جانتے ہیں اگر تم کو خلیفہ بنایا جائے تو تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور بنی فلاں کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط نہ کردینا ۔ جبکہ حضرت عثمان (رض) کو فرمایا : اے عثمان ! یہ لوگ تمہارے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ دامادی کے رشتے کو اور تمہاری سن رسیدگی اور شرافت و فضیلت کو بھی خوب جانتے ہیں، پس اگر تجھے اس منصب پر بٹھایا جائے تو اللہ سے ڈرنا اور بنی فلاں کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط نہ کرنا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : میرے پاس صہیب کو بلاؤ۔ پھر ان کو فرمایا : تم تین دنوں تک نماز پڑھاتے رہنا۔ جبکہ یہ لوگ (مذکورہ) چھ حضرات ایک گھر میں تنہا ہوجائیں اور پھر جس ایک شخص پر ان کی رائے جمع ہوجائے تو اس کی مخالفت کرنے والے کی گردن اڑا دینا۔ ابن سعد، ابن ابی شیبہ
14246- عن عمرو بن ميمون الأودي أن عمر بن الخطاب لما حضر قال: ادعوا لي عليا وطلحة والزبير وعثمان وعبد الرحمن بن عوف وسعدا فلم يكلم أحدا منهم إلا عليا وعثمان فقال لعلي؛ يا علي هؤلاء النفر يعرفون لك قرابتك من رسول الله صلى الله عليه وسلم وما أتاك الله من العلم والفقه فاتق الله إن وليت هذا الأمر فلا ترفعن بني فلان على رقاب الناس وقال لعثمان: يا عثمان هؤلاء القوم يعرفون لك صهرك من رسول الله صلى الله عليه وسلم وسنك وشرفك، فإن أنت وليت هذا الأمر فاتق الله ولا ترفع بني فلان على رقاب الناس ثم قال: ادعوا لي صهيبا فقال: صل بالناس ثلاثا، وليجتمع هؤلاء الرهط فليختلوا في بيت فإن اجتمعوا على رجل فاضربوا رأس من خالفهم. "ابن سعد ش"2
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৪৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14247 عیسیٰ بن طلحہ اور عروۃ بن زبیر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : تین دن تک تم کو صہیب نماز پڑھائیں گے۔ انہی دنوں کے اندر تم اپنی خلافت کا معاملہ کسی کو سپرد کردینا تب تو ٹھیک ہے ورنہ تین دن سے زیادہ اس معاملہ کو خالی نہیں چھوڑا جاسکتا۔ مسدد، ابن ابی شیبہ
14247- عن عيسى بن طلحة وعروة بن الزبير قالا: قال عمر: ليصل لكم صهيب ثلاثا فانظروا فإن كان ذلك وإلا فأمر أمة محمد لا يترك

فوق ثلاث. "مسدد ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৪৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14248 ابورافع سے مروی ہے کہ (مرض الموت میں) حضرت عمر (رض) حضرت ابن عباس (رض) کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے، جبکہ ان کے پاس ابن عمر (رض) اور سعید (رض) بن زید بھی تھے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جان لو ! کلالہ (ایسا شخص جس کے اولاد ہو اور نہ والدین اور وہ مرجائے) کے بارے میں کچھ نہیں کہا اور میں نے اپنے بعد خلافت کے لیے کسی کو نہیں چنا۔ اور میری موت کو جو عربی غلام پائیں وہ اللہ کے مال میں سے آزاد ہیں (یعنی بیت المال کے عربی غلام) سعید بن زید نے عرض کیا : اگر آپ مسلمانوں میں سے کسی کے لیے خلافت کا اشارہ کردیں تو اچھا ہو کیونکہ لوگ آپ کو امانت دار سمجھتے ہیں جیسا کہ ابوبکر (رض) نے کیا تھا اور لوگ ان کو بھی امانت دار سمجھتے تھے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں نے اپنے ساتھیوں میں اس منصب کی بری لالچ محسوس کی ہے اب میں اس امر خلافت کو ان چھ لوگوں میں چھوڑ دیتا ہوں، جن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی وفات کے وقت خوش تھے ۔ پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر اس وقت دو آدمیوں میں سے کوئی زندہ ہوتا تو میں اس منصب کو اس کے سپرد کردیتا کیونکہ مجھے ان پر پورا بھروسہ تھا : سالم جو ابو حذیفہ کے غلام تھے اور ابوعبیدۃ الجراح (رض) اجمعین۔ مسند احمد ، ابن حبان، مستدرک الحاکم
14248- عن أبي رافع أن عمر كان مستندا إلى ابن عباس وعنده ابن عمر وسعيد بن زيد قال: اعلموا أني لم أقل في الكلالة شيئا ولم أستخلف من بعدي أحدا وأنه من أدرك وفاتي من سبي العرب فهو حر من مال الله، فقال سعيد بن زيد: أما إنك لو أشرت برجل من المسلمين لائتمنك الناس وقد فعل ذلك أبو بكر وائتمنه الناس، فقال عمر: قد رأيت من أصحابي حرصا سيئا وإني جاعل هذا الأمر إلى هؤلاء النفر الستة الذين مات رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهم راض، ثم قال عمر: لو أدركني أحد رجلين ثم جعلت هذا الأمر إليه لوثقت به سالم مولى أبي حذيفة وأبو عبيدة بن الجراح. "حم حب ك"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৪৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14249 مسور بن مخرمہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) تندرست تھے، اس وقت ان سے سوال کیا جاتا تھا کہ وہ اپنے بعد کے لیے کسی کو خلیفہ نامزد کرجائیں۔ مگر وہ انکار فرما دیتے ۔ ایک دن منبر پر چڑھے اور چند کلمات ارشاد فرمائے فرمایا : اگر میں مرجاؤں تو تمہارا منصب ان چھ افراد کے درمیان رہے گا جن سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جدا ہوتے وقت راضی تھے۔ علی ابن ابی طالب جن کی نظیر (ساتھی) زبیر بن العوام ہیں، عبدالرحمن بن عوف جس کے نظیر عثمان بن عفان ہیں اور طلحہ بن عبیداللہ جن کی نظیر سعد بن مالک ہیں۔ سنو ! میں تم کو فیصلہ کے وقت اللہ کے تقویٰ کی اور تقسیم کے وقت عدل و انصاف کی وصیت کرتا ہوں۔ ابن سعد
14249- عن المسور بن مخرمة قال: كان عمر بن الخطاب وهو صحيح يسأل أن يستخلف فيأبى فصعد يوما المنبر، فتكلم بكلمات وقال: إن مت فأمركم إلى هؤلاء النفر الستة الذين فارقوا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهم راض: علي بن أبي طالب ونظيره الزبير بن العوام وعبد الرحمن ابن عوف ونظيره عثمان بن عفان وطلحة بن [عبيد] الله ونظيره سعد بن مالك، ألا وإني أوصيكم بتقوى الله في الحكم والعدل في القسم. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৫০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14250 ابوجعفر سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اصحاب شوریٰ ۔ مذکورہ چھ افراد کو فرمایا : تم اپنے معاملے میں مشورہ کرنا، اگر سب دو دو میں بٹ جائیں تو دوبارہ مشاورت کرنا اور اگر دو اور چار میں بٹ جائیں تو زیادہ تعداد والی جماعت کو لینا۔ ابن سعد
14250- عن أبي جعفر قال: قال عمر بن الخطاب لأصحاب الشورى: تشاوروا في أمركم؛ فإن كان اثنان واثنان فارجعوا في الشورى وإن كان أربعة وإثنان فخذوا صنف الأكثر. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৫১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14251 ابوجعفر سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر تین تین افراد کی رائے متفق ہوجائے تو تم لوگ عبدالرحمن بن عوف والی طرف کی اتباع کرنا، سننا اور اطاعت کرنا ۔ ابن سعد
14251- عن أسلم عن عمر قال: وإن اجتمع رأي ثلاثة وثلاثة فاتبعوا صنف عبد الرحمن بن عوف واسمعوا وأطيعوا. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৫২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14252 عبدالرحمن بن سعید بن یربوع سے مروی ہے کہ جب حضرت عمر (رض) کو نیزہ مارا گیا تو انھوں نے ارشاد فرمایا : تین روز تک تم کو صہیب نماز پڑھائیں اور تم اپنے معاملے کے بارے میں جب تک مشاورت کرلو۔ اور انتخاب خلافت کا حق ان چھ افراد میں ہوگا پھر جو تمہاری مخالفت کرے اس کی گردن اڑا دینا۔ ابن سعد
14252- عن عبد الرحمن بن سعيد بن يربوع أن عمر حين طعن قال: ليصل لكم صهيب ثلاثا، وتشاوروا في أمركم والأمر إلى هؤلاء الستة فمن [بعل] أمركم فاضربوا عنقه يعني من خالفكم. "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৫৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14253 حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اپنی وفات سے ایک گھڑی قبل طلحہ کو بلوایا اور ارشاد فرمایا : اے ابوطلحہ ! اپنی انصار کی جماعت کے پچاس افراد لے کر ان اصحاب شوریٰ کے ساتھ چلے جانا اور وہ میرے خیال میں کسی گھر میں جمع ہو کر مشاورت کریں گے تم اپنے اصحاب کے ساتھ اس گھر پر پہرہ دینا اور کسی کو ان کے پاس داخل نہ ہونے دینا۔ اور ان کو اس حال میں بھی نہ چھوڑنا کہ ان پر تین دن کامل گزر جائیں اور اب تک انھوں نے اپنا امیر نہ چنا ہو۔ اے اللہ ! تو ہی میرا ان پر خلیفہ ہے۔ ابن سعد
14253- عن أنس بن مالك قال: أرسل عمر بن الخطاب إلى أبي طلحة قبل أن يموت بساعة فقال: يا أبا طلحة كن في خمسين من قومك من الأنصار مع هؤلاء النفر أصحاب الشورى؛ فإنهم فيما أحسب سيجتمعون في بيت أحدهم فقم على ذلك الباب بأصحابك فلا تترك أحدا يدخل عليهم ولا تتركهم يمضى اليوم الثالث حتى يؤمروا أحدهم، اللهم أنت خليفتي [عليهم] . "ابن سعد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৫৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14254 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے اصحاب شوریٰ کے متعلق فرمایا : اللہ کے لیے ہے ان کی بھلائی اگر وہ سر کے اڑے ہوئے بالوں والے کو اپنا والی بنالیں جو ان کو حق پر ہی مجبور کرے گا خواہ اس کی گردن پر تلوار رکھ دی جائے۔ ابن عمر (رض) نے عرض کیا : آپ جب اس کو جانتے ہیں تو اس کو والی کیوں منتخب نہیں کردیتے ؟ ارشاد فرمایا : اگر میں خلیفہ بنادوں تو مجھ سے بہتر نے بھی خلیفہ بنایا ہے اور اگر یونہی چھوڑ دوں تو مجھ سے بہتر نے بھی یونہی چھوڑا تھا۔ مستدرک الحاکم

فائدہ : اڑے ہوئے بالوں والے سے حضرت عمر (رض) کی مراد حضرت علی (رض) تھے دیکھے روایت 14258 ۔
14254- عن ابن عمر قال: عمر لأصحاب الشورى لله درهم وولوها الأصيلعكان يحملهم على الحق وإن حمل على عنقه بالسيف، فقلت: تعلم ذلك منه ولا توليه قال: إن أستخلف فقد استخلف من هو خير مني، وإن أترك فقد ترك من هو خير مني. "ك"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৫৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14255 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر (رض) کی ایسی خدمت کی کہ ان کے کسی گھر والے نے بھی ایسی خدمت نہ کی ہوگی اور میں نے ان کے ساتھ ایسا آمیز رویہ رکھا کہ ان کے کسی گھر والے نے بھی ایسا پر لطف رویہ ان کے ساتھ نہ رکھا ہوگا۔ ایک دن میں ان کے ساتھ ان کے گھر میں تنہا تھا آپ (رض) بھی مجھے بٹھا لیتے تھے اور میرا اکرم کرتے تھے ۔ اس دن آپ نے ایسی چیخ ماری میں ڈر گیا کہیں آپ کی روح تو قفس عنصری سے پرواز نہیں کرگئی۔ میں نے پوچھا : کوئی تکلیف لاحق ہوئی ہے کیا امیر المومنین ! فرمایا : ہاں کوئی تکلیف ہے۔ میں نے پوچھا : وہ کیا ؟ فرمایا : تم قریب ہوجاؤ۔ میں قریب ہوگیا تب آپ (رض) نے یہ فرمایا کہ میں اس منصب خلافت کے لیے کسی شخص کو موزوں نہیں پاتا۔ میں نے عرض کیا : آپ فلاں، فلاں، فلاں، فلاں، فلاں، فلاں کو کیوں بھول رہے ہیں ؟ ابن عباس (رض) نے چھ اہل شوریٰ کے نام لیے تو حضرت عمر (رض) نے ہر ایک کے جواب میں ارشاد فرماتے رہے : اس منصب پر صرف قوی ہی درست ہے جو بغیر سختی کیے (امور حکومت چلا سکے) اس منصب کے لیے نرم مزاج چاہیے جو بغیر کسی کمزوری کے نرم ہو، اس منصب کے لیے بغیر فضول خرچی کیے سخاوت کرنے والا چاہیے اور اس منصب کے لیے بخل کے علاوہ (مہمات کے لیے مال) روکنے والا چاہیے۔ ابن سعد
14255- عن ابن عباس قال: خدمت عمر خدمة لم يخدمها أحد من أهل بيته، ولطفت به لطفا لم يلطفه أحد من أهله فخلوت به ذات يوم في بيته وكان يجلسني ويكرمني فشهق شهقة ظننت أن نفسه سوف تخرج منها فقلت أمن جزع يا أمير المؤمنين؟ فقال: من جزع، قلت: وماذا؟ فقال: اقترب فاقتربت، فقال لا أجد لهذا الأمر أحدا، فقلت: وأين أنت عن فلان وفلان وفلان وفلان وفلان وفلان، فسمى له الستة أهل الشورى فأجابه في كل واحد منهم يقول، ثم قال: إنه لا يصلح لهذا الأمر إلا قوي في غير عنف، لين في غير ضعف، جواد من غير سرف، ممسك في غير بخل. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৫৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14256 مطلب بن عبداللہ بن حنطب اور ابوجعفر سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے اہل شوریٰ کو ارشاد فرمایا : اگر تم اختلاف میں پڑے رہے (اور اپنا قضیہ نہیں نمٹایا) تو ملک شام سے معاویہ بن ابی سفیان اور ان کے بعد یمن سے عبداللہ بن ابی ربیعہ یمن سے تمہارے ساتھ شریک ہوجائیں گے اور وہ دونوں تم پر مزید کوئی فضیلت نہیں دیکھیں گے سوائے اس کہ تم اسلام میں پہل کرنے والے ہو (یعنی پھر خلافت کا بار ان میں سے بھی کوئی اٹھاسکے گا) ۔ ابن سعد
14256- عن المطلب بن عبد الله بن حنطب وأبي جعفر قالا: قال عمر لأهل الشورى: إن اختلفتم دخل عليكم معاوية بن أبي سفيان من الشام وبعده عبد الله بن أبي ربيعة من اليمن، فلا يريان لكم فضلا إلا بسابقتكم. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৫৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14257 مطلب بن عبداللہ بن حنطب سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ان (اہل شوریٰ ) کو ارشاد فرمایا : یہ امر (خلافت) طلقاء (فتح مکہ کے موقع پر معافی دیئے جانے والوں کے لیے) اور نہ ان کے فرزندگان کے لیے درست نہیں ہے۔ اگر تم اختلاف میں پڑے رہے تو عبداللہ بن ابی ربیعہ (اور معاویہ) کو اپنے سے غافل شمار مت کرنا۔ ابن سعد
14257- عن المطلب بن عبد الله بن حنطب قال: قال لهم عمر: إن هذا الأمر لا يصلح للطلقاءولا لأبناء الطلقاء، فإن اختلفتم فلا تظنوا عبد الله بن أبي ربيعة عنكم غافلا. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৫৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14258 ابی مجلد سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : میرے بعد تم کس کو خلیفہ بناؤ گے ؟ حاضرین میں سے ایک نے زبیر بن العوام کا نام لیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تب تم بخیل اور بند (ہاتھ والے) یعنی برے اخلاق والے کو خلیفہ بناؤ گے۔ ایک آدمی نے کہا : ہم طلحہ بن عبداللہ کو خلیفہ بنائیں گے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم ایسے آدمی کو کیسے خلیفہ بناسکتے ہو جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلی چیز عطیہ کی جو ایک زمین تھی وہ انھوں نے ایک یہودیۃ کو بطور رھن رکھوادی۔ قوم کے ایک آدمی نے کہا : ہم علی (رض) کو خلیفہ بنائیں گے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میری زندگی کی قسم ! تم ان کو خلیفہ بنانے والے نہیں ہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم ان کو خلیفہ بنادو تو وہ تم کو حق پر قائم کردے گا خواہ تم کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔ تب ولید بن عقبہ جو عثمان بن عفان کا ماں شریک بھائی تھا نے کہا : ہم جان گئے آپ کے بعد کون خلیفہ بنے گا، یہ کہہ کر وہ بیٹھ گیا۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا کون ؟ ولید بولا : عثمان بن عفان۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : عثمان کیسے محبت کرتا ہے مال سے اور اس کی نیکی اپنے گھر والوں کے لیے ہی ہوگی۔ ابن راھویہ
14258- عن أبي مجلزقال: قال عمر من تستخلفون بعدي؟ فقال رجل من القوم: الزبير بن العوام، فقال: إذا تستخلفونه شحيحا غلقايعني سيء الأخلاق، فقال رجل: نستخلف طلحة بن عبد الله، فقال: كيف تستخلفون رجلا كان أول شيء نحلهرسول الله صلى الله عليه وسلم أرضا نحلها إياه فجعلها في رهن يهودية، فقال رجل من القوم: نستخلف عليا، فقال: إنكم لعمري لا تستخلفونه والذي نفسي بيده لو استخلفتموه لأقامكم على الحق، وإن كرهتم، فقال الوليد بن عقبة: قد علمنا الخليفة من بعدك، فقعد فقال: من؟ قال: عثمان بن عفان، وكان الوليد أخا عثمان لأمه، قال: وكيف يحب عثمان المال وبره لأهل بيته. "ابن راهويه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৫৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14259 حذیفہ (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کو کہا گیا جبکہ آپ (رض) مدینہ میں تھے : اے امیر المومنین ! آپ کے بعد خلیفہ کون بنے گا ؟ فرمایا : عثمان بن عفان۔

خیثمۃ الطرابلسی فی فضائل الصحابۃ

فائدہ : آپ (رض) کی یہ پیش گوئی تھی جو آپ نے دیدہ دور بین سے فرمائی تھی۔ نہ کہ وصیت اور تاکید۔
14259- عن حذيفة قال: قيل لعمر بن الخطاب وهو بالمدينة: يا أمير المؤمنين من الخليفة بعدك؟ قال: عثمان بن عفان. "خيثمة الطرابلسي في فضائل الصحابة".
tahqiq

তাহকীক: