কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৫ টি

হাদীস নং: ১৪২৬০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14260 عبدالرحمن بن عبدالقاری سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) اور انصار کا ایک آدمی دونوں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں بھی جاکر ان کے پاس بیٹھ گیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہم نہیں چاہتے ایسے شخص کو جو ہماری بات اوروں تک پہنچائے۔ میں نے عرض کیا : امیر المومنین ! میں ان لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھتا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : بلکہ تو ان کے ساتھ اور ان کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے اور ہماری باتیں پہنچاتا ہے۔ پھر حضرت عمر (رض) نے انصاری شخص کو فرمایا : تم لوگوں کو کیا کہتے دیکھتے ہو کہ میرے بعد کون خلیفہ بنے گا ؟ انصاری نے حضرت علی (رض) کے سوا کئی مہاجرین آدمیوں کے نام گنوائے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ان کو ابوالحسن (علی (رض)) سے کیا پرخاش ہے، اللہ کی قسم ! وہ ان میں سب سے زیادہ لائق ہے اگر وہ ان پر خلیفہ بنا تو ضرور ان کو حق پر سیدھا کردے گا۔ الادب البخاری
14260- عن عبد الرحمن بن عبد القاري أن عمر بن الخطاب ورجلا من الأنصار كانا جالسين، فجئت فجلست إليهما، فقال عمر: إنا لا نحب من يرفع حديثنا، فقلت: لست أجالس أولئك يا أمير المؤمنين، قال عمر: بل تجالس هؤلاء وهؤلاء وترفع حديثنا، ثم قال للأنصاري: من ترى الناس يقولون يكون الخليفة بعدي؟ فعدد الأنصاري رجالا من المهاجرين لم يسم عليا، فقال عمر: ما لهم عن أبي الحسن فوالله إنه لأحراهم إن كان عليهم أن يقيمهم على طريقة [من] الحق. "خ في الأدب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৬১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14261 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ مجھے حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : مجھ سے تین باتیں سمجھ لو : امارت۔ خلافت شوریٰ سے قائم ہو، عرب کے غلاموں کے فدیے میں ہر غلام کے بدلے ایک ہی غلام ہے جبکہ (اپنی) باندی کے بیٹے کے بدلے دو غلام ہیں۔ راوی کہتے ہیں ابن طاؤ وس راوی نے تیسری بات چھپالی۔ الجامع لعبد الرزاق، ابوعبید فی الاموال
14261- عن ابن عباس قال: قال لي عمر: اعقل عني ثلاثا: الإمارة شورى وفي فداء العرب مكان كل عبد عبد وفي ابن الأمة عبدان وكتم ابن طاوس الثالثة. "عب وأبو عبيد في الأموال".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৬২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14262 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا اچانک آپ نے (ایسا دکھ بھرا) سانس لیا میں سمجھا شاید آپ کی پسلیاں چٹک گئی ہیں۔ میں نے عرض کیا : یا امیر المومنین ! یہ سانس کسی دکھ نے ہی نکالا ہے، فرمایا : اللہ کی قسم ! بڑا دکھ ہے۔ مجھے نہیں معلوم ہورہا کہ اپنے بعد یہ منصب خلافت کس کو سونپ کر جاؤں۔ پھر آپ (رض) نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : شاید تو اپنے ساتھی کو اس کا اہل سمجھتا ہے۔ میں نے عرض کیا : وہ تو واقعی اس کا اہل ہے۔ اس کی مسابقت فی الاسلام اور فضیلت کی وجہ سے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : وہ ایسا ہی ہے جیسا تم نے کہا لیکن اس آدمی میں کچھ مزاج (والی طبیعت) ہے۔ میں نے پوچھا : پھر آپ کا طلحہ کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ ارشاد فرمایا : وہ ایسا آدمی ہے جس میں کچھ بڑائی ہے، جب سی اس کی انگلی کو (جنگ میں) نقصان پہنچا ہے۔ میں نے پوچھا : پھر آپ زبیر کو کیوں بھول رہے ہیں ؟ ارشاد فرمایا : ان میں کچھ درشت روئی اور بد خلقی ہے، ایک صاع پر وہ بقیع میں تھپڑ مار دیتے ہیں، اگر ان کو ان کا ایک کھجور صاع دینے سے انکار کردیا جائے تو وہ تلوار اٹھالیتے ہیں۔ میں نے پوچھا : پھر سعد کہاں گئے ؟ فرمایا : وہ تو شہسواروں کے شہسوار ہیں۔ میں نے پوچھا : پھر آپ سے عبدالرحمن کہاں رہ گئے ؟ ارشاد فرمایا : بہترین آدمی ہیں ، لیکن تم نے ان کے بڑھاپے میں ان کا ذکر کیا ہے۔ میں نے پوچھا : پھر عثمان بن عفان کہاں گئے ؟ ارشاد فرمایا : وہ اپنے رشتہ داروں کے مکلف ہوگئے ہیں اللہ کی قسم اگر میں نے ان کو والی بنادیا تو وہ بنی ابی معیط کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط کردیں گے۔ اللہ کی قسم اگر میں نے ان کو والی بنایا تو وہ ضرور ایسا کریں گے اور اگر وہ ایسا کریں تو عرب ضرور ان کو قتل کردیں گے۔ یہ منصب تو صرف ایسے شخص کو زیبا ہے جو شدید ہو لیکن سختی سے کام نہ لے، نرمی سے کام لے مگر کمزور نہ ہو، سخی ہو لیکن اسراف نہ کرے، مال روکنے والا ہو لیکن بخل نہ کرے۔ حضرت ابن عباس فرمایا کرتے تھے یہ تمام صفات صرف حضرت عمر (رض) میں جمع ہوئی تھیں۔

ابوعبید فی الغریب، الخطیب فی رواۃ مالک
14262- عن ابن عباس قال: إني لجالس مع عمر بن الخطاب ذات يوم إذ تنفس تنفسا ظننت أن أضلاعه قد تفرجت؛ فقلت يا أمير المؤمنين ما أخرج هذا منك إلا شر، قال: شر والله إني لا أدري إلى من أجعل هذا الأمر بعدي، ثم التفت إلي فقال: لعلك ترى صاحبك لها أهلا، فقلت: إنه لأهل ذلك في سابقته وفضله، قال: إنه لكما قلت، ولكنه امرؤ فيه دعابةقلت فأين أنت عن طلحة؟ قال: ذاك امرؤ لم يزل به بأومنذ أصيبت أصبعه، قلت: فأين أنت عن الزبير؟ قال: وعقةلقس قال: يلاطم على الصاع بالبقيع ولو منع منه صاع من تمر تأبط عليه بسيفه، قلت: فأين أنت عن سعد؟ قال: فارس الفرسان، قلت: فأين أنت عن عبد الرحمن؟ قال: نعم المرء ذكرت على الضعف، قلت: فأين أنت عن عثمان؟ قال: كلف بأقاربه والله لو وليته لحمل بني أبي معيط على رقاب الناس، والله لو فعلت لفعل ولو فعل لسارت العرب حتى تقتله، إن هذا الأمر لا يصلحه إلا الشديد في غير عنف، اللين في غير ضعف، الجواد في غير سرف، الممسك في غير بخل، فكان ابن عباس يقول: ما اجتمعت هذه الخصال إلا في عمر. "أبو عبيد في الغريب خط في رواة مالك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৬৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14263 ابوالجفاء الشامی فلسطینی سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کو کہا گیا امیر المومنین ! اگر آپ ولی عہد منتخب کرجاتے ! حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر میں ابوعبیدۃ الجراح کو پالیتا تو ان کو والی بنا دیتا پھر میں اپنے پروردگار کے پاس جاتا اور پروردگار مجھ سے پوچھتا کہ تم امت محمدیہ پر کس کو خلیفہ بنا آئے ہو تو میں عرض کرتا کہ میں نے تیرے بندے اور تیرے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کا امین ابوعبیدۃ بن الجراح ہے۔ اگر میں معاذ بن جبل کو پالیتا تو ان کو والی بنادیتا پھر میں اپنے رب کے پاس جاتا اور رب مجھ سے پوچھتا کہ امت محمدیہ پر کس کو خلیفہ بنا کر آئے ہو ؟ تو میں عرض کردیتا : میں نے تیرے بندے اور تیرے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے : معاذ علماء کے درمیان سب سے اونچے مقام پر آئیں گے۔ اور اگر میں خالد بن الولید کو پالیتا تو ان کو والی بنادیتا پھر میں اپنے رب کے پاس جاتا اور رب مجھ سے پوچھتا کہ تم امت محمدیہ پر کس کو خلیفہ بنا کر آئے ہو تو میں عرض کرتا کہ میں نے تیرے بندے اور تیرے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خالد بن الولید کے متعلق ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جو اللہ پاک نے مشرکین پر سونت لی ہے۔ ابونعیم ، ابن عساکر

کلام : ابوالجفاء یہ مجہول نامعلوم راوی ہے معلوم نہیں وہ کون ہے اس بناء پر روایت محل کلام ہے۔
14263- عن أبي العجفاء الشامي من أهل فلسطين، قال: قيل لعمر بن الخطاب: يا أمير المؤمنين لو عهدت قال: لو أدركت عبيدة بن الجراح، ثم وليته، ثم قدمت على ربي فقال لي: من استخلفت على أمة محمد لقلت سمعت عبدك ونبيك صلى الله عليه وسلم يقول: لكل أمة أمين، وأمين هذه الأمة أبو عبيدة بن الجراح، ولو أدركت معاذ بن جبل ثم وليته ثم قدمت على ربي فقال لي: من استخلفت على أمة محمد؟ لقلت: سمعت عبدك ونبيك صلى الله عليه وسلم يقول: يأتي معاذ بين العلماء بربوة ولو أدركت خالد بن الوليد ثم وليته ثم قدمت على ربي فسألني من استخلفت على أمة محمد؟ لقلت: سمعت عبدك ونبيك صلى الله عليه وسلم يقول لخالد بن الوليد: سيف من سيوف الله سله الله على المشركين. "أبو نعيم كر" وأبو العجفاء مجهول لا يدري من هو؟.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৬৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14264 مسور بن مخرمۃ سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے عبدالرحمن بن عوف کو بلایا اور فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ میں تم سے ایک معاہدہ کروں۔ عبدالرحمن (رض) نے عرض کیا : ٹھیک ہے ، یا امیر المومنین ! اگر آپ مجھے اشارہ کریں گے تو میں قبول کروں گا۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ عبدالرحمن نے عرض کیا : میں آپ سے پوچھتا ہوں خدارا ! کیا آپ مجھے بتانا پسند کریں گے (کہ کس کو خلیفہ بنایا جارہا ہے ؟ ) حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہرگز نہیں۔ حضرت عبدالرحمن نے عرض کیا : اللہ کی قسم ! میں اس مسئلے میں ہرگز داخل نہیں ہوں گا۔ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ مجھے بتائیے ؟ فرمایا : نہیں۔ عرض کیا : واللہ ! میں اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : پھر تم مجھے چپ رہنے کا عہد دو جب تک کہ میں ان لوگوں سے عہد نہ کرلوں جن سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عنداوفات راضی ہو کر گئے ہیں۔ تم مجھے علی ، عثمان، زبیر اور سعد کو بلادو، نیز فرمایا اور اپنے بھائی طلحہ کا انتظار کرنا اگر وہ (سفر سے) آجائے تو ان کو شامل کرلینا ورنہ اپنا کام پورا کرلینا۔

ابن جریر
14264- عن المسور بن مخرمة أن عمر دعا عبد الرحمن بن عوف فقال: إني أريد أن أعهد إليك فقال: يا أمير المؤمنين نعم إن أشرت علي قبلت، قال: وما تريد؟ قال: أنشدك الله أتشير علي بذلك؟ قال: اللهم لا، قال: والله لا أدخل فيه أبدا قال: أنشدك الله أتشير علي بذلك؟ قال: اللهم لا، قال: والله لا أدخل فيه أبدا، قال: فهبني صمتا حتى أعهد إلى النفر الذين توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهم راض ادع لي عليا وعثمان والزبير وسعدا قال: وانتظروا أخاكم طلحة إن جاء وإلا فاقضوا أمركم. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৬৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14265 اسلم (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) پر حملہ ہونے کے بعد ان کو ان کے بیٹے عبداللہ بن عمر نے ان کو عرض کیا : یا امیر المومنین ! آپ پر کوئی حرج نہیں ہوگا اگر آپ غور وفکر کرکے لوگوں پر کوئی آدمی امیر مقرر کرجائیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مجھے بٹھادو۔ پھر فرمایا : تم نے اپنے مونہوں کے ساتھ کس کو امیر بنایا ہے ؟ میں نے عرض کیا : فلاں کو۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر تم اس کو امیر بناتے ہو تو وہ تمہارے گروہ کا ہے۔ پھر آپ (رض) عبداللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : تیری ماں تجھے روئے ! تو کیا دیکھتا ہے بچہ بچے کے ساتھ پرورش پاتا ہے یا بوڑھے کے ساتھ پرورش پاتا ہے۔ یقیناً وہ بچوں کے درمیان ہی پرورش پاتا ہے کیا وہ اپنے پیدا کرنے والے کو جانتا ہے ؟ عرض کیا : جی ہاں امیر المومنین ! فرمایا : پھر جب اللہ مجھ سے سوال کرے گا کہ میں لوگوں پر کس کو امیر بنا کر آیا ہوں تو میں اس کو جس کسی کا نام لوں گا میں اس کے متعلق جانتا ہوں گا جو جانتا ہوں گا۔ پھر میں کسی کو کیسے امیر بناسکتا ہوں جب میں اس کے متعلق پوری طرح مطمئن نہیں، پس ایسے نہیں ہوسکتا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اس منصب کو اسی کی طرف واپس لوٹا دوں گا جس نے پہلے مجھے سونپا تھا۔ یعنی میں اللہ کے حوالے اس کو کر جاؤں گا میری تو خواہش ہے کہ اس پر مجھ سے بہتر شخص آئے اور جو اللہ نے مجھے خدمات کرنے کا موقع عنایت کیا ہے ان میں کچھ کمی نہ کرے بلکہ مزید ترقی کرے۔ ابن عساکر
14265- عن أسلم قال: قال عبد الله بن عمر بعد أن طعن عمر: يا أمير المؤمنين ما عليك لو اجتهدت نفسك ثم أمرت عليهم رجلا فقال عمر: أقعدوني، ثم قال: من أمرتم بأفواهكم؟ فقلت: فلانا قال: إن تؤمروه فإنه ذو شيعتكم، ثم أقبل على عبد الله فقال: ثكلتك أمك أرأيت الوليد ينشأ مع الوليد وليدا أو ينشأ معه كهلا أتراه يعرف من خلقه. قال: نعم يا أمير المؤمنين قال: فما أنا قائل لله إذا سألني عمن أمرت عليهم؟ فقلت: فلانا وأنا أعلم منه ما أعلم، فلا والذي نفسي بيده لأردنها إلى الذي رفعها إلي أول مرة لوددت أن عليها من هو خير مني لا ينقصني مما أعطاني الله شيئا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৬৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14266 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت کی۔ میں آپ (رض) سے ہیبت زدہ اور آپ کی تعظیم کرنے والا رہتا تھا۔ ایک دن میں آپ کے گھر میں داخل ہوا۔ آپ تنہا تھے۔ آپ (رض) نے ایسی آہ بھری میں سمجھا شاید آپ کی روح نکل گئی ہے۔ لیکن پھر آپ (رض) نے آسمان کی طرف منہ اٹھایا اور غم زدہ کا سا لمبا سانس بھرا ۔ ابن عباس (رض) کہتے ہیں آخر میں نے پوچھنے کی ہمت کی اور عزم کرلیا کہ اللہ کی قسم آج میں آپ (رض) سے پوچھ کر رہوں گا۔ چنانچہ میں نے آپ کو عرض کیا : اللہ کی قسم ! اے امیر المومنین ! یہ دکھ بھرے سانس آپ کو کس غم کی وجہ سے نکل رہے ہیں ؟ آپ (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! واقعی ایک غم ہے اور شدید غم ہے۔ میں امر یعنی امر خلافت کو رکھنے کی کوئی جگہ نہیں پارہا ہوں (کہ کس کیذمے اس منصب کو تفویض کروں) پھر خود ہی ارشاد فرمایا : شاید تو کہے کہ تیرا ساتھی اس کا اہل ہے یعنی علی (رض) (ابن عباس (رض)) کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : یا امیر المومنین کیا وہ اس کا اہل نہیں ہے ؟ اس نے ہجرت کی ہے، اس کو نبی کی صحبت حاصل ہے، نبی کی قرابت اور رشتہ داری حاصل ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : وہ ایسا ہی ہے جو تو نے ذکر کیا لیکن اس میں کچھ مزاج کی طبیعت ہے۔ ابن عباس کہتے ہیں : میں نے عرض کیا : زبیر۔ ارشاد فرمایا : وہ درشت خو سخت گیر آدمی ہیں، ایک صاع کے لیے بھی بقیع میں لڑنے جاسکتے ہیں۔ میں نے عرض کیا : طلحۃ۔ ارشاد فرمایا : اس میں بڑائی ہے، جب سے اس کے ہاتھ کو نقصان پہنچا ہے میں نہیں سمجھتا کہ اللہ اس کو خیر دے گا اور وہ اس میں باقی رہے گا۔ میں نے عرض کیا : پھر سعد ! ارشاد فرمایا : وہ لوگوں کے سامنے آسکتا اور اچھا قتال کرسکتا ہے لیکن وہ اس منصب کا بار اٹھانے کا اہل نہیں۔ میں نے عرض کیا : عبدالرحمن بن عوف۔ ارشاد فرمایا : بہترین آدمی ہیں وہ جن کا تم نے نام لیا ہے لیکن اب وہ بوڑھے ہوگئے ہیں۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں میں نے عثمان کا نام دانستہ پیچھے کردیا تھا کیونکہ وہ اکثر نماز میں مشغول رہتے ہیں اور قریش کے نزدیک محبوب ہیں۔ چنانچہ میں نے آخر میں عرض کیا : عثمان۔ ارشاد فرمایا : وہ نرم دل آدمی ہیں، اپنے رشتے داروں کی بہت تکلیف اٹھاتے ہیں۔ پھر آپ (رض) نے مزید ارشاد فرمایا : اگر میں نے ان کو۔ یعنی عثمان کو خلیفہ بنادیا تو وہ تمام کے تمام بنی امیہ کو سرکاری مناصب پر فائز کردیں گے اور بنی ابی معیط کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط کردیں گے۔ اللہ کی قسم ! اگر میں نے ایسا کیا تو وہ بھی ضرور ایسا کریں گے۔ کہ اپنے اعزہ و اقارب کو حکومت کے مناصب تفویض کریں گے اور پھر عرب بھی ضرور ایسا کریں گے۔ کہ ان کو قتل کردیں گے یہ منصب تو صرف وہی اٹھاسکتا ہے جو کمزوری کے بغیر نرم مزاج ہو، طاقت ور کے باوجود سختی نہ کرے، فضول خرچی سے اجتناب کرتے ہوئے سخاوت اپنائے، بخل نہ کرے لیکن مال کو روکنے کی صلاحیت رکھے۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے یہ بھی ارشاد فرمایا : اس امر (خلافت) کی طاقت نہیں رکھتا مگر ایسا شخص جو نرمی ومدارات نہ کرے ، کسی کو نقصان نہ پہنچائے، لالچوں کے پیچھے نہ پڑے اور اللہ کے اس امر ۔ خلافت کی وہی شخص طاقت رکھتا ہے جو اپنی زبان کے ساتھ کلام نہ کرے، اس کا عزم نہ ٹوٹے اور حق کی حمایت میں اپنی جماعت کے خلاف بھی فیصلہ کرے۔ ابن عساکر
14266- عن ابن عباس قال: خدمت عمر بن الخطاب وكنت له هائبا ومعظما، فدخلت عليه ذات يوم في بيته وقد خلا بنفسه فتنفس تنفسا ظننت أن نفسه خرجت، ثم رفع رأسه إلى السماء فتنفس الصعداء، قال: فتحاملت وتشددت، وقلت والله لأسألنه، فقلت والله ما أخرج هذا منك إلا هم يا أمير المؤمنين؟ قال: هم والله هم شديد؛ هذا الأمر لم أجد له موضعا يعني الخلافة، ثم قال: لعلك تقول: إن صاحبك لها يعني عليا، قال: قلت يا أمير المؤمنين أو ليس هو أهلها في هجرته، وأهلها في صحبته، وأهلها في قرابته؟ قال: هو كما ذكرت لكنه رجل فيه دعابة، قال: فقلت الزبير، قال: وعقة لقس يقاتل على الصاع بالبقيع، قال: قلت طلحة، قال: إن فيه لبأوا وما أرى الله معطيه خيرا وما برح ذلك فيه منذ أصيبت يده، قال: فقلت سعدا، قال: يحضر الناس ويقاتل وليس بصاحب هذا الأمر،قال: قلت عبد الرحمن بن عوف، قال: نعم المرء ذكرت لكنه ضعيف وأخرت عثمان لكثرة صلاته وكان أحب الناس إلى قريش، قال: قلت عثمان، قال: أواه كلف بأقاربه، ثم قال: لو استعملته استعمل بني أمية أجمعين أكتعين ويحمل بني أبي معيط على رقاب الناس، والله لو فعلت لفعل ذلك لسارت إليه العرب حتى تقتله، والله لو فعلت لفعل والله لو فعل لفعلوا، إن هذا الأمر لا يحمله إلا اللين في غير ضعف والقوي في غير عنف، والجواد في غير سرف، والممسك في غير بخل، قال وقال عمر: لا يطيق هذا الأمر إلا رجل لا يصانع ولا يضارع ولا يتبع المطامع ولا يطيق أمر الله إلا رجل لا يتكلم بلسانه لا ينتقض عزمه ويحكم بالحق على حزبه وفي الأصل على وجوبه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৬৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14267 عمرو بن الحارث الفہمی ، عبدالملک بن مروان سے اور وہ ابوبحریۃ الکندی سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، زبیر بن العوام، طلحۃ بن عبیداللہ اور سعد بن ابی وقاص (رض) موجود تھے۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : تم میں سے ہر ایک اپنے دل میں میرے بعد حکومت کی آس باندھے بیٹھا ہے۔ حاضرین خاموش رہے۔ حضرت عمر (رض) نے پھر فرمایا : تم میں سے ہر ایک میرے بعد حکومت کی آس لگائے بیٹھا ہے۔ زبیر (رض) نے فرمایا : ہاں، ہم میں سے ہر ایک تمہارے بعد حکومت کی آس لگائے بیٹھا ہے اور وہ اس کا اہل بھی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کیا میں تم کو تمہارا حال نہ بتاؤ ؟ حاضرین چب رہے۔ حضرت عمر (رض) نے پھر فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو تمہارا حال نہ بتاؤں ؟ حضرت زبیر (رض) نے فرمایا : بیان کر ہی دیں کیونکہ اگر ہم چپ رہیں گے پھر بھی آپ بیان کرنے سے رکیں گے نہیں ۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے زبیر بہرحال تیرا تو یہ حال ہے تو غصہ میں کافر بن جاتا ہے، خوشی میں مومن ہوتا ہے۔ ایک دن تو شیطان ہوتا ہے اور ایک دن انسان۔ تیرا کیا خیال ہے جس دن تو شیطان ہوتا ہے اس دن خلیفہ کون بنے گا ؟ اور اے طلحہ ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوا تو وہ تجھ پر سرزنش کرتے ہوئے گئے۔ اور اے عبدالرحمن ! تیرے پاس جو خیر (خلافت) آئے تو اس کا اہل ہے۔ اے علی ! تو صاحب الرائے آدمی ہے لیکن تیری ذات میں مزاح کی طبیعت ہے۔ اور تم میں ایک ایسا شخص ہے جس کا ایمان اگر لشکروں میں سے کسی بھی لشکر میں تقسیم کردیا جائے تو وہ ان سب کو کافی ہوجائے گا یعنی عثمان بن عفان۔ اور اے سعد ! تو صاحب مال ہے۔ ابن عساکر

کلام : مولف (رح) فرماتے ہیں عمرو بن الحارث مجہول ب عدالت شخص ہے (معلوم نہیں کہ اس کی روایت قابل سند ہے یا نہیں جبکہ ثانی الذکر امر ہی ترجیح کا متقاضی ہے) کیونکہ حضرت عمر (رض) کی نسبت یہ بات مستند اور محفوظ ہے کہ ان کے زعم میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انتقال کے وقت مذکورہ چھ افراد سے بالکل راضی اور خوش تھے۔ جبکہ روایت مذکورہ میں اس امر کی مخالفت ہے۔
14267- عن عمرو بن الحارث الفهمي عن عبد الملك بن مروان عن أبي بحرية الكندي عن عمر أنه خرج على مجلس فيه عثمان بن عفان وعلي بن أبي طالب والزبير بن العوام وطلحة بن عبيد الله وسعد بن أبي وقاص، فقال: كلكم يحدث نفسه بالإمارة بعدي، فسكتوا، فقال: كلكم يحدث نفسه بالإمارة بعدي، فقال الزبير: نعم كلنا يحدث نفسه بالإمارة بعدك ويراه لها أهلا، قال: أفلا أحدثكم عنكم؟ فسكتوا، ثم قال: ألا أحدثكم عنكم؟ فسكتوا، قال الزبير: فحدثنا ولو سكتنا لحدثتنا، فقال: أما أنت يا زبير فإنك كافر الغضب مؤمن الرضا يوما تكون شيطانا ويوما تكون إنسانا أفرأيت يوم تكون شيطانا من يكون الخليفة يومئذ؟ وأما أنت يا طلحة فلقد مات رسول الله صلى الله عليه وسلم وإنه عليك لعاتب؛ وأما أنت يا عبد الرحمن، فإنك لما جاءك من خير لأهل، وأما أنت يا علي فإنك صاحب رأي وفيك دعابة وإن منكم لرجلا لو قسم إيمانه بين جند من الأجناد لوسعهم يريد عثمان بن عفان، وأما أنت يا سعد فإنك صاحب مال. "كر" وقال: عمرو بن الحارث مجهول العدالة والمحفوظ عن عمر شهادته لهم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم توفي وهو عنهم راض.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৬৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14268 محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے (اپنے بیٹے) عبداللہ بن عمر (رض) کو اہل شوریٰ میں شامل کیا تھا۔ ایک آدمی نے آکر حضرت عمر (رض) کو عرض کیا : یا امیر المومنین ! آپ عبداللہ بن عمر کو خلیفہ بنادیں وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا صحابی ، مہاجرین اولین میں شامل اور امیر المومنین کے بیٹے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں ایسا کردیتا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ہم اس منصب پر چھا سکتے تھے لیکن ہم آل عمر کے لیے یہی کافی ہے کہ ہمیں اس کا فائدہ ملے اور نہ اس کا وبال ہماری گردنوں پر پڑے۔ ابن النجار
14268- عن محمد بن زيد بن عبد الله بن عمر أن عمر جعل عبد الله ابن عمر في الشورى، فأتاه آت فقال: يا أمير المؤمنين تستخلف عبد الله بن عمر صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم ومن المهاجرين الأولين وابن أمير المؤمنين فقال عمر: قد فعلت والذي نفسي بيده لنمحين عنها حسبنا آل عمر لا لنا ولا علينا. "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৬৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14269 شیخ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عثمان (رض) پیچھے رہ گئے اور حضرت علی (رض) خیبر میں تھے۔ جب وہ واپس تشریف لائے تو حضرت عثمان (رض) نے ان کو پیغام بھیج کر بلوایا اور اللہ کی حمدوثناء کی پھر فرمایا : امابعد ! میرے تم پر حقوق ہیں۔ اسلام کا حق ، بھائی چارے کا حق کیونکہ تجھے معلوم ہے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کے درمیان مواخات قائم کی تھی تو میرے اور تمہارے درمیان مواخات قائم کی تھی نیز میرا تم پر قرابت کا حق ہے ہم زلف ہونے کا حق ہے اور جو تم نے اپنی گردن میں عہد ومیثاق ڈالا ہے۔ یعنی میری خلافت پر بیعت کی ہے اس کا حق ہے۔

البغوی فی مسند عثمان، ابن عساکر
14269- عن شيخ قال: حصر عثمان وعلي بخيبر فلما قدم أرسل إليه فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال: أما بعد فإن لي عليك حقوقا حق الإسلام وحق الإخاء وقد علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم حين آخى بين الصحابة آخى بيني وبينك وحق القرابة والصهر وما جعلت في عنقك من العهد والميثاق.؟؟ "البغوي في مسند عثمان كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৭০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14270: ابن ابی ادریس، شعبہ، ابو اسحاق عن حارثہ کی سند سے مطرف سے روایت منقول ہے، مطرف کہتے ہیں : میں نے حضرت عمر (رض) کی امارت میں حج کیا لوگوں کو اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ حضرت عمر (رض) کے بعد خلافت پر حضرت عثمان (رض) بیٹھیں گے۔
14270- حدثنا ابن أبي إدريس عن شعبة عن أبي إسحاق عن حارثة عن مطرف قال: حججت في إمارة عمر فلم يكونوا يشكون أن الخلافة من بعده لعثمان. " ... ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৭১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14271 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عبدالرحمن بن عوف (رض) کو فرمایا : تو ہمارے نزدیک عدل پسند اور راضی بالقضاء ہے تو لوگوں سے کیا سنتا ہے ؟ ابن عساکر
14271- عن ابن عباس أن عمر بن الخطاب قال لعبد الرحمن بن عوف: أنت عندنا العدل الرضي فماذا سمعت؟. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৭২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14272 محمد بن جبیر اپنے والد سے وہ حضرت عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (رض) نے ارشاد فرمایا اگر عبدالرحمن بن عوف اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مار لیں (یعنی اپنی بیعت کرلیں) تو تم لوگ فوراً ان کی بیعت کرلینا۔ ابن عساکر
14272- عن محمد بن جبير عن أبيه أن عمر قال: إن ضرب عبد الرحمن بن عوف إحدى يديه على الأخرى فبايعوه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৭৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14273 حضرت اسلم سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : عبدالرحمن بن عوف جس کی بیعت کرلیں تم سب ان کی بیعت کرلینا اور جو انکار کرے اس کی گردن اڑا دینا۔

ابن عساکر
14273- عن أسلم أن عمر بن الخطاب قال: بايعوا لمن بايع له عبد الرحمن بن عوف فمن أبى فاضربوا عنقه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৭৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14274 ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ابوبکر، عمر اور عثمان (رض) تھے۔ آپ ان کے ساتھ یکسو ہو کر مصروف گفتگو تھے۔ میں نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے مجھے جواب نہیں دیا۔ میں کھڑا ہو کر انتظار کرتا رہا کہ ان سے فارغ ہوں اور تنہا ہوں۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں میں ان کی گفتگو میں خلل انداز نہ ہوجاؤں۔ پھر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کے ساتھ طویل سرگوشی فرمائی، پھر وہ نکل کر چلے گئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) کے ساتھ سرگوشی فرمائی اور وہ بھی نکل کر چلے گئے۔ پھر عثمان (رض) کے ساتھ ساتھ سرگوشی کی اور وہ بھی نکل کر چلے گئے۔ پھر میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف متوجہ ہوا استغفار کرتا ہوا اور آپ سے معذرت کرتا ہوا۔ میں نے عرض کیا : میں نے آپ کو سلام کیا تھا مگر آپ نے جواب نہیں دیا۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم سے مجھے ان لوگوں نے مشغول کررکھا تھا۔ میں نے عرض کیا : کس چیز میں ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے ابوبکر کو بتایا تھا کہ وہ میرے بعد (امیر) ہوں گے اور میں نے ان کو نصیحت کی تھی دیکھ لینا کہ کیسے اس کو نبہاؤ گے، انھوں نے کہا : کہ اللہ ہی قوت دے گا، میرے لیے اللہ سے دعا کردیں۔ وہ میں نے کردی۔ اور اللہ ہی ان کی مدد کرے گا۔ پھر میں نے عمرکو یہی بات کی (کہ ان کے بعد وہ امیر ہوں گے) انھوں نے کہا : اللہ کی قوت کے بغیر کچھ ممکن نہیں، مجھے اللہ ہی کافی ہے اور اللہ ہی اس کو کافی ہے۔ پھر میں نے عثمان کو اسی طرح کہا (کہ عمر کے بعد تم امیر ہوگے) اور تم قتل بھی کیے جاؤ گے انھوں نے جواب دیا : اللہ ہی کے ساتھ قوت ہے، آپ میرے لیے شہادت کی دعا کردیں۔ میں نے ان کو کہا : اگر تم صبر کرو گے اور پریشانی کا اظہار نہیں کرو گے تب، انھوں نے کہا : میں صبر کروں گا اور اللہ نے ان کے لیے جنت واجب کردی ہے اور وہ شہید ہوں گے حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں : چنانچہ جب عثمان کی خلافت آئی تو ہم نے ان کو خلافت کی بلندی تک لے جانے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی۔ سیف، ابن عساکر
14274- عن ابن مسعود قال: دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعنده أبو بكر وعمر وعثمان قد خلص بهم فسلمت فلم يرد علي فمثلت قائما لألتمس فراغه وخلوته خشية أن أكون أحدثت فناجى أبا بكر طويلا ثم خرج، ثم عمر ثم خرج، ثم عثمان فخرج، فأقبلت أستغفر الله واعتذر فقلت: سلمت عليك فلم ترد علي، فقال: شغلني هؤلاء عنك، فقلت: بماذا؟ قال: أعلمت أبا بكر أنه من بعدي، وقلت: انظر كيف تكون، فقال: لا قوة إلا بالله أدع الله لي ففعلت والله فاعل به ذلك، ثم قلت لعمر مثل ذلك، فقال: لا قوة إلا بالله حسبي الله والله حسبه، ثم قلت لعثمان مثل ذلك وأنت مقتول، فقال: لا قوة إلا بالله ادع الله لي بالشهادة، فقلت له: إن صبرت ولم تجزع فقال: أصبر وأوجب الله له الجنة وهو مقتول، فلما جاءت إمارته ما ألونا عن أعلاها ذي فرق"سيف كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৭৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14275 حکیم بن جبیر سے مروی ہے میں نے حضرت ابن مسعود (رض) کو بیعت عثمان کے موقع پر ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ہم نے خلافت کے اہل بلند رتبہ شخص کو اس کے منصب پر فائز کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں برتی۔ ابن ابی شیبہ
14275- عن حكيم بن جبير قال: سمعت ابن مسعود يقول حين بويع عثمان ما ألونا عن أعلاها ذي فرق. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৭৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14276 ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ جب عثمان (رض) کو خلیفہ چنا گیا تو ابن مسعود (رض) نے فرمایا : ہم نے باقی رہ جانے والوں میں سب سے بہترین انسان کو خلیفہ بنادیا ہے اور ہم نے (حق میں) کوئی کوتاہی نہیں کی۔ ابن جریر
14276- عن ابن مسعود أنه قال: لما استخلف عثمان أمرنا خير من بقي ولم نأل. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৭৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14277 (مسند عثمان (رض)) ابواسحاق الکوفی سے مروی ہے کہ حضرت عثمان (رض) نے اہل کوفہ کو ایک چیز کے بارے میں رکھا جس میں انھوں نے آپ کو برا بھلاکہا تھا۔

میں میزان (ترازو) نہیں ہوں میں جھکوں گا نہیں۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر
14277- "مسند عثمان" عن أبي إسحاق الكوفي قال: كتب عثمان إلى أهل الكوفة في شيء عاتبوه فيه: إني لست بميزان لا أعول"عبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৭৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین عثمان بن عفان
14278 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت عمر بن خطاب (رض) کی وفات کا وقت قریب آیا تو عثمان بن عفان ، علی بن ابی طالب، عبدالرحمن بن عوف، زبیر بن العوام اور سعد بن ابی وقاص (رض) اجمعین حضرت عمر (رض) کے پاس داخل ہوئے جبکہ طلحہ ابن عبیداللہ (رض) السواد (حبشہ) سوڈان گئے ہوئے تھے۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے آنے والوں پر ایک گھڑی نظر ڈالی پھر ارشاد فرمایا :

میں نے تمہارے لیے لوگوں کا معاملہ (خلافت) دیکھا، لیکن لوگوں کا کوئی اختلاف نہیں پایا اس میں کہ خلافت تم میں سے ہی کسی ایک میں ہو ۔ اگر اختلاف ہے تو وہ تمہاری طرف سے ہوگا۔ خلافت چھ میں سے کسی کے پاس جائے گی، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب ، عبدالرحمن بن عوف، زبیر بنالعوام ، طلحہ اور سعد ۔ لیکن تمہاری قوم تم تین میں سے کسی ایک کو خلیفہ بنائے گی : اے عثمان اگر تو خلیفہ بنے تو ابی معیط کو لوگوں کی گردنوں پر نہ بٹھانا، اے عبدالرحمن ! اگر تو لوگوں پر خلیفہ بنے تو اپنے رشتہ داروں کو لوگوں کی گردنوں پر مسلط نہ کردینا اور اے علی ! اگر تو لوگوں پر خلیفہ بنے تو بنی ہاشم کو لوگوں پر مسلط نہ کرئیے گا۔ پھر آپ (رض) نے سب کو مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا : اٹھو اور جاکر مشاورت کرو اور کسی کو اپنے لیے خلیفہ بنالو۔ چنانچہ وہ اٹھ کر مشاورت کے لیے چلے گئے۔

عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں مجھے عثمان نے ایک دو دفعہ بلایا، تاکہ مجھے بھی خلافت کے امر میں شامل کرلیں۔ حالانکہ (میرے والد) حضرت عمر (رض) نے میرا نام نہیں لیا تھا اور نہ اللہ کی قسم مجھے بھی بالکل چاہت تھی کہ میں ان کے ساتھ شامل ہوجاؤں، کیونکہ مجھے اپنے والد کے فرمان کی وجہ سے علم ہوگیا تھا خلافت انہی میں سے کسی کے لیے ہوگی۔ میرے باپ نے اللہ کی قسم جب بھی کسی معاملہ کے متعلق ہونٹ ہلائے وہ حقیقت کا روپ دھا کر رہا۔ لیکن جب عثمان نے مجھے بار بار بلایا تو میں نے کہا : تم لوگ عقل کیوں نہیں کرتے تم امیر بنانے چلے ہو جبکہ ابھی امیر المومنین زندہ ہیں۔ اللہ کی قسم ! گویا میں نے یہ کہہ کر عمر (رض) کو قبر سے اٹھا دیا۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ان حضرات کو فرمایا : تم لوگ ذرا ٹھہر جاؤ، جب میرے ساتھ (موت کا) حادثہ ہوجائے تب تین دنوں تک صہیب لوگوں کو نماز پڑھائے گا پھر تم تیسرے دن تک لوگوں کے معززین اور لشکروں کے امراء کو اکٹھا کرلینا اور سب کے روبرو اپنے میں سے کسی کو امیر بنالینا۔ جو بغیر مشورہ کے خود امین بن جائے اس کی گردن اڑا دینا۔ ابن عساکر
14278- عن ابن عمر قال: دخل على عمر بن الخطاب حين نزل به الموت عثمان بن عفان وعلي بن أبي طالب وعبد الرحمن بن عوف والزبير ابن العوام وسعد بن أبي وقاص وكان طلحة بن عبيد الله غائبا بأرض السواد، فنظر إليهم ساعة ثم قال: إني نظرت لكم في أمر الناس فلم أجد عند الناس شقاقا إلا أن يكون فيكم، فإن كان شقاق فهو منكم، وأن الأمر إلى ستة: إلى عثمان بن عفان وعلي بن أبي طالب وعبد الرحمن بن عوف والزبير بن العوام وطلحة وسعد، ثم أن قومكم إنما يؤمرون أحدكم أيتها الثلاثة فإن كنت على شيء من أمر الناس يا عثمان فلا تحملن بني أبي معيط على رقاب الناس، وإن كنت على شيء من أمر الناس يا عبد الرحمن فلا تحملن أقاربك على رقاب الناس، وإن كنت على شيء يا علي فلا تحملن بني هاشم على رقاب الناس، ثم قال: قوموا وتشاوروا وأمروا أحدكم، فقاموا يتشاورون، قال عبد الله: فدعاني عثمان مرة أو مرتين ليدخلني في الأمر ولم يسمني عمر ولا والله ما أحب أني كنت معهم علما منه بأنه سيكون في أمرهم، ما قال أبي والله لقل ما رأيته يحرك شفتيه بشيء قط إلا كان حقا، فلما أكثر عثمان دعائي قلت: ألا تعقلون أتؤمرون وأمير المؤمنين حي فوالله لكأنما أيقظت عمر من مرقد فقال عمر: أمهلوا فإن حدث بي حدث فليصل بالناس صهيب ثلاث ليال ثم اجمعوا في اليوم الثالث أشراف الناس وأمراء الأجناد فأمروا أحدكم، فمن تأمر من غير مشورة فاضربوا عنقه. "كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৭৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ

جان لے ! اللہ تجھ پر رحم کرے، آپ (رض) کی خلافت، اخلاق اور عادات سے متعلق بعض مرویات عنقریب حرف الفاء کی کتاب الفضائل میں آئیں گی اور آپ کے بعض خطبے اور مواعظ حرف المیم کی کتاب المواعظ میں آئیں گے۔
14279 حضرت عثمان (رض) کے غلام زائدہ سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے حضرت علی ابن ابی طالب (رض) کو پیغام بھیج کر بلوایا۔ حضرت علی (رض) تشریف لے آئے پھر دونوں کے درمیان تھوڑی دیر تک سرگوشیوں میں بات چیت ہوتی رہی۔ اچانک حضرت علی (رض) غضب آلودہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ حضرت عثمان (رض) نے حضرت علی (رض) کے دامن کا کونا تھام کر آپ کو بٹھانے کی کوشش کی لیکن حضرت علی (رض) نے انکار کردیا اور ان کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر دامن چھڑایا اور چلے گئے۔

لوگوں نے کہا : سبحان اللہ ! علی نے امیر المومنین کے حق کی ناقدری کی۔ حضرت عثمان (رض) نے لوگوں کو مخاطب ہو کر فرمایا : ان کو چھوڑ دو ، یہ خلافت کی مٹھاس نہیں پاسکتے اور نہ ان کی اولاد میں سے کوئی۔ زائدہ کہتے ہیں : میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کے پاس جاکر یہ واقعہ سنایا اور حضرت عثمان (رض) کی پیش گوئی کو تو بڑے تعجب خیز انداز میں آکے گوش گزار کیا۔ حضرت سعد (رض) نے فرمایا : تمہیں اس میں اتنا تعجب کیوں ہورہا ہے، میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا :

وہ (علی (رض)) اس (خلافت) کی حلاوت پاسکیں گے اور نہ ان کی اولاد میں سے کوئی ایک۔

الضعفاء لعقیلی

کلام : امام عقیلی (رح) فرماتے ہیں : یہ حدیث منکر (جھوٹی) ہے۔ زائدہ کے علاوہ کسی اور نے ایسی کوئی روایت نقل نہیں کی۔ اور زائدہ مدنی ہے اور مجہول شخص۔ ابوحاتم کہتے ہیں : یہ منکر ہے، ذھبی نے میزان میں ایسا ہی کہا ہے۔
14279- عن زائدة مولى عثمان بن عفان قال: أرسل عثمان بن عفان إلى علي بن أبي طالب فأتاه فتناجيا ساعة بينهما، فقام علي كالمغضب فأخذ عثمان بأسفل ثوبه يجلسه فأبى علي فضرب بيده فمضى فقال الناس: سبحان الله لقد استخف بحق أمير المؤمنين، فقال عثمان: دعوه فما يجد حلاوتها هو ولا أحد من ولده، قال زائدة: فأتيت سعد بن أبي وقاص فذكرت له ذلك كالمتعجب مما قال، فقال سعد: وما يعجبك من ذلك أنا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا يجد حلاوتها هو ولا أحد من ولده. "عق" وقال حديث منكر لم يتابع عليه زائدة وهو مدني مجهول وكذا قال أبو حاتم إنه منكر والذهبي في الميزان والمغنى.
tahqiq

তাহকীক: