কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৫ টি

হাদীস নং: ১৪২৮০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ
14280 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا :

اللہ کی قسم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ساتھ کوئی خاص عہد نہیں کیا سوائے ان عام عہدوں کے جو اور لوگوں کے ساتھ بھی کیے ہیں۔ لیکن لوگ جب عثمان کو قتل کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوگئے اور ان کو قتل کر ڈالا۔ پھر جب کہ میرے سوا (عثمان وغیرہ) اس خلاف میں میری نسبت برے حالات اور مسائل کا شکار ہوئے ہیں تو میں نے دیکھا کہ میں اس منصب کا اور لوگوں سے زیادہ حقدار ہوں۔ چنانچہ میں اس کے لیے ہمت کرکے اٹھ کھڑا ہوا۔ اب اللہ ہی زیادہ جانتا ہے ہم نے درست قدم اٹھایا یا غلط۔ مسند احمد
14280- عن علي قال: والله ما عهد إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم عهدا إلا شيئا عهده إلى الناس، ولكن الناس وقفوا على عثمان فقتلوه وكان غيري فيه أسوء حالا وفعلا مني، ثم رأيت أني أحقهم بهذا الأمر فوثبت عليه فالله أعلم أصبنا أم أخطأنا. "حم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৮১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ
14281 حارث بن سوید سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) سے کہا گیا کہ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کے ساتھ کوئی خاص وصیت یا معاہدہ کیا ہے جو عام لوگوں کے ساتھ نہ کیا ہو ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے ساتھ کوئی خاص عہد نہیں کیا جو اور لوگوں کے ساتھ نہ کیا ہو، سوائے اس صحیفے کے جو میری اس تلوار کی زکوۃ کے متعلق احکام تھے، نیز یہ کہ مدینہ ثور سے عیر تک حرم ہے۔ جس نے اس میں کوئی حدث کیا (حرم کے تقدس کو پامال کیا) یا کسی محدث کو ٹھکانا دیا اس پر اللہ کی لعنت ہے، ملائکہ کی لعنت ہے اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اللہ پاک اس سے کوئی نفل قبول کرے گا اور نہ فرض ۔ نیز مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے جس نے کسی مسلمان کا ذمہ توڑا اس پر اللہ کی، ملائکہ کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ اللہ پاک قیامت کے روز اس کا کوئی نفل قبول کریں گے اور نہ فرض۔

مسند احمد، النسائی، ابن جریر، حلیۃ الاولیاء
14281- عن الحارث بن سويد قال: قيل لعلي إن رسول الله صلى الله عليه وسلم خصكم دون الناس عامة؟ قال: ما خصنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بشيء لم يخص به الناس إلا ما في قراب سيفي هذا فأخرج صحيفة فيها شيء من أسنان الأبل؟؟، وفيها أن المدينة حرم ما بين ثورإلى عير فمن أحدث فيها حدثا أو آوى محدثا فإنه عليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا، وذمة المسلمين واحدة فمن أخفر مسلما فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا. "حم ن وابن جرير حل"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৮২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلافت امیر المومنین علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ
14282 محمد بن الحنفیہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عثمان (رض) قتل ہوگئے تو حضرت علی (رض) نے ابوعمر وبن حصین الانصاری کے گھر میں روپوشی اختیار کرلی۔ لوگ جمع ہوگئے اور حضرت علی (رض) کے پاس داخل ہوگئے اور حضرت علی (رض) کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لیے ٹوٹ پڑے جس طرح پیاسے اونٹ حوض پر امنڈ پڑتے ہیں اور بولنے لگے : ہم آپ کی بیعت کریں گے۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : مجھے اس کی حاجت نہیں ہے۔ تم طلحہ اور زبیر کو اپنا امیر بنالو۔ لوگوں نے کہا : آپ ہمارے ساتھ چلئے۔ چنانچہ حضرت علی (رض) لوگوں کو جماعت کے ساتھ نکلے۔ محمد بن الحنفیہ فرزند ابن علی (رض) فرماتے ہیں : میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ حتیٰ کہ ہم طلحہ بن عبیداللہ کے پاس پہنچ گئے۔ حضرت علی (رض) نے ان کو کہا : یہ لوگ میری بیعت کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں جبکہ مجھے ان کی بیعت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لہٰذا آپ اپنا ہاتھ کشادہ کیجئے، میں آپ کی بیعت کرتا ہوں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ پر۔ حضرت طلحہ (رض) نے علی (رض) کو کہا : آپ مجھ سے زیادہ اس کے حقدار ہیں، نیز آپ سابق (فی الاسلام) اور حضور کی قرابت داری رکھتے ہیں۔ جبکہ یہ ساتھ آنے والے لوگ بھی آپ کی بیعت کے لیے جمع ہوئے ہیں جو مجھ سے بٹ گئے ہیں۔ حضرت علی (رض) نے ان کو کہا : مجھے خوف ہے کہ کہیں تم میری بیعت نہ توڑ دو اور مجھ سے دھوکا نہ کرو۔ حضرت طلحہ (رض) نے فرمایا : آپ مجھ سے ہرگز خوف نہ کریں۔ اللہ کی قسم ! آپ میری طرف سے کبھی کسی ناگوار بات کو محسوس نہ کریں گے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : اللہ تمہاری اس بات پر کفیل (نگران) ہے۔ حضرت طلحہ (رض) نے فرمایا : ہاں اللہ مجھ پر اس بات کا کفیل ہے۔ پھر حضرت علی (رض) حضرت زبیر بن العوام (رض) کے پاس تشریف لائے۔ حضرت علی (رض) نے ان کو بھی وہی بات کی جو طلحہ کو کی تھی۔ اور انھوں نے بھی وہی جواب دیا جو طلحہ نے دیا تھا۔ حضرت طلحہ (رض) نے عثمان (رض) کی گابھن اونٹنیاں اور بیت المال کی چابیاں لے رکھی تھیں اور لوگ حضرت علی (رض) کے پاس جمع ہوئے تھے ابھی بیعت نہ کی تھی کہ چند سوار یہ خبر لے کر حضرت عائشہ (رض) کے پاس سرف مقام پر گئے ۔ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : میں دیکھ رہی ہوں کہ طلحہ کی انگلی دھوکا کے ارادے سے بیعت کر رہی ہے۔ ابن الحنفیہ کہتے ہیں : جب لوگ حضرت علی (رض) کے پاس جمع ہوئے تو انھوں نے حضرت علی (رض) سے عرض کیا : یہ آدمی ۔ عثمان تو قتل ہوگیا ہے، جبکہ لوگوں کے لیے کوئی امام ہونا لازمی ہے۔ اور ہم اس منصب کا آپ سے زیادہ حقدار کسی کو نہیں سمجھتے، نہ آپ سے پہلے کوئی اسلام قبول کرنے والا ہے اور نہ آپ سے زیادہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی قریبی رشتے دار ہے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : تم مجھے امیر نہ بناؤ بلکہ میں تمہارے لیے وزیر بنارہا ہوں۔ یہ امیر بننے سے زیادہ بہتر ہے۔ لوگوں نے اصرار کیا اور بولے کہ : اللہ کی قسم ! ہم ہرگز ایسا نہیں کرسکتے ہم آپ کی بیعت کرکے رہیں گے ، پھر وہ حضرت علی (رض) کے ہاتھ پر بیعت کے لیے ٹوٹ پڑے۔ حضرت علی (رض) نے جب یہ حال دیکھا تو ارشاد فرمایا : پھر میری بیعت یوں تنہائی میں نہیں ہوسکتی بلکہ یہ بیعت مسجد میں بالکل سرعام ہوگی۔ چنانچہ پھر منادی کو حکم دیا اس نے مسجد میں نداء لگادی اور پھر حضرت علی (رض) مسجد کی طرف نکلے آپ کے ساتھ دوسرے لوگ بھی تھے۔ آپ (رض) منبر پر چڑھے ، اللہ کی حمدوثناء کی پھر ارشاد فرمایا :

ایک حق ہے اور ایک باطل۔ اور ہر ایک کے ماننے والے ہیں۔ اگر باطل زیادہ ہوجائے تو وہ ترقی کرجاتا ہے اپنی کوشش کے ساتھ۔ اگرچہ حق کبھی کم ہوتا ہے لیکن بسا اوقات کوئی چیز جاتی ہوئی واپس مڑ جاتی ہے اگر تمہارا معاملہ تم کو واپس مل گیا ہے تو تم سعادت مند ہو ۔ مگر مجھے خوف ہے کہ کہیں تم پر فترت کا زمانہ آجائے۔ کہ کوئی بھی امیر تم پر امارت نہ کرے مجھ پر تو صرف محنت اور کوشش ہے۔ (تمہاری خیر خواہی کے لئے) ۔

دو آدمی سبقت لے گئے اور تیسرا کھڑا ہوگیا، چھٹا ان کے دو کے ساتھ نہیں ہے۔ مقرب فرشتہ، اور اللہ نے جس سے میثاق لی، صدیق نجات پا گیا، ساع (کوشش کنندہ) مجتہد (محنت کرنے والا) ہے اور طالب چھٹے کے نقش قدم پر چلنا چاہتا ہے۔ واللہ اعلم بمرادہ الصحیح

جس نے دعویٰ کیا وہ ہلاک ہوگیا، جس نے بہتان باندھا وہ خائب و خاسر ہوا، دائیں اور بائیں گمراہ ہیں، درمیانی راہ جادہ حق ہے، کتاب وسنت میں اس کی تعلیم ہے، اللہ تعالیٰ نے اس امت کو کوڑے اور تلوار کے ساتھ ادب سکھایا۔ اس میں کسی کو نرمی کی گنجائش نہیں، اپنے گھروں میں پردہ داری کے ساتھ رہو، اپنے درمیان صلح رکھو، ایک دوسرے کا حق دو ، جس نے حق سے دشمنی کے لیے تلوار نکالی وہ ہلاک ہوا، توبہ تمہارے پیچھے کھڑی ہے (جلدی کرو) میں اپنی اسی بات پر اکتفاء کرتا ہوں، اپنے لیے اور تمہارے لیے اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں۔ یہ حضرت علی (رض) کا پہلا خطبہ تھا جو انھوں نے خلیفہ بنائے جانے کے بعد ارشاد فرمایا ۔ اللالکائی
14282- عن محمد بن الحنيفة قال: لما قتل عثمان استخفى علي في دار لأبي عمرو بن حصين الأنصاري فاجتمع الناس فدخلوا عليه الدار فتداكواعلى يده ليبايعوه تداكك الإبل البهم على حياضها وقالوا: نبايعك، قال: لا حاجة لي في ذلك، عليكم بطلحة والزبير قالوا: فانطلق معنا فخرج علي وأنا معه في جماعة من الناس حتى أتينا طلحة بن عبيد الله فقال له: إن الناس قد اجتمعوا ليبايعوني ولا حاجة لي في بيعتهم، فابسط يدك أبايعك على كتاب الله وسنة رسوله، فقال له طلحة: أنت أولى بذلك مني وأحق لسابقتك وقرابتك، وقد اجتمع لك من هؤلاء الناس من تفرق عني، فقال له علي: أخاف أن تنكث بيعتي وتغدر بي، قال: لا تخافن ذلك فوالله لا ترى من قبلي أبدا شيئا تكرهه، قال: الله عليك بذلك كفيل؟ قال: الله علي بذلك كفيل، ثم أتى الزبير بن العوام ونحن معه فقال له مثل ما قال لطلحة ورد عليه مثل الذي رد عليه طلحة، وكان طلحة قد أخذ لقاحالعثمان ومفاتيح بيت المال وكان الناس اجتمعوا عليه ليبايعوه، ولم يفعلوا فضربالركبان بخبره إلى عائشة وهي بسرففقالت: كأني أنظر إلى أصبعه تبايع بخبوغدر، قال ابن الحنفية: لما اجتمع الناس على علي قالوا: إن هذا الرجل قد قتل ولا بد للناس من إمام ولا نجد لهذا الأمر أحق منك ولا أقدم سابقة ولا أقرب برسول الله صلى الله عليه وسلم برحم منك، قال: لا تفعلوا فإني وزيرا لكم خير لكم مني أميرا، قالوا: والله ما نحن بفاعلين أبدا حتى نبايعك وتداكوا على يده، فلما رأى ذلك قال: إن بيعتي لا تكون في خلوة إلا في المسجد ظاهرا وأمر مناديا فنادى المسجد المسجد فخرج وخرج الناس معه فصعد المنبر فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال: حق وباطل ولكل أهل، ولئن كثر الباطل لقد نما بما فعل ولئن قل الحق فلربما ولقلما ما أدبر شيء فأقبل ولئن رد إليكم أمركم إنكم لسعداء وإني أخشى أن تكونوا في فترة وما علي إلا الجهد سبق الرجلان وقام الثالث ثلاثة واثنان ليس معهما سادس ملك مقرب، ومن أخذ الله ميثاقه وصديق نجا، وساع مجتهد وطالب يرجو اثرة السادس، هلك من ادعى، وخاب من افترى اليمين والشمال مضلة، والوسطى الجادة منهج عليه بما في الكتاب وآثار النبوة، فإن الله أدب هذه الأمة بالسوط والسيف ليس لأحد فيها عندنا هوادة فاستتروا ببيوتكم وأصلحوا ذات بينكم، وتعاطوا الحق فيما بينكم فمن أبرز صفحته معاندا للحق هلك والتوبة من ورائكم وأقول قولي هذا وأستغفر الله لي ولكم، فهي أول خطبة خطبها بعد ما استخلف. "اللالكائي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৮৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدت خلافت
14283 حارث بن عبداللہ الجہنی سے مروی ہے کہ مجھے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن کی طرف بھیجا، اگر مجھے یقین ہوتا کہ آپ میرے پیچھے وفات پاجائیں گے تو میں ہرگز آپ سے جدا نہ ہوتا۔ پھر میرے پاس ایک آنے والا خبر لے کر آیا کہ محمد کی وفات ہوگئی ہے۔ میں نے پوچھا : کب ؟ اس نے کہا : آج۔ اگر میرے پاس اسلحہ ہوتا تو میں اس آدمی سے جنگ کر بیٹھتا۔ پھر تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ حضرت ابوکر (رض) کی طرف سے ایک قاصد آیا اور بولا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوگئی ہے لوگوں نے ان کے بعد ان کے خلیفہ ابوبکر کی بیعت کرلی ہے، لہٰذا آپ بھی اس کی بیعت کرلیں جو آپ کی طرف (ان کی جانب سے گورنر مقرر) ہے۔ تب مجھے اس خبر پر یقین آیا پھر میں نے پہلے شخص سے پوچھا : کہ تم کو یہ خبر کیسے معلوم ہوئی (حالانکہ تم یہیں رہ رہے تھے) اس نے کہا : پہلی (آسمانی) کتاب میں ہے کہ یہ نبی آج کے دن مرے گا۔ میں نے پوچھا : اس کے بعد کیا ہوگا (ہماری کتاب کیا کہتی ہے ؟ ) اس نے کہا : ان کی چکی پینتیس سال تک چلتی رہے گی۔ (یعنی خلافت پینتیس سال تک نبوت کے طریق پر قائم رہے گی) ۔ ابونعیم
14283- عن الحارث بن عبد الله الجهني قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى اليمن، ولو أوقن أنه يموت لم أفارقه فأتاني قائل بخبر أن محمدا قد مات، قلت متى؟ قال: اليوم، فلو أن عندي سلاحا لقاتلته فلم ألبث إلا يسيرا حتى أتاني آت من أبي بكر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد توفي فبايع الناس خليفته من بعده فبايع من قبلك، فقلت للرجل الذي أخبرني: من أين علمت ذلك؟ قال: إن في الكتاب الأول أنه يموت نبي في هذا اليوم، قلت: وكيف يكون بعده؟ قال: ستدور رحاهم إلى خمس وثلاثين سنة. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৮৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوسرا باب۔۔۔امارت (حکومت) اور اس کے متعلق

قسم الافعال۔۔۔امارت (حکومت) کی ترغیب میں
14284 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! اللہ پاک قرآن کی نسبت سلطان (عادل کے حاکم وقت) کے ذریعے زیادہ (لوگوں کی مال و عزت کی) حفاظت فرماتا ہے۔

الخطیب فی التاریخ
14284- عن عمر قال: والله ما يزعالله بسلطان أعظم مما يزع بالقرآن. "خط".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৮৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کی ترغیب میں
14285 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے اس سلطان (بادشاہ) کے بارے میں بتائیے کہ جس کے آگے گردنیں تسلیم ہوجائیں اور لشکر اس کے تابع ہوجائیں وہ کیا بادشاہ ہے ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

وہ زمین پر رحمان کا سایہ ہے، بندگان خدا میں سے ہر مظلوم اس کے ٹھکانے پر آکر پناہ حاصل کرتا ہے، اگر وہ عدل کرتا ہے تو اس کے لیے اجر لازم ہے اور رعایا پر اس کا شکر لازم ہے اور اگر (خدانخواستہ) وہ ظلم اور خیانت کرتا ہے تو اس پر اس کا وبال اور مصیبت آتی ہے اور رعایا کے لیے ایسے موقع پر صبر کرنا لازم ہے۔ الدیلمی
14285- عن عمر قال: قلت: يا رسول الله أخبرني عن هذا السلطان الذي ذلت له الرقاب وخضعت له الأجناد ما هو؟ قال: هو ظل الرحمن عز وجل في الأرض يأوي إليه كل مظلوم من عباده، فإن عدل كان له الأجر وعلى الرعية الشكر، وإن جار وخان وظلم كان عليه الإصر وعلى الرعية الصبر. "الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৮৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کی ترغیب میں
14286 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا :

لوگوں (کے حالات) کو صرف امیر وقت درست کرسکتا ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد۔

لوگوں نے پوچھا : یا امیر المومنین ! نیک تو درست ہے فاجر کے ذریعے کیسے حالات درست ہوں گے ؟ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : فاجر کے ذریعے اللہ پاک راستوں کو پر امن بنادیتا ہے، اس کے ساتھ دشمن سے جنگ کی جاتی ہے، اس کے واسطے سے مال غنیمت کا حصول ہوتا ہے، اس کے حکم پر حدود اللہ کا نفاذ ہوتا ہے، اس کی سربراہی میں بیت اللہ کا حج کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے مسلمان امن کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا ہے حتیٰ کہ اس کی موت آجاتی ہے۔ خواہ اس کے اپنے کردار کیسے ہوں مگر وہ پھر بھی لوگوں کے لیے باعث امن ہوتا ہے۔ شعب الایمان للبیہقی
14286- عن علي قال: لا يصلح الناس إلا أمير بر أو فاجر قالوا: يا أمير المؤمنين هذا البر فكيف بالفاجر؟ قال: إن الفاجر يؤمن الله به السبيل ويجاهد به العدو ويجيء به الفيء ويقام به الحدود، ويحج به البيت، ويعبد الله فيه المسلم آمنا حتى يأتيه أجله. لا "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৮৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14287 (مسند الصدیق) قیس بن ابی حازم، نافع بن عمروالطائی سے روایت کرتے ہیں، نافع کہتے ہیں : میں حضرت ابوبکر (رض) کی خدمت میں حاضرہوا، آپ (رض) منبر پر جلوہ افروز تھے اور ارشاد فرما رہے تھے :

جو شخص امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معاملات (حکومت) میں سے کسی منصب پر فائز ہوا پھر اس نے ان پر کتاب اللہ کے احکام کو نافذ نہیں کیا تو اس پر اللہ کی لعنت ہے۔ البغوی
14287- "الصديق" عن قيس بن أبي حازم عن نافع بن عمرو الطائي قال: شهدت أبا بكر وهو على المنبر يقول: من ولي من أمر أمة محمد صلى الله عليه وسلم شيئا فلم يقم فيهم بكتاب الله فعليه بهلة الله. "البغوي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৮৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14288 رافع الطائی سے مروی ہے کہ میں ایک غزوہ میں حضرت ابوبکر (رض) کی ہم صحبت تھا۔ جب ہم غزوے سے واپس لوٹنے لگے، میں نے عرض کیا : اے ابوبکر ! مجھے کچھ نصیحت فرما دیجئے ! حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا :

فرض نماز اس کے وقت پر قائم کر، اپنے مال کی زکوۃ جی جان سے ادا کر، رمضان کے روزے رکھ، بیت اللہ کا حج کر، یادرکھ ! اسلام میں ہجرت اچھا عمل ہے، جہاد ہجرت میں اچھا عمل ہے۔ کبھی امیر نہ بننا۔ پھر آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : یہ امارت۔ حکومت جو آج تم دیکھ رہے ہو ایک نمونہ ہے۔ قریب ہے کہ یہ پھیل جائے اور (اس قدر) اس کی کثرت ہوجائے کہ نااہل بھی اس کو پالیں۔ جو امیر ہوگا وہ لوگوں میں سب سے طویل حساب کتاب کا سامنا کرے گا اور سخت عذاب میں مبتلا ہوگا۔ اور جو امیر (حاکم) نہ ہوگا وہ آسان حساب دے گا اور (اگر اس پر عذاب ہوا تو) اس کا عذاب بھی آسان ہوگا، کیونکہ حکام مومنین پر ظلم کرنے میں قریب ہوتے ہیں۔ جو مومنین پر ظلم کرتا ہے وہ اللہ کے ذمے کو توڑتا ہے کیونکہ وہ اللہ کے پڑوسی اور اس کے بندے ہیں۔ اللہ کی قسم ! تمہارے کسی پڑوسی کی بکری یا اونٹ کو کوئی تکلیف لاحق ہوتی ہے تو وہ بھی تکلیف اور دکھ محسوس کرتا ہے اور کہتا ہے : ہائے میرے پڑوسی کی بکری یا اونٹ کیسی تکلیف میں ہے۔ تو اللہ پاک تو اپنے پڑوسی کی وجہ سے زیادہ غضب ناک ہوتا ہے۔ ابن المبارک فی الزھد
14288- عن رافع الطائي قال: صحبت أبا بكر في غزوة فلما قفلنا قلت: يا أبا بكر أوصني قال: أقم الصلاة المكتوبة لوقتها وأد زكاة مالك طيبة بها نفسك، وصم رمضان، واحجج البيت، واعلم أن الهجرة في الإسلام حسن وأن الجهاد في الهجرة حسن ولا تكن أميرا، ثم قال: هذه الإمارة التي ترى اليوم سيرة قد اوشكت أن تفشو وتكثر حتى ينالها من ليس لها بأهل، وانه من يكن أميرا فإنه من أطول الناس حسابا وأغلظه عذابا، ومن لا يكون أميرا فإنه من أيسر الناس حسابا وأهونه عذابا لأن الأمراء أقرب الناس من ظلم المؤمنين، ومن يظلم المؤمنين فإنما يخفر الله هم جيران الله وهم عباد الله، والله إن أحدكم لتصاب شاة جاره أو بعير جاره فيبيت وارم العضل يقول: شاة جاري أو بعير جاري فإن الله أحق أن يغضب لجيرانه. "ابن المبارك في الزهد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৮৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14289 زینب بنت المہاجر سے مروی ہے، فرماتی ہیں : میں حج کے ارادے سے نکلی، میرے ساتھ ایک دوسری عورت بھی تھی۔ میں نے اپنے لیے ایک خیمہ کھڑا کرلیا اور نذر مان لی کہ میں کسی سے بات نہیں کروں گی۔ پھر ایک آدمی آیا اور اس نے خیمے کے دروازے پر کھڑے ہو کر السلام علیکم کہا۔ اس کے سلام کا جواب میری ساتھی نے دیا۔ آدمی نے اس سے پوچھا : کیا بات ہے تیری ساتھی جواب کیوں نہیں دیتی۔ اس نے نذر مانی ہے کہ کسی سے بات نہیں کرے گی۔ پھر آدمی نے (مجھے مخاطب ہو کر) کہا : بات کر، کیونکہ یہ تو جاہلیت کا عمل ہے۔ زینب کہتی ہیں : تب میں بولی پڑی اور میں نے پوچھا : آپ کون ہیں، اللہ آپ پر رحم کرے۔ آدمی نے جواب دیا : مہاجرین کا آدمی ہوں ۔ میں نے پوچھا : کون سے مہاجرین میں سے ؟ آدمی نے کہا : قریش میں سے۔ میں نے پوچھا : کون سے پر یش میں سے ؟ تب اس آدمی نے کہا : تم بہت سوال کرتی ہو، میں ابوبکر ہوں۔ میں نے عرض کیا : اے خلیفہ رسول اللہ ! ہم (مسلمان) جاہلیت کے زمانے سے ابھی نکلے ہی ہیں ہمارے لوگ ایک دوسرے پر کم ہی اعتماد کرتے ہیں اب اللہ پاک امن وامان لے آیا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ یہ حالات ہمارے ساتھ کب تک رہیں گے ؟ ارشاد فرمایا : جب تک تمہارے ائمہ درست رہیں۔ میں نے پوچھا : ائمہ کون ہیں ؟ آپ (رض) نے پوچھا : کیا تیری قوم میں ایسے سردار نہیں ہیں جن کی اطاعت کی جاتی ہے ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ضرور ہیں۔ ارشاد فرمایا : پس وہی (ائمہ ہیں) ۔ ابن سعد
14289- عن زينب بنت المهاجر قالت: خرجت حاجة ومعي امرأة فضربت علي فسطاطاونذرت أن لا أتكلم فجاء رجل فوقف على باب الخيمة فقال: السلام عليكم فردت عليه صاحبتي، فقال: ما شأن صاحبتك لم ترد علي؟ قالت: إنها مصمتة نذرت أن لا تتكلم فقال: تكلمي، فإن هذا من فعل الجاهلية، فقلت: من أنت يرحمك الله؟ قال: امرؤ من المهاجرين، قلت: من أي المهاجرين؟ قال: من قريش، قلت: من أي قريش؟ قال: إنك لسؤول أنا أبو بكر، قلت يا خليفة رسول الله إنا كنا حديث عهد بجاهلية لا يأمن بعضنا بعضا وقد جاء الله من الأمر بما ترى، فحتى متى يدوم لنا هذا! قال: ما صلحت أئمتكم، قلت: ومن الأئمة؟ قال: أليس في قومك أشراف يطاعون؟ قلت: بلى قال: أولئك. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৯০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14290 حیۃ بنت ابی حیۃ فرماتی ہیں : ایک آدمی (دن کی کڑی) دوپہر میں میرے پاس آیا میں نے پوچھا : اے بندہ خدا تیری کیا حاجت ہے ؟ آدمی نے کہا : میں اور میرا ساتھی اپنے اونٹ کی تلاش میں نکلے تھے۔ میرا ساتھی تو تلاش میں نکل گیا ہے جبکہ میں سائے میں آگیا تاکہ کچھ سستالوں، مجھے کچھ (پانی غیرہ) پینے کی طلب ہے۔ حیۃ کہتی ہیں : میں اپنی اونٹنی کے پاس گئی جو تھوڑا بہت دودھ دے دیتی تھی میں نے اس کا دودھ دوھ کر اس آدمی کو پلایا۔ مجھے اس آدمی میں نیک صورت نظر آئی۔ میں نے اس سے پوچھا : اے بندہ خدا تو کون ہے ؟ اس نے کہا : ابوبکر۔ میں نے پوچھا : کیا وہی ابوبکر جو رسول اللہ کا ساتھی ہے، جس کے متعلق میں نے سنا ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں۔ تب میں نے ابوبکر (رض) کو اپنے لوگوں کی زمانہ جاہلیت کی کچھ جنگوں اور دوستیوں کا حال سنایا جو قبیلہ حتعم وغیرہ کے ساتھ ہوئی تھیں۔ پھر میں نے پوچھا : اے اللہ کے بندے ! لوگوں کی امن و سکون والی یہ حالت کب تک رہے گی ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا : جب تک ائمہ درست رہیں گے۔ پھر آپ (رض) نے فرمایا : کیا تو قبیلے کے سردار کو نہیں دیکھتی لوگ اس کی اتباع کرتے ہیں اور اس کی بات مانتے ہیں، پس یہ قوم کے سردار جب تک درست رہیں گے (تب تک یونہی امن و سکون رہے گا) ۔ مسدد، ابن منبع، مسند الدارمی

ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں : اس کی اسناد حسن جید ہے۔
14290- عن حية بنت أبي حية قالت: دخل علي رجل بالظهيرة فقلت ما حاجتك يا عبد الله؟ قال: أقبلت أنا وصاحب لي في بغاءإبل لنا؛ فانطلق صاحبي يبغي ودخلت في الظل أستظل وأشرب من الشراب، قالت: فقمت إلى لبنية لنا حامضة فسقيته منها وتوسمته وقلت: يا عبد الله من أنت؟ قال: أبو بكر، قلت: أبو بكر صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي سمعت به؟ قال: نعم فذكرت له غزونا خثعم في الجاهلية وغزو بعضنا بعضا وما جاء الله به من الإلف، فقلت: يا عبد الله حتى متى أمر الناس هذا؟ قال: ما استقامت الأئمة، قال ألم ترى السيد يكون في الحي أيتبعونه ويطيعونه فهم أولئك ما استقاموا. "مسدد وابن منيع والدارمي" قال ابن كثير إسناده حسن جيد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৯১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14291 رافع الطائی حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے روایت کرتے ہیں آپ (رض) نے خطبہ ارشاد فرمایا : پھر مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :

جس نے کسی مسلمان پر ظلم کیا اس نے اللہ کے ذمے کو توڑ دیا اور جو شخص مسلمانوں کا والی بنا پھر اس نے ان کو کتاب اللہ کے مطابق نہیں چلایا اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جس نے صبح کی نماز پڑھ لی وہ اللہ کے ذمے میں آگیا۔ الدینوری

فائدہ : ذمہ سے مراد اجازت نامہ لے سکتے ہیں۔ جس طرح بین الممالک ویزے کا اجراء ہوتا ہے۔ اس کی موجودگی میں صاحب ویزے پر غیر حکومت کا ظلم ڈھانا اس شخص کے ملک کے ذمہ (ویزہ) کو توڑنا ہوتا ہے۔
14291- عن رافع الطائي عن أبي بكر الصديق أنه خطب الناس؛ فذكر المسلمين فقال: من ظلم منهم أحدا فقد أخفر ذمة الله ومن ولي من أمور المسلمين شيئا فلم يعطهم كتاب الله فعليه لعنة الله، ومن صلى الصبح فقد خفره الله"الدينوري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৯২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14292 اسماعیل بن عبیداللہ بن سعید بن ابی مریم عن ابیہ عن جدہ کی سند سے مروی ہے ابومریم کہتے ہیں کہ مجھے خبر ملی ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) کو خلیفہ بنایا گیا تو وہ منبر پر چڑھے ، اللہ کی حمدوثناء بیان کی پھر ارشاد فرمایا :

اللہ کی قسم ! اگر یہ خطرہ مجھے درپیش نہ ہوتا کہ تمہارے معاملات حکومت درہم برہم ہوجائیں گے خواہ ہم موجود ہوں تو میں یہ بات پسند کرتا کہ سلطنت کی باگ ڈور اس شخص کے سپرد کردیتا جو تم میں سے مجھے سب سے زیادہ ناپسند ہوتا پھر اس کے لیے کوئی بھلائی نہ ہوتی۔ یاد رکھو ! لوگوں میں سب سے بدبخت دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بادشاہ ہوں گے۔ یہ سن کا حاضرین خطبہ نے تعجب سے اپنی گردنیں حضرت ابوبکر (رض) کی طرف اٹھائیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے ارشاد فرمایا : پرسکون رہو، پرسکون رہو۔ تم لوگ جلد باز ہو۔ کوئی بادشاہ کسی سلطنت پر براجمان نہیں ہوتا مگر اللہ پاک کو اس کی سلطنت پر بیٹھنے سے قبل اس کی بادشاہی اور سلطنت کی خبر ہوتی ہے اور پھر اللہ پاک اس کی عمر کو نصف کم کردیتا ہے۔ اور پھر اس پر رائج وغم مسلط فرما دیتا ہے۔ جو اس کی ملکیت اور ہاتھوں میں زبر تصرف ہے اس سے اس کو بےرغبت کردیتا ہے جبکہ جو لوگوں کے مال میں ہے اس کی اس کے اندر طمع لالچ پیدا کردیتا ہے، پھر اس کی معیشت زندگی تنگ ہوجائے گی خواہ وہ عمدہ عمدہ کھانے کھائے، اعلیٰ پوشاک زیب تن کرے حتیٰ کہ پھر جب اس کا سایہ جھک جائے گا، اس کی روح نکل جائے گی اور وہ اپنے رب کے سامنے حاضر ہوگا تب اس کا پروردگار اس سے سخت حساب لے گا اور اس کی مغفرت کے مواقع کم رہ جائیں گے ۔ پس خبردار سن لو مساکین ہی بخشے بخشائے لوگ ہیں۔

ابن زنجویہ فی کتاب الاموال
14292- عن إسماعيل بن عبيد الله بن سعيد بن أبي مريم عن أبيه عن جده قال: بلغني أنه لما استخلف أبو بكر صعد المنبر فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: إنه والله لولا أن تضيع أموركم ونحن بحضرتها لأحببت أن يكون هذا الأمر في عنق أبغضكم إلي ثم لا يكون خيرا له ألا إن أشقى الناس في الدنيا والآخرة الملوك، فاشرأبالناس ورفعوا إليه رؤوسهم فقال: على رسلكم إنكم عجلون، إنه لن يملك ملك قط إلا علم الله ملكه قبل أن يملكه فينقص نصف عمره، ويوكل به الروعوالحزن ويزهده فيما بيديه ويرغبه فيما بأيدي الناس، فتضنك معيشته وإن أكل طعاما طيبا ولبس جيدا حتى إذا أضحى ظله وذهبت نفسه وورد إلى ربه فحاسبه فشد حسابه وقل غفرانه له ألا إن المساكين هم المغفورون، ألا إن المساكين هم المغفورون. "ابن زنجويه في كتاب الأموال".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৯৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14293 عمیر بن سعد الانصاری جن کو حضرت عمر (رض) نے حمص پر گورنر بنایا تھا سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت کعب (رح) سے فرمایا : میں تم سے ایک سوال پوچھتا ہوں تم چھپانا مت ۔ کعب (رح) نے فرمایا : نہیں، اللہ کی قسم ! جو میرے علم میں ہوگا میں اس کو آپ سے ہرگز نہیں چھپاؤں گا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : سب سے زیادہ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر تم کس چیز کا خوف کرتے ہو ؟ حضرت کعب (رح) نے فرمایا : گمراہ کن حکمرانوں کا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم نے سچ کہا : یہ راز مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی بتایا تھا۔ مسند احمد
14293- عن عمير بن سعد الأنصاري [كان ولاه عمر حمص فذكر الحديث] قال: قال عمر لكعب: إني أسألك عن أمر فلا تكتمني، قال: لا والله لا أكتمك شيئا أعلمه، قال: ما أخوف شيء تخوفه على أمة محمد صلى الله عليه وسلم؟ قال: أئمة مضلين قال عمر: صدقت قد أسر إلي ذلك وأعلمنيه رسول الله صلى الله عليه وسلم. "حم"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৯৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14294 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا :

اگر نہر فرات کے کنارے بھیڑ کا بچہ بھی گر کر ہلاکت کی نذر ہوجائے تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں اللہ پاک مجھ سے اس کا سوال نہ کرے۔ ابن سعد، ابن ابی شیبہ، مسدد، حلیۃ الاولیاء، ابن عساکر
14294- عن عمر قال: لو هلك حملمن ولد الضأن ضياعابشاطئ الفرات خشيت أن يسألني الله عنه. "ابن سعد ش ومسدد حل كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৯৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14295 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا :

کسی آدمی نے مکمل طور پر حکومت کی حرص کی تو یہ ممکن نہیں کہ وہ انصاف برت سکے۔ ابن ابی شیبہ
14295- عن عمر قال: ما حرص رجل كل الحرص في الإمارة فعدل فيها. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৯৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14296 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے فرمایا :

اہل زمین کے حاکموں کے لیے ہلاکت ہے، اہل آسمان کے حاکموں کی طرف سے جس دن اہل زمین اہل آسمان سے ملاقات کریں گے، مگر وہ لوگ جو عدل کو رائج کریں، حق کا فیصلہ کریں، خواہش پر فیصلہ نہ کریں، رشتہ داری کی حمایت میں فیصلہ نہ کریں، اپنی خواہش پر فیصلہ نہ کریں اور نہ کسی کے ڈر اور خوف سے ناحق فیصلہ کریں اور کتاب اللہ کو اپنی آنکھوں کے درمیان آئینہ بنا کر رکھیں۔ ابن ابی شیبہ، الزھد للاماداحمد، ابن خزیمۃ، السنن للبیہقی، ابن عساکر
14296- عن عمر قال: ويل لديان أهل الأرض من ديان أهل السماء يوم يلقونه إلا من أمالعدل وقضى بالحق، ولم يقض لهوى ولا قرابة ولا لرغبة، ولا لرهبة وجعل كتاب الله مرآة بين عينيه. "ش حم في الزهد وابن خزيمة ق كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৯৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14297 طاؤ وس (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : فیصلہ کرو اور ہم سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
14297- عن طاوس قال: قال عمر بن الخطاب: اقضوا ونسأل.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৯৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14298 سلیمان بن موسیٰ سے مروی ہے حضرت عمر بن خطاب (رض) نے لکھا : حاکم کا اپنی امارت (رعایا) میں تجارت کرنا خسارہ (اور ظلم) ہے۔ السنن للبیہقی
14298- عن سليمان بن موسى قال: كتب عمر بن الخطاب إن تجارة الأمير في إمارته خسارة. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪২৯৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14299 قطن بن وھب اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ ان کو ایک سفر میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کی رفاقت کا شرف حاصل ہوا۔ جب حضرت عمر (رض) مقام روحاء کے قریب پہنچے تو (بقول معن اور عبداللہ بن مسلمہ) حضرت عمر (رض) نے ایک چرواہے کی آواز سنی جو پہاڑ سے آرہی تھی۔ حضرت عمر (رض) اس کے پاس پہنچنے کے لیے اوپر چڑھے۔ جب اس کے قریب پہنچے تو حضرت عمر (رض) نے چرواہے کو آواز دی : اے بکریوں کے چرواہے ! چرواہے نے آپ کی آواز کا جواب دیا۔ تب حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا :

اے چرواہے ! میں ایسی جگہ کے پاس سے گزر کر آرہا ہوں جو تیری اس جگہ سے زیادہ سرسبز و شاداب ہے۔ اور ہر راعی (چرواہے) سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

یہ کہہ کر آپ (رض) اتر کر سواریوں کے ساتھ آملے۔ موطا امام مالک، ابن سعد
14299- عن قطن بن وهب عن عمه أنه كان مع عمر بن الخطاب في سفر فلما كان قريبا من الروحاء[قال معن وعبد الله بن مسلمة في حديثهما] سمع صوت راع في جبل فعدل إليه فلما دنا منه صاح يا راعي الغنم، فأجابه الراعي فقال: [يا راعيها فقال عمر] : إني مررت بمكان هو أخصب من مكانك وإن كل راع مسئول عن رعيته، ثم عدل صدور الركاب. "مالك وابن سعد"
tahqiq

তাহকীক: