কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৫ টি
হাদীস নং: ১৪৩০০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14300 محمود بن خالد سے مروی ہے کہ ہمیں سوید بن عبدالعزیز نے بیان کیا، ان کو ابوالحکم سیار نے بیان کیا وہ ابو وائل سے روایت کرتے ہیں کہ :
حضرت عمر بن خطاب (رض) نے بشر بن عاصم (رض) کو ھوازن کے صدقات (اموال زکوۃ ) کی وصولی پر مرر کردیا بشر پیچھے رہ گئے ۔ حضرت عمر (رض) نے جاکر ان سے ملاقات کی اور پوچھا : تم پیچھے کیوں رہ گئے ؟ کیا تم پر ہماری بات سننا اور اس کی اطاعت بجا لانا واجب نہیں ہے کیا ؟ بشر نے عرض کیا : کیوں نہیں، لیکن میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
جو شخص مسلمانوں کے امور (مملکت) میں سے کسی چیز کا والی بنا اس کو قیامت کے دن جہنم کے پاس پر کھڑا کردیا جائے گا اگر وہ اچھائی برتنے والا ہوا تو نجات پاجائے گا اور اگر وہ برائی اختیار کرنے والا ہوا تو پل اس کے نیچے سے شق جائے گا اور وہ اس جہنم میں ستر سال کی گہرائی تک گرتا رہے گا۔
بشر کی بات سن کر حضرت عمر (رض) بذات خود رنجیدہ اور غمزدہ ہوگئے اور واپس لوٹ آئے۔ حضرت ابوذر (رض) کی ان سے ملاقات ہوئی۔ حضرت ابوذر (رض) نے حضرت عمر (رض) سے پوچھا : کیا بات ہے میں آپ کو رنجیدہ اور غمزدہ حالت میں دیکھ رہا ہوں ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں کیوں نہ رنجیدہ وغمزدہ ہوں حا الن کہ میں نے بشر بن عاصم سے سنا ہے وہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث روایت کرتے ہیں کہ :
جو شخص مسلمانوں کے امور (مملکت) میں سے کسی چیز کا والی بنا اس کو قیامت کے روز جہنم کے پل پر کھڑا کردیا جائے گا اگر وہ اچھائی کرنے والا ہوا تو نجات پاجائے گا اور اگر وہ برائی اختیار کرنے والا ہوا تو پل اس کے نیچے سے شق ہوجائے گا اور وہ اس میں ستر سال کی گہرائی تک گرتا رہے گا۔
حضرت ابوذر (رض) نے عرض کیا : کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہیں سنی ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : نہیں۔ حضرت ابوذر (رض) نے عرض کیا : میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
جو لوگوں میں سے کسی ایک شخص کا بھی والی بنا اس کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور جہنم کے پل پر کھڑا کردیا جائے گا اگر وہ اچھائی کرنے والا ہوا تو نجات پاجائے گا اور اگر وہ برائی اختیار کرنے والا ہوا تو پل شق ہوجائے گا اور وہ جہنم میں ستر سال کی گہرائی تک جاگرے گا اور وہ جہنم سیاہ تاریک ہے۔
پھر حضرت ابوذر (رض) نے حضرت عمر (رض) سے پوچھا : دونوں حدیثوں میں سے کونسی حدیث نے آپ کے دل کو زیادہ تکلیف دی ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : دونوں ہی نے میرے دل کی تکلیف میں ڈال دیا ہے۔ لیکن پھر حکومت کون قبول کرے گا ؟ جبکہ اس میں اس قدر شختی ہے ؟ حضرت ابوذر (رض) نے عرض کیا :
وہ شخص جس کی ناک اللہ نے کاٹ دی ہو اور اس کا رخسار زمین سے ملا دیا ہو۔ بہرحال ہم (آپ کے متعلق) خیر کے سوا کچھ نہیں جانتے لیکن قریب ہے کہ آپ اگر کسی ایسے شخص کو والی بنائیں جو حکومت میں عدل نہ کرسکے تو وہ اس کے درد ناک عذاب سے نہیں نجات پاسکے گا۔
البغوی، الجامع لعبد الرزاق، ابونعیم، ابوسعید النقاش فی کتاب القضاۃ فی المتفق
کلام : سوید بن عبدالعزیز متروک (ناقابل اعتبار) راوی ہے لیکن یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے جو مسند بشر کے ذیل میں آرہی ہے۔
حضرت عمر بن خطاب (رض) نے بشر بن عاصم (رض) کو ھوازن کے صدقات (اموال زکوۃ ) کی وصولی پر مرر کردیا بشر پیچھے رہ گئے ۔ حضرت عمر (رض) نے جاکر ان سے ملاقات کی اور پوچھا : تم پیچھے کیوں رہ گئے ؟ کیا تم پر ہماری بات سننا اور اس کی اطاعت بجا لانا واجب نہیں ہے کیا ؟ بشر نے عرض کیا : کیوں نہیں، لیکن میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
جو شخص مسلمانوں کے امور (مملکت) میں سے کسی چیز کا والی بنا اس کو قیامت کے دن جہنم کے پاس پر کھڑا کردیا جائے گا اگر وہ اچھائی برتنے والا ہوا تو نجات پاجائے گا اور اگر وہ برائی اختیار کرنے والا ہوا تو پل اس کے نیچے سے شق جائے گا اور وہ اس جہنم میں ستر سال کی گہرائی تک گرتا رہے گا۔
بشر کی بات سن کر حضرت عمر (رض) بذات خود رنجیدہ اور غمزدہ ہوگئے اور واپس لوٹ آئے۔ حضرت ابوذر (رض) کی ان سے ملاقات ہوئی۔ حضرت ابوذر (رض) نے حضرت عمر (رض) سے پوچھا : کیا بات ہے میں آپ کو رنجیدہ اور غمزدہ حالت میں دیکھ رہا ہوں ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں کیوں نہ رنجیدہ وغمزدہ ہوں حا الن کہ میں نے بشر بن عاصم سے سنا ہے وہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث روایت کرتے ہیں کہ :
جو شخص مسلمانوں کے امور (مملکت) میں سے کسی چیز کا والی بنا اس کو قیامت کے روز جہنم کے پل پر کھڑا کردیا جائے گا اگر وہ اچھائی کرنے والا ہوا تو نجات پاجائے گا اور اگر وہ برائی اختیار کرنے والا ہوا تو پل اس کے نیچے سے شق ہوجائے گا اور وہ اس میں ستر سال کی گہرائی تک گرتا رہے گا۔
حضرت ابوذر (رض) نے عرض کیا : کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہیں سنی ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : نہیں۔ حضرت ابوذر (رض) نے عرض کیا : میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
جو لوگوں میں سے کسی ایک شخص کا بھی والی بنا اس کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور جہنم کے پل پر کھڑا کردیا جائے گا اگر وہ اچھائی کرنے والا ہوا تو نجات پاجائے گا اور اگر وہ برائی اختیار کرنے والا ہوا تو پل شق ہوجائے گا اور وہ جہنم میں ستر سال کی گہرائی تک جاگرے گا اور وہ جہنم سیاہ تاریک ہے۔
پھر حضرت ابوذر (رض) نے حضرت عمر (رض) سے پوچھا : دونوں حدیثوں میں سے کونسی حدیث نے آپ کے دل کو زیادہ تکلیف دی ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : دونوں ہی نے میرے دل کی تکلیف میں ڈال دیا ہے۔ لیکن پھر حکومت کون قبول کرے گا ؟ جبکہ اس میں اس قدر شختی ہے ؟ حضرت ابوذر (رض) نے عرض کیا :
وہ شخص جس کی ناک اللہ نے کاٹ دی ہو اور اس کا رخسار زمین سے ملا دیا ہو۔ بہرحال ہم (آپ کے متعلق) خیر کے سوا کچھ نہیں جانتے لیکن قریب ہے کہ آپ اگر کسی ایسے شخص کو والی بنائیں جو حکومت میں عدل نہ کرسکے تو وہ اس کے درد ناک عذاب سے نہیں نجات پاسکے گا۔
البغوی، الجامع لعبد الرزاق، ابونعیم، ابوسعید النقاش فی کتاب القضاۃ فی المتفق
کلام : سوید بن عبدالعزیز متروک (ناقابل اعتبار) راوی ہے لیکن یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے جو مسند بشر کے ذیل میں آرہی ہے۔
14300- عن محمود بن خالد حدثنا سويد بن عبد العزيز حدثنا سيار أبو الحكم عن أبي وائل أن عمر بن الخطاب استعمل بشر بن عاصم على صدقات هوازن فتخلف بشر فلقيه عمر فقال: ما خلفك؟ أمالنا عليك سمع وطاعة قال: بلى ولكن سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من ولي شيئا من أمور المسلمين أتي به يوم القيامة حتى يوقف على جسر جهنم فإن كان محسنا نجا، وإن كان مسيئا انخرق به الجسر فهوى فيه سبعين خريفا، فرجع عمر كئيبا حزينا فلقيه أبو ذر فقال: مالي أراك كئيبا حزينا؟ قال: ما يمنعني أن لا أكون كئيبا حزينا وقد سمعت بشر بن عاصم يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: من ولي شيئا من أمر المسلمين أتى به يوم القيامة حتى يوقف على جسر جهنم فإن كان محسنا نجا، وإن كان مسيئا انخرق به الجسر فيهوي فيه سبعين خريفا، قال أبو ذر: أو ما سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا، قال: أشهد أني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من ولي أحدا من الناس أتي به يوم القيامة حتى يوقف على جسر جهنم فإن كان محسنا نجا وإن كان مسيئا انخرق به الجسر فهوى به سبعين خريفا وهي سوداء مظلمة فأي الحديثين أوجع لقلبك؟ قال: كلاهما قد أوجع قلبي، فمن يأخذها بما فيها؟ قال أبو ذر: من سلتالله أنفه وألصق خده بالأرض أما إنا لا نعلم إلا خيرا وعسى إن وليتها من لا يعدل فيها أن لا ينجو من ألمها. "البغوي عب وأبو نعيم وأبو سعيد النقاش في كتاب القضاة في المتفق" وسويد بن عبد العزيز متروك ولكن له طرق أخرى تأتي في مسند بشر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14301 عمران بن عبداللہ سے مروی ہے کہ حضرت ابی (رض) بن کعب نے حضرت عمر (رض) بن خطاب کو فرمایا : کیا بات ہے آپ مجھے حکومت کی کوئی ذمہ داری نہیں سونپتے ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مجھے اچھا نہیں لگتا کہ آپ اپنے دین کو گندا کریں۔ ابن سعد
14301- عن عمران بن عبد الله قال: قال أبي بن كعب لعمر بن الخطاب: مالك لا تستعملني؟ قال: أكره أن تدنس دينك. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14302 حضرت سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اپنی ولایت (دور خلافت) میں فرمایا : جو شخص میرے بعد اس منصب پر بیٹھے گا وہ جان لے کہ قریب کے اور دور کے (بہت سے) لوگ اس کو اس سے حاصل کرنے کا خیال رکھیں گے اور اللہ کی قسم ! میں تو اپنی جان کے دفاع میں لوگوں سے قتال کرنے سے دریغ نہیں کروں گا۔ ابن سعد
14302- عن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب قال في ولايته: من ولي هذا الأمر بعدي فليعلم أن سيريده عنه القريب والبعيد، وايم الله ما كنت إلا أقاتل الناس عن نفسي قتالا. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14303 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا :
مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میں اس بند گھر (یعنی محل) میں نماز پڑھوں ۔ مسدد
مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میں اس بند گھر (یعنی محل) میں نماز پڑھوں ۔ مسدد
14303- عن عمر قال: ما أحب أصلي في بيتهم هذا المغلق يعني المقصورة. "مسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14304 موسیٰ بن جبیر اہل مدینہ کے شیوخ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت عمرو بن العاص (رض) (گورنر مصر) کو لکھا :
امابعد ! میں نے اپنی طرف کے لوگوں کے لئے، ان کی اولاد کے لیے اور جو بھی مدینے آئیں اہل یمن وغیرہ میں سے اور جو تمہاری طرف سے اور دوسرے علاقوں سے یہاں آئیں ان سب (مسلمانوں) کے لیے وظائف مقرر کردیئے ہیں۔ دیکھو جن کے لیے میں نے کوئی وظیفہ مقرر کیا ہو پھر وہ تمہارے پاس آئے تو اس کو اور اس کی اولاد کو میرا مقررکردہ وظیفہ دو ۔ اور جو ایسے لوگ تمہارے پاس آئیں جن کے لیے میں نے کوئی وظیفہ مقرر نہ کیا ہو تو تم یہ دیکھو کہ میں نے ان کے مثل لوگوں کے لیے کیا وظیفے مقرر کیے ہیں پھر تم اس کی مثل ان کے لیے وظیفے مقرر کردو۔ اور تم خود اپنے لیے دو سو دینار لے لو۔ یہ وظیفہ بدر کی مہاجرین اور انصار صحابہ کا وظیفہ ہے۔ تمہارے دوسرے ہم عصر لوگوں میں سے کسی کو وظیفہ کی یہ مقدار نہیں پہنچی۔ کیونکہ تم مسلمانوں کے گورنروں میں سے ہو اس وجہ سے میں نے تم کو سب سے اوپر رکھا ہے۔ اور میں جانتا ہوں کہ ایک اہم کام تمہارے ذمے لازم ہے۔ تم خراج کو پورا پورا حاصل کرو لیکن حق کے ساتھ لو۔ پھر جمع کرنے کے بعد اس کو روک لو اور پھر اس میں سے مسلمانوں کے عطیے اور دوسرے اہم مصارف نکالو جن کے بغیر چارہ کار نہیں۔ پھر جو بچ جائے وہ میرے پاس (دارالخلافہ) بھیج دو ۔ جان رکھو کہ تمہاری اطراف کی سرزمین مصر میں خمس نہیں ہے۔ کیونکہ یہ (تلوار کی بجائے) صلح کے ساتھ فتح ہوئی ہے۔ اور اس میں مسلمانوں کے لیے مال غنیمت نہیں ہے۔ پہلے تم اس مال میں سے سرحدوں کی حفاظت میں خرچ کرو گے اور سپاہیوں کے وظیفے دو گے، اس کے بعد بچنے والے مال میں سے اللہ کے بتائے ہوئے مصارف میں خرچ کرو گے۔ فقیر، مسکین وغیرہ اور اے عمرو ! جان لو کہ اللہ پاک تم کو دیکھ رہا ہے اور تمہارے عمل کو دیکھ رہا ہے۔ بیشک اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی کتاب میں ارشاد فرماتا ہے :
واجعلنا للمتقین اماما۔
اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا (سربراہ) بنا۔
یعنی تم کو ایسا ہونا چاہیے کہ جس کی پیروی کی جائے۔ نیز یاد رکھنا تمہارے ساتھ ذمی (غیر مسلم معاہدہ میں شامل) لوگ بھی ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو خیر خواہی کی وصیت کی اور قبطیوں کے ساتھ خیر خواہی کی تاکید کی ہے۔ اور یہی ذمی قبطی بھی ہیں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :
قبطیوں کے ساتھ خیر خواہی برتو بیشک ان کا ذمہ (حفاظت و پاسداری) ہے اور رحم کا تعلق ہے کیونکہ ام اسماعیل انہی میں سے تھیں۔ نیز رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :
جس نے کسی معاہدہ (ذمی) پر ظلم کیا یا اس کو طاقت سے اوپر بوجھ لادا میں قیامت کے دن اس کا خصم (دشمن) ہوں گا۔
اے عمرو ! پس ڈرتے رہنا کہ کہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے خصم نہ بن جائیں بیشک وہ جس کے خصم ہوں گے اس پر غالب آئیں گے۔ اللہ کی قسم ! اے عمرو ! مجھے اس امت کی حکمرانی کے ساتھ آزمائش و مصیبت میں ڈال دیا گیا ہے، میں اپنے آپ کو کمزور محسوس کرتا ہوں، میری رعیت بکھر چکی ہے اور میری ہڈیاں کمزور ہوچکی ہیں۔ میں اللہ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اس حال میں اپنے پاس اٹھالے کہ میں کوتاہی کرنے والا شمار نہ کیا جاؤں ۔ کیونکہ اللہ کی قسم ! مجھے سخت ڈر اور خوف لاحق ہے کہ اگر تیری عمل داری کے دور دراز گوشے میں بھی کہیں اگر کوئی اونٹ ضائع ہو کر ہلاک ہوگیا تو مجھ سے قیامت کے دن اس کے بارے میں ضرور سوال کیا جائے گا۔ ابن سعد
امابعد ! میں نے اپنی طرف کے لوگوں کے لئے، ان کی اولاد کے لیے اور جو بھی مدینے آئیں اہل یمن وغیرہ میں سے اور جو تمہاری طرف سے اور دوسرے علاقوں سے یہاں آئیں ان سب (مسلمانوں) کے لیے وظائف مقرر کردیئے ہیں۔ دیکھو جن کے لیے میں نے کوئی وظیفہ مقرر کیا ہو پھر وہ تمہارے پاس آئے تو اس کو اور اس کی اولاد کو میرا مقررکردہ وظیفہ دو ۔ اور جو ایسے لوگ تمہارے پاس آئیں جن کے لیے میں نے کوئی وظیفہ مقرر نہ کیا ہو تو تم یہ دیکھو کہ میں نے ان کے مثل لوگوں کے لیے کیا وظیفے مقرر کیے ہیں پھر تم اس کی مثل ان کے لیے وظیفے مقرر کردو۔ اور تم خود اپنے لیے دو سو دینار لے لو۔ یہ وظیفہ بدر کی مہاجرین اور انصار صحابہ کا وظیفہ ہے۔ تمہارے دوسرے ہم عصر لوگوں میں سے کسی کو وظیفہ کی یہ مقدار نہیں پہنچی۔ کیونکہ تم مسلمانوں کے گورنروں میں سے ہو اس وجہ سے میں نے تم کو سب سے اوپر رکھا ہے۔ اور میں جانتا ہوں کہ ایک اہم کام تمہارے ذمے لازم ہے۔ تم خراج کو پورا پورا حاصل کرو لیکن حق کے ساتھ لو۔ پھر جمع کرنے کے بعد اس کو روک لو اور پھر اس میں سے مسلمانوں کے عطیے اور دوسرے اہم مصارف نکالو جن کے بغیر چارہ کار نہیں۔ پھر جو بچ جائے وہ میرے پاس (دارالخلافہ) بھیج دو ۔ جان رکھو کہ تمہاری اطراف کی سرزمین مصر میں خمس نہیں ہے۔ کیونکہ یہ (تلوار کی بجائے) صلح کے ساتھ فتح ہوئی ہے۔ اور اس میں مسلمانوں کے لیے مال غنیمت نہیں ہے۔ پہلے تم اس مال میں سے سرحدوں کی حفاظت میں خرچ کرو گے اور سپاہیوں کے وظیفے دو گے، اس کے بعد بچنے والے مال میں سے اللہ کے بتائے ہوئے مصارف میں خرچ کرو گے۔ فقیر، مسکین وغیرہ اور اے عمرو ! جان لو کہ اللہ پاک تم کو دیکھ رہا ہے اور تمہارے عمل کو دیکھ رہا ہے۔ بیشک اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی کتاب میں ارشاد فرماتا ہے :
واجعلنا للمتقین اماما۔
اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا (سربراہ) بنا۔
یعنی تم کو ایسا ہونا چاہیے کہ جس کی پیروی کی جائے۔ نیز یاد رکھنا تمہارے ساتھ ذمی (غیر مسلم معاہدہ میں شامل) لوگ بھی ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو خیر خواہی کی وصیت کی اور قبطیوں کے ساتھ خیر خواہی کی تاکید کی ہے۔ اور یہی ذمی قبطی بھی ہیں۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :
قبطیوں کے ساتھ خیر خواہی برتو بیشک ان کا ذمہ (حفاظت و پاسداری) ہے اور رحم کا تعلق ہے کیونکہ ام اسماعیل انہی میں سے تھیں۔ نیز رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :
جس نے کسی معاہدہ (ذمی) پر ظلم کیا یا اس کو طاقت سے اوپر بوجھ لادا میں قیامت کے دن اس کا خصم (دشمن) ہوں گا۔
اے عمرو ! پس ڈرتے رہنا کہ کہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے خصم نہ بن جائیں بیشک وہ جس کے خصم ہوں گے اس پر غالب آئیں گے۔ اللہ کی قسم ! اے عمرو ! مجھے اس امت کی حکمرانی کے ساتھ آزمائش و مصیبت میں ڈال دیا گیا ہے، میں اپنے آپ کو کمزور محسوس کرتا ہوں، میری رعیت بکھر چکی ہے اور میری ہڈیاں کمزور ہوچکی ہیں۔ میں اللہ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے اس حال میں اپنے پاس اٹھالے کہ میں کوتاہی کرنے والا شمار نہ کیا جاؤں ۔ کیونکہ اللہ کی قسم ! مجھے سخت ڈر اور خوف لاحق ہے کہ اگر تیری عمل داری کے دور دراز گوشے میں بھی کہیں اگر کوئی اونٹ ضائع ہو کر ہلاک ہوگیا تو مجھ سے قیامت کے دن اس کے بارے میں ضرور سوال کیا جائے گا۔ ابن سعد
14304- عن موسى بن جبير عن شيوخ من أهل المدينة قالوا: كتب عمر بن الخطاب إلى عمرو بن العاص أما بعد فإني قد فرضت لمن قبلي في الديوان ولذريتهم ولمن ورد علينا بالمدينة من أهل اليمن وغيرهم ممن توجه إليك وإلى البلدان، فانظر من فرضت له فنزل بك فاردد عليه العطاء وعلى ذريته ومن نزل بك ممن لم أفرض له فافرض له على نحو مما رأيتني فرضت لأشباهه، وخذ لنفسك مائتي دينار فهذه فرائض أهل بدر من المهاجرين والأنصار ولم أبلغ بهذا أحدا من نظرائك غيرك لأنك من عمال المسلمين فألحقتك بأرفع ذلك، وقد علمت أن مؤنا تلزمك فوفر الخراج وخذه من حقه، ثم عف عنه بعد جمعه، فإذا حصل لك وجمعته أخرجت عطاء المسلمين وما يحتاج إليه مما لا بد منه، ثم انظر فيما فضل بعد ذلك فاحمله إلي واعلم أن ما قبلك من أرض مصر ليس فيها خمس وإنما هي أرض صلح وما فيها للمسلمين فيء تبدأ بمن أغنى عنهم في ثغورهم وأجزأ عنهم في أعمالهم ثم تفيض ما فضل بعد ذلك على من سمى الله واعلم يا عمرو أن الله يراك ويرى عملك فإنه قال تبارك وتعالى في كتابه: {وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاماً} يريد أن يقتدى به، وأن معك أهل ذمة وعهد وقد أوصى رسول الله صلى الله عليه وسلم بهم وأوصى بالقبط فقال: استوصوا بالقبط خيرا فإن لهم ذمة ورحما ورحمهم أن أم إسماعيل منهم وقد قال صلى الله عليه وسلم: من ظلم معاهدا أو كلفه فوق طاقته فأنا خصمه يوم القيامة، احذر يا عمرو أن يكون رسول الله صلى الله عليه وسلم لك خصما فإنه من خاصمه خصمه، والله يا عمرو لقد ابتليت بولاية هذه الأمة وآنست من نفسي ضعفا، وانتشرت رعيتي ورق عظمي، فاسأل الله أن يقبضني إليه غير مفرط، والله إني لأخشى لو مات جمل بأقصى عملك ضياعا أن أسأل عنه يوم القيامة.
"ابن سعد".
"ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14305 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا :
جس نے کسی کو محبت یارشتہ داری کی وجہ سے کوئی منصب تفویض کیا اور صرف یہی بات مدنظر رکھی تو بیشک اس نے اللہ سے ، اس کے رسول سے اور مومنین سے خیانت برتی۔ فی المداراۃ
فائدہ : امام سیوطی (رح) فرماتے ہیں : مجھے اس روایت کی تخریج کرنے والے کا نام معلوم نہیں۔ مگر یہ کہ یہ کسی قدیم کتاب میں سے لی گئی ہے جس میں ابوخیثمہ سے کثیر روایات منقول ہیں۔
جس نے کسی کو محبت یارشتہ داری کی وجہ سے کوئی منصب تفویض کیا اور صرف یہی بات مدنظر رکھی تو بیشک اس نے اللہ سے ، اس کے رسول سے اور مومنین سے خیانت برتی۔ فی المداراۃ
فائدہ : امام سیوطی (رح) فرماتے ہیں : مجھے اس روایت کی تخریج کرنے والے کا نام معلوم نہیں۔ مگر یہ کہ یہ کسی قدیم کتاب میں سے لی گئی ہے جس میں ابوخیثمہ سے کثیر روایات منقول ہیں۔
14305- عن عمر قال: من استعمل رجلا لمودة أو لقرابة لا يستعمله إلا لذلك فقد خان الله ورسوله والمؤمنين.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14306 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا :
جس نے کسی فاجر (بدکار) کو سرکاری منصب تفویض کیا حالانکہ اس کو اس کے فاجر ہونے کا علم ہے تو وہ خود بھی اس کے مثل ہے۔ فی المداراۃ
جس نے کسی فاجر (بدکار) کو سرکاری منصب تفویض کیا حالانکہ اس کو اس کے فاجر ہونے کا علم ہے تو وہ خود بھی اس کے مثل ہے۔ فی المداراۃ
14306- عن عمر قال: من استعمل فاجرا وهو يعلم أنه فاجر فهو مثله. "في المداراة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14307 فضل بن عمیرۃ سے مروی ہے کہ احنف بن قیس ایک عراقی وفد کے ساتھ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس حاضر ہوئے وہ دن انتہائی سخت گرمی کا دن تھا۔ حضرت عمر (رض) (دھوپ میں) ایک محنت مزدوری والی عبا پہنے ہوئے صدقے کے ایک اونٹ کو تیل مل رہے تھے۔ حضرت عمر (رض) نے احنف بن قیس کو فرمایا : اے احنف ! اپنے کپڑے بدل لو اور آجاؤ، آکر المومنی کی مدد کرو اس اونٹ کی خدمت کرنے میں۔ یہ اونٹ صدقہ کا اونٹ ہے اس میں یتیم، مسکینوں اور فقیروں کا حق ہے۔ ایک آدمی نے کہا : یا امیر المومنین ! اللہ آپ کی مغفرت کرے، آپ صدقے کے غلاموں میں سے کسی غلام کو کیوں نہیں حکم دیدیتے ، وہ یہ کام اچھی طرح انجام دے لے گا۔
حضرت عمر (رض) نے اس کو ارشاد فرمایا :
اے فلانی کے بیٹے ! مجھ سے اور احنف بن قیس سے بڑا غلام کون ہوگا بیشک جو مسلمانوں کا امیر ہوتا ہے وہ مسلمانوں کا غلام ہوتا ہے، اس پر رعایا کی خدمت اسی طرح واجب ہے جس طرح غلام پر اپنے آقا کی خدمت واجب ہوتی ہے ، کہ اس کے ذمہ آقا کی خیر خواہی اور اس کی امانت کی ادائیگی لازم ہے۔ فی المداراۃ
حضرت عمر (رض) نے اس کو ارشاد فرمایا :
اے فلانی کے بیٹے ! مجھ سے اور احنف بن قیس سے بڑا غلام کون ہوگا بیشک جو مسلمانوں کا امیر ہوتا ہے وہ مسلمانوں کا غلام ہوتا ہے، اس پر رعایا کی خدمت اسی طرح واجب ہے جس طرح غلام پر اپنے آقا کی خدمت واجب ہوتی ہے ، کہ اس کے ذمہ آقا کی خیر خواہی اور اس کی امانت کی ادائیگی لازم ہے۔ فی المداراۃ
14307- عن الفضل بن عميرة أن الأحنف بن قيس قدم على عمر بن الخطاب في وفد من العراق قدموا عليه في يوم صائف شديد الحر وهو متحجز بعباءة يهنأبعيرا من إبل الصدقة فقال: يا أحنف ضع ثيابك وهلم وأعن أمير المؤمنين على هذا البعير فإنه من إبل الصدقة فيه حق اليتيم والأرملة والمسكين، فقال رجل يغفر الله لك يا أمير المؤمنين فهلا تأمر عبدا من عبيد الصدقة فيكفيك هذا؟ فقال عمر: يا ابن فلانة وأي عبد هو أعبد مني ومن الأحنف بن قيس هذا، إنه من ولي أمر المسلمين فهو عبد للمسلمين يجب عليه لهم ما يجب على العبد لسيده من النصيحة وأداء الأمانة. "في المداراة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14308 عن فضیل بن غزوان عن محمد الراسبی عن بشر بن عاصم بن شقیق الثقفی کی سند سے مروی ہے۔
ہر منصب والے کو جہنم کے پل پر کھڑا کیا جائے گا
بشر بن عاصم (رض) کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ان کے لیے ایک عہدہ لکھ دیا۔ بشرکہتے ہیں میں نے عرض کیا : مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں ہے کیونکہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
والیوں (سرکاری مناصب پر فائز لوگوں) کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور ان کو جہنم کے پل پر کھڑا کردیا جائے گا ، پس جو شخص اللہ کا اطاعت گزار ہوگا اللہ پاک اس کو دائیں ہاتھ سے تھام لے گا اور جہنم سے نجات دیدے گا۔ اور جو شخص اللہ کا نافرمان ہوگا جہنم کا پل اس کے نیچے سے شق ہوجائے گا اور وہ جہنم کی وادی میں گرتا چلا جائے گا جو شعلوں سے بھڑک رہی ہوگی۔
یہ سن کر حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوذر (رض) اور حضرت سلمان (رض) کو پیغام بھیج کر بلوایا پھر حضرت ابوذر (رض) سے پوچھا : کیا آپ نے یہ حدیث رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے ؟ حضرت ابوذر (رض) نے فرمایا : جی ہاں۔ اور اللہ کی قسم ! اس وادی کے بعد جہنم کی آگ کی ایک اور وادی ہوگی پھر حضرت عمر (رض) نے حضرت سلمان (رض) سے پوچھا تو انھوں نے کچھ بھی جواب دینا گوارا نہ کیا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جب اس حکومت میں اس قدر سخت وعید ہے تو اس کو کون قبول کرے گا ؟ حضرت ابوذر (رض) نے عرض کیا : وہ شخص جس کی ناک اللہ نے کاٹ دی ہو اور اس کی آنکھ نکال دی ہو اور اس کا رخسار زمین کے ساتھ رگڑ دیا ہو۔ مصنف ابن ابی شیبہ، ابونعیم
فائدہ : امام ابونعیم (رح) فرماتے ہیں : اس روایت کو عمار بن یحییٰ نے عن سلمۃ بن ابی تمیم عن عطاء بن ابی رباح عن عبداللہ بن سفیان عن بشر بن عاصم کے طریق سے بھی اس کی مثل نقل کیا ہے۔ مولف سیوطی (رح) فرماتے ہیں : میں کہتا ہوں اس طریق سے ابن مندہ نے بھی اس کو نقل کیا ہے۔ پس یہ دونوں طریق تقویت دینے والے ہیں اس طریق کو جو مسند عمر میں ہے۔ امام ابن حجر الاصابہ میں فرماتے ہیں محمد الراسبی کے متعلق ابن عبدالر (رح) فرماتے ہیں وہ ابن سلیم ہے اگر واقعی ایسا ہے تو پھر مذکورہ اسناد منقطع ہے کیونکہ محمد الراسبی نے بشر بن عاصم کو نہیں پایا۔
ہر منصب والے کو جہنم کے پل پر کھڑا کیا جائے گا
بشر بن عاصم (رض) کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ان کے لیے ایک عہدہ لکھ دیا۔ بشرکہتے ہیں میں نے عرض کیا : مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں ہے کیونکہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
والیوں (سرکاری مناصب پر فائز لوگوں) کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور ان کو جہنم کے پل پر کھڑا کردیا جائے گا ، پس جو شخص اللہ کا اطاعت گزار ہوگا اللہ پاک اس کو دائیں ہاتھ سے تھام لے گا اور جہنم سے نجات دیدے گا۔ اور جو شخص اللہ کا نافرمان ہوگا جہنم کا پل اس کے نیچے سے شق ہوجائے گا اور وہ جہنم کی وادی میں گرتا چلا جائے گا جو شعلوں سے بھڑک رہی ہوگی۔
یہ سن کر حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوذر (رض) اور حضرت سلمان (رض) کو پیغام بھیج کر بلوایا پھر حضرت ابوذر (رض) سے پوچھا : کیا آپ نے یہ حدیث رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے ؟ حضرت ابوذر (رض) نے فرمایا : جی ہاں۔ اور اللہ کی قسم ! اس وادی کے بعد جہنم کی آگ کی ایک اور وادی ہوگی پھر حضرت عمر (رض) نے حضرت سلمان (رض) سے پوچھا تو انھوں نے کچھ بھی جواب دینا گوارا نہ کیا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جب اس حکومت میں اس قدر سخت وعید ہے تو اس کو کون قبول کرے گا ؟ حضرت ابوذر (رض) نے عرض کیا : وہ شخص جس کی ناک اللہ نے کاٹ دی ہو اور اس کی آنکھ نکال دی ہو اور اس کا رخسار زمین کے ساتھ رگڑ دیا ہو۔ مصنف ابن ابی شیبہ، ابونعیم
فائدہ : امام ابونعیم (رح) فرماتے ہیں : اس روایت کو عمار بن یحییٰ نے عن سلمۃ بن ابی تمیم عن عطاء بن ابی رباح عن عبداللہ بن سفیان عن بشر بن عاصم کے طریق سے بھی اس کی مثل نقل کیا ہے۔ مولف سیوطی (رح) فرماتے ہیں : میں کہتا ہوں اس طریق سے ابن مندہ نے بھی اس کو نقل کیا ہے۔ پس یہ دونوں طریق تقویت دینے والے ہیں اس طریق کو جو مسند عمر میں ہے۔ امام ابن حجر الاصابہ میں فرماتے ہیں محمد الراسبی کے متعلق ابن عبدالر (رح) فرماتے ہیں وہ ابن سلیم ہے اگر واقعی ایسا ہے تو پھر مذکورہ اسناد منقطع ہے کیونکہ محمد الراسبی نے بشر بن عاصم کو نہیں پایا۔
14308- عن فضيل بن غزوان عن محمد الراسبي عن بشر بن عاصم بن شقيق الثقفي أن عمر بن الخطاب كتب عهده فقال: لا حاجة لي فيه فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن الولاة يجاء بهم فيوقفون على جسر جهنم، فمن كان مطواعا لله تناوله بيمينه حتى ينجيه، ومن كان عاصيا لله انخرق به الجسر إلى واد من نار يلتهب التهابا، فأرسل عمر إلى أبي ذر وسلمان، فقال لأبي ذر: أنت سمعت الحديث من رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: نعم والله وبعد الوادي واد آخر من نار وسأل سلمان فكره أن يخبره بشيء فقال عمر: من يأخذها بما فيها؟ فقال أبو ذر: من سلت الله أنفه وعينه وأمرغ خده إلى الأرض. "ش وأبو نعيم" وقال رواه عمار بن يحيى عن سلمة بن أبي تميم عن عطاء بن أبي رباح عن عبد الله بن سفيان عن بشر بن عاصم مثله قلت أخرجه من هذا الطريق "ابن منده" فهاتان الطريقتان مقويتان للطريق الثالث في مسند عمر قال في الإصابة: محمد الراسبي ذكر ابن عبد البر أنه ابن سليم فإن كان كما قال فالإسناد منقطع لأنه لم يدرك بشر بن عاصم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩০৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14309 ابوبرزۃ الاسلمیٰ سے مروی ہے کہ زیاد کو شرالراعاء الحطمہ کہا جاتا تھا میں نے ان کو کہا : تم ان میں شامل ہونے سے اجتناب کرو۔ ابن عساکر
فائدہ : زیادہ گورنر تھا ظالم اور سخت گیر انسان تھا۔ اس وجہ سے اس کو شرالرعاء الحطمۃ کہا جاتا تھا۔ یہ لفظ اونٹوں کے اس چرواہے کو بولتے تھے جو ان کو مانگتے وقت خوب مارتا ہو پانی پر لے جاتے وقت مار مار کر ان کو ایک دوسرے پر چڑھا دیتا ہوں اور اسی طرح ان کے سیر ہونے سے قبل ہی مار مار کر واپس لے آتا ہو۔ چنانچہ ابوبرزہ (رض) نے زیاد کو نصیحت کی کہ ایسی سخت گیری نہ اپناؤ کہ واقعی ایسے ظالم چرواہوں میں شامل ہوجاؤ۔
فائدہ : زیادہ گورنر تھا ظالم اور سخت گیر انسان تھا۔ اس وجہ سے اس کو شرالرعاء الحطمۃ کہا جاتا تھا۔ یہ لفظ اونٹوں کے اس چرواہے کو بولتے تھے جو ان کو مانگتے وقت خوب مارتا ہو پانی پر لے جاتے وقت مار مار کر ان کو ایک دوسرے پر چڑھا دیتا ہوں اور اسی طرح ان کے سیر ہونے سے قبل ہی مار مار کر واپس لے آتا ہو۔ چنانچہ ابوبرزہ (رض) نے زیاد کو نصیحت کی کہ ایسی سخت گیری نہ اپناؤ کہ واقعی ایسے ظالم چرواہوں میں شامل ہوجاؤ۔
14309- عن أبي برزة الأسلمي أنه قال لزياد وكان يقال شر الرعاء الحطمةفإياك أن تكون منهم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) پر وعیدوں کا بیان
14310 عبدالرحمن بن سمرۃ (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو ارشاد فرمایا :
اے عبدالرحمن ! حکومت کا سوال نہ کرنا۔ کیونکہ اگر تمہارے سوال کرنے پر وہ تم کو سپرد کردی گئی تو تم کو بھی اس کے سپرد کردیا جائے گا اور اگر (بلا طلب) تم کو حکومت دی گئی تو پھر تمہاری اس پر مدد کی جائے گی۔ جب تم کسی بات پر قسم اٹھالو پھر اس کو نہ کرنے میں عافیت جانو تو وہی کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دیدو۔ یاد رکھو ! گزری بات کو سچ سمجھ کر قسم اٹھانے پر وہ غلط نکلی تو اس پر کفارہ نہیں، قطع رحمی کی قسم اٹھالو تو اس کو پورا نہ کرو۔
بلکہ کفارہ ادا کرو اور جو چیز تمہارے اختیار میں نہیں اس پر اٹھائی گئی قسم کو پورا کرنے کی حاجت نہیں (بلکہ کفارہ ہے) ۔ ابن عساکر
اے عبدالرحمن ! حکومت کا سوال نہ کرنا۔ کیونکہ اگر تمہارے سوال کرنے پر وہ تم کو سپرد کردی گئی تو تم کو بھی اس کے سپرد کردیا جائے گا اور اگر (بلا طلب) تم کو حکومت دی گئی تو پھر تمہاری اس پر مدد کی جائے گی۔ جب تم کسی بات پر قسم اٹھالو پھر اس کو نہ کرنے میں عافیت جانو تو وہی کرو جو بہتر ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دیدو۔ یاد رکھو ! گزری بات کو سچ سمجھ کر قسم اٹھانے پر وہ غلط نکلی تو اس پر کفارہ نہیں، قطع رحمی کی قسم اٹھالو تو اس کو پورا نہ کرو۔
بلکہ کفارہ ادا کرو اور جو چیز تمہارے اختیار میں نہیں اس پر اٹھائی گئی قسم کو پورا کرنے کی حاجت نہیں (بلکہ کفارہ ہے) ۔ ابن عساکر
14310- عن عبد الرحمن بن سمرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له: يا عبد الرحمن لا تسأل الإمارة فإنك إن تسألها ثم تعطاها توكل إليها وإن تحمل عليها تعان وإذا حلفت على يمين فرأيت غيرها خيرا منها فائت الذي هو خير ثم كفر عن يمينك، وأنه لا نذر في يمين ولا في قطيعة رحم ولا فيما لا يملك. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14311 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : مجھے ایسا کوئی شخص بتاؤ جس کو میں مسلمانوں کے ایک اہم معاملے پر عامل بناسکوں۔ لوگوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کا نام لیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : وہ تو کمزور (بوڑھے) ہوگئے ہیں۔ لوگوں نے کسی اور شخص کا نام لیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : مجھے اس شخص کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ لوگوں نے پوچھا : آخر آپ کس کو چاہتے ہیں ؟ آپ (رض) نے فرمایا : ایسا شخص جو لوگوں کا امیر بنے تو انہی میں سے ایک فرد نظر آئے اور جب وہ امیر نہ ہو تو ان کا امیر محسوس ہوتا ہو ۔ لوگوں نے عرض کیا : ایسا شخص ہم صرف ربیع بن زیاد الحارثی کو جانتے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : تم نے سچ کہا۔ الحاکم فی الکنی
14311- عن الشعبي قال: قال عمر بن الخطاب: دلوني على رجل أستعمله على أمر قد أهمني من أمر المسلمين، قالوا: عبد الرحمن بن عوف قال: ضعيف قالوا: فلان قال: لا حاجة لي فيه: قالوا: من تريد قال: رجل إذا كان أميرهم كان كأنه رجل منهم، وإذا لم يكن أميرهم كأنه أميرهم قالوا: ما نعلمه إلا الربيع بن زياد الحارثي قال: صدقتم. "الحاكم في الكنى".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14312 (مسند الصدیق (رض)) سلیمان بن احمد، یعقوب بن اسحاق المخزومی، عباس بن بکار الضبی، عبدالواحدبن ابی عمر الاسدی، المعافی ابن زکریا، محمد بن مخلد، ابویعلی الساجی، الاصمعی، عقیدالاصم، عطاء ابن عباس۔
ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے یہ اشعار پڑھے :
جب تو لوگوں میں سب سے شریف شخص کو دیکھنا چاہے تو بادشاہ کو فقیرانہ لباس میں دیکھ لے جو لوگوں میں زیادہ فقروفاقہ والا ہو اور دنیا اور دین دونوں کے لیے درست ہے۔ ابن النجار
ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے یہ اشعار پڑھے :
جب تو لوگوں میں سب سے شریف شخص کو دیکھنا چاہے تو بادشاہ کو فقیرانہ لباس میں دیکھ لے جو لوگوں میں زیادہ فقروفاقہ والا ہو اور دنیا اور دین دونوں کے لیے درست ہے۔ ابن النجار
14312- "مسند الصديق" حدثنا سليمان بن أحمد حدثنا يعقوب بن إسحاق المخزومي حدثنا العباس بن بكار الضبي حدثنا عبد الواحد بن أبي عمر الأسدي حدثنا المعافي بن زكريا الجريري حدثنا محمد بن مخلد حدثنا أبو يعلى الساجي حدثنا الأصمعي عن عقبة الأصم عن عطاء عن ابن عباس قال: أنشد أبو بكر الصديق رضي الله عنه.
إذا أردت شريف الناس كلهم ... فانظر إلى ملك في زي مسكين
ذاك الذي حسنت في الناس فاقته ... وذاك يصلح للدنيا وللدين
"ابن النجار".
إذا أردت شريف الناس كلهم ... فانظر إلى ملك في زي مسكين
ذاك الذي حسنت في الناس فاقته ... وذاك يصلح للدنيا وللدين
"ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14313 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا :
حاکم پر لازم ہے کہ اللہ کے نازل کردہ احکام کے ساتھ فیصلہ کرے اور امانت کو ادا کرے جب وہ یہ کام انجام دے تو لوگوں پر لازم ہے کہ اس کی بات پر کان دھریں اور اس کی تعمیل کریں اور جب ان کو بلایا جائے تو وہ لبیک کہیں۔ العریابی، السنن لسعید بن منصور ، مصنف ابن ابی شیبہ، زنجویہ فی الاموال، ابن جریر ، ابن المنذر ، ابن ابی حاتم
حاکم پر لازم ہے کہ اللہ کے نازل کردہ احکام کے ساتھ فیصلہ کرے اور امانت کو ادا کرے جب وہ یہ کام انجام دے تو لوگوں پر لازم ہے کہ اس کی بات پر کان دھریں اور اس کی تعمیل کریں اور جب ان کو بلایا جائے تو وہ لبیک کہیں۔ العریابی، السنن لسعید بن منصور ، مصنف ابن ابی شیبہ، زنجویہ فی الاموال، ابن جریر ، ابن المنذر ، ابن ابی حاتم
14313- عن علي قال: حق على الإمام أن يحكم بما أنزل الله وأن يؤدي الأمانة، فإذا فعل فحق على الناس أن يسمعوا له وأن يطيعوا وأن يجيبوا إذا دعوا. "الفريابي ص ش وابن زنجويه في الأموال وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14314 علی بن ابی ربیعہ الاسدی سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے پاس اپنے بیٹے کو اپنی جگہ لشکر میں بھیجنے کے لیے لے کر آیا۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : بوڑھے کی راے میرے نزدیک جوان کی جنگ میں شرکت سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
عباس الرئعی فی جزیہ، السنن للبیہقی
عباس الرئعی فی جزیہ، السنن للبیہقی
14314- عن علي بن أبي ربيعة الأسدي قال: جاء رجل إلى علي بن أبي طالب بابن له بدلا من بعثفقال علي: لرأي شيخ أحب إلي من مشهد شاب. "عباس الربعي في جزئه ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14315 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا :
حکمرانوں میں جس شخص میں یہ تین صفات ہوں وہ واقعی حاکم بننے کے لائق ہے :
جب فیصلہ کرے تو امانت اور انصاف کی بھر پور قوت رکھے، رعایا سے پردہ میں نہ رہے اور قریب اور بعید (رشتہ دار اور غیر واقف کار) ہر ایک پر کتاب اللہ کو نافذ کرے۔ الدیلمی
حکمرانوں میں جس شخص میں یہ تین صفات ہوں وہ واقعی حاکم بننے کے لائق ہے :
جب فیصلہ کرے تو امانت اور انصاف کی بھر پور قوت رکھے، رعایا سے پردہ میں نہ رہے اور قریب اور بعید (رشتہ دار اور غیر واقف کار) ہر ایک پر کتاب اللہ کو نافذ کرے۔ الدیلمی
14315- عن علي قال: ثلاثة من كن فيه من الأئمة صلح أن يكون إماما اضطلعبأمانته إذا عدل في حكمه ولم يحتجب دون رعيته وأقام كتاب الله تعالى في القريب والبعيد. "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14316 سائب بن یزید سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو عرض کیا : میں اللہ کے بارے میں ملامت کرنے والے کی ملامت کو نہ دیکھو یا اپنی ذات کا خیال رکھوں ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جو شخص مسلمانوں کے امور پر والی ہو وہ تو اللہ کے بارے میں کسی کی ملامت کی پروا قطعانہ کرے اور جو عام آمی ہے وہ اپنی ذات کا خیال رکھے اور اپنے حاکم کے لیے خیر خواہی برتے۔ شعب الایمان للبیہقی
14316- عن السائب بن يزيد أن رجلا قال لعمر بن الخطاب: لأن أخاف في الله لومة لائم خير لي أم أقبل على نفسي؟ فقال: أما من ولي من أمر المسلمين شيئا فلا يخاف في الله لومة لائم، ومن كان خلوافليقبل على نفسه ولينصح لولي أمره. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14317 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا :
لوگ مشتعل سیدھی راہ گامزن رہیں گے جب تک ان کے حکمران اور راہنما سیدھے رہیں گے۔
ابن سعد ، السنن للبیہقی
لوگ مشتعل سیدھی راہ گامزن رہیں گے جب تک ان کے حکمران اور راہنما سیدھے رہیں گے۔
ابن سعد ، السنن للبیہقی
14317- عن عمر قال: إن الناس لن يزالوا مستقيمين ما استقامت لهم أئمتهم وهداتهم. "ابن سعد هق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14318 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا :
رعایا حاکم کو (امانت ) ادا کرنے والی رہے گی جب تک حاکم اللہ کو (امانت) ادا کرنے والا رہے گا جب امام (امانت داری) اٹھالے گا تو رعایا بھی اٹھالے گی۔
اسن سعد، ابن ابی شیبہ، السنن للبیہقی، النسائی
رعایا حاکم کو (امانت ) ادا کرنے والی رہے گی جب تک حاکم اللہ کو (امانت) ادا کرنے والا رہے گا جب امام (امانت داری) اٹھالے گا تو رعایا بھی اٹھالے گی۔
اسن سعد، ابن ابی شیبہ، السنن للبیہقی، النسائی
14318- عن عمر قال: الرعية مؤدية إلى الإمام ما أدى الإمام إلى الله فإذا رفع الإمام رفعوا. "ابن سعد ش ق ن"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩১৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14319 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا :
اس حکومت پر بیٹھنے کے لائق صرف وہی شخص ہے جس میں چار خصلتیں ہوں : کمزوری نہ ہو مگر نرم ہو، شدت ہو مگر سخت مزاجی اور سخت گیری نہ ہو، مال کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہو مگر بخیل نہ ہو اور سخاوت کا مالک ہو مگر اسراف نہ کرتا ہو۔ اگر ان میں سے ایک صفت بھی کم ہوگئی تو باقی تین صفات بھی فاسد ہوجائیں گی۔ الجامع لعبد الرزاق
اس حکومت پر بیٹھنے کے لائق صرف وہی شخص ہے جس میں چار خصلتیں ہوں : کمزوری نہ ہو مگر نرم ہو، شدت ہو مگر سخت مزاجی اور سخت گیری نہ ہو، مال کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہو مگر بخیل نہ ہو اور سخاوت کا مالک ہو مگر اسراف نہ کرتا ہو۔ اگر ان میں سے ایک صفت بھی کم ہوگئی تو باقی تین صفات بھی فاسد ہوجائیں گی۔ الجامع لعبد الرزاق
14319- عن عمر قال: لا ينبغي أن يلي هذا الأمر إلا رجل فيه أربع خصال: اللين في غير ضعف، والشدة في غير عنف، والإمساك في غير بخل، والسماحة في غير سرف، فإن سقطت واحدة منهن فسدت الثلاث. "عب".
তাহকীক: