কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৫ টি
হাদীস নং: ১৪৩২০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14320 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا :
اللہ کے امر (سلطنت) کو وہی (حاکم) سیدھا کرسکتا ہے جو (اللہ کے حکم کے نفاذ میں تساہل اور) نرمی نہ کرے اور ریاء کاری نہ کرے، حرص وہوس کے پیچھے نہ پڑے، بری بات سے اجتناب برتے اور حق بات کو چھپائے نہ۔ الجامع لعبد الرزاق، وکیع الصغیر فی الغرر، ابن عساکر
اللہ کے امر (سلطنت) کو وہی (حاکم) سیدھا کرسکتا ہے جو (اللہ کے حکم کے نفاذ میں تساہل اور) نرمی نہ کرے اور ریاء کاری نہ کرے، حرص وہوس کے پیچھے نہ پڑے، بری بات سے اجتناب برتے اور حق بات کو چھپائے نہ۔ الجامع لعبد الرزاق، وکیع الصغیر فی الغرر، ابن عساکر
14320- عن عمر قال: لا يقيم أمر الله إلا من لا يصانع ولا يضارعولا يتبع المطامع يكف عن عزته"عب ووكيع الصغير في الغرر كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14321 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے انھوں نے (گورنر) حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کو لکھا :
تو لوگوں کے ساتھ خریدو فروخت نہ کر، لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر پینا پلانہ نہ کر، لوگوں کے ساتھ ہاتھ پائی نہ کر، فیصلہ میں رشوت ستانی نہ کر، اور غصہ کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرنا۔
الجامع لعبد الرزاق
تو لوگوں کے ساتھ خریدو فروخت نہ کر، لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر پینا پلانہ نہ کر، لوگوں کے ساتھ ہاتھ پائی نہ کر، فیصلہ میں رشوت ستانی نہ کر، اور غصہ کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرنا۔
الجامع لعبد الرزاق
14321- عن عمر أنه كتب إلى أبي موسى الأشعري لا تبيعن ولا تبتاعن ولا تشاربن ولا تضاربن ولا ترتشي في الحكم ولا تحكم بين اثنين وأنت غضبان. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14322 حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مروی ہے انھوں نے لکھا : کوئی امیر لشکر اور نہ امیر سریہ (چھوٹا لشکر) کسی مسلمان پر حد نافذ نہ کرے جب تک کہ لشکر جنگ سے واپسی میں دشمن ملک کی حدود سے نکل آئے کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس کو مشرکوں کے ساتھ مل جانے پر جوش وحمیت نہ آجائے۔ الجامع لعبد الرزاق، ابن ابی شیبہ
14322- عن عمر بن الخطاب أنه كتب أن لا يحد أمير جيش ولا أمير سرية رجلا من المسلمين حتى يطلع الدربقافلا فإني أخشى أن تحمله الحمية على أن يلحق بالمشركين. "عب ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14323 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : آدمی اپنے نفس پر بھی امانت دار نہیں رہے گا جب تو اس کو ڈرادے گا یا اس کو باندھ دے گا یا اس کو زدوکوب کرے گا۔
الجامع لعبد الرزاق، ابن ابی شبیہ، السنن لسعید بن منصور، السنن للبیہقی، السنن لابن ماجۃ
الجامع لعبد الرزاق، ابن ابی شبیہ، السنن لسعید بن منصور، السنن للبیہقی، السنن لابن ماجۃ
14323- عن عمر قال: ليس الرجل أمينا على نفسه إذا أخفته أو أوثقته أو ضربته. "عب ش ص ق هـ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14324 حضرت معاویہ (رض) سے مروی ہے حضرت عمر (رض) اپنے عمال (ارکان حکومت) کو لکھا کرتے تھے : مجھے خط لکھتے رہا کرو ۔ ابن ابی شیبہ
فائدہ : روایت کے الفاظ اگرچہ لا تخلدون علی کتابا جس کے معنی مذکورہ معانی کے مخالف ہیں ممکن ہے شاید کسی راوی یا کاتب سے سہو ہوا ہو۔
فائدہ : روایت کے الفاظ اگرچہ لا تخلدون علی کتابا جس کے معنی مذکورہ معانی کے مخالف ہیں ممکن ہے شاید کسی راوی یا کاتب سے سہو ہوا ہو۔
14324- عن معاوية قال: كان عمر يكتب إلى عماله لا تخلدن علي كتابا. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14325 ابوعمران الجونی سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کو لکھا :
ہمیشہ سے لوگوں کے سردار ہوتے آئے ہیں ، جن کے پاس وہ اپنی حاجات لے کر جاتے ہیں۔ پس تم لوگوں کے سرداروں کا اکرام کرنا اور کمزور مسلمان کے لیے یہ عدل کافی ہے کہ اس کے ساتھ فیصلہ میں اور تقسیم میں انصاف برتا جائے۔
ابن ابی الدنیا فی الاشراف، السنن للبیہقی، الجامع لعبد الرزاق
ہمیشہ سے لوگوں کے سردار ہوتے آئے ہیں ، جن کے پاس وہ اپنی حاجات لے کر جاتے ہیں۔ پس تم لوگوں کے سرداروں کا اکرام کرنا اور کمزور مسلمان کے لیے یہ عدل کافی ہے کہ اس کے ساتھ فیصلہ میں اور تقسیم میں انصاف برتا جائے۔
ابن ابی الدنیا فی الاشراف، السنن للبیہقی، الجامع لعبد الرزاق
14325- عن أبي عمران الجوني قال: كتب عمر بن الخطاب إلى أبي موسى الأشعري أنه لم يزل للناس وجوه يرفعون حوائج الناس فأكرم وجوه الناس، فبحسب المسلم الضعيف من العدل أن ينصف في الحكم والقسمة. "ابن أبي الدنيا في الأشراف ق قط في الجامع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14326 ابوعثمان النہدی سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے بنی اسد کے ایک آدمی کو کوئی سرکاری عبدہ تفویض کیا وہ شخص اپنا عہدہ لینے آیا۔ حضرت امیر المومنین کے پاس ان کا کوئی بچہ آیا ہوا تھا۔ آپ (رض) نے اپنے اس بچے کو بوسہ دیا۔ اسدی شخص نے عرض کیا یا امیر المومنین ! آپ اس بچے کو چوم رہے ہیں، اللہ کی قسم ! میں نے تو کبھی اپنے کسی بچے کو نہیں چوما۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! تو تو پھر لوگوں پر رحم کھانے میں بہت کمی کرے گا، لا ہمارا عہدہ ہمیں واپس کردے۔ تو کبھی ہمارا کوئی عہدہ مت اٹھانا۔ ھناد، السنن للبیہقی
14326- عن أبي عثمان النهدي قال: استعمل عمر بن الخطاب رجلا من بني أسد على عمل، فجاء يأخذ عهده، فأتي عمر ببعض ولده فقبله، فقال الأسدي: أتقبل هذا يا أمير المؤمنين؟ والله ما قبلت ولدا قط، قال عمر: فأنت والله بالناس أقل رحمة هات عهدنا لا تعمل لي عملا أبدا فرد عهده. "هناد ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14327 حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے ، حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ان سے پوچھا : جب تم کسی شہر کا محاصرہ کرتے ہو تو کیا کرتے ہو ؟ انس (رض) نے کہا : ہم ایک آدمی کو شہر کی طرف بھیج دیتے ہیں (تاکہ وہ دروازہ کھول آئے) اور کھال کا لباس اس کو پہنا دیتے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر اس کو شہر والے فصیل سے پتھر ماریں تو ؟ انس (رض) نے عرض کیا : تب وہ قتل ہوجائے گا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تب تم ایسا ہرگز نہ کیا کرو قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے یہ بات خوشگوار نہیں لگتی کہ تم ایک مسلمان کی جان دے کر چار ہزار جنگجوؤں سے بھرے شہر کو فتح کرلو۔
الشافعی، السنن للبیہقی
الشافعی، السنن للبیہقی
14327- عن أنس بن مالك أن عمر بن الخطاب سأله إذا حاصرتم المدينة كيف تصنعون؟ قال: نبعث الرجل إلى المدينة ونصنع له هبيئا من جلود قال: أرأيت إن رمي بحجر؟ قال: إذا يقتل، قال: فلا تفعلوا فو الذي نفسي بيده ما يسرني أن تفتحوا مدينة فيها أربعة آلاف مقاتل بتضييع رجل مسلم. "الشافعي ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14328 طاؤ وس (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے اگر میں تم لوگوں پر ایسے شخص کو عامل، امیروگورنر مقرر کردوں جو میرے علم میں تم سب میں بہتر شخص ہو پھر میں اس کو عدل و انصاف کا حکم بھی دوں تو کیا میں نے اپنے ذمے لازم حق کو پورا کردیا ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں۔ آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : نہیں، جب تک کہ میں اس کے عمل کو نہ دیکھوں کہ اس نے میرے حکم پر عمل کیا ہے یا نہیں۔ السنن للبیہقی، ابن عساکر
14328- عن طاوس أن عمر قال: أرأيتم إن استعملت عليكم خير من أعلم ثم أمرته بالعدل أقضيت ما علي: قالوا: نعم، قال: لا حتى أنظر في عمله أعمل بما أمرته أم لا. "ق كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩২৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14329 ابن جریج نے ہمیں خبر دی کہ مجھے یہ خبر ملی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ابوموسیٰ (رض) کو لکھا کہ حاکم اپنے علم پر کسی کی پکڑ نہیں کرسکتا، نہ اپنے گمان پر اور نہ شہ بےکی وجہ سے کسی کو پکڑ سکتا ہے۔
الجامع لعبد الرزاق
الجامع لعبد الرزاق
14329- أخبرنا ابن جريج قال: أخبرت أن عمر كتب إلى أبي موسى أن لا يأخذ الإمام بعلمه ولا بظنه ولا بشبهته. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14330 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا :
یہ حکومت کا معاملہ درست نہیں رہ سکتا مگر بغیر کسی جبر کے شدت کے ساتھ اور بغیر کسی کمزوری کے نرمی کے ساتھ۔ ابن سعد۔ ابن ابی شیبہ
یہ حکومت کا معاملہ درست نہیں رہ سکتا مگر بغیر کسی جبر کے شدت کے ساتھ اور بغیر کسی کمزوری کے نرمی کے ساتھ۔ ابن سعد۔ ابن ابی شیبہ
14330- عن عمر قال: لا يصلح هذا الأمر إلا بشدة في غير تجبر ولين في غير وهن"ابن سعد ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14331 عتاب بن رافع سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کو یہ خبر ملی کہ (امیر کوفہ) حضرت سعد (رض) نے ایک محل اپنے لیے بنالیا ہے اور اس کا دروازہ بھی رکھ لیا ہے اور حکم دیا ہے کہ میرے پاس کسی (فریادی) کا شور نہیں سننا چاہیے۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے پیغام بھیج کر محمد بن مسلمۃ کو بلایا۔ حضرت عمر (رض) جب کسی کام کو بالکل اپنی منشاء کے مطابق انجام دلانا چاہتے تھے تو محمد بن مسلمۃ ہی کو بلایا کرتے تھے۔ چنانچہ محمد بن مسلمہ کو ارشاد فرمایا : تم سعد کے پاس جاؤ اور اس کا دروازہ جلا دو ۔ وہ کوفہ پہنچے اور ان کے دروازے پر پہنچے تو چقماق نکال کر دروازہ کو آگ لگا دی۔
کوئی مخبر حضرت سعد (رض) کے پاس گیا اور ان کو ساری خبر سنائی اور قاصد کا حلیہ ان کو بیان کیا۔ حضرت سعد (رض) پہچان گئے کہ وہ محمد بن مسلمہ ہیں۔ چنانچہ آپ (رض) چل کر محمد بن مسلمہ کے پاس گئے۔ ابن مسلمہ نے فرمایا : تمہاری طرف سے امیر المومنین کو خبر ملی ہے کہ تم نے یہ کہا ہے کہ مجھے کسی فریادی کا شور نہیں سننا چاہیے۔ حضرت سعد (رض) نے اللہ کی قسم اٹھائی کہ انھوں نے ہرگز یہ بات نہیں کہی۔ محمد ابن مسلمہ نے فرمایا : ہمیں جو حکم ملا ہے ہم اس کو انجام دیں گے اور جو تم کہہ رہے ہو وہ تمہاری طرف سے پہنچادیں گے۔ حضرت سعد (رض) نے محمد بن مسلمہ (رض) کو توشہ دینے کی کوشش کی مگر حضرت محمد بن مسلمہ نے لینے سے انکار کردیا پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے اور مدینہ چلے آئے۔ حضرت عمر (رض) نے محمد بن مسلمہ کو (اس قدر جلد واپس) دیکھا تو فرمایا : اگر تمہارے ساتھ حسن ظن نہ ہوتا تو ہم خیال کرتے کہ تم حکم کی تعمیل کر کر نہیں آئے۔ محمد بن مسلمہ نے عرض کیا : وہ انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ سفر کرتے رہے تھے اور عرض کیا کہ انھوں نے حکم کی تعمیل کردی ہے جبکہ سعد (رض) معذرت کررہے تھے اور انھوں نے حلفیہ قدم اٹھا کر بیان دیا کہ انھوں نے ہرگز ایسی کوئی بات نہیں کی۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : کیا انھوں نے تم کو کچھ دینے کا حکم دیا تھا ؟ حضرت محمد (رض) نے عرض کیا : انھوں نے تو توشہ دینے کا حکم دیا تھا میں نے بھی اس کو ناپسند نہیں کیا مگر مجھے گوارا نہ تھا کہ میرے قریب مدینے کے لوگ تو بھوک سے مریں جبکہ میں ارض عراق میں عیش کا کھانا کھاؤں آپ کے لیے ٹھنڈا ہو اور میرے لیے گرم ، کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی نہیں سنا :
وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا جو خود سیر ہو کر کھائے جبکہ اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔
ابن المبارک ، ابن راھویہ، مسدد
کوئی مخبر حضرت سعد (رض) کے پاس گیا اور ان کو ساری خبر سنائی اور قاصد کا حلیہ ان کو بیان کیا۔ حضرت سعد (رض) پہچان گئے کہ وہ محمد بن مسلمہ ہیں۔ چنانچہ آپ (رض) چل کر محمد بن مسلمہ کے پاس گئے۔ ابن مسلمہ نے فرمایا : تمہاری طرف سے امیر المومنین کو خبر ملی ہے کہ تم نے یہ کہا ہے کہ مجھے کسی فریادی کا شور نہیں سننا چاہیے۔ حضرت سعد (رض) نے اللہ کی قسم اٹھائی کہ انھوں نے ہرگز یہ بات نہیں کہی۔ محمد ابن مسلمہ نے فرمایا : ہمیں جو حکم ملا ہے ہم اس کو انجام دیں گے اور جو تم کہہ رہے ہو وہ تمہاری طرف سے پہنچادیں گے۔ حضرت سعد (رض) نے محمد بن مسلمہ (رض) کو توشہ دینے کی کوشش کی مگر حضرت محمد بن مسلمہ نے لینے سے انکار کردیا پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے اور مدینہ چلے آئے۔ حضرت عمر (رض) نے محمد بن مسلمہ کو (اس قدر جلد واپس) دیکھا تو فرمایا : اگر تمہارے ساتھ حسن ظن نہ ہوتا تو ہم خیال کرتے کہ تم حکم کی تعمیل کر کر نہیں آئے۔ محمد بن مسلمہ نے عرض کیا : وہ انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ سفر کرتے رہے تھے اور عرض کیا کہ انھوں نے حکم کی تعمیل کردی ہے جبکہ سعد (رض) معذرت کررہے تھے اور انھوں نے حلفیہ قدم اٹھا کر بیان دیا کہ انھوں نے ہرگز ایسی کوئی بات نہیں کی۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : کیا انھوں نے تم کو کچھ دینے کا حکم دیا تھا ؟ حضرت محمد (رض) نے عرض کیا : انھوں نے تو توشہ دینے کا حکم دیا تھا میں نے بھی اس کو ناپسند نہیں کیا مگر مجھے گوارا نہ تھا کہ میرے قریب مدینے کے لوگ تو بھوک سے مریں جبکہ میں ارض عراق میں عیش کا کھانا کھاؤں آپ کے لیے ٹھنڈا ہو اور میرے لیے گرم ، کیا آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی نہیں سنا :
وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا جو خود سیر ہو کر کھائے جبکہ اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔
ابن المبارک ، ابن راھویہ، مسدد
14331- عن عتاب بن رفاعة بن رافع قال: بلغ عمر بن الخطاب أن سعدا اتخذ قصرا وجعل عليه بابا وقال: انقطع الصويتفأرسل عمر محمد بن مسلمة وكان عمر إذا أحب أن يؤتى بالأمر كما يريد بعثه فقال: ائت سعدا وأحرق عليه بابه، فقدم الكوفة؛ فلما أتى الباب أخرج زنده فاستورى نارا ثم أحرق الباب، فأتى سعد، فأخبر ثم وصف له صفته فعرفه، فخرج إليه سعد فقال محمد: إنه بلغ أمير المؤمنين عنك أنك قلت: انقطع الصويت فحلف سعد بالله ما قال ذلك، فقال محمد: نفعل الذي أمرنا ونؤدي عنك ما تقول وأقبل يعرض عليه أن يزوده، فأبى ثم ركب راحلته حتى قدم المدينة فلما أبصره عمر قال: لولا حسن الظن بك ما رأينا أنك أديت، وذكر أنه أسرع السير وقال: قد فعلت وهو يعتذر ويحلف بالله ما قال، فقال عمر: هل أمر لك بشيء؟ قال: ما كرهت من ذلك، أن أرض العراق أرض رقيقة وأن أهل المدينة يموتون حولي من الجوع فخشيت أن آمر لك فيكون لك البارد ولي الحار، أما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا يشبع المؤمن دون جاره. "ابن المبارك وابن راهويه ومسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14332 حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : یہ آسان چیز ہے جس کے ساتھ میں قوم کی فلاح و بہبود کرتا رہوں کہ امیر کی جگہ امیر بدلتا رہوں۔ ابن سعد
رعایا پر لازم ہے حکام کے حق میں خیر کی دعا کرے
رعایا پر لازم ہے حکام کے حق میں خیر کی دعا کرے
14332- عن الحسن أن عمر بن الخطاب قال: هان شيء أصلح به قوما أن أبدلهم أميرا مكان أمير. "ابن سعد"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14333 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : مجھے اس امر میں بڑی تکلیف ہوتی ہے کہ کسی ایسے آدمی کو امیر بناؤں جس سے قوی مجھ کو ملتا ہو۔ ابن سعد
14333- عن عمر قال: إني لأتحرج أن أستعمل الرجل وأنا أجد أقوى منه. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14334 مسلمۃ بن شہاب العبدی سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : اے رعایا ! ہمارا بھی تم پر حق ہے ، ہماری عدم موجودگی میں ہماری خیر خواہی رکھو اور خیر کے کاموں پر ہماری معاونت کرو، اور اللہ کے نزدیک کوئی چیز زیادہ محبوب اور زیادہ نفع رساں نہیں ہے۔ حاکم کی بردباری اور نرمی سے اور اللہ کے نزدیک کوئی چیز زیادہ ناپسندیدہ نہیں ہے حاکم کی جہالت اور اس کی بیوقوفی سے ۔ ھناد
14334- عن سلمة بن شهاب العبدي قال: قال عمر بن الخطاب: أيتها الرعية إن لنا عليكم حقا النصيحة بالغيب، والمعاونة على الخير وإنه ليس شيء أحب إلى الله وأعم نفعا من حلم إمام ورفقه، وليس شيء أبغض إلى الله من جهل إمام وخرقه"هناد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14335 عبداللہ بن علیم سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : اللہ کے نزدیک حاکم کی بردباری اور نرمی سے زیادہ کسی کی بردباری محبوب نہیں حاکم کی جہالت اور حماقت سے بڑھ کر کسی کی جہالت اللہ کو مبغوض نہیں ۔ اور جو اپنے ظاہری احکام میں عفو ودگزر سے کام لیتا ہے اس کو عافیت نصیب ہوتی ہے، جو اپنی طرف سے لوگوں کو انصاف فراہم کرتا ہے وہ اپنے امر (حکومت) میں کامیابی پالیتا ہے اور اطاعت گزاری میں عاجزی مسکنت نیکی کے زیادہ قریب ہے معصیت و نافرمانی کی عزت سے ۔ ھناد
14335- عن عبد الله بن عكيم قال: قال عمر بن الخطاب: إنه لا حلم أحب إلى الله من حلم إمام ورفقه ولا جهل أبغض إلى الله من جهل إمام وخرقه ومن يعمل بالعفو فيما يظهر به تأتيه العافية، ومن ينصف الناس من نفسه يعطى الظفر في أمره، والذل في الطاعة أقرب إلى البر من التعزز بالمعصية. "هناد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14336 ابراہیم (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) جب کسی شخص کو کسی علاقے کا عامل (گورنر) مقرر فرماتے پھر اس علاقے سے کوئی وفد آتا تو حضرت عمر (رض) ان سے ان کے امیر کے متعلق دریافت فرماتے : تمہارا امیر کیسا تھا ؟ کیا وہ غلاموں کی عیادت کو جاتا ہے ؟ کیا وہ جنازوں کی ہمراہی کرتا ہے ؟ اس کا دروازہ کیسا ہے نرم ہے (کھلا رہتا ہے یا بند ؟ ) اگر وہ کہتے ہیں : اس کا دروازہ نرم ہے اور وہ غلاموں کی عیادت کرتا ہے تو اس کو عامل چھوڑ دیتے ورنہ اس کا پیغام بھیج کر بلوالیتے اور معزول کردیتے۔ ھناد
14336- عن إبراهيم قال: كان عمر إذا استعمل عاملا فقدم إليه الوفد من تلك البلاد قال: كيف أميركم أيعود المملوك أيتبع الجنازة؟ كيف بابه ألين هو؟ فإن قالوا: بابه لين ويعود المملوك تركه وإلا بعث إليه ينزعه. "هناد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14337 ابوتمیم الجیشائی سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت عمرو بن العاص (رض) کو لکھا :
امابعد ! مجھے یہ خبر ملی ہے کہ تم نے منبر بنالیا ہے تم اس کے ذریعے لوگوں کی گردنوں پر چڑھتے ہو (یعنی ان سے بلند ہوتے ہو) کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ تم سیدھے کھڑے ہو اور مسلمان تمہاری ایڑیوں کے نیچے ہوں۔ پس میں نے عزم کرلیا ہے اور تم کو تاکید کرتا ہوں کہ تم ضرور اس کو توڑ دو ۔ ابن عبدالحکم
امابعد ! مجھے یہ خبر ملی ہے کہ تم نے منبر بنالیا ہے تم اس کے ذریعے لوگوں کی گردنوں پر چڑھتے ہو (یعنی ان سے بلند ہوتے ہو) کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ تم سیدھے کھڑے ہو اور مسلمان تمہاری ایڑیوں کے نیچے ہوں۔ پس میں نے عزم کرلیا ہے اور تم کو تاکید کرتا ہوں کہ تم ضرور اس کو توڑ دو ۔ ابن عبدالحکم
14337- عن أبي تميم الجيشاني قال: كتب عمر بن الخطاب إلى عمرو بن العاص أما بعد، فإنه بلغني أنك اتخذت منبرا ترقى به على رقاب الناس أو ما بحسبك أن تقوم قائما والمسلمون تحت عقبيك فعزمت عليك لما كسرته. "ابن عبد الحكم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14338 حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ حضرت حذیفہ (رض) نے حضرت عمر (رض) کو عرض کیا : آپ فاسق شخص کے ذریعے سرکاری کاموں پر مدد حاصل کرتے ہیں ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں ایسے شخص کو اس لیے عامل بناتا ہوں تاکہ اس کی قوت سے مدد حاصل کروں پھر اس کی گردن پر مسلط ہو کر اس کی بڑائی کو ختم کروں۔ ابوعبید
14338- عن الحسن أن حذيفة قال لعمر: إنك تستعين بالرجل الفاجر فقال عمر: إني لأستعمله لأستعين بقوته ثم أكون على قفائه"أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৩৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14339 حضرت عروہ بن رویم (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) لوگوں سے حال احوال دریافت فرمایا کرتے تھے۔ اہل حمص ان کے پاس سے گزرے تو آپ (رض) نے پوچھا : تمہارا امیر کیسا ہے ؟
لوگوں نے کہا : اچھا امیر ہے مگر انھوں نے ایک بالاخانہ بنالیا ہے جس میں وہ رہتے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے ایک خط لکھا اور قاصد کے ہاتھوں اس کو اس عامل کے پاس روانہ کردیا اور اس کو حکم دیا کہ اس امیر کا بالا خانہ جلادے۔ چنانچہ قاصد عامل (امیر) کے پاس پہنچا اور لکڑیاں جمع کیں اور اس کے دروازے کو جلا دیا پھر امیر کو خبر کی گئی تو امیر نے کہا : اس کو چھوڑ دو کیونکہ وہ قاصد ہے۔ پھر قاصد نے آکر امیر کو امیر المومنین کا خط تھمادیا۔ امیر نے خط کو پڑھ کر رکھا بھی نہیں تھا کہ اس نے سواری پر سوار ہو کر ایڑ لگادی حضرت عمر (رض) نے اس کو دیکھا تو فرمایا : مجھے حرۃ۔ پہاڑی مقام پر ملو۔ وہاں صدقے کے اونٹ تھے۔ آپ (رض) نے وہاں امیر کو فرمایا : اپنے کپڑے اتارو۔ پھر اس کی طرف ایک لنگی (تہبند) پھینکی جو اونٹوں کے بالوں سے بنی ہوئی تھی۔ پھر ارشاد فرمایا : اس کو باندھ لو اور اونٹوں کو پانی پلاؤ۔ چنانچہ وہ امیر پانی نکال نکال کر اونٹوں کو پلاتا رہا حتیٰ کہ وہ تھک گیا۔ پھر دریافت فرمایا : تم کب سے اس عہدہ امارت (گورنری) پر فائز ہو ؟ اس نے عرض کیا : قریب سے ہے امیر المومنین ! حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اسی وجہ سے بالا خانہ بنوالیا اور اس میں بیٹھ کر مسکین ، فقیر اور یتیم سے بلند ہو کر بیٹھ گئے۔ بس اب تم اپنے پہلے کام پر چلے جاؤ اور امارت چھوڑ دو ۔ ابن عساکر
لوگوں نے کہا : اچھا امیر ہے مگر انھوں نے ایک بالاخانہ بنالیا ہے جس میں وہ رہتے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے ایک خط لکھا اور قاصد کے ہاتھوں اس کو اس عامل کے پاس روانہ کردیا اور اس کو حکم دیا کہ اس امیر کا بالا خانہ جلادے۔ چنانچہ قاصد عامل (امیر) کے پاس پہنچا اور لکڑیاں جمع کیں اور اس کے دروازے کو جلا دیا پھر امیر کو خبر کی گئی تو امیر نے کہا : اس کو چھوڑ دو کیونکہ وہ قاصد ہے۔ پھر قاصد نے آکر امیر کو امیر المومنین کا خط تھمادیا۔ امیر نے خط کو پڑھ کر رکھا بھی نہیں تھا کہ اس نے سواری پر سوار ہو کر ایڑ لگادی حضرت عمر (رض) نے اس کو دیکھا تو فرمایا : مجھے حرۃ۔ پہاڑی مقام پر ملو۔ وہاں صدقے کے اونٹ تھے۔ آپ (رض) نے وہاں امیر کو فرمایا : اپنے کپڑے اتارو۔ پھر اس کی طرف ایک لنگی (تہبند) پھینکی جو اونٹوں کے بالوں سے بنی ہوئی تھی۔ پھر ارشاد فرمایا : اس کو باندھ لو اور اونٹوں کو پانی پلاؤ۔ چنانچہ وہ امیر پانی نکال نکال کر اونٹوں کو پلاتا رہا حتیٰ کہ وہ تھک گیا۔ پھر دریافت فرمایا : تم کب سے اس عہدہ امارت (گورنری) پر فائز ہو ؟ اس نے عرض کیا : قریب سے ہے امیر المومنین ! حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اسی وجہ سے بالا خانہ بنوالیا اور اس میں بیٹھ کر مسکین ، فقیر اور یتیم سے بلند ہو کر بیٹھ گئے۔ بس اب تم اپنے پہلے کام پر چلے جاؤ اور امارت چھوڑ دو ۔ ابن عساکر
14339- عن عروة بن رويم أن عمر بن الخطاب تصفح الناس؛ فمر به أهل حمص فقال: كيف أميركم؟ قالوا: خير أمير إلا أنه بنى علية يكون فيها فكتب كتابا وأرسل بريدا وأمره أن يحرقها، فلما جاءها جمع حطبا وحرق بابها فأخبر بذلك فقال: دعوه فإنه رسول، ثم ناوله الكتاب فلم يضعه من يده حتى ركب إليه؛ فلما رآه عمر قال: الحقني إلى الحرة وفيها إبل الصدقة قال: انزع ثيابك فألقى إليه نمرةمن أوبار الإبل، ثم قال: افتح واسق هذه الإبل فلم يزل ينزع حتى تعب ثم قال: متى عهدك بهذا؟ قال: قريب يا أمير المؤمنين، قال: فذلك بنيت العلية وارتفعت بها على المسكين والأرملة واليتيم ارجع إلى عملك ولا تعد. "كر".
তাহকীক: