কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৫ টি
হাদীস নং: ১৪৩৪০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14340 احنف (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا :
حاکم جب اپنے سے کم تر کے ساتھ عافیت کا معاملہ رکھے تو اللہ پاک اس کو اس کے اوپر والے سے عافیت بخش دیتا ہے۔ ابن عساکر
حاکم جب اپنے سے کم تر کے ساتھ عافیت کا معاملہ رکھے تو اللہ پاک اس کو اس کے اوپر والے سے عافیت بخش دیتا ہے۔ ابن عساکر
14340- عن الأحنف قال: قال عمر بن الخطاب: الوالي إذا طلب العافية ممن هو دونه أعطاه الله العافية ممن هو فوقه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৪১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14341 حضرت اسود سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس جب کوئی وفد آتا تھا تو ان سے ان کے امیر کے بارے میں سوال کرتے تھے : کیا وہ مریض کی عیادت کرتا ہے ؟ کیا وہ غلام کی دعوت قبول کرتا ہے ؟ جو اس کے دروازے پر آتا ہے اس کے ساتھ اس کا کیا طرز عمل ہے ؟ پس اگر وہ سب کا اچھا جواب دیتے تو ٹھیک اگر ایک خصلت کا بھی نکار کرتے تو اس کو معزول کردیتے۔
السنن للبیہقی
السنن للبیہقی
14341- عن الأسود قال: كان عمر إذا قدم عليه الوفد سألهم عن أميرهم أيعود المريض أيجيب العبد؟ كيف صنيعه من يقوم على بابه؟ فإن قالوا الخصلة منها وإلا عزله. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৪২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14342 ابوالزنا دے مروی ہے کہ خلافت عثمان (رض) میں ایک آدمی کو حد شراب لگائی گئی حضرت عثمان (رض) کے ہاں وہ صاحب مرتبہ آدمی تھا اور حضرت عثمان (رض) خلوت میں بھی اس کے ساتھ مجلس فرمایا کرتے تھے (اور رازونیاز کی باتوں میں شریک کرتے تھے) جب اس کو شراب پینے پر کوڑے لگادیئے گئے پھر اس نے کبھی آپ (رض) کے ساتھ خلوت میں بیٹھنے کا ارادہ کیا تو حضرت عثمان (رض) نے اس کو منع کردیا اور ارشاد فرمایا : آئندہ کبھی بھی تیسرے آدمی کے بغیر ہمارے ساتھ تنہا نہ بیٹھنا۔
ابن عساکر
ابن عساکر
14342- عن أبي الزناد أن رجلا جلد في الشراب في خلافة عثمان وكان له مكان من عثمان ومجلس في خلوته، فلما جلد أراد ذلك المجلس فمنعه إياه عثمان فقال: لا تعود إلى مجلسك أبدا إلا ومعنا ثالث. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৪৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14343 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ تھا آپ (رض) نے مجھے کسی جاتے شخص کی طرف اشارہ کرکے فرمایا جاؤ دیکھو اور آکر بتاؤ وہ کون ہے ؟ آپ (رض) جب کسی کو کسی کام سے بھیجا کرتے تھے تو اس کو فرمایا کرتے تھے جب تم واپس آؤ تو مجھے بتانا کہ میں نے کس لیے تمہیں بھیجا تھا اور اس کا کیا ہوا ؟ چنانچہ میں نے آکر کہا وہ صہیب ہے اور اس کے ساتھ اس کی ماں ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اسے کہو وہ ہمارے ساتھ آکر مل جائے خواہ اس کے ساتھ اس کی ماں ہو۔ العدنی
14343- عن ابن عباس قال: كنت مع عمر بن الخطاب فقال: اذهب فأعلمني من ذاك وكان إذا بعث رجلا في حاجة يقول: إذا رجعت فأعلمني ما بعثتك فيه وما ترد علي فقلت: إنك أمرتني أن أعلم من ذاك وأنه صهيب وأن معه أمه، قال: فليلحق بنا وإن كانت معه أمه. "العدني".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৪৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14344 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : جب مجھے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن بھیجا تو فرمایا : اے علی ! لوگ دو قسم کے ہیں : عقل مند تو معافی کے لائق بنتا ہے اور جاہل سزا کے لائق بنتا ہے۔ السنن للبیہقی
فائدہ : عقل مند کے ساتھ معافی اور درگزر سے کام لیا جائے تو وہ سیدھی راہ پر آجاتا ہے جبکہ جاہل سزا کے ساتھ ہی سیدھا ہوتا ہے۔
فائدہ : عقل مند کے ساتھ معافی اور درگزر سے کام لیا جائے تو وہ سیدھی راہ پر آجاتا ہے جبکہ جاہل سزا کے ساتھ ہی سیدھا ہوتا ہے۔
14344- عن علي قال: لما نفذنيالنبي صلى الله عليه وسلم إلى اليمن قال: يا علي الناس رجلان فعاقل يصلح للعفو وجاهل يصلح للعقوبة. "ق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৪৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14345 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! جب آپ مجھے کسی کام پر بھیجیں تو میں مہر لگے ہوئے مکہ کی طرح حکم کی تعمیل کروں یا پھر اس بات کو مدنظر رکھوں کہ حاضر وہ صورت حال دیکھتا ہے جو غائب نہیں دیکھ سکتا ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہاں حاضر وہ صورت حال دیکھتا ہے جو غائب نہیں دیکھ سکتا ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہاں حاضر وہ صورت حال دیکھتا ہے جو غائب نہیں دیکھ پاتا۔
مسند احمد، التاریخ للبخاری، الدورقی، حلیۃ الاولیاء، ابن عساکر، السنن لسعید بن منصور
فائدہ : حکم ملنے کے بعد اپنی عقل کو بھی استعمال کرو۔ خلاف واقعہ معاملہ دیکھ کر حکم میں ردوبدل بھی کرو۔
مسند احمد، التاریخ للبخاری، الدورقی، حلیۃ الاولیاء، ابن عساکر، السنن لسعید بن منصور
فائدہ : حکم ملنے کے بعد اپنی عقل کو بھی استعمال کرو۔ خلاف واقعہ معاملہ دیکھ کر حکم میں ردوبدل بھی کرو۔
14345- عن علي قال: قلت يا رسول الله إذا بعثتني في شيء أكون كالسكة المحماة أم الشاهد يرى ما لا يرى الغائب، قال: بل الشاهد يرى ما لا يرى الغائب. "حم خ في تاريخه والدورقي حل كر ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৪৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14346 قبیلہ ثقیف کے ایک شخص سے مروی ہے کہ مجھے حضرت علی (رض) نے عکبر اعلاقے کا امیر بنایا اور جس وقت اہل علاقہ بھی میرے پاس موجود تھے، مجھے ارشاد فرمایا : اہل علاقہ دھوکا وہ قوم ہیں۔ تم خیال رکھنا کہیں وہ تمہیں دھوکا نہ دیں۔ ان سے پورا پورا کام لیا کرو۔ پھر مجھے ارشاد فرمایا : اب جاؤ اور شام کو واپس میرے پاس آنا۔ چنانچہ میں ان کے پاس پھر واپس گیا تو مجھے فرمایا : میں نے جو تم کو پہلے کہا تھا وہ محض ان کو سنانے کے لیے کہا تھا۔ تم ان میں سے کسی کو بھی درہم کے مطالبے میں کوڑا تک نہ مارنا، ان کو کھڑا کرکے نہ رکھنا۔ ان سے کوئی بکری لینا اور نہ کوئی گائے، ہمیں تو حکم ملا ہے کہ ہم ان سے صرف زائد (مال) لیں ۔ جانتے ہو زائد کیا ہے وہ طاقت ہے (یعنی ان کی طاقت سے کام لو) ۔ ابن زنجریہ فی الاموال
14346- عن رجل من ثقيف قال: استعملني علي بن أبي طالب على عكبرافقال لي: وأهل الأرض عندي إن أهل السواد قوم خدع فلا يخدعنك فاستوف ما عليهم ثم قال لي رح إلي فلما رجعت إليه قال لي: إنما قلت لك الذي قلت لأسمعهم لا تضربن رجلا منهم سوطا في طلب درهم ولا تقمه قائما ولا تأخذن منهم شاة ولا بقرة إنما أمرنا أن نأخذ منهم العفو: أتدري ما العفو الطاقة. "ابن زنجويه في الأموال".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৪৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14347 کلیب سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) کے پاس اصبہان سے مال آیا آپ (رض) نے اس مال کو سات حصوں میں تقسیم فرمایا : مال میں ایک روٹی بھی تھی۔ آپ (رض) نے روٹی کو سات ٹکڑوں میں توڑا اور ہر حصے میں ایک ٹکڑا رکھ دیا۔ پھر لشکر کے امراء کو بلایا اور ان کے درمیان قرعہ اندازی کروائی تاکہ سب سے پہلے کس کو مال دیا جائے اس کا نام نکل آئے۔ السنن للبیہقی، ابن عساکر
14347- عن كليب قال قدم علي على مال من أصبهان فقسمه على سبعة أسهم فوجد فيه رغيفا فكسره على سبعة وجعل على كل قسم منها كسرة ثم دعا أمراء الأسباع فأقرع بينهم لينظر أيهم يعطى أولا. "ق كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৪৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14348 حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا : خلیفہ کے لیے اللہ کے مال میں حلال نہیں ہے مگر صرف دو پیالے کھانے کے، ایک پیالہ وہ اور اس کے گھر والے کھائیں گے اور دوسرا پیالہ وہ جس کو کھلائے۔ ابن عساکر
14348- عن علي قال: لا يحل للخليفة من مال الله إلا قصعتان قصعة يأكلها هو وأهله وقصعة يطعمها. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৪৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14349 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : خلیفہ کے لیے اللہ کے مال میں سے صرف دو پیالے کھانے کے حلال ہیں ایک پیالہ وہ اور اس کے اہل و عیال کھائیں اور دوسرا پیالہ وہ جس کو لوگوں کے آگے رکھے۔ ابن عساکر، مسند احمد
فائدہ : پیالے سے ہمارے دور کا چھوٹا پیالہ مراد نہیں بلکہ صرف ناک ایک ہے، ورنہ اس دور کے پیالہ سے ایک جماعت پیٹ بھر کر کھانا کھالیتی تھی۔
فائدہ : پیالے سے ہمارے دور کا چھوٹا پیالہ مراد نہیں بلکہ صرف ناک ایک ہے، ورنہ اس دور کے پیالہ سے ایک جماعت پیٹ بھر کر کھانا کھالیتی تھی۔
14349- عن علي قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا يحل للخليفة من مال الله إلا قصعتان قصعة يأكل منها هو وأهله وقصعة يضعها بين يدي الناس."كر حم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৫০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14350 علی بن ربیعۃ سے مروی ہے کہ جعدۃ بن ھبیرۃ حضرت علی (رض) کے پاس آیا اور بولا : اے امیر المومنین ! دو آدمی آپ کے پاس آتے ہیں ایک تو آپ سے اس قدر محبت کرتا ہے کہ وہ آپ کے لیے اپنی جان اپنے اہل و عیال اور اپنا مال سب کچھ قربان کرسکتا ہے جبکہ دوسرا آپ سے اس قدر نفرت رکھتا ہے کہ اگر اس کو موقع ملے تو وہ آپ کو ذبح کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ لیکن پھر بھی آپ اس کے حق میں اور اس کے خلاف فیصہ صادر فرماتے ہیں ؟ حضرت علی (رض) نے یہ سن کر جعدۃ کو کچو کا لگایا اور فرمایا : اگر یہ چیز میرے لیے ہوتی ہے تو میں ایسا ہی کرتا ہوں ۔ کیونکہ یہ چیز تو اللہ کے لیے ہے۔ ابن عساکر ۔ واللہ اعلم بالصواب۔
14350- عن علي بن ربيعة قال: جاء جعدة بن هبيرة إلى علي فقال: يا أمير المؤمنين يأتيك الرجلان أنت أحب إلى أحدهما من نفسه أو قال من أهله وماله، والآخر لو يستطيع أن يذبحك لذبحك فتقضي لهذا على هذا؟ قال: فلهزهعلي وقال: هذا شيء لو كان لي فعلت ولكن إنما ذا شيء لله. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৫১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14351 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ان کے پاس حضرت معاویہ (رض) کی طرف سے ایک قاصد آیا۔ آپ (رض) نے اس سے دریافت فرمایا : تیرے پیچھے کا کیا حال ہے ؟ اس نے عرض کیا : وہ (معاویہ) امن جو ہیں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : ہاں قاصد امن ہی کی علامت ہوتے ہیں اور ان کو قتل نہیں کیا جاتا۔ ابن عساکر
14351- عن علي جاءه رسول من معاوية فقال له ما وراءك؟ قال آمن قال: نعم إن الرسل آمنة لا تقتل. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৫২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14352 حضرت ابوالطفیل سے مروی ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا : میں اپنا سر کسی چیز سے نہ دھوؤں گا جب تک کہ بصرہ جاکر اس کو نہ جلادوں اور میں وہاں سے لوگوں کو اپنی لاٹھی کے ساتھ ہانک ہانک کر مصر نہ لے جاؤں۔ ابوالطفیل فرماتے ہیں : یہ سن کر میں حضرت ابومسعود (رض) کے پاس گیا اور ان کو حضرت علی (رض) کے عزائم کے متعلق آگاہ کیا۔ حضرت ابومسعود (رض) نے ارشاد فرمایا : حضرت علی (رض) کاموں کو ان کی صحیح جگہوں پر رکھ دیتے ہیں جبکہ دوسرے لوگ ان تک صحیح پہنچ بھی نہیں پاتے۔ علی اپنا سر دھوئیں گے اور نہ بصرہ آئیں گے، نہ اس کو جلائیں گے اور نہ لوگوں کو اپنی لاٹھی کے ساتھ مصر ہانکیں گے۔ علی فقیر منش آدمی ہیں ان کا سرطشت کی طرح۔ بالوں سے بےنیاز اور چکنا ہے۔ آپ (رض) کے اردگرد مرغوب چیزیں پھیلی ہوئی ہیں۔ التاریخ للخطیب
14352- عن أبي الطفيل قال: سمعت عليا يقول: لا أغسل رأسي بغسلحتى آتي البصرة فأحرقها ثم أسوق الناس بعصاي إلى مصر، فأتيت أبا مسعود فأخبرته، فقال: إن عليا يورد الأمور مواردها ولا يحسنونيصدرونها، علي لا يغسل رأسه بغسل ولا يأتي البصرة ولا يحرقها ولا يسوق الناس بعصاه إلى مصر، علي رجل أصلع رأسه مثل الطست إنما حوله رغيبات"خط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৫৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14353 بلال بن سعد سے مروی ہے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : یارسول اللہ ! آپ کے بعد خلیفہ کے لیے کیا حکم ہے ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ شخص میرے مثل ہوگا جو حکم میں عدل کرے، تقسیم میں انصاف کرے اور رشتے دار کے ساتھ صلہ رحمی برتے۔ پس جو اس کے علاوہ کرے وہ مجھ سے تعلق رکھتا ہے اور نہ میں اس سے۔ ابن جریر
14353- عن بلال بن سعد عن أبيه أنه قيل: يا رسول الله ما للخليفة بعدك؟ قال: مثل الذي لي ما عدل في الحكم وأقسط في القسط ورحم ذا الرحم فمن فعل غير ذلك فليس مني ولست منه. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৫৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14354 زہری (رح) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر ملی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس خط میں ارشاد فرمایا جو آپ نے قریش اور انصار کے درمیان لکھا تھا :
کسی مفرج (بےخاندان کے شخص) کو یونہی بےآسرا نہ چھوڑو بلکہ قرضوں سے اس کی گردن چھڑانے میں یا اس کی دیت ادا کرنے میں اس کی مدد کرو۔ الجامع لعبد الرزاق
کسی مفرج (بےخاندان کے شخص) کو یونہی بےآسرا نہ چھوڑو بلکہ قرضوں سے اس کی گردن چھڑانے میں یا اس کی دیت ادا کرنے میں اس کی مدد کرو۔ الجامع لعبد الرزاق
14354- عن الزهري قال: بلغنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في الكتاب الذي كتبه بين قريش والأنصار: ولا تتركوا مفرجاأن تعينوه في فكاك أو عقل"عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৫৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14355 عطا (رح) سے مروی ہے کہ میرا ایک حلہ (عمدہ جوڑا) تھا۔ حضرت عمر (رض) نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ وفود کے استقبال اور یوم عید کے لیے یہ حلہ خرید لیں۔
ابن مندہ، ابن عساکر
کلام : روایت ضعیف ہے، کنزالعمال ج 5 ص 776 ۔
ابن مندہ، ابن عساکر
کلام : روایت ضعیف ہے، کنزالعمال ج 5 ص 776 ۔
14355- عن عطارد قال: كان لي حلة فقال عمر: يا رسول الله لو اشتريت هذه الحلة للوفد وليوم العيد. "ابن منده كر"، "وقال: غريب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৫৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14356 راشد بن سعد حضرت معاویہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :
اگر تو لوگوں کے عیوب کی جستجو میں پڑے گا تو ان کو تباہ کردے گا یا ان کو ہلاکت کے قریب کردے گا۔
راشد بن سعد کہتے ہیں : کہ حضرت ابوالدرداء (رض) فرماتے ہیں کہ مذکورہ فرمان رسول کو حضرت معاویہ جب بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کرتے تھے ان کو یہ فرمان نفع دیتا تھا۔
الجامع لعبد الرزاق
اگر تو لوگوں کے عیوب کی جستجو میں پڑے گا تو ان کو تباہ کردے گا یا ان کو ہلاکت کے قریب کردے گا۔
راشد بن سعد کہتے ہیں : کہ حضرت ابوالدرداء (رض) فرماتے ہیں کہ مذکورہ فرمان رسول کو حضرت معاویہ جب بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کرتے تھے ان کو یہ فرمان نفع دیتا تھا۔
الجامع لعبد الرزاق
14356- عن راشد بن سعد عن معاوية قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إنك إن اتبعت عورات الناس أفسدتهم أو كدت تفسدهم قال: يقول أبو الدرداء كلما سمعها معاوية من رسول الله صلى الله عليه وسلم نفعه الله بها. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৫৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امارت (حکومت) کے آداب
14357 (مسند عمر (رض)) عروۃ بن رویم لخمی سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت ابو عبیدۃ بن الجراح (رض) کو خط لکھا۔ حضرت ابوعبیدۃ (رض) اس وقت جابیہ میں تھے۔ حضرت ابوعبیدۃ (رض) نے وہ خط مسلمان سپاہیوں کو پڑھ کر سنایا :
اللہ کے بندہ امیر المومنین عمر کی طرف سے ابوعبیدۃ بن الجراح کو تم پر سلام ہو۔ اما بعد !
اللہ کے حکم کو لوگوں میں صرف پختہ رائے اور حاضر دماغ شخص ہی نافذ کرسکتا ہے ، لوگ جس کے عیب پر مطلع نہ ہوں۔ اور وہ حق کی بات پر غصہ میں جھاگ نہ اڑاتا ہو، اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرتا ہو۔
نیز حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوعبیدۃ (رض) کو یہ بھی لکھا تھا :
میں تم کو یہ خط لکھ رہا ہوں ، اس میں میں اور نہ میرا نفس تمہاری بھلائی سے کوئی کوتاہی نہیں کرے گا ۔ پانچ باتیں لازم پکڑ لو تمہارا دین سلام رہے گا اور تم اپنا حصہ بھی پورا پورا حاصل کرلو گے۔ جب تمہارے پاس دو خصم (فریق) آئیں تو تم سچے گواہ اور پکی قسموں پر اعتبار کرو۔ پھر کمزور کے قریب لگو تاکہ اس کی زبان کھل جائے اور اس کے دل میں جرات پیدا ہو۔ پردیسی اجنبی کی خیر خبر جلد لو۔ کیونکہ جب اس کا دورانیہ قیام طویل ہوجائے گا تو اس کی حاجت فوت ہوجائے گی اور وہ اپنے گھر لوٹ جائے گا۔ اور شخص کو اپنے پاس ٹھکانا دو جس کا حق رہ گیا ہو اور اس نے اس کے لیے سر بھی اٹھایا ہو۔ اور جب تک فیصلہ ہ ہوجائے صلح کرانے کی کوشش اور حرص رکھو۔
ابن ابی الدنیا فی کتاب الاشراف
اللہ کے بندہ امیر المومنین عمر کی طرف سے ابوعبیدۃ بن الجراح کو تم پر سلام ہو۔ اما بعد !
اللہ کے حکم کو لوگوں میں صرف پختہ رائے اور حاضر دماغ شخص ہی نافذ کرسکتا ہے ، لوگ جس کے عیب پر مطلع نہ ہوں۔ اور وہ حق کی بات پر غصہ میں جھاگ نہ اڑاتا ہو، اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرتا ہو۔
نیز حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوعبیدۃ (رض) کو یہ بھی لکھا تھا :
میں تم کو یہ خط لکھ رہا ہوں ، اس میں میں اور نہ میرا نفس تمہاری بھلائی سے کوئی کوتاہی نہیں کرے گا ۔ پانچ باتیں لازم پکڑ لو تمہارا دین سلام رہے گا اور تم اپنا حصہ بھی پورا پورا حاصل کرلو گے۔ جب تمہارے پاس دو خصم (فریق) آئیں تو تم سچے گواہ اور پکی قسموں پر اعتبار کرو۔ پھر کمزور کے قریب لگو تاکہ اس کی زبان کھل جائے اور اس کے دل میں جرات پیدا ہو۔ پردیسی اجنبی کی خیر خبر جلد لو۔ کیونکہ جب اس کا دورانیہ قیام طویل ہوجائے گا تو اس کی حاجت فوت ہوجائے گی اور وہ اپنے گھر لوٹ جائے گا۔ اور شخص کو اپنے پاس ٹھکانا دو جس کا حق رہ گیا ہو اور اس نے اس کے لیے سر بھی اٹھایا ہو۔ اور جب تک فیصلہ ہ ہوجائے صلح کرانے کی کوشش اور حرص رکھو۔
ابن ابی الدنیا فی کتاب الاشراف
14357- "مسند عمر" عن عروة بن رويم اللخمي قال: كتب عمر بن الخطاب إلى أبي عبيدة بن الجراح كتابا فقرأه على الناس بالجابية من عبد الله: عمر أمير المؤمنين إلى أبي عبيدة بن الجراح سلام عليك أما بعد فإنه لم يقم أمر الله في الناس إلا حصيف العقدة بعيد الغرة لا يطلع الناس منه على عورة، ولا يحنق في الحق على جرتهولا يخاف في الله لومة لائم قال، وكتب عمر إلى أبي عبيد اما بعد فإني كتبت إليك بكتاب لم آلكولا نفسي فيه خيرا؛ الزم خمس خلال يسلم لك دينك وتحظى بأفضل حظك: إذا حضرك الخصمان فعليك بالبينات العدول والأيمان القاطعة، ثم ادن الضعيف حتى ينبسط لسانه ويجتريءقلبه، وتعاهد الغريب فإنه إذا طال حبسه ترك حاجته وانصرف إلى أهله، وآو الذي أبطل حقه من لم يرفع به رأسا، واحرص على الصلح ما لم يتبين لك القضاء والسلام عليك "ابن أبي الدنيا في كتاب الأشراف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৫৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14358 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا :
سن اور اطاعت کر، خواہ تجھ سر ایک کالے کلوٹے ناک کٹے غلام کو امیر بنادیا جائے۔ اگر وہ تجھ کو کوئی نقصان پہنچائے تو صبر کر، اگر تجھے کوئی حکم سونپے اس کی اطاعت کر، اگر وہ تجھے محروم کرے تو صبر کر، اگر تجھ پر ظلم کرے صبر کر اور اگر تیرے دین میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کرے تب تو اس کو خبردار کردے کہ اپنے دین پر میں اپنا خون بہانے سے دریغ نہ کروں گا۔
اور بہرحال جماعت سے جدا نہ ہونا۔
ابن ابی شیبہ، مسند البزار، ابن ماجہ، ابن جریر، نعیم بن حماد فی الفتن، الکجی، ابن زنجویہ فی الاموال، ابن ابی شیبہ، السنن للبیہقی
سن اور اطاعت کر، خواہ تجھ سر ایک کالے کلوٹے ناک کٹے غلام کو امیر بنادیا جائے۔ اگر وہ تجھ کو کوئی نقصان پہنچائے تو صبر کر، اگر تجھے کوئی حکم سونپے اس کی اطاعت کر، اگر وہ تجھے محروم کرے تو صبر کر، اگر تجھ پر ظلم کرے صبر کر اور اگر تیرے دین میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کرے تب تو اس کو خبردار کردے کہ اپنے دین پر میں اپنا خون بہانے سے دریغ نہ کروں گا۔
اور بہرحال جماعت سے جدا نہ ہونا۔
ابن ابی شیبہ، مسند البزار، ابن ماجہ، ابن جریر، نعیم بن حماد فی الفتن، الکجی، ابن زنجویہ فی الاموال، ابن ابی شیبہ، السنن للبیہقی
14358- عن عمر قال: اسمع وأطع وإن أمر عليك عبد حبشي مجدع إن ضرك فاصبر، وإن أمرك بأمر فأتمر وإن حرمك فاصبر، وإن ظلمك فاصبر، وإن أراد أن ينقص من دينك فقل: دمي دون ديني ولا تفارق الجماعة. "ش ز هـ وابن جرير ونعيم بن حماد الفتن والكجي وابن زنجويه في الأموال ش ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৫৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14359 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے، ارشاد فرمایا :
جو شخص مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر اپنی یا کسی اور کی امارت (حکومت) کی طرف بلائے تو تمہارے لیے حلال نہیں ہے کہ تم اس کو قتل نہ کرو۔ الجامع لعبد الرزاق، النسائی
جو شخص مسلمانوں کے مشورہ کے بغیر اپنی یا کسی اور کی امارت (حکومت) کی طرف بلائے تو تمہارے لیے حلال نہیں ہے کہ تم اس کو قتل نہ کرو۔ الجامع لعبد الرزاق، النسائی
14359- عن عمر قال: من دعا إلى إمارة نفسه أو غيره من غير مشورة من المسلمين فلا يحل لكم ان لا تقتلوه. "عب ن".
তাহকীক: