কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৫ টি
হাদীস নং: ১৪৩৬০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14360 ابوالبختری سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوموسیٰ (رض) کو لکھا :
لوگوں کو اپنے سلطان سے ایک گونہ نفرت ہوجاتی ہے، میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ مجھے اور تم کو ایسی نفرت کا سامنا کرنا پڑے (ایسے سمے) دلوں میں کینے پلتے ہیں، دنیا کو ترجیح دی جاتی ہے، خواہشات کے پیچھے دوڑا جاتا ہے اور قبائل (قوم پرستی) کی طرف دعوت دی جاتی ہے جو کہ شیطانی غرور ہے۔ پس اگر یہ صورت پیدا ہوجائے تو تم پر تلوار لازم ہے ، تلوار لازم ہے، قتال لازم ہے قتال لازم ہے جب تک کہ وہ (قوم) پرستی سے ہٹ کر یا اہل الاسلام ! یا اہل الاسلام نہ کہنے لگیں۔ یعنی قوم پرستی اور عصبیت چھوڑ کر اسلام پرستی کی طرف نہ آجائیں۔ مصنف ابن ابی شیبہ
لوگوں کو اپنے سلطان سے ایک گونہ نفرت ہوجاتی ہے، میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ مجھے اور تم کو ایسی نفرت کا سامنا کرنا پڑے (ایسے سمے) دلوں میں کینے پلتے ہیں، دنیا کو ترجیح دی جاتی ہے، خواہشات کے پیچھے دوڑا جاتا ہے اور قبائل (قوم پرستی) کی طرف دعوت دی جاتی ہے جو کہ شیطانی غرور ہے۔ پس اگر یہ صورت پیدا ہوجائے تو تم پر تلوار لازم ہے ، تلوار لازم ہے، قتال لازم ہے قتال لازم ہے جب تک کہ وہ (قوم) پرستی سے ہٹ کر یا اہل الاسلام ! یا اہل الاسلام نہ کہنے لگیں۔ یعنی قوم پرستی اور عصبیت چھوڑ کر اسلام پرستی کی طرف نہ آجائیں۔ مصنف ابن ابی شیبہ
14360- عن أبي البختري قال: كتب عمر إلى أبي موسى إن للناس نفرة عن سلطانهم فأعوذ بالله أن تدركني وإياكم ضغائن محمولة ودنيا مؤثرة وأهواء متبعة، وإنه ستدعى القبائل وذلك نخوة من الشيطان فإن كان ذلك فالسيف السيف القتل القتل يقولون: يا أهل الإسلام يا أهل الإسلام. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৬১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14361 طلحہ بن عبید اللہ بن کریز سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے لشکروں کے امیروں کو لکھا : جب قبائل قبیلہ پرستیوں کی دعوت دینے لگیں تو ان کو تلوار سے سیدھا کرو حتیٰ کہ وہ اسلام کی دعوت کی طرف لوٹ جائیں۔ مصنف ابن ابی شیبہ
14361- عن طلحة بن عبيد الله بن كريز قال: كتب عمر إلى أمراء الأجناد إذا تداعت القبائل فاضربوهم بالسيف حتى يصيروا إلى دعوة الإسلام. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৬২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14362 ابومجلز سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا :
جس نے قبائل کی طرف اپنی نسبت کی (قوم پرستی کا نعرہ مارا) اس کو کاٹ دو (جدا کردو) اور اس کا فیصلہ کردو۔ مصنف ابن ابی شیبہ
جس نے قبائل کی طرف اپنی نسبت کی (قوم پرستی کا نعرہ مارا) اس کو کاٹ دو (جدا کردو) اور اس کا فیصلہ کردو۔ مصنف ابن ابی شیبہ
14362- عن أبي مجلز قال: قال عمر: من اعتزىبالقبائل فأعضوه أو فأمضوه"ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৬৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14363 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے یہ نعرہ مارا اے آل ضبہ ! انھوں نے یہ واقعہ حضرت عمر (رض) کو لکھ بھیجا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر اس نے واقعی۔ قوم پرستی کا نعرہ مارا ہے تو اس کو سزا دو یا فرمایا اس کو ادب سکھاؤ۔ بیشک ضبہ کبھی اس سے کوئی مصیبت دور نہیں کرسکتے اور نہ کبھی اس کو کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ مصنف ابن ابی شیبہ
14363- عن الشعبي أن رجلا قال: يا آل ضبة فكتب إلى عمر فكتب إليه عمر: إن قال، عاقبه - أو قال أدبه - فإن ضبة لم تدفع عنهم سوءا قط ولم تجر إليهم خيرا قط. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৬৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14364 ابومجلز سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا : اے آل بنی تمیم ! (یعنی اس نے قوم پرستی کی طرف اپنے قوم کو بلایا) چنانچہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک سال اس کا وظیفہ (تنخواہ) بند کردیا اور آئندہ سال اس کو وظیفہ دیا۔
14364- عن أبي مجلز قال: قال رجل: يا آل بني تميم فحرمه عمر بن الخطاب عطاءه سنة ثم أعطاه إياه من العام المقبل.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৬৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14365 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ، ارشاد فرمایا :
عنقریب ایسے حکام اور گورنر آئیں گے جن کی صحبت فتنہ ہوگی اور ان سے مفارقت کفر (کا پیش خیمہ) ہوگی۔ مصنف ابن ابی شیبہ
فائدہ : یہ حال گمراہ حاکموں کا ہے کہ ان کے ساتھ میل جول رکھنا خود کو فتنے میں ڈالنا ہے جیسا کہ آج کل کے حکام کا حال ہے اور ان سے جدا ہونا کفر ہے، اس کا مطلب ہے کہ ان کے خلاف ہونا، عام جماعت المسلمین سے جدا ہوجانا اور ان حکام کے خلافت بغاوت کرنا یہ فتنے سے بھی بڑی چیز ہوگی جو کہ کفر ہے اور اسلام میں دراڑ ڈالنے کا باعث ہے لہٰذا عافیت کے ساتھ ایسے حکام سے دور رہنا مستحسن ہے۔
عنقریب ایسے حکام اور گورنر آئیں گے جن کی صحبت فتنہ ہوگی اور ان سے مفارقت کفر (کا پیش خیمہ) ہوگی۔ مصنف ابن ابی شیبہ
فائدہ : یہ حال گمراہ حاکموں کا ہے کہ ان کے ساتھ میل جول رکھنا خود کو فتنے میں ڈالنا ہے جیسا کہ آج کل کے حکام کا حال ہے اور ان سے جدا ہونا کفر ہے، اس کا مطلب ہے کہ ان کے خلاف ہونا، عام جماعت المسلمین سے جدا ہوجانا اور ان حکام کے خلافت بغاوت کرنا یہ فتنے سے بھی بڑی چیز ہوگی جو کہ کفر ہے اور اسلام میں دراڑ ڈالنے کا باعث ہے لہٰذا عافیت کے ساتھ ایسے حکام سے دور رہنا مستحسن ہے۔
14365- عن عمر قال: إنها ستكون أمراء وعمال صحبتهم فتنة ومفارقتهم كفر. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৬৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14366 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ، ارشاد فرمایا : عنقریب معاویہ تم پر غالب آجائیں گے۔ لوگوں نے عرض کیا : تب ہم ان سے قتال نہ کریں ؟ ارشاد فرمایا : لوگوں کے لیے کوئی نہ کوئی امیر ضروری ہے خواہ وہ نیک ہو یا فاجر۔ وایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ
نعیم، ابن ابی شیبہ
نعیم، ابن ابی شیبہ
14366- عن علي قال: إن معاوية سيظهر عليكم، قالوا: فلم نقاتل إذا؟ قال: لا بد للناس من أمير بر أو فاجر. "نعيم ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৬৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14367 شمر ایک صاحب سے روایت کرتے ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت علی المرتضیٰ (رض) کے زمانہ میں عریف (قیافہ شناس اور کاہن کے مثل) تھا۔ حضرت علی (رض) نے ہم کو ایک حکم دیا۔ پھر بعد میں پوچھا : کیا میں نے تم کو جو حکم دیا تھا تم نے اس کو پورا کردیا ؟ ہم نے عرض کیا : نہیں۔ تب آپ (رض) نے ارشاد فرمایا :
اللہ کی قسم ! تم کو جو (مسلمان حاکم کی طرف سے) حکم ملتا رہے تم اس کی تعمیل کرتے رہو ورنہ تو تمہاری گردنوں پر یہود و نصاریٰ سورا ہوجائیں گے۔ مصنف ابن ابی شیبہ
اللہ کی قسم ! تم کو جو (مسلمان حاکم کی طرف سے) حکم ملتا رہے تم اس کی تعمیل کرتے رہو ورنہ تو تمہاری گردنوں پر یہود و نصاریٰ سورا ہوجائیں گے۔ مصنف ابن ابی شیبہ
14367- عن شمر عن رجل قال: كنت عريفا في زمن علي فأمرنا بأمر فقال: أفعلتم ما أمرتكم؟ قلنا: لا، قال: والله لتفعلن ما تؤمرون به أو لنركبن أعناقكم اليهود والنصارى. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৬৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14368 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا :
میں نہیں سمجھتا ان (گمراہوں اور کافروں) کو تم پر غلبہ پانے والا ، مگر ایسی صورت میں جب تم حق سے ہٹ کر تفرقہ بازی کا شکار ہوجاؤ اور وہ اپنے باطل خیال پر مجتمع ہوجائیں۔ حاکم کسی صورت میں بال کو چیر نہیں سکتا ہاں وہ فیصلہ میں خطاء کرسکتا ہے اور صائب بھی ہوسکتا ہے۔ پس جب امام حاکم رعایا میں عدل کرے ، برابری کے ساتھ تقسیم کرے تو تم اس کی سنو اور اس پر عمل کرو ۔ لوگوں کی اصلاح اموال صرف حاکم ہی کرسکتا ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد۔ اگر وہ نیک ہوگا تو اپنے لیے اور اپنی رعایا کے لیے بھی دونوں کے لیے بھلائی کا موجب ہوگا اور اگر وہ بدکار ہوگا تو تب بھی مومن اس کے سائے میں اپنے رب کی عبادت کرے گا اور بدکار اس کے سائے میں جلد اپنے انجام کو پہنچے گا۔ اور عنقریب تم لوگ مجھے گالیاں دو گے اور میرے دین سے برأت کا اظہار کرو گے (اور مجھے بےدین ٹھہراؤ گے) ۔ پس جو مجھے گالیاں دے میں اس کو معاف کرتا ہوں لیکن دین سے میری برأت کرنا درست نہیں کیونکہ میں اسلام پر قائم ہوں۔ ابن ابی شیبہ
میں نہیں سمجھتا ان (گمراہوں اور کافروں) کو تم پر غلبہ پانے والا ، مگر ایسی صورت میں جب تم حق سے ہٹ کر تفرقہ بازی کا شکار ہوجاؤ اور وہ اپنے باطل خیال پر مجتمع ہوجائیں۔ حاکم کسی صورت میں بال کو چیر نہیں سکتا ہاں وہ فیصلہ میں خطاء کرسکتا ہے اور صائب بھی ہوسکتا ہے۔ پس جب امام حاکم رعایا میں عدل کرے ، برابری کے ساتھ تقسیم کرے تو تم اس کی سنو اور اس پر عمل کرو ۔ لوگوں کی اصلاح اموال صرف حاکم ہی کرسکتا ہے خواہ وہ نیک ہو یا بد۔ اگر وہ نیک ہوگا تو اپنے لیے اور اپنی رعایا کے لیے بھی دونوں کے لیے بھلائی کا موجب ہوگا اور اگر وہ بدکار ہوگا تو تب بھی مومن اس کے سائے میں اپنے رب کی عبادت کرے گا اور بدکار اس کے سائے میں جلد اپنے انجام کو پہنچے گا۔ اور عنقریب تم لوگ مجھے گالیاں دو گے اور میرے دین سے برأت کا اظہار کرو گے (اور مجھے بےدین ٹھہراؤ گے) ۔ پس جو مجھے گالیاں دے میں اس کو معاف کرتا ہوں لیکن دین سے میری برأت کرنا درست نہیں کیونکہ میں اسلام پر قائم ہوں۔ ابن ابی شیبہ
14368- عن علي قال: إني لا أرى هؤلاء القوم إلا ظاهرين بتفرقكم عن حقكم واجتماعهم على باطلهم، وإن الإمام ليس بشاق شعرة وانه يخطئ ويصيب؛ فإذا كان عليكم إمام يعدل في الرعية ويقسم بالسوية اسمعوا له وأطيعوا، وأن الناس لا يصلحهم إلا إمام بر أو فاجر؛ فإن كان برا فللراعي والرعية، وإن كان فاجرا عبد فيه المؤمن ربه وعمل فيه الفاجر إلى أجله، وأنكم ستعرضون على سبي وعلى البراءة مني، فمن سبني فهو في حل من سبي ولا يبرأ من ديني فإني على الإسلام. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৬৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14369 ربیعہ بن ماجد سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا :
میں تم کو اللہ کی اطاعت کا جو حکم دوں تم پر اس میں میری اطاعت لازم ہے، طوعاً اور کرھاً ہر صورت میں۔ اور اگر تم کو اللہ کی نافرمانی کا کوئی حکم دوں، میں یا کوئی بھی میرے سوا تو پس معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں ہے۔ اطاعت صرف نیکی میں ہے، اطاعت صرف نیکی میں ہے، اطاعت صرف نیکی میں ہے۔ ابن جریر
میں تم کو اللہ کی اطاعت کا جو حکم دوں تم پر اس میں میری اطاعت لازم ہے، طوعاً اور کرھاً ہر صورت میں۔ اور اگر تم کو اللہ کی نافرمانی کا کوئی حکم دوں، میں یا کوئی بھی میرے سوا تو پس معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں ہے۔ اطاعت صرف نیکی میں ہے، اطاعت صرف نیکی میں ہے، اطاعت صرف نیکی میں ہے۔ ابن جریر
14369- عن ربيعة بن ماجد قال: قال علي ما أمرتكم به من طاعة الله فحق عليكم طاعتي فيما أحببتم وما كرهتم وما أمرتكم به من معصية الله أو غيري فلا طاعة لأحد في المعصية، الطاعة في المعروف الطاعة في المعروف الطاعة في المعروف. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৭০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14370 حضرت انس (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا :
اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے ہمارے بڑوں نے ہم کو حکم دیا تھا : اپنے حاکموں کو برا بھلا نہ کہو، نہ ان پر ہلہ بولو، نہ ان کی نافرمانی کرو، اللہ سے ڈرتے رہو اور صبر کرتے رہو۔ بیشک فیصلہ قریب ہے۔ ابن جریر
اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے ہمارے بڑوں نے ہم کو حکم دیا تھا : اپنے حاکموں کو برا بھلا نہ کہو، نہ ان پر ہلہ بولو، نہ ان کی نافرمانی کرو، اللہ سے ڈرتے رہو اور صبر کرتے رہو۔ بیشک فیصلہ قریب ہے۔ ابن جریر
14370- عن أنس قال: نهانا كبيراؤنا من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم قال: لا تسبوا أمراءكم ولا تغشوهم ولا تعصوهم واتقوا الله واصبروا فإن الأمر قريب. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৭১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14371 حضرت حذیفہ (رض) سے مروی ہے ، ارشاد فرمایا :
خبردار ! کوئی شخص (اپنے ) بادشاہ کو ذلیل کرنے کے لیے ایک بالشت بھی نہ چلے۔ ورنہ اللہ کی قسم ! جس قوم نے اپنے بادشاہ کی تذلیل کی ہے اس کے نصیب میں قیامت تک کے لیے ذلت لکھ دی گئی ہے۔ ابن ابی شیبہ
خبردار ! کوئی شخص (اپنے ) بادشاہ کو ذلیل کرنے کے لیے ایک بالشت بھی نہ چلے۔ ورنہ اللہ کی قسم ! جس قوم نے اپنے بادشاہ کی تذلیل کی ہے اس کے نصیب میں قیامت تک کے لیے ذلت لکھ دی گئی ہے۔ ابن ابی شیبہ
14371- عن حذيفة قال: ألا لا يمشي رجل منكم شبرا إلى ذي سلطان ليذله فلا والله لا يزال قوم أذلوا السلطان أذلاء إلى يوم القيامة. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৭২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14372 حضرت عبادۃ الصامت (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (مجھے) ارشاد فرمایا :
اے عبادۃ ! تجھ پر (حاکم کی) بات سننا اور اس کی اطاعت بجالانا واجب ہے، آسانی میں، خوشی میں، ناراضی میں اور خواہ تجھ پر اوروں کو ترجیح دی جائے۔ کبھی اہل حکمت سے ان کی حکومت میں نزاع نہ کرنا (حکومت کے حصول کے لئے) خواہ تجھے یہ خیال ہو کہ وہ حکومت تیرا حق ہے۔ ہاں اگر وہ تجھے کسی ایسی بات کا حکم کریں جو کھلا گناہ ہو اور کتاب اللہ سے اس کی نہی تیرے سامنے ہو۔ تب تم اس کی اطاعت ہرگز نہ کرنا (بعد میں) حضرت عبادۃ (رض) سے کسی نے پوچھا : اگر میں گناہ کی صورت میں بھی حاکم کی اطاعت کروں تو ؟ آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : تب تجھے تیرے ہاتھوں اور پیروں سے اٹھا کر جہنم برد کردیا جائے گا پھر وہ حاکم آکر تجھے بچا لے۔ ابن جریر، ابن عساکر
روایت کے راوی ثقہ ہیں۔
اے عبادۃ ! تجھ پر (حاکم کی) بات سننا اور اس کی اطاعت بجالانا واجب ہے، آسانی میں، خوشی میں، ناراضی میں اور خواہ تجھ پر اوروں کو ترجیح دی جائے۔ کبھی اہل حکمت سے ان کی حکومت میں نزاع نہ کرنا (حکومت کے حصول کے لئے) خواہ تجھے یہ خیال ہو کہ وہ حکومت تیرا حق ہے۔ ہاں اگر وہ تجھے کسی ایسی بات کا حکم کریں جو کھلا گناہ ہو اور کتاب اللہ سے اس کی نہی تیرے سامنے ہو۔ تب تم اس کی اطاعت ہرگز نہ کرنا (بعد میں) حضرت عبادۃ (رض) سے کسی نے پوچھا : اگر میں گناہ کی صورت میں بھی حاکم کی اطاعت کروں تو ؟ آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : تب تجھے تیرے ہاتھوں اور پیروں سے اٹھا کر جہنم برد کردیا جائے گا پھر وہ حاکم آکر تجھے بچا لے۔ ابن جریر، ابن عساکر
روایت کے راوی ثقہ ہیں۔
14372- عن عبادة بن الصامت قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا عبادة عليك السمع والطاعة في يسرك ومنشطك ومكرهك وأثرةعليك ولا تنازع الأمر أهله، وإن رأيت أنه لك إلا أن يأمروك بأمر وفي لفظ: باثم بواحاعندك تأويله من الكتاب، قيل لعبادة: فإن أنا أطعته قال: يؤخذ بقوائمك فتلقى في النار وليجيء هو فلينقذك. "ابن جرير كر" ورجاله ثقات.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৭৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14373 عبادۃ بن الصامت (رض) سے مروی ہے، آپ (رض) فرماتے ہیں : میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ارشاد فرمایا : اے عبادۃ ! میں نے عرض کیا : لبیک یارسول اللہ ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سن اور اطاعت کر تنگدستی میں، خوشحالی میں، خوشی میں ناراضگی میں اور خواہ تجھ پر اوروں کو ترجیح اور فوقیت دی جائے، خواہ وہ حکام تیرا مال کھالیں اور تجھے تیری کمر پر کوڑے برسائیں، الایہ کہ وہ حاکم اللہ کی کسی کھلی نافرمانی کا مرتکب ہو۔ ابن عساکر
14373- عن عبادة بن الصامت قال: دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لي: يا عبادة، قلت لبيك يا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: اسمع وأطع في عسرك ويسرك ومنشطك ومكرهك وأثرة عليك وإن أكلوا مالك وضربوا ظهرك إلا أن تكون معصية الله بواحا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৭৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14374 حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کی ایک جماعت کے ہمراہ تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کیا تم کو علم نہیں ہے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ؟ لوگوں نے عرض کیا : کیوں نہیں، ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مزید استفسار فرمایا : کیا تم نہیں جانتے کہ جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ؟ لوگوں نے کہا : بیشک آپ کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پس خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت یہ ہے کہ تم میری اطاعت کرو اور میری اطاعت یہ ہے کہ تم اپنے حکام کی اطاعت کرو، اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھیں تو تم بھی بیٹھ کر ان کی اقتداء کرو۔ مسند ابی یعلی، ابن عساکر
14374- عن ابن عمر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان في نفر من أصحابه فأقبل عليهم فقال: ألستم تعلمون أني رسول الله إليكم؟ قالوا: بلى نشهد أنك رسول الله، قال: ألستم تعلمون أنه من أطاعني فقد أطاع الله ومن طاعة الله طاعتك، قال: فإن من طاعة الله أن تطيعوني، ومن طاعتي أن تطيعوا أمراءكم وإن صلوا قعودا صلوا قعودا. "ع كر" ورجاله ثقات.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৭৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14375 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) نے ابوعبیدۃ بن الجراح (رض) سے عرض کیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کو ہم پر امیر مقرر فرمایا ہے جبکہ ابن النابغۃ ۔ عمرو بن العاص (رض) قوم سے آس لگائے بیٹھے ہیں (کہ ان کو امیر بنادیا جائے) وہ آپ کی اتباع میں نہیں ہیں۔ حضرت ابوعبیدۃ (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو حکم فرمایا تھا کہ ہم ان کی اتباع کریں لہٰذا میں تو ان کی اتباع کروں گا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعمیل ارشاد میں خواہ عمرو بن العاص میری نافرمانی کیوں نہ کرے۔
السن لسعید بن منصور
السن لسعید بن منصور
14375- عن الشعبي قال: قال المغيرة بن شعبة لأبي عبيدة بن الجراح: إ ن رسول الله صلى الله عليه وسلم استعملك علينا وأن ابن النابغة قد ارتبعأثر القوم ليس لك معه أمر، فقال أبو عبيدة: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرنا أن نطيعه فأنا أطيعه لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم وإن عصى عمرو بن العاص. "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৭৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14376 طاؤس (رح) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوذر (رض) کو فرمایا : کیا بات ہے میں تم کو بہت زیادہ اور تیز بولنے والا دیکھتا ہوں (تمہاری اس عادت کی وجہ سے) جب تم کو مدینے سے نکالا جائے گا تب تمہارا کیا حال ہوگا ؟ حضرت ابوذر (رض) نے عرض کیا : میں سرزمین میں مقدس چلا جاؤں گا۔ ارض فلسطین
حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب م کو وہاں سے بھی نکال دیا جائے گا تب کیا کروگے ؟ ابوذر (رض) نے عرض کیا : میں مدینہ آجاؤں گا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر وہاں سے بھی تم کو نکال دیا جائے گا تب کیا کرو گے ؟ حضرت ابوذر (رض) نے عرض کیا : تب میں اپنی تلوار سونت لوں گا اور اس کے مقابلہ کروں گا۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نہیں ایسا نہ کرنا۔ بلکہ تم اپنے امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا خواہ وہ کالا غلام ہو۔
امیر کی اطاعت کی جائے اگرچہ حبشی غلام ہو
چنانچہ (دور عثمان (رض)) میں جب حضرت ابوذر (رض) (مدینہ سے باہر) (بذۃ مقام پر) قیام کے لیے بھیجے گئے تو وہاں کا امیر ایک کالا غلام تھا جو حضرت عثمان (رض) کی طرف سے مقرر کیا گیا تھا۔ اس امیر غلام نے حضرت ابوذر (رض) کی موجودگی میں اذان دی اور پھر نماز کے لیے اقامت کہی اور حضرت ابوذر (رض) کی خدمت میں درخواست کی۔ کہ آگے بڑھیے اور نماز پڑھائیے۔ حضرت ابوذر (رض) نے ارشاد فرمایا : نہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم فرمایا تھا کہ امیر کی سننا اور اطاعت کرنا خواہ وہ کالا غلام ہو۔ چنانچہ امیر آگے بڑھا اور اس نے نماز پڑھائی اور حضرت ابوذر (رض) نے اس کی اتباع میں نماز پڑھی۔
الجامع لعبد الرزاق
حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب م کو وہاں سے بھی نکال دیا جائے گا تب کیا کروگے ؟ ابوذر (رض) نے عرض کیا : میں مدینہ آجاؤں گا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر وہاں سے بھی تم کو نکال دیا جائے گا تب کیا کرو گے ؟ حضرت ابوذر (رض) نے عرض کیا : تب میں اپنی تلوار سونت لوں گا اور اس کے مقابلہ کروں گا۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نہیں ایسا نہ کرنا۔ بلکہ تم اپنے امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا خواہ وہ کالا غلام ہو۔
امیر کی اطاعت کی جائے اگرچہ حبشی غلام ہو
چنانچہ (دور عثمان (رض)) میں جب حضرت ابوذر (رض) (مدینہ سے باہر) (بذۃ مقام پر) قیام کے لیے بھیجے گئے تو وہاں کا امیر ایک کالا غلام تھا جو حضرت عثمان (رض) کی طرف سے مقرر کیا گیا تھا۔ اس امیر غلام نے حضرت ابوذر (رض) کی موجودگی میں اذان دی اور پھر نماز کے لیے اقامت کہی اور حضرت ابوذر (رض) کی خدمت میں درخواست کی۔ کہ آگے بڑھیے اور نماز پڑھائیے۔ حضرت ابوذر (رض) نے ارشاد فرمایا : نہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے حکم فرمایا تھا کہ امیر کی سننا اور اطاعت کرنا خواہ وہ کالا غلام ہو۔ چنانچہ امیر آگے بڑھا اور اس نے نماز پڑھائی اور حضرت ابوذر (رض) نے اس کی اتباع میں نماز پڑھی۔
الجامع لعبد الرزاق
14376- عن طاوس قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم لأبي ذر: ما لي أراك لقابقاكيف بك إذا أخرجوك من المدينة؟ قال: آتي الأرض المقدسة، قال: فكيف بك إذا أخرجوك منها؟ قال: آتي المدينة، قال: فكيف بك إذا أخرجوك منها؟ قال: آخذ سيفي فأضرب به، قال: لا ولكن اسمع وأطع وإن كان عبدا أسود، فلما خرج أبو ذر إلى الربذة فوجد بها غلاما لعثمان أسود؛ فأذن وأقام ثم قال: تقدم يا أبا ذر، قال: لا، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرني أن أسمع وأطيع وإن كان عبدا أسود فتقدم فصلى خلفه. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৭৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14377 حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے برے حکام کا ذکر فرمایا اور ان کی گمراہی کا تذکرہ فرمایا کہ ان کی گمراہی زمین و آسمان کے خلاء کو پر کردے گی۔ کسی صحابی نے عرض کیا : رسول اللہ ! کیا پھر ہم ان کے خلاف تلوار نہ اٹھائیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نہیں جب تک وہ نماز قائم کرتے رہیں۔ نعیم بن حماد فی الفتن
14377- عن الحسن قال: ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم أمراء سوء وأئمة وذكر ضلالة بعضهم، يملأ ما بين السماء والأرض، قيل يا رسول الله ألا نضرب وجهه بالسيف؟ قال: لا، ما صلى أو قال ما صلوا الصلاة فلا. "نعيم بن حماد في الفتن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৭৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14378 ام مسلمہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جن کی کچھ باتوں کو تم صحیح دیکھو گے اور کئی باتوں کو غلط پاؤں گے۔ جس نے ان کی غلطیوں پر نکیر کی۔ ان کو منع کیا اس نے نجات پائی اور جس نے ان باتوں کو غلط سمجھنے پر اکتفاء کیا وہ بھی محفوظ رہا لیکن جو راضی ہوگیا اور ان کی اتباع میں لگ گیا۔ وہ ہلاک ہوگیا کسی نے پوچھا : یارسول اللہ ! کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں۔
ابن ابی شیبہ، نعیم بن حماد فی الغتن
تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جن کی کچھ باتوں کو تم صحیح دیکھو گے اور کئی باتوں کو غلط پاؤں گے۔ جس نے ان کی غلطیوں پر نکیر کی۔ ان کو منع کیا اس نے نجات پائی اور جس نے ان باتوں کو غلط سمجھنے پر اکتفاء کیا وہ بھی محفوظ رہا لیکن جو راضی ہوگیا اور ان کی اتباع میں لگ گیا۔ وہ ہلاک ہوگیا کسی نے پوچھا : یارسول اللہ ! کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں۔
ابن ابی شیبہ، نعیم بن حماد فی الغتن
14378- عن أم سلمة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تقوم عليكم أئمة تعرفون منهم وتنكرون، ومن أنكر فقد نجا ومن كره فقد سلم ولكن من رضي وتابع، قيل: يا رسول الله أفلا نقتلهم؟ قال: أما ما صلوا الصلاة فلا. "ش ونعيم بن حماد في الفتن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৭৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14379 حضرت اسماء بنت یزید (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوذر الغفاری (رض) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کیا کرتے تھے۔ جب آپ کی خدمت سے فارغ ہوتے تو مسجد میں آکر ٹھکانا کرلیتے تھے۔ یہی آپ کا گھر تھا۔ یہیں آپ آرام فرمایا کرتے تھے۔ ایک رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں داخل ہوئے تو حضرت ابوذر (رض) کو زمین پر لیٹا ہوا نیند پایا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اپنے پاؤں سے جگایا۔ حضرت ابوذر (رض) سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا بات ہے میں تم کو مسجد میں سوتا ہوا دیکھ رہاہوں ؟ حضرت ابوذر (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! پھر اور کہاں سوؤں، میرا اس کے سوا کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس بیٹھ گئے اور پوچھا : اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب لوگ تم کو یہاں (مدینے) سے نکال دیں گے ؟ حضرت ابوذر (رض) نے عرض کیا : تب میں ملک شام (جس میں بیت المقدس بھی شامل ہے) چلا جاؤں گا کیونکہ ملک شام کی سرزمین ہجرت کی سرزمین ہے، میدان حشر بھی وہیں ہوگا اور وہ انبیاء کی سرزمین ہے۔ چنانچہ میں بھی وہاں کا باشندہ بن جاؤں گا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تب تم کیا کرو گے جب تم کو وہاں سے بھی نکال دیا جائے گا ؟ تب ہم کیا کریں ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پہلے کی بیعت کو نبھاؤ پھر اس کے بعد آنے والے کی۔ اور تمہارے ذمے ان کے حقوق کو ادا کرنا اور ان کے ذمے تمہارے جو حقوق ہیں اللہ پاک ان سے ان کے بارے میں باز پرس فرمائے گا۔ مصنف ابن ابی شیبہ
14379- عن أسماء بنت يزيد أن أبا ذر الغفاري كان يخدم رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ فإذا فرغ من خدمته أوى إلى المسجد، فكان هو بيته يضطجع فيه، فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة إلى المسجد فوجد أبا ذر نائما منجدلافي المسجد فركلهرسول الله صلى الله عليه وسلم برجله حتى استوى قاعدا، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أراك نائما فيه؟ فقال أبو ذر أين أنام يا رسول الله؛ مالي من بيت غيره؟ فجلس إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: فكيف أنت إذا أخرجوك منه؟ قال: إذا ألحق بالشام فإن الشام أرض الهجرة والمحشر وأرض الأنبياء فأكون رجلا من أهلها، قال: فكيف أنت إذا أخرجوك من الشام؟ قال: إذا أرجع إليه فيكون بيتي ومنزلي، قال: فكيف أنت إذا أخرجوك منه ثانيا؟ قال: آخذ سيفي فأقاتل حتى أموت، فكشرإليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فأثبته بيده فقال: أدلك على ما هو خير من ذلك؟ قال: بلى بأبي وأمي يا رسول الله، تنقاد لهم حيث ساقوك حين تلقاني وأنت على ذلك. "ابن جرير".
তাহকীক: