কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৫ টি
হাদীস নং: ১৪৩৮০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14380: حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ بنی اسرائیل کے انبیاء بنی اسرائیل کے امور کا انتظام فرماتے تھے جب بھی کوئی نبی دنیا سے رخصت ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے نبی کو مبعوث فرماتے تھے لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد کیا ہوگا ؟ نائبین بہت ہوں گے تم بیعت کرو اور جو حقوق تم پر لازم ہوں ان کو پورا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں پوچھے گا اور ایک روایت میں یوں ہے اللہ تعالیٰ ان کی رعایا بننے کے بارے میں سوال کرے گا۔ ابن جریر۔
14380- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن بني إسرائيل كانت تسوسهم الأنبياء كلما هلك نبي قام نبي وأنه لا نبي بعدي قالوا: يا رسول الله فما يكون بعدك؟ يكون خلفاء تكثر، قال: أوفوا بيعة الأول وأدوا إليهم ما عليكم فإن الله سائلهم عن الذي لكم وفي لفظ: سائلهم عما استرعاهم. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৮১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14380: حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ بنی اسرائیل کے امور کی تدبیر ان کے انبیاء (علیہم السلام) کرتے تھے جب بھی کوئی نبی گیا تو اس کا نائب نبی آیا لیکن میرے بعد تمہارے درمیان کوئی نبی نہیں ہوگا صحابہ کرام (رض) نے عرض کی یا رسول اللہ ! پھر کیا ہوگا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے صحابہ کرام نے عرض کی ہم کیا کریں گے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم یکے بعد دیگرے بیعت کرتے رہو اور جو تم پر لازم ہو اسے ادا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے متعلق پوچھیں گے۔ ابن ابی شیبہ۔
14381- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن بني إسرائيل كانت تسوسهم أنبياؤهم كلما ذهب نبي خلف نبي فإنه ليس كائن فيكم نبي بعدي، قالوا: فما يكون يا رسول الله؟ قال: يكون خلفاء وتكثر، قالوا: فكيف نصنع؟ قال: أوفوا ببيعة الأول فالأول وأدوا الذي عليكم فليسألهم الله عن الذي عليهم. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৮২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14382 حضرت ابو ہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
اے ابو ہریرہ ! حاکموں کو گالی نہ دینا۔ بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں کے اپنے حاکموں کو گالی دینے کی وجہ سے ایک گروہ کو جہنم میں داخل کرے گا۔ الدیلمی
کلام : روایت بےاصل ہے : دیکھئے : تذکرۃ الموضوعات 183، النتزیہ 315/2 ۔
اے ابو ہریرہ ! حاکموں کو گالی نہ دینا۔ بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں کے اپنے حاکموں کو گالی دینے کی وجہ سے ایک گروہ کو جہنم میں داخل کرے گا۔ الدیلمی
کلام : روایت بےاصل ہے : دیکھئے : تذکرۃ الموضوعات 183، النتزیہ 315/2 ۔
14382- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أبا هريرة لا تلعن الولاة فإن الله تعالى أدخل جهنم أمة بلعنهم ولاتهم. "الديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৮৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14383 ابومالک الاشعری (رض) سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر کے ساتھ روانہ فرمایا ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کو ہمارا امیر لشکرمقرر فرمایا۔ ہم روانہ ہوگئے اور ایک مقام پر جاکر لشکر نے پڑاؤ کیا۔ ایک آدمی لشکر میں سے اٹھا اور اپنے سواری کے جانور کی زین کسنے لگا۔ میں نے اس سے پوچھا : کہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہو ؟ اس نے جواب دیا کہ میں سواری کو چرانے کے لیے لے جارہا ہوں۔ میں نے اس کو کہا : اپنے امیر سے اجازت لیے بغیر ہرگز نہ جاؤ، چنانچہ ہم دونوں حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کے پاس حاضر ہوئے اور ان کو یہ بات ذکر کی۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے اس آدمی سے پوچھا : کیا تم واپس اپنے گھر جانے کا ارادہ رکھتے ہو ؟ لیکن اس نے انکار کردیا کہ نہیں۔ حضرت ابوموسیٰ (رض) نے فرمایا : دیکھ لو کیا کہہ رہے ہو ؟ آدمی نے جواب دیا : نہیں، (ایسا کچھ نہیں ہے) ۔ تب حضرت ابوموسیٰ (رض) نے فرمایا : خیر کے ساتھ سیدھی راہ جاؤ۔ چنانچہ وہ شخص رات کے کچھ پہر تک غائب رہا، پھر آگیا۔ حضرت ابوموسیٰ (رض) نے اس سے پوچھا : شاید تو اپنی اہلیہ کے پاس گیا تھا ؟ آدمی نے انکار کیا۔ حضرت ابوموسیٰ (رض) نے فرمایا : دیکھ لو کیا کہہ رہے ہو ؟ تب آدمی نے جواب دیا کہ ہاں ایسا ہی ہے۔ حضرت ابوموسیٰ (رض) نے فرمایا : تب تو جہنم میں سے ہو کر اپنے گھر والوں کے پاس گیا تھا اور جہنم میں بیٹھا رہا اور جہنم ہی میں گیا اور جہنم سے ہی واپس آیا۔ ابن عساکر
14383- عن أبي مالك الأشعري قال: بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية وأمر علينا سعد بن أبي وقاص، فسرنا حتى نزلنا منزلا فقام رجل فأسرج دابته فقلت له: أين تريد؟ فقال: أريد أتعلففقلت له: لا تفعل حتى تسأل صاحبنا فأتينا أبا موسى الأشعري فذكرنا ذلك له فقال: لعلك تريد أن ترجع إلى أهلك؟ قال: لا، قال: انظر ما تقول قال: لا، قال: فامض راشدا فانطلق فبات ملياثم جاء فقال له أبو موسى: لعلك أتيت أهلك، قال: لا، قال: فانظر ما تقول، قال: نعم قال أبو موسى: فإنك سرت في النار إلى أهلك وقعدت في النار وأقبلت في النار واستقبل. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৮৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14384 حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ میں مسجد میں سو رہا تھا کہ اچانک رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لے آئے اور مجھے پاؤں مار کر اٹھایا اور فرمایا : کیا بات ہے میں (تجھے) سوتا دیکھ رہا ہوں ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! نیند مجھ پر غالب آگئی تھی۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تجھے یہاں سے لوگ نکالیں گے (جلاوطن کریں گے) تب تم کیا کروں گے ؟ میں نے عرض کیا : میں ملک شام چلا جاؤں گا کیونکہ وہیں میدان حشر ہوگا اور وہ مقدس سرزمین ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب وہاں سے بھی لوگ تم کو نکالیں گے تب کہاں جاؤ گے ؟ میں نے عرض کیا : پھر میں دوسارہ اپنے اسی وطن ہجرت (مدینہ) لوٹ آؤں گا۔ آپ (رض) نے فرمایا : تب میں اپنی تلوار اٹھالوں گا اور جنگ کروں گا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تو اس سے بہتر عمل اور زیادہ مقرب عمل کیوں نہیں کرتا ؟ تو اپنے امیر کی بات سننا اور اس پر عمل کرنا اور جہاں تجھے وہ کھینچے تو کھنچ جانا۔ ابن جریر
14384- عن أبي ذر قال: بينما أنا نائم في المسجد إذ خرج علي رسول الله صلى الله عليه وسلم فضربني برجله، فقال: ألا أراك نائما؟ فقلت يا رسول الله غلبتني عيني، قال: فكيف تصنع إذا أخرجوك منه؟ قلت: ألحق بالشام فإنها أرض المحشر والأرض المقدسة، قال: فكيف إذا أخرجوك منها؟ قلت: أرجع إلى مهاجري قال: فكيف إذا أخرجوك؟ قلت: آخذ سيفي فأضرب به، قال: أولا تصنع خيرا من ذلك وأقرب؟ تسمع وتطيع وتنساق معهم حيث ساقوك. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৮৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14385 حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں : میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کیا کرتا تھا جب فارغ ہوتا تو مسجد میں آکر آرام کرلیتا تھا۔ پس ایک دن رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے ۔ میں مسجد میں لیٹا ہوا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پاؤں کے ساتھ کچوکا لگایا۔ چنانچہ میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا : جب تجھے یہاں سے نکالا جائے گا تب تو کیا کرے گا ؟ میں نے عرض کیا : کیا مسجد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔ میں نے عرض کیا : میں سرزمین انبیاء میں چلا جاؤں گا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب وہاں سے تجھے نکالا جائے گا تب کیا کرے گا ؟ میں نے عرض کیا : تب میں اس شخص کے خلاف تلوار سونت لوں گا جو مجھے وہاں سے نکالے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ میرے شانے پر مارا اور ارشاد فرمایا : اللہ تیری مغفرت کرے اے ابوذر ! وہ تجھے جہاں ہانکیں تو چلا جانا۔ اور جہاں تجھے وہ کھینچیں کھنچ جانا خواہ تیرا امیر کوئی حبشی غلام ہو۔
حضرت ابوذر (رض) فرماتے ہیں : چنانچہ جب مجھے مدینے سے مقام ربذۃ میں جلاء وطن کیا گیا اور وہاں نماز کھڑی ہوئی تو امامت کے لیے ایک حبشی غلام جو وہاں کا (صدقات وغیرہ پر عامل اور) امیر تھا، آگے بڑھا۔ لیکن جب اس کی مجھ پر نظر پڑی تو واپس ہونے لگا اور اس نے مجھے آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ میں نے کہا : تو اپنی جگہ امامت کر، میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی وجہ سے تیری اقتداء کروں گا۔ ابن جریر
حضرت ابوذر (رض) فرماتے ہیں : چنانچہ جب مجھے مدینے سے مقام ربذۃ میں جلاء وطن کیا گیا اور وہاں نماز کھڑی ہوئی تو امامت کے لیے ایک حبشی غلام جو وہاں کا (صدقات وغیرہ پر عامل اور) امیر تھا، آگے بڑھا۔ لیکن جب اس کی مجھ پر نظر پڑی تو واپس ہونے لگا اور اس نے مجھے آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ میں نے کہا : تو اپنی جگہ امامت کر، میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی وجہ سے تیری اقتداء کروں گا۔ ابن جریر
14385- عن أبي ذر قال: كنت أخدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فإذا أنا فرغت أتيت المسجد فاضطجعت فيه فأتاني رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم وأنا مضطجع في المسجد فغمزني برجله، فاستويت جالسا ثم قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: كيف تصنع إذا أخرجت منه؟ قلت: من مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: نعم، قلت: ألحق بأرض الأنبياء، قال: كيف تصنع إذا أخرجت منها؟ قلت: آخذ سيفي فأضرب به من يخرجني، فضرب بيده على منكبي ثم قال غفرايا أبا ذر تنقاد معهم حيث قادوك وتنساق معهم حيث ساقوك، ولو لعبد أسود، قال: فلما أنزلت الربذةأقيمت الصلاة فتقدم رجل أسود على بعض صدقاتها فلما رآني أخذ ليرجع ويقدمني، فقلت كما أنت بل أنقاد لأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৮৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14386 حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو فرمایا :
ایابوذر ! تو نیک آدمی ہے اور عنقریب میرے (چلے جانے کے) بعد اللہ کی راہ میں تجھے مصیبت پہنچے گی۔ تو (صبر کے ساتھ امیر کی) سننا اور اطاعت کرنا خواہ تجھے حبشی کے پیچھے کی نماز پڑھنی پڑھے۔ الاوسط للطبرانی، ابن عساکر، حلیۃ الاولیاء
ایابوذر ! تو نیک آدمی ہے اور عنقریب میرے (چلے جانے کے) بعد اللہ کی راہ میں تجھے مصیبت پہنچے گی۔ تو (صبر کے ساتھ امیر کی) سننا اور اطاعت کرنا خواہ تجھے حبشی کے پیچھے کی نماز پڑھنی پڑھے۔ الاوسط للطبرانی، ابن عساکر، حلیۃ الاولیاء
14386- عن أبي ذر قال له النبي صلى الله عليه وسلم: يا أبا ذر أنت رجل صالح وسيصيبك بعدي بلاء في الله فاسمع وأطع ولو صليت وراء أسود. "طس وابن عساكر حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৮৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14387 حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے ابوذر ! میں تجھے بہت تیز اور سخت بولنے والا دیکھتا ہوں۔ اے ابوذر (تیری اس سخت گو تبلیغ کی وجہ سے) جب تجھے مدینے سے نکالا جائے گا تب تو کیا کرے گا ؟ میں نے عرض کیا : میں مقدس سرزمین میں چلا جاؤں گا۔ یعنی بیت المقدس حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب لوگ تجھے وہاں سے بھی نکالیں گے تب ؟ میں نے عرض کیا : میں اپنی تلوار اٹھالوں گا اور قتال کرتا کرتا شہید ہوجاؤں گا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں، بلکہ تم سننا اور اطاعت کرنا خواہ کالے غلام کی اطاعت ہو۔ نعیم بن حماد فی الفتن
14387- عن أبي ذر قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: أراك يا أبا ذر لقابقا كيف بك يا أبا ذر إذا أخرجوك من المدينة؟ قلت: آتي الأرض المقدسة، قال: فكيف بك إذا أخرجوك منها؟ قلت: آخذ سيفي فأضرب به حتى أقتل قال: لا، اسمع وأطع ولو لعبد أسود. "نعيم بن حماد في الفتن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৮৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14388 حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سب سے پہلے مصر اور عراق ویران ہوں گے۔ اور (ان کی طرح یہاں بھی) عمارتیں بننے لگیں تب تم پر سرزمین شام کی طرف کوچ کرنا لازم ہے، اے ابوذر ! میں نے عرض کیا : اگر وہاں کے لوگ مجھے وہاں سے نکال دیں ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تب تم ان کی ماننا جہاں بھی وہ تمہیں لے جائیں۔ نعیم
کلام : روایت کی اصل محل کلام ہے اور اس میں عبدالقدوس متروک راوی ہے لہٰذا روایت ناقابل سند ہے۔
کلام : روایت کی اصل محل کلام ہے اور اس میں عبدالقدوس متروک راوی ہے لہٰذا روایت ناقابل سند ہے۔
14388- عن أبي ذر قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: أول الخراب مصر والعراق، فإذا بلغ البناء سلعا فعليك يا أبا ذر بالشام: قلت فإن أخرجوني منها؟ قال: انسق لهم إن ساقوك. "نعيم" وفيه عبد القدوس متروك.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৮৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14389 حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا : اے ابوذر ! جب تجھے مدینے سے نکالا جائے گا تب تو کیا کرے گا ؟ میں نے عرض کیا : تب میں تلوار تھام لوں گا اور اس سے مقابلہ کروں گا جو مجھے مدینے سے نکالے گا۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار ارشاد فرمایا : اللہ تیری مغفرت کرے اے ابوذر ! بلکہ تو ان کی اتباع کرنا وہ جہاں بھی تجھے لے جائیں اور جہاں تجھے ہانکیں چلے جانا خواہ تیرا امیر حبشی غلام ہو۔ مسند احمد
14389- عن أبي ذر قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: يا أبا ذر كيف تصنع إذا أخرجت من المدينة؟ قال: إذا آخذ سيفي فأضرب به من يخرجني فقال: غفرا يا أبا ذر ثلاثا بل تنقاد معهم حيث قادوك وتنساق معهم حيث ساقوك ولو عبدا أسود. "حم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৯০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14390 حضرت ابوالدرداء (رض) سے مروی ہے فرمایا : جو بادشاہ کے دروازے پر آئے تو کھڑا ہو اور بیٹھ جائے۔ اور جو دروازے کو بند پائے تو ہ اس کے پہلو میں دروازہ کھلا بھی پالے گا اس امید پر کہ اگر وہ سوال کرے گا تو اس کو دیا جائے گا اور اگر پکارے گا تو اس کا جواب دیا جائے گا اور آدمی کے نفاق کی پہلی علامت یہ ہے کہ وہ اپنے امام (حاکم) پر طعن تشنیع کرے۔ ابن عساکر
14390- عن أبي الدرداء قال: من أتى باب السلطان قام وقعد، ومن وجد بابا مغلقا وجد إلى جنبه مفتوحا رجاء إن سأل أعطي وإن دعا أجيب وإن أول نفاق المرء طعنه على إمامه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৯১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14391 شریح بن عبید سے مروی ہے کہ ہمیں جبیر بن نفیر، کثیر بن مرۃ، عمیر بن اسود، مقدام اور ابوامامہ جیسے فقہاء کی ایک جماعت نے بیان کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یارسول اللہ ! یہ سلطنت آپ کی قوم کے ہاتھوں میں ہے، آپ ان کو ہمارے بارے میں خیر خواہی اور اچھے سلوک کی تاکید فرمادیں۔ چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش کو مخاطب ہو کر فرمایا :
میں تم لوگوں کو تاکید کرتا ہوں کہ میرے بعد میری امت پر سختی نہ کرنا۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عامۃ المسلمین سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا :
عنقریب میرے بعد امراء (حکام) ہوں گے۔ تم ان کی اطاعت کرتے رہنا۔ بیشک امیر ڈھال کی طرح ہوتا ہے جس کے ساتھ (حملوں سے) بچا جاتا ہے ، پس اگر وہ سیدھی راہ پر گامزن رہے اور تم کو بھی بھلائی کا حکم دیا تو تمہارے لیے اور ان کے لیے دونوں کے لیے خیر ہے۔ اگر انھوں نے برائی کی اور برائی کا حکم دیا تو تم برائی سے اجتناب کرنا اور تم ان سے بری ہو۔ بیشک امیر جب لوگوں کے ساتھ برائی کرتا ہے تو ان کو تباہ و برباد کردیتا ہے۔
راوی کتا ہے : ہم نے رسول کو یونہی فرماتے سنا ہے۔ ابن جریر
میں تم لوگوں کو تاکید کرتا ہوں کہ میرے بعد میری امت پر سختی نہ کرنا۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عامۃ المسلمین سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا :
عنقریب میرے بعد امراء (حکام) ہوں گے۔ تم ان کی اطاعت کرتے رہنا۔ بیشک امیر ڈھال کی طرح ہوتا ہے جس کے ساتھ (حملوں سے) بچا جاتا ہے ، پس اگر وہ سیدھی راہ پر گامزن رہے اور تم کو بھی بھلائی کا حکم دیا تو تمہارے لیے اور ان کے لیے دونوں کے لیے خیر ہے۔ اگر انھوں نے برائی کی اور برائی کا حکم دیا تو تم برائی سے اجتناب کرنا اور تم ان سے بری ہو۔ بیشک امیر جب لوگوں کے ساتھ برائی کرتا ہے تو ان کو تباہ و برباد کردیتا ہے۔
راوی کتا ہے : ہم نے رسول کو یونہی فرماتے سنا ہے۔ ابن جریر
14391- عن شريح بن عبيد حدثنا جبير بن نفير وكثير بن مرة وعمير بن أسود والمقدام وأبو أمامة في نفر من الفقهاء أن رجلا أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله هذا الأمر في قومك فوصهم بنا؛ فقال لقريش: إني أذكركم الله أن لا تشقوا على أمتي من بعدي، ثم قال للناس: سيكون من بعدي أمراء فأدوا لهم طاعتهم، فإن الأمير مثل المجن
يتقى به فإن أصلحوا وأمروكم بخير فلكم ولهم، وإن أساؤوا وأمروكم به فعليكم أنتم منه برءاء، فإن الأمير إذا ابتغى الريبةفي الناس أفسدهم، ثم يقول: إنا سمعنا الرسول يقول ذلك. "ابن جرير".
يتقى به فإن أصلحوا وأمروكم بخير فلكم ولهم، وإن أساؤوا وأمروكم به فعليكم أنتم منه برءاء، فإن الأمير إذا ابتغى الريبةفي الناس أفسدهم، ثم يقول: إنا سمعنا الرسول يقول ذلك. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৯২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14392 بہزبن حکیم اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے یہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوذر (رض) کو ارشاد فرمایا :
اے ابوذر ! جب تو عمارات اونچی بنتے دیکھے تو شام چلے جانا۔ حضرت ابوذر (رض) فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : اگر میرے اور اس کے درمیان کوئی حائل ہو تو میں تلوار کے ساتھ اس کا مقابلہ نہ کروں ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نہیں بلکہ تم سننا اور اطاعت کرتے رہنا خواہ حاکم ناک کٹا ہو حبشی کالا غلام کیوں نہ ہو۔ ابن عساکر
اے ابوذر ! جب تو عمارات اونچی بنتے دیکھے تو شام چلے جانا۔ حضرت ابوذر (رض) فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : اگر میرے اور اس کے درمیان کوئی حائل ہو تو میں تلوار کے ساتھ اس کا مقابلہ نہ کروں ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نہیں بلکہ تم سننا اور اطاعت کرتے رہنا خواہ حاکم ناک کٹا ہو حبشی کالا غلام کیوں نہ ہو۔ ابن عساکر
14392- عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لأبي ذر: يا أبا ذر إذا رأيت البناء قد بلغ سلعا فعليك بالشام، قلت: فإن حيل بيني وبين ذاك أفأضرب بسيفي من حال بيني وبين ذاك؟ قال: لا ولكن اسمع وأطع ولو لعبد حبشي مجدع. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৯৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14393 حضرت معاذ بن جبل (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک آدمی کو ارشاد فرمایا : تجھ پر حاکم کی اطاعت لازم ہے تنگدستی میں، سہولت میں، خوشی میں، ناگواری میں اور خواہ تجھ پر اوروں کو فوقیت دی جائے تب بھی۔ اور اہل حکومت سے حکومت کے لیے ہرگز نزاع نہ کرنا لیکن کبھی بھی خدا کی نافرمانی میں ان کی اطاعت نہ کرنا۔ ابن جریر
14393- عن معاذ بن جبل أنه قال لرجل: عليك الطاعة في عسرك ويسرك ومكرهك ومنشطك والأثرة عليك، ولا تنازعوا الأمر أهله ولا تطعه في معصية الله. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৯৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14394 حضرت معاذ بن جبل (رض) سے مروی ہے انھوں نے ارشاد فرمایا :
عنقریب تمہارے اوپر ایسے حکمران آئیں گے جو حکمت کے منبروں پر بیٹھ کر تمہیں نصیحت کریں گے (اچھی اچھی باتیں کریں گے) لیکن نیچے اتریں گے تو تم ان کے اعمال کو الٹا پاؤ گے۔ پس تم نے جو ان کی اچھی باتیں سنی ہوں ان پر عمل بجا لانا اور ان کے اعمال جو تم کو برے لگیں ان کو چھوڑ دینا۔ ابن عساکر
عنقریب تمہارے اوپر ایسے حکمران آئیں گے جو حکمت کے منبروں پر بیٹھ کر تمہیں نصیحت کریں گے (اچھی اچھی باتیں کریں گے) لیکن نیچے اتریں گے تو تم ان کے اعمال کو الٹا پاؤ گے۔ پس تم نے جو ان کی اچھی باتیں سنی ہوں ان پر عمل بجا لانا اور ان کے اعمال جو تم کو برے لگیں ان کو چھوڑ دینا۔ ابن عساکر
14394- عن معاذ بن جبل أنه قال: سيلي عليكم أمراء يعظون على منابر الحكمة، فإذا نزلوا أنكرتم أعمالهم فخذوا أحسن ما تسمعون ودعوا ما أنكرتم من أعمالهم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৯৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14395 عن الاعمش عن عثمان بن قیش عن ابیہ عن عدی بن حاتم قال : عدی بن حاتم فرماتے ہیں : مجھے کثیر بن شہاب نے ایک آدمی کے بارے میں بیان کیا کہ اس نے دوسرے آدمی کو طمانچہ مارا، چنانچہ لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ہم پر ایسے امیر جو تقویٰ اختیار کریں اور درست راہ چلیں آئیں تو ان کے بارے میں تو ہم آپ سے کچھ سوال نہیں کرتے (لوگوں نے اتنا ہی کہا تھا کہ) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
سنتے رہو اور اطاعت کرتے رہو۔ ابن مندہ، ابن عساکر
فائدہ : علامہ سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہا جاتا ہے کہ کثیر کو صحبت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شرف حاصل تھا، لیکن یہ درست نہیں ہے نیز یہ کہ ان سے حضرت عدب بن حاتم (رض) نے بھی روایت کی ہے۔ میں اس روایت کو محفوظ الاصل نہیں سمجھتا۔
سنتے رہو اور اطاعت کرتے رہو۔ ابن مندہ، ابن عساکر
فائدہ : علامہ سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہا جاتا ہے کہ کثیر کو صحبت نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا شرف حاصل تھا، لیکن یہ درست نہیں ہے نیز یہ کہ ان سے حضرت عدب بن حاتم (رض) نے بھی روایت کی ہے۔ میں اس روایت کو محفوظ الاصل نہیں سمجھتا۔
14395- عن الأعمش عن عثمان بن قيس عن أبيه عن عدي بن حاتم قال: حدثني كثير بن شهاب في الرجل الذي لطم الرجل، فقالوا: يا رسول الله ولاة يكونون علينا لا نسألك على طاعة من اتقى وأصلح فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اسمعوا وأطيعوا. "ابن منده كر" وقال يقال إن لكثير صحبة ولا يصح روى عنه عدي بن حاتم الطائي ولا أراه محفوظا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৯৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14396 عرباض بن ساریۃ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے اور کھڑے ہوگئے۔ پھر لوگوں کو وعظ فرمایا۔ ترغیب وترہیب کی اور جو اللہ نے چاہا فرمایا پھر ارشاد فرمایا : اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، جن لوگوں کو اللہ نے تمہارا امیر بنایا ہے ان کی اطاعت کرتے رہو اہل حکومت سے نزاع نہ کرو خواہ تمہارا امیر کالا حبشی غلام ہو۔ ابن جریر، الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم
14396- عن عرباض بن سارية قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فقام ووعظ الناس ورغبهم وحذرهم وقال ما شاء الله أن يقول، ثم قال: اعبدوا الله ولا تشركوا به شيئا وأطيعوا من ولاه الله أمركم ولا تنازعوا الأمر أهله وإن كان عبدا أسود. "ابن جرير طب ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৯৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی اطاعت
14397 عن حفص بن غیاث عن عثمان بن قیش الکندی عن ابیہ عن عدی بن حاتم کی سند سے مروی ہے حضرت عدی (رض) فرماتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ہم ایسے حاکموں کی اطاعت کے متعلق سوال نہیں کرتے جو صاحب تقویٰ ہیں اور صلح ج وہیں بلکہ ایسے حکمران جو ایسی ایسی بری صفات کے حامل ہیں ان کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ سے ڈرتے رہو۔ سنتے رہو اور اطاعت کرتے رہو (خواہ کیسے حکمران ہوں) ۔ ابن عساکر
کلام : امام ہیثمی (رح) نے مجمع الزوائد میں 221/5 پر اس کی تخریج فرمائی اور فرمایا کہ اما طبرانی نے اس کو روایت کیا ہے اور سا میں عثمان بن قیس ضعیف راوی ہے۔
کلام : امام ہیثمی (رح) نے مجمع الزوائد میں 221/5 پر اس کی تخریج فرمائی اور فرمایا کہ اما طبرانی نے اس کو روایت کیا ہے اور سا میں عثمان بن قیس ضعیف راوی ہے۔
14397- عن حفص بن غياثعن عثمان بن قيس الكندي عن أبيه عن عدي بن حاتم قال: قلنا يا رسول الله لا نسألك عن طاعة من اتقى وأصلح ولكن من جعل، وجعل يذكر السيء فقال: اتقوا الله واسمعوا وأطيعوا. "كر"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৯৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی مخالفت
14398 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سریہ (لشکر) بھیجا اور اس پر ایک انصاری کو امیر مقرر فرمایا : پھر اہل لشکر کو حکم دیا کہ وہ اپنے امیر کی بات کو سنیں اور اس کی اطاعت کریں۔
چنانچہ جب لشکر نکلا تو امیر لشکر نے کسی بات میں اہل لشکر پر غصہ کیا اور فرمایا : کیا تم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری اطاعت کا حکم نہیں دیا تھا ؟ اہل لش کرنے عرض کیا : کیوں نہیں۔ امیر نے حکم دیا : تم لکڑیاں اکٹھی کرو ۔ پھر آگ منگوائی اور لکڑیوں میں آگ جلوادی پھر اہل لشکر کو مخاطب کرکے حکم دیا کہ میں تم کو سختی کے ساتھ حکم دیتا ہوں کہ ضرور بالضرور اس آگ میں داخل ہوجاؤ۔ چنانچہ اہل لشکر نے آگ میں گھسنے کا ارادہ کرلیا۔ اہل لشکر میں سے ایک جوان آدمی اپنے ساتھیوں کو مخاطب ہو کربولا : تم لوگ آگ سے بچ کر تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھاگ کر آئے ہو۔ لہٰذا تم جلدی نہ کرو جب تک کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات نہ کرلیں۔ پھر اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم کو یہی حکم دیا تو تم ضرور آگ میں گھس جانا۔
پس اہل لشکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لوٹ کر تشریف لے گئے اور سارے معاملے کی خبر دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم اس آگ میں داخل ہوجاتے تو پھر کبھی اس سے واپس نہ نکل سکتے۔ اور دوسرا الفاظ یہ ہیں کہ اگر تم آگ میں داخل ہوجاتے تو قیامت تک ہمیشہ ہمیشہ اسی میں جلتے رہتے (سنو ! ) اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ہے۔ اطاعت تو صرف نیکی کے کاموں میں ہے۔ ابوداؤد ، مسند احمد ، ابن ابی شیبہ، البخاری، مسلم، مسند ابن امام احمد بن حنبل، النسائی ، مسند ابی یعلی، ابن خزیمہ ، ابن منذہ فی غرائب شعبۃ، ابن خزیمہ، ابوعوانۃ، ابن حبان، الدلائل للبیہقی
چنانچہ جب لشکر نکلا تو امیر لشکر نے کسی بات میں اہل لشکر پر غصہ کیا اور فرمایا : کیا تم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری اطاعت کا حکم نہیں دیا تھا ؟ اہل لش کرنے عرض کیا : کیوں نہیں۔ امیر نے حکم دیا : تم لکڑیاں اکٹھی کرو ۔ پھر آگ منگوائی اور لکڑیوں میں آگ جلوادی پھر اہل لشکر کو مخاطب کرکے حکم دیا کہ میں تم کو سختی کے ساتھ حکم دیتا ہوں کہ ضرور بالضرور اس آگ میں داخل ہوجاؤ۔ چنانچہ اہل لشکر نے آگ میں گھسنے کا ارادہ کرلیا۔ اہل لشکر میں سے ایک جوان آدمی اپنے ساتھیوں کو مخاطب ہو کربولا : تم لوگ آگ سے بچ کر تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھاگ کر آئے ہو۔ لہٰذا تم جلدی نہ کرو جب تک کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات نہ کرلیں۔ پھر اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم کو یہی حکم دیا تو تم ضرور آگ میں گھس جانا۔
پس اہل لشکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لوٹ کر تشریف لے گئے اور سارے معاملے کی خبر دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تم اس آگ میں داخل ہوجاتے تو پھر کبھی اس سے واپس نہ نکل سکتے۔ اور دوسرا الفاظ یہ ہیں کہ اگر تم آگ میں داخل ہوجاتے تو قیامت تک ہمیشہ ہمیشہ اسی میں جلتے رہتے (سنو ! ) اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ہے۔ اطاعت تو صرف نیکی کے کاموں میں ہے۔ ابوداؤد ، مسند احمد ، ابن ابی شیبہ، البخاری، مسلم، مسند ابن امام احمد بن حنبل، النسائی ، مسند ابی یعلی، ابن خزیمہ ، ابن منذہ فی غرائب شعبۃ، ابن خزیمہ، ابوعوانۃ، ابن حبان، الدلائل للبیہقی
14398- عن علي قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية واستعمل عليهم رجلا من الأنصار فأمرهم أن يسمعوا له ويطيعوا، فلما خرجوا وجد عليهم في شيء فقال: أليس قد أمركم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تطيعوني؟ قالوا: بلى قال: اجمعوا حطبا، ثم دعا بنار فأضرمها فيه، ثم قال: عزمت عليكم لتدخلنها فهم القوم أن يدخلوها، فقال لهم شاب منهم: إنما فررتم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم من النار فلا تعجلوا حتى نلقى النبي صلى الله عليه وسلم فإن أمركم أن تدخلوها فادخلوا فرجعوا إلى النبي صلى الله عليه وسلم فأخبروه فقال: لو دخلتموها ما خرجتم منها أبدا، وفي لفظ: لو دخلوها لم يزالوا فيها إلى يوم القيامة لا طاعة في معصية الله، إنما الطاعة في المعروف. "ط حم ش خم د ن ع وابن خزيمة وابن منده في غرائب شعبة وابن خزيمة وأبو عوانة حب هق في الدلائل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৩৯৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی مخالفت
14399 حکیم بن یحییٰ سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : اپنے دین میں تین آدمیوں سے محتاط رہو : ایک وہ شخص جس کو اللہ نے قرآن عطا کیا۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ نے سلطنت عطا کی اور وہ کہے کہ : جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ تو اس نے یہ جھوٹ بولا : بیشک خالق کے سوا کسی مخلوق سے کوئی خوف نہیں۔ ابوعاصم النبیل فی جزہ من حدیثہ
14399- عن حكيم بن يحيى قال: قال علي: احذروا على دينكم ثلاثة: رجل آتاه الله القرآن، ورجل آتاه الله سلطانا فقال من أطاعني فقد أطاع الله ومن عصاني فقد عصى الله وقد كذب لا يكون لمخلوق خشية دون الخالق. "أبو عاصم النبيل في جزء من حديثه".
তাহকীক: