কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৫ টি
হাদীস নং: ১৪৪০০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی مخالفت
14400 حضرت حسن سے مروی ہے کہ زیاد نے ایک لشکر پر حکم بن عمر وغفاری کو امیر مقرر کیا۔ پھر حضرت عمران بن حصین (رض) نے حکم بن عمروغفاری سے ملاقات کی اور فرمایا تم جانتے ہو میں تمہارے پاس کیوں آیا ہوں، میں تم کو وہ واقعہ یاددلانا چاہتا ہوں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس شخص کی اطلاع ملی جس کو اس کے امیر نے کہا کہ اٹھ اور آگ میں کو دجا۔ چنانچہ وہ آدمی آگ میں کودنے کے قریب ہوگیا تو اس کو کسی نے پکڑ لیا اور اس عمل سے روک لیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے متعلق ارشاد فرمایا : اگر وہ آگ میں کود جاتا تو جہنم میں داخل ہوجاتا۔ اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں۔
چنانچہ حکم بن عمروغفاری نے عرض کیا : ہاں مجھے یہ واقعہ یاد ہے۔ حضرت عمران بن حصین (رض) نے فرمایا : پس میں تم کو یہ حدیث یاد دلانا چاہتا تھا۔ ابونعیم
چنانچہ حکم بن عمروغفاری نے عرض کیا : ہاں مجھے یہ واقعہ یاد ہے۔ حضرت عمران بن حصین (رض) نے فرمایا : پس میں تم کو یہ حدیث یاد دلانا چاہتا تھا۔ ابونعیم
14400- عن الحسن أن زيادا استعمل الحكم بن عمرو الغفاري على جيش، فلقيه عمران بن حصين فقال: هل تدري فيما جئتكم؟ أما تذكر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما بلغه الذي قال له أميره قم فقع في النار فقام الرجل ليقع فيها؛ فأدرك فأمسك فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لو وقع فيها لدخل النار لا طاعة لأحد في معصية الله قال: بلى قال: فإنما أردت أن أذكرك هذا الحديث. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪০১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی مخالفت
14401 ابن سیرین (رح) سے منقول ہے کہ حضرت عمران بن حصین غفاری (رض) نے حکم غفاری کو فرمایا : کیا تو نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :
خالق کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت نہیں۔ حکم غفاری نے عرض کیا : جی ہاں۔ ابونعیم
کلام : روایت ضعیف ہے : المتناھیۃ 1280، الوقوف 36 ۔
خالق کی معصیت میں مخلوق کی اطاعت نہیں۔ حکم غفاری نے عرض کیا : جی ہاں۔ ابونعیم
کلام : روایت ضعیف ہے : المتناھیۃ 1280، الوقوف 36 ۔
14401- عن ابن سيرين أن عمران بن حصين قال للحكم الغفاري: أسمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: لا طاعة للمخلوق في معصية الخالق؟ قال: نعم. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪০২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی مخالفت
14402 حذیفہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سنو ! ہم نے عرض کیا : ہم سن رہے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار ارشاد فرمایا : سنو ! سنو ! سنو ! پھر ارشاد فرمایا :
عنقریب تم پر ایسے حکام مسلط ہوں جو جھوٹ بولیں گے اور ظلم کریں گے پس جو ان کے پاس گیا اور ان کے جھوٹ میں تصدیق کی اور ان کے ظلم میں مدد کی وہ مجھ سے نہیں اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔ اور وہ شخص ہرگز حوض پر میرے پاس نہیں آسکے گا۔
جبکہ جو ان کے پاس نہیں گیا اور نہ ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور نہ ان کے ظلم پر ان کی مدد کی وہ میرا ہے میں اس کا ہوں اور وہ ضرور میرے پاس حوض پر آئے گا۔ ابن جریر
عنقریب تم پر ایسے حکام مسلط ہوں جو جھوٹ بولیں گے اور ظلم کریں گے پس جو ان کے پاس گیا اور ان کے جھوٹ میں تصدیق کی اور ان کے ظلم میں مدد کی وہ مجھ سے نہیں اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔ اور وہ شخص ہرگز حوض پر میرے پاس نہیں آسکے گا۔
جبکہ جو ان کے پاس نہیں گیا اور نہ ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور نہ ان کے ظلم پر ان کی مدد کی وہ میرا ہے میں اس کا ہوں اور وہ ضرور میرے پاس حوض پر آئے گا۔ ابن جریر
14402- عن حذيفة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اسمعوا قلنا سمعنا قال: اسمعوا ثلاثا، إنه سيكون عليكم أمراء يكذبون ويظلمون فمن دخل عليهم فصدقهم بكذبهم وأعانهم على ظلمهم فليس مني ولا أنا منه ولن يرد على الحوض، ومن لم يدخل عليهم ولم يصدقهم بكذبهم ولم يعنهم على ظلمهم فهو مني وأنا منه وهو وارد علي الحوض. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪০৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی مخالفت
14403 حضرت خیاب سے مروی ہے کہ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لائے جبکہ ہم (صحابہ کرام) بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سنو ! ہم نے عرض کیا : ہم سنتے ہیں یارسول اللہ ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
عنقریب میرے بعد امراء (حکام) آئیں گے تم ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق نہ کرنا اور نہ ان کے ظلم پر ان کی مدد کرنا۔ بیشک جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق کی یا ان کے ظلم پر ان کی مدد کی وہ شخص ہرگز حوض پر میرے پاس نہیں آسکے گا۔ شعب الایمان للبیہقی
عنقریب میرے بعد امراء (حکام) آئیں گے تم ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق نہ کرنا اور نہ ان کے ظلم پر ان کی مدد کرنا۔ بیشک جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق کی یا ان کے ظلم پر ان کی مدد کی وہ شخص ہرگز حوض پر میرے پاس نہیں آسکے گا۔ شعب الایمان للبیہقی
14403- عن خباب أنه كان قاعدا على باب النبي صلى الله عليه وسلم قال: فخرج ونحن قعود فقال: اسمعوا قلنا: سمعنا يا رسول الله قال: إنه سيكون أمراء من بعدي فلا تصدقوهم بكذبهم ولا تعينوهم على ظلمهم فإنه من صدقهم بكذبهم أو أعانهم على ظلمهم فلم يرد علي الحوض. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪০৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی مخالفت
14404 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عنقریب ایسے امراء آئیں گے جو نیک کام بھی کریں گے اور برے کام بھی انجام دیں گے پس جو ان سے دور رہا وہ نجات پا گیا اور جس نے ان سے کنارہ کیا وہ سلامت رہا یا سلامتی کے قریب ہوگیا اور جس نے ان کے ساتھ مخالطت کی وہ ہلاک ہوگیا۔ مصنف ابن ابی شیبہ
14404- عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنها ستكون أمراء يعرفون وينكرون، فمن ناواهم نجا ومن اعتزلهم سلم أو كاد ومن خالطهم هلك. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪০৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی مخالفت
14405 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک انصاری کو امیر بنایا۔ نیز لشکر کو حکم دیا کہ وہ اپنے امیر کی سنیں اور اطاعت کریں۔ پھر لشکر کوچ کر گیا اور ایک منزل پر فروکش ہوگیا۔ امیر لشکر کو کسی بات میں اہل لشکر پر غصہ آگیا۔ امیر نے کہا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم کو حکم نہیں دیا کہ تم میری اطاعت کرو۔ اہل لشکر نے عرض کیا : بالکل آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں : اس وقت وہ لوگ درختوں کے جھنڈے کے پاس تھے۔ چنانچہ امیر لشکر نے ان کو کہا : میں تم کو سختی کے ساتھ حکم دیتا ہوں کہ تم میں سے ہر ایک اس جھنڈ میں لکڑیاں اکٹھی کرے۔ چنانچہ سب نے مل کر لکڑیوں کا انبار لگادیا۔ پھر امیر لشکر نے اس میں آگ بھڑکائی۔ حتیٰ کہ آگ خوب شعلہ زن ہوگئی تو پھر امیر نے اہل لشکر کو حکم دیا کہ میں تم سب کو حکم دیتا ہوں کہ اس آگ میں کود جاؤ۔ بعض لشکر یوں نے کہا : ہم تو آگ سے بھاگ کر آئے تھے (اب کیوں آگ میں کو دیں) جبکہ بعض دوسرے کودنے کے لیے تیار ہوگئے۔ لیکن ان کو دوسرے ساتھیوں نے روک لیا۔ چنانچہ جب یہ لوگ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پوچھا جنہوں نے آگ میں کودنے سے انکار کردیا تھا کہ تم کیوں نہیں کودنے کے لیے آمادہ ہوئے ؟ انھوں نے جواب دیا : آپ نے ہمیں امیر کی اطاعت کا حکم دیا تھا جبکہ اس نے ہم پر سختی کے ساتھ تاکید کی کہ ہم آگ میں کو دیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بہرحال تم نے اچھا کیا انکار کرکے۔ اور پھر دوسرے گروہ کو فرمایا : اگر تم لوگ آگ میں کود جاتے تو کبھی بھی اس سے نہ نکل پاتے۔ بیشک اطاعت تو صرف نیکی کے کام میں ہے۔ ابن جریر
14405- عن ابن عباس قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم جيشا وأمر عليهم رجلا من الأنصار وأمرهم أن يسمعوا له وأن يطيعوا فسار فنزل منزلا فوجد عليهم في بعض الأمر، فقال: أو ليس قد أمركم رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تطيعوني؟ قالوا: بلى، قال وهم عند غيضة قال: فإني أعزم عليكم أن يقوم كل رجل منكم حتى يحمل وقرهمن هذه الغيضةحتى تجمعوه فجمعوه فأوقد فيه النار حتى صارت نارا ضخمة، ثم قال: عزمت عليكم إلا وقعتم فيها، فقال بعضهم: إنما نفر من النار وقام آخرون ليقعوا فيها فمنعهم الآخرون؛ فلما قدموا على النبي صلى الله عليه وسلم ذكروا له ذلك فقال النبي صلى الله عليه وسلم للذين أبوا ما منعكم أن تقعوا فيها؟ فقالوا: أمرتنا أن نطيعه فعزم علينا أن نقع فيها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أما أنتم فقد أحسنتم حين منعتموهم، واما أنتم فلو وقعتم فيها ما خرجتم منها أبدا إنما الطاعة في المعروف. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪০৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی مخالفت
14406 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد کی طرف تشریف لائے۔ اس وقت مسجد میں نوافراد بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عنقریب تم پر میرے بعد امراء (حکام) آئیں گے۔ پس جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق کی ان کے ظلم پر ان کی مدد کی اور ان کے دروازوں پر بھیڑ لگائی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں، نہ میرا اس سے کوئی تعلق اور میں اس سے بری ہوں۔ وہ حوض پر میرے پاس نہیں آسکے گا۔ اور جس نے اس کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی اور ان کی مدد نہ کی اور ان کے دروازوں پر رش لگایا پس وہ میرا ہے اور میں اس کا اور عنقریب وہ حوض پر مجھ سے آکر ملے گا۔ ابن جریر
14406- عن ابن عمر قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى المسجد وفيه تسعة نفر، فقال: إنها ستكون عليكم امراء من بعدي، فمن صدقهم بكذبهم وأعانهم على ظلمهم وغشى أبوابهم فليس مني ولست منه وأنا منه بريء ولم يرد على الحوض، ومن لم يصدقهم بكذبهم ولم يعنهم ولم يغش أبوابهم فهو مني وأنا منه وسيرد علي الحوض. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪০৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی مخالفت
14407 سوید بن غیفلہ سے مروی ہے کہ میں نے ابوموسیٰ اشعری (رض) سے سنا کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :
عنقریب اس امت میں دو گمراہ حاکم آئیں گے۔ جس نے ان کی اتباع کی وہ بھی گمراہ ہوجائے گا۔
سوید (رض) کہتے ہیں میں نے عرض کیا : اے ابوموسیٰ ! دیکھنا کہیں تم ان دونوں میں سے ایک نہ ہوجانا (کیونکہ ابوموسیٰ اشعری (رض)) دور فاروقی میں بحرین کے گورنر تھے حضرت ابوموسیٰ (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ان دونوں میں سے ایک تو مرنے سے پہلے میں نے دیکھ لیا۔ الکبیر للطبرانی
کلام : امام سیوطی (رح) فرماتے ہیں یہ روایت میرے نزدیک بالکل باطل ہے کیونکہ جعفر بن علی شیخ مجہول ہے اور بالکل غیر معروف ہے۔
عنقریب اس امت میں دو گمراہ حاکم آئیں گے۔ جس نے ان کی اتباع کی وہ بھی گمراہ ہوجائے گا۔
سوید (رض) کہتے ہیں میں نے عرض کیا : اے ابوموسیٰ ! دیکھنا کہیں تم ان دونوں میں سے ایک نہ ہوجانا (کیونکہ ابوموسیٰ اشعری (رض)) دور فاروقی میں بحرین کے گورنر تھے حضرت ابوموسیٰ (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! ان دونوں میں سے ایک تو مرنے سے پہلے میں نے دیکھ لیا۔ الکبیر للطبرانی
کلام : امام سیوطی (رح) فرماتے ہیں یہ روایت میرے نزدیک بالکل باطل ہے کیونکہ جعفر بن علی شیخ مجہول ہے اور بالکل غیر معروف ہے۔
14407- عن سويد بن غفلة قال: سمعت أبا موسى الأشعري يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: سيكون في هذه الأمة حكمان ضالان ضال من اتبعهما فقلت: يا أبا موسى انظر لا تكون أحدهما قال: فوالله ما مات حتى رأيته أحدهما. "طب" وقال هذا عندي باطل لأن جعفر بن علي شيخ مجهول لا يعرف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪০৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی مخالفت
14408 حضرت ابوسعیدخدری (رح) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
عنقریب ایسے امراء آئیں گے جو ظلم کریں گے اور جھوٹ بولیں گے۔ جبکہ کچھ چھانے والے لوگ ان پر چھا جائیں گے۔
پس جس نے ان کے ظلم وستم پر ان کی مدد کی اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ میرا اس سے کوئی واسطہ ہے۔ اور جس نے ان کے کذب کی تصدیق نہ کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کی تو وہ میرا ہے اور میں اس کا۔ ابن جریر
عنقریب ایسے امراء آئیں گے جو ظلم کریں گے اور جھوٹ بولیں گے۔ جبکہ کچھ چھانے والے لوگ ان پر چھا جائیں گے۔
پس جس نے ان کے ظلم وستم پر ان کی مدد کی اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ میرا اس سے کوئی واسطہ ہے۔ اور جس نے ان کے کذب کی تصدیق نہ کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد نہ کی تو وہ میرا ہے اور میں اس کا۔ ابن جریر
14408- عن أبي سعيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: سيكون أمراء يظلمون ويكذبون ويغشاهمغواش أو قال حواش من الناس فمن أعانهم على ظلمهم وصدقهم بكذبهم، فليس مني ولا أنا منه، ومن لم يصدقهم بكذبهم ولم يعنهم على ظلمهم فهو مني وأنا منه. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪০৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی مخالفت
14409 حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علقمہ بن محرز کو ایک لشکر پر امیر مقرر کیا۔ میں بھی اس لشکر میں شامل تھا۔ چنانچہ لشکر جب جنگ کے مقام پر پہنچا یا ابھی راستہ میں تھا کہ لشکر میں سے ایک جماعت نے آگے بڑھنے کی اجازت طلب کی۔ امیر نے ان کو اجازت دیدی اور اس چھوٹے لشکر پر عبداللہ بن حذافہ بن قیس سہمی کو امیر بنادیا۔ حضرت ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں : میں بھی ان کے ساتھ ہولیا۔ ہم نے راستے میں ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ لوگوں نے ہاتھ تاپنے کے لیے یا کھانا وغیرہ بنانے کے لے ایک الاؤ بھڑکایا۔ عبداللہ امیر لشکر جو کچھ ہنسی مذاق کا مزاج رکھنے والے تھے نے فرمایا : کیا تم پر میری سعی وطاعت فرض نہیں ہے ؟ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں۔ عبداللہ بولے : تو اگر میں تم کو کسی چیز کا حکم دوں تو تم اطاعت کرو گے ؟ لوگوں نے کہا : ضرور۔ عبداللہ بولے : تب میں تم کو سختی سے تاکید کرتا ہوں کہ اس آگ میں کود جاؤ۔
حضرت ابوسعید (رض) فرماتے ہیں : پھر جب ہم واپس ہوئے تو ہم نے اس واقعہ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روبروذکر کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم میں سے جو بھی نافرمانی کا حکم کرے اس کی اطاعت نہ کرو۔ مصنف ابن ابی شیبہ
حضرت ابوسعید (رض) فرماتے ہیں : پھر جب ہم واپس ہوئے تو ہم نے اس واقعہ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روبروذکر کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم میں سے جو بھی نافرمانی کا حکم کرے اس کی اطاعت نہ کرو۔ مصنف ابن ابی شیبہ
14409- عن أبي سعيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث علقمة بن محرز على بعث أنا فيهم، فلما انتهى إلى رأس غزاتهأو كان ببعض الطريق استأذنته طائفة من الجيش فأذن لهم وأمر عليهم عبد الله بن حذافة بن قيس السهمي فكنت فيمن غزا معه، فلما كنا ببعض الطريق أو قد القوم نارا ليصطلوا أو ليصطنعوا عليه صنيعا لهم، فقال عبد الله وكانت فيه دعابة: أليس لي عليكم السمع والطاعة؟ قالوا: بلى، قال: فما نأمركم بشيء إلا صنعتموه؟ قالوا: نعم، قال: فإني أعزم عليكم إلا تواثبتم في هذه النار، فلما قدمنا ذكرنا ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: من أمركم منهم بمعصية فلا تطيعوه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪১০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی مخالفت
14410 معرالضبی سے مروی ہے کہ جب عبداللہ بن عامر ملک شام آئے تو جن کے متعلق اللہ نے چاہا صحابہ کرام اور دوسرے حضرات ان سے بغرض ملاقات حاضر ہوئے، مگر حضرت ابوالدرداء (رض) تشریف نہ لائے۔ عبداللہ بن عامر بولے : کیا بات ہے میں ابوالدرداء کو اپنے پاس آنے والوں میں نہیں دیکھ رہا۔ چلو کوئی بات نہیں میں خود ان کے پاس چل کرجاتا ہوں اور ان کا حق ادا کرتا ہوں۔ چنانچہ عبداللہ بن عامر حضرت ابوالدرداء (رض) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور سلام کیا۔ پھر بولا : میرے پاس آپ کے ساتھی تو آئے لیکن آپ تشریف نہیں لائے، لہٰذا نے سوچا میں خود ہی چل کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاؤں اور آپ کا حق ادا کروں۔ حضرت ابوالدرداء (رض) نے اس کو فرمایا : تجھ سے بڑھ کر پست انسان اللہ کی نظر میں اور نہ میری نظر میں آج کے دن کوئی نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو حکم فرمایا تھا کہ حکام تمہارے ساتھ بدل جائیں گے تو اس وقت تم بھی اپنا رویہ ان کے ساتھ بدل لینا۔
کلام : یہ روایت کنزالعمال میں حوالہ سے خالی ہے جبکہ امام ہیثمی (رح) نے مجمع الزوائد 229/5 میں مغراء سے اس کو نقل کیا اور فرمایا کہ امام طبرانی (رح) نے اس کو روایت کیا ہے اور اس میں لیث بن ابی سلیم ایک راوی ہے جو مدلس ہے اور اس روایت کے بقیہ راوی ثقہ ہیں۔
کلام : یہ روایت کنزالعمال میں حوالہ سے خالی ہے جبکہ امام ہیثمی (رح) نے مجمع الزوائد 229/5 میں مغراء سے اس کو نقل کیا اور فرمایا کہ امام طبرانی (رح) نے اس کو روایت کیا ہے اور اس میں لیث بن ابی سلیم ایک راوی ہے جو مدلس ہے اور اس روایت کے بقیہ راوی ثقہ ہیں۔
14410- عن معر الضبي قال: لما قدم عبد الله بن عامر الشام أتاه من شاء الله أن يأتيه من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وغيرهم إلا أبا الدرداء فإنه لم يأته فقال: لا أرى أبا الدرداء أتاني فيمن أتى، فلآتينه ولأقضين من حقه فأتاه فسلم عليه وقال له: أتاني أصحابك ولم تأتني فأحببت أن آتيك وأقضي من حقك، فقال له أبو الدرداء: ما كنت قط أصغر في عين الله ولا في عيني منك اليوم إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرنا أن نتغير عليكم إذا تغيرتم. " ... "
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪১১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی مخالفت
14411 کعب (رض) بن عجرہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں ان نو آدمیوں میں سے ایک تھا جو وہاں موجود تھے۔ ان میں سے پانچ تو اہل عرب میں سے تھے اور چار عجمی تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو ارشاد فرمایا : کیا تم سن رہے ہو ؟ تین بار آپ نے یہی بات دریافت فرمائی کہ کیا تم سن رہے ہو ؟ ہم نے (ہر بار) عرض کیا : یارسول اللہ ! ہم سن رہے ہیں۔ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اچھا تو سنو !
ظلم کے کاموں میں حکام کی مدد نہ کی جائے
عنقریب تم پر کچھ حکمران آئیں گے، پس جو شخص ان کے پاس داخل ہوا، ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی معاونت کی تو میں اس سے نہیں اور وہ مجھ سے نہیں اور وہ شخص قیامت کے دن حوض پر میرے پاس نہ آسکے گا۔ اور جو شخص ایسے حکام کے پاس نہ گیا، نہ ان کے کذب کی اس نے تصدیق کی اور نہ ان کے ظلم پر ان کی مدد کی تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے۔ اور عنقریب قیامت کے دن وہ حوض پر مجھ سے آکر ضرور ملے گا۔ ابن جریر، شعب الایمان للبیہقی
ظلم کے کاموں میں حکام کی مدد نہ کی جائے
عنقریب تم پر کچھ حکمران آئیں گے، پس جو شخص ان کے پاس داخل ہوا، ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی معاونت کی تو میں اس سے نہیں اور وہ مجھ سے نہیں اور وہ شخص قیامت کے دن حوض پر میرے پاس نہ آسکے گا۔ اور جو شخص ایسے حکام کے پاس نہ گیا، نہ ان کے کذب کی اس نے تصدیق کی اور نہ ان کے ظلم پر ان کی مدد کی تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے۔ اور عنقریب قیامت کے دن وہ حوض پر مجھ سے آکر ضرور ملے گا۔ ابن جریر، شعب الایمان للبیہقی
14411- عن كعب بن عجرة قال: خرج إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن في المسجد أنا تاسع تسعة خمسة من العرب وأربعة من العجم فقال لنا: أتسمعون هل تسمعون ثلاث مرات؟ قلنا: سمعنا، قال: فاسمعوا إذا إنها ستكون عليكم أئمة، فمن دخل عليهم فصدقهم بكذبهم وأعانهم على ظلمهم فلست منه وليس مني ولا يرد على الحوض يوم القيامة، ومن لم يدخل عليهم ولم يصدقهم بكذبهم ولم يعنهم على ظلمهم فهو مني وأنا منه وسيرد على الحوض يوم القيامة. "ابن جرير هب"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪১২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی مخالفت
14412 سعد بن اسحاق بن کعب بن عجرۃ عن ابیہ عن جدہ کی سند سے مروی ہے، حضرت کعب بن عجرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ارشاد فرمایا : اے کعب بن عجرہ ! میں تیرے لیے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں بیوقوفوں (ظالموں) کی حکومت سے۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! بیوقوفوں کی حکومت کیا ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جو بات کریں تو جھوٹ بولیں گے، اگر کوئی کام کریں گے تو ظلم کریں گے۔ پس جو شخص ان کے پاس آیا پھر ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی وہ مجھ سے نہیں اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔ اور ایسے لوگ کل قیامت کے دن میرے پاس حوض پر (ہرگز) نہ آسکیں گے۔ اور جو شخص ایسے حکمران کے جانے سے محترزرہا، ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی اور نہ ان کے ظلم پر ان کی مدد کی تو وہ میرا ہے اور میں اس کا اور وہ حوض پر مجھ سے آکر ملے گا۔ ابن جریر
عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جو بات کریں تو جھوٹ بولیں گے، اگر کوئی کام کریں گے تو ظلم کریں گے۔ پس جو شخص ان کے پاس آیا پھر ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی وہ مجھ سے نہیں اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔ اور ایسے لوگ کل قیامت کے دن میرے پاس حوض پر (ہرگز) نہ آسکیں گے۔ اور جو شخص ایسے حکمران کے جانے سے محترزرہا، ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی اور نہ ان کے ظلم پر ان کی مدد کی تو وہ میرا ہے اور میں اس کا اور وہ حوض پر مجھ سے آکر ملے گا۔ ابن جریر
14412- عن سعد بن إسحاق بن كعب بن عجرة عن أبيه عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا كعب بن عجرة أعيذك بالله من إمارة السفهاء قلت: يا رسول الله وما إمارة السفهاء؟ قال: يوشك أن تكون أمراء إن حدثوا كذبوا وإن عملوا ظلموا، فمن جاءهم فصدقهم بكذبهم، وأعانهم على ظلمهم فليس مني ولست منه ولا يردون على حوضي غدا ومن لم يأتهم ولم يصدقهم ولم يعنهم على ظلمهم فهو مني وأنا منه وهو يرد على حوضي غدا. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪১৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی مخالفت
14413 ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ارشاد فرمایا : اے ابوعبدالرحمن ! تیرا کیا حال ہوگا جب تجھ پر (کل) ایسے حکمران مسلط ہوں گے، جو سنت کو مٹائیں گے، نماز کو اس کے وقت سے ٹال کر پڑھیں گے ؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! پھر آپ مجھے ایسے موقع کے لیے کیا حکم دیتے ہیں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود) مجھ سے سوال کرتا ہے کہ وہ کیا وجہ اختیار کرے۔ اللہ کی نافرمانی میں مخلوق کی فرمان برداری نہیں ہے۔ مصنف عبدالرزاق، مسند احمد
14413- عن ابن مسعود أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له: كيف بك يا أبا عبد الرحمن إذا كان عليك أمراء يطفئون السنة ويؤخرون الصلاة عن ميقاتها؟ قلت: فكيف تأمرني يا رسول الله؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يسالني ابن أم عبد كيف يفعل لا طاعة للمخلوق في معصية الله. "عب حم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪১৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی مخالفت
14414 حضرت عروہ (رح) سے مروی ہے کہ میں حضرت ابن عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : ہم لوگ ان حکمرانوں کے پاس بیٹھتے ہیں وہ علم کلام میں گفتگو کرتے ہیں جبکہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ حق پر وہ نہیں کوئی اور ہیں۔ مگر ہم ان حکام کی تصدیق کرتے رہتے ہیں۔ نیز وہ ظلم پر مبنی فیصلے کرتے ہیں، ہم ان کو تقویت پہنچاتے ہیں اور ایسا عمل ان کی نظروں میں قابل تحسین کراتے ہیں تو آپ ہمارے اس طرز عمل کو کیا خیال کرتے ہیں (اے ابن عمر ! ) حضرت ابن عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : اے بھتیجے ! ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوتے تھے تو اس عمل کو نفاق شمار کرتے تھے، لیکن مجھے نہیں معلوم کہ تمہارے نزدیک اس کی کیا حیثیت ہے ؟ شعب الایمان للبیہقی
14414- عن عروة قال: أتيت ابن عمر فقلت: إنا نجلس إلى أئمتنا هؤلاء فيتكلمون بالكلام، ونحن نعلم أن الحق مع غيرهم فنصدقهم، ويقضون بالجور فنقويهم ونحسنه لهم فكيف ترى في ذلك؟ فقال: يا ابن أخي كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم نعد هذا النفاق فلا أدري كيف هو عندكم؟
"هب"
"هب"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪১৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امیر کی مخالفت
14415 عقبہ بن مالک لیثی سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر کے ساتھ بھیجا اور ارشاد فرمایا :
جب امیر میرے (نبی کے) حکم کی مخالفت کرے تو اس کو بدل کر ایسے شخص کو اپنا امیر بنالو جو میری اتباع کرتا ہو۔ الخطیب فی المتفق
جب امیر میرے (نبی کے) حکم کی مخالفت کرے تو اس کو بدل کر ایسے شخص کو اپنا امیر بنالو جو میری اتباع کرتا ہو۔ الخطیب فی المتفق
14415- عن عقبة بن مالك الليثي قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم في سرية وقال: إذا خالف الأمير أمري فاجعلوا مكانه من يتبع أمري. "خط في المتفق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪১৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگار
14416 مالک بن اوس بن الحدثان البصری فرماتے ہیں : میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کے زمانے میں عریف (ناظم الامور) تھا۔ ابن عساکر
14416- عن مالك بن أوس بن الحدثان البصري قال: كنت عريفا في زمن عمر بن الخطاب. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪১৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگار
14417 عبداللہ بن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہلاکت ہے زریبۃ (جی حضوری لگائے رکھنے والے) کے لیے ! پوچھا گیا : زریبہ کیا ہے یارسول اللہ ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ شخص کہ امیر جب کوئی سچی بات کہے تو بولے امیر نے سچ فرمایا۔ اور جب امیر جھوٹ بولے تب بھی، یہی کہے امیر نے سچ فرمایا۔ شعب الایمان للبیہقی
14417- عن عبد الله بن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ويل للزربيةقيل: وما الزربية يا رسول الله؟ قال: الذي إذا صدق الأمير، قالوا: صدق الأمير، وإذا كذب الأمير قالوا: صدق الأمير. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪১৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکم کے مددگار
14418 حضرت ابو ہریرہ (رض) سے مروی ہے آپ (رض) نے ارشاد فرمایا :
اس امت میں سے سب سے پہلے کوڑے بردار (ظالم سپاہی) جہنم میں داخل ہوں گے۔
مصنف ابن ابی شیبہ
اس امت میں سے سب سے پہلے کوڑے بردار (ظالم سپاہی) جہنم میں داخل ہوں گے۔
مصنف ابن ابی شیبہ
14418- عن أبي هريرة قال: أول من يدخل من هذه الأمة النار السواطون "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪১৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " ذيل الخلافة "
14419 (مسند علی (رض)) حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا گیا : یارسول اللہ ! آپ کے بعد ہم کس کو اپنا امیر منتخب کریں ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :
اگر تم ابوبکر کو اپنا امیر بناؤ تو اس کو امانت دار اور دنیا سے بےرغبت اور آخرت کا شوق رکھنے والا پاؤ گے۔ اور اگر تم عمر کو اپنا امیر بناؤ تو اس کو صاحب قوت، امانت دار اور اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرنے والا پاؤ گے۔ اور اگر تم علی کو اپنا امیر بناؤ لیکن میرا خیال ہے کہ تم ایسا نہیں کرو گے اگر کرو گے تو تم اس کو سیدھی راہ چلانے والا اور سیدھی راہ پر گامزن پاؤ گے، وہ تم کو بالکل سیدھی راہ پر گامزن رکھے گا۔
مسند احمد ، فضائل الصحابۃ للخیثمۃ، مستدرک الحاکم، حلیۃ الاولیاء ابن الجوزی فی الواھیات، فاخطاء، ابن عساکر السنن لسعید بن منصور
کلام : ابن الجوزی (رح) نے اس روایت کو من گھڑت روایتوں میں شمار کیا ہے، لیکن امام سیوطی (رح) فرماتے ہیں یہ ابن الجوزی (رح) کو خطاء ہے۔
امام ہیثمی (رح) نے مجمع الزوائد میں اس کو نقل کیا ہے ج 5 ص 176، نیز فرماتے ہیں کہ امام احمد، امام بزار نے اس کو روایت کیا ہے اور طبرانی (رح) نے بھی الاوسط میں اس کو روایت کیا ہے جبکہ بزار کی روایت کے رجال ثقہ ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
اگر تم ابوبکر کو اپنا امیر بناؤ تو اس کو امانت دار اور دنیا سے بےرغبت اور آخرت کا شوق رکھنے والا پاؤ گے۔ اور اگر تم عمر کو اپنا امیر بناؤ تو اس کو صاحب قوت، امانت دار اور اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرنے والا پاؤ گے۔ اور اگر تم علی کو اپنا امیر بناؤ لیکن میرا خیال ہے کہ تم ایسا نہیں کرو گے اگر کرو گے تو تم اس کو سیدھی راہ چلانے والا اور سیدھی راہ پر گامزن پاؤ گے، وہ تم کو بالکل سیدھی راہ پر گامزن رکھے گا۔
مسند احمد ، فضائل الصحابۃ للخیثمۃ، مستدرک الحاکم، حلیۃ الاولیاء ابن الجوزی فی الواھیات، فاخطاء، ابن عساکر السنن لسعید بن منصور
کلام : ابن الجوزی (رح) نے اس روایت کو من گھڑت روایتوں میں شمار کیا ہے، لیکن امام سیوطی (رح) فرماتے ہیں یہ ابن الجوزی (رح) کو خطاء ہے۔
امام ہیثمی (رح) نے مجمع الزوائد میں اس کو نقل کیا ہے ج 5 ص 176، نیز فرماتے ہیں کہ امام احمد، امام بزار نے اس کو روایت کیا ہے اور طبرانی (رح) نے بھی الاوسط میں اس کو روایت کیا ہے جبکہ بزار کی روایت کے رجال ثقہ ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔
14419- "مسند علي رضي الله عنه" عن علي قال: قيل: يا رسول الله من نؤمر بعدك؟ قال: إن تؤمروا أبا بكر تجدوه أمينا زاهدا في الدنيا راغبا في الآخرة، وإن تؤمروا عمر تجدوه قويا أمينا لا يخاف في الله لومة لائم، وإن تؤمروا عليا ولا أراكم فاعلين تجدوه هاديا مهديا يأخذ بكم الصراط المستقيم. "حم وخيثمة في فضائل الصحابة ك حل وابن الجوزي في الواهيات فأخطأ كر ص"
তাহকীক: