কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৫ টি

হাদীস নং: ১৪৪২০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " ذيل الخلافة "
14420 حضرت علی (رض) سے مروی ہے، ارشاد فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو پیدا کیا، روح کو جان بخشی ! پہاڑ کو اس کی جگہ سے ہٹا دینا زیادہ آسان ہے بنسبت قوی بادشاہ کو سلطنت سے ہٹانے کے۔ پس جب لوگ آپس کے اختلاف ونزاع کا شکار ہوں گے تو قریب ہے کہ درندے ان پر غالب آجائیں ۔ مصنف ابن ابی شیبہ
14420- عن علي قال: والذي خلق الحبة وبرأ النسمةلإزالة الجبال من مكانها أهون من إزالة ملك مرجل فإذا اختلفوا بينهم فو الذي نفسي بيده لو كادتهم الضباع لغلبتهم. "..
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪২১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " ذيل الخلافة "
14421 حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے مروی ہے ، ارشاد فرمایا : میں ایک گڑے ہوئے پہاڑ کو اس کی جگہ سے ٹال دوں ، یہ میرے لیے زیادہ آسان ہے بنسبت ایک قوی مستحکم بادشاہ کو ہٹانے سے۔ مصنف ابن ابی شیبہ، ابونعیم
14421- عن ابن مسعود قال: لأن أزاول جبلا راسيا أهون علي من أن أزائل ملكا مرجلا. "ش وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪২২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " ذيل الخلافة "
14422 ابن اسحاق، عمران بن کثیر سے روایت کرتے ہیں، عمران کہتے ہیں : میں ملک شام گیا، وہاں قبیصہ بن ذویب کو میں نے دیکھا کہ وہ اپنے ساتھ ایک شخص کو لے کر آیا اور اس کو خلیفہ عبدالملک بن مروان کے سامنے پیش کیا۔ اس آدمی نے خلیفہ عبدالملک کو حدیث بیان کی کہ وہ اپنے والد سے اور اس کا ولد حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت نقل کرتا ہے کہ رسول اللہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : خلیفہ کو قسم نہیں دلائی جائے گی۔ یعنی کسی مقدمے میں خلیفہ کا قول قسم سے بڑھ کر ہے۔

چنانچہ خلیفہ نے اس کو انعام دیا اور خلعت سے نوازا اور سلام (کرکے رخصت) کیا۔ عمران بن کثیر کہتے ہیں : یہ بات میرے دل میں کھٹک گئی چنانچہ میں مدینہ (منورہ) آیا اور حضرت سعید بن المسیب (رح) سے ملاقات کی اور ان کو سارے واقعے کی خبر سنائی۔ حضرت سعید بن المسیب (رح) نے فرمایا : اللہ قبیصہ کا ستیاناس کرے، کیسے اس نے اپنے دین کو دنیا کے بدلے فروخت کر ڈالا ہے۔ اللہ کی قسم قبیلہ خزاعہ کی کوئی عورت خواہ وہ اپنے گھر میں بیٹھنے والی ہو ایسی نہیں ہے جس کو عمرو بن سالم خزاعی کا قول یادنہ ہو جو اس نے نبی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہا تھا :

اللھم انی فایشد محمداً حلف ابنا وابیہ الاتلدا

اے اللہ ! میں محمد کی قسم اٹھانے کا کہتا ہوں حالانکہ ہمارے باپ اور ان کے باپ جو موروثی مال والے ہیں آپس میں حلیف ہیں۔

پھر سعید بن المسیب (رح) نے فرمایا : عجیب بات ہے کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تو قسم دی جائے لیکن خلیفہ کی قسم اٹھانے سے بری قرار دیا جائے یہ کیسے ممکن ہے۔ ابن عساکر
14422- عن ابن إسحاق عن عمران بن كثير قال: قدمت الشام فإذا قبيصة بن ذويب قد جاء برجل من العراق فادخله على عبد الملك بن مروان فحدثه عن أبيه عن المغيرة بن شعبة أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: إن الخليفة لا يناشد قال: فأعطى وكسى وحيى، قال فحك في نفسي فقدمت المدينة فلقيت سعيد بن المسيب فحدثته فقال: قاتل الله قبيصة كيف باع دينه بدنياه فإنه والله ما من امرأة من خزاعة قعيدة في بيتها إلا قد حفظت قول عمرو بن سالم الخزاعي لرسول الله صلى الله عليه وسلم:

اللهم إني ناشد محمدا

حلف أبينا وأبيه الأتلدا

فيناشد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولا يناشد الخليفة. "كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪২৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل قضاء۔۔۔عہدہ حج اور اس سے متعلق وعیدوں کے بیان میں

قضاء سے متعلق وعیدوں کا بیان
14423 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ، ارشاد فرمایا : میں نے کسی کو نہیں دیکھا کہ ان تین آیات آنے کے بعد اس نے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کیا ہو۔

ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون۔

اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ دین کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی لوگ کافر ہیں۔

ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الظالمون

اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ دین کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی لوگ ظالم ہیں۔

ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الفاسقون۔

اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ دین کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی لوگ فاسق ہیں۔

السنن لسعید بن منصور
14423- عن عمر قال: ما رأيت من قضى بين اثنين بعد هؤلاء الثلاثة ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون، ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الظالمون ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الفاسقون. "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪২৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل قضاء۔۔۔عہدہ حج اور اس سے متعلق وعیدوں کے بیان میں

قضاء سے متعلق وعیدوں کا بیان
14424 حضرت عروہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس جب دو خصم (مقدمے کے دو فریق) آتے تو آپ (رض) اپنے دونوں گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے اور دعا کرتے :

اے اللہ ! میری ان دونوں پر مدد فرما بیشک ان دونوں میں سے ہر ایک مجھے میرے دین سے ہٹانا چاہتا ہے۔ ابن سعد
14424- عن عروة قال: كان عمر إذا أتاه الخصمان برك على ركبتيه وقال: اللهم أعني عليهما فإن كل واحد منهما يريدني عن ديني. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪২৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل قضاء۔۔۔عہدہ حج اور اس سے متعلق وعیدوں کے بیان میں

قضاء سے متعلق وعیدوں کا بیان
14425 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ، ارشاد فرمایا : قاضی تین طرح کے ہیں۔ ابن عساکر

کلام : روایت محل کلام ہے دیکھئے : ذخیرۃ الحفاظ 388 ۔
14425- عن علي قال: القضاة ثلاثة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪২৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل قضاء۔۔۔عہدہ حج اور اس سے متعلق وعیدوں کے بیان میں

قضاء سے متعلق وعیدوں کا بیان
14426 قتادہ، ابوالعالیہ سے، اور وہ حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں، حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں :

قاضی تین طرح کے ہیں : دو جہنم میں ہیں اور ایک جنت میں۔ دو جہنم والوں میں سے ایک تو وہ قاضی ہے جو جان بوجھ کر حق کے خلاف ظلماً فیصلہ کرے۔ دوسرا وہ قاضی ہے جو اپنی رائے میں حق کے لیے خوب اجتہاد تو کرے پھر بھی اس سے فیصلہ میں خطا سرزد ہوجائے۔ اور جنت میں جانے والا قاضی وہ ہے جو اپنی رائے میں حق کے مطابق اجتہاد کرے اور درست فیصلہ صادر کرے۔

قتادہ (رح) کہتے ہیں : میں نے ابوالعالیہ سے پوچھا کہ جو قاضی اپنی رائے میں حق کے مطابق اجتہاد کرے مگر اس سے فیصلے میں خطا سرزد ہوجائے تو وہ کس قصور میں جہنم جائے گا۔ ابوالعالیہ (رح) نے فرمایا : وہ قاضی اگر چاہتا تو فیصلہ کرنے بیٹھتا ہی نہیں کیونکہ وہ اچھی طرح قضاء (فیصلہ) نہیں کرسکتا۔ السنن الکبری للبیہقی

فائدہ : امام بیہقی (رح) ابوالعالیہ کے قول کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جو اہل اجتہاد میں سے نہیں ہیں پھر بھی وہ اجتہاد کریں تو یہ ان کے گناہ پر ہونے کی دلیل ہے۔
14426- عن قتادة عن أبي العالية عن علي قال: القضاة ثلاثة فاثنان في النار وواحد في الجنة؛ فأما اللذان في النار فرجل جار على الحق متعمدا ورجل اجتهد برأيه فأخطأ، وأما الذي في الجنة فرجل اجتهد برأيه في الحق فأصاب، فقلت لأبي العالية: ما بال هذا الذي اجتهد برأيه في الحق فأخطأ قال: لو شاء لم يجلس يقضي وهو لا يحسن يقضي. "هق"وقال في تفسير أبي العالية: دليل على وزر من اجتهد برأيه وهو من غير أهل الاجتهاد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪২৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قضاء (عہدہ حج) کے متعلق ترغیب کے بیان میں
14427 معقل بن یسار سے مروی ہے کہ مجھے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا کہ میں اپنی قوم کے درمیان فیصلے کروں۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں اچھا فیصلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار ارشاد فرمایا :

اللہ تعالیٰ قاضی کے ساتھ ہے جب تک جان بوجھ کر ظلم نہ کرے۔

ابوسعید النقاش فی کتاب القضاۃ من طریق ابن عیاش

کلام : مذکورہ روایت میں ایک راوی یحییٰ بن یزید بن ابی شیبۃ الرھادی پر کلام ہے۔ امام ابن حبان (رح) فرماتے ہیں : وہ مقلوبات کو روایت کرتا ہے (مختلف احامدیث کی اسناد اور متن کو ایک دوسرے سے تبدیل کردیتا ہے) لہٰذا اس کے ساتھ دلیل پکڑنا درست نہیں جبکہ وہ زید بن ابی التیسہ سے روایت کرے حالانکہ زید ثقہ ہے اور یحییٰ کی نفیع بن الحارث سے مروی حدیث میں نکارت ہے کیونکہ نفع متروک راوی ہے۔
14427- عن معقل بن يسار قال: أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن اقضي بين قومي فقلت: يا رسول الله ما أحسن أن أقضي؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن الله مع القاضي ما لم يحفعمدا ثلاث مرات. "أبو سعيد النقاش في كتاب القضاة من طريق ابن عياش" وفيه كلام عن يحيى بن يزيد بن أبي شيبة الرهاوي قال ابن حبان يروي المقلوبات فبطل الاحتجاج به عن زيد بن أبي أنيسة وهو ثقة وفي حديثه بعض النكارة عن نفيع بن الحارث وهو متروك.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪২৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قضاء (عہدہ حج) کے متعلق ترغیب کے بیان میں
14428 عقبہ بن عامر (رض) سے مروی ہے کہ میں ایک دن حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر تھا پھر آپ کے پاس دو فریق (اپنا جھگڑالے کر) آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ارشاد فرمایا : ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرو۔ میں نے عرض کیا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یارسول اللہ ! آپ فیصلہ مرمانے کے زیادہ حقدار ہیں۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوبارہ حکم فرمایا ان دونوں کے درمیان فیصلہ کردو۔ تب میں نے پوچھا : یارسول اللہ ! کس بنیاد پر ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اجتہاد کرو۔ اگر تم نے درست فیصلہ کیا تو تم کو دس نیکیاں ملیں گی۔ اور اگر تم نے فیصلے میں غلطی کی تو تب بھی تم کو ایک نیکی ملے گی۔ ابن عساکر
14428- عن عقبة بن عامر قال: كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم يوما فجاءه خصمان فقال لي: اقض بينهما فقلت: بأبي أنت وأمي يا رسول الله أنت أولى قال: اقض بينهما قلت: على ماذا يا رسول الله؟ قال: اجتهد فإن أصبت فلك عشر حسنات وإن أخطأت فلك حسنة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪২৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14429 حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے پاس ایک مہمان آکر ٹھہرا۔ اور کئی دن مقیم رہا۔ پھر اس نے حضرت علی (رض) کے سامنے اپنا ایک مقدمہ پیش کردیا۔ حضرت علی (رض) نے اس سے پوچھا : کیا تو خصم (مقدمہ) کا فریق ہے ؟ اس نے کہا : جی ہاں۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : پھر تو یہاں سے کوچ کر جا، کیونکہ ہم کو منع کیا گیا ہے کہ ہم کسی فریق کو اپنے ہاں ٹھہرائیں مگر دوسرے فریق کے ساتھ۔ مننخب کنز العمال : ابن راھویہ، ابوالقاسم بن الخراج فی امالیہ، البیہقی فی السنن الکبریٰ کتاب آداب القاضی 137/10
14429- عن الحسن قال: نزل على علي بن أبي طالب ضيف فكان عنده أياما فأتى في خصومة فقال له علي: أخصم أنت؟ قال: نعم، قال: فارتحل عنا فإنا نهينا أن ننزل خصما إلا مع خصمه."..
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৩০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14430 حضرت علی (رض) سے مروی ہے آپ (رض) فرماتے ہیں : میں نے پوچھا : یارسول اللہ ! جب آپ مجھے کسی حکم پر بھیجیں تو کیا میں مہرزدہ سکے کی طرح (بالکل حکم کے مطابق) عمل کروں یا پھر (اس نظرئیے پر عمل کروں کہ) شاہد (حاضر) وہ کچھ دیکھتا ہے جو غائب حکم دینے والا نہیں دیکھ سکتا۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : شاہد جو کچھ دیکھتا ہے غائب نہیں دیکھ سکتا (اسی طرح عمل کرو) ۔

مسند احمد ، البخاری فی التاریخ، الدورقی ، حلیۃ الاولیاء، ابن عساکر، السنن لسعید بن منصور
14430- عن علي قال: قلت يا رسول الله إذا بعثتني في شيء أكون كالسكة المحماة أم الشاهد يرى ما لا يرى الغائب؟ قال: بل الشاهد يرى ما لا يرى الغائب. "حم خ في تاريخه الدورقي حل كر ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৩১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14431 حضرت حسن سے مروی ہے کہ ایک شخص آیا اور حضرت علی (رض) کے پاس ٹھہر گیا۔ حضرت علی (رض) نے اس کی مہمان نوازی کی۔ پھر مہمان نے کہا میرا ارادہ ہے کہ میں اپنا مقدمہ آپ کی خدمت میں پیش کروں۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : میرے گھر سے چلا جا۔ کیونکہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم کو منع فرمایا ہے کہ ہم کسی فریق مقدمہ کو اپنے ہاں مہمان ٹھہرائیں، دوسرے الفاظ یہ ہیں کہ ہم کو منع کیا ہے کہ ہم کسی ایک فریق کو اپنے ہاں ٹھہرائیں ہاں اگر دوسرا فریق ساتھ ہو تو الگ بات ہے۔ ابن راھویہ، ابوالقاسم بن الجراح فی امالیہ، الکبریٰ للبیہقی
14431- عن الحسن قال: جاء رجل فنزل على علي فأضافه فقال: إني أريد أن أخاصم، قال له علي: تحول عن منزلي، فإن النبي صلى الله عليه وسلم نهانا أن نضيف الخصم وفي لفظ: أن ننزل الخصم إلا ومعه خصمه. "ابن راهويه وأبو القاسم ابن الجراح في أماليه هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৩২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14432 حضرت ابوالا سود حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے کہ ہم دو خصموں (فریقوں) میں سے کسی ایک فریق کو مہمان بنائیں۔ الاوسط للطبرانی
14432- عن أبي الأسود عن علي قال: نهى النبي صلى الله عليه وسلم أن نضيف أحد الخصمين دون الآخر. "طس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৩৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14433 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے قاضی شریح کو فرمایا : تیری زبان تیرا غلام ہے جب تک کہ تو بات چیت نہ کرے۔ پس جب تو نے منہ کھول لیا تو پھر تو اس کا غلام ہے پس خیال رکھا کر (اے قاضی) کیا فیصلہ کررہا ہے اور کس کے بارے میں فیصلہ کررہا ہے اور کیسے فیصلہ کررہا ہے ؟ ابن عساکر
14433- عن علي انه قال لشريح: لسانك عبدك ما لم تتكلم؛ فإذا تكلمت فأنت عبده فانظر ما تقضي وفيم تقضي وكيف تقضي؟ "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৩৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14434 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یمن کا قاضی بنا کر بھیجا۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں جوان العمر آدمی ہوں اور آپ مجھے ایسے لوگوں کے پاس بھیج رہے ہیں جو اچھی عمروں والے ہیں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے چند دعائیں کی پھر ارشاد فرمایا : جب تیرے پاس دو فریق اپنا مقدمہ لے کر آئیں اور تو ان میں سے ایک کی بات سن لے تو اس وقت تک فیصلہ نہ کر جب تک دوسرے کی بات نہ سن لے۔ یہ تیرے لیے زیادہ پختہ بات ہے۔

راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت علی (رض) نے اختلاف نہیں فرمایا۔ السنن الکبریٰ للبیہقی
14434- عن علي قال: بعثني النبي صلى الله عليه وسلم قاضيا يعني إلى اليمن، فقلت: يا رسول الله غني شاب وتبعثني إلى أقوام ذوي أسنان فدعا لي بدعوات ثم قال: إذا أتاك الخصمان فسمعت من أحدهما فلا تقضين حتى تسمع من الآخر، فإنه أثبت لك، قال فما اختلف علي بعد ذلك. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৩৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14435 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تیرے پاس دو آدمی اپنا فیصلہ لے کر آئیں تو پہلے کے لیے ہرگز فیصلہ نہ کر حتیٰ کہ دوسرے کی بات نہ سن لے۔ عنقریب تو دیکھ لے گا کیسے فیصلہ کرنا ہوتا ہے حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : چنانچہ اس کے بعد میں ہمیشہ قاضی رہا۔ البخاری ، النسائی
14435- عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا تقاضيا إليك رجلان فلا تقض للأول حتى تسمع كلام الآخر فسوف ترى كيف تقضي [قال علي] : فما زلت بعد قاضيا. "خ ن"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৩৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14436 حضرت ابوحرب بن الاسوددوئلی روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی فریق کی مہمان نوازی نہ کرتے تھے جب تک کہ اس کا دوسرا خصم (فریق) اس کے ساتھ نہ ہو۔ السنن للبیہقی
14436- عن أبي [حرب بن] الأسود الديلي عن علي قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يضيف الخصم إلا ومعه خصمه. "هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৩৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14437 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں کی حکومت سے کسی چیز پر کوئی اجر (معاوضہ) نہیں لیا جائے گا۔ ھلال الحفارفی جزہ
14437- عن عمر قال: لا يؤخذ على شيء من حكومة المسلمين أجر. "هلال الحفار في جزئه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৩৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14438 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے، ارشاد فرماتے ہیں : مقدموں کے فریقوں کو واپس لوٹا دیا کرو تاکہ وہ آپس میں صلح صفائی سے اپنے معاملات کو نمٹ لیں کیونکہ عدالتی فیصلے لوگوں کے درمیان باہمی کینہ پروری اور دشمنی کو جنم دیتے ہیں۔ المصنف لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
14438- عن عمر قال: ردوا الخصوم حتى يصطلحوا فإن فصل القضاء يورث الضغائن بين الناس. "عب هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৩৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14439 قاضی شریح (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ان کو لکھا : جب تمہارے پاس ایسا کوئی قضیہ آئے جس کا فیصلہ قرآن میں موجود ہو تو اس کے ساتھ فیصلہ کردو۔ لوگ تم کو اس فیصلے سے ڈگمگا نہ دیں۔ اگر کوئی ایسا قضیہ پیش آجائے جس کا واضح حکم کتاب اللہ میں نہ ہو تو سنت رسول اللہ میں اس کا حل دیکھ کر اس کے مطابق فیصلہ کردو۔ اگر ایسا کوئی قضیہ درپیش ہو جس کے متعلق کتاب اللہ میں اور نہ سنت رسول اللہ میں کوئی فیصلہ ہو تو دیکھو کہ (اہل علم) لوگوں کی اس بارے میں کس فیصلے پر اتفاق رائے ہے۔ تو اس کے مطابق فیصلہ کردو۔ اور اگر ایسا کوئی مسئلہ درپیش آجائے جس کا حکم کتاب اللہ میں اور نہ سنت رسول اللہ میں ہو اور نہ اس کے متعلق کسی (اہل علم) نے کچھ کہا ہو تو تب دو باتوں میں سے ایک اختیار کرلو۔ اگر چاہو تو اجتہاد رائے کرو اور فیصلہ کردو اور اگر چاہو تو اس فیصلے کو موخر (ملتوی) کردو۔ تاآنکہ اللہ پاک کوئی صورت حال واضح کردے اور میں تاخیر کو تمہارے لیے بہتر سمجھتا ہوں۔ مصنف ابن ابی شیبہ، ابن جریر
14439- عن شريح أن عمر بن الخطاب كتب إليه إذا جاءك شيء في كتاب الله فاقض به ولا يلفتنك عنه الرجال، فإن جاءك أمر ليس في كتاب الله فانظر سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم فاقض بها، فإن جاءك أمر ليس في كتاب الله وليس فيه سنة من رسول الله صلى الله عليه وسلم، فانظر ما اجتمع عليه الناس فخذ به فإن جاءك ما ليس في كتاب الله ولم يكن فيه سنة من رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يتكلم فيه أحد قبلك فاختر أي الأمرين شئت إن شئت أن تجتهد برأيك فتقدم وإن شئت أن تؤخر فتأخر ولا أرى التأخير إلا خيرا لك. "ش وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক: