কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৫ টি

হাদীস নং: ১৪৪৪০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14440 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ، ارشاد فرمایا : مقدمہ بازوں کو واپس لوٹا دیا کرو تاکہ وہ خود آپس میں صلح کا راستہ اختیار کرلیں ۔ بیشک یہ عمل سینوں کو صاف رکھنے والا اور کینہ و دشمنی کو کم کرنے والا ہے۔ السنن الکبریٰ للبیہقی
14440- عن عمر قال: ردوا الخصوم لعلهم أن يصطلحوا فإنه أبرأ للصدر وأقل للحنات"هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৪১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14441 حضرت (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کے کاتب (منشی) نے (کسی فیصلے یا مکتوب کے آخر میں) لکھا : یہ وہ (فیصلہ) ہے جو اللہ نے امیر المومنین عمر کو سمجھا دیا ہے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس کو جھڑک دیا اور فرمایا : یوں لکھ : یہ عمر کی رائے ہے ، اگر درست ہو تو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر خطاء ہو تو عمر کی طرف سے ہے۔ السنن للبیہقی
14441- عن مسروق قال: كتب كاتب لعمر بن الخطاب هذا ما أرى الله أمير المؤمنين عمر فانتهره عمر وقال: لا بل اكتب هذا ما رأى عمر؛ فإن كان صوابا فمن الله، وإن كان خطأ فمن عمر. "هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৪২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14442 ابوالعوام البصری (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوموسیٰ الاشعری (رض) (گورنر) کو لکھا :

امابعد ! قضاء (عدالتی فیصلہ) محکم فریضہ اور اتباع کی جانے والی سنت ہے۔ پس سمجھ لے کہ جب تیرے سر پر کوئی فیصلہ ڈالا جائے تو محض ایسے حق بتادینے سے کوئی نفع نہیں جس کو نافذ العمل نہ کیا جائے۔ اور اپنے چہرے سے، اپنی نشست وبرخاست سے اور اپنے فیصلے سے لوگوں کو امید دلائے رکھو تاکہ کوئی معزز آدمی تیرے ظلم کی وجہ سے بری طمع نہ کرے اور کوئی کمزور آدمی تیرے عدل سے مایوس نہ ہو۔ گواہ دعویٰ کرنے والے پر ہے اور قسم (قابض اور) منکر پر ہے اور ہر طرح کی صلح مسلمانوں کے درمیان جائز ہے سوائے ایسی صلح کہ جو حرام کو حلال کرے یا حلال کو حرام کردے۔ اور جو کسی غائب حق یا گواہ کا دعویٰ کرے تو اس کو ایک مقررہ مہلت دیدو تاکہ وہ اس وقت تک اس کو حاضر کرنے کا پابند ہوجائے پھر اگر مدعی اپنا گواہ پیش کردے تو اس کو اس کا حق دیدو۔ اگر وہ گواہ پیش کرنے سے عاجز آجائے تو اس کے خلاف فیصلہ کرنا حلال ہوجائے گا (مخالف سے قسم لے کر) یہ طریقہ رعایت عذر خواہ کے لیے زیادہ بہتر اور اندھے کے لیے معاملہ کو زیادہ روشن کرنے والا ہے۔ اور تجھے (نئے) فیصلے سے کوئی شے مانع نہ ہو جبکہ تو آج کوئی فیصلہ کردے ، پھر تو اپنی رائے سے رجوع کرلے، تجھے صحیح فیصلے کی ہدایت مل جائے تو تو حق فیصلہ کو دوبارہ نافذ کرسکتا ہے کیونکہ حق قدیم ہے، حق کو کوئی چیز باطل نہیں کرسکتی اور حق کی طرف رجوع کرلینا باطل میں سرکشی دکھانے سے بہتر ہے۔ مسلمان سارے صاحب عدل ہیں، آپس میں ایک دوسرے کے لیے گواہی دینے کے حق میں سوائے اس شخص کے جس کو کسی شرعی حد میں کوڑے لگ چکے ہوں یا اس پر جھوٹی گواہی دینے کا تجربہ ہوگیا ہو یا کوئی اپنے مولی کے بارے میں ولاء کے متعلق شک وشبہ رکھتا ہو یا کوئی اپنے رشتے دار کے متعلق بدگمانی کا شکار ہو (تو ان کی گواہی شک والوں کے متعلق قبول نہ ہوگی) ۔

بےشک اللہ تعالیٰ نے بندوں سے رازوں (پر مواخذے) کو اٹھا لیا ہے اور حدود کا ان پر پردہ ڈال دیا ہے جو صرف گواہوں اور قسموں کے ساتھ ان پر لاگو ہوسکتی ہیں۔ پھر بھی تم اچھی طرح سمجھ لو اور خوب سمجھ لو خصوصاً ان امور کو جن کا بیان تم کو قرآن وسنت میں نہ ملے تو اس وقت معاملات کی قیاس آرائی کرو اور اس جیسی دوسری مثالوں اور نظیروں کو یاد کرو۔ پھر ان میں سے تمہاری رائے میں جو اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ معلوم ہو اور حق کے ساتھ زیادہ مشابہ ہو اس کا فیصلہ کردو۔

اور غصے سے، قلق سے ، تنگی سے اور لوگوں کو فیصلے کے وقت اذیت دہی اور اجنبی سزائیں دینے سے بچو۔

بےشک حق میں فیصلہ کرنے پر اللہ اجر کو واجب کرتا ہے اور اس کے لیے وہ فیصلہ ذخیر بنادیتا ہے۔ بیشک جس کی نیت حق میں خالص ہو خواہ وہ حق اس کی ذات کے خلاف ہو تو اللہ پاک اس کے اور لوگوں کے درمیان کافی ہوجاتا ہے۔ اور جو شخص لوگوں کے لیے ایسی چیز مزین اور ظاہر کرتا ہے جو اس کے دل میں نہیں ہے تو اللہ پاک اس کو عیب دار کردیتا ہے بیشک اللہ تعالیٰ بندوں سے صرف وہی چیز قبول کرتا ہے جو خالص اس کے لیے ہو۔ اور اللہ کا ثواب جلدی رزق کی صورت میں اور اس کی رحمت کے خزانوں میں وسیع ہے۔ والسلام۔

الدرقطنی فی السنن، السنن للبیہقی، ابن عساکر
14442- عن أبي العوام البصري قال: كتب عمر إلى أبي موسى الأشعري أما بعد فإن القضاء فريضة محكمة وسنة متبعة فافهم إذا أدلي إليك فإنه لا ينفع تكلم بحق لا نفاذ له وآس بين الناس في وجهك ومجلسك وقضائك حتى لا يطمع شريف في حيفك ولا ييأس ضعيف من عدلك البينة على من ادعي واليمين على من أنكر، والصلح جائز بين المسلمين إلا صلحا أحل حراما أو حرم حلالا، ومن ادعى حقا غائبا أو بينة فاضرب له أمدا ينتهي إليه، فإن جاء ببينة أعطيته بحقه، فإن أعجزه ذلك استحللت عليه القضية فإن ذلك ابلغ في العذر وأجلى للعمى ولا يمنعك من قضاء قضيته اليوم فراجعت فيه لرأيك وهديت فيه لرشدك أن تراجع الحق لأن الحق قديم لا يبطل الحق شيء ومراجعة الحق خير من التمادي في الباطل، والمسلمون عدول بعضهم على بعض في الشهادة إلا مجلودا في حد أو مجربا عليه شهادة الزور أو ظنينا في ولاء أو قرابة فإن الله عز وجل تولى من العباد السرائر وستر عليهم الحدود إلا بالبينات والأيمان، ثم الفهم الفهم فيما أدلي إليك مما ليس في قرآن ولا سنة، ثم قايس الأمور عند ذلك واعرف الأمثال والأشباه، ثم اعمد إلى أحبها إلى الله فيما ترى وأشبهها بالحق، وإياك والغضب والقلق والضجر والتأذي بالناس عند الخصومة والتنكر فإن القضاء في مواطن الحق يوجب الله له الأجر ويحسن له الذخر فمن خلصت نيته في الحق ولو كان على نفسه كفاه الله ما بينه وبين الناس، ومن تزين لهم بما ليس في قلبه شانه الله فإن الله لا يقبل من العباد إلا ما كان له خالصا وما ظنك بثواب الله في عاجل رزقه وخزائن رحمته والسلام. "قط هق كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৪৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14443 مسور بن مخرمہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر (رض) سے سنا، آپ (رض) نے ارشاد فرمایا :

اے مسلمانو کی جماعت ! مجھے لوگوں کا تم پر کوئی خوف نہیں ہے، میں تمہارا خوف محسوس کرتا ہوں لوگوں پر۔ میں تمہارے درمیان دو چیزیں لے جارہا ہوں ، جب تک تم ان کو لازم پکڑے رہو گے خیر میں رہو گے۔ فیصلہ میں عدل و انصاف اور تقسیم میں عدل و انصاف۔ اور میں تم کو مویشیوں کی بنائی ہوئی جیسی راہ پر چھوڑے جارہا ہوں (جس کے نشانات واضح ہوتے ہیں) الایہ کہ کوئی قوم اس سے ٹیڑھی چلے گی تو وہ راہ بھی ان کے ساتھ ٹیڑھی ہوجائے گی۔ مصنف ابن ابی شیبہ، السنن للبیہقی
14443- عن المسور بن مخرمة قال: سمعت عمر يقول: يا معشر المسلمين إني لا أخاف الناس عليكم؛ إنما أخافكم على الناس، إني قد تركت فيكم اثنين لن تبرحوا بخير ما لزمتموهما: العدل في الحكم، والعدل في القسم، وإني قد تركتكم على مثل مخرفةالنعم إلا أن يتعوج قوم فيعوج بهم. "ش هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৪৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14444 ابی رواحۃ یزید بن ایبم سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) (عامل گورنر نے) لوگوں کو لکھا : لوگوں کو اپنے نزدیک حق میں برابر رکھو : ان کا قریبی اور دور والا برابر ہے اور ان کا دور والا بھی ان میں سے قریب ترین کے برابر ہے۔ نیز رشوت سے بچو، خواہش پر فیصلہ کرنے سے بچو اور غصے کے وقت لوگوں کو پکڑ کرنے سے اجتناب کرو اور حق کو قائم کرو خواہ دن کے کچھ حصہ میں کیوں نہ ہو۔ السنن لسعید بن منصور، السنن للبیہقی
14444- عن أبي رواحة يزيد بن أيهم قال: كتب عمر بن الخطاب إلى الناس اجعلوا الناس عندكم في الحق سواء قريبهم كبعيدهم وبعيدهم كقريبهم، وإياكم والرشاوالحكم بالهوى وأن تأخذوا الناس عند الغضب فقوموا بالحق ولو ساعة من نهار. "ص هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৪৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14445 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) اور ابی بن کعب (رض) کے درمیان کسی چیز پر آپس میں جھگڑا تھا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اپنے درمیان اور میرے درمیان کسی کو ثالث مقرر کرلو۔ چنانچہ دونوں نے زید بن ثابت کو اپنا فیصل مقرر کرلیا۔ پھر دونوں ان کے پاس چل کر آئے۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : ہم تمہارے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ تم ہمارے درمیان فیصلہ کردو۔ حالانکہ تمام فیصلے حضرت عمر (رض) کی خدمت میں آتے تھے۔ چنانچہ جب دونوں حضرات حضرت زید بن ثابت (رض) کے پاس پہنچ گئے تو حضرت زید (رض) نے اپنے بچھونے پر حضرت عمر (رض) کے لیے جگہ چھوڑ دی اور بولے : اے امیر المومنین ! یہاں آئیے، یہاں ! حضرت عمر (رض) نے ان کو فرمایا : یہ پہلا ظلم ہے جو تم نے اپنے فیصلے میں ظاہر کیا۔ بلکہ میں اپنے فریق کے ساتھ بیٹھنا پسند کروں گا۔ آخر کار دونوں حضرات حضرت زید بن ثابت (رض) کے سامنے بیٹھ گئے۔

حضرت ابی (رض) نے کسی چیز کے متعلق دعویٰ ظاہر کیا۔ حضرت عمر (رض) نے انکار کردیا ۔ قاعدہ کے مطابق ابی (رض) پر گواہ اور عمر (رض) پر قسم آتی تھی لیکن حضرت زید بن ثابت (رض) نے ابی (رض) کو فرمایا : امیر المومنین کو قسم اٹھانے سے تم معاف رکھو۔ اور ان کے علاوہ میں کسی اور کے لیے بھی ایسا مطالبہ کبھی نہ کرتا۔ مگر حضرت عمر (رض) نے از خود قسم اٹھالی اور پھر قسم کھائی کہ جب تک عمر زندہ ہے زید کبھی عہدہ قضاء پر فائز نہیں ہوسکتا کیونکہ عمر کے نزدیک تمام مسلمانوں کی عزت وآبرو برابر ہے۔

السنن لسعید بن منصور، السنن للبیہقی، ابن عساکر
14445- عن الشعبي قال: كان بين عمر وبين أبي بن كعب خصومة فقال عمر: اجعل بيني وبينك رجلا، فجعلا بينهما زيد بن ثابت فأتياه فقال عمر: أتيناك لتحكم بيننا وفي بيته يؤتى الحكم فلما دخلا عليه وسع له زيد عن صدر فراشه فقال: ها هنا يا أمير المؤمنين، فقال له عمر: هذا أول جور جرت في حكمك ولكن أجلس مع خصمي فجلسا بين يديه فادعى أبي وأنكر عمر فقال زيد لأبي: أعف أمير المؤمنين من اليمين وما كنت لأسألها لأحد غيره فحلف عمر ثم أقسم لا يدرك زيد القضاء حتى يكون عمر ورجل من عرض المسلمين عنده سواء. "ص هق كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৪৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14446 یحییٰ بن سعید سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا :

جب میرے پاس دو شخص اپنا کوئی مقدمہ لے کر آتے ہیں تو مجھے کوئی پروا نہیں ہوتی کہ حق کس کی طرف ہو۔ ابن سعد
14446- عن يحيى بن سعيد قال: قال عمر بن الخطاب: ما أبالي إذا اختصم إلي الرجلان لأيهما كان الحق. "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৪৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14447 سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک یہودی اور ایک مسلمان اپنا مشترکہ مقدمہ لے کر آئے۔ حضرت عمر (رض) نے حق کو یہودی کے لیے سمجھا تو اس کے لیے فیصلہ کردیا۔ یہودی نے آپ (رض) کو مخاطب ہو کر کہا : اللہ کی قسم ! آپ نے میرے لیے حق کے ساتھ فیصلہ کیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے اس کو درۃ (کوڑا) مارا اور فرمایا : تجھے کیا علم (کہ میں نے حق کے ساتھ فیصلہ کیا ہے) یہودی نے کہا : ہم توراۃ میں پاتے ہیں کہ کوئی قاضی حق کے ساتھ فیصلہ نہیں کرسکتا مگر جبکہ اس کے دائیں طرف ایک فرشتہ ہو اور بائیں طرف ایک فرشتہ، جو اس کو درست راہ دکھاتے رہیں اور حق کی توفیق دیتے رہیں جب تک کہ وہ حق کے ساتھ ہو۔ جب وہ حق کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ دونوں فرشتے اوپر چلے جاتے ہیں اور اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔ موطا امام مالک، ابن عبدالحکم ، فی فتوح مصر
14447- عن سعيد بن المسيب أن عمر اختصم إليه مسلم ويهودي فرأى أن الحق لليهودي فقضى له، فقال له اليهودي: والله لقد قضيت لي بالحق فضربه عمر بالدرة ثم قال: وما يدريك؟ قال: إنا نجد أنه ليس قاض يقضي بالحق إلا كان عن يمينه ملك وعن يساره ملك يسددانه ويوفقانه للحق ما دام مع الحق ترك الحق عرجا وتركاه. "مالك وابن عبد الحكم في فتوح مصر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৪৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14448 محارب بن دثار سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ایک شخص سے پوچھا : من انت ؟ تو کون ہے ؟ اس نے کہا : میں دمش کا قاضی ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : تو کیسے فیصلہ کرتا ہے ؟ اس نے عرض کیا کتاب اللہ کے ساتھ۔ حضرت عمر (رض) نے پوچھا : اگر ایسا مسئلہ آجائے جو کتاب اللہ میں نہ ہو ؟ عرض کیا : سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں۔ فرمایا : اگر ایسا مسئلہ آجائے جو کتاب اللہ میں اور نہ سنت رسول اللہ میں ہو تب ؟ عرض کیا : پھر میں اپنی رائے میں اجتہاد کرتا ہوں اور اپنے (اہل علم) ہم نشینوں سے مشاورت کرتا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے اس کو فرمایا : بہت اچھا۔

نیز فرمایا : جب تو فیصلے کے لیے بیٹھا کرے تو یہ دعا پڑھ لیا کر :

اللھم انی اسالک ان اقضی بعلم وان افتی بحکم واسالک العدل فی الرضی والغضب۔

اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ علم کے ساتھ فیصلہ کروں، (تیرے) حکم کے ساتھ فتویٰ دوں اور تجھ سے سوال کرتا ہوں رضا اور غضب میں عدل و انصاف برتنے کا۔ راوی محارب بن دثار کہتے ہیں کہ پھر وہ آدمی رخصت ہو کر تھوڑی دور گیا تھا کہ واپس آیا اور حضرت عمر (رض) سے عرض کیا : میں نے خواب دیکھا ہے کہ سورج اور چاند ایک دوسرے کے ساتھ قتال (جنگ) کررہے ہیں اور ہر ایک کے ساتھ ستاروں کی فوج ہے۔ حضرت عمر (رض) نے اس سے پوچھا تو کس کے ساتھ تھا ؟ اس نے کہا : چاند کے ساتھ۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : نعوذ باللہ ! اللہ تیری پناہ ہو۔ اللہ کا فرمان ہے :

وجعلنا اللیل والنھار آیتین فمحونا آیۃ اللیل وجعلنا آیۃ النھار مبصرۃ۔

اور ہم نے رات اور دن دونشانیاں بنائی ہیں، پس ہم رات کی نشانی مٹا دیتے ہیں اور دن کی نشانی کو دکھانے والا بنادیتے ہیں۔

پھر حضرت عمر (رض) نے اس آدمی کو فرمایا : اللہ کی قسم ! آئندہ تم کبھی کسی منصب پر فائز نہیں رہ سکتے۔ چنانچہ اس کو معزول کردیا لوگوں کا گمان ہے کہ بعد میں وہ شخص حضرت علی (رض) کے خلاف جنگ میں حضرت معاویہ (رض) کے ساتھ مارا گیا۔ ابن ابی الدنیا، مصنف عبدالرزاق
14448- عن محارب بن دثار أن عمر قال لرجل: من أنت؟ قال: أنا قاضي دمشق قال: وكيف تقضي؟ قال: أقضي بكتاب الله، قال: فإذا جاء ما ليس في كتاب الله قال: أقضي بسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فإذا جاء ما ليس في سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: أجتهد برأي وأؤامر جلسائي فقال له عمر: أحسنت، وقال له: إذا جلست فقل: اللهم إني أسألك أن أقضي بعلم وأن أفتي بحكم وأسألك العدل في الغضب والرضى، قال: فسار ما شاء الله أن يسير، ثم رجع إلى عمر فقال: أريت فيما يرى النائم أن الشمس والقمر يقتتلان مع كل واحد منهما جنود من الكواكب قال: مع أيهما كنت؟ قال: مع القمر، قال عمر: نعوذ بالله وجعلنا الليل والنهار آيتين فمحونا آية الليل وجعلنا آية النهار مبصرة، والله لا تلي عملا ابدا، قال: فيزعمون أن ذلك الرجل قتل مع معاوية. "ابن أبي الدنيا عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৪৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14449 قاضی شریح (رح) سے مروی ہے کہ مجھے حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : کتاب اللہ میں سے جو حکم تم پر ظاہر ہو اس کے مطابق فیصلہ دیا کرو۔ اگر تم کو ساری کتاب اللہ کا علمنہ ہو تو (درپیش مسئلے میں) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جو فیصلہ تم کو معلوم ہو اس کے مطابق فیصلہ کردیا کرو اور اگر تم کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام فیصلے معلوم نہ ہوں تو ہدایت یافتہ ائمہ میں سے کسی کے مطابق فیصلہ کردو اور اگر تم کو وہ تمام فیصلے معلوم نہ ہوں جو ائمہ کرام نے کیے ہیں تو اپنی رائے کا اجتہاد کرو اور اہل علم وصلاح سے مشورہ کرلیا کرو۔ ابن عساکر
14449- عن شريح القاضي قال: قال لي عمر بن الخطاب: أن اقض بما استبان لك من كتاب الله؛ فإن لم تعلم كل كتاب الله فاقض بما استبان لك من قضاء رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ فإن لم تعلم كل أقضية رسول الله صلى الله عليه وسلم فاقض بما استبان لك من أمر الأئمة المهتدين؛ فإن لم تعلم كل ما قضت به الأئمة فاجتهد برأيك واستشر أهل العلم والصلاح. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৫০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14450 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے قاضی شریح (رح) کو جب عہدہ قضاء سپرد کیا تو فرمایا : اب تم خریدو فروخت نہ کرنا، کسی کو نقصان نہ دینا، خریدنا اور نہ بیچنا اور نہ رشوت لینا۔ ابن عساکر
14450- عن عمر أنه قال لشريح حين استقضاه: لا تشارولا تضارأو لا تشتر ولا تبع ولا ترتش. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৫১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14451 محارب بن دثار سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے دمشق کے قاضی سے دریافت فرمایا : تو کیسے فیصلہ کرتا ہے ؟ اس نے کہا : کتاب اللہ کے ساتھ، پوچھا : جب ایسا کوئی قضیہ تمہارے سامنے پیش ہو جو کتاب اللہ میں نہ ہو تو ؟ عرض کیا : تب میں سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں۔ پوچھا : جب ایسا کوئی قضیہ پیش آجائے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت بھی ظاہر نہ ہو تب ؟ عرض کیا : تب میں اپنی رائے میں اجتہاد کرتا ہوں اور اپنے ہم نشینوں سے مشاورت کرلیتا ہوں۔ حضرت عمر (رض) نے اس کی تحسین فرمائی : تم بہت اچھا کرتے ہو۔

ابن جریر
14451- عن محارب بن دثار أن عمر بن الخطاب قال لرجل قاض بدمشق: كيف تقضي؟ قال: بكتاب الله قال: فإذا جاءك ما ليس في كتاب الله قال: أقضي بسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: فإذا جاءك ما ليس فيه سنة رسول الله؛ قال: أجتهد برأي وأؤامر جلسائي، قال: أحسنت. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৫২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14452 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ جب حضرت عمر (رض) نے قاضی شریح کو کوفہ کی قضاء پر (عہدہ حج سپرد کرکے) بھیجا تو ارشاد فرمایا : دیکھ جو فیصلہ تجھے کتاب اللہ میں واضح نظر آئے اس کے متعلق کسی سے سوال نہ کر (بلکہ نافذ کردے) اور جو حکم کتاب اللہ میں واضح نہ ہو اس میں سنت رسول اللہ پر عمل کر اور جو حکم سنت رسول اللہ میں بھی ظاہر نہ ہو اس میں اپنی رائے کا اجتہاد کرو۔

السنن لسعید بن منصور، السنن للبیہقی
14452- عن الشعبي قال: لما بعث عمر شريحا على قضاء الكوفة قال: انظر ما تبين لك في كتاب الله فلا تسأل عنه أحدا وما لم يتبين لك في كتاب الله فاتبع فيه السنة، وما لم يتبين في السنة فاجتهد فيه برأيك. "ص هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৫৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14453 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے قاضی شریح (رح) کو لکھا : جب تمہارے پاس کوئی حکم کتاب اللہ کا آجائے تو اس کو نافذ کردو۔ اگر کوئی حکم کتاب اللہ میں نہ ہو اور سنت رسول اللہ میں ہو تو اس کے ساتھ فیصلہ کردو اور اگر کوئی حکم نہ کتاب اللہ میں ہو اور نہ سنت رسول اللہ میں ہو تو جس طرح دوسرے ائمہ ہدایت نے فیصلہ کیا ہو اس طرح فیصلہ کردو۔ اور اگر کوئی فیصلہ ایسا آجائے جس کا حکم کتاب اللہ میں ہو اور نہ سنت رسول اللہ میں اور نہ ہی پہلے واقعات میں ائمہ ہدایت نے ایسا کوئی فیصلہ کیا ہو تو تب تم صاحب اختیار ہو اگر تم چاہو تو اس معاملے میں میری رائے طلب کرلو اور میں سمجھتا ہوں کہ تمہارا مجھ سے مشورہ کرنا تمہارے لیے بہتر ہوگا۔

السنن لسعید بن منصور، السنن للبیہقی
14453- عن الشعبي قال: كتب عمر إلى شريح إذا أتاك أمر في كتاب الله فاقض به، ولا يلفتنك الرجال عنه؛ فإن لم يكن في كتاب الله وكان في سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم فاقض به؛ فإن؟؟ لم يكن في كتاب الله ولا كان كان في سنة رسول الله فاقض بما قضى به أئمة الهدى؛ فإن لم يكن في كتاب الله ولا في سنة رسول الله ولا فيما قضي به أئمة الهدى فأنت بالخيار إن شئت أن تؤامرنيولا أرى لك مؤامرتك إياي إلا أسلم لك. "ص هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৫৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14454 محمد بن سیرین (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوموسیٰ (رض) (گورنر) کو لکھا : ابو مریم کے فیصلے میں خیال رکھنا۔ حضرت ابوموسیٰ (رض) نے فرمایا : میں ابو مریم کو مہتم نہیں سمجھتا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں بھی اس کو مہتم خیال نہی کرتا لیکن جب بھی تم کسی فریق کو ظلم پر آمادہ دیکھو اس کو سزا دو ۔ السنن للبیہقی
14454- عن محمد بن سيرين أن عمر قال لأبي موسى: انظر في قضاء أبي مريم قال: إني لا أتهم أبا مريم، قال: وأنا لا أتهمه ولكن إذا رأيت من خصم ظلما فعاقبه. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৫৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14455: محمد بن سیرین رحمۃ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ارشاد فرمایا : میں فلاں آدمی کو عہد قضاء سے برطرف کرکے دوسرے فلاں شخص کو اس عہدہ پر بٹھاؤں گا اس کو کوئی بھی فاجر آدمی دیکھے گا تو ڈر جائے گا۔ السنن للبیہقی۔
14455- عن محمد بن سيرين أن عمر بن الخطاب قال: لأنزعن فلانا عن القضاء، ولأستعملن على القضاء رجلا إذا رآه الفاجر فرقه"ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৫৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14456 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے (خدمت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں) عرض کیا : یارسول اللہ ! اگر مجھے ایسا کوئی مسئلہ پیش آجائے جس میں نہ قرآن کا کوئی حکم سامنے ہو اور نہ سنت رسول کا تو تب آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اہل یقہ اور عبادت گزار مومنوں کے درمیان اس کا مشورہ کرو اور کسی خاص رائے پر فیصلہ نافذ نہ کرو۔ الاوسط للطبرانی، ابوسعید بن القضاۃ
14456- عن علي قال: قلت يا رسول الله إن عرض لي أمر لم ينزل فيه قضاء في أمره ولا سنة كيف تامرني؟ قال: تجعلونه شورى بين أهل الفقه والعابدين من المؤمنين ولا تقضي فيه برأي خاصة. "طس وأبو سعيد في القضاة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৫৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14457 حضرت عطاءؒ سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) کے پاس ایک آدمی کو حاضر کیا گیا جس پر دو آدمیوں نے گواہی دی کہ اس نے چوری کا ارتکاب کیا ہے۔ پھر حضرت علی (رض) (اس چور کے معاملے سے ہٹ کر) دوسرے لوگوں کے معاملات نمٹانے لگے اور پھر جھوٹے گواہوں کو ڈرایا دھمکایا اور ارشاد فرمایا : میرے پاس جب بھی کوئی جھوٹا گواہ لایا گیا میں اس کو ایسی ایسی (کڑی) سزا دوں گا۔ پھر آپ (رض) نے مذکورہ دو گواہوں کو طلب فرمایا۔ لیکن ان دونوں میں سے کسی کو نہ پایا بالآخر آپ (رض) نے ملزم چور کو چھوڑ دیا۔ مصنف ابن ابی شیبہ
14457- عن عطاء قال: أتي علي برجل وشهد عليه رجلان أنه سرق فأخذ في شيء من أمور الناس وتهدد شهود الزور وقال: لا أوتي بشاهد زور إلا فعلت به كذا وكذا، ثم طلب الشاهدين فلم يجدهما فخلى سبيله. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৫৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14458 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کو منصب پر روانہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : اے علی ! اللہ تعالیٰ کے حکم کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھ اور شیطان کے حکم کو اپنے قدموں کے نیچے رکھ۔ ابوسعید النقاش فی کتاب القضاۃ

کلام : مذکورہ روایت کی سند میں یعقوب بن محمد الزھری عن عبدالعزیز بن عمران الزھری عن محمد بن عبدالعزیز تینوں راوی ضعیف ہیں۔
14458- عن ابن عمر قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا وقال: يا علي اجعل حكم الله تعالى بين عينيك وحكم الشيطان تحت قدميك. "أبو سعيد النقاش في كتاب القضاة" وفيه يعقوب بن محمد الزهري عن عبد العزيز بن عمران الزهري عن محمد بن عبد العزيز والثلاثة ضعفاء.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৫৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14459 حضرت ابو ہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب حاکم (فیصلہ کرنے کے لئے) بیٹھ جائے تو دونوں فریقوں کے سامنے بیٹھنا چاہیے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں سنت رسول اسی طرح جاری رہی اور ائمہ ہدایت ابوبکر وعمر کا بھی یہی طریقہ رہا ہے۔ ابن عساکر
14459- عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر إذا جلس الحاكم فلا يجلس خصمان إلا بين يديه ومضت السنة بذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم ومن أئمة الهدى أبي بكر وعمر. "كر".
tahqiq

তাহকীক: