কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৫ টি
হাদীস নং: ১৪৪৬০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14460 ابن مسعود (رض) سے مروی ہے ، آپ (رض) نے ارشاد فرمایا :
جب تیرے سامنے کوئی فیصلہ آجائے جس کا حکم صادر کیے بغیر چارہ کار نہ ہو تو تو کتاب اللہ کے مطابق حکم لگا دے، اگر تو کتاب اللہ سے حکم حاصل کرنے میں عاجز آجائے تو سنت رسول اللہ کے مطابق حکم صادر کردے، اگر اس سے بھی عاجز ہو تو جس طرح دوسرے نیکوکار لوگوں نے فیصلہ کیا ہو اس طرح فیصلہ کردے، اگر ان کے مطابق حکم صادر کرنے سے عاجز ہو تو ان کی طرف اشارہ ہی کردے اور کوتاہی نہ کر اور اگر یہ بھی تجھ سے ممکن نہ ہو تو اس مسئلہ میں حکم صادر کرنے سے بھاگ جا اور شرم وحیاء نہ کر۔ الجامع العبد الرزاق
جب تیرے سامنے کوئی فیصلہ آجائے جس کا حکم صادر کیے بغیر چارہ کار نہ ہو تو تو کتاب اللہ کے مطابق حکم لگا دے، اگر تو کتاب اللہ سے حکم حاصل کرنے میں عاجز آجائے تو سنت رسول اللہ کے مطابق حکم صادر کردے، اگر اس سے بھی عاجز ہو تو جس طرح دوسرے نیکوکار لوگوں نے فیصلہ کیا ہو اس طرح فیصلہ کردے، اگر ان کے مطابق حکم صادر کرنے سے عاجز ہو تو ان کی طرف اشارہ ہی کردے اور کوتاہی نہ کر اور اگر یہ بھی تجھ سے ممکن نہ ہو تو اس مسئلہ میں حکم صادر کرنے سے بھاگ جا اور شرم وحیاء نہ کر۔ الجامع العبد الرزاق
14460- عن ابن مسعود قال: إذا حضرك أمر لا تجد منه بدا فاقض بما في كتاب الله فإن عييتفاقض بسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فإن عييت فاقض بما قضى به الصالحون، فإن عييت فأومئ إيماء ولا تألفإن عييت فافرر منه ولا تستحي. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৬১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادب القضاء۔۔۔عدالتی امور میں آداب کا بیان
14461 ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ ہم پر ایسا زمانہ گزرا ہے کہ ہم فیصلہ نہیں کیا کرتے تھے کیونکہ ہم اس کے اہل نہیں تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس حال تک پہنچا دیا جو تم دیکھ رہے ہو۔ پس اب آج کے بعد تم میں سے جس کے روبرو کوئی فیصلہ آجائے تو وہ کتاب اللہ کے موافق فیصلہ کردے، اگر ایسا کوئی فیصلہ آجائے جس کا حکم کتاب اللہ میں نہ ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کردے، اگر ایسا کوئی آجائے جس کا حکم کتاب اللہ میں ہو اور نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا فیصلہ فرمایا ہو تو صالحین کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کردے، اگر کوئی ایسا فیصلہ آجائے جس کا حکم کتاب اللہ میں ہو اور نہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا دوسرے صالحین نے ایسا فیصلہ کیا ہو تو پھر وہ خود اپنی رائے استعمال کرے اور کوئی شخص تم میں سے یہ نہ کہے کہ میں ڈرتا ہوں اور مجھے شک ہے۔ بیشک حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور دونوں کے درمیان مشتبہ امور ہیں پس جو چیز تجھے شک میں ڈالے اس کو چھوڑ دے اور جس پر تیرا اطمینان ہو اس کو لے لے۔
السنن للدارمی، ابن جریر فی تھذیہ، السنن للبیہقی، ابن عساکر
السنن للدارمی، ابن جریر فی تھذیہ، السنن للبیہقی، ابن عساکر
14461- عن ابن مسعود قال: أتى علينا زمان لسنا نقضي ولسنا هنالك وإن الله عز وجل قد بلغنا ما ترون فمن عرض له منكم قضاء بعد اليوم فليقض فيه بما في كتاب الله، فإن أتاه أمر ليس في كتاب الله فليقض فيه بما قضى به رسول الله صلى الله عليه وسلم؛ فإن أتاه امر ليس في كتاب الله ولم يقض فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم فليقض بما قضى به الصالحون، فإن أتاه أمر ليس في كتاب الله ولم يقض فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم يقض فيه الصالحون فليجتهد برأيه، ولا يقولن أحدكم: إني أخاف وإني أرى فإن الحلال بين وإن الحرام بين وبين ذلك أمور مشتبهة فدع ما يريبكإلى ما لا يريبك. "الدارمي وابن جرير في تهذيبه هقكر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৬২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عہدہ قضاء کی ابتداء
14462: زہری (رح) روایت کرتے ہیں کہ سائب بن زید اپنے والد یزید سے نقل کرتے ہیں : یزید کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں ان کے چھوٹے چھوٹے فیصلوں درہم وغیرہ کے نمٹا دیا کروں۔ ابن سعد
14462- عن الزهري عن السائب بن يزيد عن أبيه أن عمر أمره أن يكفيه صغار الأمور الدرهم ونحوه. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৬৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عہدہ قضاء کی ابتداء
14463 ابن شہاب زہری (رح) حضرت سعید بن المسیب سے نقل کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی قاضی کو مقرر کیا اور نہ ابوبکر وعمر نے۔ حتیٰ کہ جب خلافت عمر (رض) کا درمیان ہوا تو حضرت عمر (رض) نے یزید بن اخت النمر کو فرمایا : تم بعض کاموں یعنی چھوٹے چھوٹے کاموں میں میری طرف سے فیصلہ کردیا کرو۔ ابن سعد
14463- عن ابن شهاب عن سعيد بن المسيب قال: ما اتخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم قاضيا ولا أبو بكر ولا عمر حتى كان وسطا من خلافة عمر فقال عمر ليزيد بن أخت النمر: اكفني بعض الأمور يعني صغارها. "ابن سعد"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৬৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عہدہ قضاء کی ابتداء
14464 (ابن شہاب) زہری (رح) سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی قاضی مقرر نہیں کیا حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات پر ملال ہوگئی اور نہ ہی ابوبکر (رض) وعمر (رض) نے ایسا کیا۔ سوائے اس کے کہ حضرت عمر (رض) نے اپنی خلافت کے آخر میں ایک شخص کو فرمایا : تم میری طرف سے لوگوں کے کچھ معاملات نمٹا دیا کرو۔ یعنی حضرت علی (رض) کو ارشاد فرمایا۔ المصنف لعبد الرزاق
14464- عن الزهري قال: ما اتخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم قاضيا حتى مات ولا أبو بكر ولا عمر إلا أنه قال لرجل في آخر خلافته: اكفني بعض أمور الناس يعني عليا. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৬৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عہدہ قضاء کی تنخواہ
14465 نافع (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے زید بن ثابت (رض) کو قضاء پر مامور کیا اور ان کا وظیفہ بھی مقرر کیا۔ ابن سعد
14465- عن نافع قال: استعمل عمر بن الخطاب زيد بن ثابت على القضاء وفرض له رزقا.
"ابن سعد".
"ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৬৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاحتساب
14466 زید بن فیاض اہل مدینہ کے ایک شخص سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) بازار میں داخل ہوئے اور آپ سوار حالت میں تھے۔ آپ (رض) نے ایک دکان بازار میں نئی کھلی دیکھی تو آپنے اس کو مسمار کروادیا۔ السنن للبیہقی
14466- عن زيد بن فياض عن رجل من أهل المدينة قال: دخل عمر بن الخطاب السوق وهو راكب فرأى دكاناقد أحدث في السوق فكسره. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৬৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاحتساب
14467 زہری (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے عبداللہ بن عتبہ کو بازار پر عامل مقرر کیا۔ ابن سعد
فائدہ : علماء فرماتے ہیں : عدالت احتساب کی اصل یہی ہے۔
فائدہ : علماء فرماتے ہیں : عدالت احتساب کی اصل یہی ہے۔
14467- عن الزهري أن عمر بن الخطاب استعمل عبد الله بن عتبة على السوق. "ابن سعد" قال العلماء هذا أصل ولاية الحسبة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৬৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاحتساب
14468 عبداللہ بن ساعدۃ الھذلی سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو دیکھا کہ وہ درے کے ساتھ تاجروں کو مار رہے ہیں کیونکہ انھوں نے غلہ پر جمع ہو کر راستوں کو بند کررکھا ہے اور حضرت عمر (رض) ساتھ ساتھ ارشاد فرما رہے ہیں : ہمارے راستوں کو بند نہ کرو۔
ابن سعد فی الطبفات 60/5 ذکرہ منتخب
ابن سعد فی الطبفات 60/5 ذکرہ منتخب
14468- عن عبد الله بن ساعدة الهذلي قال: رأيت عمر بن الخطاب يضرب التجار بدرته إذا اجتمعوا على الطعام بالسوق حتى يدخلوا سكك أسلم ويقول: لا تقطعوا علينا سابلتنا"..
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৬৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاحتساب
14469 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ آپ (رض) حکم فرمایا کرتے تھے کہ حوض اور بیت الخلاء سے بازار ہٹ کر بنائے جائیں۔ المصنف لعبد الرزاق
14469- عن علي أنه كان يأمر بالمثاعبوالكنفتقطع عن طريق المسلمين. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৭০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاحتساب
14470 اصبغ بن نباتہ سے مروی ہے کہ میں حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے ساتھ بازار کی طرف نکلا۔ آپ (رض) نے اہل بازار کو دیکھا کہ انھوں نے اپنی جگہوں سے آگے تجاوزات بڑھالیے ہیں۔ آپ (رض) نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : اہل بازار نے اپنی جگہوں کو آگے بڑھا لیا ہے۔ آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : ایسا کرنا ان کے لیے درست نہیں ہے۔ مسلمانوں کا بازار مسلمانوں کی عید گاہ کی طرح ہے۔ جو جس جگہ کو پہلے پالے وہ اس دن اس کی ہے حتیٰ کہ وہ خود نہ چھوڑ دے۔
ابوعبید فی الاموال
ابوعبید فی الاموال
14470- عن الأصبغ بن نباتة قال: خرجت مع علي بن أبي طالب إلى السوق فرأى أهل السوق قد جاوزوا أمكنتهم فقال: ما هذا؟ قالوا: أهل السوق قد جاوزوا أمكنتهم فقال: ليس ذلك إليهم سوق المسلمين كمصلى المصلين من سبق إلى شيء فهو له يومه حتى يدعه. "أبو عبيد في الأموال".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৭১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الهدية "
14471 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ کسریٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہدیہ بھیجا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو قبول فرمایا۔ قیصر نے آپ کے لیے ہدیہ بھیجا، آپ نے قبول فرمایا۔ اور دوسرے بادشاہوں نے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہدایا بھیجے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبول فرمائے۔ مسند احمد، وقال حسن غریب، ابن جریرو صحیحہ، الدورقی، السنن للبیہقی
14471- عن علي قال: أهدى كسرى لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقبل منه وأهدى له قيصر فقبل منه وأهدت له الملوك فقبل منهم. "حم ت وقال حسن غريب وابن جرير وصححه والدورقي ق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৭২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الهدية "
14472 حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے درمیان تعلق بنانے کے لیے ہدیہ کا حکم فرمایا کرتے تھے۔ اور ارشاد فرماتے تھے کہ اگر تمام لوگ مسلمان ہوجائیں تو بغیر بھوک کے آپس میں ہدایا تحائف کا تبادلہ کریں۔ ابن عساکر
کلام : روایت مذکورہ کی سند میں سعید بن بشیر جو قتادہ کے شاگرد ہیں کمزور ہیں (لین) ۔
کلام : روایت مذکورہ کی سند میں سعید بن بشیر جو قتادہ کے شاگرد ہیں کمزور ہیں (لین) ۔
14472- عن أنس قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يأمر بالهدية صلة بين الناس ويقول: لو قد أسلم الناس تهادوا من غير جوع. "كر" وفيه سعيد بن بشير صاحب قتادة لين.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৭৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الهدية "
14473 حکیم بن حزام (رض) سے مروی ہے کہ میں یمن گیا تو میں نے وہاں ذی یزن کا حلہ خریدا۔ پھر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو وہ حلہ ہدیہ کردیا۔ وہ زمانہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مشرکین کے معاہدہ (بائیکاٹ) کا تھا۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتا۔ اور وہ حلہ واپس کردیا۔ پھر میں نے وہ حلہ فروخت کردیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خرید کر پہن لیا اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کے پاس اس حلہ کو پہن کر تشریف لے گئے۔ میں نے کسی اور لباس میں آپ کو اس قدر حسین نہیں دیکھا تھا چنانچہ میں یہ کہے بغیر نہ رہ سکا :
ماینصر الحکام بالفصل بعدمابداواضح ذوغرۃ وحجول
اذاقایسوہ المجد اربی علیھم کمستفرغ ماء الذناب سبجیل
حکام فیصلہ کن حق بات نہیں کہتے جبکہ روشن چمکدار چہرہ والا شخص ظاہر ہوگیا ہے۔
جب لوگ بزرگی کے ساتھ اس کا مقابلہ کرتے ہیں تو وہ سب پر فائق ہوتا ہے گویا لوگ اس کے سامنے خالی ڈول ہیں۔
حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے یہ اشعار سن لیے چنانچہ آپ میری طرف مسکراتے ہوئے ملتفت ہوئے پھر گھر گئے اور وہ حلہ اسامۃ بن زید کو پہنا دیا۔ الامام احمد فی مسندہ
ماینصر الحکام بالفصل بعدمابداواضح ذوغرۃ وحجول
اذاقایسوہ المجد اربی علیھم کمستفرغ ماء الذناب سبجیل
حکام فیصلہ کن حق بات نہیں کہتے جبکہ روشن چمکدار چہرہ والا شخص ظاہر ہوگیا ہے۔
جب لوگ بزرگی کے ساتھ اس کا مقابلہ کرتے ہیں تو وہ سب پر فائق ہوتا ہے گویا لوگ اس کے سامنے خالی ڈول ہیں۔
حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے یہ اشعار سن لیے چنانچہ آپ میری طرف مسکراتے ہوئے ملتفت ہوئے پھر گھر گئے اور وہ حلہ اسامۃ بن زید کو پہنا دیا۔ الامام احمد فی مسندہ
14473- عن حكيم بن حزام قال: خرجت إلى اليمن فابتعت حلة ذي يزن فأهديتها إلى النبي صلى الله عليه وسلم في المدة التي كانت بينه وبين قريش فقال: لا أقبل هدية مشرك فردها فبعتها فاشتراها فلبسها، ثم خرج إلى أصحابه وهي عليه، فما رأيت شيئا في شيء أحسن منه فيها صلى الله عليه وسلم فما مكثت أن قلت:
ما ينظر الحكام بالفصل بعد ما ... بدا واضح ذو غرةوحجول فسمعها رسول الله صلى الله عليه وسلم فالتفت إلي يتبسم ثم دخل وكساها أسامة بن زيد."..
ما ينظر الحكام بالفصل بعد ما ... بدا واضح ذو غرةوحجول فسمعها رسول الله صلى الله عليه وسلم فالتفت إلي يتبسم ثم دخل وكساها أسامة بن زيد."..
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৭৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الهدية "
14474 ذی الجوشن ضبابی سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر خدمت ہوا۔ اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غزوہ بدر سے فارغ ہوئے تھے۔ میں اپنی ایک گھوڑی قرحاء نامی کے بیٹے کے ساتھ لایا تھا۔ چنانچہ میں نے عرض کیا : اے محمد ! میں آپ کے پاس ابن القرحاء لایا ہوں ۔ آپ کو کو رکھ لیجئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے اس کی حاجت نہیں ہے۔ ہاں اگر تو چاہتا ہے کہ میں تجھے اس کے بدلے میں بدر کی زر ہوں میں سے کچھ دوں تو ایسا کردوں گا۔
میں نے عرض کیا : آج میں اس کے بدلے کوئی چیز کسی بھی تعداد میں نہیں لے سکتا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر مجھے اس میں کوئی حاجت نہیں ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے ذی الجوشن ! تو مسلمان کیوں نہیں ہوجاتا ؟ تب تو اس اسلام کے اولین لوگوں میں شمار ہوگا۔ میں نے عرض کیا : نہیں میں ایسا قدم نہیں اٹھاسکتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : آخر کیوں ؟ میں نے عرض کیا : میں نے آپ کی قوم کو دیکھا ہے کہ انھوں نے آپ کا حق مارلیا ہے (آپ کمزور ہیں) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تجھے جو بدر کی خبریں ملی ہیں ان کا حال دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا : مجھے تمام خبریں مل گئی ہیں (ابھی ابتداء ہے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم تجھے کچھ ہدیہ دینا چاہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا : اگر آپ کعبہ پر غلبہ پالیں اور اس کو اپنا وطن ٹھہرالیں (تو میں مسلمان ہوسکتا ہوں، چونکہ اس وقت تک اسلام کی قوت کا اندازہ ہوجائے گا) ۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شاید تم جیو اور اس بات کو ضرور دیکھ لو گے۔ پھر فرمایا : اے بلال : اس کا تھیلا عجوۃ۔ عمدہ ترین کھجوروں سے بھردو۔ چنانچہ پھر میں منہ موڑ کر چل دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے متعلق ارشاد فرمایا : یہ شخص بنی عامر کا بہترین شہ سوار ہے۔
چنانچہ اس کے بعد ایک مرتبہ جب میں اپنے گھر والوں کے ساتھ غور مقام پر تھا کہ ایک سوار میرے پاس آیا۔ میں نے اس سے پوچھا : تو کہاں سے آیا ہے ؟ اس نے کہا : مکہ سے۔ میں نے پوچھا : لوگوں کا کیا حال ہے ؟ اس نے خبر دی کہ اللہ کی قسم ! مکہ پر محمد غالب آگئے ہیں اور اس کو اپنا وطن ٹھہرالیا ہے۔ میں نے کہا : میری ماں مجھے روئے کاش میں اس دن مسلمان ہوجاتا اور محمد سے حیرۃ (بہت بڑا علاقہ) مانگتا تو وہ مجھے ضرور بطور جاگیر عطا فرما دیتے۔ مصنف ابن ابی شیبہ
میں نے عرض کیا : آج میں اس کے بدلے کوئی چیز کسی بھی تعداد میں نہیں لے سکتا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر مجھے اس میں کوئی حاجت نہیں ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے ذی الجوشن ! تو مسلمان کیوں نہیں ہوجاتا ؟ تب تو اس اسلام کے اولین لوگوں میں شمار ہوگا۔ میں نے عرض کیا : نہیں میں ایسا قدم نہیں اٹھاسکتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : آخر کیوں ؟ میں نے عرض کیا : میں نے آپ کی قوم کو دیکھا ہے کہ انھوں نے آپ کا حق مارلیا ہے (آپ کمزور ہیں) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تجھے جو بدر کی خبریں ملی ہیں ان کا حال دیکھا ہے ؟ میں نے عرض کیا : مجھے تمام خبریں مل گئی ہیں (ابھی ابتداء ہے) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم تجھے کچھ ہدیہ دینا چاہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا : اگر آپ کعبہ پر غلبہ پالیں اور اس کو اپنا وطن ٹھہرالیں (تو میں مسلمان ہوسکتا ہوں، چونکہ اس وقت تک اسلام کی قوت کا اندازہ ہوجائے گا) ۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شاید تم جیو اور اس بات کو ضرور دیکھ لو گے۔ پھر فرمایا : اے بلال : اس کا تھیلا عجوۃ۔ عمدہ ترین کھجوروں سے بھردو۔ چنانچہ پھر میں منہ موڑ کر چل دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے متعلق ارشاد فرمایا : یہ شخص بنی عامر کا بہترین شہ سوار ہے۔
چنانچہ اس کے بعد ایک مرتبہ جب میں اپنے گھر والوں کے ساتھ غور مقام پر تھا کہ ایک سوار میرے پاس آیا۔ میں نے اس سے پوچھا : تو کہاں سے آیا ہے ؟ اس نے کہا : مکہ سے۔ میں نے پوچھا : لوگوں کا کیا حال ہے ؟ اس نے خبر دی کہ اللہ کی قسم ! مکہ پر محمد غالب آگئے ہیں اور اس کو اپنا وطن ٹھہرالیا ہے۔ میں نے کہا : میری ماں مجھے روئے کاش میں اس دن مسلمان ہوجاتا اور محمد سے حیرۃ (بہت بڑا علاقہ) مانگتا تو وہ مجھے ضرور بطور جاگیر عطا فرما دیتے۔ مصنف ابن ابی شیبہ
14474- عن ذي الجوشن الضبابي قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد أن فرغ من أهل بدر بابن فرس لي يقال لها القرحاءفقلت يا محمد إني قد أتيتك بابن القرحاء لتتخذه قال: "لا حاجة لي فيه، فإن أردت أن أقضيك به الخيارةمن دروع بدر فعلت؟ قلت: ما كنت لأقيضهاليوم بعدة، قال: "لا حاجة فيه"، ثم قال: يا ذا الجوشن ألا تسلم فتكون من أول أهل هذا الأمر؟ قلت: لا، قال: ولم؟ قلت: إني رأيت قومك ولعوا بك قال: فكيف ما بلغك عن مصارعهم ببدر؟ قلت: قد بلغني قال: فإنا نهدي لك، قلت إن تغلب على الكعبة وتقطنها، قال: لعلك إن عشت ترى ذلك، ثم قال: يا بلال خذ حقيبة الرجل فزوده من العجوة فلما أدبرت قال: أما إنه خير فرسان بني عامر قال: فوالله إني بأهلي بالغور إذ أقبل راكب فقلت: من أين أنت؟ فقال: من مكة، قلت: ما فعل الناس؟ قال: قد والله غلب عليها محمد وقطنها فقلت: هبلتنيأمي ولو أسلم يومئذ ثم أسأله الحيرة لأقطعنيها. "ش"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৭৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الهدية "
14475 زہری (رح) ، عبدالرحمن بن کعب بن مالک سے اور وہ رال بہنے والے عامر بن مالک سے روایت کرتے ہیں، عامر فرماتے ہیں کہ میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہدیہ لے کر حاضر ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
ہم کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتے۔ ابن عساکر
ہم کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتے۔ ابن عساکر
14475- عن الزهري عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن عامر بن مالك ملاعب الأسنة قال: قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم بهدية فقال: إنا لا نقبل هدية مشرك. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৭৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الهدية "
14476 حبیب سے مروی ہے کہ میں نے امیر مختار کے ہدایا ابن عباس (رض) اور ابن عمر (رض) کے پاس آتے ہوئے دیکھے اور ان دونوں کو قبول کرتے ہوئے بھی دیکھا۔ ابن جریر فی التھذیب
14476- عن حبيب قال: رأيت هدايا المختار تدخل على ابن عباس وابن عمر فيقبلانها. "ابن جرير في التهذيب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৭৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الهدية "
14477 محمد بن سیرین (رح) سے مروی ہے کہ ابن معمر (رح) نے حضرت ابن عمر (رض) کے پاس دس ہزار درہم بھیجے اور آپ (رض) نے ان کو قبول فرمالیا۔ ابن جریر فی التھذیب
14477- عن محمد بن سيرين قال: أرسل ابن معمر إلى ابن عمر بعشرة آلاف فقبلها. "ابن جرير فيه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৭৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الهدية "
14478 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ سات گھروں میں بکری کی ایک سری گھومتی رہی ہر ایک دوسرے کو اپنی جان پر ترجیح دیتا تھا حالانکہ ان میں سے ہر ایک اس کا سخت محتاج تھا حتیٰ کہ وہ سری گھوم پھر کر اسی پہلے گھر میں واپس پہنچ گئی جہاں سے اولاً وہ نکلی تھی۔ ابن جریر
14478- عن ابن عمر قال: لقد تداولت سبعة أبيات رأس شاة يؤثر به بعضهم بعضا وإن كلهم لمحتاج إليه حتى رجع إلى البيت الذي خرج منه. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৭৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الهدية "
14479 عروۃ روایت کرتے ہیں کہ حضرت حکیم بن حزام (حالت شرک میں) یمن گئے اور ذی یزن کا قیمتی حلہ وہاں سے خریدا پھر مدینہ لاکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کردیا۔ لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو واپس کردیا اور ارشاد فرمایا :
ہم کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتے۔
چنانچہ پھر حکیم نے اس کو فروخت کرنے کے لیے پیش کردیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حلہ کے خریدنے کا حکم دیا۔ لہٰذا وہ حلہ آپ کے لیے خرید لیا گیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو زیب تن فرمایا اور مسجد میں تشریف لائے۔
حکیم کہتے ہیں : میں نے اس حلہ میں جب آپ کو دیکھا تو کسی کو آپ سے زیادہ حسین نہیں پایا گویا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چودھویں رات کا چاند ہیں۔ اور میں آپ کو دیکھ کر یہ شعر پڑھے بغیر نہ رہ سکا :
ماینظر الحکام بعد مابدا واضح ذو غرۃ وحجول
اذاواضحوہ المسجداربی علیھم مستفرع ماء الذناب سجیل
چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ اشعار سن کر ہنس دیئے ۔ ابن جریر
14473 پر یہ روایت بمع ترجمہ اشعار کے ملاحظہ فرمائیں۔
ہم کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتے۔
چنانچہ پھر حکیم نے اس کو فروخت کرنے کے لیے پیش کردیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حلہ کے خریدنے کا حکم دیا۔ لہٰذا وہ حلہ آپ کے لیے خرید لیا گیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو زیب تن فرمایا اور مسجد میں تشریف لائے۔
حکیم کہتے ہیں : میں نے اس حلہ میں جب آپ کو دیکھا تو کسی کو آپ سے زیادہ حسین نہیں پایا گویا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چودھویں رات کا چاند ہیں۔ اور میں آپ کو دیکھ کر یہ شعر پڑھے بغیر نہ رہ سکا :
ماینظر الحکام بعد مابدا واضح ذو غرۃ وحجول
اذاواضحوہ المسجداربی علیھم مستفرع ماء الذناب سجیل
چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ اشعار سن کر ہنس دیئے ۔ ابن جریر
14473 پر یہ روایت بمع ترجمہ اشعار کے ملاحظہ فرمائیں۔
14479- عن عروة أن حكيم بن حزام خرج إلى اليمن فاشترى حلة ذي يزن فقدم بها المدينة على رسول الله صلى الله عليه وسلم فأهداها له فردها رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: إنا لا نقبل هدية مشرك فباعها حكيم فأمر بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فاشتريت له فلبسها، ثم دخل فيها المسجد، قال حكيم: فما رأيت أحدا قط أحسن منه فيها لكأنه القمر ليلة البدر فما ملكت نفسي حين رأيته كذلك أن قلت:
ما ينظر الحكام بالحكم بعد ما ... بدا واضح ذو غرة وحجول
إذا واضحوه المجد أربى عليهم ... بمستفرغ ماء الذناب سجيل
فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ابن جرير". ومر برقم [14473] .
ما ينظر الحكام بالحكم بعد ما ... بدا واضح ذو غرة وحجول
إذا واضحوه المجد أربى عليهم ... بمستفرغ ماء الذناب سجيل
فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ابن جرير". ومر برقم [14473] .
তাহকীক: