কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৫ টি

হাদীস নং: ১৪৪৮০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الهدية "
14480 طاؤ وس (رح) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی ہدیہ پیش کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے اچھا ہدیہ اس کو دیدیا مگر وہ خوش نہ ہوا، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار اس سے اچھا ہدیہ اس کو دیا مگر وہ پھر بھی خوش نہ ہوا۔ چنانچہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرا ارادہ ہوگیا ہے کہ کسی سے ہدیہ قبول نہ کروں۔ اور بعض دفعہ یہ فرمایا : میرا ارادہ ہے کہ آئندہ میں کسی سے ہدیہ قبول نہ کروں سوائے قریشی انصاری اور ثقفی کے۔ الجامع لعبد الرزاق
14480- عن طاوس قال: وهب رجل للنبي صلى الله عليه وسلم فأثابه فلم يرض فزاده أحسب أنه قال ثلاث مرات فلم يرض، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لقد هممت أن لا أقبل هبة وربما قال: هممت أن لا أتهبإلا من قرشي أو أنصاري أو ثقفي. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৮১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الهدية "
14481 حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہدیہ قبول فرمایا کرتے تھے اور اس کا بہتر بدلہ بھی دیا کرتے تھے۔ البخاری، النسائی
14481- عن عائشة قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم يقبل الهدية ويثيب عليها. "خ ن"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৮২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الهدية "
14482 حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مسکین عورت نے مجھے ہدیہ دیا۔ لیکن میں نے اس پر ترس کھاتے ہوئے وہ ہدیہ قبول نہ کیا۔ پھر میں نے یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گوش گزار کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے کیوں نہ ہدیہ قبول کرلیا ! پھر تو اس کو اچھا بدلہ دیدیتی۔ تو نے گویا اس کی تحقیر کردی ہے۔ اے عائشہ ! عاجزی و انکساری کو محبوب رکھو بیشک اللہ تعالیٰ عاجزی و انکساری کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے اور بڑائی چاہنے والوں کو دشمن رکھتا ہے۔

ابوالشیخ فی الثواب، الدیلمی
14482- عن عائشة قالت: أهدت إلي امرأة مسكينة هدية فلم أقبلها رحمة لها فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ألا قبلتيها منها وكافيتيها منها فلا ترى أنك حقرتيها، يا عائشة تواضعي فإن الله يحب المتواضعين ويبغض المستكبرين. "أبو الشيخ في الثواب والديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৮৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الهدية "
14483 عبداللہ بن بریدۃ سے مروی ہے کہ مجھے عامر بن طفیل عامری کے چچا نے بتایا کہ عامر بن طفیل نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک گھوڑا ہدیہ کیا اور ساتھ میں یہ لکھا کہ میرے پیٹ میں پھوڑا نکل آیا ہے لہٰذا اپنے پاس سے کوئی دوا بھیج دیجئے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھوڑا واپس کردیا کیونکہ وہ مسلمان نہیں ہوئے تھے جبکہ شہد کا ایک مشکیزہ بھیج دیا اور ارشاد فرمایا اس کے ساتھ علاج کرلو۔ ابن عساکر
14483- عن عبد الله بن بريدة قال: حدثني عم عامر بن الطفيل العامري أن عامر بن الطفيل أهدى إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فرسا وكتب إليه عامر أنه قد ظهر في دبيلةفابعث إلي دواء من عندك قال: فرد النبي صلى الله عليه وسلم الفرس لأنه لم يكن أسلم وأهدى إليه عكةمن عسل، وقال: تداو بها. "كر"3
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৮৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الهدية "
14484 ابومتوکل ناجی حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ بادشاہ روم نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدیہ میں سونٹھ کا ایک گھڑا بھیجا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اپنے اصحاب میں ٹکڑے ٹکڑے تقسیم کردیا اور مجھے بھی ایک ٹکڑا عنایت فرمایا۔ ابن جریر
14484- عن أبي المتوكل الناجي عن أبي سعيد الخدري أن ملك الروم أهدى إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم جرة من زنجبيل فقسمها رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أصحابه فأعطى كل رجل قطعة وأعطاني قطعة. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৮৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الهدية "
14485 عبدالرحمن بن کعب بن مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص جس کے منہ سے رال بہتی تھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ہدیہ لے کر آیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اسلام کی دعوت دی، لیکن اس نے اسلام لانے سے انکار کردیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتا ۔ ابن عساکر
14485- عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن أبيه قال جاء ملاعب الأسنة إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بهدية فعرض عليه النبي صلى الله عليه وسلم الإسلام فأبى أن يسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم: فإني لا أقبل هدية مشرك. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৮৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الهدية "
14486 عیاض بن حمار مجاشعی سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ہدیہ یا اونٹنی پیش کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے دریافت فرمایا : کیا تو اسلام قبول کرچکا ہے ؟ انھوں نے انکار میں جواب دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :

مجھے مشرکین کے ہدیہ (کو قبول کرنے) سے منع کیا گیا ہے۔

ابوداؤد ، الترمذی، وقال حسن صحیح، ابن جریر، السنن للبیہقی
14486- عن عياض بن حمار المجاشعي أنه أهدى إلى النبي صلى الله عليه وسلم هدية أو ناقة، فقال: أسلمت قال: لا، قال: فإني نهيت عن زبدالمشركين. "د ت وقال: حسن صحيح وابن جرير ق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৮৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " الهدية "
14487 عمران بن حصین (رض) سے مروی ہے کہ عیاض بن حمار المجاشعی نے اپنے مسلمان ہونے سے قبل نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گھوڑا ہدیہ میں پیش کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں مشرکین کے ہدیہ کو ناپسند کرتا ہوں۔ مسند احمد 162/14
14487- عن عمران بن حصين أن عياض بن حمار المجاشعي أهدي لرسول الله صلى الله عليه وسلم فرسا قبل أن يسلم فقال: إني أكره زبد المشركين3.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৮৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رشوت
14488 (مسند عمر (رض)) ابن جریر ازدی سے مروی ہے کہ ایک آدمی حضرت عمر بن خطاب (رض) کو ہر سال اونٹ کی ران ہدیہ کرتا تھا۔ پھر ایک مرتبہ وہ آدمی حضرت عمر (رض) کے پاس اپنا ایک مقدمہ لے کر حاضر ہوا اور بولا : اے امیر المومنین ! ہمارے درمیان اس طرح فیصلہ کر دیجئے جس طرح اونٹ کی ران کو اس کے دھڑ سے فیصل (جدا) کردیا جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اپنے گورنروں کو لکھا کہ ھدایا قبول نہ کرو کیونکہ یہ رشوت ہے۔

ابن ابی الدنیا فی کتاب الاشراف، وکیع فی الغرر، ابن عساکر، السنن للبیہقی
14488- "مسند عمر" عن ابن جرير الأزدي أن رجلا كان يهدي إلى عمر بن الخطاب كل سنة فخذ جزور فخاصم إلى عمر فقال: يا أمير المؤمنين اقض بيننا قضاء فصلا كما يفصل الفخذ من الجزور فكتب عمر إلى عماله: لا تقبلوا الهدية فإنها رشوة. "ابن أبي الدنيا في كتاب الأشراف ووكيع في الغرر كر هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৮৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رشوت
14489 موسیٰ بن ظریف سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے مال کی تقسیم فرمائی اور ایک آدمی کو بلایا جو لوگوں کے درمیان حساب کتاب اور شمار کیا کرتا تھا۔ لوگوں نے اس کے متعلق حضرت علی (رض) سے عرض کیا اس کو بھی اس کے کام کی اجرت دے دیجئے۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : اگر یہ چاہے تو ٹھیک ہے ورنہ یہ ناجائز (سحت) ہے۔

الجامع لعبد الرزاق، مسدد، ابوعبید فی الاموال، السنن للبیہقی، وضعفہ، ابن عساکر

کلام : امام بیہقی (رح) نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔
14489- عن موسى بن طريف أن عليا قسم قسما فدعا رجلا يحسب بين الناس، فقالوا: يا أمير المؤمنين أعطه عمالته قال: إن شاء وهو سحت. "عب ومسدد وأبو عبيد في الأموال هق وضعفه كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৯০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رشوت
14490 مسروق (رح) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو عرض کیا : کیا آپ رشوت کو فیصلہ کرانے میں حرام (سحت) سمجھتے ہیں ؟ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں، بلکہ کفر سمجھتا ہوں اور سحت (حرام) تو وہ ہے کہ ایک آدمی کو بادشاہ کے پاس عزت و مرتبہ حاصل ہو اور دوسرے آدمی کو بادشاہ سے کوئی حاجت و ضرورت پیش آجائے اور وہ اس کی حاجت پوری نہ کرے جب تک کہ آدمی اس کو ہدیہ نہ دے (تو یہ سخت یعنی حرام ہے) ۔ ابن المنذر
14490- عن مسروق قال: قلت لعمر بن الخطاب أرأيت الرشوة في الحكم من السحت هي؟ قال: لا ولكن كفر إنما السحت أن يكون للرجل عند السلطان جاه ومنزلة ويكون للآخر إلى السلطان حاجة فلا يقضي حاجته حتى يهدى إليه هدية. "ابن المنذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৯১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رشوت
14491 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے، ارشاد فرمایا :

دو دروازے سحت (حرام خوری) کے ہیں، جن کو لوگ کھاتے ہیں، رشوت اور زانیہ کا مہر۔

زانیہ کی کمائی مصنف ابن ابی شیبہ، عبد حمید، ابن حریر
14491- عن عمر قال: بابان من السحت يأكلهما الناس الرشاءومهر الزانية. "ش وعبد بن حميد وابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৯২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رشوت
14492 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا :

مسلمانوں کے قاضی کے لیے اجرت لینا جائز نہیں نہ نہ صاحب غنیمت (غنیمت کا مال تقسیم کرنیوالے کے لئے) ۔ الجامع لعبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ
14492- عن عمر قال: لا ينبغي لقاضي المسلمين أن يأخذ أجرا ولا صاحب مغنمهم. "عب ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৯৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رشوت
14493 ابی جریر سے مروی ہے کہ ایک شخص حضرت عمر (رض) کے پاس اونٹ کی ٹانگ ہدیہ میں بھیجا کرتا تھا۔ پھر ایک مرتبہ وہ اپنا مقدمہ لے کر آیا اور بولا : یا امیر المومنین ! ہمارے درمیان فیصلہ کر دیجئے جس طرح اونٹ کی ٹانگ کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

ابوجریر کہتے ہیں کہ وہ آدمی مسلسل یہی کہتا رہا حتیٰ کہ میں قریب تھا کہ اس کا میں فیصلہ کردیتا۔

ابن جریر
14493- عن أبي جرير أن رجلا كان أهدى إلى عمر رجل جزور ثم جاء يخاصم إليه فجعل يقول له: يا أمير المؤمنين افصل بيننا كما يفصل رجل الجزور، قال: والله ما زال يكررها حتى كدت أن أقضي له. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৯৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رشوت
14494 ابن مسعود (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : دین میں رشوت کا نام سحت ہے۔ (جس کی قرآن میں مذمت آئی ہے) ۔ الجامع لعبد الرزاق
14494- عن ابن مسعود قال: السحت الرشوة في الدين. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৯৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رشوت
14495 حضرت ابن عمرو (رض) حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے اور رشوت کا معاملہ کرانے والے سب پر لعنت فرمائی ہے۔ ابوسعید النقاش فی القضاۃ ورجالہ ثقات
14495- عن ابن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه لعن الراشي والمرتشي والمعزى الذي يسعى بينهما. "أبو سعيد النقاش في القضاة ورجاله ثقات"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৯৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14496 (صدیق) عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے مروی ہے کہ میں حضرات ابوبکر عمر اور عثمان کے پاس حاضر ہوا ۔ یہ سب حضرات شاہد کے ساتھ قسم پر فیصلہ دے دیا کرتے تھے۔

الدارقطنی فی السنن، السنن للبیہقی

فائدہ : دعویدار پر دو گواہ پیش کرنا لازم ہے۔ اگر دو گواہ نہ ہوں تو ایک گواہ اور ایک قسم پر بھی فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ منکر (قابض) پر صرف قسم لازم ہے۔
14496- "الصديق" عن عبد الله بن عامر بن ربيعة قال: حضرت أبا بكر وعمر وعثمان يقضون باليمين مع الشاهد. "قط ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৯৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14497 عبداللہ بن ربیعہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور حضرت عمر (رض) تنگدست (نادہندہ) سے اللہ کی قسم لیتے تھے کہ اس کے پاس قرض وغیرہ کی ادائیگی کے لیے نہ کوئی سامان ہے اور نہ نقد قیمت۔ اور اگر کسی بھی جگہ سے تیرے پاس مال آئے گا تو تو یہ قرض ادا کردے گا پھر آپ حضرات اس کا راستہ چھوڑ دیتے تھے۔ السنن للبیہقی
14497- عن عبد الله بن ربيعة أن أبا بكر الصديق وعمر بن الخطاب كانا يستحلفان المعسر بالله ما يجد ما يقضيه من عرض ولا ناضولئن وجدت من حيث لا تعلم لتقضيه ثم يخليان سبيله. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৯৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14498 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایک گواہ کے ساتھ قسم اور بدھ جو دائمی نحوست والا ہے حجامت (پیچھے لگوانے) کا حکم لے کر آئے۔

ابن راھویہ

کلام : ابن رجب (حنبلی) فرماتے ہیں : یہ حدیث مذکورہ صحیح نہیں ہے۔ اس کی طبرانی نے دوسرے طریق کے ساتھ ابن عباس (رض) سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ امام سخاوی (رح) فرماتے ہیں مذکورہ متن کے تمام طرق واھیہ (ناقابل اعتبار اور لغو) ہیں۔ فیض القدیر للمناری امر
14498- عن علي قال: نزل جبريل على النبي صلى الله عليه وسلم باليمين مع الشاهد والحجامة يوم الأربعاء يوم نحس مستمر. "ابن راهويه"1
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৪৯৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14499 جابر بن الحارث سے مروی ہے کہ مجھے میرے آزادکردہ غلام نے میرے پاس ایک بھگوڑا غلام ارض سواد۔ سوڈان سے پکڑ کر بھیجا جو اس نے انعام یابی کے لیے پکڑا تھا۔ لیکن وہ غلام پھر بھاگ گیا۔ چنانچہ دونوں قاضی شریح کے پاس حاضر ہوئے۔ قاضی شریح نے مجھے ضامن قرار دیدیا۔ پھر ہم حضرت علی (رض) کے پاس آئے اور ان کو سارا قصہ سنایا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : شریح نے غلط کہا ہے اور برا فیصلہ کیا۔ سیاہ فام غلام سرخ فام (بھگوڑے) غلام کے لیے قسم اٹھائے گا کہ وہ واقعی بھاگ گیا ہے اور اس پر کوئی چیز لازم نہیں۔ الجامع لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
14499- عن جابر بن الحارث قال: بعث إلي مولاي بعبد أخذه بالسواد اجتعلفيه فأبق العبد فاختصما إلى شريح فضمننيه فأتينا عليا فقصصنا عليه القصة، فقال: كذب شريح وأساء القضاء يحلف العبد الأسود للعبد الأحمر لأبق إباقا وليس عليه شيء. "عب ق".
tahqiq

তাহকীক: