কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৫ টি

হাদীস নং: ১৪৫০০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14500 حنش بن المعتمر سے مروی ہے کہ دو آدمی ایک خچر کے سلسلے میں اپنا تنازعہ حضرت علی (رض) کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے۔ ایک کے ساتھ پانچ گواہ تھے جو اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ یہ خچر اسی کے ہاں پیدا ہوا ہے۔ جبکہ دوسرا شخص دو گواہ لے کر آیا جو اس کے متعلق گواہی دے رہے تھے کہ وہ خچر اس کے ہاں پیدا ہوا ہے۔

حضرت علی (رض) نے اپنے پاس موجود حاضرین کو مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے ، اگر میں زیادہ گواہوں والے کے حق میں فیصلہ دیدوں تو ممکن ہے کہ دو گواہ پانچ گواہوں سے زیادہ بہتر ہوں۔ پھر خود ہی ارشاد فرمایا : اس مقدمے میں فیصلہ بھی ہوسکتا ہے اور دونوں آپس میں صلح بھی کرسکتے ہیں اور میں تم کو فیصلے اور صلح دونوں طریقے بتاتا ہوں ۔ صلح تو یوں ممکن ہے کہ یہ جانور دونوں کے درمیان تقسیم ہوجائے اس کے لیے پانچ حصے اور اس کے لیے دو حصے۔ جبکہ حق کے مطابق فیصلہ یوں ہوگا کہ دونوں میں سے ایک اپنے گواہوں کے ساتھ قسم اٹھائے کہ یہ اسی کا خچر ہے، اس نے اس کو فروخت کیا ہے اور نہ ہدیہ کیا ہے اور دوسرا چاہے تو اس سے سخت ترین قسم اٹھوا سکتا ہے۔ پھر یہ خچر لے لے گا۔ پھر اگر تمہارا اس بات میں اختلاف ہوتا ہے کہ قسم کون اٹھائے تو اس کا حل یہ ہے کہ میں ان دونوں کے درمیان قرعہ ڈالتا ہوں۔ جس کے نام قرعہ نکل آئے گا وہی قسم اٹھائے گا۔

حنش بن معتمر فرماتے ہیں : حضرت علی (رض) نے اسی طریقہ پر فیصلہ فرمایا اور میں اس بات پر گواہ ہوں۔

المصنف لعبد الرزاق، الکبری للبیہقی
14500- عن حنش بن المعتمر قال: جاء إلى علي رجلان يختصمان في بغل فجاء أحدهما بخمسة يشهدون أنه نتجهوجاء الآخر بشاهدين يشهدان أنه نتجه، فقال للقوم وهو عنده: ماذا ترون أقضى بأكثرهما شهودا فلعل الشاهدين خير من الخمسة، ثم قال: فيها قضاء وصلح وسأنبئكم بالقضاء والصلح، أما الصلح فيقسم بينهما لهذا خمسة أسهم، ولهذا سهمان، وأما القضاء بالحق فيحلف أحدهما مع شهوده أنه بغله ما باعه ولا وهبه فيأخذ البغل وإن شاء أن يغلظ في اليمين ثم يأخذ البغل فإن تشاححتما أيكما يحلف أقرعتبينكما على الحلف فأيكما قرع حلف فقضى بهذا وأنا شاهد. "عب هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫০১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14501 یحییٰ جزار سے مروی ہے کہ دو آدمی سواری کے ایک جانور کے بارے میں اپنا تنازعہ حضرت علی (رض) کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے۔ سواری کسی ایک کے قبضہ میں تھی۔ پھر اس نے بھی گواہ قائم کردیئے کہ یہ سواری اسی کی ہے اور دوسرے نے بھی گواہ پیش کردیئے کہ یہ سواری اس کی ہے۔ چنانچہ حضرت علی (رض) نے سواری کا فیصلہ اس کے حق میں فرمادیا جس کے قبضے میں وہ موجود تھی اور ارشاد فرمایا : اگر یہ کسی کے قبضہ میں نہ ہوتی اور یہ دونوں اپنے اپنے گواہ حاضر کردیتے تو پھر یہ دونوں کے درمیان تقسیم ہوجاتی ۔ المصنف لعبد الرزاق، السنن للبیہقی
14501- عن يحيى الجزار قال: اختصم إلى علي رجلان في دابة وهي في يد أحدهما فأقام هذا بينة أنها دابته وأقام هذا بينة أنها دابته فقضى للذي في يده قال: وقال علي: إن لم تكن في يد واحد منهما فأقام كل واحد منهما بينة أنها دابته فهي بينهما. "عب ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫০২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14502 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ کچھ لوگ ان کے پاس ایک جھونپڑے کے متعلق اپنا جھگڑالے کر آئے۔ حضرت علی (رض) نے فیصلہ فرمایا کہ یہ دیکھا جائے کہ کون جھونپڑے کی رسی باندھنے کے زیادہ قریب ہے۔ کون جھونپڑے کو بنانے کا زیادہ ماہر ہے پس وہی اس کا زیادہ حقدار ہے۔

السنن للبیہقی
14502- عن علي أن قوما اختصموا إليه في خصلهم فقضى أن ينظر أيهم أقرب إلى القماطفهو أحق به. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫০৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14503 عبدالاعلیٰ ثعلبی سے مروی ہے کہ میں قاضی شریح کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ایک عورت (ایک آدمی کے ساتھ) ان کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بولی : اے ابوامیہ (قاضی شریچ ! ) یہ آدمی میرے پاس آیا اس کا ارادہ مجھ سے نکاح کرنے کا نہیں تھا۔ میں نے اس کو اپنے ساتھ شادی کرنے کو کہا۔ تو اس نے کہا کیا تو میرے ساتھ مسخرہ پن کرتی ہے۔ چنانچہ نے اس کے ساتھ اپنی شادی کرالی۔ اور اپنے مال میں سے چار ہزار درہم میں نے اس کو دیئے میں اس کے ساتھ اپنے مال میں تجارت کرنا چاہتی تھی ، حتیٰ کہ اس کا مال میرے مال سے بہت زیادہ بڑھ گیا گویا کہ اونٹ کے پہلو میں کچھ بال۔

اب اس کا خیال ہے کہ یہ مجھے طلاق دے کر دوسری عورت کو بسائے گا۔ قاضی شریح نے اس آدمی کو فرمایا : تیر کیا خیال ہے یہ کیا کہتی ہے ؟ آدمی نے کہا : یہ سچ کہتی ہے۔ قاضی شریح کے پاس موجود لوگوں کا خیال تھا کہ ایسا ہی ایک مقدمہ حضرت علی (رض) کے پاس بھی آیا تھا تو حضرت علی (رض) نے آدمی کو فرمایا تھا :

تو طلاق دینے کا حق رکھتا ہے اور چار عورتوں سے نکاح کرنے کا بھی حقدار ہے۔ اگر تو اس کو طلاق دیتا ہے تو تو طلاق کا مالک ہے لیکن اس کا مال اس کو لوٹا دے اور اتنا ہی مزید مال اپنی طرف سے مہر کے نام سے اس کو دے جس کے عوض تو نے اس کی شرم گاہ کو حلال کیا۔ قاضی شریح (رح) نے فرمایا : یہ فیصلہ جو ہم کو حضرت علی (رض) کی طرف سے پہنچا میرا بھی تم دونوں کے لیے یہی فیصلہ ہے ، لہٰذا اٹھ جاؤ۔

السنن لسعید بن منصور
14503- عن عبد الأعلى الثعلبي قال: كنت جالسا عند شريح فجاءت امرأة فقالت: يا أبا أمية إن هذا الرجل أتاني ولا يرجو أن يتزوجني فقلت له: هل لك أن تتزوجني؟ فقال: أتسخرين بي فزوجته نفسي وأعطيته من الذي لي أربعة آلاف درهم اتجر به في مالي حتى غمر ماله في مالي كالرقةفي جنب البعير، فزعم أنه مطلقي ومتزوج علي، فقال شريح للرجل: ما تقول؟ قال: صدقت، فقال شريح للملأ حوله: فزعموا أن عليا أتاه بمثل الذي أتاك، فقال: أنت أحق بالطلاق والنكاح ما بينك وبين أربع نسوة، فإن أنت طلقت فالطلاق بيدك واردد عليها مالها ومثله من مالك بما استحللت من فرجها، فقال شريح هذا الذي بلغنا عنه هو قضائي بينكما قوما. "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫০৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14504 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے نکاح کیا اور اس کو مہر بھی دیدیا۔ حالانکہ وہ اس کی دودھ شریک بہن تھی۔ لیکن ابھی تک آدمی نے اس کے ساتھ مباشرت نہیں کی تھی۔ چنانچہ حضرت علی (رض) عورت کے لیے حکم فرمایا کہ وہ لیا ہوا مہر واپس کردے اور دونوں جدا ہوجائیں۔ السنن لسعید بن منصور
14504- عن علي أن رجلا نكح امرأة فأعطاها صداقها وكانت أخته من الرضاعة ولم يكن دخل بها، قال: ترد إليه ماله الذي أعطاها ويفترقان. "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫০৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14505 محمد بن یحییٰ بن حبان سے مروی ہے کہ ان کے دادا حبان بن منقد کے عقد میں دو عورتیں تھیں۔ ایک ہاشمیہ اور دوسری انصاریہ۔ پھر انھوں نے انصاریہ کو طلاق دیدی۔ اس وقت وہ اپنے بچے کو دودھ پلارہی تھی۔ پھر اس انصاریہ پر ایک سال گزر گیا مگر اس کو حیض نہ آیا پھر دادا کا انتقال ہوگیا۔ تو انصاریہ بولی : میں ان کی وراثت پاؤں گی کیونکہ مجھے ابھی تک حیض نہیں آیا۔ چنانچہ لوگوں نے یہ مقدمہ حضرت عثمان بن عفان (رض) کی خدمت میں پیش کیا۔ حضرت عثمان (رض) نے بھی انصاریہ طلاق یافتہ کے لیے میراث کا حکم دیدیا۔ ہاشمیہ سوتن نے عثمان بن عفان کو ملامت کی۔ حضرت عثمان (رض) نے ہاشمیہ کو فرمایا : یہ فیصلہ تیرے چچازاد کا ہے، انہی نے ہم کو اس کا مشورہ دیا ہے۔ یعنی حضرت بن ابی طالب (رض) نے۔ موطا اماممالک السنن للبیہقی
14505- عن محمد بن يحيى بن حبان أنه كان عند جده حبان بن منقذ امرأتان هاشمية وأنصارية فطلق الأنصارية وهي ترضع فمرت بها سنة لم تحض ثم هلك، فقالت: أنا أرثه لم أحض فاختصموا إلى عثمان ابن عفان فقضى لها بالميراث فلامت الهاشمية عثمان بن عفان، فقال لها: هذا عمل ابن عمك هو أشار علينا بهذا يعني علي بن أبي طالب. "مالك ق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫০৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14506 ابن جریج، عبداللہ بن ابی بکر سے روایت کرتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی جن کو حبان بن معقذ کہا جاتا ہے نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی۔ حبان اس وقت تندرست اور صحیح سالم تھے۔ جبکہ ان کی طلقہ بیوی دودھ والی تھی۔ وہ سترہ یا اٹھارہ ماہ تک یونہی پاک رہی اور اس کو حیض نہ آیا، رضاعت نے اس کو حیض نہ آنے دیا۔ جبکہ حبان اس کو طلاق دینے کے ساتھ یا آٹھ ماہ بعد مرض الموت میں پڑگئے۔ ان کو کسی نے کہا : تاحال تمہاری بیوی تمہاری وارث بننا چاہتی ہے۔ کیونکہ تین حیض نہ آنے کے سبب ابھی وہ تم سے بالکلیہ فارغ نہ ہوئی ہے حبان نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا : مجھے خلیفہ عثمان کے پاس لے چلو۔ چنانچہ ان کی خدمت میں پہنچ کر حبان نے اپنی مطلقہ بیوی کی حالت کا ذکر کیا۔ حضرت عثمان (رض) کے پاس علی بن ابی طالب اور زید بن ثابت (رض) بھی موجود تھے۔ حضرت عثمان (رض) نے ان سے دریافت فرمایا : تم دونوں کا کیا خیال ہے ؟ دونوں نے فرمایا : ہمارا خیال ہے کہ اگر حبان مرگئے تو وہ ان کی وارث ہوگی اور اگر وہ مرگئی تو حبان اس کے وارث ہوں گے۔ کیونکہ وہ ان بیٹھی رہ جانے والی بوڑھیوں میں سے نہیں ہے جو حیض سے مایوس ہوجاتی ہیں اور نہ ان کنواریوں میں سے ہے جو زمانہ حیض کو نہیں پہنچی ہیں۔ لہٰذا ان کی عدت تین ماہ نہیں بلکہ تین حیض ہے اور وہ ابھی اپنی عدت حیض پر باقی ہے ، خواہ زیادہ ہو یا تھوڑی۔

چنانچہ حبان اپنے اہل خانہ کے پاس واپس ہوئے اور اپنی بیٹی کو لے لیا اور جب اس کی ماں دودھ پلانے بیٹھی تو اس کو ایک حیض آگیا ۔ پھر (اگلے ماء) دوسرا حیض آگیا پھر تیسرا حیض آنے سے قبل حبان کو موت آگئی چنانچہ اس نے متوفی عنہا کی عدت گزاری۔ یعنی حبان کی وفات کے بعد چار ماہ دس دن تک وہ وعدت میں رہی اور حبان کی وراثت بھی پائی۔ الشافعی، السنن للبیہقی
14506- عن ابن جريج عن عبد الله بن أبي بكر أن رجلا من الأنصار يقال له: حبان بن منقذ طلق امرأته وهو صحيح وهي ترضع ابنته فمكثت سبعة عشر شهرا لا تحيض يمنعها الرضاع ثم مرض بعد أن طلقها سبعة أشهر أو ثمانية أشهر فقيل له: إن امرأتك تريد أن ترث فقال لأهله: احملوني إلى عثمان فحملوه إليه فذكر له شأن امرأته وعنده علي بن أبي طالب وزيد بن ثابت فقال لهما عثمان: ما تريان؟ فقالا: إنا نرى أنها ترثه إن مات ويرثها إن ماتت فإنها ليست من القواعد اللاتي يئسن من المحيض وليست من الأبكار اللاتي لم يبلغن المحيض، ثم هي على عدة حيضها ما كان من قليل أو كثير، فرجع حبان إلى أهله فأخذ ابنته، فلما قعدت على الرضاع حاضت حيضة، ثم حاضت حيضة أخرى ثم توفي حبان قبل أن تحيض الحيضة الثلاثة فاعتدت عدة المتوفى عنها زوجها وورثته. "الشافعي هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫০৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14507 مسند القاضی ابویوسف میں عرویۃ الحارثی سے مروی ہے وہ جعفر بن محمد سے اور وہ اپنے والد سے وہ حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کی گواہی اور صاحب حق کی قسم کے ساتھ فیصلہ فرمایا۔ یعنی صاحب حق کی قسم اور اس کے گواہ کی گواہی کے ساتھ فیصلہ فرمادیا اور حضرت علی (رض) نے عراق میں اسی طرح ایک فیصلہ نمٹایا۔

ابوعبداللہ بن باکویہ فی امالیہ
14507- عن عروبة الحارثي في مسند القاضي أبي يوسف عن جعفر بن محمد عن أبيه عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم قضى بشهادة رجل واحد مع يمين صاحب الحق، وقضى به علي بالعراق.

"أبو عبد الله ابن باكويه في أماليه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫০৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14808 ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے حضور میں ایک مسئلہ پیش کیا گیا۔ حضرت عمر (رض) اس کو سن کر کھڑے ہوگئے پھر بیٹھ گئے، ان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پھر آپ (رض) نے اس مسئلے کے حل کے لیے اصحاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جمع کیا اور اس مسئلے کو ان پر پیش کیا اور فرمایا : تم مجھے اس کا جواب دو ۔ لوگوں نے عرض کیا : یا امیر المومنین ! آپ کی ذات مرجع الناس ہے، آپ ہی مشکل مسائل کا حل نکالنے والے ہیں۔ حضرت عمر (رض) غضب ناک ہوگئے اور ارشاد فرمایا : اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو، اللہ تمہارے اعمال کو درست کردے گا۔ لوگوں نے عرض کیا : یا امیر المومنین ! آپ جس چیز کے بارے میں ہم سے سوال فرما رہے ہیں م اس کے متعلق کچھ نہیں جانتے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں حقیقت کی تہہ میں اتر جانے والے اور علم کے باپ کو جانتا ہوں، وہی مرجع الناس ہے اور وہی مشکل مسائل کا حل نکالنے والا ہے، کہاں ہے وہ ؟ لوگوں نے کہا : شاید آپ کا ارادہ ابن ابی طالب کو پوچھنے کا ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہاں اللہ کی قسم وہی ہے او واقعتہ وادیحرہ نے اس جیسا دوسرا سپوت پیدا نہیں کیا۔ چلو، ہم کو اس کے پاس سے لے چلو۔ لوگوں نے عرض کیا : یا امیر المومنین کیا آپ ان کے پاس چل کر جائیں گے ؟ وہی آپ کے پاس آجائیں گے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : افسوس ! وہ خاندان بنی ہاشم اور خاندان رسول کے چشم وچراغ ہیں اور علم کا نشان ہیں۔ ان کے پاس چل کر جایاجاتا ہے، وہ خود نہیں آتے۔ انہی کے گھر میں حکام پیش ہوتے ہیں۔ چلو ان کا رخ کرو۔

چنانچہ یہ حضرات ان کی تلاش میں نکلے تو ان کو اپنے باغ میں پایا۔ وہ اس آیت کی بار بار تلاوت کررہے تھے اور رو رہے تھے :

ایحسب الانسان ان یترک سدی۔

کیا انسان گمان کرتا ہے کہ اس کو بےکار چھوڑ دیا جائے گا۔

حضرت عمر (رض) نے قاضی شریح کو فرمایا : تم نے جو مسئلہ ہم کو سنایا ہے وہ ابوالحسن کو سناؤ۔ قاضی شریح نے فرمایا : میں عدالت نشست میں تھا۔ یہ آدمی آیا اور اس نے کہا کہ :

ایک آدمی نے اس کو دو عورتیں حوالہ کیں جن میں ایک آزاد ہے اور مہر والی تھی جبکہ دوسری ام ولد (باندی) تھی۔ اور اس کو کہا کہ میری واپسی تک ان کے خرچ پانی کا خیال رکھو۔ پھر گزشتہ رات دونوں نے ایک ساتھ بچوں کو جنم دیا۔ ایک نے لڑکی جنی دوسری نے لڑکا جنا۔ لیکن اب دونوں ہی (دگنی) میراث کے لالچ میں لڑکے کا دعویٰ کررہی ہیں اور لڑکی کو کوئی بھی قبول نہیں کررہی ہے۔

حضرت علی (رض) نے قاضی شریح سے پوچھا : تم نے دونوں کے درمیان کیا فیصلہ کیا ؟ قاضی شریح نے کہا : اگر میرے پاس ایسا علم ہوتا جس کے ذریعہ میں دونوں کے بیچ فیصلہ کرسکتا تو ہرگز ان کو آپ کے پاس نہ لے کر آتا۔

دو عورتوں کے درمیان فیصلہ

چنانچہ حضرت علی (رض) نے ایک تنکا اٹھا کر ارشاد فرمایا : یہ مسئلہ اس تنکے سے بھی زیادہ آسان ہے۔ پھر آپ (رض) نے ایک پیالہ منگوایا اور ان میں سے ایک عورت کو فرمایا : اس میں اپنا (سارا ) دودھ نکالو۔ چنانچہ اس نے اپنا دودھ اس پیالے میں نکالا۔ حضرت علی (رض) نے اس کا وزن کرلیا۔ پھر دوسری عورت کو فرمایا : اب تم اپنا دودھ نکالو۔ چنانچہ اس نے بھی اپنے پستانوں کا دودھ نکالا پھر حضرت علی (رض) نے اس کو بھی وزن کیا تو اس کو پہلی عورت کے دودھ سے نصف پایا۔ چنانچہ اس دوسری عورت کو فرمایا : تو اپنی بیٹیے لے لے۔ اور پہلی کو فرمایا : تو اپنا بیٹا لے لے۔

پھر قاضی شریح کو فرمایا : کیا تم کو معلوم نہیں کہ لڑکی کا دودھ لڑکے کے دودھ لڑکے کے دودھ سے نصف ہوتا ہے۔ لڑکی کی میراث لڑکے کی میراث سے نصف ہوتی ہے ، لڑکی کی عقل لڑکے کی عقل سے نصف ہوتی ہے ، لڑکی کی شہادت لڑکے کی شہادت سے نصف ہوتی ہے، لڑکی کی دیت لڑکے کی دیت سے نصف ہوتی ہے بلکہ لڑکی ہر چیز میں لڑکے سے نصف ہوتی ہے۔

یہ فیصلہ سن کر (خوشی کے باعث) حضرت عمر (رض) کو سخت ترین حیرت اور تعجب ہوا۔ پھر ارشاد فرمایا : اے ابوحسن ! اللہ مجھے ایسے کسی مشکل مسئلہ میں آپ کے بغیر تنہا نہ چھوڑے جس کو میں حل کرنے کا اہل نہیں اور نہ ایسے شہر میں چھوڑے جس میں آپ نہ ہوں۔

ابو طالب علی بن احمد الکاتب فی جزء من حدیثہ

کلام : روایت محل کلام ہے۔ مذکورہ روایت میں ایک راوی یحییٰ بن عبدالحمید الحمانی ہے۔ المغنی میں ہے کہ اس کو ابن معین نے ثقہ کہا ہے، جبکہ ابوداؤد نے اس کو ضعیف کہا ہے اور محمد بن عبداللہ بن خمیر نے کذاب کہا ہے۔ ابن حبان کہتے ہیں : یہ شخص کھلا جھوٹ بولتا ہے اور احادیث میں سرقہ (چوری) کرتا ہے۔ ابن عدی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اس کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے۔ امام ذہبی (رح) فرماتے ہیں : اس کا تشیع غلو کی حد تک تھا اور وہ معاویہ (رض) کی تکفیر کرتا تھا۔
14508- عن ابن عباس قال: وردت على عمر بن الخطاب واردة قام منها وقعد وتغير وتربدوجمع لها أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فعرضها عليهم، وقال: أشيروا علي، فقالوا جميعا: يا أمير المؤمنين أنت المفزعوأنت المنزعفغضب عمر وقال: اتقوا الله وقولوا قولا سديدا يصلح لكم أعمالكم فقالوا: يا أمير المؤمنين ما عندنا مما تسأل عنه شيء، فقال: أما والله إني لأعرف أبا بجدتهاوابن بجدتها وأين مفزعها وأين منزعها فقالوا: كأنك تعني ابن أبي طالب، فقال عمر: لله هو وهل طفحتحرة بمثله وأبرعته انهضوا بنا إليه فقالوا: يا أمير المؤمنين أتصير إليه يأتيك، فقال: هيهات هناك شجنةمن بني هاشم وشجنة من الرسول وأثرة من علم يؤتى لها ولا يأتي، في بيته يؤتي الحكمفاعطفوا نحوه، فألفوه في حائط له وهو يقرأ: {أَيَحْسَبُ الْأِنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدىً} ويرددها ويبكي فقال عمر لشريح: حدث أبا حسن بالذي حدثتنا به فقال شريح: كنت في مجلس الحكم فأتى هذا الرجل فذكر أن رجلا أودعه امراتين حرة مهيرة.وأم ولد فقال له: أنفق عليهما حتى أقدمفلما كان في هذه الليلة وضعتا جميعا إحداهما ابنا والأخرى بنتا وكلتاهما تدعى الابن وتنتفي من البنت من أجل الميراث، فقال له: بم قضيت بينهما؟ فقال شريح: لو كان عندي ما أقضى به بينهما لم آتكم بهما فأخذ علي تبنة من الأرض فرفعها فقال: إن القضاء في هذا أيسر من هذه ثم دعا بقدح فقال لإحدى المرأتين احلبي فحلبت فوزنه ثم قال للأخرى احلبي فحلبت فوزنه فوجده على النصف من لبن الأولى فقال لها: خذي أنت ابنتك وقال للأخرى: خذي أنت ابنك، ثم قال لشريح: أما علمت أن لبن الجارية على النصف من لبن الغلام وأن ميراثها نصف ميراثه وأن عقلها نصف عقله وأن شهادتها نصف شهادته وإن ديتها نصف ديته وهي على النصف في كل شيء فأعجب به عمر إعجابا شديدا ثم قال: أبا حسن لا أبقاني الله لشدة لست لها ولا في بلد لست فيه. "أبو طالب علي بن أحمد الكاتب في جزء من حديثه" وفيه يحيى بن عبد الحميد الحمانيقال في المغني: وثقه ابن معين وغيره، وقال د3: ضعيف وقال: محمد بن عبد الله بن نمير كذاب، وقال "حب": كان يكذب جهارا ويسرق الأحاديث، وقال "عد" أرجو أنه لا بأس به، قال "الذهبي": وأما تشيعه فقل ما شئت كان يكفر معاوية.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫০৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14509 سعید بن جبیر (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس ایک عورت پیش کی گئی۔ جس نے ایک عجیب الخلقت بچے کو جنم دیا تھا جس کے دو بدن تھے، دو پیٹ تھے، چار ہاتھ تھے، دو سر تھے اور دو شرم گاہیں تھیں، یہ بالائی جسم کا حال تھا جبکہ نچلے جسم میں دورانیں اور دو ٹانگیں عام انسانوں کی طرح تھیں۔ عورت نے اپنے شوہر سے جو اس عجیب الخلقت بچے کا باپ تھا اپنی میراث طلب کی۔ حضرت عمر (رض) نے اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بلایا اور ان سے اس کے بارے میں مشاورت کی۔ لیکن کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ پھر حضرت عمر (رض) نے حضرت علی (رض) کو بلایا۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : یہ بڑا اہم واقعہ ہے، آپ اس عورت کو اور اس کے بچے کو روک لیں اور جو ان کی ضروریات کا سامان ہے ان کے لیے منگوالیں اور ایک خادم ان کے لیے مقرر کردیں اور مناسب طریقے سے ان پر خرچ کریں۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس مشورہ پر عمل کیا۔ پھر عورت کا انتقال ہوگیا، جبکہ وہ عجیب الخلقت بچہ جوان ہوگیا اور اس نے اپنی میراث طلب کی۔ حضرت علی (رض) نے اس کے لیے حکم فرمایا کہ اس کے لیے ایک خصی خادم مقرر کیا جائے جو اس کی دونوں شرم گاہیں بھی صاف کرے گا اور اس کی ماں کی طرح ہر طرح کی خدمت انجام دے گا اور اس خادم کے سوا یہ کام کسی اور کے لیے حلال نہ ہوں گے۔

پھر لڑکے کے دوجسموں میں سے ایک میں نکاح کی طلب پیدا ہوگئی۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے پھر حضرت علی (رض) کے پاس پیغام بھیجا اور پوچھا کہ اے ابوالحسن ! آپ اس معاملے میں کیا فرماتے ہیں ؟ اگر ایک جسم شہوت میں آتا ہے تو دوسرا اس کی مخالفت میں ٹھنڈا پڑا رہتا ہے۔ اگر دوسرا جسم کوئی حاجب طلب کرتا ہے تو اس کے ساتھ والا اس کی ضد میں آجاتا ہے ، حتیٰ کہ اس وقت دونوں جسموں میں سے ایک جماع کی خواہش کررہا ہے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : اللہ بڑا ہے، اللہ بربادر ہے اور کریم ہے اس بات سے کہ کسی بندے کو اس حال میں مجبور کرے کہ وہ اپنے بھائی کو جماع کرتے ہوئے دیکھے اب تم اس کو تین دن تک کھیل کود میں بہلاؤ۔ عنقریب اللہ کوئی فیصلہ کردے گا۔ اس نے یہ طلب موت کے وقت کی ہے۔ چنانچہ وہ شہوت والا جسم اس کے بعد تین یوم تک جیا اور پھر مرگیا۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے صحابہ کرام (رض) کو جمع کیا اور اس کے بارے میں مشورہ کیا۔ بعض نے کہا کہ مرا ہوا جسم زندہ جسم سے کاٹ کر علیحدہ کرلیا جائے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم نے جو مشورہ دیا ہے عجیب ہے، کیا ہم ایک مردہ جسم کی وجہ سے ایک زندہ جان کو قتل کریں وہ زندہ جسم بھی یہ سن کر کر اہا اور تکلیف کے احساس سے بولا : اللہ ہی تم کو جانے کیا تم مجھے قتل کرتے ہو حالانکہ میں لا الہ اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دیتا ہوں اور قرآن مقدس کی تلاوت کرتا ہوں۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے حضرت علی (رض) کے پاس اس مسئلے کو بھیجا اور پوچھا : اے ابوالحسن ! ان دو جسموں کے بارے میں حکم فرمائیے کہ ہم کیا کریں۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : یہ معاملہ بہت ہی آسان اور بالکل واضح ہے۔ تم اس مردہ جس کو اس کے بھائی کے ساتھ غسل اور کفن دو اور مردہ جسم کو خادم اٹھاتا سنبھالتا رہے جبکہ اس کا بھائی خادم کی مدد کرتا رے۔ جب تین یوم بعد مردہ جسم خشک ہوجائے تو اس خشک حصے کو کاٹ دو زندہ جسم کو اس کی کوئی تکلیف نہ ہوگی۔ ہاں اس کو مردہ لاش کی بدبوتکلیف دے گی۔ میں جانتا ہوں کہ اللہ پاک زندہ کو اس کے بعد تین دن سے زیادہ زندہ نہ رکھے گا۔ چنانچہ لوگوں نے حکم کی تعمیل کی اور پھر واقعۃً وہ بھائی بھی تین یوم تک جیا اور مرگیا۔

حضرت عمر (رض) نے حضرت علی (رض) کو ارشاد فرمایا : اے ابن ابی طالب ! تو ہی ہر مشتبہ اور مشکل مسئلہ کو حل کرتا ہے اور ہر حکم کو واضح کرتا ہے۔ ابوطالب المذکور

فائدہ : مذکورہ روایت کے رجال ثقہ ہیں صرف یہ کہ سعید بن جبیر جو ثقہ راوی ہیں ان کی حضرت عمر (رض) سے ملاقات نہیں ہوئی۔ یعنی دونوں کا زمانہ الگ ہے لازماً درمیان کا راوی متروک ہے۔ لیکن یہ سعید کے لیے باعث عیب نہیں۔
14509- عن سعيد بن جبير قال: أتي عمر بن الخطاب بامرأة قد ولدت ولدا له خلقتان بدنان وبطنان وأربعة أيد ورأسان وفرجان هذا في النصف الأعلى وأما في الأسفل فله فخذان وساقان ورجلان مثل سائر الناس فطلبت المرأة ميراثها من زوجها وهو أبو ذلك الخلق العجيب فدعا عمر بأصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فشاورهم فلم يجيبوا فيه بشيء فدعا علي بن أبي طالب فقال علي: إن هذا أمر يكون له نبأ فاحبسها واحبس ولدها واقبض ما لهم وأقم لهم من يخدمهم وأنفق عليهم بالمعروف ففعل عمر ذلك ثم ماتت المرأة وشب الخلق وطلب الميراث فحكم له علي بأن يقام له خادم خصي يخدم فرجيه ويتولى منه ما يتولى الأمهات ما لا يحل لأحد سوى الخادم، ثم إن أحد البدنين طلب النكاح فبعث عمر إلى علي فقال له: يا أبا الحسن ما تجد في أمر هذين؟ إن اشتهى أحدهما شهوة خالفه الآخر وإن طلب الآخر حاجة طلب الذي يليه ضدها حتى إنه في ساعتنا هذه طلب أحدهما الجماع فقال علي: الله أكبر إن الله أحلم وأكرم من أن يرى عبدا أخاه وهو يجامع أهله ولكن عللوه ثلاثا فإن الله سيقضي قضاء فيه ما طلب هذا إلا عند الموت فعاش بعدها ثلاثة أيام ومات فجمع عمر أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فشاورهم فيه قال بعضهم: اقطعه حتى يبينالحي من الميت وتكفنه وتدفنه، فقال عمر: إن هذا الذي أشرتم لعجب أن نقتل حيا لحال ميت وضج الجسد الحي فقال: الله حسبكم تقتلوني وأنا أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله صلى الله عليه وسلم وأقرأ القرآن فبعث إلى علي فقال: يا أبا الحسن أحكم فيما بين هذين الخلقين، فقال علي: الأمر فيه أوضح من ذلك وأسهل وأيسر، الحكم أن تغسلوه وتكفنوه مع ابن أمه يحمله الخادم إذا مشى فيعاون عليه أخاه فإذا كان بعد ثلاث جف فاقطعوه جافا ويكون موضعه حي لا يألم فإني أعلم أن الله لا يبقى الحي بعده أكثر من ثلاث يتأذى برائحة نتنه وجيفته ففعلوا ذلك فعاش الآخر ثلاثة أيام ومات، فقال عمر رضي الله عنه: يا ابن أبي طالب فما زلت كاشف كل شبهة وموضح كل حكم. "أبو طالب المذكور" ورجاله ثقات إلا أن سعيد بن جبير لم يدرك عمر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫১০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14510 اعورسلمی سے مروی ہے کہ ایک آدمی حضرت علی بن ابی طالب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا امیر المومنین ! میں سویا تو مجھے ام فلاں کے ساتھ خواب میں احتلام ہوگیا۔ جبکہ (اس عورت کا ) آدمی قریب بیٹھا ہوا تھا۔ لہٰذا وہ غضب ناک ہوگیا اور اچھل کر اس خواب والے کے ساتھ چمٹ گیا اور بولا یا امیر المومنین ! میرا اس سے حق لو۔ حضرت علی (رض) مسکرائے اور ارشاد فرمایا : میں ٹائم (سونے والے) پر اس کے علاوہ کوئی حکم نہیں پاتا کہ اس کو دھوپ میں کھڑا کرکے اس کے سائے پر حد (زنا) جاری کروں۔ لہٰذا تم دونوں باہم نہ جھگڑا کرو اور الگ ہوجاؤ اور اللہ کا اس میں حکم صرف یہی ہے کہ تو اس کے سائے کو مارلے۔ ابوطالب المذکور، المصنف لعبد الرزاق
14510- عن الأعور السلمي أن رجلا جاء إلى علي بن أبي طالب فقال: يا أمير المؤمنين إني قد رقدت فاحتلمت على أم فلان والرجل قاعد فغضب ثم وثب إليه فتعلق به وقال: يا أمير المؤمنين خذ لي بحقي منه، فتبسم علي ثم قال: ما أجد على النائم حكما إلا أن أقيمه في الشمس وأحدفيئه افترقا وحكما الله، فالحكم فيه أن تضرب فيئه. "أبو طالب المذكور عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫১১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14511 ثوری ، سلیمان شیبانی سے، وہ ایک آدمی سے، وہ حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا اور کسی نے کہا کہ اس شخص کا خیال ہے کہ یہ میری ماں کے ساتھ محتلم ہوگیا ہے۔ حضرت علی (رض) نے اس کو حکم فرمایا کہ اس کو لے جا اور دھوپ میں اس کو کھڑا کرکے اس کے سائے کو مارلے۔
14511- أنبأنا الثوري عن سليمان الشيباني عن رجل عن علي أنه أتي برجل فقيل له: زعم هذا أنه احتلم بأمي فقال: اذهب فأقمه في الشمس فاضرب ظله. " ... ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫১২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14512 زربن حبیش سے مروی ہے کہ دو آدمی کھانا تناول کرنے کے لیے بیٹھے ایک کے پاس پانچ روٹیاں تھیں، دوسرے کے پاس تین روٹیاں تھیں۔ جب دونوں کھانا اپنے سامنے رکھ لیا تو ایک آدمی نے ان کے پاس سے گزرتے ہوئے ان کو سلام کیا۔ دونوں نے اس کو کھانے کی دعوت دی۔ لہٰذا وہ بیٹھ گیا اور تینوں نے مل کر آٹھ روٹیاں کھالیں۔ کھانے سے فراغت پر آدمی اٹھ گیا اور آٹھ درہم ان کو دے کر بولا یہ لو تمہارا بدلہ جو میں نے تمہارے ساتھ کھانا کھایا ہے اس کا۔ دونوں کا اختلاف ہوگیا۔ پانچ روٹیوں والے نے کہا : میرے پانچ درہم ہیں اور تیرے تین درہم ۔ تین روٹیوں والے نے کہا : میں راضی نہیں ہوں، الایہ کہ سارے درہم دونوں کے درمیان نصف نصف ہوں گے۔ چنانچہ دونوں اپنا مقدمہ حضرت علی (رض) کے پاس لے گئے۔ دونوں نے اپنا قصہ حضرت علی (رض) کی خدمت میں پیش کیا۔ حضرت علی (رض) نے تین روٹیوں والے کو فرمایا : تیرے ساتھی نے جو حصہ تجھے پیش کیا ہے وہ تمہارے لیے بہت ہے۔ حالانکہ اس کی روٹیاں تمہاری روٹیوں سے زیادہ تھیں۔ تم تین روٹیوں پر راضی ہوجاؤ۔ اس نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! میں حق کے بغیر راضی نہ ہوں گا۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : حق میں تو تمہارے صرف ایک درہم ہے جبکہ اس کے سات درہم ہیں۔ آدمی نے کہا : سبحان اللہ ! حضرت علی (رض) نے فرمایا : ہاں حق یہی ہے۔ آدمی نے کہا : تب مجھے حق سمجھائیے تاکہ میں اس کو قبول کرلوں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : کیا آٹھ روٹیوں کے چوبیس تہائی نہیں بنتے جو تم تینوں نے مل کر کھائے ہیں۔ اس تم میں سے زیادہ اور کم کھانے والا معلوم نہیں ہوسکتا۔ اس لیے یہ فرض کیا جائے گا کہ تم تینوں نے برابر برابر کھایا ہے۔ لہٰذا تو نے بھی آٹھ تہائی حصے کھائے حالانکہ تیری تین روٹیوں کے نو حصے بنتے تھے اور تیرے دوسرے ساتھی نے بھی آٹھ حصے کھائے جبکہ اس کی پانچ روٹیوں کے پندہ حصے بنتے تھے اس کے سات حصے بچ گئے اور تیرا ایک حصہ بچا۔ لہٰذا تجھے ایک حصہ کے بدلے ایک درہم ملے گا اور اس کو سات حصوں کے عوض سات درہم ملیں گے۔ تب آدمی بولا اب میں (ایک درہم ہی پر) راضی ہوں۔

الحافظ جمال الدین المزی فی تھذیبہ
14512- عن زر بن حبيش قال: جلس رجلان يتغديان مع أحدهما خمسة أرغفة ومع الآخر ثلاثة أرغفة فلما وضع الغداء بينهما مر بهما رجل فسلم فقالا: اجلس للغداء فجلس وأكل معهما واستووا في أكلهم الأرغفة الثمانية فقام الرجل فطرح إليهما ثمانية دراهم وقال: خذوها عوضا مما أكلت لكما ونلت من طعامكما فتنازعا فقال صاحب الأرغفة الخمسة: لي خمسة دراهم ولك ثلاثة: وقال صاحب الأرغفة الثلاثة: لا أرضى إلا أن تكون الدراهم بيننا نصفين فارتفعا إلى أمير المؤمنين فقصا عليه قصتهما فقال لصاحب الثلاثة: قد عرض صاحبك ما عرض وخبزه أكثر من خبزك فارض بالثلاثة فقال: والله ما رضيت إلا بمر الحق، فقال علي: ليس في الحق إلا درهم واحد وله سبعة دراهم، فقال الرجل: سبحان الله، قال: هو ذاك، قال: فعرفني الوجه في مر الحق حتى أقبله، فقال علي: أليس الثمانية الأرغفة أربعة وعشرين ثلثا أكلتموها وأنتم ثلاثة أنفس ولا يعلم الأكثر أكلا منكم ولا الأقل، فتحملون في أكلكم على السواء فأكلت أنت ثمانية أثلاث وإنما لك تسعة أثلاث وأكل صاحبك ثمانية أثلاث وله خمسة عشر ثلثا أكل منها ثمانية وبقي سبعة، وأكل لك واحدا من تسعة فلك واحد بواحد وله سبعة، فقال الرجل: رضيت الآن. "الحافظ جمال الدين المزي في تهذيبه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫১৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14513 ابوالوضین سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مہر کے ساتھ ایک شامی کی بیٹی سے شادی کی۔ لڑکی کے باپ نے شادی کے بعد اپنی دوسری لڑی کو شب رفاف کے لیے بھیج دیا جو کسی باندی کی بیٹی تھی۔ آدمی نے جب دوسری لڑکی کے ساتھ مباشرت کرلی تب اس سے پوچھا : تو کس کی بیٹی ہے ؟ لڑکی نے کہا : فلاں باندی کی۔ آدمی کو حیرت ہوئی اور بولا میں نے تو تیرے باپ کے ساتھ اس کی دوسری مہر والی لڑکی سے شادی کی تھی۔ چنانچہ لوگوں نے یہ ماجرا حضرت معاویہ بن ابی سفیان (رض) کی خدمت میں پیش کیا۔ حضرت معاویہ (رض) نے فرمایا : عورت کے بدلے عورت آگئی اور پھر اپنے شامی درباریوں سے پوچھا تو انھوں نے بھی یہی کہا عورت کے بدلے عورت آگئی۔ ایک آدمی نے حضرت معاویہ (رض) کو عرض کیا : آپ ہمیں حضرت علی (رض) کے پاس بھیج دیں۔ چنانچہ حضرت معاویہ (رض) نے حضرت علی (رض) کے پاس مسئلہ کے تصفیہ کے لیے بھیج دیا۔ لوگ حضرت علی (رض) کی خدمت میں پہنچے اور اپنا مسئلہ پیش کیا ۔ حضرت علی (رض) نے زمین سے کچھ تنکا وغیرہ اٹھایا اور فرمایا : اس مسئلہ کا فیصلہ کرنا اس تنکے سے بھی زیادہ آسان ہے۔ آدمی نے جس عورت کے ساتھ جماع کیا ہے، جماع کے عوض مہر تو اس کو ملے گا، لیکن باپ پر لازم ہے کہ اس مہر کے ساتھ اپنی اصل بیٹی کو تیارکرے اور اس کو سامان جہیز دے اور آدمی پھر بھی اس اصل بیوی کے قریب نہ جائے حتیٰ کہ اس دوسری کی عدت پوری ہوجائے۔

ابوالوضین کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضرت علی (رض) نے لڑکی کے باپ کو حد جدل (کوڑے کی سزا) بھی جاری فرمائی یا ارادہ کرلیا۔ مصنف ابن ابی شیبہ
14513- عن أبي الوضين أن رجلا تزوج إلى رجل من أهل الشام ابنة له ابنة مهيرة فزوجه وزف إليه ابنة له أخرى بنت فتاة فسألها الرجل بعد ما دخل بها ابنة من أنت؟ فقالت: ابنة فلانة تعني الفتاة فقال: إنما تزوجت إلى أبيك ابنة المهيرة فارتفعوا إلى معاوية بن أبي سفيان فقال: امرأة بامرأة وسأل من حوله من أهل الشام فقالوا له: امرأة بامرأة فقال الرجل لمعاوية: ارفعنا إلى علي بن أبي طالب فقال: اذهبوا إليه فأتوا عليا فرفع علي شيئا من الأرض وقال: القضاء في هذا أيسر من هذا لهذه ما سقت إليها بما استحللت من فرجها وعلى أبيها أن يجهز الأخرى بما سقت إلى هذه ولا تقربها حتى تنقضي عدة هذه الأخرى، قال: وأحسب أنه جلد أباها أو أراد أن يجلده. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫১৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14514 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : حقوق کا مقاطعہ شروط کے وقت ہوتا ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ
14514- عن عمر قال: إن مقاطع الحقوق عند الشروط. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫১৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14515 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا :

اس (رسول) کے گھر میں فیصل اور حکام پیش ہوتے ہیں (یعنی آل رسول کے گھروں سے فیصلوں کے حکم معلوم ہوتے ہیں) ۔ الجامع لعبد الرزاق

کلام : روایت محل کلام : الاتقان 12010، الاسرار المرفوعۃ 323 ۔
14515- عن عمر قال: في بيته يؤتي الحكم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫১৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14516 عکرمہ (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) سے پوچھا : اگر تم قاضی یا حاکم ہوتے پھر کسی انسان کو اجب الحد گناہ پر دیکھ لیتے تو کیا اس پر حد جاری کردیتے ؟ عبدالرحمن (رض) نے عرض کیا : نہیں، جب تک میرے سوا کوئی اور بھی گواہی نہ دے دیتا۔ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : تم نے ٹھیک کہا۔ اگر اس کے علاوہ جواب دیتے تو ٹھیک نہ دیتے۔ ابن ابی شیبہ
14516- عن عكرمة قال: قال عمر لعبد الرحمن بن عوف: أرأيت لو كنت القاضي والوالي ثم أبصرت إنسانا على حد أكنت مقيما عليه؛ قال: لا حتى يشهد غيري قال: أصبت ولو قلت غير ذلك لم تجد. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫১৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14517 شعبی (رح) سے مروی ہے فرماتے ہیں : جب لوگوں کا کسی معاملے میں اختلاف ہوجائے تو تم یہ دیکھو کہ حضرت عمر (رض) نے یہ قضیہ کس طرح نمٹایا ہے۔ کیونکہ حضرت عمر (رض) ایسے کسی مسئلے میں جس کا فیصلہ پہلے دور میں موجود نہ ہوتا تو کوئی فیصلہ نہ فرماتے تھے تاوقتیکہ لوگوں سے سوال جواب اور مشاورت نہ فرمالیتے۔ ابن سعد، مصنف ابن ابی شیبہ
14517- عن الشعبي قال: إذا اختلف الناس في شيء فانظر كيف صنع عمر فإنه كان لا يصنع شيئا وفي لفظ: فإنه لم يكن يقضي في أمر لم يقض قبله حتى يسأل ويشاور. "ابن سعد ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫১৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14518 حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے دو آدمی اپنی مخاصمت (جھگڑا) حضرت عمر (رض) کے پاس لے گئے۔ اور دونوں ہی نے حضرت عمر (رض) سے اپنے لیے شہادت بھی مانگی۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر تم چاہو تو میں شہادت دیدیتا ہوں لیکن فیصلہ نہیں کرتا اور اگر چاہو تو فیصلہ کردیتا ہوں اور شہادت نہیں دیتا۔ مصنف ابن ابی شیبہ
14518- عن ابن عمر قال: اختصم رجلان إلى عمر بن الخطاب ادعيا شهادته فقال لهما عمر: إن شئتما شهدت ولم أقض بينكما، وإن شئتما قضيت ولم أشهد. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫১৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14519 سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے : کسی عرب کی ایک باندی (قافلے سے) پیچھے رہ گئی اور وہ شہر میں آگئی۔ بنی عذرہ کے ایک آدمی نے اس کے ساتھ شادی کرلی۔ باندی نے اس کا لڑکا بھی جن دیا۔ پھر باندی کا مالک باندی تک پہنچ گیا۔ اس نے باندی اور اس کا لڑکا اپنے ساتھ کرلیا۔ حضرت عمر (رض) نے فیصلہ فرمایا کہ لڑکا عذری کا ہے عذری کے ذمہ ایک غلام یا باندی ہے۔ جو وہ باندی کے مالک کو دے گا۔ لڑکے کے بدلے لڑکا اور لڑکی کے بدلے لڑکی۔ اگر نہ ملے تو شہر والوں کے لیے ساٹھ دینار یا سات سود رہم اور اہل گاؤں پر چھ جوان اونٹنیاں۔ الدارقطنی فی السنن۔
14519- عن سعيد بن المسيب قال: أبقت أمة لبعض العرب فوقعت بوادي القرى فتزوجها رجل من بني عذرة فنثرت له بطنها ثم عثر عليها سيدها فاستاقها وولدها فقضى عمر للعذري بولده وقضى عليه بالغرةلكل وصيف وصيف ولكل وصيفة وصيفة وجعل ثمن الغرة إذا لم توجد على أهل القرى ستين دينارا أو سبع مائة درهم وعلى أهل البادية ست قلائص"قط".
tahqiq

তাহকীক: