কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৭৫ টি

হাদীস নং: ১৪৫২০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14520 سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) عربی کے ہر فدیے۔ جان آزاد کرنے میں چھ جوان اونٹنیاں مقرر فرمائی تھیں اور یہی فیصلہ فرمایا کرتے تھے اس شخص کے بارے میں جو کسی عرب کی باندی سے شادی کرلیتا تھا اس کا فدیہ بھی چھ جوان اونٹنیاں مقرر فرماتے تھے۔ ابوعبید فی الاموال، السنن للبیہقی
14520- عن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب فرض في كل شيء فدى من العربي ست قلائص، وأنه كان يقضي بذلك فيمن تزوج الولائدمن العرب. "أبو عبيد في الأموال ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫২১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14521 ابن سیرین (رح) سے مروی ہے کہ عمر (رض) بن خطاب اور معاذ (رض) بن عفراء کا تنازعہ ہوگیا دونوں نے ابی بن کعب (رض) کو اپنا ثالث مقرر کیا۔ دونوح چل کر ابی بن کعب کے پاس آئے حضرت عمر (رض) بن خطاب نے فرمایا : ان (فیصلہ کرنے والوں) کے گھر میں حکم (حکمران) چل کر آتے ہیں۔ ابی (رض) نے حضرت عمر (رض) پر قسم کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے قسم اٹھائی (اور اپنا حق حاصل کیا) ۔ مصنف لعبد الرزاق
14521- عن ابن سيرين قال: اختصم عمر بن الخطاب ومعاذ بن عفراء فحكما أبي بن كعب فأتياه فقال عمر بن الخطاب: في بيته يؤتى الحكم فقضى على عمر باليمين فحلف. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫২২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14522 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ حضرت مقداد (رض) نے عثمان بن عفان (رض) سے سات ہزار درہم قرض لیے۔ جب حضرت عثمان (رض) نے واپسی کا تقاضا کیا تو مقداد (رض) بولے : آپ کے چار ہزار درہم ہیں۔ حضرت عثمان (رض) نے اپنا مقدمہ حضرت عمر (رض) کی خدمت میں پیش کیا۔ مقداد (رض) نے کہا : آپ عثمان سے قسم لے لیں کہ وہ قرض سات ہزار درہم ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے عثمان قسم اٹھاؤ میں تمہارا حق پورا دلاؤں گا۔ لیکن حضرت عثمان (رض) نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تب تم کو مقداد دے رہے ہیں لے لو۔ السنن للبیہقی

حدیث صحیح ہے۔
14522- عن الشعبي أن المقداد استقرض من عثمان بن عفان سبعة آلاف درهم، فلما تقاضاه قال: إنما هي أربعة آلاف فخاصمه إلى عمر فقال المقداد: حلفه إنها سبعة آلاف فقال عمر: أنصفك فأبى أن يحلف فقال عمر: خذ ما أعطاك. "ق" وصححه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫২৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14523 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ گواہ دعویدار کے ذمہ ہیں اور قسم اس پر ہے جس پر دعویٰ دائر کیا گیا جبکہ وہ دعویدار کے دعویٰ سے انکار کردے۔

ابن خسرو
14523- عن عمر قال: قضى النبي صلى الله عليه وسلم بالبينة على المدعي واليمين على المدعي عليه إذا أنكر. "ابن خسرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫২৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14524 لیث (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) بن خطاب (رض) کے پاس دو فریق اپنا مقدمہ لے کر آئے۔ آپ (رض) نے ان دونوں کو ٹھہرالیا (فیصلہ کرنے کی بجائے ان کو کہیں روک لیا) وہ پھر حاضر خدمت ہوئے آپ نے پھر ٹھہرالیا، وہ پھر تیسری بار حاضر خدمت ہوئے تب ان کے درمیان فیصلہ فرما دیا۔ آپ (رض) سے اس کی وجہ پوچھی گئی، تو آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : جب یہ پہلی بار حاضر ہوئے تو میرے دل میں ایک فریق کے لیے نرم گوشہ تھا جو دوسرے کے لیے نہیں تھا لہٰذا میں نے ایسے حال میں فیصلہ کرنا ناپسند کیا پھر یہ دوسری مرتبہ آئے تو اس وقت بھی کسی قدر سابقہ کیفیت برقرار تھی اس لیے میں نے فیصلہ کرنا نامناسب خیال کیا پھر جب یہ تیسری بار حاضر ہوئے تو وہ کیفیت مجھ سے چھٹ گئی تھی اس لیے میں نے اس بار دونوں کے درمیان فیصلہ کردیا۔
14524- عن ليث قال: تقدم إلى عمر بن الخطاب خصمان فأقامهما ثم عادا فأقامهما ثم عادا ففصل بينهما فقيل له في ذلك، فقال: تقدما إلي فوجدت لأحدهما ما لم أجد لصاحبه، فكرهت أن أفصل بينهما على ذلك، ثم عادا فوجدت بعض ذلك فكرهت، ثم عادا وقد ذهب ذلك ففصلت بينهما الحكم. " ... ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫২৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14525 شعبی (رح) سے مروی ہے کہ کھجور کے ایک ذخیرے کے بارے میں ابی بن کعب اور عمر بن خطاب (رض) کا تنازعہ کھڑا ہوگیا۔ ابی (رض) روپڑے اور بولے : تیری تو بادشاہی ہے (فیصلہ انصاف کس سے ملے گا) حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں اپنے اور تمہارے درمیان کوئی مسلمان ثالث (فیصلہ کرنے والا) مقرر کرلیتا ہوں۔ ابی (رض) نے فرمایا : زید ٹھیک ہیں۔ حضرت عمر (رض) بھی راضی ہوگئے۔ چنانچہ دونوں چل کر زید (رض) کی خدمت میں پہنچے۔ زید (رض) خلیفہ کو دیکھ کر اپنی مسند سے ہٹ گئے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ان کے گھر میں فیصلہ طلب کرنے آئے ہیں۔ تب زید (رض) پہچان گئے کہ یہ دونوں بزرگ اپنا کوئی مقدمہ ان کے پاس لے کر آئے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے ابی کو فرمایا : بیان کرو۔ حضرت ابی (رض) نے واقعہ بیان کیا۔ حضرت عمر (رض) نے ان کو فرمایا : یاد کرو ، شاید تم کچھ بھول رہے ہو، چنانچہ ابی (رض) کو یاد آگیا اور انھوں نے مزید کچھ بیان کیا پھر کہا اور کچھ مجھے یاد نہیں۔ پھر حضرت عمر (رض) نے واقعہ بیان کیا۔ دونوں کی بات سننے کے بعد حضرت زید (رض) نے فرمایا : اے ابی تم اپنے گواہ پیش کرو حضرت ابی (رض) نے فرمایا : میرے پاس کوئی گواہ نہیں ہے۔ تب زید (رض) نے فرمایا : تو امیر المومنین کو قسم کھانے سے معاف رکھو۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا امیر المومنین کو ہرگز معاف نہ کرو اگر تم سمجھتے ہو کہ ان پر قسم آتی ہے۔ ابن عساکر
14525- عن الشعبي قال: تنازع في جذاذ نخل أبي بن كعب وعمر بن الخطاب فبكى أبي ثم قال: أفي سلطانك يا عمر فقال عمر: أجعل بيني وبينك رجلا من المسلمين قال أبي: زيد، قال: رضيت فانطلقا حتى دخلا على زيد، فلما رأي زيد عمر تنحى عن فراشه، فقال عمر: في بيته يؤتي الحكم فعرف زيد أنهما جاءا ليتحاكما إليه، فقال لأبي: نقص فقص فقال له عمر: تذكر لعلك نسيت شيئا فتذكر ثم قص حتى قال: ما أذكر شيئا: فقص عمر فقال زيد بينتك يا أبي فقال: مالي بينة قال: فاعف أمير المؤمنين من اليمين، فقال عمر: لا تعف أمير المؤمنين من اليمين إن رأيتها عليه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫২৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14526 حجار بن ابجز سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں : میں حضرت امیر معاویہ (رض) کے پاس حاضر خدمت تھا کہ دو آدمی ایک کپڑے میں اپنا جھگڑا لے کر حاضر ہوئے۔ ایک نے عرض کیا : یہ میرا کپڑا ہے اور پھر اس نے اس پر گواہ بھی پیش کردیئے۔ دوسرے نے کہا : یہ میرا کپڑا ہے میں نے ایک آدمی سے اس کو خریدا ہے جس کو میں جانتا نہیں ہوں۔ حضرت امیر معاویہ (رض) نے ارشاد فرمایا : کاش اس مسئلے کے لیے ابن ابی طالب ہوتے۔ حجار بن ابجزکہتے ہیں : میں نے عرض کیا : بالکل ایسے ہی ایک مسئلے میں ان کی خدمت میں بھی حاضر تھا ۔ امیر معاویہ (رض) نے پوچھا : پھر انھوں نے کیا فیصلہ فرمایا ؟ میں نے عرض کیا : انھوں نے کپڑے کا فیصلہ اس شخص کے لیے کردیا جس نے گواہ قائم کیے تھے اور دوسرے کو فرمایا : تو نے اپنے مال ضائع کردیا۔ ابن عساکر
14526- عن حجار بن أبجر قال: كنت عند معاوية فاختصم إليه رجلان في ثوب فقال أحدهما: هذا ثوبي وأقام البينة وقال الآخر: ثوبي اشتريته من رجل لا أعرفه فقال: لو كان لها ابن أبي طالب فقلت قد شهدته في مثلها، قال: كيف صنع قلت قضى بالثوب للذي أقام البينة وقال للآخر: أنت ضيعت مالك. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫২৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14527 قتادہ (رح) سعید بن المسیب (رح) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کی آنکھ کو چوٹ پہنچا دی، جس سے اس کی کچھ بینائی چلی گئی اور کچھ رہ گئی۔ اس نے یہ مقدمہ حضرت علی (رض) کی خدمت میں پیش کیا۔ حضرت علی (رض) اس کی صحیح آنکھ پر پٹی بندھوادی اور ایک آدمی کو انڈا دے کر چلتا کیا جبکہ یہ کم نظر والی آنکھ سے اس کو دیکھتا رہا حتیٰ کہ اس کو انڈانظر آنا بند ہوگیا۔ اس مقام پر آپ (رض) نے نشانی لگوادی۔ پھر اس نے دوسری آنکھ کھول کر اس کو دیکھا تو اس نشانی کے مقام کو واضح پایا پھر جس قدر اس کی نگاہ کم ہوئی اس کی بقدر دوسرے سے مال لے کر اس کو دلوایا۔ السنن للبیہقی
14527- عن قتادة عن سعيد بن المسيب أن رجلا أصاب عين رجل فذهب بعض بصره وبقي بعض فرفع ذلك إلى علي فأمر بعينه الصحيحة فعصبت فأمر رجلا ببيضة فانطلق بها وهو ينظر حتى انتهى بصره ثم خط عند ذلك علماثم نظر في ذلك فوجدوه سواء فأعطاه بقدر ما نقص ثم خط عنها من مال الآخر. "هق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫২৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14528 عبداللہ بن ابی ہبیرۃ سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) نے فیصلہ فرمایا کہ ایک غلام جس کے عقد میں آزاد عورت تھی، اس نے اس غلام کے کئی بچے بھی جنم دیئے اور وہ اپنی ماں کی آزادی کی وجہ سے آزاد ہوگئے ، فرمایا : پھر ان کا باپ بھی آزاد ہوجائے گا ان کی ماں کے عصبہ کے ساتھ ان کی ولایت پانے کے بعد۔ السنن للبیہقی
14528- عن عبد الله بن أبي هبيرة أن عليا قضى في عبد كانت تحته حرة فولدت أولادا فعتقوا بعتاقة أمهم ثم أعتق أبوهم بعد أن ولاهم بعصبة أمهم. "هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫২৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14529 عمران بن حارثہ بن ظفر الحنفی اپنے والد حارثہ سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ ایک جھونپڑے کے بارے میں اپنا مقدمہ لے کر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حذیفہ (رض) کو ان کا فیصلہ کرنے کے لیے بھیجا۔ چنانچہ حضرت حذیفہ (رض) نے جھونپڑے کا فیصلہ اس شخص کے لیے فرمادیا جو اس کے رسوں (کو باندھنے) کے قریب تھا۔ چنانچہ جب وہ فیصلہ کرکے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور آکر فیصلہ کی خبر سنائی تو حضور نے فرمایا : تو نے درست فیصلہ کیا اور اچھا فیصلہ کیا۔ ابونعیم

کلام : روایت محل کلام ہے : ضعاف الدارقطنی 69 ضعیف ابن ماجہ 513 ۔
14529- عن عمران بن حارثة بن ظفر الحنفي عن أبيه أن قوما اجتمعوا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في خص فبعث إليهم حذيفة ليقضي بينهم فقضى به للذي يليه القمط فلما أتى النبي صلى الله عليه وسلم أخبره فقال: أصبت وأحسنت. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫৩০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14530 عقیل بن دینار سے مروی ہے جو کہ حارثۃ کے آزاد کردہ غلام ہیں، وہ انہی حارثہ بن ظفر سے روایت کرتے ہیں کہ ایک (جھونپڑے نما) گھیری ہوئی جگہ تھی جو ان کے درمیان تھی۔ ان کا اس کے اندر تنازعہ ہوا تو وہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حذیفہ بن الیمان کو فیصلہ کرنے کے لیے بھیجا۔ آگے روایت مذکورہ بالا روایت کے مثل ہے۔ ابونعیم
14530- عن عقيل بن دينار مولى حارثة عن حارثة بن ظفر أن حصاراكان وسط دار فاختصموا إلى النبي صلى الله عليه وسلم فيه فبعث حذيفة بن اليمان فذكر نحوه. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫৩১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14531 جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ دو آدمی ایک اونٹ کے متعلق اپنا تنازعہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے اور دونوں میں سے ہر ایک نے دو گواہ قائم کردیئے۔ چنانچہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس اونٹ کو دونوں کے درمیان مشترک قرار دیدیا۔

الکبیر للطبرانی
14531- عن جابر بن سمرة رجلين اختصما إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعير فأقام كل واحد منهما بشاهدين أنه له فجعله النبي صلى الله عليه وسلم بينهما. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫৩২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14532 زید بن ارقم سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں موجود تھے کہ یمن سے ایک شخص آیا ان دنوں حضرت علی (رض) حضور کی طرف سے امیر بن کر یمن گئے ہوئے تھے۔ یمن سے آنے والا شخص حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دیتے ہوئے بتانے لگا کہ :

تین آدمیوں کا ایک لڑکے پر دعویٰ

یارسول اللہ ! حضرت علی (رض) کے پاس تین آدمی آئے۔ تینوں نے ایک بچے کے بارے میں اپنا تنازعہ حضرت علی (رض) کی خدمت میں پیش کیا۔ ہر ایک گمان تھا کہ یہ لڑکا اس کا ہے۔ درحقیقت ان تینوں نے ایک عورت کے ساتھ ایک ہی پاکی میں جماع کیا تھا (جس کے نتیجے میں یہ لڑکا پیدا ہوا) ۔ چنانچہ حضرت علی (رض) نے تم تینوں ایک دوسرے کے ساتھ گھنے شریک ہو۔ میں تم تینوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتا ہوں ۔ پس جس کے نام قرعہ نکل آیا لڑکا اس کا ہوجائے گا اور اس پر دو تہائی دیت کے واجب ہوں گے۔ جو وہ اپنے دونوں ساتھیوں کو ادا کردے گا۔ لہٰذا حضرت علی (رض) نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا اور جس کے نام قرعہ نکلا لڑکا اس کے حوالہ کردیا اور اس پر اس کے دونوں ساتھیوں کے لیے ایک ایک تہائی دیت واجب کردی۔

یہ فیصلہ سن کر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس قدر ہنسے کہ آپ کے کیچلی کے دانت یا ڈاڑھیں نظر آنے لگیں۔ الجامع لعبد الرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ
14532- عن زيد بن أرقم قال: بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ أتاه رجل من أهل اليمن وعلي بها، فجعل يحدث النبي صلى الله عليه وسلم ويخبره قال: يا رسول الله أتي عليا ثلاثة نفر فاختصموا في ولد كلهم زعم أنه ابنه وقعوا على امرأة في طهر واحد فقال علي: إنكم شركاء متشاكسون وإني مقرع بينكم فمن قرعفله الولد وعليه ثلثا الدية لصاحبيه فأقرع بينهم، فقرع أحدهم فدفع إليه الولد وجعل عليه ثلثي الدية فضحك النبي صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذه أو أضراسه. "عب ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫৩৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14533 عبداللہ بن ابی حدرداسلمی سے مروی ہے کہ ایک یہودی کے ان پر چار درہم قرض تھے۔ اس نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کی شکایت کی اور عرض کیا : اے محمد ! میرے اس پر چار درہم ہیں۔ اور یہ عدم ادائیگی میں مجھ پر غالب آگئے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کا حق ادا کردو ۔ عبداللہ بن ابی حدرد نے عرض کیا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر ارشاد فرمایا : اس کا حق ادا کردو۔ میں نے پھر عرض کیا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ میں نے اس کو کہا تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں خیبر کے جہاد کے لیے بھیجنے والے ہیں۔ تو مجھے امید ہے کہ ہم مال غنیمت لے کر لوٹیں گے پھر میں آکر اس کا قرض چکادوں گا۔ لیکن حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیسری بار بھی ارشاد فرمایا : اس کا حق ادا کردو۔ اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب تین بار ارشاد فرما دیتے تو پھر دوبارہ نہ فرماتے تھے۔ چنانچہ عبداللہ بن ابی حرد اس فکر میں بازار کو نکلے، سر پر عمامہ باندھے ہوئے تھے۔ جبکہ ایک یمنی چادر بطور لنگی تہہ بند باندھی ہوئی تھی۔ آپ (رض) نے سر سے عمامہ کھول کر اس کی ازار باندھ لی اور یمنی چادر نکال کر اس یہودی کو بولے لے میری یہ چادر چار درہم میں خرید لے۔ چنانچہ انھوں نے وہ چادر اس کو فروخت کردی۔ ایک بڑھیا آپ (رض) کے پاس گزری اور پوچھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھی تجھے کیا ہوا ہے ؟ انھوں نے اس کو سارے واقعے کی خبر سنائی تو بڑھیا جس نے وہی چادر کندھے پر ڈال رکھی تھی اتار کر عبداللہ کی طرف اچھال دی اور بولی یہ لے تیری چادر۔ ابن عساکر
14533- عن عبد الله بن أبي حدرد الأسلمي أنه كان ليهودي عليه أربعة دراهم فاستعدىعليه فقال: يا محمد إن لي على هذا أربعة دراهم، وقد غلبني عليها؟ قال: أعطه حقه، قال: والذي بعثك بالحق ما أقدر عليها، قال: أعطه حقه قال: والذي نفسي بيده ما أقدر عليها قد أخبرته أنك تبعثنا إلى خيبر فأرجو إن تغنمنا شيئا فأرجع فأقضيه قال: أعطه حقه وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قال ثلاثا لم يراجع فخرج ابن أبي حدرد إلى السوق وعلى رأسه عصابة وهو متزر ببردة فنزع العمامة عن رأسه فاتزر بها ونزع البردة فقال: اشتر مني هذه البردة فباعها منه بأربعة دراهم فمرت عجوز فقالت: مالك يا صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبرها فقالت ها دونك هذا البرد عليها طرحته عليه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫৩৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14534 ابن الیمنی ، حجاج ارطاۃ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتاتے ہیں کہ مجھے ابوجعفر نے خبر دی کہ ایک کھجور کا درخت دو آدمیوں کے درمیان مشترک تھا۔ دونوں کا اس کے متعلق جھگڑا ہوگیا اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ ایک نے کہا : اس کو ہمارے درمیان آدھا آدھا چیر کر تقسیم فرمادیں۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام میں ضرر (نقصان ) نہیں ہے (اس طرح وہ کسی کام کا نہ رہے گا) دونوں اس کی قیمت لگالیں (اور قیمت کے لین کے ساتھ تنازع رفع کرلیں) ۔ الجامع لعبد الرزاق
14534- أنبأنا ابن اليمني عن الحجاج بن أرطاة أخبرني أبو جعفر أن نخلة كانت بين رجلين فاختصما فيها إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال أحدهما: اشققها نصفين بيني وبينه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا ضرر في الإسلام يتقاومان فيها. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫৩৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14535 ابن جریج سے مروی ہے کہ عمرو بن شعیب کہتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ اگر والد یا اولاد کا انتقال ہوجائے اور وہ مال یا ولاء (آزاد کردہ غلام کی وراثت) چھوڑ کر جائے تو وہ اس کے وارثوں کے لیے ہوگا جو بھی ہوں۔ نیز حقیقی بھائی جو ماں باپ شریک ہو وہ کلالہ۔ جس کے اولاد اور ماں باپ نہ ہوں کی میراث کا زیادہ حقدار ہے، پھر باپ شریک بھائی زیادہ حقدار ہے بنسبت حقیقی بھتیجوں (جو ماں باپ شریک بھائی کی اولاد ہوں) جب ماں باپ کی اولاد اور صرف باپ کی اولاد ایک جگہ شریک ہوں تو ماں باپ شریک اولاد زیادہ حقدار ہے بنسبت صرف باپ شریک اولاد کے۔ جب باپ کی اولاد ارفع آگے ہو ماں باپ کی اولاد سے تو باپ کی اولاد زیادہ حقدار اور اولیٰ ہے۔

جب سب نسب میں برابر ہوں تو بنوالاب والام (ماں باپ شریک اولاد) بنوالاب (صرف باپ شریک اولاد) سے اولیٰ (مقدم) ہے۔ نیز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا : ماں باپ شریک چچا اولیٰ ہے بنسبت صرف باپ شریک چچا سے۔ نیز باپ شریک چچا ماں باپ شریک بھتیجوں سے زیادہ اولیٰ ہے۔ جب بنوالاب والام اور بنوالاب نسب میں بمنزلہ واحد یعنی ایک مرتبہ میں ہوں تو بنوالاب والام اولیٰ ہے بنوالاب سے۔ پس جب بنوالاب ارفع (اعلیٰ نسب) ہوں بنی الاب والا باب سے (تو بنوالاب اولیٰ ) ہیں بنی الاب والام سے۔ جب سب نسب میں برابر ہوں تو بنوالاب والا اولیٰ ہیں بنوالاب سے۔ نیز فرمایا : بھائی اور بھتیجے کی موجودگی میں چچا اور چچا زاد وارث نہیں ہوسکتے۔ بھائی اور بھتیجے میں سے جو موجود ہو وہ میراث کا زیادہ حقدار ہے چچا اور چچا زاد سے۔ نیز حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ آزاد کردہ غلاموں میں سے جس کے عصبہ موجود ہوں وہ اس کے وارث ہوں گے کتاب اللہ میں مقرر کردہ حصوں کے مطابق۔ اگر ان کے حصے ادا کرنے کے بعد مال بچ جائے تو دوبارہ انہی حصوں کے مطابق میراث تقسیم ہوگی حتیٰ کہ وہ عصبہ اس کے سارے مال کے وارث ہوجائیں نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا : کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا خواہ اس کے سوا اس کا کوئی وارث نہ ہو۔ اسی طرح مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوسکتا، جو اس کا وارث ہوگا وہ اس کی وراثت پائے گا یا اس کا رشتہ دار اس کی وراثت پائے گا۔ اگر مسلمان کا کوئی وارث حقیقی یا رشتہ دار نہیں ہے تو عام مسلمان۔ بیت المال کی شکل میں اس کا وارث ہوگا۔

نیز نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ ہر وہ مال جو جاہلیت میں تقسیم ہوگیا وہ اسی تقسیم پر رہے گا۔ اور جس مال پر اسلام آگیا اور وہ ہنوز تقسیم نہیں ہوا وہ اسلام کی تقسیم پر تقسیم ہوگا۔

نیز عمرو بن شعیب نے ذکر کیا کہ لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنی میراث اور وارثوں کے بارے میں بات چیت کی جن کے وہ اوپر سے ایک دوسرے کے بعد وارث چلے آرہے تھے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمادیا اور فیصلہ فرمایا کہ ہر لاحق ہونے والا بچہ اوائل اسلام میں یہ احکام پیدا ہوئے کیونکہ جاہلیت میں لوگوں کی ان یہ باندی ہوا کرتی تھیں اور لوگ ان کے ساتھ بدکاری کا پیشہ کرواتے تھے۔ پس جب کسی باندی کو کوئی بچہ ہوتا تو یا تو اس کا مالک بچہ کو اپنا کہہ دیتا تھا ورنہ کوئی زانی اپنا کہہ دیتا تھا اور پھر وہ اس کا وارث ہوجاتا تھا اگر وہ اپنے باپ کے جانے کے بعد اس کی طرف منسوب ہوا اور وارثوں نے بھی اس کو ملالیا تو اگر وہ اس باندی کا ہے جو اس کے باپ کی ملکیت تھی جب وہ اس کے ساتھ ہم بستر ہوا تو تب وہ اس کے ساتھ لاحق ہوجائے گا یعنی اس کا بیٹا قرار پائے گا۔ لیکن اس کی میراث میں وارث نہ ہوگا ہاں اگر دوسرے وارث اس کو شریک کرنا چاہیں تو جو جو شریک کریں انی کے حصے میں وارث ہوگا۔ اور اگر اس نے پہلے ہی باپ کی طرف منسوب ہونے کا دعویٰ کردیا اور پھر وارثوں نے اس کے باپ کی وارثت پائی تو تب اس کا بھی وارثت بھی حصہ ہوگا۔

نیز نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ اگر وہ لڑکا ایسی باندی کا ہے جس کا مالک اس لڑکے کا باپ نہیں تھا پس وہ جس کا پکارا جائے (جس کی طرف منسوب ہو) یا وہ ایسی آزاد عورت کا لڑکا ہے جس کے ساتھ وہ متہم ہے (یعنی بدکاری کے نتیجے میں آزاد عورت سے پیدا ہوا ہے) تو یہ دونوں طرح کی اولاد باپ کے ساتھ نہیں لاحق ہوں گی اور نہ اس کی وارث ہوں گی خواہ وہ جس کا پکارا جاتا ہے اس نے خود اس کا دعویٰ کیا ہے تب بھی وہ اس کا شمار نہ ہوگا بلکہ وہ ولدالزنا (حرامی) ہوگا صرف ماں کی طرف منسوب ہوگا خواہ اس کی ماں آزاد ہو یا باندی۔

نیز حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بچہ صاحب بستر (شوہر یا باندی کے آقا) کا ہے اور زانی کے لیے (سنگساری کے) پتھر ہیں۔

نیز حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا جو زمانہ جاہلیت میں کسی کا حلیف بنا۔ ان کا فرد بنا تو وہ (اسلام میں بھی) انہی کا حلیف ہے اور اس کو ان کی دیت کا حصہ بھی ملے گا اور اس کے حلیف اپنی دیت کی ادائیگی میں اس پر بھی تاوان رکھیں گے اور اس کی میراث اس کے عصبہ کے لیے ہوگی جو بھی ہوں۔ نیز حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام میں (اس طرح کا کوئی) حلف نہیں ہے (جس سے وہ اپنے خاندان سے کٹ کر حلیفوں کا ہوجائے) لیکن جاہلیت کے حلف کو تھامے رکھو۔ بیشک اللہ تعالیٰ اس کو اسلام میں مضبوطی ہی دیتے ہیں بجائے کسی کمی کے۔

نیز حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمادیا کہ عمریٰ اس کے لیے جس نے جاری کیا (کسی نے کہا) یہ اونٹ یا زمین یا مکان میری یا تیری زندگی تک تیرے لیے ہے تو وہ اس کو زندگی کے بعد مالک کو واپس لوٹ جائے گا۔

نیز حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ موضحۃ (وہ زخم جو ہڈی کی سفیدی ظاہر کردے) میں پانچ اونٹ ہیں یا ان کی قیمت کے برابر سونا یا چاندی یا گائیں یا بکریاں۔ اور منقلہ (وہ زخم جس سے چھوٹی ہڈیاں نکل آئیں اور اپنی جگہ سے سرک جائیں) میں پندرہ اونٹ ہیں۔ یا ان کے برابر سونا یا چاندی یا گائیں یا بکریاں۔ نیز حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آنکھ ضائع کرنے میں پچاس اونٹ مقرر فرمائے یا ان کے برابر سونا یا چاندی یا گائیں یا بکریاں۔ نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوری ناک کاٹنے میں پوری دیت لازم فرمائی اور اگر ناک کا سرا کاٹ دیا جائے تو اس میں نصف دیت یعنی پچاس اونٹ مقرر فرمائے یا ان کی قیمت کے برابر سونا یا چاندی یا گائیں یا بکریاں۔ ہاتھ میں نصف دیت پاؤں میں نصف دیت، یعنی پچاس اونٹ یا ان کی قیمت کے برابر سونا یا چاندی یا گائیں یا بکریاں۔ اور انگلیوں میں ہر انگی میں دس دس اونٹ مقرر فرمائے اور اس میں تمام انگلیاں برابر ہیں۔ یادس اونٹوں کی قیمت کے برابر سونا یا چاندی یا گائیں یا بکریاں۔

ٹانگ میں سینگ مارنے کا فیصلہ

نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا ایک شخص کے بارے میں جس کی ٹانگ میں کسی نے سینگ ماردیا۔ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے بدلہ دلائیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ٹھہر جاؤ جب تک کہ تمہارا زخم ٹھیک ہوجائے۔ لیکن آدمی بدلہ لینے پر مصر رہا ۔ چنانچہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بدلہ دلوادیا۔ لیکن جس سے بدلہ لیا گیا تھا وہ تو صحیح ہوگیا اور بدلہ لینے والا لنگڑا ہوگیا۔ اس نے عرض کیا : میں تو لنگڑا ہوگیا جبکہ میرا ساتھی صحیح سالم ہوگیا۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا میں نے تجھے حکم نہیں دیا تھا کہ تو بدلہ نہ لے جب تک کہ تیرا زخم نہ بھر جائے مگر تو نے میری بات نہ مانی، پس اللہ تجھے سمجھے، اب تیرا لنگڑا پن بیکار ہوگیا۔ اس کا بدلہ دوبارہ نہیں لیا جاسکتا۔

پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم فرمایا : یہ شخص جو لنگڑا ہوگیا اس کے علاوہ جس کو کوئی (کاری) زخم پہنچے تو وہ بدلہ نہیں ہے بلکہ اس کی دیت لی جائے گی اور اگر کسی نے زخم کا بدلہ زخم سے لیا مگر وہ (لنگڑے پن کی) مصیبت میں بدل گیا تو وہ پہلے والے سے دیت لے گا مگر اس سے زخم کا بدلہ وضع کیا جائے گا۔

نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ کسی مسلمان کو کسی کافر کے عوض قتل کیا جائے۔ نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ جو (غلام) آدمی جاہلیت میں مسلمان ہوگیا اس کا فدیہ آٹھ اونٹ ہیں اور اس کا بچہ اگر باندی سے ہو تو اس کا بدلہ دو دو خدمت گار ہیں ایک ایک مذکر ایک ایک مونث۔ نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جاہلیت کی قیدی عورت میں دس اونٹوں کے فدیے کا فیصلہ فرمایا اور اس کے بچے میں جو غلام سے پیدا ہوا ہو دودو خدمت گار کا فدیہ ہے، نیز اس کی ماں کے موالی کی دیت کا فیصلہ فرمایا جو کہ اس کی ماں کے عصبہ ہیں۔ پھر ان عصبہ کو اس بچے کی اور عورت کی میراث ملے گی جب تک کہ بچے کا باپ آزادنہ ہو۔

نیز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قیدی میں چھ اونٹوں کا فیصلہ فرمایا آدمی میں عورت میں اور بچے میں بھی۔ اور یہ صرف عرب کے آپس میں ہے۔

اور جو عرب میں جاہلیت میں نکاح ہوا یا طلاق ہوئی پھر ان کو اسلام کا زمانہ آگیا (اور وہ مسلمان ہوگئے) تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اسی حال پر برقرار رکھا، سوائے سود کے چونکہ جس سود پر اسلام آگیا اور وہ ابھی حاصل نہیں ہوا تو وہ مال کے مالک کو صرف اصل واپس کیا جائے گا اور ربوا (سود) ختم کردیا جائے گا۔ الجامع لعبد الرزاق
14535- عن ابن جريج قال: قال عمرو بن شعيب قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم إن مات الوالد أو الولد عن مال أو ولاء فهو لورثته من كانوا، وقضى أن الأخ للأب والأم أولى الكلالةبالميراث ثم الأخ للأب أولى من بني الأخ للأب والأم فإذا كان بنو الأب والأم وبنو الأب بمنزلة واحدة فبنو الأب والأم من بني الأب، فإذا كان بنو الأب أرفع من بني الأب والأم بأب فبنو الأب أولى، فإذا استووا في النسب فبنو الأب والأم أولى من بني الأب، وقضى أن العم للأب والأم أولى من العم للأب وأن العم للأب أولى من بني العم للأب والأم فإذا كان بنو الأب والأم وبنو الأب بمنزلة واحدة نسبا واحدا فبنو الأب والأم أولى من بني الأب؛ فإذا كان بنو الأب أرفع من بني الأب والأم بأب فبنو الأب أولى من بني الأب والأم، فإذا استووا في النسب فبنو الأب والأم أولى من بني الأب، لا يرث عم ولا ابن عم مع أخ وابن أخ، الأخ وابن الأخ ما كان منهم أحد أولى بالميراث ما كانوا من العم وابن العم، وقضى أنه من كانت له عصبة من المحررينفلهم ميراثه على فرائضهم في كتاب الله فإن لم يستوعب فرائضهم ماله كله، رد عليهم ما بقي من ميراثه على فرائضهم حتى يرثوا ماله كله، وقضى أن الكافر لا يرث المسلم وإن لم يكن له وارث غيره وأن المسلم لا يرث الكافر ما كان له وارث يرثه أو قرابة به فإن لم يكن له وارث يرثه أو قرابة به ورثه المسلم بالإسلام.

وقضى أن كل مال قسم في الجاهلية فهو على قسمة الجاهلية وأن ما أدرك الإسلام ولم يقسم فهو على قسمة الإسلام، وذكر أن الناس كلموا رسول الله صلى الله عليه وسلم في مواريثهم وكانوا يتوارثون كابرا عن كابر ليرفعها فأبى وقضى أن كل مستلحقادعى من بعد أبيه ادعاه وارثه فقضى أنه إن كان من أمة أصابها وهو يملكها فقد لحق بمن استلحقه وليس له من ميراث أبيه الذي يدعى له من شيء إلا أن يورثه من استلحقه في نصيبه، وإنه ما كان من ميراث ورثوه بعد أن ادعى فله نصيب منه، وقضى أنه إن كان من أمة لا يملكها أبوه فالذي يدعى له أو من حرة عير بها فقضى أنه لا يلحق ولا يرث وإن كان الذي يدعى له هو ادعاه فإنه ولد زنا لأهل أمه من كانوا حرة أو أمة وقال: الولد للفراش وللعاهر الحجر، وقضى أنه من كان حليفا حولف في الجاهلية فهو على حلفه وله نصيبه من العقلوالنظر يعقل عنهمن حالفه وميراثه لعصبته من كانوا، وقال: لا حلف في الإسلام وتمسكوا بحلف الجاهلية، فإن الله تعالى لم يزده في الإسلام إلا شدة، وقضى أن العمرىلمن أعمرها، وقضى في الموضحةبخمس من الإبل أو عدلها من الذهب أو الورق أو البقر أو الشاء وفي المنقلة.5

خمس عشرة من الإبل أو عدلها من الذهب أو الورق أو البقر أو الشاء، وقضى في العين خمسين من الإبل أو عدلها من الذهب أو الورق أو البقر أو الشاء، وقضى في الأنف إذا جدع كله بالعقل كاملا، وإذا جدعت روثتهبنصف العقل خمسين من الإبل أو عدلها من الذهب أو الورق أو البقر أو الشاء، وفي اليد نصف العقل وفي الرجل نصف العقل خمسين من الإبل أو عدلها من الذهب أو الورق أو البقر أو الشاء، وفي الأصابع عشرا عشرا في كل أصبع لا زيادة بينهن أو قدر ذلك من الذهب أو الورق أو البقر أو الشاء، قال: وقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في رجل طعن آخر بقرن في رجله فقال: يا رسول الله أقدنيفقال: حتى يبرأ جراحك فأبى الرجل إلا أن يستقيد فأقاده النبي صلى الله عليه وسلم فصح المستقاد منه وعرج المستقيد، فقال: عرجت وبرأصاحبي فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ألم آمرك أن لا تستقيد حتى تبرأ جراحك فعصيتني فأبعدك الله وبطل عرجك ثم أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم من كان به جرح بعد الرجل الذي عرج أن لا يستقيد حتى يبرأ جرح صاحبه فالجرح على ما بلغ حتى يبرأ فما كان من شلل أو عرج فلا قود فيه وهو عقل ومن استقاد جرحا فأصيب المستقاد منه فعقل ما فضل من ديته على جرح صاحبه له وقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن لا يقتل مسلم بكافر، وقضى رسول الله صلى الله عليه وسلم في فداء رقيق العرب من أنفسهم، فقضى في الرجل الذي يسلم في الجاهلية بثمان من الإبل وفي ولد إن كان له لأمه بوصيفينوصيفين كل إنسان منهم ذكرا أو أنثى، وقضى في سبية الجاهلية بعشر من الإبل وقضى في ولدها من العبد بوصيفين وصيفين وبدية موالي أمه وهم عصبتها، ثم لهم ميراثه وميراثها ما لم يعتق أبوه، وقضى في سبى الإسلام بست من الإبل في الرجل والمرأة والصبي، وذلك في العرب بينهم وما كان من نكاح أو طلاق كان في الجاهلية فأدركه الإسلام إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أقره على ذلك إلا الربا فما أدرك الإسلام من ربا لم يقبض رد إلى البائع رأس ماله وطرح الربا. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫৩৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14536 ام سلمہ (رض) سے مروی ہے کہ دو انصاری آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس میراث کے متعلق اپنا جھگڑا لے کر حاضر ہوئے جو پرانی ہوچکی تھی اور نہ ہی ان کے پاس کوئی گواہ تھے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم میرے پاس اپنا جھگڑا لے کر آئے ہو اور جن چیزوں میں مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی میں ان میں اپنی رائے کے ساتھ فیصلہ کردیتا ہوں۔ پس یاد رکھو میں جس کی حجت کو دیکھ کر ایسا فیصلہ کردوں جس سے وہ اپنے بھائی کے حق کو ہتھیار لے تو وہ ہرگز اس کو وصول نہ کرے کیونکہ درحقیقت میں اس کے لیے جہنم کی آگ کا ایک ٹکڑا نکال دیتا ہوں۔ جس کو وہ قیامت کے دن اپنی گردن میں ڈالے ہوئے آئے گا۔ یہ سن کر دونوں آدمی رو پڑے اور دونوں میں سے ہر ایک بول اٹھا : یارسول اللہ ! میرا حق اس کو آیا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تم نے یہ اچھا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو جاؤ اور بھائی چارگی کے ساتھ حق کو تقسیم کرو اور قرعہ ڈال کر حصہ تقسیم کرلو اور پھر ہر ایک دوسرے کے لیے لیا دیا حلال کردے۔

مصنف ابن ابی شیبہ، ابوسعید النقاش فی القضاۃ
14536- عن أم سلمة قالت: جاء رجلان من الأنصار يختصمان إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في مواريث قد درست ليس لهما بينة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إنكم تختصمون إلي وإنما أقضى برأي فيما لم ينزل علي فيه فمن قضيت له فيه بحجته يقتطع بها شيئا من حق أخيه فلا يأخذه، فإنما أقطع له قطعة من النار يأتي يوم القيامة انتظاما في عنقه فبكى الرجلان وقال كل واحد منهما: يا رسول الله حقي له؛ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أما إذا فعلتما ما فعلتما فاذهبا وتوخيا الحق واقتسسما واستهماوليحللكل واحد منكما صاحبه. "ش وأبو سعيد النقاش في القضاة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫৩৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14537 ہمیں معمر نے عاصم سے روایت کیا، عاصم نے شعبی سے روایت کیا، شعبی نے قتادہ (رض) سے روایت کیا اور قتادہ نے بیان کیا کہ :

ایک آدمی حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس آیا اور ان سے ایک عورت کے متعلق مسئلہ دریافت کیا جس کا شوہر اس حال میں انتقال کر گیا کہ اس نے اپنی اس عورت کے مباشرت (جماع) نہیں کیا تھا۔ اور نہ اس کے لیے کچھ (مہر وغیرہ) مقرر کرکے گیا۔ حضرت ابن مسعود (رض) نے اس کو فرمایا : تم یہ سمئلہ اور لوگوں سے دریافت کرلو، کیونکہ بتانے والے لوگ بہت ہیں۔ آدمی نے کہا : اللہ کی قسم ! اگر مجھے سال بھر بھی ٹھہرنا پڑا تب بھی میں کسی اور سے سوال نہ کروں گا۔ آخر ابن مسعود (رض) نے اس کو مہینہ بھر پھرایا۔ پھر ایک دن حضرت ابن مسعود (رض) کھڑے ہوئے، وضو کیا پھر دو رکعات نماز ادا کی اور یہ دعا کی :

اللھم ما کان من صواب فمنک وما کان خطافمنی۔

اے اللہ ! جو درست ہو وہ تجھ سے ہے اور غلط ہو تو میری طرف سے ہے۔

پھر ارشاد فرمایا : میرا خیال ہے کہ اس عورت کو اس آدمی کی دوسری عورت جتنا مہر دیا جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اس کو اس کی میراث بھی ملے گی نیز اس پر عدت گزارنا بھی لازم ہوگی۔ یہ سن کر آدمی جوش سے اٹھ کھڑا ہوا اور بولا : میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ نے بالکل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسا فیصلہ کیا ہے جو انھوں نے بروع بنت واشق کے بارے میں کیا تھا اور وہ ھلال بن امیہ کی بیوی تھی۔ حضرت ابن مسعود (رض) نے ارشاد فرمایا : تیرے سوا یہ فیصلہ کسی اور نے بھی سنا تھا ؟ عرض کیا : جی ہاں، پھر وہ اپنے ساتھ اپنی قوم کے کئی افراد کو لے کر حاضر ہوا اور انھوں نے بھی اس بات کی شہادت دی۔ چنانچہ لوگوں نے ابن مسعود کو کسی اور چیز پر اتنا خوش نہیں دیکھا جتنا وہ اس بات پر خوش ہوئے کہ ان کا فیصلہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلے کے موافق ہوگیا۔

فائدہ : مذکورہ روایت ابوداؤد نے کتاب النکاح باب فیمن تزوج ولم یسم صدقاً حتیٰ مات، رقم 210, 2, 2100 پر قریب قریب انہی الفاظ کے روایت کی ہے۔ نیز دیکھئے سنن الترمذی رقم 1145 ۔ امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں ابن مسعود (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے۔
14537- أنبأنا معمر عن عاصم عن الشعبي عن قتادة أيضا أن رجلا أتى ابن مسعود فسأله عن امرأة توفي عنها زوجها ولم يدخل بها ولم يفرض لها؟ فقال له ابن مسعود: سل الناس فإن الناس كثير فقال الرجل: والله لو مكثت حولا ما سألت غيرك، فردده ابن مسعود شهرا، ثم قام فتوضأ ثم ركع ركعتين ثم قال: اللهم ما كان من صواب فمنك وما كان خطأ فمني، ثم قال: أرى لها صداق أحد نسائها ولها الميراث مع ذلك وعليها العدة فقام رجل من أشجع فقال: أشهد لقضيت فيها بقضاء رسول الله صلى الله عليه وسلم في بروع بنت واشق كانت تحت هلال بن أمية. فقال ابن مسعود: هل سمع هذا معك أحد؛ قال: نعم فأتى بنفر من قومه فشهدوا بذلك، فما رأوا ابن مسعود فرح بشيء ما فرح بذلك وافق قضاء رسول الله صلى الله عليه وسلم
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫৩৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14538 ہمیں معمر نے جعفر بن برقان سے روایت بیان کی ، جعفر نے حکم سے روایت نقل کی کہ : جب مذکورہ روایت حضرت علی (رض) کو پہنچی تو انھوں نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے متعلق اعراب (بدوؤں) کی بات کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔ الجامع لعبد الرزاق
14538- أنبأنا معمر عن جعفر بن برقان عن الحكم قال: فبلغ ذلك عليا فقال: لا تصدق الأعراب على رسول الله صلى الله عليه وسلم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৪৫৩৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14539 حضرت ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ دو جھگڑالو جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اپنا مقدمہ لے کر آتے اور دونوں کے درمیان وعدہ پورا کرنے کی تاریخ طے ہوتی تو جو ان میں وعدہ وفا کرتا آپ اسی کے مطابق فیصلہ دیدیا کرتے تھے۔ ابوسعید النقاش فی القضاۃ

کلام : روایت کی سند میں خالد بن نافع ضعیف ہے۔
14539- عن أبي موسى قال: كان الخصمان إذا اختصما إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتعدا للموعد فوافى أحدهما ولم يواف الآخر قضى للذي يفي منهما. "أبو سعيد النقاش في القضاة" وفيه خالد بن نافع ضعيف.
tahqiq

তাহকীক: