কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৫ টি
হাদীস নং: ১৪৫৪০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14540 ابوموسیٰ (رض) سے مروی ہے کہ دو آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اپنا مقدمہ لے کر حاضر ہوئے ، دونوں میں سے کسی کے پاس گواہ نہیں تھے چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس متنازعہ مال کو دونوں کے درمیان نصف نصف تقسیم کردیا۔ النقاش
14540- وعنه أن رجلين اختصما إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس لواحد منهما بينة فقضى بها بينهما نصفين. "النقاش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৪১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14541 بہربن حکیم اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کسی تہمت کی وجہ سے دن کی ایک گھڑی تک قید رکھا پھر اس کو چھوڑ دیا۔
ابن عساکر
ابن عساکر
14541- عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه وسلم حبس رجلا في تهمة ساعة من نهار ثم خلى عنه. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৪২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14542 معاویہ بن حیدۃ سے مروی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک تہمت میں ایک آدمی کو پید کیا پھر اس کو چھوڑ دیا۔ الجامع لعبد الرزاق
14542- عن معاوية بن حيدة أن النبي صلى الله عليه وسلم حبس رجلا في التهمة ثم خلاه." عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৪৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14543 مذکورہ صحابی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک جھوٹ میں شہادت کو رد فرما دیا۔ النقاش فی الفضاۃ
روایت کے راوی ثقہ ہیں۔
روایت کے راوی ثقہ ہیں۔
14543- وعنه أن النبي صلى الله عليه وسلم رد شهادة في كذبة. "النقاش في القضاة" ورجاله ثقات.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৪৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14544 کعب بن مالک سے مروی ہے کہ وہ ایک آدمی کو اپنے حق کے لیے چمٹ گئے جو اس پر ان کو دینا بنتا تھا۔ دونوں کے شور غوغا کی آواز بلند ہوگئی حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچ گئی اور آپ نے سنی اور نکل کر باہر تشریف لائے اور پوچھا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے آپ کو ساری خبر سنائی۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کعب کو فرمایا : اے کعب اب آدھا حق اس سے لے لو اور آدھا اس کو چھوڑ دو ۔ الجامع لعبد الرزاق
14544- عن كعب بن مالك أنه لزم رجلا بحق كان عليه فارتفعت أصواتهما حتى سمعهما رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج فقال: ما هذا؟ فأخبروه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: خذ منه يا كعب الشطر ودع له الشطر. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৪৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14545 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قسم کو طالب حق (مدعی) پر توٹا دیا کرتے تھے۔ ابن عساکر
14545- عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرد اليمين على طالب الحق. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৪৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14546 علی بن الحسین (رح) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (مدعی کے) شاہد کے ساتھ (مدعی کی ایک) قسم پر فیصلہ فرمایا۔ الجامع لعبد الرزاق
14546- عن علي بن الحسين قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم باليمين مع الشاهد."عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৪৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14547 ابن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا کہ گواہ جب دونوں طرف سے برابر ہوجائیں تو دونوں فریقوں کے درمیان قرعہ ڈال لیا جائے۔
14547- عن ابن المسيب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى أن الشهود إذا استووا أقرع بين الخصمين. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৪৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فیصلہ جات
14548 ابن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرمایا شاہد (گواہ) کے ساتھ (گواہ والے کی) قسم پر۔ الجامع لعبد الرزاق
14548- عن ابن المسيب قال: قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم باليمين مع الشاهد.
"عب".
"عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৪৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمال کے مال کا مقاسمہ
14549 یزید بن ابی حبیب سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے عمال کے مال کو تقسیم کرنے کی وجہ خالد بن صعق کے چند اشعار تھے جو انھوں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو لکھ کر بھیجے تھے :
ذیل میں ان کا ترجمہ درج کیا جاتا ہے :
امیر المومنین کو پیغام پہنچا دے کہ تو مال اور سلطنت میں اللہ کا ولی ہے۔ ان لوگوں کو جزاء سے دور نہ رکھ۔ جو اللہ کے مال کو ہری بھری زمین تک پہنچاتے ہیں، نعمان کو پیغام بھیج دے کہ حساب کتاب یاد رکھ۔ اور جزء کو اور بشر کو پیغام دیدے اور دونوں خرچ کرنے والوں کو ہرگز نہ بھول جانا۔ بنی غزوان کے سسرالی رشتہ دار بہت ہیں (لیکن) مجھے شہادت گواہی کے لیے نہ بلانا کیونکہ میں غائب ہوجاتا ہوں شہ سواروں کی پہنچ سے مانند ہرنیوں کے ، مورتیوں کے ، اور خوبصورت سرخ عصفور سے رنگے ہوئے لپٹے پردوں کے جو صندوق میں غائب ہوجاتے ہیں جب ہندی تاجر ہرن کے مشک سے بھرے نافے لے کر آتے ہیں جو مشک ان کی مانگوں سے مہک رہی ہوتی ہے، تو جب وہ خریدو فروخت کرتے ہیں تو ہم بھی خرید وفروخشت کرنا چاہتے ہیں اور جب وہ جنگ کرتے ہیں تو ہم بھی جنگ کرتے ہیں لیکن کہاں ان کے پاس مال ہے اور نہ ہم مال مویشیوں والے ہیں۔ پس آپ ان کو میری جان تقسیم کردیں، جو جان میں آپ پر فدا کرچکا ہوں۔ کیونکہ وہ راضی ہوجائیں گے اگر آپ ان کے درمیان مجھے تقسیم کرلیں گے۔
چنانچہ حضرت عمر (رض) نے یہ اشعار سن کر ان کے نصف اموال تقسیم کردیئے اور فرمایا : ہم نے خالد کو شہادت (گواہی) سے چھوڑ دیا اور نصف ہم ان اعمال (ارکان حکومت) سے لیں گے۔
ابن عبدالحکم فی فتوح مصر
ذیل میں ان کا ترجمہ درج کیا جاتا ہے :
امیر المومنین کو پیغام پہنچا دے کہ تو مال اور سلطنت میں اللہ کا ولی ہے۔ ان لوگوں کو جزاء سے دور نہ رکھ۔ جو اللہ کے مال کو ہری بھری زمین تک پہنچاتے ہیں، نعمان کو پیغام بھیج دے کہ حساب کتاب یاد رکھ۔ اور جزء کو اور بشر کو پیغام دیدے اور دونوں خرچ کرنے والوں کو ہرگز نہ بھول جانا۔ بنی غزوان کے سسرالی رشتہ دار بہت ہیں (لیکن) مجھے شہادت گواہی کے لیے نہ بلانا کیونکہ میں غائب ہوجاتا ہوں شہ سواروں کی پہنچ سے مانند ہرنیوں کے ، مورتیوں کے ، اور خوبصورت سرخ عصفور سے رنگے ہوئے لپٹے پردوں کے جو صندوق میں غائب ہوجاتے ہیں جب ہندی تاجر ہرن کے مشک سے بھرے نافے لے کر آتے ہیں جو مشک ان کی مانگوں سے مہک رہی ہوتی ہے، تو جب وہ خریدو فروخت کرتے ہیں تو ہم بھی خرید وفروخشت کرنا چاہتے ہیں اور جب وہ جنگ کرتے ہیں تو ہم بھی جنگ کرتے ہیں لیکن کہاں ان کے پاس مال ہے اور نہ ہم مال مویشیوں والے ہیں۔ پس آپ ان کو میری جان تقسیم کردیں، جو جان میں آپ پر فدا کرچکا ہوں۔ کیونکہ وہ راضی ہوجائیں گے اگر آپ ان کے درمیان مجھے تقسیم کرلیں گے۔
چنانچہ حضرت عمر (رض) نے یہ اشعار سن کر ان کے نصف اموال تقسیم کردیئے اور فرمایا : ہم نے خالد کو شہادت (گواہی) سے چھوڑ دیا اور نصف ہم ان اعمال (ارکان حکومت) سے لیں گے۔
ابن عبدالحکم فی فتوح مصر
14549- عن يزيد بن أبي حبيب قال: كان سبب مقاسمة عمر بن الخطاب مال العمال أن خالد بن الصعق قال شعرا كتب به إلى عمر بن الخطاب
أبلغ أمير المؤمنين رسالة ... فأنت ولي الله في المال والأمر
فلا تدعن أهل الرساتيقوالجزا ... يشيعون مال الله في الأدمالوفر3
فأرسل إلى النعمان فاعلم حسابه ... وأرسل إلى جزء وأرسل إلى بشر
ولا تنسين النافقين كليهما ... وصهر بني غزوان عندك ذاوفر
ولا تدعوني للشهادة إنني ... أغيب ولكني أرى عجب الدهر
من الخيل كالغزلان والبيض والدمى... وما ليس ينسى من قرامومن ستر
ومن ريطةمطوية في صوانها... ومن طي أستار معصفرة حمر
إذا التاجر الهندي جاء بفارة... من المسك راحت في مفارقهم تجري
نبيع إذا باعوا ونغزوا إذا غزوا ... فأني لهم مال ولسنا بذي وفر
فقاسمهم نفسي فداؤك إنهم ... سيرضون إن قاسمتهم منك بالشطر
فقاسمهم عمر نصف أموالهم وفي رواية فقال: فإنا قد أعفيناه من الشهادة ونأخذ منهم النصف.
"ابن عبد الحكم في فتوح مصر".
أبلغ أمير المؤمنين رسالة ... فأنت ولي الله في المال والأمر
فلا تدعن أهل الرساتيقوالجزا ... يشيعون مال الله في الأدمالوفر3
فأرسل إلى النعمان فاعلم حسابه ... وأرسل إلى جزء وأرسل إلى بشر
ولا تنسين النافقين كليهما ... وصهر بني غزوان عندك ذاوفر
ولا تدعوني للشهادة إنني ... أغيب ولكني أرى عجب الدهر
من الخيل كالغزلان والبيض والدمى... وما ليس ينسى من قرامومن ستر
ومن ريطةمطوية في صوانها... ومن طي أستار معصفرة حمر
إذا التاجر الهندي جاء بفارة... من المسك راحت في مفارقهم تجري
نبيع إذا باعوا ونغزوا إذا غزوا ... فأني لهم مال ولسنا بذي وفر
فقاسمهم نفسي فداؤك إنهم ... سيرضون إن قاسمتهم منك بالشطر
فقاسمهم عمر نصف أموالهم وفي رواية فقال: فإنا قد أعفيناه من الشهادة ونأخذ منهم النصف.
"ابن عبد الحكم في فتوح مصر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৫০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمال کے مال کا مقاسمہ
14550 عبدالرحمن بن عبدالعززی جو ثقہ شیخ ہیں فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے محمد بن مسلمۃ کو عمرو بن العاص (مصر کے گورنر) کے پاس بھیجا اور ان کو لکھ کر بھیجا اے وزراء حکومت تم لوگوں کے عمدہ اموال کے مالک بن بیٹھے ہو حرام طریقے سے حاصل کرتے ہو، حرام ہی کھاتے ہو اور حرام ہی چھوڑ جاتے ہو۔ میں تمہارے پاس محمد بن مسلمہ کو بھیج رہا ہوں وہ تمہارا مال تقسیم کرنے آرہے ہیں ان کو اپنا مال پیش کردینا۔ چنانچہ جب محمد سن مسلمہ ان کے پاس پہنچے تو انھوں (عمرو بن العاص (رض)) نے ان کو کوئی ہدیہ دیا لیکن محمد بن مسلمہ (رض) نے وہ ہدیہ واپس کردیا۔ حضرت عمرو بن العاص (رض) غضب ناک ہوگئے اور فرمانے لگے : اے محمد ! تو نے میرا ہدیہ کیوں واپس کردیا حالانکہ غزوہ ذات السلاسل سے واپس آتے ہوئے میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدیہ پیش کیا تھا تو انھوں نے قبول فرمالیا تھا۔ محمد بن مسلمہ (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وحی کے ساتھ جو چاہتے قبول فرماتے تھے اور وحی کی ہی وجہ سے منع فرمادیا کرتے تھے اگر یہ بھائی کا بھائی کے لیے ہدیہ ہوتا تو میں ضرور قبول کر لیتالیکن یہ ایک برے حاکم کا ہدیہ ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ ناس کرے اس دن کا جس دن میں عمر بن خطاب کی طرف سے والی بنا تھا۔ مجھے اچھی طرح یا رہے کہ میں (اپنے والد) عاص بن وائل کو ایسا دیباج (ریشم) پہنے ہوئے دیکھتا تھا جس کو سونے کے بٹن لگے ہوتے تھے۔ جبکہ (عمر کے باپ) خطاب گدھے پر لکڑیاں لادے مکہ میں پھرتے تھے۔ محمد نے فرمایا : تیرا باپ اور اس کا باپ دونوں جہنم میں ہیں۔ لیکن آج تجھ سے بہتر ہے۔ اگر آج جب تو اس کی مذمت کررہا ہے تیرییہ شان (اسلام کی وجہ سے) نہ ہوتی تو تو بھی بکری کو ٹانگوں میں دا بے اس کا دودھ دھورہا ہوتا اور اس کا زیادہ وہ دودھ تجھے خوش کرتا اور کم ہونے کی وجہ سے تجھے دکھ ہوتا۔ حضرت عمرو (رض) نے فرمایا : یہ غصہ کے لمحات تھوک دو اور یہ باتیں تیرے پاس امانت ہیں۔ پھر حضرت عمرو (رض) نے اپنا مال ان کے سامنے پیش کردیا اور حضرت محمد (رض) نے اس کو تقسیم فرمادیا اور واپس لوٹ آئے۔
ابن عبدالحکم فی فتوح مصر
ابن عبدالحکم فی فتوح مصر
14550- عن عبد الرحمن بن عبد العزيز، شيخ ثقة، قال: بعث عمر بن الخطاب محمد بن مسلمة إلى عمرو بن العاص وكتب إليه أما بعد فإنكم معشر العمال تقدمتم على عيون الأموال فجبيتم الحرام وأكلتم الحرام وأورثتم الحرام وقد بعثت إليك محمد بن مسلمة مصر الأنصاري فيقاسمك مالك فأحضره مالك والسلام، فلما قدم محمد بن مسلمة أهدى له عمرو بن العاص هدية فردها عليه فغضب عمرو وقال: يا محمد لم رددت إلي هديتي وقد أهديت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم مقدمي من غزوة ذات السلاسل فقبل؟ فقال له محمد: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقبل بالوحي ما شاء ويمتنع مما شاء ولو كانت هدية الأخ لأخيه قبلتها، ولكنها هدية إمام شر خلفها، فقال عمرو: قبح الله يوما صرت فيه لعمر بن الخطاب واليا فلقد رأيت العاص بن وائل يلبس الديباج المزرر بالذهب، وأن الخطاب بن نفيل يحمل الحطب على حمار بمكة، فقال له محمد بن مسلمة: أبوك وأبوه في النار، وعمر خير منك ولولا اليوم الذي أصبحت تذم لألفيت معتقلا عنزايسرك غزرهاويسوءك بكرها، فقال عمرو: هي فلتة المغضب وهي عندك بأمانة، ثم أحضر ماله فقاسمه إياه ثم رجع. "ابن عبد الحكم في فتوح مصر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৫১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14551 (مسند عمر (رض)) عاصم بن عمرو بجلی سے مروی ہے وہ ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ کوفہ کے کچھ لوگ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا : ہم آپ کے پاس تین باتوں کا سوال کرنے آئے ہیں، آدمی اپنے گھر میں نفل پڑھے اس کا کیا حکم ہے ؟ عورت جب حائضہ ہو تو آدمی کے لیے اس کے ساتھ غلط ملط ہونے کا کیا حکم ہے ؟ جنابت کے غسل کا کیا حکم ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : تم نے مجھ سے جن باتوں کا سوال کیا ہے آج تک کسی نے مجھ سے سوال نہیں کیا جب سے میں نے ان کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تھا۔
بہرحال آدمی اگر اپنے گھر میں نفل نماز ادا کرے تو یہ نور ہے لہٰذا اپنے گھروں کو خوب منور کرو۔ جبکہ عورت جب حائضہ ہو تو آدمی ازار کے اوپر سے بوس وکنار کرسکتا ہے لیکن اس کے نیچے ہرگز مطلع نہ ہو (تجاوز نہ کرے) اور غسل جنابت کا طریقہ یہ ہے کہ (جب غسل کا) پانی کسی برتن میں ہو تو پہلے اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال (اور دھو) پھر اپنا ہاتھ پانی کے برتن میں ڈال اور اپنی شرم گاہ اور ناپاکی کو دھو۔ پھر نماز جیسا وضو کر، پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈال اور ہر بار اپنے سر کو مل، پھر اپنے جسم پر پانی ڈال پھر غسل کی جگہ۔ جہاں پانی اکٹھا ہوچکا ہو سے ایک طرف ہٹ جا اور پھر اپنے پاؤں دھو ڈال۔ الجامع لعبد الرزاق، السنن لسعید بن منصور، مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، العدنی، محمد بن نصر فی کتاب الصلاۃ، مسند ابی یعلی، الطحاوی، الطبرانی فی الاوسط، ابن عساکر
بہرحال آدمی اگر اپنے گھر میں نفل نماز ادا کرے تو یہ نور ہے لہٰذا اپنے گھروں کو خوب منور کرو۔ جبکہ عورت جب حائضہ ہو تو آدمی ازار کے اوپر سے بوس وکنار کرسکتا ہے لیکن اس کے نیچے ہرگز مطلع نہ ہو (تجاوز نہ کرے) اور غسل جنابت کا طریقہ یہ ہے کہ (جب غسل کا) پانی کسی برتن میں ہو تو پہلے اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال (اور دھو) پھر اپنا ہاتھ پانی کے برتن میں ڈال اور اپنی شرم گاہ اور ناپاکی کو دھو۔ پھر نماز جیسا وضو کر، پھر اپنے سر پر تین بار پانی ڈال اور ہر بار اپنے سر کو مل، پھر اپنے جسم پر پانی ڈال پھر غسل کی جگہ۔ جہاں پانی اکٹھا ہوچکا ہو سے ایک طرف ہٹ جا اور پھر اپنے پاؤں دھو ڈال۔ الجامع لعبد الرزاق، السنن لسعید بن منصور، مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، العدنی، محمد بن نصر فی کتاب الصلاۃ، مسند ابی یعلی، الطحاوی، الطبرانی فی الاوسط، ابن عساکر
14551- "مسند عمر رضي الله عنه" عن عاصم بن عمرو البجلي عن رجل أن نفرا من أهل الكوفة أتوا عمر بن الخطاب فقالوا: جئناك نسألك عن ثلاث خصال عن صلاة الرجل في بيته تطوعا، وعما يحل للرجل من امرأته إذا كانت حائضا، وعن الغسل من الجنابة؟ قال: لقد سألتموني عن خصال ما سألني عنهن أحد منذ سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم أما صلاة الرجل في بيته تطوعا فهو نور فنوروا بيوتكم، وأما ما يحل للرجل من امرأته حائضا فلك ما فوق الإزار من الضم والتقبيل، ولا تطلع على ما تحته، وأما الغسل من الجنابة فتفرغ بيمينك على شمالك ثم تدخل يدك في الإناء فتغسل فرجك وما أصابك، ثم تتوضأ وضوءك للصلاة، ثم تفرغ على رأسك ثلاث مرات تدلك رأسك كل شيء مرة، ثم أفض الماء على جسدك، ثم تنح عن مغتسلك فاغسل رجليك. "عب ص ش حم والعدني ومحمد بن نصر في كتاب الصلاة ع والطحاوي طس كر ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৫২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14552 حارث بن معاویہ کندی سے مروی ہے کہ وہ تین باتوں کا سوال کرنے کے لیے سفر کرکے حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس مدینہ گئے۔ حضرت عمر (رض) نے ان سے پوچھا : کیا چیز تجھے میرے پاس لے کر آئی ہے ؟ حارث نے عرض کیا : تین باتوں کے متعلق سوال۔ پوچھا وہ کیا ہیں ؟ عرض کیا : بسا اوقات میں اور میری بیوی کمرے میں ہوتے ہیں اور نماز کا وقت ہوجاتا ہے تو میں نماز پڑھتا ہوں تو وہ میرے برابر کھڑی ہوجاتی ہے کیونکہ اگر وہ پیچھے کھڑے ہو تو کمرے (کی تنگی کی وجہ سے وہ اس) باہر آجاتی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تو اپنے اور اس کے درمیان کپڑے کا پردہ حائل کرلے پھر اس کے برابر ہوتے ہوئے نماز ادا کرلے اگر تو چاہے۔ حارث نے دوسرے سوال کیا : عصر کے بعد دو رکعتیں (نفل) کیسی ہے ؟ لوگ چاہتے ہیں کہ میں ان کے آگے بیان کیا کروں ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تمہاری مرضی ہے۔ گویا حضرت عمر (رض) نے منع کرنا گوارہ نہ کیا (لیکن قصہ گوئی کو پسند بھی نہ فرمایا) حارث نے عرض کیا : خیر میں باز آنے کی کوشش کرتا ہوں۔ تب حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مجھے ڈر ہے کہ جب تو ان میں قصہ گوئی کرے گا تو اپنے جی میں ان سے بڑھ جائے گا، پھر تو ان کو قصہ گوئی کرتا رہے گا تو اپنے آپ کو ان سے ثریا جتنا بلند رتبہ خیال کرے گا۔ پھر اللہ پاک قیامت کے روز تجھے اسی قدر ان کے قدموں کے نیچے پست کردے گا۔
مسند احمد، السنن لسعید بن منصور
مسند احمد، السنن لسعید بن منصور
14552- عن الحارث بن معاوية الكندي أنه ركب إلى عمر بن الخطاب فسأله عن ثلاث خلال فقدم المدينة فقال له عمر: ما أقدمك علي؟ قال لأسألك عن ثلاث، قال: وما هن؟ قال: ربما كنت أنا والمرأة في بناء مبني فتحضر الصلاة فإن صليت أنا وهي كانت بحذائي وإن صلت خلفي خرجت من البناء؟ فقال عمر: تستر بينك وبينها بثوب ثم تصلي بحذاءك إن شئت، وعن الركعتين بعد العصر؟ فقال: نهاني عنهما رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: وعن القصص فإنهم أرادوني على القصص؟ فقال: ما شئت كأنه كره أن يمنعه، قال: إنما أردت أن أنتهي إلى قولك؟ قال: أخشى عليك أن تقص فترتفع عليهم في نفسك، ثم تقص فترتفع حتى يخيل إليك أنك فوقهم بمنزلة الثريا فيضعك الله تحت أقدامهم يوم القيامة بقدر ذلك. "حم ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৫৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14553 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : سفر کی نماز (چار رکعتوں والی) دو رکعات ہیں چاشت کی نماز دو رکعات ہیں، فطر (اشراق) کی نماز دو رکعات ہیں۔ یہ مکمل ہیں بغیر کسی قصر کے (یعنی سفر حضر میں چاشت اور اشراق کے نوافل دو دو رکعات ہی ہیں) بمطابق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان کے۔ اور خسارہ وگھاٹے میں پڑا جس نے جھوٹ بولا۔
الجامع لعبدالرزاق، الدارقطنی فی السنن، ابن ابی شیبہ، مسند احمد، العدنی، المروزی فی العیدین، النسائی، ابن ماجہ، ابن یعلی، ابن جریر، ابن خزیمہ ، الطحاوی، الشاشی، الدارقطنی فی الافراد، ابن حبان، حلیۃ الاولیاء، السنن للبیہقی، السنن لسعید بن منصور
الجامع لعبدالرزاق، الدارقطنی فی السنن، ابن ابی شیبہ، مسند احمد، العدنی، المروزی فی العیدین، النسائی، ابن ماجہ، ابن یعلی، ابن جریر، ابن خزیمہ ، الطحاوی، الشاشی، الدارقطنی فی الافراد، ابن حبان، حلیۃ الاولیاء، السنن للبیہقی، السنن لسعید بن منصور
14553- عن عمر قال: صلاة السفر ركعتان وصلاة الضحى ركعتان وصلاة الفطر ركعتان تمام من غير قصر على لسان محمد صلى الله عليه وسلم وقد خاب من افترى. "عب ط ش حم والعدني والمروزي في العيدين نهـ ع وابن جرير وابن خزيمة والطحاوي والشاشي قط في الأفراد حب حل ق ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৫৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14554 حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس ایک وفد آیا جس میں عاصم بن عمرو بجلی بھی تھے وہ فرماتے ہیں کہ وفدنے آپ (رض) کی خدمت میں عرض کیا : یا امیر المومنین ! ہم آپ کے پاس تین خصلتوں کے بارے میں سوال کرنے آئے ہیں عورت جب حائضہ ہو آدمی کے لئے۔ اس کی قربت کس حد تک حلال ہے ؟ جنابت سے غسل کا کیا طریقہ ہے اور گھروں میں قرآن پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : سبحان اللہ ! کیا تم جادو گر ہو ، تم نے مجھ سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جس کے متعلق میں نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تھا لیکن آج تک اس کے بعداس کے متعلق کسی نے مجھ سے سوال نہیں کیا۔ پھر ارشاد فرمایا :
بہرحال عورت جب حائضہ ہو تو مرد کے لیے عورت کی ازار (شلوار) کے اوپر سے اس سے لطف حاصل کرنا حلال ہے۔ جبکہ غسل جنابت کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے ہاتھ دھوئے، پھر شرم گاہ ، پھروضو کرے، پھر اپنے سر اور جسم پر پانی بہائے۔ اور قرآن کا پڑھنا (سراسر) نور ہے جو چاہے اپنے گھر کو اس کے ساتھ منور کرلے۔ الدارقطنی فی السنن
بہرحال عورت جب حائضہ ہو تو مرد کے لیے عورت کی ازار (شلوار) کے اوپر سے اس سے لطف حاصل کرنا حلال ہے۔ جبکہ غسل جنابت کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے ہاتھ دھوئے، پھر شرم گاہ ، پھروضو کرے، پھر اپنے سر اور جسم پر پانی بہائے۔ اور قرآن کا پڑھنا (سراسر) نور ہے جو چاہے اپنے گھر کو اس کے ساتھ منور کرلے۔ الدارقطنی فی السنن
14554- عن عاصم بن عمرو البجلي عن أحد النفر الذين أتوا عمر بن الخطاب فقالوا: يا أمير المؤمنين جئنا نسألك عن ثلاث خصال: ما يحل للرجل من امرأته وهي حائض، وعن الغسل من الجنابة وعن قراءة القرآن في البيوت؟ قال: سبحان الله أسحرة أنتم؟ لقد سألتموني عن شيء سألت عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم ما سألني عنه أحد بعد فقال: أما ما يحل للرجل من امرأته وهي حائض فما فوق الإزار، وأما الغسل من الجنابة فيغسل يده وفرجه ثم يتوضأ ثم يفيض على رأسه وجسده الماء وأما قراءة القرآن فنور من شاء نور بيته. "ط"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৫৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14555 حضرت عمر (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : تین چیزوں میں ہنسی مذاق اور سنجیدگی برابر ہے۔ طلاق، صدقہ اور (غلام) کو آزاد کرنا۔ المصنف لعبد الرزاق
14555- عن عمر قال: ثلاث اللاعب فيهن والجاد سواء الطلاق والصدقة والعتاق. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৫৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14556 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ارشاد فرمایا : چار چیزوں پر قفل لگا ہوا ہے (یعنی وہ یقیناً نافذ ہوجاتی ہیں ہنسی مذاق میں ہوں یا سنجیدگی میں) نذر، طلاق، عتاق (آزاد کرنا) اور نکاح۔
التاریخ للبخاری، السنن للبیہقی
التاریخ للبخاری، السنن للبیہقی
14556- عن عمر قال: أربع مقفلات النذر والطلاق والعتاق والنكاح. "خ في تاريخه ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৫৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14557 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ریشم پہننے سے، اس (کی زین) پر سوار ہونے سے، اس پر بیٹھنے سے، چیتے کی کھال سے، اس پر سوار ہونے سے، نیز غنیمت کو فروخت کرنے سے جب تک کہ اس کا خمس (اللہ اور اس کے رسول کے لئے) نہ نکال لیا جائے، نیز دشمن کی قید حاملہ عورتوں سے وطی کرنے سے منع فرمایا ، گدھے کھانے سے، ہر اس درندے سے جو کیچلی کے دانتوں سے شکار کرتے ہیں اور ہر اس پرندے سے جو پنجوں کے ذریعے چیر پھاڑ کر شکار کریں، شراب کی قیمت سے، مردار کی قیمت سے، نر جانور کی جفتی کی کمائی سے اور کتے کی قیمت سے۔ الجامع لعبد الرزاق
کلام : مذکورہ روایت کی سند میں عاصم بن ضمرۃ ضعیف راوی ہے۔
کلام : مذکورہ روایت کی سند میں عاصم بن ضمرۃ ضعیف راوی ہے۔
14557- عن علي قال: نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الخز وعن ركوب عليها وعن جلوس عليها وعن جلود النمور وعن ركوب عليها وعن الغنائم أن تباع حتى تخمس وعن حبالى سبي العدو أن يوطئن، وعن الحمر الأهلية وعن أكل كل ذي ناب من السباع وأكل كل ذي مخلب من الطير وعن ثمن الخمر، وعن ثمن الميتة، وعن عسبالفحل وعن ثمن الكلب. "عب" وفيه عاصم بن ضمرة ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৫৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14558 حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا رکوع و سجود میں قراۃ قرآن سے، سونے کی انگوٹھی سے، کتان (ریشم) کے لباس سے، عصفورہ کے ساتھ رنگے ہوئے لباس سے۔ موطا امام مالک، ابوداؤد، الجامع لعبد الرزاق، مسند احمد، البخاری فی خلق افعال العباد، مسلم، مسند عبداللہ بن احمد بن حنبل، الترمذی، النسائی ، ابن ماجہ، الکجی، ابن جریر، الطحاوی، ابن حبان، السنن للبیہقی
14558- عن علي قال: نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم عن القراءة في الركوع والسجود وعن التختم بالذهب وعن لباس القسيوعن لباس المعصفر. "مالك ط عب حم خ في خلق أفعال العباد م د ت ن هـ والكجي وابن جرير والطحاوي حب ق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৫৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14559 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ مجھے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا لیکن میں تمہیں نہیں کہتا کہ تمہیں بھی منع فرمایا رکوع و سجدہ میں تلاوت (قرآن) سے، سونے کی انگوٹھی سے، ریشم کے لباس اور سرخ زین پر سوار ہونے سے۔
الجامع لعبد الرزاق، مسند احمد، العدنی، الکجی، الدورقی، ابن جریر، حلیۃ الاولیاء
الجامع لعبد الرزاق، مسند احمد، العدنی، الکجی، الدورقی، ابن جریر، حلیۃ الاولیاء
14559- عن علي نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا أقول نهاكم عن القراءة وأنا راكع أو ساجد وعن تختم الذهب وعن لباس القسي وعن الركوب على الميثرةالحمراء. "عب حم والعدني والكجي والدورقي وابن جرير حل".
তাহকীক: