কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১০৭৫ টি
হাদীস নং: ১৪৫৬০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14560 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دس لوگوں پر لعنت فرمائی سود کھانے والے پر، سود کھلانے والے پر، سود کے دونوں گواہوں پر، سود (کا معاملہ) لکھنے والے پر حسن کے لیے گودنے والی اور گدوانے والی پر، زکوۃ روکنے والے پر، حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا جائے اس پر اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نوحہ زاری کرنے سے منع فرماتے تھے۔ اور نوحہ کرنے والی پر لعنت فرمائی یہ نہیں فرمایا۔
ابن حبان، مسند احمد، النسائی، مسند ابی یعلی، الافراد للدارقطنی، الدورقی، ابن حبان، ابن جریر
ابن حبان، مسند احمد، النسائی، مسند ابی یعلی، الافراد للدارقطنی، الدورقی، ابن حبان، ابن جریر
14560- عن علي قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم عشرة آكل الربا وموكله وشاهديه وكاتبه والواشمةوالمستوشمة للحسن ومانع الصدقة والمحلل والمحلل له وكان ينهى عن النوح ولم يقل لعن. "حب حم ن ع قط في الأفراد والدورقي حب وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৬১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14561 ربیعۃ بن النابعۃ حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبروں کی زیارت سے منع فرمایا (شراب کے) برتنوں سے اور اس بات سے کہ قربانی کا گوشت تین دن کے بعد تک رکھا جائے، پھر ارشاد فرمایا : میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے منع فرمایا تھا لیکن تم قبروں کی زیارت کیا کرو، مگر کوئی غلط بات (شرک وغیرہ کی) نہ کہو۔ بیشک قبریں تم کو آخرت کی یاد دلائیں گی۔ نیز میں نے تم کو (شرابوں کے) برتنوں سے منع کیا تھا، اب تم ان میں (حلال چیز) پیو۔ لیکن ہر نشہ آور شے سے اجتناب کرو، نیز میں نے تم کو قربانیوں کے گوشت سے منع کیا تھا کہ تم ان کو تین دن سے زیادہ نہ روکے رکھو پس اب جب تک تم چاہو روک لو۔ مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، مسند ابی یعلی، الکجی، مسدد ، الطحاوی، الدورقی، ابن ابی عاصم فی الاشربۃ
کلام : المغنی میں مذکور ہے کہ جب ربیعہ بن نابغہ اپنے والد کے واسطہ سے حضرت علی (رض) کی روایت نقل کرے تو اس کی روایت صحیح نہیں ہوتی۔ واللہ اعلم بالصواب
کلام : المغنی میں مذکور ہے کہ جب ربیعہ بن نابغہ اپنے والد کے واسطہ سے حضرت علی (رض) کی روایت نقل کرے تو اس کی روایت صحیح نہیں ہوتی۔ واللہ اعلم بالصواب
14561- عن ربيعة بن النابغة عن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن زيارة القبور وعن الأوعية وأن تحبس لحوم الأضاحي بعد ثلاث، ثم قال: إني نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها غير أن لا تقولوا هجرا فإنها تذكركم الآخرة، ونهيتكم عن الأوعية فاشربوا فيها واجتنبوا كل مسكر ونهيتكم عن لحوم الأضاحي أن تمسكوها بعد ثلاث فاحبسوا ما بدا لكم. "ش حم ع والكجي ومسدد والطحاوي والدورقي وابن أبي عاصم في الأشربة" قال في المغني ربيعة بن النابغة عن أبيه عن علي لا يصح حديثه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৬২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14562 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے درندوں میں سے ہر کیچلی کے دانتوں والے جانور سے منع فرمایا اور پرندوں میں سے پنجوں (سے چیر پھاڑ کرنے) والے پرندوں سے منع فرمایا، نیزمردار کی قیمت سے ، شراب کی قیمت سے، گدھے کا گوشت کھانے سے، فاحشہ کی کمائی سے، نر جانور کی جفتی کی کمائی سے اور ریشم کے پالان اور زینوں سے منع فرمایا۔
مسنداحمد، مسند ابی یعلی، الطحاوی
مسنداحمد، مسند ابی یعلی، الطحاوی
14562- عن علي قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن كل ذي ناب من السباع وعن كل ذي مخلب من الطير، وعن ثمن الميتة وثمن الخمر وعن لحوم الحمر الأهلية، وعن مهر البغي، وعن عسب الفحل، وعن المياثر الأرجوان. "حم ع والطحاوي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৬৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14563 رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے چار باتوں سے منع فرمایا اور (اس کے بعد) میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے چار چیزوں کے متعلق سوال کیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے منع فرمایا کہ میں بالوں کی چوٹی یا جوڑا باندھ کر نماز پڑھوں (مرد کے لئے) یا نماز میں کنکریوں کو الٹ پلٹ کروں، نیز مجھے منع فرمایا کہ میں جمعہ ہی کو روزے کے لیے خاص کرلوں۔ اور منع فرمایا کہ میں روزہ کی حالت میں پچھنے (لگوا کر خون) نکلواؤں۔
اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (قرآن پاک میں مذکور )” ادبارالنجوم “ اور ” ادبارالسجود “ کے بارے میں سوال کیا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ادبار السجود مغرب کے بعد کی دو رکعت (سنتیں) ہیں اور ادبار النجوم فجر کی نماز سے پہلے (فجر کی) دو رکعت (سنتیں) ہیں۔ نیز میں نے آپ سے حج اکبر کے بارے میں سوال کیا تو ارشاد فرمایا : وہ یوم النحر (قربانی کا دن) ہے۔ اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (الصلاۃ الوسطی) درمیان کی نماز (جس کا قرآن میں ذکر ہے) کا سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ عصر کی نماز ہے جس میں کوتاہی کی جاتی ہے۔ اور پھر قرآن میں اس کی پابندی کا خصوصیت سے ذکر آیا ہے۔ مسدد
کلام : روایت ضعیف ہے۔ کنز
اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (قرآن پاک میں مذکور )” ادبارالنجوم “ اور ” ادبارالسجود “ کے بارے میں سوال کیا تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ادبار السجود مغرب کے بعد کی دو رکعت (سنتیں) ہیں اور ادبار النجوم فجر کی نماز سے پہلے (فجر کی) دو رکعت (سنتیں) ہیں۔ نیز میں نے آپ سے حج اکبر کے بارے میں سوال کیا تو ارشاد فرمایا : وہ یوم النحر (قربانی کا دن) ہے۔ اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (الصلاۃ الوسطی) درمیان کی نماز (جس کا قرآن میں ذکر ہے) کا سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ عصر کی نماز ہے جس میں کوتاہی کی جاتی ہے۔ اور پھر قرآن میں اس کی پابندی کا خصوصیت سے ذکر آیا ہے۔ مسدد
کلام : روایت ضعیف ہے۔ کنز
14563- نهاني رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أربع وسألته عن أربع نهاني أن أصلي وأنا عاقص شعري وأن أقلب الحصى في الصلاة، وأن أختص يوم الجمعة بصوم، وأن أحتجم وأنا صائم، وسألته عن أدبار النجوم وأدبار السجود؟ فقال: أدبار السجود الركعتان بعد المغرب وأدبار النجوم الركعتان قبل الغداة وسألته عن الحج الأكبر؟ قال: هو يوم النحر، وسألته عن الصلاة الوسطى؟ قال: هي العصر التي فرط فيها. "مسدد" وضعف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৬৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14564 حضرت علی (رض) سے مروی ہے ، ارشاد فرمایا : رمضان نے ہر روزے (کی فرضیت) کو منسوخ کردیا ہے اور زکوۃ نے (ہر صدقے کی فرضیت) کو منسوخ کردیا ہے اور متعہ نے طلاق، عدت اور میراث کو منسوخ کردیا ہے (متعہ اول اسلام میں جائز تھا پھر حرام دے دیا گیا اور طلاق ، عدت اور میراث پھر شروع ہوگئے) اور (یوم الضحیٰ ) قربانی نے ہر دوسری قربانی (کی فرضیت) کو منسوخ کردیا ہے۔ الجامع لعبد الرزاق، ابن المنذر
امام بیہقی (رح) نے اس روایت کو بروایت علی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرفوعاً نقل کیا ہے، جو قسم اول میں گزر چکا ہے۔
امام بیہقی (رح) نے اس روایت کو بروایت علی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرفوعاً نقل کیا ہے، جو قسم اول میں گزر چکا ہے۔
14564- عن علي قال: نسخ رمضان كل صوم ونسخت الزكاة كل صدقة، ونسخ المتعةالطلاق والعدة والميراث، ونسخت الضحية كل ذبح"عب وابن المنذر" ورواه "ق" عنه مرفوعا وتقدم في القسم الأول.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৬৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14565 حضرت علی (رض) سے مروی ہے فرمایا : تین چیزوں میں مذاق اور مسخرہ پن نہیں ہے نکاح، طلاق، عتاقہ (آزادی) اور صدقہ۔ الجامع لعبدالرزاق
14565- عن علي قال: ثلاث لا لعب فيهن: النكاح والطلاق والعتاقة والصدقة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৬৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14566 حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا : تلقی سے (دودھ والے جانور کو ذبح کرنے سے) ، جفتی والے بکرے کو ذبح کرنے سے، اور طلوع شمس سے قبل بھاؤ تاؤ کرنے سے۔ مصنف ابن ابی شیبہ
فائدہ : تلقی سے یعنی جو لوگ دیہاتوں سے سبزیاں اور اناج وغیرہ لے کر منڈی میں فروخت کرنے آتے ہیں ان سے خریدکر آگے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے جیسا کہ ایجنٹ اور دلال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اشیاء کے دام بڑھ جاتے ہیں۔
فائدہ : تلقی سے یعنی جو لوگ دیہاتوں سے سبزیاں اور اناج وغیرہ لے کر منڈی میں فروخت کرنے آتے ہیں ان سے خریدکر آگے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے جیسا کہ ایجنٹ اور دلال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اشیاء کے دام بڑھ جاتے ہیں۔
14566- عن علي قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن التلقى وعن ذبح ذوات الدروعن ذبح فتي الغنم، وعن السومقبل طلوع الشمس. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৬৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14567 حضرت تمیم الداری (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو پانچ چیزیں لے کر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے اس کے لیے جنت ہے اور جس نے پانچ چیزوں کی ادائیگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی اس کو جنت سے کوئی چیز روکنے والی نہیں۔ اور جمعہ پانچ شخصوں کے سوا سب پر واجب ہے۔ وضو پانچ چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے، مشروبات پانچ سے تیار ہوتے ہیں، عورتوں پر مردوں کے پانچ حق ہیں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں کو پانچ چیزوں سے منع فرمایا :
بہرحال وہ پانچ چیزیں جن کے ساتھ بندہ اللہ سے ملاقات کرے اور اس کے لیے جنت ہوجائے وہ نماز، زکوۃ ، بیت اللہ کا حج، رمضان کے روزے اور امیر کی اطاعت ہے اور خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں۔
بہرحال وہ پانچ چیزیں جن کی ادائیگی کرتے ہوئے اللہ سے ملاقات کرے تو اس کو جنت سے کوئی چیز نہیں روک سکتی وہ اللہ کی خیر خواہی، کتاب اللہ کی خیر خواہی ، امیروں (حکام) کی خیر خواہی اور عامۃ المسلمین کی خیر خواہی ہے۔
بہرحال جمعہ ان پانچ لوگوں کے سوا سب پر واجب ہے : عورت، مریض، غلام، مسافر اور بچہ۔
بہرحال وضو پانچ چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے۔ اور کرنا واجب ہوجاتا ہے ہوا نکلنے سے، پاخانے سے، پیشاب سے، قے (الٹی) سے اور ٹپکنے والے خون سے۔
بہرحال مشروب (نبیذ وغیرہ) پانچ چیزوں سے تیار ہوتے ہیں۔ شہد سے، کشمش سے، کھجوری سے، گندم سے اور جو سے۔
بہرحال آدمی کے عورتوں پر پانچ حق ہیں : اس کی قسم (اگر وہ عورت کے لیے کوئی قسم کھالے تو اس کو) نہ تڑوائے، خوشبونہ لگائے مگر شوہر ہی کے لئے، گھر سے نہ نکلے مگر اس کی اجازت کے ساتھ اور اس کے گھر میں ایسے شخص کو نہ آنے دے جس کا آنا وہ پسند نہ کرتا ہو۔
اور بہرحال حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں کو پانچ باتوں سے منع فرمایا : (کمام سے یعنی بالوں کے اندر کوئی چیز رکھ کر ان کا) جوڑا بنانے سے۔ جس سے بال زیادہ معلوم ہوں، جوتے پہننے سے (یعنی گھومنے پھرنے سے) ، محفلوں میں بیٹھنے سے، شاخ۔ ڈنڈی وغیرہ لے کر اکڑتے ہوئے چلنے اور بغیر اوڑھنی کے صرف شلوار قمیص پر اکتفاء کرنے سے ۔ ابن عساکر
کلام : روایت بالاسند کے اعتبار سے محل کلام ہے دیکھئے : التنزیہ 395/2 ذیل اللالی 182
بہرحال وہ پانچ چیزیں جن کے ساتھ بندہ اللہ سے ملاقات کرے اور اس کے لیے جنت ہوجائے وہ نماز، زکوۃ ، بیت اللہ کا حج، رمضان کے روزے اور امیر کی اطاعت ہے اور خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں۔
بہرحال وہ پانچ چیزیں جن کی ادائیگی کرتے ہوئے اللہ سے ملاقات کرے تو اس کو جنت سے کوئی چیز نہیں روک سکتی وہ اللہ کی خیر خواہی، کتاب اللہ کی خیر خواہی ، امیروں (حکام) کی خیر خواہی اور عامۃ المسلمین کی خیر خواہی ہے۔
بہرحال جمعہ ان پانچ لوگوں کے سوا سب پر واجب ہے : عورت، مریض، غلام، مسافر اور بچہ۔
بہرحال وضو پانچ چیزوں سے ٹوٹ جاتا ہے۔ اور کرنا واجب ہوجاتا ہے ہوا نکلنے سے، پاخانے سے، پیشاب سے، قے (الٹی) سے اور ٹپکنے والے خون سے۔
بہرحال مشروب (نبیذ وغیرہ) پانچ چیزوں سے تیار ہوتے ہیں۔ شہد سے، کشمش سے، کھجوری سے، گندم سے اور جو سے۔
بہرحال آدمی کے عورتوں پر پانچ حق ہیں : اس کی قسم (اگر وہ عورت کے لیے کوئی قسم کھالے تو اس کو) نہ تڑوائے، خوشبونہ لگائے مگر شوہر ہی کے لئے، گھر سے نہ نکلے مگر اس کی اجازت کے ساتھ اور اس کے گھر میں ایسے شخص کو نہ آنے دے جس کا آنا وہ پسند نہ کرتا ہو۔
اور بہرحال حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں کو پانچ باتوں سے منع فرمایا : (کمام سے یعنی بالوں کے اندر کوئی چیز رکھ کر ان کا) جوڑا بنانے سے۔ جس سے بال زیادہ معلوم ہوں، جوتے پہننے سے (یعنی گھومنے پھرنے سے) ، محفلوں میں بیٹھنے سے، شاخ۔ ڈنڈی وغیرہ لے کر اکڑتے ہوئے چلنے اور بغیر اوڑھنی کے صرف شلوار قمیص پر اکتفاء کرنے سے ۔ ابن عساکر
کلام : روایت بالاسند کے اعتبار سے محل کلام ہے دیکھئے : التنزیہ 395/2 ذیل اللالی 182
14567- عن تميم الداري عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من لقي الله بخمس فله الجنة ومن أتى الله بخمس لم يحجبه عن الجنة والجمعة واجبة إلا على خمس، والوضوء الواجب من خمس، والأشربة من خمس، وحق الرجال على النساء خمس، ونهى النساء عن خمس، فأما من لقي الله بخمس فله الجنة: الصلاة والزكاة وحج البيت وصيام شهر رمضان وطاعة ولاة الأمر ولا طاعة لمخلوق في معصية الخالق، وأما من أتى الله بخمس لم يحجبه من الجنة: فالنصح لله والنصح لكتاب الله والنصح لولاة الأمر والنصح لعامة المسلمين، وأما الجمعة واجبة إلا على خمس: فالمرأة والمريض والمملوك والمسافر والصغير، وأما الوضوء الواجب من خمس، فمن الريح والغائط والبول والقيء والدم القاطر، وأما الأشربة من خمس: فمن العسل والزبيب والتمر والبر والشعير، وأما حق الرجل على النساء خمس فلا تحنث له قسما ولا تعطر إلا له، ولا تخرج إلا بإذنه: ولا تدخل عليه من يكرهه، وأما نهى النساء عن خمس: فعن اتخاذ الكمامولبس النعال والجلوس في المجالس وخطر بالقضيبولبس الإزار والأردية بغير درع. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৬৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14568 عمران بن حبان بن غلۃ انصاری اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فتح خیبر کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منع فرماتے ہوئے دیکھا کہ مال غنیمت کی کوئی شے (خریدی یا) بیچی نہ جائے جب تک کہ اس کو تقسیم نہ کرلیا جائے، نیز حاملہ (قیدی) عورتوں کو (جب وہ حصے میں آجائیں) وطی (جماع) کرنے سے منع فرمایا اور (درختوں پر لگے) پھلوں کی بیع سے منع فرمایا جب تک کہ ان کا پکنا ظاہر نہ ہوجائے اور روہ آفت سے محفوظ نہ ہوجائیں۔
الحسن بن سفیان و ابونعیم
الحسن بن سفیان و ابونعیم
14568- عن عمران بن حبان بن نملة الأنصاري عن أبيه أنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم يوم فتح خيبر نهى أن يباع شيء من المغنم حتى يقسم وعن الحبالى أن يوطئن، وعن الثمرة حتى يبين صلاحها ويؤمن عليها العاهة. "الحسن بن سفيان وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৬৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14569 یحییٰ بن العلاء ، ابن عباس (رض) کے غلام رشدین بن کریب سے اور وہ لبید سے اور وہ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی اور اس کی ماں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آدمی جہاد میں جانا چاہتا تھا، جبکہ اس کی ماں اس کو روک رہی تھی۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ارشاد فرمایا : تو اپنی ماں کے پاس ٹھہر، تجھے ایسا ہی اجر ملے گا جیسا جہاد میں ملتا ہے۔ اور ایک دوسرا شخص حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میں نے نذر مانی ہے کہ میں اپنی جن کو اللہ کے لیے ذبح کروں گا۔ یہ سن کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف التفات نہیں کیا۔ چنانچہ وہ آدمی چلا گیا اور اس نے اپنے آپ کو ذبح کرنے کا ارادہ کرلیا۔ تب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا فرمائے جو اپنی نذروں کو پورا کرنے والے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کا شر (عذاب اور دکھ) پھیل رہا ہوگا۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے پوچھا : کیا تیرے پاس مال ہے ؟ اس نے ہاں میں جواب دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سو اونٹنیاں اللہ کی راہ میں دو اور تین سال کے عرصہ میں دو ، کیونکہ کوئی ایسا شخص تجھے نہیں ملے گا جو تجھ سے یہ ساری اونٹنیاں اکٹھی لے لے۔
ایک اور عورت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : میں آپ کے پاس عورتوں کی قاصد بن کر آئی ہوں اور اللہ کی قسم ! اور عورتوں میں سے کوئی عورت خواہ وہ جانتی ہو یا نہیں جانتی ہو مگر ہر ایک عورت آپ کے پاس آکر یہ سوال کرنا چاہتی ہے۔ وہ یہ کہ اللہ رب العزت مردوں اور عورتوں سب کا پروردگار ہے اور سب کا معبود ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں مردوں کی طرف اور عورتوں کی طرف بھی۔ اللہ نے مردوں پر جہاد فرض کیا ہے ، اگر وہ جہاد میں کامیاب ہوتے ہیں تو ان کو اجر ملتا ہے اور اگر وہ شہید ہوجاتے ہیں تو اللہ کے پاس زندہ رہتے ہیں اور ان کو رزق دیا جاتا ہے، اب عورتوں کو یہ اجر کیسے ملے گا ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عورتوں کا اپنے شوہروں کی اطاعت کرنا اور ان کے حقوق کو جاننا (یہ سب کچھ عطا کردے گا) لیکن ایسا کرنے والی تم میں سے تھوڑی عورتیں ہیں۔ الجامع لعبد الرزاق
کلام : حسن بن سفیان نے اپنی مسند میں اس روایت کو مستطیرا (شر پھیل رہا ہوگا) تک روایت کیا ہے بطریق جبارۃ المغلس عن مندل بن علی عن رشدین۔ نیز اس کو جو زقانی کے طریق سے اباطیل (من گھڑت میں شمار کیا ہے لیکن دونوں نے درست نہیں کیا۔ رشدین بن کریب کی روایت ترمذی نے لی ہے اور امام دارقطنی (رح)) نے اگرچہ اس کو ضعیف قرار دیا ہے مگر اس کی روایت حدوضع (من گھڑت روایتوں) تک نہیں پہنچتی۔ اور یحییٰ بن العلاء کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے لی ہے اور یہ متروک راوی ہے۔
پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے پوچھا : کیا تیرے پاس مال ہے ؟ اس نے ہاں میں جواب دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : سو اونٹنیاں اللہ کی راہ میں دو اور تین سال کے عرصہ میں دو ، کیونکہ کوئی ایسا شخص تجھے نہیں ملے گا جو تجھ سے یہ ساری اونٹنیاں اکٹھی لے لے۔
ایک اور عورت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : میں آپ کے پاس عورتوں کی قاصد بن کر آئی ہوں اور اللہ کی قسم ! اور عورتوں میں سے کوئی عورت خواہ وہ جانتی ہو یا نہیں جانتی ہو مگر ہر ایک عورت آپ کے پاس آکر یہ سوال کرنا چاہتی ہے۔ وہ یہ کہ اللہ رب العزت مردوں اور عورتوں سب کا پروردگار ہے اور سب کا معبود ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں مردوں کی طرف اور عورتوں کی طرف بھی۔ اللہ نے مردوں پر جہاد فرض کیا ہے ، اگر وہ جہاد میں کامیاب ہوتے ہیں تو ان کو اجر ملتا ہے اور اگر وہ شہید ہوجاتے ہیں تو اللہ کے پاس زندہ رہتے ہیں اور ان کو رزق دیا جاتا ہے، اب عورتوں کو یہ اجر کیسے ملے گا ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عورتوں کا اپنے شوہروں کی اطاعت کرنا اور ان کے حقوق کو جاننا (یہ سب کچھ عطا کردے گا) لیکن ایسا کرنے والی تم میں سے تھوڑی عورتیں ہیں۔ الجامع لعبد الرزاق
کلام : حسن بن سفیان نے اپنی مسند میں اس روایت کو مستطیرا (شر پھیل رہا ہوگا) تک روایت کیا ہے بطریق جبارۃ المغلس عن مندل بن علی عن رشدین۔ نیز اس کو جو زقانی کے طریق سے اباطیل (من گھڑت میں شمار کیا ہے لیکن دونوں نے درست نہیں کیا۔ رشدین بن کریب کی روایت ترمذی نے لی ہے اور امام دارقطنی (رح)) نے اگرچہ اس کو ضعیف قرار دیا ہے مگر اس کی روایت حدوضع (من گھڑت روایتوں) تک نہیں پہنچتی۔ اور یحییٰ بن العلاء کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے لی ہے اور یہ متروک راوی ہے۔
14569- عن يحيى بن العلاء عن رشدين بن كريب مولى ابن عباس عن لبيد عن ابن عباس قال: جاء رجل وأمه إلى النبي صلى الله عليه وسلم وهو يريد الجهاد وأمه تمنعه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم عند أمك قر وإن لك من الأجر عندها مثل مالك في الجهاد، قال: وجاء رجل آخر فقال: إني نذرت أن أنحر نفسي فشغل النبي صلى الله عليه وسلم فذهب الرجل فوجد يريد أن ينحر نفسه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: الحمد لله الذي جعل في أمتي من يوفي بالنذر ويخاف يوما كان شره مستطيرا هل لك مال؟ قال: نعم، قال: أهد مائة ناقة واجعلها في ثلاث سنين، فإنك لا تجد من يأخذها منك معا وجاءته امرأة فقالت: إني رسولة النساء إليك والله ما منهن امرأة علمت أو لم تعلم إلا وهي تهوى مخرجي إليك، الله رب الرجال والنساء وإلههن وأنت رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الرجال والنساء كتب الله الجهاد على الرجال، فإن أصابوا أجروا وإن استشهدوا كانوا أحياء عند ربهم يرزقون فما يعدل ذلك من النساء؟ قال: طاعتهن لأزواجهن، والمعرفة بحقوقهم وقليل منكن يفعله. "عب" وروى الحسن بن سفيان في مسنده إلى قوله مستطيرا من طريق جبارة بن المغلس عن مندل بن علي عن رشدين وأورده من طريق الجوزقاني في الأباطيل وابن الجوزي في الموضوعات فلم يصيبا ورشدين بن كريب روى له "ت" وضعفه "قط" وغيره ولم ينته حديثه إلى حد الوضع ويحيى بن العلاء روى له "د هـ" وهو متروك.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৭০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14570 حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دونوں حالتوں میں دیکھا بغیر روزے کے بھی اور روزہ دار بھی۔ اسی طرح جوتوں کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے بھی اور ننگے پاؤں بھی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ اور کھڑے ہو کر پیتے ہوئے بھی دیکھا اور بیٹھ کر پیتے ہوئے بھی دیکھا۔ الجامع لعبد الرزاق
14570- عن ابن عمرو قال: رأيت رسول الله مفطرا وصائما ورأيته يصلي حافيا ومتنعلا، ورأيته يشرب قائما وقاعدا. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৭১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14571 ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ کتنی چوری میں قطع ید ہوگی ؟ (کتنے مال کی چوری پر ہاتھ کاٹنے کی سزا جاری ہوگی) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (سائل کے حال کو دیکھتے ہوئے ) ارشاد فرمایا : درخت پر لٹکے ہوئے پھلوں کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے (کیونکہ وہ محفوظ نہیں ہیں) ہاں جب پھل جرین (جہاں پھل اکٹھے ہوتے ہیں) میں جمع کرلیے جائیں تو ڈھال کی قیمت (کے برابر پھلوں کی چوری) میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اور راہ چلتی بکری کو اٹھانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ ہاں جب وہ باڑے میں پہنچ جائے تو ڈھال کی قیمت کے برابر میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔
حضرت ابن عمرو (رض) فرماتے ہیں اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گمشدہ بکری کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ تجھے یا تیرے کسی بھائی کے ہاتھ لگ جائے گی۔ اگر کوئی بکری نکل جائے تو تو اس کو پکڑ لے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اونٹ کے ساتھ اس کے پاؤں اور اس کا مشکیزہ ہے اس کو یونہی پھرنے دے اس کا مالک اس کو پکڑ لے گا اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لقطہ (پڑی ہوئی چیز) کے بارے میں سوال کیا گیا تو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پڑی ہوئی چیز کسی آتی جاتی راہ یا آباد بستی میں ملے تو اس کو ایک سال تک تشہیر کرا۔ اگر اس کا مالک آجائے تو ٹھیک ورنہ وہ تیری ہے۔ اور اگر وہ چلتی راہ میں نہیں ہے اور نہ ہی کسی آباد بستی میں تو اس میں اور رکاز (زمین میں گاڑے ہوئے خزانہ) میں خمس ہے (یعنی اس کا پانچواں حصہ بیت المال کے لیے نکال کر باقی پانے والے کا ہے) ۔ النسائی ، ابن عساکر
حضرت ابن عمرو (رض) فرماتے ہیں اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گمشدہ بکری کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ تجھے یا تیرے کسی بھائی کے ہاتھ لگ جائے گی۔ اگر کوئی بکری نکل جائے تو تو اس کو پکڑ لے۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گمشدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اونٹ کے ساتھ اس کے پاؤں اور اس کا مشکیزہ ہے اس کو یونہی پھرنے دے اس کا مالک اس کو پکڑ لے گا اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لقطہ (پڑی ہوئی چیز) کے بارے میں سوال کیا گیا تو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : پڑی ہوئی چیز کسی آتی جاتی راہ یا آباد بستی میں ملے تو اس کو ایک سال تک تشہیر کرا۔ اگر اس کا مالک آجائے تو ٹھیک ورنہ وہ تیری ہے۔ اور اگر وہ چلتی راہ میں نہیں ہے اور نہ ہی کسی آباد بستی میں تو اس میں اور رکاز (زمین میں گاڑے ہوئے خزانہ) میں خمس ہے (یعنی اس کا پانچواں حصہ بیت المال کے لیے نکال کر باقی پانے والے کا ہے) ۔ النسائی ، ابن عساکر
14571- وعنه قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم في كم تقطع اليد؟ قال: لا تقطع في ثمر معلق، فإذا ضمه الجرينقطعت في ثمن المجن ولا تقطع في حريسةالجبل، فإذا آواها المراح قطعت في ثمن المجن، وسئل عن ضوال الغنم؟ قال: لك أو لأخيك أو تذهب خذها، وسئل عن ضوال الإبل؟ فقال: معها الحذاء والسقاء دعها حتى يجدها ربها، وسئل عن اللقطة؟ فقال: ما كان من طريق مأتي أو في قرية عامرة فعرفها سنة فإن جاء صاحبها وإلا فلك وما لم يكن في طريق مأتي ولا في قرية عامرة ففيه وفي الركاز الخمس. "ن كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৭২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14572 ابن اسحاق سے مروی ہے کہ مجھے عبداللہ بن ابی بکر نے اپنے والد ابوبکر (سے انھوں نے) محمد بن عمرو بن حزم سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں :
گورنر کے لیے ہدایات کا ذکر
یہ خط رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو بن حزم کے لیے لکھوایا تھا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو یمن کی طرف معلم بنا کر بھیجا تھا۔ تاکہ وہ اہل یمن کو فقہ وسنت سکھائیں اور ان سے صدقات (واجبہ) وصول کریں۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے خط لکھوایا اور ایک عہد لکھوایا اور اس میں کچھ احکام فرمائے ۔ جو درج ذیل ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ خط اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے ہے :
یا ایھا الذین آمنوا اوفوابالعقود
اے ایمان والو ! عہدوں کو پورا کرو۔
نیز یہ عہد نامہ ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے عمرو بن حزم کے لئے۔ ان کو یمن بھیجتے وقت۔ رسول اللہ ان کو ہر کام میں اللہ کے تقویٰ کا حکم کرتے ہیں ۔
فان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون۔
بےشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور وہ لوگ احسان کرنے والے ہیں۔
رسول اللہ نے ان کو حکم کیا ہے کہ وہ حق کو وصول کریں جیسے کہ اللہ نے اس کو مقرر کیا ہے۔ نیز وہ لوگوں کو خیر کی خوشخبری دیں اور ان کو خیر کا حکم دیں لوگوں کو قرآن سکھائیں ان کو قرآن سمجھائیں میں لوگوں کو منع کریں کہ کوئی قرآن کو بغیر پاکی (وضو) کے نہ چھوئے ۔ لوگوں کو خبر دیں ان کے حقوق کی اور ان پر واجب احکام اور ذمہ داریوں کی ۔ نیز وہ حق میں ان پر نرمی کریں، لیکن ظلم کی روک تھام میں سختی کریں۔ بیشک اللہ پاک نے ظلم کو ناپسند کیا ہے اور اس سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے :
الالعنۃ اللہ علی الظالمین۔
یادرکھو ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔
جنت حاصل کرنے والے اعمال
نیز لوگوں کو جنت کی خوشخبری دے اور جنت حاصل کرنے کے اعمال بتائے، جہنم سے لوگوں کو ڈرائے اور جہنم میں لے جانے والے اعمال بتائے۔ لوگوں کے ساتھ الفت کے ساتھ برتاؤ رکھے تاکہ لوگ دین کی سمجھ بوجھ (فقہ) حاصل کرلیں۔ لوگوں کو حج کے احکام، سنن اور فرائض اور حج اکبر وحج اصغر کے متعلق اور امر اللہ سے آگاہ کرے۔ حج اکبر حج ہے اور حج اصغر عمرہ ہے۔
نیز لوگوں کو منع کریں کہ وہ ایک چھوٹے کپڑے میں نماز نہ پڑھیں ہاں اگر بڑا کپڑا ہو اور اس کی دونوں طرفین کی گردن پر مخالف سروں میں ڈال لی جائیں تو درست ہے۔ نیز منع فرمایا کہ کوئی شخص صرف ایک کپڑے میں لپٹ جائے اور اپنی شرم گاہ آسمان کی طرف کرلے۔ اور کوئی آدمی جب اس کے بال گدی پر زیادہ اکٹھے ہوجائیں تو ان کی چٹیایا جوڑا نہ باندھے نیز جب لوگوں کے درمیان کوئی لڑائی ہوجائے تو قبائل اور خاندانوں کو نہ پکاریں بلکہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کا نعرہ بلند کریں۔ پس جو اللہ کے نام سے نہ پکارے بلکہ قبائل اور خاندانوں کو پکارے (یعنی عصبیت کا دعویٰ کرے، قوم پرستی کرے) تو ان پر تلواریں سونت لی جائیں حتیٰ کہ وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے نعرے کو بلند کرنے لگ جائیں۔
لوگوں کو کامل وضو کا حکم کریں کہ اپنے چہروں کو، اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک اور پاؤں کو ٹخنوں تک دھوئیں اور اپنے سروں کا مسح کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ نیز نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان (عمرو بن حزام) کو نماز اپنے وقت پر پڑھنے کا حکم دیا، رکوع کو اچھی طرح کرنے اور خشوع کا اہتمام کرنے کا فرمایا۔ اور رات کی آخری تاریکی میں فجر پڑھ لیں اور جب سورج ڈھل جائے تو ظہر کو جلد پڑھ لیں۔ عصر کو پڑھ لیں جب کہ سورج زمین میں زندہ ہو (ٹھنڈا نہ ہوجائے کہ اس پر نگاہ ٹکنے لگ جائے) اور مغرب کو پڑھ لیں جب رات متوجہ ہو لیکن اس قدر موخر نہ کی جائے کہ ستارے آسمان میں ظاہر ہوجائیں۔ اور عشاء کو اول رات میں پڑھ لیں۔ جب جمعہ کی اذان ہوجائے تو جمعہ کے لیے سبقت کریں، جب اس کے لیے جانے کا وقت (قریب) ہو تو غسل کرلیں۔ نیز فرمایا کہ اموال غنیمت میں سے اللہ کا خمس نکالیں۔ اور مومنوں پر جو صدقات (زکوۃ وغیرہ) فرض کی گئی ہیں وہ زمین میں جبکہ اس کو آسمانی پانی سے سیراب کیا گیا ہو یا از خود وہ سیرابی ہو تو اس میں عشر ہے (دسواں حصہ) جس زمین کو (رہٹ کے) ڈولوں (یا ٹیوب ویلوں ) سے سیراب کیا جائے اس میں نصف عشر ہے (یعنی بیسواں حصہ) ۔ اور ہر دس اونٹوں میں دو بکریاں ہیں اور ہر بیس اونٹوں میں چار بکریاں ہیں۔ ہر چالیس گائے میں ایک گائے ہے۔ اور ہر تیس گائے میں ایک سالہ بچھڑا ہے نر یا مادہ۔ اور ہر چالیس بکریوں میں جو سائمہ ہوں (یعنی سال کے اکثر حصے میں باہر ادھر ادھر غیر ملکیت زمین سے چر کر گزارہ کرتی ہوں) ان میں ایک بکری ہے، یہ اللہ کا فریضہ ہے جو اس نے مومنین پر (ان کے اموال میں) مقرر کیا ہے۔ پس جو زیادہ کرے وہ اسی کے لیے بہتر ہے۔
اور بیشک جو یہودی یا نصرانی اپنی طرف سے خالص اسلام لے آیا اور اسلام کے دین کو اس نے اپنا لیا بیشک وہ مومنین میں سے ہے۔ اس کے لیے وہ سب کچھ ہے جو مومنوں کے لیے ہے اور اس پر ہر وہ چیز لازم ہے جو مومنوں پر لازم ہے۔ اور جو نصرانیت یا یہودیت پر جما ہوا ہے اس کو تنگ نہ کیا جائے اور (پھر ان کے) ہر بالغ مرد یا عورت ، آزاد یا غلام پر ایک دینار دینا لازم ہے یا اس کے بقدر کپڑے۔ پس جو یہ حق ادا کردے اس کے لیے اللہ کا اور اس کے رسول کا ذمہ ہے اور جس نے یہ حق روک لیا وہ اللہ کا دشمن ہے اور اس کے رسول کا اور تمام مومنوں کا بس اللہ کی رحمتیں ہوں محمد نبی پر اور سلامتی اور برکتیں ہوں۔
کلام : یہ روایت منقطع ہے۔ پھر انھوں (ابن اسحاق) نے اسی روایت کو دوسرے طریق سے نقل کیا، بطریق عن عبداللہ عن ابیہ عن جدہ عن عمرو بن حزم متصلاً ۔
گورنر کے لیے ہدایات کا ذکر
یہ خط رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو بن حزم کے لیے لکھوایا تھا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو یمن کی طرف معلم بنا کر بھیجا تھا۔ تاکہ وہ اہل یمن کو فقہ وسنت سکھائیں اور ان سے صدقات (واجبہ) وصول کریں۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے خط لکھوایا اور ایک عہد لکھوایا اور اس میں کچھ احکام فرمائے ۔ جو درج ذیل ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ خط اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے ہے :
یا ایھا الذین آمنوا اوفوابالعقود
اے ایمان والو ! عہدوں کو پورا کرو۔
نیز یہ عہد نامہ ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے عمرو بن حزم کے لئے۔ ان کو یمن بھیجتے وقت۔ رسول اللہ ان کو ہر کام میں اللہ کے تقویٰ کا حکم کرتے ہیں ۔
فان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون۔
بےشک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور وہ لوگ احسان کرنے والے ہیں۔
رسول اللہ نے ان کو حکم کیا ہے کہ وہ حق کو وصول کریں جیسے کہ اللہ نے اس کو مقرر کیا ہے۔ نیز وہ لوگوں کو خیر کی خوشخبری دیں اور ان کو خیر کا حکم دیں لوگوں کو قرآن سکھائیں ان کو قرآن سمجھائیں میں لوگوں کو منع کریں کہ کوئی قرآن کو بغیر پاکی (وضو) کے نہ چھوئے ۔ لوگوں کو خبر دیں ان کے حقوق کی اور ان پر واجب احکام اور ذمہ داریوں کی ۔ نیز وہ حق میں ان پر نرمی کریں، لیکن ظلم کی روک تھام میں سختی کریں۔ بیشک اللہ پاک نے ظلم کو ناپسند کیا ہے اور اس سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے :
الالعنۃ اللہ علی الظالمین۔
یادرکھو ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔
جنت حاصل کرنے والے اعمال
نیز لوگوں کو جنت کی خوشخبری دے اور جنت حاصل کرنے کے اعمال بتائے، جہنم سے لوگوں کو ڈرائے اور جہنم میں لے جانے والے اعمال بتائے۔ لوگوں کے ساتھ الفت کے ساتھ برتاؤ رکھے تاکہ لوگ دین کی سمجھ بوجھ (فقہ) حاصل کرلیں۔ لوگوں کو حج کے احکام، سنن اور فرائض اور حج اکبر وحج اصغر کے متعلق اور امر اللہ سے آگاہ کرے۔ حج اکبر حج ہے اور حج اصغر عمرہ ہے۔
نیز لوگوں کو منع کریں کہ وہ ایک چھوٹے کپڑے میں نماز نہ پڑھیں ہاں اگر بڑا کپڑا ہو اور اس کی دونوں طرفین کی گردن پر مخالف سروں میں ڈال لی جائیں تو درست ہے۔ نیز منع فرمایا کہ کوئی شخص صرف ایک کپڑے میں لپٹ جائے اور اپنی شرم گاہ آسمان کی طرف کرلے۔ اور کوئی آدمی جب اس کے بال گدی پر زیادہ اکٹھے ہوجائیں تو ان کی چٹیایا جوڑا نہ باندھے نیز جب لوگوں کے درمیان کوئی لڑائی ہوجائے تو قبائل اور خاندانوں کو نہ پکاریں بلکہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کا نعرہ بلند کریں۔ پس جو اللہ کے نام سے نہ پکارے بلکہ قبائل اور خاندانوں کو پکارے (یعنی عصبیت کا دعویٰ کرے، قوم پرستی کرے) تو ان پر تلواریں سونت لی جائیں حتیٰ کہ وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کے نعرے کو بلند کرنے لگ جائیں۔
لوگوں کو کامل وضو کا حکم کریں کہ اپنے چہروں کو، اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک اور پاؤں کو ٹخنوں تک دھوئیں اور اپنے سروں کا مسح کریں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ نیز نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان (عمرو بن حزام) کو نماز اپنے وقت پر پڑھنے کا حکم دیا، رکوع کو اچھی طرح کرنے اور خشوع کا اہتمام کرنے کا فرمایا۔ اور رات کی آخری تاریکی میں فجر پڑھ لیں اور جب سورج ڈھل جائے تو ظہر کو جلد پڑھ لیں۔ عصر کو پڑھ لیں جب کہ سورج زمین میں زندہ ہو (ٹھنڈا نہ ہوجائے کہ اس پر نگاہ ٹکنے لگ جائے) اور مغرب کو پڑھ لیں جب رات متوجہ ہو لیکن اس قدر موخر نہ کی جائے کہ ستارے آسمان میں ظاہر ہوجائیں۔ اور عشاء کو اول رات میں پڑھ لیں۔ جب جمعہ کی اذان ہوجائے تو جمعہ کے لیے سبقت کریں، جب اس کے لیے جانے کا وقت (قریب) ہو تو غسل کرلیں۔ نیز فرمایا کہ اموال غنیمت میں سے اللہ کا خمس نکالیں۔ اور مومنوں پر جو صدقات (زکوۃ وغیرہ) فرض کی گئی ہیں وہ زمین میں جبکہ اس کو آسمانی پانی سے سیراب کیا گیا ہو یا از خود وہ سیرابی ہو تو اس میں عشر ہے (دسواں حصہ) جس زمین کو (رہٹ کے) ڈولوں (یا ٹیوب ویلوں ) سے سیراب کیا جائے اس میں نصف عشر ہے (یعنی بیسواں حصہ) ۔ اور ہر دس اونٹوں میں دو بکریاں ہیں اور ہر بیس اونٹوں میں چار بکریاں ہیں۔ ہر چالیس گائے میں ایک گائے ہے۔ اور ہر تیس گائے میں ایک سالہ بچھڑا ہے نر یا مادہ۔ اور ہر چالیس بکریوں میں جو سائمہ ہوں (یعنی سال کے اکثر حصے میں باہر ادھر ادھر غیر ملکیت زمین سے چر کر گزارہ کرتی ہوں) ان میں ایک بکری ہے، یہ اللہ کا فریضہ ہے جو اس نے مومنین پر (ان کے اموال میں) مقرر کیا ہے۔ پس جو زیادہ کرے وہ اسی کے لیے بہتر ہے۔
اور بیشک جو یہودی یا نصرانی اپنی طرف سے خالص اسلام لے آیا اور اسلام کے دین کو اس نے اپنا لیا بیشک وہ مومنین میں سے ہے۔ اس کے لیے وہ سب کچھ ہے جو مومنوں کے لیے ہے اور اس پر ہر وہ چیز لازم ہے جو مومنوں پر لازم ہے۔ اور جو نصرانیت یا یہودیت پر جما ہوا ہے اس کو تنگ نہ کیا جائے اور (پھر ان کے) ہر بالغ مرد یا عورت ، آزاد یا غلام پر ایک دینار دینا لازم ہے یا اس کے بقدر کپڑے۔ پس جو یہ حق ادا کردے اس کے لیے اللہ کا اور اس کے رسول کا ذمہ ہے اور جس نے یہ حق روک لیا وہ اللہ کا دشمن ہے اور اس کے رسول کا اور تمام مومنوں کا بس اللہ کی رحمتیں ہوں محمد نبی پر اور سلامتی اور برکتیں ہوں۔
کلام : یہ روایت منقطع ہے۔ پھر انھوں (ابن اسحاق) نے اسی روایت کو دوسرے طریق سے نقل کیا، بطریق عن عبداللہ عن ابیہ عن جدہ عن عمرو بن حزم متصلاً ۔
14572- عن ابن إسحاق حدثني عبد الله بن أبي بكر عن أبيه أبي بكر محمد بن عمرو بن حزم قال: هذا كتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي كتبه لعمرو بن حزم حين بعثه إلى اليمن يفقه أهله ويعلمهم السنة ويأخذ صدقاتهم فكتب له كتابا وعهدا وأمره فيه بأمر فكتب بسم الله الرحمن الرحيم هذا كتاب من الله ورسوله يا أيها الذين آمنوا أوفوا بالعقود عهد من رسول الله صلى الله عليه وسلم لعمرو بن حزم حين بعثه إلى اليمن أمره بتقوى الله في أمره كله فإن الله مع الذين اتقوا والذين هم محسنون وأمره أن يأخذ الحق كما افترضه الله تعالى وأن يبشر الناس بالخير ويأمرهم به ويعلم الناس القرآن، ويفقههم فيه، وينهى الناس أن لا يمس القرآن أحد إلا هو طاهر ويخبر الناس بالذي لهم والذي عليهم ويلين لهم في الحق ويشتد عليهم في الظلم، فإن الله كره الظلم ونهى عنه وقال: ألا لعنة الله على الظالمين، ويبشر الناس بالجنة وبعملها، وينذر الناس بالنار وعملها، ويتألف الناس حتى يتفقهوا في الدين، ويعلم الناس معالم الحج وسننه وفرائضه وما أمر الله به في الحج الأكبر والحج الأصغر والحج الأكبر: الحج والحج الأصغر: العمرة، ينهي الناس أن يصلوا في ثوب واحد صغير إلا أن يكون واسعا فيخالف بين طرفيه على عاتقيه. ونهى أن يحتبي الرجل في ثوب واحد ويفضي بفرجه إلى السماء، ولا يعقص أحد شعر رأسه إذا عفافي قفاه، وينهي إذا كان بين الناس هيجأن يدعو بدعوى القبائل والعشائر وليكن دعاؤهم إلى الله تعالى وحده لا شريك له، فمن لم يدع إلى الله تعالى ودعى القبائل والعشائر فليعطفوا بالسيف حتى يدعوا الله تعالى وحده لا شريك له، ويأمر الناس بإسباغ الوضوء وجوههم وأيديهم إلى المرافق وأرجلهم إلى الكعبين ويمسحوا برؤوسهم كما أمرهم الله وأمره بالصلاة لوقتها وإتمام الركوع والخشوع، وأن يغلسبالصبح ويهجربالهاجرة حين تزيغ الشمس وصلاة العصر والشمس حية في الأرض، والمغرب حين يقبل الليل، ولا يؤخر المغرب حتى تبدو النجوم في السماء، والعشاء أول الليل وأمره بالسعي إلى الجمعة إذا نودي بها، والغسل عند الرواح إليها. وأمره أن يأخذ بالمغانم خمس الله وما كتب على المؤمنين من الصدقة في العقار عشر ما سقي بالبعل. وسقت السماء، وعلى سقي الغربنصف العشر وفي كل عشر من الإبل شاتان، وفي كل عشرين من الإبل أربع شياه، وفي كل أربعين من البقر بقرة وفي كل ثلاثين من البقر تبيع جذع أو جذعة وفي كل أربعين من الغنم سائمة شاة إنها فريضة الله التي افترض على المؤمنين في الصدقة، فمن زاد خيرا فهو خير له، وأنه من أسلم من يهودي أو نصراني إسلاما خالصا من نفسه ودان بدين الإسلام؛ فإنه من المؤمنين، له مثل الذي لهم وعليه مثل الذي عليهم ومن كان على نصرانية أو يهودية فإنه لا يفتن عنها، وعلى كل حالم ذكر أو أنثى حر أو عبد دينار واف أو عرضهثيابا فمن أدى ذلك فله ذمة الله وذمة رسوله ومن منعه فإنه عدو الله ورسوله والمؤمنين جميعا صلوات الله على محمد النبي والسلام ورحمة الله وبركاته وقال هذا منقطع ثم رواه من وجه آخر عن عبد الله عن أبيه عن جده عن عمرو بن حزم متصلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৭৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14573 ابوبکر محمد بن عمرو بن حزم عن ابیہ عن جدہ کی سند سے مروی ہے، عمرو بن حزم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل یمن کو ایک خط لکھا جس میں فرائض اور صدقات اور دیتوں کا بیان تھا۔ اور پھر یہ خط عمرو بن حزم کے ساتھ بھیج دیا اور پھر وہ اہل یمن کو پڑھ کر سنایا گیا، جس میں لکھا تھا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد پیغمبر کی جانب سے شرحبیل بن عبد کلال اور حارث بن عبد کلال قبائل رعین معافر اور ہمدان کے رئیسوں کی طرف
اما بعد ! تمہارا قاصد واپس آیا ہے ، تم نے مال غنیمت میں سے خمس دیا ہے۔ اور مومنین پر ان کی (کاشتکاری) زمین میں جو عشر فرض ہے وہ تب ہے جب زمین آسمانی پانی (بارش) کے ساتھ سیراب ہوتی ہو اور بہتے پانی کے ساتھ سیراب ہوتی ہو۔ یا زمین از خود پانی کھینچتی ہو اور ایسی زمین کی پیداوار پانچ وسق تک پہنچ جاتی ہو وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔
اور ہر پانچ سائمہ اونٹوں میں (جو باہر چرتے پھرتے ہوں) ایک بکری ہے یہاں تک کہ ان کی تعداد چوبیس تک پہنچ جائے۔ جب ایک اونٹ بھی زیادہ ہوجائے تو ان میں ایک بنت مخاض (تشریح باب الزکوۃ میں پڑھیں) ہے۔ اگر بنت مخاض میسر نہ ہو تو ابن لبون نر۔ یہاں تک کہ ان کی تعداد پینتیس تک پہنچ جائے۔ جب پینتیس سے ایک اونٹ زیادہ ہوجائے تو ان میں ایک بنت لبون ہے پینتالیس تک۔ اگر پینتالیس سے ایک زیادہ ہوجائے تو ان میں ایک حقہ ہے۔ اونٹ کی جفتی کے قابل۔ ساٹھ تک یہی ہے۔ اگر ساٹھ سے ایک زیادہ ہوجائے تو ان میں، ایک جذعہ سے پچھتر تک، جب پچھتر سے ایک عدد زیادہ ہوجائے تو ان میں دو بنت لبون ہیں نوے تک۔ جب ایک زیادہ ہوجائے تو ان میں دو حقے ہیں اونٹ کی جفتی کے قابل۔ ایک سو بیس تک۔ یہی دو حقے رہیں گے۔ پھر جب ایک سو بیس سے تعداد پر ہوجائے تو ہر چالیس میں ایک بنت لبون ہے۔ اور ہر پچاس میں حقہ ہے اونٹ کی جفتی کے قابل۔
اور ہر تیس گائے میں ایک سالہ بچھڑا نر یا مادہ، اور ہر چالیس گائے میں ایک گائے۔ اور ہر چالیس سائمہ بکریوں (باہر چرنے والیوں) میں ایک بکری ہے، یہاں تک کہ ایک سو بیس تک پہنچ جائیں۔ جب ایک سو بیس سے ایک بکری زیادہ ہوجائے تو دو سو تک میں دو بکریاں ہیں، جب دو سو سے ایک بکری زائد ہوجائے تو تین سو تک میں تین بکریاں ہیں اور جب ایک زیادہ ہوجائے تو ہر سو میں ایک بکری ہے اور زکوۃ وصولی میں بوڑھا جانور لیا جائے گا اور نہ کانا بھینگا اور نہ ہی بکریوں کا نر۔ اور نہ متفرق کے درمیان جمع کیا جائے گا اور نہ جمع شدہ کو متفرق کیا جائے گا زکوۃ کے خوف سے۔ اور جب دو شریکوں سے مشترک زکوۃ لی جائے تو بعد میں وہ دونوں برابری کے ساتھ حساب کتاب کرلیں۔ اور ہر پانچ اوقیہ چاندی میں پانچ درہم ہیں۔ پھر جب چاندی زیادہ ہوجائے تو ہر چالیس درہم میں ایک درہم ہے۔ اور پانچ اوقیہ (ساڑھے باون تولہ) چاندی سے کم میں زکوۃ نہیں (جبکہ صرف چاندی ہو، سونا اور روپیہ پیسہ یا دیگر مال تجارت کچھ نہ ہو) اور ہر چالیس دینا میں ایک دینار ہے۔
اور صدقہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے اہل بیت کے لیے حلال نہیں۔ یہ تو زکوۃ ہے جس کے ذریعے تم اپنے آپ کو پاک کرتے ہو اور یہ فقراء مومنین کے لیے حلال ہے اور اللہ کی راہ میں بھی خرچ کی جائے گی۔ اور غلاموں میں اور کاشت کی زمین میں اور نہ اس کے کام کرنے والوں میں کچھ بھی زکوۃ ہے۔ جبکہ زمین کا صدقہ (زکوۃ ) عشر کی صورت میں نکال لیا جائے گا۔
بڑے بڑے گناہوں کا ذکر
اور مسلمان غلام میں اور نہ مسلمان کے گھوڑے میں کوئی زکوۃ نہیں ہے۔
اور قیامت کے روز کبیرہ (بڑے بڑے) گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ایک شرک باللہ ہے، اور ناحق مومن جان کو قتل کرنا اسلام کی جنگ کے روز پیٹھ پھیر کر بھاگنا ، والدین سے قطع تعلقی کرنا، پاکدامن عورت پر تہمت لگانا، جادو سیکھنا جادو سیکھنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، یہ سب کبیرہ گناہ ہیں۔ عمرہ حج اصغر ہے۔ اور قرآن کو کوئی نہ چھوئے مگر پاک۔ اور نکاح کے بغیر طلاق نہیں اور غلام کو جب تک خرید نہ لے آزاد کرنے کا اختیار نہیں۔ اور کوئی ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے جس کا حصہ کندھے پر نہ پڑا ہوا ہو۔ اور کوئی ایک کپڑے میں نہ لپٹے اس طرح کہ اس کی شرم گاہ اور آسمان کے درمیان کوئی چیز نہ ہو۔ اور کوئی ایک ایسے کپڑے میں نماز نہ پڑھے جس کی جانب کھلی ہوئی ہو۔ اور کوئی اپنے بالوں کا جوڑا بنا کر نماز نہ پڑھے۔ اور جس نے کسی مومن کو ناحق قتل کیا اور اس پر گواہ موجود ہیں تو اس کا قصاص لیا جائے گا الایہ کہ مقتول کے ورثاء راضی ہوجائیں۔ اور ایک جان کی دیت (بدلہ) سو اونٹ ہیں، اور ناک جب پوری کاٹ دی جائے تو اس میں دیت ہے، اور زبان میں دیت ہے، اور ہونٹوں میں دیت ہے، عضو تناسل میں دیت ہے، دونوں خصیوں میں دیت ہے، کمر میں دیت ہے، دونوں آنکھوں میں دیت ہے، ایک ٹانگ میں نصف دیت ہے اور مامومۃ (سر کا وہ زخم جو دماغ کی جھلی تک پہنچ جائے) میں نصف دیت ہے۔ جائفہ (پیٹ کا وہ زخم جو معدہ تک پہنچ جائے) میں تہائی دیت ہے، منقلہ (وہ زخم جس سے کچھ ہڈی نکل جائے اور اپنی جگہ سے ہٹ جائے) میں پندرہ اونٹ ہیں۔ ہاتھ پاؤں کی انگلیوں میں سے ہر انگلی میں دس اونٹ ہیں۔ ہر دانت میں پانچ اونٹ ہیں۔ موضحہ (وہ زخم جس سے ہڈی ظاہر ہوجائے) میں پانچ اونٹ ہیں، اور آدمی کو عورت کے بدلے قتل کیا جائے گا۔ اور جو دیت کو سونے کے ساتھ ادا کرنا چاہے اس کے لیے پوری دیت ایک ہزار دینار ہیں۔
النسائی، الحسن بن سفیان، الکبیر للطبرانی، المستدرک الحاکم، ابونعیم، السنن الکبری للبیہقی، ابن عساکر
ابن عساکر نے عباس دوری کی روایت میں نقل کیا ہے، عباس دوری کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن معین سے اسی حدیث کو سنا وہ فرمارے تھے کہ حضرت عمرو بن حزم (رض) نے بیان کیا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل یمن کے لیے ایک خط لکھا (پھر آگے روایت بیان کی)
تو یحییٰ بن معین سے ایک شخص نے پوچھا یہ روایت مسند ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : نہیں بلکہ صالح ہے۔ آدمی نے یحییٰ سے عرض کیا : کہ پھر حضرت علی ابن ابی طالب (رض) نے فرمایا تھا کہ میرے پاس رسول اللہ کی کوئی تحریر موجود نہیں سوائے اس خط کے ؟ تب یحییٰ بن معین (رح) نے فرمایا کہ حضرت علی (رض) کا خط زیادہ ثابت ہے بنسبت حضرت عمرو بن حزم کے خط کے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محمد پیغمبر کی جانب سے شرحبیل بن عبد کلال اور حارث بن عبد کلال قبائل رعین معافر اور ہمدان کے رئیسوں کی طرف
اما بعد ! تمہارا قاصد واپس آیا ہے ، تم نے مال غنیمت میں سے خمس دیا ہے۔ اور مومنین پر ان کی (کاشتکاری) زمین میں جو عشر فرض ہے وہ تب ہے جب زمین آسمانی پانی (بارش) کے ساتھ سیراب ہوتی ہو اور بہتے پانی کے ساتھ سیراب ہوتی ہو۔ یا زمین از خود پانی کھینچتی ہو اور ایسی زمین کی پیداوار پانچ وسق تک پہنچ جاتی ہو وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔
اور ہر پانچ سائمہ اونٹوں میں (جو باہر چرتے پھرتے ہوں) ایک بکری ہے یہاں تک کہ ان کی تعداد چوبیس تک پہنچ جائے۔ جب ایک اونٹ بھی زیادہ ہوجائے تو ان میں ایک بنت مخاض (تشریح باب الزکوۃ میں پڑھیں) ہے۔ اگر بنت مخاض میسر نہ ہو تو ابن لبون نر۔ یہاں تک کہ ان کی تعداد پینتیس تک پہنچ جائے۔ جب پینتیس سے ایک اونٹ زیادہ ہوجائے تو ان میں ایک بنت لبون ہے پینتالیس تک۔ اگر پینتالیس سے ایک زیادہ ہوجائے تو ان میں ایک حقہ ہے۔ اونٹ کی جفتی کے قابل۔ ساٹھ تک یہی ہے۔ اگر ساٹھ سے ایک زیادہ ہوجائے تو ان میں، ایک جذعہ سے پچھتر تک، جب پچھتر سے ایک عدد زیادہ ہوجائے تو ان میں دو بنت لبون ہیں نوے تک۔ جب ایک زیادہ ہوجائے تو ان میں دو حقے ہیں اونٹ کی جفتی کے قابل۔ ایک سو بیس تک۔ یہی دو حقے رہیں گے۔ پھر جب ایک سو بیس سے تعداد پر ہوجائے تو ہر چالیس میں ایک بنت لبون ہے۔ اور ہر پچاس میں حقہ ہے اونٹ کی جفتی کے قابل۔
اور ہر تیس گائے میں ایک سالہ بچھڑا نر یا مادہ، اور ہر چالیس گائے میں ایک گائے۔ اور ہر چالیس سائمہ بکریوں (باہر چرنے والیوں) میں ایک بکری ہے، یہاں تک کہ ایک سو بیس تک پہنچ جائیں۔ جب ایک سو بیس سے ایک بکری زیادہ ہوجائے تو دو سو تک میں دو بکریاں ہیں، جب دو سو سے ایک بکری زائد ہوجائے تو تین سو تک میں تین بکریاں ہیں اور جب ایک زیادہ ہوجائے تو ہر سو میں ایک بکری ہے اور زکوۃ وصولی میں بوڑھا جانور لیا جائے گا اور نہ کانا بھینگا اور نہ ہی بکریوں کا نر۔ اور نہ متفرق کے درمیان جمع کیا جائے گا اور نہ جمع شدہ کو متفرق کیا جائے گا زکوۃ کے خوف سے۔ اور جب دو شریکوں سے مشترک زکوۃ لی جائے تو بعد میں وہ دونوں برابری کے ساتھ حساب کتاب کرلیں۔ اور ہر پانچ اوقیہ چاندی میں پانچ درہم ہیں۔ پھر جب چاندی زیادہ ہوجائے تو ہر چالیس درہم میں ایک درہم ہے۔ اور پانچ اوقیہ (ساڑھے باون تولہ) چاندی سے کم میں زکوۃ نہیں (جبکہ صرف چاندی ہو، سونا اور روپیہ پیسہ یا دیگر مال تجارت کچھ نہ ہو) اور ہر چالیس دینا میں ایک دینار ہے۔
اور صدقہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے اہل بیت کے لیے حلال نہیں۔ یہ تو زکوۃ ہے جس کے ذریعے تم اپنے آپ کو پاک کرتے ہو اور یہ فقراء مومنین کے لیے حلال ہے اور اللہ کی راہ میں بھی خرچ کی جائے گی۔ اور غلاموں میں اور کاشت کی زمین میں اور نہ اس کے کام کرنے والوں میں کچھ بھی زکوۃ ہے۔ جبکہ زمین کا صدقہ (زکوۃ ) عشر کی صورت میں نکال لیا جائے گا۔
بڑے بڑے گناہوں کا ذکر
اور مسلمان غلام میں اور نہ مسلمان کے گھوڑے میں کوئی زکوۃ نہیں ہے۔
اور قیامت کے روز کبیرہ (بڑے بڑے) گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ایک شرک باللہ ہے، اور ناحق مومن جان کو قتل کرنا اسلام کی جنگ کے روز پیٹھ پھیر کر بھاگنا ، والدین سے قطع تعلقی کرنا، پاکدامن عورت پر تہمت لگانا، جادو سیکھنا جادو سیکھنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، یہ سب کبیرہ گناہ ہیں۔ عمرہ حج اصغر ہے۔ اور قرآن کو کوئی نہ چھوئے مگر پاک۔ اور نکاح کے بغیر طلاق نہیں اور غلام کو جب تک خرید نہ لے آزاد کرنے کا اختیار نہیں۔ اور کوئی ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے جس کا حصہ کندھے پر نہ پڑا ہوا ہو۔ اور کوئی ایک کپڑے میں نہ لپٹے اس طرح کہ اس کی شرم گاہ اور آسمان کے درمیان کوئی چیز نہ ہو۔ اور کوئی ایک ایسے کپڑے میں نماز نہ پڑھے جس کی جانب کھلی ہوئی ہو۔ اور کوئی اپنے بالوں کا جوڑا بنا کر نماز نہ پڑھے۔ اور جس نے کسی مومن کو ناحق قتل کیا اور اس پر گواہ موجود ہیں تو اس کا قصاص لیا جائے گا الایہ کہ مقتول کے ورثاء راضی ہوجائیں۔ اور ایک جان کی دیت (بدلہ) سو اونٹ ہیں، اور ناک جب پوری کاٹ دی جائے تو اس میں دیت ہے، اور زبان میں دیت ہے، اور ہونٹوں میں دیت ہے، عضو تناسل میں دیت ہے، دونوں خصیوں میں دیت ہے، کمر میں دیت ہے، دونوں آنکھوں میں دیت ہے، ایک ٹانگ میں نصف دیت ہے اور مامومۃ (سر کا وہ زخم جو دماغ کی جھلی تک پہنچ جائے) میں نصف دیت ہے۔ جائفہ (پیٹ کا وہ زخم جو معدہ تک پہنچ جائے) میں تہائی دیت ہے، منقلہ (وہ زخم جس سے کچھ ہڈی نکل جائے اور اپنی جگہ سے ہٹ جائے) میں پندرہ اونٹ ہیں۔ ہاتھ پاؤں کی انگلیوں میں سے ہر انگلی میں دس اونٹ ہیں۔ ہر دانت میں پانچ اونٹ ہیں۔ موضحہ (وہ زخم جس سے ہڈی ظاہر ہوجائے) میں پانچ اونٹ ہیں، اور آدمی کو عورت کے بدلے قتل کیا جائے گا۔ اور جو دیت کو سونے کے ساتھ ادا کرنا چاہے اس کے لیے پوری دیت ایک ہزار دینار ہیں۔
النسائی، الحسن بن سفیان، الکبیر للطبرانی، المستدرک الحاکم، ابونعیم، السنن الکبری للبیہقی، ابن عساکر
ابن عساکر نے عباس دوری کی روایت میں نقل کیا ہے، عباس دوری کہتے ہیں میں نے یحییٰ بن معین سے اسی حدیث کو سنا وہ فرمارے تھے کہ حضرت عمرو بن حزم (رض) نے بیان کیا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل یمن کے لیے ایک خط لکھا (پھر آگے روایت بیان کی)
تو یحییٰ بن معین سے ایک شخص نے پوچھا یہ روایت مسند ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا : نہیں بلکہ صالح ہے۔ آدمی نے یحییٰ سے عرض کیا : کہ پھر حضرت علی ابن ابی طالب (رض) نے فرمایا تھا کہ میرے پاس رسول اللہ کی کوئی تحریر موجود نہیں سوائے اس خط کے ؟ تب یحییٰ بن معین (رح) نے فرمایا کہ حضرت علی (رض) کا خط زیادہ ثابت ہے بنسبت حضرت عمرو بن حزم کے خط کے۔
14573- عن أبي بكر محمد بن عمرو بن حزم عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب إلى أهل اليمن بكتاب فيه الفرائض والصدقات والديات وبعث معه عمرو بن حزم فقرئ على أهل اليمن وهذه نسخته بسم الله الرحمن الرحيم من محمد النبي إلى شرحبيل بن عبد كلال والحارث بن عبد كلال قيل: ذي رعين ومعافر وهمدان، أما بعد فقد رجع رسولكم أعطيتم من المغانم خمس الله وما كتب على المؤمنين من العشر في العقار وما سقت السماء وكان سيحاأو كان بعلا ففيه العشر إذا بلغ خمسة أوسقوفي كل خمس من الإبل سائمة شاة إلى أن تبلغ أربعا وعشرين، فإذا زادت واحدة على أربع وعشرين ففيها بنت مخاض فإن لم توجد بنت مخاض فابن لبون ذكر إلى أن تبلغ خمسا وثلاثين، فإذا زادت على خمس وثلاثين واحدة ففيها بنت لبون إلى أن تبلغ خمسا وأربعين؛ فإن زادت واحدة على خمسين وأربعين، ففيها حقة طروقةالجمل إلى أن تبلغ ستين، فإذا زادت على ستين واحدة ففيها جذعة إلى أن تبلغ خمسا وسبعين فإذا زادت واحدة على خمس وسبعين ففيها بنتا لبون إلى أن تبلغ تسعين فإذا زادت واحدة على التسعين ففيها حقتان طروقتا الجمل إلى أن تبلغ عشرين ومائة فما زاد على عشرين ومائة ففي كل أربعين بنت لبون. وفي كل خمسين حقة طروقة الجمل وفي كل ثلاثين باقورةتبيع جذع أو جذعة، وفي كل أربعين باقورة بقرة، وفي كل أربعين شاة سائمة شاة إلى أن تبلغ عشرين ومائة، فإذا زاد على عشرين ومائة واحدة ففيها شاتان إلى أن تبلغ مائتين، فإذا زادت واحدة فثلاث إلى أن تبلغ ثلاث مائة فما زاد ففي كل مائة شاة شاة ولا تؤخذ في الصدقة هرمة ولا ذات عور ولا تيس الغنم، ولا يجمع بين متفرق ولا يفرق بين مجتمع خشية الصدقة، فما أخذ من الخليطين فإنهما يتراجعان بالسوية بينهما وفي كل خمس أواق من الورق خمسة دراهم، فما زاد ففي كل أربعين درهما درهم وليس فيما دون خمس أواق شيء، وفي كل أربعين دينارا دينار، وأن الصدقة لا تحل لمحمد ولا لأهل بيته إنما هي الزكاة تزكون بها أنفسكم ولفقراء المؤمنين وفي سبيل الله وليس في رقيق ولا مزرعة ولا عمالها شيء إذا كانت تؤدى صدقتها من العشر، وليس في عبد مسلم ولا في فرسه شيء، وأن أكبر الكبائر عند الله يوم القيامة الشرك بالله، وقتل النفس المؤمنة بغير حق، والفرار في سبيل الله يوم الزحف، وعقوق الوالدين، ورمي المحصنة، وتعلم السحر، وأكل الربا، وأكل مال اليتيم. وأن العمرة الحج الأصغر، ولا يمس القرآن إلا طاهر، ولا طلاق قبل إملاك، ولا عتاق حتى يبتاع، ولا يصلين أحد منكم في ثوب واحد ليس على منكبه شيء، ولا يحتبي في ثوب واحد ليس بين فرجه وبين السماء شيء، ولا يصلي أحد منكم في ثوب واحد وشقه باد، ولا يصلين أحد منكم عاقص شعره، ومن اعتبطمؤمنا قتلا عن بينة فإنه قود إلا أن يرضى أولياء المقتول، وأن في النفس الدية مائة من الإبل، وفي الأنف إذا أوعبجدعه الدية وفي اللسان الدية، وفي الشفتين الدية، وفي الذكر الدية، وفي البيضتين الدية، وفي الصلب الدية، وفي العينين الدية، وفي الرجل الواحد نصف الدية، وفي المأمومةنصف الدية، وفي الجائفةثلث الدية، وفي المنقلة خمسة عشر من الإبل وفي كل أصبع من الأصابع في اليد والرجل عشر من الإبل، وفي كل سن خمس من الإبل، وفي الموضحة خمس من الإبل، وأن الرجل يقتل بالمرأة وعلى أهل الذهب ألف دينا ر. "ن والحسن بن ابن سفيان طب ك وأبو نعيم هقكر" ثم روى كر عن عباس الدوري قال: سمعت يحيى بن معين يقول: حدث عمرو بن حزم أن النبي صلى الله عليه وسلم كتب لهم كتابا فقال له رجل هذا مسند قال لا ولكنه صالح، قال الرجل ليحيى فكتاب علي بن أبي طالب أنه قال ليس عندي من رسول الله صلى الله عليه وسلم شيء إلا هذا الكتاب فقال كتاب علي بن أبي طالب هذا أثبت من كتاب عمرو بن حزم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৭৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14574 حضرت ابوامامہ (رض) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ : بیشک اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دیدیا لہٰذا اب وارث کے لیے وصیت جائز نہیں (اور نہ وہ نافذ کی جائے گی) اور بچہ صاحب بستر (شوہر یا باندی کے مالک کا ہوگا) جبکہ زانی کے لیے سنگساری کے پتھر ہیں۔ اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔ جس نے غیر باپ کی طرف اپنے کو منسوب کیا (کہ اس کا بیٹا ہوں) یا کسی غلام نے غیر آقا کی طرف اپنے کو منسوب کیا (کہ اس کا غلام ہوں ) تو اس پر اللہ کی لعنت قیامت تک رہے گی۔ اور کوئی عورت اپنے گھر میں سے کوئی چیز اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر (صدقہ خیرات میں) خرچ نہ کرے۔ پوچھا گیا : یارسول اللہ اور کھانا بھی نہیں ؟ فرمایا : کھانا تو ہمارا بہترین مال ہے (وہ کیسے بغیر اجازت دینا جائز ہوگا) ۔ پھر ارشاد فرمایا : عاریت (مانگی ہوئی چیز) واپس کرنا لازم ہے ، منحہ (دودھ کا جانور جو کسی دودھ پینے کے لیے دیا ہو) وہ بھی واپس کیا جائے گا اور قرض چکایا جائے گا اور ضامن (ضمانت لینے والا) نقصان کا ذمہ دار ہوگا۔ الجامع لعبد الرزاق
14574- عن أبي أمامة سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم عام حجة الوداع يقول: إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث، الولد للفراش وللعاهر الحجر، وحسابهم على الله، من ادعى إلى غير أبيه أو تولى إلى غير مواليه فعليه لعنة الله التابعة إلى يوم القيامة، لا تنفق امرأة شيئا من بيتها إلا بإذن زوجها، قيل: يا رسول الله ولا الطعام؟ قال: ذلك أفضل أموالنا، ثم قال: العارية مؤداة والمنحةمردودة والدين مقضي والزعيم غارم. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৭৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14575 ابوامامۃ (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کی جنگ کے موقع پر گدھے کا گوشت کھانے سے اور ہر کیچلی والے درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ اور حاملہ قیدی عورتوں سے جماع کرنے سے منع فرمایا جب تک وہ اپنے بچے نہ پیدا کرلیں۔ اور مال غنیمت بیچنے سے منع فرمایا جب تک کہ اس کو تقسیم نہ کرلیا جائے اور درخت پر لگے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا جب تک کہ وہ پکنا شروع نہ ہوجائیں۔ اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن لعنت فرمائی واصلہ اور موصلہ پر۔ اپنے بالوں میں دوسرے کے بال لگوانے والی عورت پر اور اس پر جو دوسری کو بال لگا کر دے اور گود نے والی پر اور گدوانے والی پر (جسم میں سوئی کے ساتھ نشانات لگا لگا کر پھر ان میں سرمہ یا رنگ بھر کر کوئی خاص نشانی لگوانا اور لعنت فرمائی اپنے چہرے کہ پیٹنے والی پر اور اپنے گریبان کو پھاڑنے والی پر) ۔ مصنف ابن ابی شیبہ
روایت صحیح ہے۔
روایت صحیح ہے۔
14575- عن أبي أمامة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى يوم خيبر عن أكل الحمار الأهلي وعن كل ذي ناب من السباع، وأن لا توطأ الحبالى حتى يضعن، وعن أن تباع السهام حتى تقسم، وأن تباع الثمرة حتى يبدو صلاحها، ولعن يومئذ الواصلة والموصولة والواشمة والمستوشمة والخامشة وجهها والشاقة جيبها. "ش" وهو صحيح.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৭৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14576 حضرت ابوامامہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حجۃ الوداع کے خطبہ میں ارشاد فرماتے ہوئے سنا :
خبردار ! بیشک اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دیدیا ہے، پس اب وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔ بچہ صاحب بستر کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔ اور جس نے غیر باپ کی طرف نسبت کی یا غیر آقا کی طرف نسبت کی اس پر اللہ کی لعنت ہے جو قیامت تک اس پر جاری رہے گی، اللہ اس کا فرض قبول کرے گا اور نہ نفل اور کوئی عورت اپنے سو ہر کے گھر کی کوئی چیز (باہر) خرچ نہ کرے۔ پوچھا گیا : یارسول اللہ ! کھانا بھی نہیں ؟ ارشاد فرمایا : وہ تو ہمارے عمدہ اموال میں سے ہے۔ پھر ارشاد فرمایا : عاریت واپس کی جائے گی، دودھ کا جانور واپسی کیا جائے گا قرض چکایا جائے گا اور ضامن ذمہ دار ہوگا۔ ابوداؤد، السنن لسعید بن منصور، مسند احمد، ترمذی قال الترمذی حسن صحیح
خبردار ! بیشک اللہ تعالیٰ نے ہر صاحب حق کو اس کا حق دیدیا ہے، پس اب وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں۔ بچہ صاحب بستر کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔ اور جس نے غیر باپ کی طرف نسبت کی یا غیر آقا کی طرف نسبت کی اس پر اللہ کی لعنت ہے جو قیامت تک اس پر جاری رہے گی، اللہ اس کا فرض قبول کرے گا اور نہ نفل اور کوئی عورت اپنے سو ہر کے گھر کی کوئی چیز (باہر) خرچ نہ کرے۔ پوچھا گیا : یارسول اللہ ! کھانا بھی نہیں ؟ ارشاد فرمایا : وہ تو ہمارے عمدہ اموال میں سے ہے۔ پھر ارشاد فرمایا : عاریت واپس کی جائے گی، دودھ کا جانور واپسی کیا جائے گا قرض چکایا جائے گا اور ضامن ذمہ دار ہوگا۔ ابوداؤد، السنن لسعید بن منصور، مسند احمد، ترمذی قال الترمذی حسن صحیح
14576- عن أبي أمامة سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في خطبة عام حجة الوداع: ألا إن الله أعطى كل ذي حق حقه؛ فلا وصية لوارث الولد للفراش، وللعاهر الحجر، وحسابهم على الله من ادعى إلى غير أبيه أو انتمى إلى غير مواليه فعليه لعنة الله التابعة إلى يوم القيامة لا يقبل الله منه صرفا ولا عدلا، لا تنفق امرأة شيئا من بيتها إلا بإذن زوجها،
قيل: يا رسول الله ولا الطعام؟ قال: ذلك أفضل أموالنا، ثم قال: إن العارية مؤداة والمنحة مردودة والدين مقضي والزعيم غارم. "ط ص حم ت" وقال: حسن [صحيح]
قيل: يا رسول الله ولا الطعام؟ قال: ذلك أفضل أموالنا، ثم قال: إن العارية مؤداة والمنحة مردودة والدين مقضي والزعيم غارم. "ط ص حم ت" وقال: حسن [صحيح]
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৭৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14577 یحییٰ بن یعمر سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ (رض) سے کسی شخص نے سوال کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رات کو قرات کرتے تھے تو آواز بلند فرماتے تھے ؟ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا بسا اوقات آہستہ پڑھتے تھے اور بسا اوقات بلند آواز سے پڑھتے تھے۔ آدمی نے یہ سن کر کہا : تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے دین میں وسعت اور کشادگی رکھی ہے۔ پھر پوچھا : کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں وتر پڑھتے تھے۔ آدمی نے کہا : تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے دین میں وسعت رکھلی ہے۔ پھر پوچھا : کیا رسول اللہ جنبی۔ غسل فرض ہونے کی حالت میں سوتے تھے ؟ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : کبھی سونے سے پہلے غسل فرمالیتے تھے اور کبھی غسل سے پہلے سوجاتے تھے لیکن پھر سونے سے قبل وضو کرلیتے تھے۔ آدمی نے کہا : تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے دین میں وسعت رکھی ہے۔ الجامع لعبد الرزاق
14577- عن يحيى بن يعمر أن عائشة سألها رجل هل كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع صوته من الليل إذا قرأ؟ قالت: ربما خفض وربما رفع قال: الحمد لله الذي جعل في الدين سعة، قال: فهل كان يوتر من أول الليل؟ قالت: ربما أوتر من أول الليل، وربما أوتر من آخره، قال: الحمد لله الذي جعل في الدين سعة، قال: فهل كان ينام وهو جنب! قالت: ربما اغتسل قبل أن ينام، وربما نام قبل أن يغتسل ولكنه يتوضأ قبل أن ينام قال: الحمد لله الذي جعل في الدين سعة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৭৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14578 ابن جریج (رح) سے مروی ہے کہ ہمیں جعفر بن محمد نے عن ابیہ عن جدہ (رض) کی سند سے بیان کیا کہ انھوں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تلوار کے ساتھ ایک صحیفہ پایا جو تلوار کے دستے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ اس میں لکھا تھا : بیشک لوگوں میں اللہ کا سب سے بڑا دشمن وہ قاتل ہے جو ایسے شخص کو قتل کرے جس نے قتل نہیں کیا اور ایسا مارنے والا ہے جس نے اس کو مارا نہیں۔ اور جس نے کسی بدعتی (دین میں نئی ایجاد کرنے والے) کو ٹھکانا دیا اللہ پاک قیامت کے دن اس کا نہ فرض قبول کریں گے اور نہ نفل اور جس غلام نے غیر آقاؤں سے رشتہ جوڑا اس نے کفر کیا اس کا جو اللہ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا ہے۔ المصنف لعبدالرزاق
14578- عن ابن جريج حدثنا جعفر بن محمد عن أبيه عن جده رضي الله عنهم أنه وجد مع سيف النبي صلى الله عليه وسلم صحيفة معلقة بقائمة السيف فيها؛ إن أعدى الناس على الله تعالى القاتل غير قاتله والضارب غير ضاربه، ومن آوى محدثا لم يقبل الله منه يوم القيامة صرفا ولا عدلا ومن تولى غير مواليه فقد كفر بما أنزل الله على محمد صلى الله عليه وسلم. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৭৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ " جامع الأحكام "
14579 مجاہد (رح) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک اعلان کرنے والے کو حکم دیا کہ یہ اعلان کردے کہ وارث کے لیے وصیت نہیں اور کسی عورت کو کوئی عطیہ آگے دینا جائز نہیں مگر اپنے شوہر کی اجازت کے ساتھ۔ اور بچہ صاحب فراش کے لیے ہے۔ السنن لسعید بن منصور
الحمد للہ ختم شدہ حصہ پنجم
مترجم محمد اصغر غفر اللہ لہ ولوالدیہ ولذریتہ
الحمد للہ ختم شدہ حصہ پنجم
مترجم محمد اصغر غفر اللہ لہ ولوالدیہ ولذریتہ
14579- عن مجاهد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمر مناديا ينادى لا وصية لوارث ولا يجوز لامرأة عطية إلا بإذن زوجها والولد للفراش. "ص".
تم بعون الله تعالى المجلد الخامس
ويليه إن شاء الله المجلد السادس
تم بعون الله تعالى المجلد الخامس
ويليه إن شاء الله المجلد السادس
তাহকীক: