সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
فیصلوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৫২ টি
হাদীস নং: ৪৫১৭
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4517 ۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انھوں نے شکار کرنے والے کتے کے بارے میں چالیس درہم دینے کا فیصلہ دیا ہے۔ بکریوں کے رکھوالے کتے کے بارے میں ایک بکری کی ادائیگی ‘ کھیت کے رکھوالے کتے کے بارے میں ‘ اناج کے فرق (بڑے برتن) کا حکم دیا ہے ‘ جبکہ گھر کی حفاظت والے کتے میں مٹی کے ایک بڑے برتن کا حکم دیا ہے۔ یہ اس شخص پر لازم ہوگا جو ایک کتے کو مار دیتا ہے ‘ وہ اسے یہ اداکرے گا۔ تاہم کتے کے مالک کے لیے یہ بات لازم ہے کہ وہ اس بدلے کو وصول کرتے ہوئے اس میں کوئی کمی کردے۔
4517 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُبَشِّرٍ وَعَمْرُو بْنُ عَوْنٍ قَالاَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَسَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ قَضَى فِى كَلْبِ الصَّيْدِ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا وَفِى كَلْبِ الْغَنَمِ شَاةٌ وَفِى كَلْبِ الزَّرْعِ فَرَقٌ مِنْ طَعَامٍ وَفِى كَلْبِ الدَّارِ فَرَقٌ مِنْ تُرَابٍ حَقٌّ عَلَى الَّذِى قَتَلَهُ أَنْ يُعْطِىَ وَحَقٌّ عَلَى صَاحِبِ الْكَلْبِ أَنْ يَأْخُذَ مَعَ مَا نَقَصَ مِنَ الأَجْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১৮
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4518 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : جو شخص کسی دوسرے شخص کی جگہ پر عمارت بنالیتا ہے ‘ اور اس کی اجازت کے ساتھ بناتا ہے ‘ تو اب قیمت کی ادائیگی اس پر لازم ہوگی اور جو شخص اس مالک کی اجازت کے بغیر وہاں عمارت بنالیتا ہے ‘ تو اب اس عمارت کو توڑدیا جائے گا۔
4518 - حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ قُرَيْنٍ الْعُثْمَانِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضَالَةَ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ أَبِى صَابِرٍ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ قَيْسٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ بَنَى فِى رِبَاعِ قَوْمٍ بِإِذْنِهِمْ فَلَهُ الْقِيمَةُ وَمَنْ بَنَى بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَهُ النَّقْضُ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১৯
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4519 ۔ عمروبن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے داداکایہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیانت کرنے والے مرد ‘ خیانت کرنے والی عورت ‘ اپنے بھائی سے کینہ رکھنے والے شخص اور گھر میں ملازم کی گواہی کو مسترد کردیا تھا ‘ البتہ وہ اپنے گھروالوں کے علاوہ دوسروں کے حق میں گواہی دے سکتے ہیں۔
4519 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- رَدَّ شَهَادَةَ الْخَائِنِ وَالْخَائِنَةِ وَذِى الْغِمْرِ عَلَى أَخِيهِ وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ لأَهْلِ الْبَيْتِ وَأَجَازَهَا عَلَى غَيْرِهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২০
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4520 ۔ عمروبن شعیب اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے داداکایہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : خیانت کرنے والے مرد ‘ خیانت کرنے والی عورت ‘ حد میں سزا یافتہ مرد ‘ حد میں سزا یافتہ عورت ‘ اپنے بھائی کے خلاف کینہ رکھنے والے کی گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
4520 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَبِى حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِىُّ عَنْ آدَمَ بْنِ فَائِدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلاَ خَائِنَةٍ وَلاَ مَحْدُودٍ فِى الإِسْلاَمِ وَلاَ مَحْدُودَةٍ وَلاَ ذِى غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২১
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4521 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) یہ روایت نقل کرتی ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : خیانت کرنے والے مرد ‘ خیانت کرنے والی عورت ‘ حد میں سزا یافتہ مرد ‘ اپنے بھائی کے خلاف کینہ رکھنے والے شخص اور گھر کے ملازم کی گھروالوں کے خلاف گواہی درست نہیں ہے۔
4521 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ : عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِى زِيَادٍ الْقُرَشِىُّ حَدَّثَنَا الزُّهْرِىُّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رضى الله عنها تَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلاَ خَائِنَةٍ وَلاَ مَجْلُودٍ حَدًّا وَلاَ ذِى غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ وَلاَ الْقَانِعِ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ لَهُمْ ». يَزِيدُ هَذَا ضَعِيفٌ لاَ يُحْتَجُّ بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২২
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4522 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : یاد رکھنا کہ خیانت کرنے والے مرد ‘ خیانت کرنے والی عورت ‘ اپنے بھائی کے خلاف کینہ رکھنے والے شخص اور جس شخص پر حدجاری ہوئی ہو ‘ ان کی گواہی درست نہیں ہے۔
4522 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ خَلَفٍ الدِّمَشْقِىُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الزُّهْرِىُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَطَبَ فَقَالَ « أَلاَ لاَ تَجُوزُ شَهَادَةُ الْخَائِنِ وَلاَ الْخَائِنَةِ وَلاَ ذِى غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ وَلاَ الْمَوْقُوفِ عَلَى حَدٍّ ». يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ هُوَ الْفَارِسِىُّ مَتْرُوكٌ وَعَبْدُ الأَعْلَى ضَعِيفٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২৩
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4523 ۔ عمروبن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے داداکایہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : خیانت کرنے والے مرد ‘ خیانت کرنے والی عورت ‘ جس شخص پر حد جاری ہوئی ہو اور جو شخص اپنے بھائی کے خلاف کینہ رکھتے ہوئے اس کے خلاف گواہی دے ‘ ان کی گواہی درست نہیں ہے۔
4523 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الضُّرَيْسِ أَخْبَرَنِى الْمُثَنَّى بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ تَجُوزُ شَهَادَةُ خَائِنٍ وَلاَ خَائِنَةٍ وَلاَ مَوْقُوفٍ عَلَى حَدٍّ وَلاَ ذِى غِمْرٍ عَلَى أَخِيهِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২৪
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4524 ۔ شعبی بیان کرتے ہیں کہ قاضی شریح کسی مذہب سے تعلق رکھنے والے شخص کو گواہی اسی مذہب سے تعلق رکھنے والے شخص کے خلاف قبول کرلیتے تھے ‘ وہ عیسائی کے خلاف یہودی کی ‘ یا یہودی کے خلاف عیسائی کی گواہی کو قبول نہیں کرتے تھے۔ البتہ مسلمانوں کا مسئلہ مختلف تھا ‘ کیونکہ وہ کسی بھی مسلمان کی گواہی دوسرے تمام مذاہب کے خلاف قبول کرلیتے تھے۔
4524 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ قَالَ سَمِعْتُ مُجَالِدًا ذَكَرَ عَنِ الشَّعْبِىِّ قَالَ كَانَ شُرَيْحٌ يُجِيزُ شَهَادَةَ كُلِّ مِلَّةٍ عَلَى مِلَّتِهَا وَلاَ يُجِيزُ شَهَادَةَ الْيَهُودِىِّ عَلَى النَّصْرَانِىِّ وَلاَ النَّصْرَانِىِّ عَلَى الْيَهُودِىِّ إِلاَّ الْمُسْلِمِينَ فَإِنَّهُ كَانَ يُجِيزُ شَهَادَتَهُمْ عَلَى الْمِلَلِ كُلِّهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২৫
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4525 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ میں تمہارے درمیان دوچیزیں چھوڑ کر جارہاہوں ‘ تم ان کے (مل جانے کے) بعد گمراہ نہیں ہوگے : اللہ کی کتاب اور میری سنت ‘ یہ دونوں الگ نہیں ہوں گے ‘ یہاں تک کہ یہ حوض پر مجھ تک پہنچ جائیں گے۔
4525 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو قَبِيصَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ عَنْ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « خَلَّفْتُ فِيكُمْ شَيْئَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِى وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَىَّ الْحَوْضَ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২৬
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4526 ۔ حضرت کعب بن عاصم اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : اللہ تعالیٰ نے میری امت کے حوالے سے مجھے تین چیزوں کی پناہ عطاء کردی ہے : وہ لوگ بھوکے نہیں رہیں گے ‘ وہ لوگ گمراہی پر متفق نہیں ہوں گے اور وہ لوگ سرے سے ختم نہیں ہوں گے۔
4526 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مَرْوَانَ حَدَّثَنَا جُنَادَةُ بْنُ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شَعْوَذُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ خَالِدٍ - يَعْنِى ابْنَ مَعْدَانَ - قَالَ وَقَالَ كَعْبُ بْنُ عَاصِمٍ الأَشْعَرِىُّ إِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَجَارَنِى عَلَى أُمَّتِى مِنْ ثَلاَثٍ لاَ يَجُوعُوا وَلاَ يُسْتَجْمَعُوا عَلَى ضَلاَلَةٍ وَلاَ تُسْتَبَاحُ بَيْضَةُ الْمُسْلِمِينَ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২৭
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4527 ۔ حضرت ابیض بن حمال (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یارسول اللہ ! میں پیلو کے درخت میں سے کیا چیزچنوں ؟ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ چیزجہاں اونٹ کے پاؤں نہ پہنچ سکیں۔
4527 - حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِى سَمِينَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرِبِىُّ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ عَنْ سُمَىِّ بْنِ قَيْسٍ عَنْ شُمَيْرٍ عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُحْمَى مِنَ الأَرَاكِ قَالَ « مَا لاَ تَنَالُهُ أَخْفَافُ الإِبِلِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫২৮
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4528 ۔ مروان جعفربیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ ایک مرتبہ کوفہ میں حضرت مغیرہ بن شعبہ اور مصقلہ بن ہبیرہ کے درمیان اختلاف ہوگیا تومغیرہ نے مصقلہ کے سامنے حضرت معاویہ (رض) کے قریب ہونے کے حوالے سے فخرکا اظہارکیاتومصقلہ نے ان سے کہا کہ اللہ کی قسم ! میں اس بات کا زیادہ حق رکھتاہوں کہ وہ مجھ سے زیادہ قریب ہوں۔ حضرت مغیرہ (رض) نے ان سے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ مصقلہ نے ان سے کہا : اس کی وجہ یہ ہے کہ میں حضرت علی بن ابوطالب (رض) کو مہاجرین اور انصار اور عراق کے بڑے لوگوں کے درمیان چھوڑ کر حضرت معاویہ (رض) سے مل گیا تھا اور ان کے ساتھ تلوار چلاتارہا تھا اور انھوں نے مجھے گورنرمقرر کیا تھا تو میں نے ان کے لیے بنوسامہ بن لوئی کو آزاد کیا تھا ‘ حالانکہ میں ان کی گردنوں کا مالک بن چکا تھا اور کی عزتیں میرے لیے حلال ہوچکی تھیں ‘ جبکہ تم طائف میں ٹھہرے ہوئے تھے اور اپنی بیویوں کے ساتھ خوش ہورہے تھے اور اپنے بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ‘ تمہاری زبان دراز تھی ‘ تم کنجوس تھے ‘ تمہیں رشتے داری کی پروا نہیں تھی لیکن جب معاملہ ٹھیک ہوگیا تو اس وقت تم ہم پر غالب آگئے۔ حضرت مغیرہ (رض) نے ان سے کہا : اللہ کی قسم ! اے مصقلہ ! تم آج یہی باتیں کیے جارہے ہو ‘ جہاں تک تمہارا حضرت علی (رض) کو چھوڑنے کا تعلق ہے ‘ تو تم نے ایسا کیا ہے ‘ تو تم نے یہ عمل اہل شام سے محبت کی وجہ سے نہیں کیا بلکہ اہل عراق کے ساتھ نفرت کی وجہ سے کیا ہے ‘ جہاں تک تم نے یہ کہا ہے کہ تم نے بنوسامہ بن لوئی کو آزاد کیا ہے ‘ تو حضرت علی (رض) کے ایک قابل اعتماد ساتھی نے تم پر اعتماد کرتے ہوئے انھیں آزاد کیا ہے ‘ اللہ کی قسم ! تم نے اپنے آپ کو ان کے ساتھ متعلق نہیں کیا اور نہ ہی انھیں اپنے مال میں سے آزاد کیا تھا ‘ جہاں تک میرا طائف میں رہنے کا معاملہ ہے ‘ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے گھربار کی آزمائش میں مبتلا کیا ‘ جس میں تمہیں مبتلا نہیں کیا ‘ جو بیویوں کے بارے میں ہوتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے ‘ اگر تم نے ہمارے ساتھ دشمنی کی تو اللہ تعالیٰ تمہیں دیکھ رہا ہے۔
4528 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ الْمُحْرِمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ السَّمُرِىُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرٍ السَّمُرِىُّ حَدَّثَنِى أَبِى أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ وَمَصْقَلَةَ بْنَ هُبَيْرَةَ الشَّيْبَانِىَّ تَنَازَعَا بِالْكُوفَةِ فَفَخَرَ الْمُغِيرَةُ بِمَكَانِهِ مِنْ مُعَاوِيَةَ عَلَى مَصْقَلَةَ فَقَالَ لَهُ مَصْقَلَةُ وَاللَّهِ لأَنَا أَعْظَمُ عَلَيْهِ حَقًّا مِنْكَ قَالَ لَهُ الْمُغِيرَةُ وَلِمَ قَالَ لَهُ مَصْقَلَةُ لأَنِّى فَارَقْتُ عَلِىَّ بْنَ أَبِى طَالِبٍ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فِى الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ وَوُجُوهِ أَهْلِ الْعِرَاقِ وَلَحِقْتُ بِمُعَاوِيَةَ فَضَرَبْتُ مَعَهُ بِسَيْفِى وَاسْتَعْمَلَنِى عَلِىٌّ عَلَى الْبَحْرَيْنِ فَأَعْتَقْتُ لَهُ بَنِى سَامَةَ بْنِ لُؤَىِّ بْنِ غَالِبٍ بَعْدَ مَا مُلِكَتْ رِقَابُهُمْ وَأُبِيحَتْ حُرْمَتُهُمْ وَأَنْتَ مُقِيمٌ بِالطَّائِفِ تُنَاغِى نِسَاءَكَ وَتُرَشِّحُ أَطْفَالَكَ طَوِيلُ اللِّسَانِ قَصِيرُ الْيَدِ تُلْقِى بِالْمَوَدَّةِ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ حَتَّى إِذَا اسْتَقَامَتِ الأُمُورُ غَلَبْتَنَا عَلَيْهِ. فَقَالَ لَهُ الْمُغِيرَةُ وَاللَّهِ يَا مَصْقَلَةُ مَا زِلْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ تُكْثِرُ الْحَزَّ وَتُخْطِئُ الْمَفَاصِلَ أَمَّا تَرْكُكَ عَلِيًّا فَقَدْ فَعَلْتَ فَلَمْ تُؤْنِسْ أَهْلَ الشَّامِ وَلَمْ تُوحِشْ أَهْلَ الْعِرَاقِ وَأَمَّا قَوْلُكَ فِى عِتْقِ بَنِى سَامَةَ بْنِ لُؤَىٍّ فَإِنَّمَا أَعْتَقَهُمْ ثِقَةُ عَلِىٍّ رضى الله عنه بِكَ وَاللَّهِ مَا صَبَرْتَ لَهُمْ نَفْسَكَ وَلاَ أَعْتَقْتَهُمْ مِنْ مَالِكَ وَأَمَّا مَقَامِى بِالطَّائِفِ فَقَدْ أَبْلاَنِىَ اللَّهُ تَعَالَى فِى الْخَفْضِ مَا لَمْ يَبْلُكَ فِى الطَّعْنِ وَلِلَّهِ تَعَالَى عَلَيْنَا نِعَمٌ فَإِنْ أَنْتَ عَادَيْتَنَا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ وَرَائِكَ.
তাহকীক: