সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
فیصلوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৫২ টি
হাদীস নং: ৪৪৯৭
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4497 ۔ عمروبن شعیب اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے داداکایہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حضرت بلال (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ ان کے ساتھ ان کی زمین کا عشر تھا۔ اس نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ آپ اسے ایک وادی چراگاہ کے طورپرعطاء کردیں جس کا نام ” سلبہ “ تھا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ جگہ اس کو چراگاہ کے طورپردے دی ‘ پھر جب حضرت عمر (رض) خلیفہ بنے تو سفیان بن وہب نے حضرت عمر (رض) کو خط لکھا اور ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : وہ تمہیں وہی ادائیگی کریں گے جو وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ادائیگی کرتا تھا ‘ یعنی اس جگہ کی پیداوارکادسواں حصہ ‘ توٹھیک ہے وہ چراگاہ اس کے پاس رہنے دو ‘ جس کا نام سلبہ ہے ‘ اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو وہ اس طرح ہوگی جسے جو چاہے گا وہ کھالے گا۔
4497 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا النَّيْسَابُورِىُّ بِمِصْرَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِىُّ أَخْبَرَنِى الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِى شُعَيْبٍ أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ جَاءَ هِلاَلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِعُشُورِ نَحْلٍ لَهُ وَسَأَلَهُ أَنْ يَحْمِىَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ سَلَبَةُ فَحَمَى لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- ذَلِكَ الْوَادِىَ فَلَمَّا وُلِّىَ عُمَرُ كَتَبَ سُفْيَانُ بْنُ وَهْبٍ إِلَى عُمَرَ يَسْأَلُهُ فَكَتَبَ عُمَرُ إِنْ أَدَّى إِلَيْكَ مَا كَانَ يُؤَدِّى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ عُشْرِ نَحْلِهِ فَاحْمِ لَهُ سَلَبَةَ ذَلِكَ وَإِلاَّ فَهُوَ ذُبَابُ غَيْثٍ يَأْكُلُهُ مَنْ شَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৯৮
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4498 ۔ عمروبن شعیب اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے داداکایہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے : چراگاہ صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے ہوتی ہے۔
4498 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى ابْنُ أَبِى الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ حِمَى إِلاَّ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৯৯
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4499 ۔ سیدہ ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھی ہوئی تھی ‘ دو آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ ان دونوں کے درمیان وراثت سے متعلق جھگڑاچل رہا تھا جو کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں تھا جو پرانی ہوچکی تھیں ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کے درمیان اپنی رائے سے فیصلہ دوں گا جس بارے میں مجھ پر وحی نازل نہیں ہوئی تو جس شخص کے حق میں ‘ میں فیصلہ دے دوں اور ظلم کے طورپرا سے وہ چیزمل جائے تو اسے جہنم کا ٹکڑاملے گا ‘ جسے وہ قیامت کے دن اپنی گردن میں ڈال کرلے کر آئے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ دونوں افراد رونے لگے۔ ان میں سے ایک نے کہا : حق جس کا میں مطالبہ کررہا تھا ‘ اصل میں وہ میرے ساتھی کا حق ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ! تم دونوں جاؤ اور اس کی جانچ پڑتال کرکے اس کے حصے کو لو۔ پھر تم دونوں سے ہر ایک اپنی ساتھی کے لیے اسے حلال قراردیدے۔
4499 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ كُنْتُ جَالِسَةً عِنْدَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- إِذْ جَاءَهُ رَجُلاَنِ يَخْتَصِمَانِ فِى مَوَارِيثَ فِى أَشْيَاءَ قَدْ دَرَسَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنِّى إِنَّمَا أَقْضِى بَيْنَكُمَا بِرَأْيِى فِيمَا لَمْ يُنَزَّلْ عَلَىَّ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِقَضِيَّةٍ أُرَاهَا فَقَطَعَ بِهَا قِطْعَةً ظُلْمًا فَإِنَّمَا يَقْطَعُ بِهَا قِطْعَةً مِنْ نَارٍ إِسْطَامًا يَأْتِى بِهَا فِى عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ». قَالَ فَبَكَى الرَّجُلاَنِ وَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَقِّى هَذَا الَّذِى أَطْلُبُ لِصَاحِبِى قَالَ « لاَ وَلَكِنِ اذْهَبَا فَتَوَخَّيَا ثُمَّ اسْتَهِمَا ثُمَّ لِيَحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫০০
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4500 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : انھوں نے فرمایا : تم میں سے جسے میں اپنی رائے کے مطابق ‘ ثبوت کی بنیاد پر فیصلہ دے دوں اور اسے ظلم کے طورپروہ حصہ مل جائے۔
4500 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ « فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحُجَّةٍ أُرَاهَا فَقَطَعَ بِهَا قِطْعَةً ظُلْمًا ». وَالْبَاقِى نَحْوَهُ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫০১
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4501 ۔ سیدہ ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھی ہوئی تھی ‘ میرے اور لوگوں کے درمیان پردہ موجود تھا ‘ کچھ لوگ وراثت اور دیگر چیزوں کے بارے میں مقدمہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے جو ضائع ہوچکی تھی۔ اور اسے پہچاننے والاباقی نہیں رہا تھا۔
4501 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَأَبُو أُمَيَّةَ قَالاَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ رضى الله عنها قَالَتْ كُنْتُ جَالِسَةً عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَبَيْنِى وَبَيْنَ النَّاسِ سِتْرٌ فَجَاءَ إِلَيْهِ قَوْمٌ فِى مَوَارِيثَ وَأَشْيَاءَ قَدْ دَرَسَتْ وَذَهَبَ مَنْ يَعْرِفُهَا ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫০২
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4502 ۔ سیدہ زینب بنت ابوسلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ سید ام سلمہ نے انھیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ بات بتائی ہے کہ آپ نے اپنے حجرے کے دروازے پر کچھ لوگوں کی جھگڑے کی آوازسنی ‘ آپ ان کے پاس تشریف لے کرگئے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں بھی ایک انسان ہوں ‘ میرے پاس کوئی فریق مقدمہ لے کر آتا ہے ‘ ہوسکتا ہے کہ وہ دوسرے فریق کے مقابلے میں زیادہ تیز گفتگو کرتا ہو ‘ میں اسے سچاسمجھتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ دے دوں ‘ تو میں جس شخص کے حق میں کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ دوں گا تو یہ ایک جہنم کا ٹکڑا ہوگا ‘ اس کی مرضی ہے کہ اسے حاصل کرلے یا اسے چھوڑدے۔
4502 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِشْكَابَ وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْوَاسِطِىُّ قَالُوا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِى عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِى سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَخْبَرَتْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ سَمِعَ صَوْتَ خُصُومٍ بِبَابِ حُجْرَتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ « إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّهُ يَأْتِينِى الْخَصْمُ فَلَعَلَّ بَعْضَهُمْ أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ فَأَحْسِبَ أَنَّهُ صَادِقٌ فَأَقْضِىَ لَهُ بِذَلِكَ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هِىَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ لِيَتْرُكْهَا ». تَابَعَهُ مَعْمَرٌ وَيُونُسُ وَعُقَيْلٌ وَشُعَيْبٌ وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫০৩
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4503 ۔ سیدہ زینب بنت ام سلمہ (رض) اپنی والدہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتی ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : تم لوگ میرے پاس مقدمہ لے کر آتے ہو ‘ سکتا ہے تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی دلیل پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ تیزہو ‘ میں بھی ایک انسان ہوں ‘ اس طرح کی صورت میں ‘ میں جو فیصلہ کروں گا وہ اس کے مطابق ہوگا جو میں نے سنی ہے۔ تو جس شخص کے حق میں ‘ اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ دے دوں ‘ وہ اسے وصول نہ کرے کیونکہ میں نے اس کے لیے جہنم کا ٹکڑاکاٹ کردیا ہوگا۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اب اس کی مرضی ہے کہ وہ اسے حاصل کرلے یا اسے ترک کردے۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اب اس کی مرضی ہے کہ وہ اسے حاصل کرلے یا اسے ترک کردے۔
4503 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أُمِّهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَىَّ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَقْضِى عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَىْءٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلاَ يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنْ نَارٍ ». قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِى حَدِيثِ الزُّهْرِىِّ « فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ لِيَتْرُكْهَا ». وَفِى حَدِيثِ هِشَامٍ « فَلاَ يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا ». وَهِشَامٌ وَإِنْ كَانَ ثِقَةً فَإِنَّ الزُّهْرِىَّ أَحْفَظُ مِنْهُ . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫০৪
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4504 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک بار میرے پاس تشریف لائے تو آپ بہت خوش تھے ‘ آپ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! کیا تمہیں پتا ہے کہ مجززمد لجی میرے پاس آیا ‘ اس نے اسامہ اور زید کو دیکھا (وہ دونوں سوئے ہوئے تھے) ان دونوں کے اوپر چادر تھی جس نے ان کے حصے کو ڈھانپا ہوا تھا ‘ لیکن ان کے پاؤں ظاہر تھے تو وہ بولا : یہ دونوں باپ بیٹا ہیں۔
4504 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ وَأَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ - وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ الْجَبَّارِ - قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رضى الله عنها قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا فَقَالَ « أَلَمْ تَرَىْ يَا عَائِشَةُ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِىَّ دَخَلَ عَلَىَّ فَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا وَعَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫০৫
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4505 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس خود تشریف لائے ‘ آپ نے فرمایا : کیا تمہیں پتا ہے کہ مجززمد لجی کی نظر اسامہ بن زید پر پڑی جو اپنے والد کے ساتھ لیٹے ہوئے تھے تو اس نے کہا : یہ دونوں باپ بیٹا ہیں۔ (راوی کہتے ہیں :) مجززقیافہ شناس تھے۔
4505 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمِّى أَخْبَرَنِى يُونُسُ وَاللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَسْرُورًا فَرِحًا فَقَالَ « أَلَمْ تَرَىْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِىَّ وَنَظَرَ إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ مُضْطَجِعًا مَعَ أَبِيهِ فَقَالَ هَذِهِ أَقْدَامٌ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ». وَكَانَ مُجَزِّزٌ قَائِفًا .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫০৬
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4506 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ ایک قیافہ شناس آیا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی وہاں موجود تھے ‘ حضرت اسامہ بن زید اور زیدبن حارثہ دونوں لیٹے ہوئے تھے ‘ وہ شخص بولا : یہ پاؤں باپ بیٹے کے ہیں۔ سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے اور آپ کو یہ بات پسند آئی ‘ آپ نے یہ بات سیدہ عائشہ (رض) کو بتائی۔
ابراہیم بن سعدنامی راوی بیان کرتے ہیں : حضرت زید (رض) سرخ وسفیدرنگ کے مالک تھے جبکہ حضرت اسامہ کا رنگ رات کی طرح (سیاہ) تھا۔
ابراہیم بن سعدنامی راوی بیان کرتے ہیں : حضرت زید (رض) سرخ وسفیدرنگ کے مالک تھے جبکہ حضرت اسامہ کا رنگ رات کی طرح (سیاہ) تھا۔
4506 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عَمِّى حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ قَائِفٌ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- شَاهِدٌ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ مُضْطَجِعَانِ فَقَالَ هَذِهِ الأَقْدَامُ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ. قَالَتْ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَعْجَبَهُ فَأَخْبَرَ بِهِ عَائِشَةَ قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ وَكَانَ زَيْدٌ أَحْمَرَ أَشْقَرَ أَبْيَضَ وَكَانَ أُسَامَةُ مِثْلَ اللَّيْلِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫০৭
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4507 ۔ سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پاس تشریف لائے تو آپ بہت خوش تھے اور خوشی کی وجہ سے آپ کا چہرہ مبارک چمک رہا تھا۔ آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم سنا ہے ؟ مجززمدلجی زید اور اسامہ کے بارے میں کیا کہا ہے ‘ اس نے ان کے صرف پاؤں دیکھے اور کہا : یہ پاؤں باپ بیٹے کے ہیں۔
4507 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا يُوسُفُ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِى ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- دَخَلَ عَلَيْهَا مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ فَقَالَ « أَلَمْ تَسْمَعِى مَا قَالَ مُجَزِّزٌ الْمُدْلِجِىُّ لِزَيْدٍ وَأُسَامَةَ وَرَأَى أَقْدَامَهُمَا إِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫০৮
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4508 ۔ حضرت عبداللہ بن زبیربیان کرتے ہیں کہ زمعہ کی ایک کنیز تھی جس کے ساتھ وہ صحبت کیا کرتا تھا ‘ اس کنیزکایہ کہنا ہے کہ ایک اور شخص نے اس کے ساتھ صحبت کی ‘ اسی دوران زمعہ انتقال کرگیا اور وہ کنیزحاملہ ہوگئی ‘ اس نے ایک بچے کو جنم دیا ‘ جو اس شخص کے ساتھ مشابہت رکھتا تھا جس کے بارے میں کنیزنے بات بیان کی تھی۔ سیدہ ام سلمہ (رض) نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کیا ‘ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جہاں تک وراثت کا تعلق ہے ‘ وہ اسے مل جائے گی لیکن جہاں تک تمہارا معاملہ ہے تو تم اس سے پردہ کرو کیونکہ وہ تمہارا بھائی نہیں ہے۔
4508 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ الزُّبَيْرِ مَوْلَى الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ كَانَتْ لِزَمْعَةَ جَارِيَةٌ يَتَّطِئُهَا وَكَانَتْ تُظَنُّ بِرَجُلٍ آخَرَ أَنَّهُ يَقَعُ عَلَيْهَا فَمَاتَ زَمْعَةُ وَهِىَ حُبْلَى فَوَلَدَتْ غُلاَمًا يُشْبِهُ الرَّجُلَ الَّذِى كَانَتْ تُظَنُّ بِهِ فَذَكَرَتْهُ سَوْدَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « أَمَّا الْمِيرَاثُ فَلَهُ وَأَمَّا أَنْتِ فَاحْتَجِبِى مِنْهُ فَلَيْسَ لَكِ بِأَخٍ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫০৯
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4509 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ سعد اور عبدبن زمعہ ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھ کر بحث کرنے لگے ‘ سعد : یارسول اللہ ! میرے بھائی عتبہ نے مجھے یہ وصیت کی تھی ‘ اس نے کہا تھا کہ جب تم مکہ میں جاؤ گے تو زمعہ کی کنیز کے بیٹے کو دیکھنا اور اسے گود میں لے لینا کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے ‘ عبدبن زمعہ نے کہا : یارسول اللہ ! وہ میرے باپ کی کنیز کا بیٹا اور میرا بھائی ہے ‘ جو میرے والد کے بستر پر پیدا ہوا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بچے کی عتبہ کے ساتھ واضح مشابہت ملاحظہ کی تو آپ نے فرمایا : اے عبدبن زمعہ ! یہ تمہیں ملے گا کیونکہ بچہ بستر والے کا ہوتا ہے ‘ اے سودہ ! تم اس لڑکے سے پردہ کرو۔
4509 - قُرِئَ عَلَى أَبِى مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ وَأَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ الْجَبَّارِ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِىُّ وَسَمِعْتُ الزُّهْرِىَّ يُخْبِرُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ اخْتَصَمَ سَعْدٌ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصَانِى أَخِى عُتْبَةُ فَقَالَ إِذَا دَخَلْتَ مَكَّةَ فَانْظُرِ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ فَاقْبِضْهُ فَإِنَّهُ ابْنِى. فَقَالَ لَهُ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخِى ابْنُ أَمَةِ أَبِى وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِى. فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ « هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِى مِنْهُ يَا سَوْدَةُ » .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১০
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4510 ۔ سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ سعد بن ابی وقاص اور عبدبن زمعہ ‘ زمعہ کی کنیز کے بیٹے کے بارے میں مقدمہ لے کر آئے ‘ سعدنے کہا : یارسول اللہ ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے ‘ میرے بھائی نے اس کے بارے میں مجھ سے عہد لیا تھا کہ یہ اس کا بیٹا ہے ‘ آپ اس کو قتیبہ کے ساتھ مشابہت کرلیں ‘ عبدبن زمعہ نے کہا : یہ میرا بھائی ہے جو میرے والد کے فرش پر اس کی کنیز کے ہاں پیدا ہوا ہے۔ راوی کہتے ہیں؛نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی قتبیہ کے ساتھ مشابہت کرلی کہ وہ واضح طورپرقتیبہ کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ بچہ تمہیں ملے گا کیونکہ بچہ بستروالے کو ملتا ہے اور زنا کرنے والے کو محرومی ملتی ہے ‘ اے سودہ ! تم اس لڑکے سے پردہ کرنا۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد سیدہ سودہ (رض) کو اس بچے نے کبھی نہیں دیکھا۔
4510 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسْتَامِ حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِى وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فِى ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَقَالَ سَعْدٌ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِى عُتْبَةَ بْنِ أَبِى وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَىَّ أَنَّهُ ابْنُهُ وَانْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ . فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ هَذَا أَخِى وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِى مِنْ وَلِيدَتِهِ. قَالَ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى شَبَهِهِ فَرَأَى شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ « هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ الْوَلَدُ لِرَبِّ الْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَاحْتَجِبِى مِنْهُ يَا سَوْدَةُ ». فَلَمْ يَرَ سَوْدَةَ قَطُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১১
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4511 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
4511 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ حَدَّثَنَا رَوْحٌ أَخْبَرَنِى ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى ابْنُ شِهَابٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১২
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4512 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ قتیبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی زید بن ابی وقاص سے عہدلیا کہ زمعہ کو کنیزکابیٹا مجھ سے ہے ‘ تم اسے اپنے قبضے میں لے لینا۔ سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں : فتح مکہ کے موقع پر حضرت سعد نے اسے حاصل کرلیا اور بولے : یہ میرا بھتیجا ہے جس کے بارے میں میرے بھائی نے مجھ سے عہدلیا تھا اور عبدبن زمعہ ان کے سامنے کھڑے ہوئے اور بولے : یہ میرا بھائی ہے ‘ یہ میرے والد کی کنیز کا بیٹا ہے جو میرے والد کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ یہ دونوں اپنا مقدمہ لے کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ حضرت سعد نے عرض کی : یارسول اللہ ! یہ میرا بھتیجا ہے جس کے بارے میں میرے بھائی نے مجھ سے عہدلیا تھا۔ عبدبن زمعہ نے کہا : یہ میرا بھائی ہے ‘ میرے والد کی کنیزکا بیٹا ہے ‘ جو میرے والد کے فراش پر پیدا ہوا ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے عبدبن زمعہ ! یہ تمہیں ملے گا ‘ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بچہ اس کا سمجھاجائے گا جس کافر اش ہو اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی ‘ پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدہ سودہ بنت زمعہ (رض) سے فرمایا : تم اس سے پردہ کرلو۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی عتبہ کے ساتھ مشابہت ملاحظہ کرلی تھی۔
سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں : اس لڑکے نے مرتے دم تک کبھی سیدہ سودہ (رض) کو نہیں دیکھا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی عتبہ کے ساتھ مشابہت ملاحظہ کرلی تھی۔
سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں : اس لڑکے نے مرتے دم تک کبھی سیدہ سودہ (رض) کو نہیں دیکھا۔
4512 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِى وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِى وَقَّاصٍ أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةِ زَمْعَةَ مِنِّى فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ قَالَتْ فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ أَخَذَهُ سَعْدٌ فَقَالَ ابْنُ أَخِى وَقَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَىَّ فِيهِ. فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ أَخِى وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِى وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ. فَتَسَاوَقَاهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنُ أَخِى قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَىَّ فِيهِ . وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِى وَابْنُ وَلِيدَةِ أَبِى وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ ». وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ». ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ « احْتَجِبِى مِنْهُ » لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ. قَالَتْ فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِىَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১৩
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4513 ۔ یہ روایت دیگراسناد کے ہمرا بھی منقول ہے۔
4513 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمِّى حَدَّثَنَا يُونُسُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ قَالَ حَدَّثَنِى سَلاَمَةُ عَنْ عُقَيْلٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ صَالِحٍ وَابْنِ إِسْحَاقَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ وَعَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِىُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ - وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ - عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১৪
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4514 ۔ محمد نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمربن خطاب اور حضرت معاذبن عفراء کے بارے میں کسی چیز کے درمیان اختلاف ہوگیا ‘ ان دونوں حضرات نے حضرت ابی بن کعب کو ثالث مقرر کیا ‘ حضرت عمر (رض) نے انھیں پوراواقعہ سنایا ‘ حضرت ابی بولے : تم امیرالمومنین کو معاف کردو ‘ انھوں نے کہا : اگر یہ ادائیگی مجھ پر لازم ہے ‘ تو آپ مجھے ہرگز معاف نہ کریں ‘ تو حضرت ابی بن کعب بولے : اے امیرالمومنین ! یہ ادائیگی آپ پر لازم ہے ‘ تو حضرت عمر (رض) نے قسم اٹھائی اور بولے : میرے قسم اٹھانے کی وجہ سے اس سے میں اس سے بری الذمہ ہوگیاہوں ‘ تم یہ چیزلے جاؤیہ تمہاری ہوئی۔
4514 - حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنِى أَبِى قَالَ حَدَّثَنِى أَبِى عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ كَانَ بَيْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَبَيْنَ مُعَاذِ بْنِ عَفْرَاءَ دَعْوَى فِى شَىْءٍ فَحَكَّمَا أُبَىَّ بْنَ كَعْبٍ فَقَصَّ عَلَيْهِ عُمَرُ فَقَالَ أُبَىٌّ اعْفُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. فَقَالَ لاَ لاَ تُعْفِنِى مِنْهَا إِنْ كَانَتْ عَلَىَّ. قَالَ قَالَ أُبَىٌّ فَإِنَّهَا عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ. قَالَ فَحَلَفَ عُمَرُ ثُمَّ قَالَ أَتُرَانِى قَدِ اسْتَحْقَقْتُهَا بِيَمِينِى اذْهَبِ الآنَ فَهِىَ لَكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১৫
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4515 ۔ حسان بن ثمامہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ (رض) نے اپنا اونٹ پہچان لیا جو چوری ہوگیا تھا ‘ وہ اس بارے میں مقدمہ لے کر مسلمانوں کے قاضی کے پاس پہنچے توعدالتی فیصلے کے تحت حضرت حذیفہ (رض) کو قسم اٹھانی تھی ‘ تو انھوں نے اپنی قسم کا معاوضہ دینے کا اعلان کیا : میں تمہیں دس درہم دیتاہوں ‘ اس نے انکار کیا ‘ انھوں نے کہا : میں تمہیں بیس درہم دیتاہوں ‘ اس نے انکار کیا ‘ انھوں نے کہا : میں تمہیں تیس درہم دیتاہوں ‘ اس نے انکار کیا ‘ انھوں نے کہا : میں تمہیں چالیس درہم دیتاہوں ‘ اس نے انکار کیا تو حضرت حذیفہ (رض) بولے : تم میرے اونٹ کو چھوڑدو ‘ پھر انھوں نے قسم اٹھائی کہ یہ ان کا اونٹ ہے ‘ جسے انھوں نے نہ تو فروخت کیا ہے اور نہ ہی کسی کو ہبہ کیا ہے۔
4515 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ وَأَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَغَوِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِىُّ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ حَسَّانَ بْنِ ثُمَامَةَ قَالَ زَعَمُوا أَنَّ حُذَيْفَةَ عَرَفَ جَمَلاً لَهُ سُرِقَ فَخَاصَمَ فِيهِ إِلَى قَاضِى الْمُسْلِمِينَ فَصَارَتْ عَلَى حُذَيْفَةَ يَمِينٌ فِى الْقَضَاءِ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِىَ يَمِينَهُ فَقَالَ لَكَ عَشْرَةُ الدَّرَاهِمِ فَأَبَى فَقَالَ لَكَ عِشْرُونَ . فَأَبَى فَقَالَ فَلَكَ ثَلاَثُونَ. فَأَبَى فَقَالَ لَكَ أَرْبَعُونَ. فَأَبَى فَقَالَ حُذَيْفَةُ اتْرُكْ جَمَلِى. فَحَلَفَ أَنَّهُ جَمَلُهُ مَا بَاعَهُ وَلاَ وَهَبَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫১৬
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4516 ۔ محمد بن جبیر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنی قسم کے عوض میں دس ہزاردرہم اداکیے تھے ‘ اور پھر انھوں نے کہا تھا : اس مسجد کے پروردگار کی قسم ! اور اس قبر کے پروردگار کی قسم ! اگر میں قسم اٹھالیتاتو میں قسم اٹھانے میں سچاہوتا ‘ لیکن یہ ایسی چیز ہے کہ میں نے اپنی قسم کے بدلے میں فدیہ دے دیا ہے۔
4516 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ الأَسْوَدِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِىُّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ فَدَى يَمِينَهُ بِعَشْرَةِ آلاَفِ دِرْهَمٍ ثُمَّ قَالَ وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ وَرَبِّ هَذَا الْقَبْرِ لَوْ حَلَفْتُ لَحَلَفْتُ صَادِقًا وَذَلِكَ أَنَّهُ شَىْءٌ افْتَدَيْتُ بِهِ يَمِينِى.
তাহকীক: