সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)

سنن الدار قطني

فیصلوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৫২ টি

হাদীস নং: ৪৪৭৭
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4477 ۔ حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (بچے کی پیدائش کے وقت موجود) دائی کی گواہی کو برقرار رکھا تھا۔
4477 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَطَرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَدَائِنِىِّ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَجَازَ شَهَادَةَ الْقَابِلَةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭৮
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4478 ۔ حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں : بچے کی پیدائش کے بارے میں دائی کی گواہی قبول کی جائے گی۔
4478 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِىُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّوَّافُ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَىٍّ عَنْ عَلِىٍّ قَالَ شَهَادَةُ الْقَابِلَةِ جَائِزَةٌ عَلَى الاِسْتِهْلاَلِ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭৯
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4479 ۔ حضرت عمر (رض) ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکاح میں ایک مرد اور دوخواتین کی گواہی کو قبول کیا تھا۔
4479 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِىُّ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضى الله عنه قَالَ أَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- شَهَادَةَ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ فِى النِّكَاحِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৮০
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4480 ۔ حضرت علی (رض) کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انھوں نے بارہ درہم کی ادائیگی (شوہرپر) لازم قراردی تھی۔ عورت کو (خرچ کے طورپرشوہر کی طرف سے) آٹھ درہم ملیں گے اور خادم کو چار درہم ملیں گے (عورت کے) آٹھ میں سے دو درہم روئی اور ریشم کے لیے ہوں گے۔
4480 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَحْرٍ الْعَطَّارُ بِالْبَصْرَةِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ خِلاَسٍ عَنْ عَلِىٍّ رضى الله عنه أَنَّهُ فَرَضَ لاِمْرَأَةٍ وَخَادِمِهَا اثْنَىْ عَشْرَ دِرْهَمًا لِلْمَرْأَةِ ثَمَانِيَةٌ وَلِلْخَادِمِ أَرْبَعَةٌ وَدِرْهَمَانِ مِنَ الثَّمَانِيَةِ لِلْقُطْنِ وَالْكِتَّانِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৮১
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4481 ۔ حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے مرتے وقت چھ غلام آزاد کردیے ‘ اس شخص کے پاس ان غلاموں کے علاوہ کوئی مال نہیں تھا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان غلاموں کی قرعہ اندازی کی ‘ ان میں سے دو غلاموں کو آزاد کردیا اور باقی چار کو غلامی میں برقرار رکھا۔
4481 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِىِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ.- وَقَتَادَةَ وَحُمَيْدٍ وَسِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلاً أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَأَقْرَعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَرَدَّ أَرْبَعَةً فِى الرِّقِّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৮২
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4482 ۔ حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص فوت ہوگیا ‘ اس نے ترکہ میں چھ غلام چھوڑے ‘ اس شخص کے پاس ان غلاموں کےعلاوہ کوئی مال نہیں تھا ‘ اس شخص نے مرتے وقت ان تمام غلاموں کو آزاد کردیا ‘ یہ مقدمہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں تین حصوں میں تقسیم کیا ‘ ان کے درمیان قرعہ اندازی کی ‘ ایک تہائی حصے کو آزاد قراردیا اور دوتہائی کو غلام رہنے دیا (یعنی دوکو آزاد کردیا اور چارکوغلام رہنے دیا) ۔
4482 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِىِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ أَبِى نَصْرٍ الْقُومِسِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ. وَعَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ أَبِى الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ تُوُفِّىَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَتَرَكَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ لَيْسَ لَهُ غَيْرُهُمْ فَأَعْتَقَهُمْ جَمِيعًا عِنْدَ مَوْتِهِ فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَجَزَّأَهُمْ ثَلاَثَةَ أَجْزَاءٍ ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ الثُّلُثَ وَأَرَقَّ الثُّلُثَيْنِ. قَالَ وَأَخْبَرَنِى اللَّيْثُ عَنْ جَرِيرٍ عَنِ الْحَسَنِ وَلاَ أَعْلَمُهُ إِلاَّ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ مِثْلَ ذَلِكَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৮৩
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4483 ۔ حضرت ابوامامہ ضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے چھ غلام آزاد کردیئے ‘ اس کے پاس ان غلاموں کے علاوہ کوئی مال نہیں تھا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بارے میں اطلاع ملی تو آپ اس پر شدید ناراض ہوئے ‘ پھر آپ نے ان کے حصے کرکے ان کو ایک تہائی دیا (یعنی دو غلاموں کو آزاد کردیا) ۔
4483 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ الْمَرْوَزِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمَّادٍ الآمُلِىُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِى مَرْيَمَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ تَوْبَةَ بْنِ نَمِرٍ عَنْ جَعْفَرٍ الدِّمَشْقِىِّ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِى أُمَامَةَ قَالَ أَعْتَقَ رَجُلٌ سِتَّةَ أَرْؤُسٍ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَسْهَمَ عَلَيْهِمْ فَأَخْرَجَ ثُلُثَهُمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৮৪
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4484 ۔ سیدہ عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ہندبنت عتبہ جو ابوسفیان کی اہلیہ تھیں ‘ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور انھوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! ابوسفیان ایک کنجوس آدمی ہیں ‘ وہ مجھے اتناخرچ نہیں دیتے ہیں جو میرے یا میرے بچوں کے لیے کافی ہو ‘ تو مجھے ان کی لاعلمی میں نکالنا پڑتا ہے ‘ کیا اس بارے میں مجھ پر گناہ ہوگا ؟ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اتناحاصل کرلیا کروجوتمہارے اور تمہاری اولاد کے لیے مناسب طریقے سے کافی ہو۔
4484 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَالِكِىُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّيْمِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَاللَّفْظُ لأَبِى مُعَاوِيَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رضى الله عنها قَالَتْ جَاءَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ امْرَأَةُ أَبِى سُفْيَانَ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ وَإِنَّهُ لاَ يُعْطِينِى مَا يَكْفِينِى وَيَكْفِى بَنِىَّ إِلاَّ أَنْ آخُذَ وَهُوَ لاَ يَعْلَمُ فَهَلْ عَلَىَّ جُنَاحٌ فِى ذَلِكَ قَالَ « خُذِى مَا يَكْفِيكِ وَيَكْفِى بَنِيكِ بِالْمَعْرُوفِ »
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৮৫
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4485 ۔ حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : یہ اللہ تعالیٰ کا ” حرم “ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس دن قابل احترام قراردیا تھا۔ جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا۔ اس نے یہاں یہ دوپہاڑرکھے ہیں ‘ مجھ سے پہلے کسی بھی شخص کے لیے یہاں (جنگ وجدال) کرنا حلال نہیں ہوا اور میرے بعد بھی کسی کے لیے حلال نہیں ہوگا۔ میرے لیے بھی یہ دن کے ایک مخصوص حصے میں حلال ہوا ہے۔ یہاں کے کانٹے کو توڑا نہیں جائے گا ‘ یہاں کے شکار کو بھگایا نہیں جائے گا ‘ یہاں کی گھاس کو کاٹا نہیں جائے گا ‘ یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جائے گا ‘ البتہ اعلان کرنے کے لیے اٹھایا جاسکتا ہے۔

حضرت عباس (رض) نے عرض کی : یارسول اللہ ! مکہ کے رہنے والے لوگ اذخر استعمال کیے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ اسے سنار بھی استعمال کرتے ہیں اور گھروں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اذخر کا حکم مختلف ہے (یعنی اسے کاٹنے کی اجازت ہے) ۔
4485 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِى زِيَادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هَذِهِ حُرُمُ اللَّهِ حَرَّمَهَا يَوْمَ خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ وَوَضَعَ هَذَيْنِ الْجَبَلَيْنِ لَمْ تَحِلَّ لأَحَدٍ قَبْلِى وَلاَ تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِى وَلَمْ تَحِلَّ لِى إِلاَّ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ أَنْ لاَ يُخْضَدَ شَوْكُهَا وَلاَ يُنَفَّرَ صَيْدُهَا وَلاَ يُخْتَلَى خَلاَهَا وَلاَ تُرْفَعَ لُقَطَتُهَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ ». فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ لاَ صَبْرَ لَهُمْ عَنِ الإِذْخِرِ لِقَيْنِهِمْ وَأَبْدَانِهِمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِلاَّ الإِذْخِرَ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৮৬
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4486 ۔ حضرت زید بن خالد جہنی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گرے ہوئے (ملنے والے) سونے یا چاندی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس (تھیلی) کے منہ پر بندھے ہوئے دھاگے کے نشان کو یاد رکھو اور ایک سال تک اس کا اعلان کرو ‘ اگر پتانہ چل سکے تو اس کو استعمال کرلو ‘ یہ تمہارے پاس ودیعت کے طورپر رہے گی ‘ کسی بھی زمانے میں کسی بھی وقت اگر اس کا مالک آگیا تو تم اس کو اداکردوگے۔

نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے ! اسے وہی پر رہنے دو ‘ اس کا پیٹ اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں وہ خودپانی تک پہنچ جائے گا اور پتے کھالے گا ‘ یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پالے گا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (گم شدہ) بکری کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا : یا وہ تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا پھر بھیڑیئے کو مل جائے گی۔
4486 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِىُّ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَهْمِىُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ حَدَّثَنِى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَرَبِيعَةُ عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِىِّ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ اللُّقَطَةِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ قَالَ « اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ لَمْ تَعْرِفْ فَاسْتَعِنْ بِهَا وَلْتَكُنْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ فَإِنْ جَاءَ لَهَا طَالِبٌ يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ».وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ قَالَ « مَا لَكَ وَمَا لَهَا دَعْهَا فَإِنَّ مَعَهَا حِذَاءَهَا وَسِقَاءَهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَجِدَهَا رَبُّهَا ». وَسَأَلَهُ عَنِ الشَّاةِ فَقَالَ « خُذْهَا فَإِنَّهَا لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৮৭
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4487 ۔ عمروبن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنا داداکایہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس کا پیٹ اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں ‘ وہ خودہی پانی تک پہنچ جائے گا۔ اور درخت کے (پتے) کھالے گا ‘ تم اس کی فکرمت کرو۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گم شدہ بکری کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یابھیڑیالے جائے گا ‘ تو تم اسے پکڑلو۔
4487 - حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَاشِدٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِىِّ وَيَعْقُوبَ بْنِ عَطَاءٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ فَقَالَ « مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ وَتُصِيبُ الشَّجَرَ فَلاَ تَعْرِضْ لَهَا وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ فَقَالَ « لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ فَخُذْهَا ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৮৮
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4488 ۔ حضرت حبان بن ابوجبلہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے : ہر شخص اپنے مال کا ‘ اپنے والدین ‘ اپنی اولاد اور دیگر تمام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ حق دارہوتا ہے۔
4488 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَحْيَى عَنْ حِبَّانَ بْنِ أَبِى جَبَلَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « كُلُّ أَحَدٍ أَحَقُّ بِمَالِهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৮৯
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4489 ۔ حضرت زید بن خالد (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے عرض کی : آپ گم شدہ اونٹ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصے میں آگئے ‘ آپ کے رخسارسرخ ہوگئے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے ! اس کے پاؤں اور اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہے۔ وہ خود ہی پانی تک پہنچ جائے گا اور درختوں سے پتے کھالے گا ‘ یہاں تک کہ اس کا مالک تک آجائے گا۔ اس نے عرض کی : پھر آپ گم شدہ بکری کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اسے پکڑلو ‘ کیونکہ یا وہ تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یاپھربھیڑیئے کو مل جائے گی۔
4489 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِى إِسْرَائِيلَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ قَالَ سُفْيَانُ وَأَنَا لِحَدِيثِ يَحْيَى أَحْفَظُ قَالَ سُفْيَانُ فَذَكَرْتُهُ لِرَبِيعَةَ بْنِ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَحَدَّثَنِى عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ مَا تَقُولُ فِى ضَالَّةِ الإِبِلِ فَغَضِبَ وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ فَقَالَ « مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا الْحِذَاءُ وَالسِّقَاءُ تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَأْتِيَهَا رَبُّهَا ». قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ « خُذْهَا هِىَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯০
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4490 ۔ حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ مزینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا ‘ اس نے عرض کی : یارسول اللہ ! اگر کوئی شخص رسی چرالیتا ہے ‘ تو اس بارے میں آپ کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس اور اس طرح کی (دوسری چیزوں) میں سزادی جائے گی۔ کسی جانور کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ‘ البتہ جس جانور کو حفاظت کے ساتھ رکھا گیا ہو اس کو چرانے پر ہاتھ کاٹا جائے گا ‘ جس کی قیمت ڈھال کی قیمت کی جتنی ہوگی ‘ اس صورت میں ہاتھ کاٹا جائے گا ‘ اگر اس کی قیمت کم ہوگی تو اس صورت میں تاوان وصول کیا جائے گا اور ساتھ کوڑے لگائے جائیں گے۔ اس شخص نے دریافت کیا : درخت پر لگے ہوئے پھل کو چوری کرنے کا کیا حکم ہوگا ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس طرح کی چیز کی چوری پر کوڑے لگائے جائیں گے ‘ درخت پر لگے پھل کو چوری کرنے پر ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے۔ اگر پھل کو کسی جگہ سکھانے کے لیے رکھا ہو اور وہاں سے چوری ہو ‘ تو پھر ہاتھ کاٹا جائے گا۔

اس لیے وہاں سے چرایا گیا پھل اگر ڈھال کی قیمت جتنا ہوگا تو ہاتھ کاٹا جائے گا ‘ لیکن اگر اتنی قیمت نہ ہوگی تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اس نے عرض کی : جو چیز راستے میں یا کسی رہائشی علاقے میں سے چرائی جاتی ہے ‘ تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ یا کوئی چیز گری ہوئی ملتی ہے ؟ تو اس کے بارے میں کیا حکم ہوگا ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم سال بھر اس کا اعلان کرتے رہو ‘ اگر اس کا مالک آجائے تو اسے اداکردو ‘ ورنہ اسے استعمال کرلو “ اس کا مالک جس وقت بھی تمہارے پاس آئے گا ‘ تم اسے اداکروگے ‘ اگر کوئی چیز غیر آباد بستی میں یا انجام راستے میں سے ملے ‘ اس میں سے نکلنے والے خزانے میں پانچویں حصے کی ادائیگی کا حکم ہے۔

اس شخص نے دریافت کیا : اگر گم شدہ بکری ملتی ہے ‘ تو اسے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے ؟ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : وہ تمہیں ملے گی یا تمہاری کسی بھائی کو ملے گی یابھیڑیے کو مل جائے گی ‘ اس لیے اسے اپنے بھائی کی گم شدہ چیز کے طورپرسنبھالو۔ اس شخص نے عرض کی : گم شدہ اونٹ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کو کوئی پروا نہیں ہے ‘ اس کا پیٹ اور اس کا پاؤں اس کے ساتھ ہے ‘ وہ خود کھالے گا ‘ پانی پی لے گا ‘ یہاں تک کہ اس کا مالک اس تک پہنچ جائے گا۔
4490 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَجُلاً مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِى حَرِيسَةِ الْجَبَلِ قَالَ « هِىَ وَمِثْلُهَا وَالنَّكَالُ لَيْسَ فِى شَىْءٍ مِنَ الْمَاشِيَةِ قَطْعٌ إِلاَّ مَا آوَاهُ الْمُرَاحُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ قَطْعُ الْيَدِ وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَتُهُ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ ». قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِى الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَالَ « هُوَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَالنَّكَالُ وَلَيْسَ فِى شَىْءٍ مِنَ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَطْعٌ إِلاَّ مَا آوَاهُ الْجَرِينُ فَمَا أُخِذَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ الْقَطْعُ وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَتُهُ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ ». قَالَ فَكَيْفَ تَرَى فِيمَا يُوجَدُ فِى الطَّرِيقِ الْمِيتَاءِ وَفِى الْقَرْيَةِ الْمَسْكُونَةِ قَالَ « عَرِّفْهُ سَنَةً فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهِ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ وَإِلاَّ فَشَأْنُكَ بِهِ فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ وَمَا كَانَ فِى الطَّرِيقِ غَيْرِ الْمِيتَاءِ وَالْقَرْيَةِ غَيْرِ الْمَسْكُونَةِ فَفِيهِ وَفِى الرِّكَازِ الْخُمُسُ ». قَالَ كَيْفَ تَرَى فِى ضَالَّةِ الْغَنَمِ قَالَ « طَعَامٌ مَأْكُولٌ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ احْبِسْ عَلَى أَخِيكَ ضَالَّتَهُ ». قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَرَى فِى ضَالَّةِ الإِبِلِ قَالَ « مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا وَلاَ يُخَافُ عَلَيْهَا الذِّئْبُ تَأْكُلُ الْكَلأَ وَتَرِدُ الْمَاءَ دَعْهَا حَتَّى يَأْتِىَ طَالِبُهَا ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯১
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4491 ۔ حضرت علی بن ابوطالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : قاتل کے لیے وصیت نہیں کی جاسکتی۔
4491 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ الزَّرَّادُ حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى لَيْلَى عَنْ عَلِىِّ بْنِ أَبِى طَالِبٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَيْسَ لِقَاتِلٍ وَصِيَّةٌ ». مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ يَضَعُ الأَحَادِيثَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯২
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4492 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : قاتل کو وراثت نہیں ملتی۔
4492 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ الْعَرْزَمِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَافِرِى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِىُّ عَنْ أَبِى مَرْوَانَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَيْسَ لِقَاتِلٍ مِيرَاثٌ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৩
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4493 ۔ عمروبن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے داداکا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے : قاتل کو وراثت میں سے کچھ نہیں ملتا۔
4493 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ح وَأَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ « لَيْسَ لِلْقَاتِلِ مِنَ الْمِيرَاثِ شَىْءٌ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৪
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4494 ۔ حضرت عمربن خطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ قاتل کو کچھ ملتا (یعنی وراثت میں سے کچھ نہیں ملتا) ۔ ایسی ہی روایت دیگر افراد سے منقول ہے۔
4494 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الأَزْهَرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَىْءٌ ». وَعَنْ سُفْيَانَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَهُ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৫
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4495 ۔ زید بن اسلم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : حضرت عمربن خطاب (رض) نے اپنے غلام کو عامل مقرر کیا ‘ اسے چراگاہ کا نگران بنایا ‘ اس کا نام ” ہنی “ تھا ‘ حضرت عمر (رض) نے اس سے کہا : اے ہنی ! تم مسلمانوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا ‘ مظلوم کی بددعا سے بچنا ‘ کیونکہ وہ مستجاب ہوتی ہے ‘ تم تھوڑی سی بھیڑ ‘ بکریوں کے مالک کو چراگاہ میں داخل ہونے دینا ‘ البتہ عثمان بن عفان اور عبدالرحمن بن عوف کے جانوروں کو اندرنہ آنے دینا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں کے جانور اگر مر بھی گئے تو یہ لوگ اپنے کھجوروں کے باغات کی طرف چلے جائیں گے ‘ لیکن تھوڑی سی بکریوں کے مالکان کے جانورگر مرگئے تو وہ اپنے بچوں کو لے کر میرے پاس آجائیں گے اور کہیں گے : اے امیرالمومنین ! (ہماری مدد کیجئے ! ) کیا میں انھیں ترک کردوں گا ؟ ان لوگوں کو پانی اور پارہ فراہم کرنا میرے نزدیک دینار اور درہم فراہم کرنے سے زیادہ آسان کام ہے۔ اللہ کی قسم ! یہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے حالانکہ یہ ان ہی کا علاقہ ہے ‘ جس کے بارے میں زمانہ جاہلیت میں وہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کیا کرتے تھے۔

اور اسی علاقے میں رہتے ہوئے انھوں نے اسلام قبول کیا ہے ‘ اس ذات کی قسم ! جس کی قدرت میں میری جان ہے ! میں نے اگر اللہ کی راہ میں مجاہد ین کو مال فراہم نہ کرنا ہو ‘ تو میں ایک بالشت کے برابر جگہ لوگوں کے داخلے سے نہ روکتا (یعنی اسے سرکاری چراگاہ قرارنہ دیتا) ۔
4495 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرِ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِىُّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ اسْتَعْمَلَ مَوْلًى لَهُ يُقَالُ لَهُ هُنَىٌّ عَلَى الْحِمَى فَقَالَ يَا هُنَىُّ اضْمُمْ جَنَاحَكَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا مُجَابَةٌ وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَالْغُنَيْمَةِ وَإِيَّاىَ وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ وَابْنِ عَوْفٍ فَإِنَّهُمَا إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُمَا يَرْجِعَا إِلَى زَرْعٍ وَنَخْلٍ وَإِنَّ رَبَّ الصُّرَيْمَةِ وَالْغُنَيْمَةِ إِنْ تَهْلِكْ مَاشِيَتُهُ يَأْتِنِى بِبَنِيهِ فَيَقُولُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفَتَارِكُهُمْ أَنَا لاَ أَبَا لَكَ فَالْمَاءُ وَالْكَلأُ أَهْوَنُ عَلَىَّ مِنَ الدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ وَايْمُ اللَّهِ إِنَّهُمْ لَيَرَوْنَ أَنْ قَدْ ظَلَمْنَاهُمْ إِنَّهَا لَبِلاَدُهُمْ قَاتَلُوا عَلَيْهَا فِى الْجَاهِلِيَّةِ وَأَسْلَمُوا عَلَيْهَا فِى الإِسْلاَمِ وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لَوْلاَ الْمَالُ الَّذِى أَحْمِلُ عَلَيْهِ فِى سَبِيلِ اللَّهِ مَا حَمَيْتُ عَلَى النَّاسِ مِنْ بِلاَدِهِمْ شِبْرًا. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الشَّافِعِىُّ عَنِ الدَّرَاوَرْدِىِّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৬
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
4496 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) ‘ حضرت صعب بن جثامہ (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے : چراگاہ صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ہوتی ہے۔
4496 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ حِمَى إِلاَّ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ».
tahqiq

তাহকীক: