সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)

سنن الدار قطني

شکار اور ذبیحوں سے متعلق - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৪ টি

হাদীস নং: ৪৭২৫
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4725 ۔ خارجہ بن صلت اپنے چچاکایہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے ‘ جس میں یہ الفاظ ہیں : تم اللہ کا نام لے کر اسے کھالو کیونکہ جو شخص باطل دم کرکے کھاتا ہے ‘ وہ غلط کرتا ہے ‘ تم نے تو اسے ” حق “ دم کرکے کھانا ہے۔
4725 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِى زَائِدَةَ عَنِ الشَّعْبِىِّ حَدَّثَنِى خَارِجَةُ بْنُ الصَّلْتِ التَّمِيمِىُّ أَنَّ عَمَّهُ أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ فِيهِ فَقَالَ « كُلْهَا بِسْمِ اللَّهِ فَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ فَلَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২৬
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4726 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
4726 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا يَعْنِى ابْنَ أَبِى زَائِدَةَ عَنْ عَامِرٍ نَحْوَهُ ذَلِكَ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২৭
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4727 ۔ خارجہ بن صلت اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس روانہ ہوئے تو اس کے بعد حسب سابق حدیث ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں کہ انھوں نے کہا : تم لوگ ہمیں اس کا معاوضہ دوگے ‘ تو میں نے کہا : میں اس بارے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے پوچھوں گا ‘ میں نے آپ سے دریافت کیا : تو آپ نے کہا : تم اسے کھالو۔
4727 - حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى السَّفَرِ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَقْبَلْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ فَأَعْطَوْنَا جُعْلاً فَقُلْتُ حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ « كُلْ ». ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২৮
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4728 ۔ ضحاک بن مزاحم بیان کرتے ہیں : میں حسن بن ابوالحسن ‘ مکحول ‘ عمروبن دینار اور طاؤس ” مسجد خیف “ میں اکٹھے ہوئے ‘ یہ لوگ بلند آواز میں بحث کرنے لگے ‘ یہ لوگ تعزیز کے بارے میں بحث کرنے لگے ‘ اس پر طاؤس بولے جو سب کے نزدیک پسندیدہ شخصیت تھے : تم خاموش ہوجاؤ ! میں تمہیں وہ حدیث سناتاہوں جو میں نے حضرت ابودرداء (رض) کی زبانی سنی ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں تم پر لازم قراردی ہیں تو تم انھیں ضائع نہ کرو اور اس نے تمہارے لیے کچھ حدود مقرر کی ہیں ان کی خلاف ورزی نہ کرو ‘ اس نے تمہیں کچھ چیزوں سے روک دیا ہے ‘ تم ان کا ارتکاب کرنے کی کوشش نہ کرو اور کچھ معاملات ایسے ہیں ‘ جن کے بارے میں اس نے بتایا نہیں وہ انھیں بھولا نہیں ہے ‘ تم خود کو اس کا پابندنہ کرو ‘ کیونکہ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے رحمت ہے ‘ اسے قبول کرلو !

(اس کے بعد طاؤس نے یہ کہا :) ہم وہی کہتے ہیں جو ہمارے پروردگار اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ تمام کام اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہیں ‘ وہی ہرچیز کا حکم دیتا ہے ‘ وہی ہرچیز کا اجر بھی دے گا ‘ بندے کے بس میں کوئی بھی بات نہیں ہے ‘ اس بارے میں بندے کی کوئی مرضی نہیں چلتی ہے۔

اس پر سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں نے طاؤس کے قول کو پسند کیا (یعنی اس کو اختیار کیا) ۔
4728 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ الصَّيْدَلاَنِىُّ بِوَاسِطٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ حَمَّادٍ الْوَاسِطِىُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ عَنْ أَبِى عَمْرٍو الْبَصْرِىِّ عَنْ نَهْشَلٍ الْخُرَاسَانِىِّ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ أَنَّهُ اجْتَمَعَ هُوَ وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِى الْحَسَنِ وَمَكْحُولٌ الشَّامِىُّ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ الْمَكِّىُّ وَطَاوُسٌ الْيَمَانِىُّ فَاجْتَمَعُوا فِى مَسْجِدِ الْخَيْفِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ وَكَثُرَ لَغَطُهُمْ فِى الْقَدَرِ فَقَالَ طَاوُسٌ وَكَانَ فِيهِمْ رِضًا أَنْصِتُوا أُخْبِرْكُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْ أَبِى الدَّرْدَاءِ رضى الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْكُمْ فَرَائِضَ فَلاَ تُضَيِّعُوهَا وَحَدَّ لَكُمْ حُدُودًا فَلاَ تَعْتَدُوهَا وَنَهَاكُمْ عَنْ أَشْيَاءَ فَلاَ تَنْتَهِكُوهَا وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلاَ تَكْلَفُوهَا رَحْمَةً مِنْ رَبِّكُمْ فَاقْبَلُوهَا ». نَقُولُ مَا قَالَ رَبُّنَا وَنَبِيُّنَا -صلى الله عليه وسلم- الأُمُورُ بِيَدِ اللَّهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مَصْدَرُهَا وَإِلَيْهِ مَرْجِعُهَا لَيْسَ إِلَى الْعِبَادِ فِيهَا تَفْوِيضٌ وَلاَ مَشِيئَةٌ.فَقَامُوا وَهُمْ رَاضُونَ بِقَوْلِ طَاوُسٍ. آخِرُ كِتَابِ السُّنَنِ
tahqiq

তাহকীক: