সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)

سنن الدار قطني

شکار اور ذبیحوں سے متعلق - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১০৪ টি

হাদীস নং: ৪৭০৫
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4705 ۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسے چوہے کہ بارے میں دریافت کیا گیا جو گھی یازیتوں کے تیل میں گرجاتا ہے ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس کا تم کوئی اور استعمال کرلو ‘ اسے کھاؤ نہیں۔

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ ” موقوف “ روایت کے طور پر منقول ہے۔
4705 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ رَاشِدٍ الأَصْبَهَانِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِىُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ أَبِى هَارُونَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِى السَّمْنِ وَالزَّيْتِ قَالَ « اسْتَصْبِحُوا بِهِ وَلاَ تَأْكُلُوهُ ». أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ. وَرَوَاهُ الثَّوْرِىُّ عَنْ أَبِى هَارُونَ مَوْقُوفًا عَلَى أَبِى سَعِيدٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭০৬
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4706 ۔ حضرت ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ اگر چوہاگھی میں یازیتون کے تیل میں گرجاتا ہے ‘ تو تم اس سے نفع حاصل کرلو ‘ لیکن اسے کھاؤ نہیں۔
4706 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى دَاوُدَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ وَأُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ الأَصْبَهَانِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِىُّ عَنْ أَبِى هَارُونَ الْعَبْدِىِّ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ فِى الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِى السَّمْنِ أَوِ الزَّيْتِ اسْتَنْفِعُوا بِهِ وَلاَ تَأْكُلُوهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭০৭
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4707 ۔ حضرت ابو واقد لیثی (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ اونٹوں کی کوہان کا گوشت اور دنبے کی چکی کا گوشت کاٹ کر کھالیا کرتے تھے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : زندہ جانور کے جس حصے کو کاٹ دیا جائے وہ مردارشمار ہوگا۔
4707 - حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ الْجَعْدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِى وَاقِدٍ اللَّيْثِىِّ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْمَدِينَةَ وَالنَّاسُ يَجُبُّونَ أَسْنِمَةَ الإِبِلِ وَيَقْطَعُونَ أَلْيَاتِ الْغَنَمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِىَ حَيَّةٌ فَهُوَ مَيْتَةٌ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭০৮
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4708 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : زندہ جانور کے جس حصے کو کاٹ دیا جائے وہ مردار شمار ہوگا۔
4708 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِىَ حَيَّةٌ فَهُوَ مَيْتَةٌ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭০৯
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4709 ۔ امام محمد بن حسن شیبانی ‘ امام ابوحنیفہ کے حوالے سے عبدالرحمن بن لیلیٰ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں حضرت حذیفہ (رض) کے ساتھ ایک کسان کے پاس گیا ‘ وہ ہمارے پاس کھانالے کر آیا ‘ ہم نے اسے کھالیا ‘ پھر حضرت حذیفہ نے پانی منگوایاتو وہ شخص چاندی کے برتن میں ان کے پاس مشروب لے کر آیا ‘ حضرت حذیفہ (رض) نے وہ برتن پکڑا اور وہ اس کے منہ پر ماردیا ‘ انھیں اس کی یہ حرکت بری لگی۔ پھر حضرت حذیفہ (رض) نے بتایا : ہم گزشتہ سال بھی اس کے ہاں آئے تھے تو یہ اسی برتن میں میرے پاس مشروب لے کر آیا تھا ‘ میں نے اسے بتایا تھا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم سونے یا چاندی کے برتنوں میں کچھ کھائیں یا ان میں کچھ پئیں یا ہم ریشمی لباس یادیباج کالباس پہنیں۔ (نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا :)

” یہ دونوں چیزیں دنیا میں مشرکین کے لیے ہیں ‘ البتہ آخرت میں یہ ہمارے لیے ہوں گی “۔
4709 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِىٍّ الْمَرْوَزِىُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ عَنْ أَبِى فَرْوَةَ ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ يُوسُفَ الْمَرْوَرُّوذِىُّ يُعْرَفُ بِابْنِ الْهَرْشِ قَالَ وَجَدْتُ فِى كِتَابِ جَدِّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا أَبُو حَنِيفَةَ حَدَّثَنَا أَبُو فَرْوَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى لَيْلَى قَالَ نَزَلْتُ مَعَ حُذَيْفَةَ عَلَى دِهْقَانٍ فَأَتَانَا بِطَعَامٍ فَطَعِمْنَا فَدَعَا حُذَيْفَةُ بِشَرَابٍ فَأَتَاهُ بِشَرَابٍ فِى إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَأَخَذَ الإِنَاءَ فَضَرَبَ بِهِ وَجْهَهُ فَسَاءَنَا الَّذِى صَنَعَ بِهِ فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ لِمَ صَنَعْتُ هَذَا قُلْنَا لاَ. قَالَ نَزَلْتُ بِهِ فِى الْعَامِ الْمَاضِى فَأَتَانِى بِشَرَابٍ فِيهِ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- نَهَانَا أَنْ نَأْكُلَ فِى آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَأَنْ نَشْرَبَ فِيهِمَا وَلاَ نَلْبَسَ الْحَرِيرَ وَلاَ الدِّيبَاجَ فَإِنَّهُمَا لِلْمُشْرِكِينَ فِى الدُّنْيَا وَهُمَا لَنَا فِى الآخِرَةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭১০
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4710 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ الفاظ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :” سونے اور چاندی کے برتنوں میں یؤ نہیں اور ان میں کھاؤ نہیں “۔
4710 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو حَيْدَرَةَ حَيْدُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنِ ابْنِ أَبِى نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى لَيْلَى عَنْ حُذَيْفَةَ. - قَالَ وَأَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِى لَيْلَى عَنْ حُذَيْفَةَ - وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَدْ دَخَلَ فِى حَدِيثِ صَاحِبِهِ - قَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لاَ تَشْرَبُوا فِى آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَلاَ تَأْكُلُوا فِيهَا ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭১১
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4711 ۔ حضرت حذیفہ (رض) کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ یا ایک مرتبہ انھوں نے پینے کے لیے پانی مانگاتو ایک کسان چاندی کے برتن میں ان کے لے پانی لے کر آیا ‘ حضرت حذیفہ (رض) نے اسے پکڑا اور اسے پھینک دیا اور پھر ارشاد فرمایا : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم سونے یا چاندی کے برتن میں کچھ پئیں یا ان میں کچھ کھائیں اور آپ نے ہمیں ریشم اور دیباج پہننے سے اور ان پر بیٹھنے سے بھی منع کیا ہے۔
4711 - حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِىُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِى الرَّبِيعِ الْجُرْجَانِىُّ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنَا أَبِى قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِى نَجِيحٍ يُحَدِّثُ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِى لَيْلَى أَنَّ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى فَأَتَاهُ دِهْقَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَأَخَذَهُ فَرَمَاهُ بِهِ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَانَا أَنْ نَشْرَبَ فِى آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَأَنْ نَأْكُلَ فِيهِمَا وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَأَنْ نَجْلِسَ عَلَيْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭১২
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4712 ۔ عمروبن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے داداکایہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا ‘ اس کا نام ابوثعلبہ تھا ‘ اس نے عرض کی : یارسول اللہ ! میرے پاس کچھ تربیت یافتہ کتے ہیں ‘ آپ ان کے ذریعے شکار کرنے کے بارے میں مجھے بتائیں ! تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اگر تو تمہارے کتے تربیت یافتہ ہیں تو جس شکارکو وہ تمہارے لیے روک لیتے ہیں تم اسے کھالو ‘ خواہ اسے ذبح کرنے کا موقع ملے یاذبح کرنے کا موقع نہ ملے۔ اس شخص نے دریافت کیا : اگر وہ کتاخود اس میں سے کچھ کھالیتا ہے ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگرچہ وہ خود اس میں سے کچھ کھالے (تو بھی تم اسے کھاسکتے ہو) ۔ اس شخص نے عرض کی : یارسول اللہ ! آپ مجھے میری کمان کے بارے میں بتائیں ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری کمان (یعنی تیر) جس چیزکوروک دیتا ہے اسے تم کھالو ‘ انھوں نے دریافت کیا : خواہ اسے ذبح کیا گیا ہو یا ذبح نہ کیا گیا ہو ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے ذبح کیا گیا ہو یا ذبح کیا گیا ہو ‘ اس شخص نے دریافت کیا : اگر وہ شکار مجھ سے روپوش ہوجاتا ہے ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر وہ تم سے روپوش ہوجاتا ہے ‘ تو جب تک وہ گم نہیں ہوتا ‘ جب تک تم اس میں اپنے تیر کے علاوہ کوئی اور نشان نہیں پاتے (تو تم اسے کھاسکتے ہو) ۔ اس شخص نے عرض کی : یارسول اللہ ! آپ مجھے مجوسیوں کے برتنوں کے بارے میں بتائیں کہ جب ہم مجبوری کے تحت انھیں استعمال کریں ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم انھیں دھو کر پھر ان میں کھاسکتے ہو۔
4712 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَجُلاً أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يُقَالُ لَهُ أَبُو ثَعْلَبَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِى كِلاَبًا مُكَلَّبَةً فَأَفْتِنِى فِى صَيْدِهَا فَقَالَ « إِنْ كَانَتْ كِلاَبًا مُكَلَّبَةً فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ ». قَالَ ذَكِىٌّ وَغَيْرُ ذَكِىٍّ قَالَ « ذَكِىٌّ وَغَيْرُ ذَكِىٍّ ». قَالَ وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ قَالَ « وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ ». قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْتِنِى فِى قَوْسِى قَالَ « كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ ». قَالَ ذَكِيًّا وَغَيْرَ ذَكِىٍّ قَالَ « ذَكِيًّا وَغَيْرَ ذَكِىٍّ ». قَالَ وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنِّى قَالَ « وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنْكَ مَا لَمْ يَصِلَّ أَوْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرَ غَيْرِ أَثَرِ سَهْمِكَ ». قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْتِنِى فِى آنِيَةِ الْمَجُوسِ إِذَا اضْطُرِرْنَا إِلَيْهَا. قَالَ « اغْسِلْهَا ثُمَّ كُلْ فِيهَا ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭১৩
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4713 ۔ شعبی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عدی بن حاتم (رض) نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : میں اپناتیرچلاکرشکار کر لیتاہوں لیکن شکارتک ایک یادودن کے بعد پہنچتا ہوں ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تم اس شکار پر قابولو اور اس پر تمہارے تیر کے علاوہ کوئی اور نشان یاخراش نہ ہو ‘ تو تم اسے کھالو لیکن اگر تمہیں اپنے تیر کے علاوہ کوئی دوسرازخم یانشان ملتا ہے ‘ تو تم اسے نہ کھاؤ۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ تم نے اسے شکار کیا ہے یا کسی دوسرے نے شکار کیا ہے۔ اسی طرح جب تم اپنے کتے کو چھوڑتے ہو اور پھر وہ شکار کو پکڑلیتا ہے اور تم شکارتک پہنچ جاتے ہو ‘ تو تم اسے ذبح کرلو۔ اگر تم اسے ایسی حالت میں پاتے ہو کہ کتے نے شکار پکڑلیا تھا اور خود اس میں سے کچھ نہیں کھایا تھا تو تم اسے کھالو لیکن اگر تم اسے ایسی حالت میں پاتے ہو کہ کتے نے اسے ماردیا اور اس میں سے کچھ کھا بھی لیا تھا تو تم شکارکونہ کھاؤ۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) اس کی وجہ یہ ہے کہ اس جانور نے وہ شکار اپنے لیے روکا ہے۔ حضرت عدی (رض) نے عرض کی : میں کتے کو چھوڑتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا نام لے لیتاہوں ‘ پھر میرے کتے کے ساتھ دوسراکتابھی مل جاتا ہے ‘ اور وہ سب شکار کرلیتے ہیں اور اسے مار دیتے ہیں ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تم اسے نہ کھاؤ ! کیونکہ تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ تمہارے کتے نے اسے مارا ہے یا دوسرے کتے نے اسے مارا ہے ؟
4713 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ هَارُونَ الْعَسْكَرِىُّ وَالْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْمَاطِىُّ قَالُوا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِىُّ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ عَدِىِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ أَرْمِى بِسَهْمِى فَأُصِيبُ فَلاَ أَقْدِرُ عَلَيْهِ إِلاَّ بَعْدَ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ فَقَالَ « إِذَا قَدَرْتَ عَلَيْهِ وَلَيْسَ فِيهِ أَثَرٌ وَلاَ خَدْشٌ إِلاَّ رَمْيَتُكَ فَكُلْ وَإِنْ وَجَدْتَ فِيهِ أَثَرَ غَيْرِ رَمْيَتِكَ فَلاَ تَأْكُلْهُ - أَوْ قَالَ لاَ تَطْعَمْهُ - فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِى أَنْتَ قَتَلْتَهُ أَوْ غَيْرُكَ وَإِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَأَخَذَ فَأَدْرَكْتَهُ فَذَكِّهِ وَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ أَخَذَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا فَكُلْهُ وَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قَتَلَهُ فَأَكَلَ مِنْهُ فَلاَ تَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا - أَوْ قَالَ لاَ تَأْكُلْهُ - فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ ». قَالَ عَدِىٌّ فَإِنِّى أُرْسِلُ كِلاَبِى وَأَذْكُرُ اسْمَ اللَّهِ فَتَخْتَلِطُ بِكِلاَبٍ أُخْرَى فَيَأْخُذْنَ الصَّيْدَ فَيَقْتُلْنَهُ قَالَ « لاَ تَأْكُلْهُ فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِى أَكِلاَبُكَ قَتَلَتْهُ أَوْ كِلاَبُ غَيْرِكَ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭১৪
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4714 ۔ حضرت عدی بن حاتم (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکار کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب تم اپناتیر مارنے لگوتو اس پر اللہ کا نام لے لو ‘ اگر تم شکارکو ایسی حالت میں پاؤ کہ وہ مرچکا ہے ‘ تو اسے کھالو لیکن اگر وہ پانی میں گرکرمرا ہے ‘ تو تم یہ نہیں جانتے کہ وہ تمہارے تیر کی وجہ سے مرا ہے یا پانی کی وجہ سے مرا ہے۔
4714 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ قَالاَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ عَدِىِّ بْنِ حَاتِمٍ رضى الله عنه قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الصَّيْدِ فَقَالَ « إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ قَتَلَ فَكُلْهُ إِلاَّ أَنْ تَجِدَهُ قَدْ وَقَعَ فِى مَاءٍ فَمَاتَ فَإِنَّكَ لاَ تَدْرِى الْمَاءُ قَتَلَهُ أَمْ سَهْمُكَ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭১৫
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4715 ۔ حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں :(نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے) مجوسی شخص کے ذبح کیے ہوئے جانور ‘ اس کے کتے کے شکار یا اس کے پرندے کے شکار (کا گوشت کھانے) سے منع کیا ہے۔
4715 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ أَعْرَابِىٌّ حَدَّثَنَا شَاذَانُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ أَبِى بَزَّةَ وَأَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِىِّ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نُهِىَ عَنْ ذَبِيحَةِ الْمَجُوسِىِّ وَصَيْدِ كَلْبِهِ وَطَائِرِهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭১৬
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4716 ۔ حضرت ابوثعلبہ حشنی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یارسول اللہ ! ہم لوگ مشرکین کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں ‘ ہماری الگ سے ہنڈیا نہیں ہے اور الگ سے برتن نہیں ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہوسکے تو ان سے بچنے کی کوشش کرو ‘ لیکن اگر کوئی گنجائش نہ ہو تو اسے پانی کے ساتھ دھولو ‘ پانی اس کو پاک کردے گا پھر اس میں (کھانا) پکالو۔
4716 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ أَبِى إِدْرِيسَ عَنِ الْخُشَنِىِّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُخَالِطُ الْمُشْرِكِينَ وَلَيْسَ لَنَا قُدُورٌ وَلاَ آنِيَةٌ غَيْرُ آنِيَتِهِمْ قَالَ فَقَالَ « اسْتَغْنُوا عَنْهَا مَا اسْتَطَعْتُمْ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورُهَا ثُمَّ اطْبُخُوا فِيهَا ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭১৭
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4717 ۔ حضرت ابوثعلبہ خشنی (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کہ جب تم اپناتیرپھینکو اور وہ شکارتین دن تک تم سے غائب رہے ‘ پھر تم اس تک پہنچ جاؤ تو اسے کھالو ‘ جبکہ وہ بدبودارنہ ہواہو۔
4717 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِىِّ رضى الله عنه عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِذَا رَمَيْتَ بِسَهْمِكَ فَغَابَ عَنْكَ ثَلاَثًا فَأَدْرَكْتَهُ فَكُلْهُ مَا لَمْ يُنْتِنْ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭১৮
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4718 ۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : یارسول اللہ ! آپ کا ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو ذبح کرتے ہوئے بسم اللہ پڑھنی بھول جاتا ہے ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کا نام ہر مسلمان کی زبان پر موجود ہوتا ہے۔

یہاں ایک لفظ کے بارے می راوی نے اختلاف کیا ہے۔
4718 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْبَاقِى بْنُ قَانِعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْعَسْكَرِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ الأَهْوَازِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الأَهْوَازِىُّ ح وَأَخْبَرَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ بِمِصْرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَارِثِ وَيَحْيَى بْنُ يَزِيدَ الأَهْوَازِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ الأَهْوَازِىُّ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ سَالِمٍ عَنِ الأَوْزَاعِىِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ مِنَّا يَذْبَحُ وَيَنْسَى أَنْ يُسَمِّىَ اللَّهَ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « اسْمُ اللَّهِ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ». مَرْوَانُ بْنُ سَالِمٍ ضَعِيفٌ. وَقَالَ ابْنُ قَانِعٍ « اسْمُ اللَّهِ عَلَى فَمِ كُلِّ مُسْلِمٍ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭১৯
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4719 ۔ ابراہیم ایسے مسلمان کے بارے میں فرماتے ہیں : جو ذبح کرتے ہوئے بسم اللہ پڑھنی بھول جاتا ہے ‘ ابراہیم فرماتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

ایک اور سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
4719 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَالْقَاضِى أَبُو عُمَرَ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ قَالُوا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِى مَسَرَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَابِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِى الْمُسْلِمِ يَذْبَحُ وَيَنْسَى التَّسْمِيَةَ قَالَ لاَ بَأْسَ بِهِ. - قَالَ وَأَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِى الشَّعْثَاءِ حَدَّثَنِى عَيْنٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ لَمْ يَرَ بِهِ بَأْسًا. قَوْلُهُ عَيْنٌ يَعْنِى بِهِ عِكْرِمَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২০
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4720 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : جب مسلمان کوئی جانور ذبح کرے اور اس پر اللہ کا نام نہ لے تو وہ اسے کھاسکتا ہے ‘ کیونکہ لفظ مسلم میں بھی اللہ تعالیٰ کا ایک اسم موجود ہے۔
4720 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرِ بْنِ خَالِدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِى الشَّعْثَاءِ عَنْ عَيْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِذَا ذَبَحَ الْمُسْلِمُ فَلَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ فَلْيَأْكُلْ فَإِنَّ الْمُسْلِمَ فِيهِ اسْمٌ مِنْ أَسْمَاءِ اللَّهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২১
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4721 ۔ حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں : مجوسی کی پکائی ہوئی روٹی کھانے میں کوئی حرج نہیں ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا ذبیحہ کھانے سے منع کیا ہے۔
4721 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَاضِى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ صَاعِقَةُ حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْخَلِيلِ عَنْ عَلِىٍّ رضى الله عنه قَالَ لاَ بَأْسَ بِأَكْلِ خُبْزِ الْمَجُوسِ إِنَّمَا نُهِىَ عَنْ ذَبَائِحِهِمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২২
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4722 ۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں : مسلمان کے لیے اس کا نام ہی کافی ہے ‘ اگر وہ بسم اللہ پڑھنی بھول جاتا ہے ‘ توبسم اللہ پڑھ کر اللہ کا نام لے کر اس کو کھالے۔
4722 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « الْمُسْلِمُ يَكْفِيهِ اسْمُهُ فَإِنْ نَسِىَ أَنْ يُسَمِّىَ حِينَ يَذْبَحُ فَلْيُسَمِّ وَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ ثُمَّ لْيَأْكُلْ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২৩
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4723 ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ کچھ لوگوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! کچھ لوگ ہمارے پاس ذبح کرکے گوشت لاتے ہیں ‘ ہمیں اس وقت یہ پتا نہیں چلتا کہ انھوں نے اسے ذبح کرتے ہوئے اللہ کا نام لیاتھایا نہیں لیا تھا ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اللہ کا نام لے کر اسے کھالیا کرو۔
4723 - حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رضى الله عنها أَنَّ قَوْمًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ قَوْمًا يَأْتُونَا بِاللَّحْمِ لاَ نَدْرِى أَذَكَرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ أَمْ لاَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « سَمُّوا عَلَيْهِ وَكُلُوا ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭২৪
شکار اور ذبیحوں سے متعلق
পরিচ্ছেদঃ باب : شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
4724 ۔ خارجہ بن صلت اپنے چچاکایہ بیان نقل کرتے ہیں کہ وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ پھر وہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت سے واپس جارہے تھے ‘ تو ان کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا ‘ انھوں نے ان لوگوں کے پاس ایک دیوانے شخص کو دیکھا ‘ انھوں نے اس پر سورہ فاتحہ پڑھ کردم کردیا ‘ وہ شخص ٹھیک ہوگیا ‘ انھیں ایک سو بکریاں دی گئیں۔ وہ کہتے ہیں : میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضرہوا اور آپ کو بتایا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا : کیا تم نے یہی سورة (فاتحہ) پڑھی تھی ؟ انھوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تم اسے وصول کرلو ‘ میری زندگی کی قسم ! جو شخص کوئی باطل دم کرکے کچھ کھائے گا (وہ غلط ہوگا) تم نے تو اسے حق دم کرکے کھایا ہے۔
4724 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْجَشَّاشُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِى زَائِدَةَ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِىِّ حَدَّثَنِى خَارِجَةُ بْنُ الصَّلْتِ عَنْ عَمِّهِ أَنَّهُ أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَسْلَمَ ثُمَّ أَقْبَلَ رَاجِعًا مِنْ عِنْدِهِ فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ وَجَدَ عِنْدَهُمْ رَجُلاً مَجْنُونًا فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَبَرَأَ فَأُعْطِىَ مِائَةَ شَاةٍ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ « هَلْ قُلْتَ إِلاَّ هَذَا ». قُلْتُ لاَ . قَالَ « خُذْهَا فَلَعَمْرِى مَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ فَلَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ »
tahqiq

তাহকীক: