সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮২ টি
হাদীস নং: ২০০০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب تجارت کے مال کی زکوۃ اداکرنانیز گھوڑے اور غلام کی زکوۃ معاف کرنا
2000 حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں آدمی کے گھوڑے اور اس کے غلام میں کسی قسم کے صدقے (یعنی زکوۃ ) کی ادائیگی لازم نہیں ہوگی ‘ البتہ غلام کی طرف سے صدقہ فطروہ اداکرے گا۔
2000 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رِشْدِينَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى مَرْيَمَ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِى جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ « لاَ صَدَقَةَ عَلَى الرَّجُلِ فِى فَرَسِهِ وَلاَ فِى عَبْدِهِ إِلاَّ زَكَاةَ الْفِطْرِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب تجارت کے مال کی زکوۃ اداکرنانیز گھوڑے اور غلام کی زکوۃ معاف کرنا
2001 حضرت ابوہریرہ (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں مسلمان شخص کے گھوڑی اور اس کے غلام اور اس کی کنیز میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابوہریرہ (رض) کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابوہریرہ (رض) کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے۔
2001 - حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَنِى مَكْحُولٌ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَيْسَ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ فِى فَرَسِهِ وَلاَ فِى عَبْدِهِ وَلاَ فِى وَلِيدَتِهِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب تجارت کے مال کی زکوۃ اداکرنانیز گھوڑے اور غلام کی زکوۃ معاف کرنا
2002 حضرت سمرہ بن جندب (رض) کے بارے میں یہ بات منقول ہے انھوں نے یہ (تحریر کیا)” اللہ تعالیٰ کے نام سے آغاز کرتے ہوئے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ‘ یہ سمرہ بن جندب کی جانب سے ان کے بیٹوں کے لیے ہے ‘ تم سب کو سلام ہو ‘ امابعد ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ہمارے غلاموں کے بارے میں یہ حکم دیا تھا ‘ وہ غلام جو آدمی کے کام کاج کے لیے استعمال ہوتے ہیں ‘ آدمی نے انھیں فروخت نہیں کرنا ہوتا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا تھا ‘ ہم ان میں سے کوئی زکوۃ ادا نہیں کریں گے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ جس غلام کو فروخت کرنے کے لیے تیارکیاجاتا ہے ‘ اس کی زکوۃ ہم اداکریں گے۔
2002 - قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِى سَعِيدٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
2003 حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خواتین کے مہر کے بارے میں یہ سنت مقرر کی تھی کہ وہ بارہ اوقیہ ہونا چاہیے اور ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے ‘ تو یہ کل چار سو اسی درہم ہوجائیں گے اور اللہ کے نبی نے یہ حد بھی مقرر کی ہے ‘ غسل جنابت ایک صاع پانی کے ذریعے ہوگا اور وضودورطل پانی کے ذریعہ ہوگا ‘ ایک صاع میں آٹھ رطل آتے ہیں ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سنت بھی قائم کی ہے زمین سے جو پیداوار ہوتی ہے یعنی گندم ’ جو ‘ کشمش ‘ کھجور جب یہ پانچ وسق ہوجائیں ‘ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ‘ تو یہ کل تین سوصاع ہوں گے جو اس صاع کے حساب سے ہوں گے جو سنت سے متعلق ہیں۔
اس روایت کو منصور کے حوالے سے صرف صالح بن موسیٰ نے نقل کیا ہے اور یہ شخص ضعیف الحدیث ہے۔
اس روایت کو منصور کے حوالے سے صرف صالح بن موسیٰ نے نقل کیا ہے اور یہ شخص ضعیف الحدیث ہے۔
2003 - حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ حَبِيبُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ دَاوُدَ الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ خُبَيْبِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ إِلَى بَنِيهِ سَلاَمٌ عَلَيْكُمْ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ يَأْمُرُنَا بِرَقِيقِ الرَّجُلِ أَوِ الْمَرْأَةِ الَّذِينَ هُمْ تِلاَدٌ لَهُ وَهُمْ عَمَلَةٌ لاَ يُرِيدُ بَيْعَهُمْ فَكَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ لاَ نُخْرِجَ عَنْهُمْ مِنَ الصَّدَقَةِ شَيْئًا وَكَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُخْرِجَ مِنَ الرَّقِيقِ الَّذِى يُعَدُّ لِلْبَيْعِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
2004 سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ سنت مقرر کی ہے ‘ پانچ وسق سے کم اناج پر زکوۃ لازم نہیں ہوگی ‘ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے ‘ تو یہ کل تین سوصاع ہوجائیں گے ‘ جو گندم ‘ جو ‘ کھجورانگور کے ہوں گے ‘ زمین سے جو سبزیاں پیدا ہوتی ہیں ‘ ان میں زکوۃ کی ادائیگی لازم نہیں ہوتی۔
2004 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ النَّقَّاشِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ بْنِ رِشْدِينَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِىُّ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِىُّ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَرَتِ السُّنَّةُ مِنْ نَبِىِّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى صَدَاقِ النِّسَاءِ اثْنَا عَشَرَ أُوقِيَّةً الأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا. فَذَلِكَ ثَمَانُونَ وَأَرْبَعُمِائَةٍ وَجَرَتِ السُّنَّةُ مِنْ نَبِىِّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ صَاعٌ وَالْوُضُوءِ رَطْلَيْنِ وَالصَّاعُ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ وَجَرَتِ السُّنَّةُ مِنْ نَبِىِّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِيمَا أَخْرَجَتِ الأَرْضُ الْحِنْطَةُ وَالشَّعِيرُ وَالزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ إِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ الْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا فَذَلِكَ ثَلاَثُمِائَةِ صَاعٍ بِهَذَا الصَّاعِ الَّذِى جَرَتْ بِهِ السُّنَّةُ. لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرُ صَالِحِ بْنِ مُوسَى الطَّلْحِىِّ وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
2005 حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے پانچ اوقیہ سے (چاندی) میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی ‘ پانچ سے کم اونٹوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی اور پانچ وسق سے کم اناج میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی۔
(راوی بیان کرتے ہیں ) ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔
(راوی بیان کرتے ہیں ) ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔
2005 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ وَهْبٍ الْبُنْدَارُ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْصَارِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِىُّ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَرَتِ السُّنَّةُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ زَكَاةٌ وَالْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا فَذَلِكَ ثَلاَثُمِائَةِ صَاعٍ مِنَ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَلَيْسَ فِيمَا أَنْبَتَتِ الأَرْضُ مِنَ الْخَضِرِ زَكَاةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
2006 حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو (زمین) بعل ‘ سیل عثری ہو اس میں دسویں حصے کی ادائیگی لازم ہے۔ (ترجمہ کرنا)
2006 - حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى بْنِ إِسْحَاقَ الأَنْصَارِىُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشِّيرَازِىِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ وَلاَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلاَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ صَدَقَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
2007 سالم اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر (رض)) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں آسمان (یعنی بارش) نہر اور چشمے کے ذریعے سیراب ہونے والی زمین میں اور جو زمین عثری (یعنی قدرتی طریقے سے سیراب ہوتی ہو) اس کے بارے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عشر (یعنی پیداوار کے دسویں حصے کی ادائیگی) مقرر کی ہے اور جسے (مصنوعی طریقے سے) سیراب کیا جاتا ہے ‘ اس میں نصف عشر (یعنی بیسویں حصے کی ادائیگی) مقرر کی ہے۔
2007 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ أَبُو سَلَمَةَ الْمَخْزُومِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَا كَانَ بَعْلاً أَوْ سَيْلاً أَوْ عَثَرِيًّا فَفِى كُلِّ عَشْرَةٍ وَاحِدٌ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
2008 سالم بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعل (پانی کے قریب موجود درخت کے زیرزمین سیراب ہونے) آسمان ‘ نہر ‘ چشمے کے ذریعے سیراب ہونے والی (زمین کی پیداوار کے) دسویں حصے کی ادائیگی کو مقرر کیا ہے اور جسے مصنوعی طریقے سے سیراب کیا جاتا ہے اس میں نصف عشر کی ادائیگی لازم ہوگی۔
2008 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمِّى أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَرَضَ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ وَمَا كَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرَ وَمَا سُقِىَ بِالنَّضْحِ نِصْفَ الْعُشْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০০৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
2009 ابوبکرنامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے شیخ ربیع یہ بیان کرتے ہیں میں نے امام شافعی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے ‘ روایت میں استعمال ہونے والالفظ ” البعل “ سے مرادیہ ہے جس کی جڑیں پانی تک پہنچتی ہوں۔
2009 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى مَرْيَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ أَخْبَرَنِى يَزِيدُ بْنُ أَبِى حَبِيبٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَرَضَ فِى الْبَعْلِ وَمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرَ وَفِيمَا سُقِىَ بِالنَّضْحِ نِصْفَ الْعُشْرِ. حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ سَمِعْتُ الرَّبِيعَ يَقُولُ سَمِعْتُ الشَّافِعِىَّ يَقُولُ الْبَعْلُ الَّذِى بَلَغَتْ أُصُولُهُ الْمَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
2010 حضرت عبداللہ بن عمر (رض) ‘ حضرت عمر (رض) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جس زمین کو بارش ‘ نہریاچشمے کے ذریعے سیراب کیا جاتا ہو ‘ اس میں عشر کی ادائیگی لازمی ہوگی اور جسے ڈول کے ذریعے سے (یعنی مصنوعی طرقے سے) سیراب کیا جاتا اس میں نصف عشر کی ادائیگی لازم ہوگی۔
2010 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ قَالَ فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ وَمَا سُقِىَ بِالرِّشَاءِ نِصْفُ الْعُشْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
2011 حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل یمن کو خط لکھا تھا ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حارث عبدکلال اور یمن میں رہنے والے ان کے دیگر ساتھیوں کو یہ خط میں لکھاتھاجن کا تعلق معافر اور ہمدان سے تھا اہل زمین (پیداوار) کی زکوۃ لازم ہوگی جو چشمے کے ذریعے اور آسمانی پانی کے ذریعے سیراب ہونے والی زمین میں سے دسویں حصے ادائیگی لازم ہوگی اور ڈول (یعنی مصنوعی طریقے سے) سیراب ہونے والی زمین (کی پیداوار میں سے) بیسویں حصے کی ادائیگی لازم ہوگی۔
2011 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ إِلَى الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كَلاَلٍ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ مَعَافِرَ وَهَمْدَانَ « إِنَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ صَدَقَةَ الْعَقَارِ عُشْرُ مَا سَقَى الْعَيْنُ وَسَقَتِ السَّمَاءُ وَعَلَى مَا سَقَى الْغَرْبُ نِصْفُ الْعُشُورِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
2012 ابوزبیربیان کرتے ہیں انھوں نے حضرت جابربن عبداللہ (رض) کو ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بات ارشاد فرمائی ہے ‘ جس زمین کو نہریاچشمے کے ذریعے سیراب کیا جاتاہو ‘ اس میں دسویں حصے کی ادائیگی لازم ہوگی اور زمین کو سانیہ کے ذریعے سیراب کیا جاتاہو اس میں نصف عشر کی ادائیگی لازم ہوگی۔
2012 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « فِيمَا سَقَتِ الأَنْهَارُ وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ وَفِيمَا سُقِىَ بِالسَّانِيَةِ نِصْفُ الْعُشْرِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
2013 حضرت ابوامامہ (رض) اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زکوۃ کے بارے میں حکم دیاتو ایک شخص کچی کھجوریں لے آیا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا یہ کون لے کر آیا ہے ؟ (راوی بیان کرتے ہیں ) جو شخص جو بھی چیز لے کر آتا تھا وہ چیز اسی شخص کی طرف منسوب کی جاتی تھی جو اسے لے کر آتا تھا تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ” اور تم اس میں سے گھٹیاچیزکا ارادہ نہ کرو کہ تم اسے خرچ کردو “۔
راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات سے منع کیا ہے ‘ زکوۃ میں جعرور اور لون المحبیق کو وصول کیا جائے۔ امام زہری بیان کرتے ہیں یہ مدینہ منورہ کی دومخصوص قسم کی کھجوریں ہیں۔ روایت میں یوسف نامی راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے۔
راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات سے منع کیا ہے ‘ زکوۃ میں جعرور اور لون المحبیق کو وصول کیا جائے۔ امام زہری بیان کرتے ہیں یہ مدینہ منورہ کی دومخصوص قسم کی کھجوریں ہیں۔ روایت میں یوسف نامی راوی نے ایک لفظ مختلف نقل کیا ہے۔
2013 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ أَبِى أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِصَدَقَةٍ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ هَذَا السَّخْلِ بِكَبَائِسَ - قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِى الشِّيصَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ جَاءَ بِهَذَا ». وَكَانَ لاَ يَجِىءُ أَحَدٌ بِشَىْءٍ إِلاَّ نُسِبَ إِلَى الَّذِى جَاءَ بِهِ فَنَزَلَتْ (وَلاَ تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ) قَالَ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الْجُعْرُورِ وَلَوْنِ الْحُبَيْقِ أَنْ يُؤْخَذَا فِى الصَّدَقَةِ. قَالَ الزُّهْرِىُّ لَوْنَيْنِ مِنْ تَمْرِ الْمَدِينَةِ. وَقَالَ يُوسُفُ إِلاَّ نَسَبُوهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
2014 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
2014 - حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الرَّمَادِىُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِىُّ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
2015 حضرت ابوامامہ (رض) اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوطرح کی کھجوریں (زکوۃ کے طورپر وصول کرنے) سے منع کیا ہے جعر ور اور لون احبیق۔
راوی بیان کرتے ہیں بعض لوگ جان بوجھ کر اپنے خراب پھل لے کر زکوۃ میں ادا کرتے تھے تو انھیں اس دوطرح کی کھجوروں کی ادائیگی سے منع کیا گیا ‘ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ” اور تم اس میں سے گھٹیاچیزکا ارادہ نہ کرو کہ تم اسے خرچ کردو۔
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے ‘ بعض نے اسے موصول روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور بعض نے مرسل روایت کے طورپرنقل کیا ہے۔
راوی بیان کرتے ہیں بعض لوگ جان بوجھ کر اپنے خراب پھل لے کر زکوۃ میں ادا کرتے تھے تو انھیں اس دوطرح کی کھجوروں کی ادائیگی سے منع کیا گیا ‘ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ” اور تم اس میں سے گھٹیاچیزکا ارادہ نہ کرو کہ تم اسے خرچ کردو۔
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے ‘ بعض نے اسے موصول روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور بعض نے مرسل روایت کے طورپرنقل کیا ہے۔
2015 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْفَقِيهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ح وَحَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا الزُّهْرِىُّ عَنْ أَبِى أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنْ لَوْنَيْنِ مِنَ التَّمْرِ الْجُعْرُورِ وَلَوْنِ الْحُبَيْقِ. قَالَ كَانَ النَّاسُ يَتَيَمَّمُونَ شَرَّ ثِمَارِهِمْ فَيُخْرِجُونَهَا فِى الصَّدَقَةِ فَنُهُوا عَنْ لَوْنَيْنِ مِنَ التَّمْرِ وَنَزَلَتْ ( وَلاَ تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ ). وَقَالَ يُوسُفُ قَالَ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ سُلَيْمَانُ قَالَ عَنْ أَبِيهِ وَقَدْ قَالَهُ مَنْ كَانَ مَعَهُ فِى الْمَجْلِسِ. وَصَلَهُ أَبُو الْوَلِيدِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ وَأَرْسَلَهُ عَنْهُ غَيْرُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
2016 حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں بعض لوگ اپنے پھلوں میں سے خراب پھل زکوۃ میں ادا کردیتے تھے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوطرح کی کھجوریں زکوۃ کے طور پر لینے یا ادا کرنے سے منع کردیا ‘ پھر اس کے بعد انھوں نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے۔
بعض رادیوں نے اس روایت کو مرسل روایت کے طورپر بھی نقل کیا ہے۔
بعض رادیوں نے اس روایت کو مرسل روایت کے طورپر بھی نقل کیا ہے۔
2016 - حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِىُّ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ أَبِى أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ كَانَ النَّاسُ يَتَيَمَّمُونَ شَرَّ ثِمَارِهِمْ فَيُخْرِجُونَهَا فِى الصَّدَقَةِ فَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ لَوْنَيْنِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَقُولاَ عَنْ أَبِيهِ. أَرْسَلَهُ مُسْلِمٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
2017 حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں یہ آیت جس میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ” اور تم اس میں سے گھٹیاچیزکا ارادہ نہ کرو کہ تم اسے خرچ کرو۔
راوی بیان کرتے ہیں اس سے مراد جعر ور اور لون بن حبیق ہیں ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زکوۃ میں انھیں وصول کرنے سے نکار کردیا تھا۔
راوی بیان کرتے ہیں اس سے مراد جعر ور اور لون بن حبیق ہیں ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زکوۃ میں انھیں وصول کرنے سے نکار کردیا تھا۔
2017 - حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَبْدُ الْجَلِيلِ بْنُ حُمَيْدٍ الْيَحْصُبِىُّ أَنَّهُ سَمِعَ الزُّهْرِىَّ يَقُولُ حَدَّثَنِى أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ فِى هَذِهِ الآيَةِ الَّتِى قَالَ اللَّهُ (وَلاَ تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ) قَالَ هُوَ الْجُعْرُورُ وَلَوْنُ ابْنِ حُبَيْقٍ فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يَقْبَلَهُمَا فِى الصَّدَقَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
2018 حضرت عتاب بن اسید (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یہ حکم دیا تھا ‘ میں ثقیف قبیلے کے انگور کے درختوں کا اندازہ لگاؤں کہ ان کے درختوں پر کتنا پھل لگا ہوا ہے ‘ پھر ان کی زکوۃ انگوروں کی شکل میں اداکردی جائے گی ‘ جس طرح کھجور کے درختوں کی زکوۃ کھجور کی شکل میں اداکردی جاتی ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
2018 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَاضِى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنِى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الأُمَامِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِىُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ قَالَ أَمَرَنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ أَخْرُصَ أَعْنَابَ ثَقِيفٍ خَرْصَ النَّخْلِ ثُمَّ تُؤَدَّى زَكَاتُهُ زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا خَالَفَهُ الْوَاقِدِىُّ رَوَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَزَادَ فِى الإِسْنَادِ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০১৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی ؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
2019 حضرت مسوربن مخرمہ (رض) ‘ حضرت عتاب بن اسید (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حکم دیا تھا ‘ ثقیف قبیلے کے انگور کے درختوں کا اسی طرح اندازہ لگایا جائے جس طرح کھجور کے درختوں (پر لگے ہوئے پھل) کا اندازہ لگایاجاتا ہے ‘ پھر ان سے انگور کی زکوۃ لی جائے ‘ جس طرح کھجور کے درختوں کی زکوۃ کھجور کی شکل میں وصول کرلی جاتی ہے۔
2019 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِىِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ. قَالَ الْوَاقِدِىُّ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يَخْرُصَ أَعْنَابَ ثَقِيفٍ كَخَرْصِ النَّخْلِ ثُمَّ تُؤَدَّى زَبِيبًا كَمَا تُؤَدَّى زَكَاةُ النَّخْلِ تَمْرًا.
তাহকীক: