সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)

سنن الدار قطني

زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৮২ টি

হাদীস নং: ১৯৬০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب اونٹ اور بکریوں کی زکوۃ
1960 حضرت انس بن مالک (رض) ‘ نبی اکرم (رض) کے بارے میں یہ نقل کرتے ہیں

مسلمانوں کے زکوۃ ادا کرنے کے بارے میں یہ حکم نامہ ہے ‘ جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیا ہے ‘ اہل ایمان میں سے جس شخص سے اس کے مطابق مطالبہ کیا جائے وہ اس کے مطابق ادائیگی کردے اور جس سے اس کے علاوہ کوئی مطالبہ کیا جائے وہ دوسری کوئی ادائیگی نہ کرے ‘ ہر چوبیس اونٹوں یا اس سے کم میں ہر پانچ اونٹوں کی زکوۃ ایک بکری ہوگی ‘ ٢٥۔ ٣٥ تک میں ایک بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ اگر بنت مخاض موجود نہ ہو ‘ تو ابن لبون کی ادائیگی ہوگی جو مذکرہو ‘ پھر ٣٦۔ ٤٥ تک میں بنت لبون کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ پھر ٤٦۔ ٦٠ تک میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ ٦١۔ ٧٥ تک میں جذہ کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ ٧٦۔ ٩٠ تک میں دوبنت لبون کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ ٩١۔ ١٢٠ تک میں دوحقہ کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ ١٢١ سے آگے یہ حکم ہوگا کہ ہر چالیس میں ایک بنت لبون کی ادائیگی اور پچاس میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ اگر اونٹوں کی عمر میں فرق آجائے تو جس شخص کے ذمے جذعہ کی ادائیگی بطور زکوۃ لازم ہوگی ‘ تو اگر اس کے پاس جذعہ نہ ہوبل کہ حقہ موجود ہو ‘ تو اس سے وہی وصول کرلیا جائے گا ‘ اور وہ محض اس کے ساتھ دو بکریاں اداکرے گا ‘ اگر یہ ادا کرنا اس کے لیے ممکن ہو ‘ یا پھر بیس درہم اداکرے گا ‘ اگر اس شخص کے ذمے حقہ کی ادائیگی لازمی تھی اور اس کے پاس نہ ہوبل کہ اس کے پاس جذعہ ہو ‘ تو اس سے وہی وصول کرلیا جائے گا اور صدقہ وصول کرنے والا شخص اس کے ساتھ دو بکریاں یابیس درہم اداکردے گا ‘ جس شخص کے ذمے حقہ کی ادائیگی لازم تھی اور وہ اس کے پاس نہ ہوبل کہ اس کے پاس بنت لبون ہو ‘ اس سے وہی وصول کرلی جائے گی اور وہ شخص اس کے ساتھ دو بکریاں یابیس درہم اداکرے گا ‘ جس شخص نے بنت لبون ادا کرنا تھی اور اس کے پاس بنت لبون نہ ہو ‘ بلکہ اس کے پاس حقہ ہو ‘ تو اس سے وہی وصول کرلی جائے گی اور صدقہ وصول کرنے والا شخص اسے دو بکریاں یابیس درہم اداکرے گا۔

اگر زکوۃ میں بنت لبون کی ادائیگی لازم تھی اور وہ اس شخص کے پاس نہ ہوبل کہ اس کے پاس بنت مخاض ہو ‘ تو اس سے وہی وصول کرلیا جائے گا اور وہ شخص اس کے دو بکریاں یابیس درہم اداکرے گا ‘ جس شخص نے زکوۃ میں بنت مخاض ادا کرنی تھی اور وہ اس کے پاس نہ ہوبل کہ اس کے پاس بنت لبون ہو ‘ تو اس سے وہی وصول کی جائے گی ‘ اور صدقہ وصول کرنے والا شخص اسے دو بکریاں یابیس درہم اداکردے گا۔

جس شخص کے ذمے زکوۃ میں بنت مخاض ادا کرنا تھی اور وہ اس کے پاس نہ ہوبل کہ اس کے پاس ابن لبون ہوجومذکرہو ‘ تو اس سے وہی وصول کرلیا جائے گا اور اس کے ساتھ کوئی چیزوصول نہیں کی جائے گی ‘ جس شخص کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو اس پر زکوۃ واجب نہیں ہوگی ‘ البتہ اگر ان کا مالک چاہے (توصدقہ کے طورپر) کوئی ادائیگی کرسکتا ہے ‘ جب پانچ اونٹ ہوجائیں گے تو ان میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہوگی۔

بکریوں کے بارے میں حکم یہ ہے ٤٠۔ ١٢٠ تک میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ ١٢١۔ ٢٠٠ بکریوں میں دوبکریوں کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ ٣٠٠۔ ٢٠٠ تک میں (اس سے زیادہ میں) ہر ایک سو میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہوگی۔

زکوۃ میں کوئی سینگ ٹوٹی ہوئی ‘ کانی یالنگڑی بکری ادا نہیں کی جائے گی ‘ البتہ اگر زکوۃ وصول کرنے والا چاہے (توایسائی جانوروصول کرسکتا ہے) زکوۃ کی ادائیگی سے بچنے کے لیے الگ ‘ الگ مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور اکٹھے مال کو الگ ‘ الگ نہیں کیا جائے گا ‘ جو چیزدولوگوں کی مشترکہ ملکیت ہو ‘ تو ان دونوں سے برابر ی کی بنیاد پر وصولی کی جائے گی ‘ اگر بکریوں کی تعداد چالیس سے ایک بھی کم ہو ‘ تو اس پر زکوۃ کی ادائیگی لازم نہیں ہوگی ‘ البتہ اگر ان کا مالک چاہے تو اس سے کوئی ادائیگی کرسکتا ہے۔

غلاموں میں عشر کے چوتھائی حصے (یعنی اصل قیمت کا اڑھائی فیصد) کی ادائیگی لازم ہوگی۔

اگر کسی شخص کے پاس مال میں صرف ١٩٠ درہم ہوں تو اس پر زکوۃ ادا کرنا لازم نہیں ہوگا (البتہ اگر ان کا مالک چاہے تو صدقے کے طورپر کوئی ادائیگی کرسکتا ہے) ۔

اس روایت کی سند مستند ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
1960 - حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخَذْنَا هَذَا الْكِتَابَ مِنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ يُحَدِّثُهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « هَذِهِ فَرَائِضُ صَدَقَةِ الْمُسْلِمِينَ الَّتِى أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ -صلى الله عليه وسلم- فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَلْيُعْطِهَا عَلَى وَجْهِهَا وَمَنْ سُئِلَهَا عَلَى غَيْرِ وَجْهِهَا فَلاَ يُعْطِهَا فِى كُلِّ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ فَمَا دُونَهَا الْغَنَمُ فِى كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاَثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلاَثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِى كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِى كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ فَإِنْ تَبَايَنَ أَسْنَانُ الإِبِلِ فَبَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ جَذَعَةً وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا فَإِنْ بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ حِقَّةً وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا فَإِذَا بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ حِقَّةً وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلاَّ ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِى مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا وَمَنْ بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عِنْدَهُ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ بِنْتُ لَبُونٍ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِى الْمُصَدِّقُ مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا فَإِنْ بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ بِنْتَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِى مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا وَمَنْ بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ بِنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلاَّ ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ وَيُعْطِى الْمُصَدِّقُ شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا وَمَنْ بَلَغَتِ الصَّدَقَةُ عَلَيْهِ بِنْتَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ يُؤْخَذُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَىْءٌ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلاَّ أَرْبَعٌ مِنَ الإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا فَإِذَا بَلَغَتِ الإِبِلُ خَمْسًا فَفِيهَا شَاةٌ وَفِى سَائِمَةِ الْغَنَمِ إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ شَاةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةً إِلَى مِائَتَيْنِ فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً إِلَى ثَلاَثِمِائَةٍ فَفِى كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ وَلاَ يُخْرَجُ فِى الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلاَ ذَاتُ عَوَارٍ وَلاَ تَيْسٌ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ الْمُصَدِّقُ وَلاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ فَإِذَا نَقَصَتْ سَائِمَةُ الْغَنَمِ مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةً وَاحِدَةً فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا وَفِى الرِّقَةِ رُبُعُ الْعُشُورِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مَالٌ إِلاَّ تِسْعِينَ وَمِائَةَ دِرْهَمٍ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا. إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب اونٹ اور بکریوں کی زکوۃ
1961 ابن شہاب بیان کرتے ہیں یہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خط کا نسخہ ہے ‘ جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زکوۃ کے بارے میں تحریر کیا تھا ابن شہاب بیان کرتے ہیں سالم بن عبداللہ بن عمرنے یہ مجھے پڑھ کر سنا یا اور میں نے اسے اسی طرح محفوظ کرلیا ‘ یہ وہی نسخہ ہے جس کی ایک نقل عمربن عبدالعزیز نے عبداللہ بن عمر اور سالم بن عبداللہ سے لی تھی ‘ جب انھیں مدینہ منورہ کا گورنرمقرر کیا گیا تھا۔

عمربن عبدالعزیزنے اپنے سرکاری اہلکاروں کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا اور یہی لکھ کرولید بن عبدالملک کے پاس بھیج دیا تھا ‘ ولید نے بھی اپنے اہلکاروں کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا ‘ اس کے بعد خلفاء اس کے مطابق حکم دیتے رہتے ہیں ‘ پھر ہشام بن ہانی کے حکم کے تحت اس کی نقل ہر مسلمان اہلکار تک پہنچادی گئی ‘ اس نے اس پر موجود احکام پر عمل کرنے کا حکم بھی دیا اور یہ ہدایت کی کہ وہ اس سے تجاوزنہ کریں۔

یہ تحریر اس کی وضاحت کرتی ہے

” اونٹ میں زکوۃ کی ادائیگی اس وقت لازم ہوگی جب ان کی تعداد پانچ ہوجائے ‘ جب وہ پانچ ہوجائیں گے تو ان پر ایک بکری کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ یہاں تک کہ وہ دس ہوجائیں جب وہ دس ہوجائیں گے تو ان پر دوبکریوں کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ جب وہ پندرہ ہوجائیں گے تو ان میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ یہاں تک کہ ان کی تعداد بیس ہوجائے اور جب وہ بیس ہوجائیں گے تو ان پرچاربکریوں کی ادائیگی لازم ہوگی یہاں تک کہ وہ ٢٥ ہوجائیں ‘ جب وہ ٢٥ ہوجائیں گے تو ان میں ایک بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہوجائے گی ‘ اگر بنت مخاض نہ مل سکے تو مذکر ابن لبون کی ادائیگی لازم ہوگی یہاں تک کہ ان کی تعداد ٣٥ ہوجائے۔

جب ان کی تعداد ٣٦۔ ٤٥ تک ہو ‘ تو ان کے اندر ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ ٤٦۔ ٦٠ تک ان میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہوگی جسے جفتی کے لیے دیا جاسکے ‘ ٦١۔ ٧٥ تک میں اسے ایک جذعہ کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ ٧٦۔ ٩٠ تک میں دوبنت لبون کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ ٩١۔ ١٢٠ تک میں دوحقہ کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ جسے جفتی کے لیے دیا جاسکے۔

١٢١۔ ١٢٩ تک میں تین بنت لبون کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ ١٣٠۔ ١٣٥ تک میں یاک حقہ اور دوبنت لبون کی ادائیگی لازم ہوگی ١٤٠ تک میں دوحقہ اور ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ یہاں تک کہ ان کی تعداد ١٤٩ ہوجائے ‘ جب ان کی تعداد ١٥٠ ہوجائے تو ان میں تین حقہ کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ یہاں تک کہ ان کی تعداد ١٥٩ ہوجائے ‘ جب ان کی تعداد ١٦٠ ہوجائے گی تو ان میں چاربنت لبون کی ادائیگی لازم ہوجائے گی ‘ ١٦٩ تک میں یہی حکم ہے ‘ جب ان کی تعداد ١٧٠ ہوجائے گی ‘ تو ان میں ایک جذعہ اور تین بنت لبون کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ یہ حکم ١٧٩ تک میں ہے ‘ جب ان کی تعداد ١٨٠ ہوجائے تو ان میں دوحقہ اور دوبنت لبون کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ یہ حکم ١٨٩ تک ہے ‘ جب ان کی تعداد ١٩٠ ہوجائے تو ان میں تین حقہ اور ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ یہ حکم ١٩٩ تک ہے ‘ جب ان کی تعداد ٢٠٠ ہوجائے تو ان میں چارحقہ یاپانچ بنت لبون کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ خواہ دونوں میں سے جو بھی ہو ‘ جو بھی تمہیں ملے گا تم اسے وصول کرلوگے ‘ اس گنتی کے مطابق جو ہم نے اس کتاب میں تحریر کیا ہے۔

اس کے بعد اونٹوں کی تمام قسموں میں اس کے مطابق وصولی کی جائے گی جو ہم نے اس کتاب میں تحریر کردیا ہے۔

بکریوں میں زکوۃ اس وقت وصول نہیں کی جائے گی جب تک ان کی تعداد ٤٠ نہ ہوجائے ‘ جب ان کی تعداد ٤٠ ہوجائے گی ‘ تو ان پر ایک بکری کی ادائیگی لازم ہوجائے گی ‘ یہ حکم ١٢٠ بکریاں ہونے تک ہے ‘ جب ان کی تعداد ١٢١ ہوجائے گی ‘ تو ان میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہوجائے گی ‘ یہ حکم ٢٠٠ کی تعداد ہے ‘ جب ان کی تعداد ٢٠١ ہوجائے گی ‘ تو ان میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہوجائے گی ‘ یہ حکم ٣٠٠ تک ہے ‘ جب ان کی تعداد ٣٠٠ سے زیادہ ہوجائے گی ‘ تو ٤٠٠ تک میں صرف تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ جب ان کی تعداد ٤٠٠ ہوجائے گی ‘ تو اس میں چار بکریوں کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ یہ حکم پانچ سو کی تعدادتک ہے جب ان کی تعداد ٥٠٠ تک ہوگی ‘ تو ان میں یاک مزید بکری کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ یہ حکم ٦٠٠ تک ہے جب ان کی تعداد ٧٠٠ تک ہوجائے تو ان میں ٧ بکریوں کی ادائیگی لازم ہوجائے گی ‘ یہاں تک کہ ان کی تعداد ٨٠٠ ہوجائے ‘ جب ان کی تعداد ٨٠٠ ہوجائے گی ‘ تو ٨ بکریوں کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ یہاں تک کہ ان کی تعداد ٩٠٠ ہوجائے گی ‘ جب ان کی تعداد ٩٠٠ ہوجائے گی ‘ تو ان میں ٩ بکریوں کی ادائیگی لازم ہوجائے گی یہاں تک کہ ان کی تعداد ١٠٠٠ ہوجائے ‘ جب ١٠٠٠ بکریاں ہوجائیں گی ‘ تو ان میں دس بکریوں کی ادائیگی لازم ہوجائے گی ‘ پھر اس کے بعد جو بھی تعداد زیادہ ہوگی ‘ ہر ایک سو میں ایک بکری کی ادائیگی (بطور زکوۃ ) لازم ہوگی۔
1961 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ هَذِهِ نُسْخَةُ كِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الَّتِى كَتَبَ فِى الصَّدَقَةِ هُوَ عِنْدَ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَقْرَأَنِيهَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَوَعَيْتُهَا عَلَى وَجْهِهَا وَهِىَ الَّتِى انْتَسَخَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حِينَ أُمِّرَ عَلَى الْمَدِينَةِ فَأَمَرَ عُمَّالَهُ بِالْعَمَلِ بِهَا وَكَتَبَ بِهَا إِلَى الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَأَمَرَ الْوَلِيدُ عُمَّالَهُ بِالْعَمَلِ بِهَا ثُمَّ لَمْ يَزَلِ الْخُلَفَاءُ يَأْمُرُونَ بِذَلِكَ بَعْدَهُ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا هِشَامٌ ابْنَ هَانِئٍ فَنَسَخَهَا إِلَى كُلِّ عَامِلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَمَرَهُمْ بِالْعَمَلِ بِمَا فِيهَا وَلاَ يَتَعَدَّوْنَهَا وَهَذَا كِتَابُ تَفْسِيرِهَا لاَ يُؤْخَذُ فِى شَىْءٍ مِنَ الإِبِلِ الصَّدَقَةُ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ ذَوْدٍ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا فَفِيهَا شَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ عَشْرًا فَإِذَا بَلَغَتْ عَشْرًا فَفِيهَا شَاتَانِ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ عَشْرَةَ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ فَفِيهَا ثَلاَثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ عِشْرِينَ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ أَفْرَضَتْ فَكَانَ فِيهَا فَرِيضَةُ بِنْتِ مَخَاضٍ فَإِنْ لَمْ تُوجَدْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَثَلاَثِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلاَثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ فَإِذَا كَانَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ حَتَّى تَبْلُغَ سِتِّينَ فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَسَبْعِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعِينَ فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلاَثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَمِائَةً فَإِذَا كَانَتْ ثَلاَثِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ وَبِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَثَلاَثِينَ وَمِائَةً فَإِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ وَبِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَأَرْبَعِينَ وَمِائَةً فَإِذَا كَانَتْ خَمْسِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلاَثُ حِقَاقٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَخَمْسِينَ وَمِائَةً فَإِذَا بَلَغَتْ سِتِّينَ وَمِائَةً فَفِيهَا أَرْبَعُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَسِتِّينَ وَمِائَةً فَإِذَا كَانَتْ سَبْعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ وَثَلاَثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَسَبْعِينَ وَمِائَةً فَإِذَا كَانَتْ ثَمَانِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ وَبِنْتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَثَمَانِينَ وَمِائَةً فَإِذَا كَانَتْ تِسْعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلاَثُ حِقَاقٍ وَبِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَتِسْعِينَ وَمِائَةً فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا أَرْبَعُ حِقَاقٍ أَوْ خَمْسُ بَنَاتِ لَبُونٍ أَىُّ السِّنِينَ وَجَدْتَ فِيهَا أَخَذْتَ عَلَى عِدَّةِ مَا كَتَبْنَا فِى هَذَا الْكِتَابِ ثُمَّ كُلُّ شَىْءٍ مِنَ الإِبِلِ عَلَى ذَلِكَ يُؤْخَذُ عَلَى نَحْوِ مَا كَتَبْنَا فِى هَذَا الْكِتَابِ وَلاَ يُؤْخَذُ مِنَ الْغَنَمِ صَدَقَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعِينَ شَاةً فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ شَاةً فَفِيهَا شَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا شَاتَانِ حَتَّى تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ فَإِذَا كَانَتْ شَاةً وَمِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلاَثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ ثَلاَثَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلاَثِمِائَةِ شَاةٍ فَلَيْسَ فِيهَا إِلاَّ ثَلاَثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعَمِائَةِ شَاةٍ فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَمِائَةِ شَاةٍ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا خَمْسُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ سِتَّمِائَةِ شَاةٍ فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا سِتُّ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ سَبْعَمِائَةِ شَاةٍ فَإِذَا بَلَغَتْ سَبْعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا سَبْعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ ثَمَانَمِائَةِ شَاةٍ فَإِذَا بَلَغَتْ ثَمَانَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا ثَمَانُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعَمِائَةِ شَاةٍ فَإِذَا بَلَغَتْ تِسْعَمِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا تِسْعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ أَلْفَ شَاةٍ فَإِذَا بَلَغَتْ أَلْفَ شَاةٍ فَفِيهَا عَشْرُ شِيَاهٍ ثُمَّ فِى كُلِّ مَا زَادَتْ مِائَةَ شَاةٍ شَاةٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب اونٹ اور بکریوں کی زکوۃ
1962 محمد بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں جب حضرت عمربن عبدالعزیز کو خلیفہ مقرر کیا گیا تو انھوں نے مدینہ منورہ پیغام بھیجا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ اقدس سے تعلق رکھنے والا زکوۃ کے بارے میں کوئی حکم نامہ تلاش کریں ‘ تو حضرت عمروبن حزم (رض) کی اولاد کے پاس وہ حکم نامہ مل گیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو مکتوب حضرت عمروبن حزم (رض) کو لکھا تھا ‘ جو زکوۃ کے بارے میں تھا ‘ اسی طرح حضرت عمربن خطاب (رض) کی آل کے پاس حضرت عمر (رض) کا وہ مکتوب مل گیا جو انھوں نے زکوۃ کے بارے میں اپنے اہل کاروں کو لکھا تھا اور یہ اس کے مطابق تھا جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکتوب میں تحریر ہے جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمربن حزم (رض) کو بھیجا تھا۔

عمربن عبدالعزیز نے اپنے اہل کاروں کو زکوۃ کے بارے میں یہ حکم دیا کہ وہ ان دونوں مکتوبات کی روشنی میں وصول کریں۔

اونٹوں کی زکوۃ کے بارے میں ان دونوں میں یہی بات تحریر تھی کہ اگر ان کی تعداد نوے سے ایک بھی زیادہ ہوجائے تو ان میں دوحقہ کی ادائیگی لازم ہوگی یہ حکم ایک سوبیس تک ہے ‘ اگر وہ ایک سوبیس سے ایک بھی زیادہ ہوجائے تو ان میں تین بنت لبون کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ یہ حکم ایک سوانتیس تک ہے ‘ جب اونٹوں کی تعداد اس سے زیادہ ہوجائے گی ‘ تو اگلے دس ہونے تک کوئی کو ادائیگی لازم نہیں ہوگی ‘ یہاں تک کہ اگلادس کا ہدف پورا ہوجائے۔
1962 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِىُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِى حَبِيبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْصَارِىَّ حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حِينَ اسْتُخْلِفَ أَرْسَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَلْتَمِسُ عَهْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى الصَّدَقَاتِ فَوُجِدَ عِنْدَ آلِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ كِتَابُ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِى الصَّدَقَاتِ وَوُجِدَ عِنْدَ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ كِتَابُ عُمَرَ إِلَى عُمَّالِهِ فِى الصَّدَقَاتِ بِمِثْلِ كِتَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَأَمَرَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عُمَّالَهُ عَلَى الصَّدَقَاتِ أَنْ يَأْخُذُوا بِمَا فِى ذَيْنِكَ الْكِتَابَيْنِ فَكَانَ فِيهِمَا فِى صَدَقَةِ الإِبِلِ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى التِّسْعِينَ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى الْعِشْرِينَ وَمِائَةٍ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا ثَلاَثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَمِائَةً فَإِذَا كَانَتِ الإِبِلُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلَيْسَ فِيمَا لاَ يَبْلُغُ الْعَشْرُ مِنْهَا شَىْءٌ حَتَّى يَبْلُغَ الْعَشْرَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب خوشحال اور صاحب حیثیت شخص کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہے
1963 عبدالرحمن بن ابوسعید اپنے والد (حضرت ابوسعید خدری (رض)) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میری والدہ نے مجھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیجا ‘ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بیٹھ گیا ‘ آپ نے میری طرف رخ کرکے ارشاد فرمایا جو شخص بےنیاز رہنا چاہتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اسے بےنیاز کردیتا ہے ‘ جو شخص پاک دامن رہنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اسے پاک دامنی نصیب کرتا ہے ‘ جو شخص کفایت حاصل کرنا چاہتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اسے کفایت نصیب کرتا ہے ‘ جو شخص کسی دوسرے سے کوئی چیز مانگے حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ (چاندی) کی قیمت موجود ہو ‘ تو اس نے زیادتی کی۔ (حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں ) میں نے سوچا کہ میری اونٹنی یاقوتہ تو ایک اوقیہ سے مہنگی ہے تو میں واپس آگیا ‘ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ نہیں مانگا۔
1963 - حَدَّثَنِى أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ أَحْمَدَ الصُّوفِىُّ الشَّيْخُ الصَّالِحُ يُعْرَفُ بِوَلِيدِ مِصْرَ حَدَّثَنِى أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِىُّ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى الرِّجَالِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَرَّحَتْنِى أُمِّى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَتَيْتُهُ فَقَعَدْتُ فَاسْتَقْبَلَنِى وَقَالَ « مَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ وَمَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ وَمَنِ اسْتَكْفَ كَفَاهُ اللَّهُ وَمَنْ سَأَلَ وَلَهُ قِيمَةُ أُوقِيَّةٍ فَقَدْ أَلْحَفَ ». فَقُلْتُ نَاقَتِى الْيَاقُوتَةُ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب خوشحال اور صاحب حیثیت شخص کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہے
1964 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے خوشحال شخص اور صاحب حیثیث شخص کے لیے زکوۃ لیناجائز نہیں ہے۔
1964 - حَدَّثَنَا أَبُو شَيْبَةَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِى الْجَعْدِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِىٍّ وَلاَ لِذِى مِرَّةٍ سَوِىٍّ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب خوشحال اور صاحب حیثیت شخص کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہے
1965 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے خوشحال اور صحاب حیثیت شخص کے لیے زکوۃ لینا جائز نہیں ہے۔
1965 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِىُّ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ الْمُعَدِّلُ بِوَاسِطَ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ التَّمَّارُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِى حَصِينٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِى الْجَعْدِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِىٍّ وَلاَ لِذِى مِرَّةٍ سَوِىٍّ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب خوشحال اور صاحب حیثیت شخص کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہے
1966 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
1966 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قَيْسٌ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِى حَصِينٍ بِهَذَا مِثْلَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب خوشحال اور صاحب حیثیت شخص کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہے
1967 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے ‘ تاہم اس میں ایک لفظ کا فرق ہے۔
1967 - حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِىُّ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ « لِذِى مِرَّةٍ قَوِىٍّ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب خوشحال اور صاحب حیثیت شخص کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہے
1968 حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں زکوۃ (کا مال) آیا ‘ لوگ آپ کی خدمت حاضر ہوئے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا یہ لینا کسی خوشحال شخص کے لیے ‘ کسی صاحب حیثیت شخص کے لیے اور کام کاج کی قوۃ رکھنے والے شخص کے لیے جائز نہیں ہے۔
1968 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنِ الْوَازِعِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَدَقَةٌ فَرَكِبَهُ النَّاسُ فَقَالَ « إِنَّهَا لاَ تَصْلُحُ لِغَنِىٍّ وَلاَ لِصَحِيحٍ سَوِىٍّ وَلاَ لِعَامِلٍ قَوِىٍّ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৬৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب خوشحال اور صاحب حیثیت شخص کے لیے صدقہ لینا جائز نہیں ہے
1969 عبیداللہ بن عدی بیان کرتے ہیں دوصاحبان نے مجھے یہ بات بتائی ‘ دونوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حجۃ وداع پر حاضر ہوئے اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جو زکوۃ کا مال موجود تھا ‘ اس میں سے کچھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مانگا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نگاہ اٹھاکر ان دونوں کا جائزہ لیا ‘ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ وہ دونوں طاقت ور اور توانا ہیں ‘ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اگر تم چاہوتو میں تم دونوں کو اس میں سے دے دیتاہوں ‘ ویسے کسی خوشحال شخص اور کمانے کی صلاحیت رکھنے والے شخص کے لیے اسے دینا جائز نہیں ہے۔
1969 - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِىٍّ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِىِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَنِى رَجُلاَنِ أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فِى حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَسْأَلاَنِهِ مِمَّا بِيَدَيْهِ مِنَ الصَّدَقَةِ فَرَفَعَ فِيهِمَا الْبَصَرَ وَخَفَضَهُ فَرَآهُمَا جَلْدَيْنِ فَقَالَ « إِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا مِنْهَا وَلاَ حَظَّ فِيهَا لِغَنِىٍّ وَلاَ لِقَوِىٍّ مُكْتَسِبٍ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب کس شخص کے لیے زکوۃ وصول کرنا جائز ہے ؟
1970 حضرت قبیصہ بن مخارق (رض) بیان کرتے ہیں میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حمالہ کے لیے مددمانگی ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم ہمارے پاس ٹھہرے رہو یا ہم تمہیں حمالہ کے لیے کچھ دے دیں گے یاوی سے تمہاری مدد کردیں گے ‘ یہ بات یاد رکھنا کہ مانگنا کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں ہے ‘ صرف تین طرح کے لوگ دوسروں سے کچھ مانگ سکتے ہیں ایک وہ شخص جس نے کچھ لوگوں کو ادائیگی کرنی ہو اور پھر وہ کسی سے مانگے ‘ جب وہ اس ادائیگی کو کردے تو پھر کچھ نہ لے ‘ ایک وہ شخص جس (کی پیداوار کو) کوئی آفت لاحق ہوجائے اور وہ اس کے مال کو ضائع کردے ‘ وہ شخص مانگ سکتا ہے یہاں تک کہ اس کے لیے اپنی ضروریات پوری کرنے کا سامان ہوجائے (یہاں پر ایک لفظ کے بارے میں راوی کو لکھا ہے) پھر اس کے بعد وہ شخص رک جائے اور ایک وہ شخص جسے کوئی شدید ضرورت لاحق ہویہاں تک کہ تین سمجھ دار (یہاں راوی کو شک ہے) افراد جو اس کی قوم سے تعلق رکھتے ہوں ‘ وہ یہ گواہی دیں کہ اب اس شخص کے لیے مانگنا ہوچکا ہے (تو صرف یہی لوگ مانگ سکتے ہیں) اس کے علاوہ مانگنا حرام ہوگا ‘ اسے لینے والا شخص حرام کے طورپرا سے کھائے اے قبیصہ !
1970 - حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَسْتَعِينُهُ فِى حَمَالَةٍ فَقَالَ « أَقِمْ عِنْدَنَا فَإِمَّا أَنْ نَتَحَمَّلَهَا وَإِمَّا أَنْ نُعِينَكَ وَاعْلَمْ أَنَّ الْمَسْأَلَةَ لاَ تَصْلُحُ إِلاَّ لأَحَدِ ثَلاَثَةٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً عَنْ قَوْمٍ فَسَأَلَ حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ أَذْهَبَتْ مَالَهُ فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَوَامًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ حَتَّى يَشْهَدَ ثَلاَثَةٌ مِنْ ذَوِى الْحِجَى أَوْ مِنْ ذَوِى الصَّلاَحِ مِنْ قَوْمِهِ أَنْ قَدْ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسَائِلِ سُحْتٌ يَأْكُلُهُ صَاحِبُهُ سُحْتًا يَا قَبِيصَةُ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب کس شخص کے لیے زکوۃ وصول کرنا جائز ہے ؟
1971 حضرت قبیصہ بن مخارق (رض) بیان کرتے ہیں میں نے ایک ادائیگی کرنا تھی ‘ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ تاکہ اس بارے میں آپ سے مددمانگوں ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہم تمہاری طرف سے ادائیگی کردیں گے اور صدقے کے اونٹوں میں سے اسے نکال دیں گے۔ (راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ) جب صدقے کے اونٹ آئیں گے ‘ پھر آپ نے ارشاد فرمایا اے قبیصہ ! مانگنا حرام ہے ‘ صرف تین لوگ مانگ سکتے ہیں ‘ ایک وہ شخص جس نے کوئی ادائیگی کرنی ہو اس کے لیے مانگنا جائز ہوجاتا ہے یہاں تک کہ ادائیگی کو اداکردے اور پھر اس کے بعد رک جائے ‘ ایک وہ شخص جسے شدید ضرورت اورفاقہ لاحق ہوجائے یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین سمجھ دار افراد اس بات کی گواہی دیں (یہاں پر راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ لفظ ہے ) یہ بات بیان کریں کہ اسے ایسا فاقہ اور ضرورت لاحق ہوئی ہے تو ایسے شخص کے لیے بھی مانگنا جائز ہے یہاں تک کہ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوجائے اور ایک وہ شخص جسے آفت لاحق ہو اور وہ اس کے مال کو ضائع کردے ‘ ایسے شخص کے لیے بھی مانگنا جائز ہے ‘ یہاں تک کہ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوجائے ‘ پھر اس کے بعد رک جائے ‘ اس کے علاوہ مانگ کر جو بھی لیا جائے گا وہ حرام ہوگا۔
1971 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ قَالَ تَحَمَّلْتُ بِحَمَالَةٍ فَأَتَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَسْأَلُهُ فِيهَا فَقَالَ « نُؤَدِّيهَا عَنْكَ وَنُخْرِجُهَا مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ أَوْ إِذَا جَاءَتْ نَعَمُ الصَّدَقَةِ ». ثُمَّ قَالَ « يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ حُرِّمَتْ إِلاَّ لِثَلاَثَةٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ وَفَاقَةٌ حَتَّى شَهِدَ - وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً حَتَّى تَكَلَّمَ - ثَلاَثَةٌ مِنْ ذَوِى الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ أَنْ قَدْ أَصَابَهُ فَقْرٌ وَحَاجَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يَجِدَ قَوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ سَدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَوَامًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكُ وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْمَسْأَلَةِ فَهُوَ سُحْتٌ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب کس شخص کے لیے زکوۃ وصول کرنا جائز ہے ؟
1972 حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے خوشحال شخص کے لیے کسی سے کچھ مانگنا جائز نہیں ہے ‘ صرف پانچ آدمیوں کا حکم مختلف ہے ‘ ایک وہ شخص جو زکوۃ کی وصولی کے لیے مقررہو ‘ ایک اللہ کی راہ میں جہاد میں شریک ہونے والا نمازی ‘ ایک وہ شخص جس نے قرض ادا کرنا ہو ‘ ایک وہ شخص جس نے اپنے مال میں سے اسے خریدا ‘ ایک وہ مسکین جسے صدقہ کیا گیا اور پھر وہ کسی خوشحال کو ہدیے کے طور پر دیدے۔
1972 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَارِسْتَانِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِىُّ جَمِيعًا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَحِلُّ الْمَسْأَلَةُ لِغَنِىٍّ إِلاَّ لِخَمْسَةٍ الْعَامِلِ عَلَيْهَا وَالْغَازِى فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَالْغَارِمِ أَوِ الرَّجُلِ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ أَوْ مِسْكِينٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ فَأَهْدَى لِغَنِىٍّ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب کس شخص کے لیے زکوۃ وصول کرنا جائز ہے ؟
1973 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
1973 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب وہ خوشحالی جو مانگنے کو حرام کردیتی ہے
1974 حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو شخص خوشحال ہونے کا باوجود کچھ مانگتا ہے ‘ وہ اس عمل کے ذریعے جہنم کے عذاب میں اضافہ کرتا ہے ‘ انھوں نے عرض کی یارسول اللہ ! خوشحالی سے مراد کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا رات کا کھانا میسر ہونا۔

عمربن خالدنامی راوی متروک ہے۔
1974 - حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنِى الْحُسَيْنُ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِى ثَابِتٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِىٍّ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَةً عَنْ ظَهْرِ غِنًى اسْتَكْثَرَ بِهَا مِنْ رَضْفِ جَهَنَّمَ ». قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا ظَهْرُ الْغِنَى قَالَ « عَشَاءُ لَيْلَةٍ ». عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ مَتْرُوكٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب وہ خوشحالی جو مانگنے کو حرام کردیتی ہے
1975 حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص خوشحال ہونے کے باوجودلوگوں سے مانگنا ہے جب وہ قیامت کے دن آئے گا ‘ تو اس کے چہرے پر داغ ہوگا (یہاں پر ایک لفظ کے ب ارے میں راوی کو شک ہے) ۔ عرض کی گئی یارسول اللہ ! خوشحالی سے مراد کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پچاس درہم یا ان کی قیمت جتنا سونا۔

ابن اسلم نامی راوی ضعیف ہے۔
1975 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ اللَّبَّانِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ النُّبَيْرَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجَعْفَرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ سَأَلَ النَّاسَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِى وَجْهِهِ خُمُوشٍ أَوْ خُدُوشٌ ». قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْغِنَى قَالَ « خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ ». ابْنُ أَسْلَمَ ضَعِيفٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب وہ خوشحالی جو مانگنے کو حرام کردیتی ہے
1976 حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ایسے شخص کے لیے زکوۃ لیناجائز نہیں ہے جس کے پاس پچاس درہم موجود ہوں۔

ابوشیبہ نامی راوی کا نام عبدالرحمن بن اسحاق ہے اور یہ ضعیف ہے ‘ اسی طرح بکربن خنیس نامی راوی بھی ضعیف ہے۔
1976 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الأُبُلِّىُّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو شَيْخٍ الْحَرَّانِىُّ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ عَنْ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ عَنْ أَبِى شَيْبَةَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِرَجُلٍ لَهُ خَمْسُونَ دِرْهَمًا ». أَبُو شَيْبَةَ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ضَعِيفٌ وَبَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ ضَعِيفٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب وہ خوشحالی جو مانگنے کو حرام کردیتی ہے
1977 حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص خوشحال ہونے کے باوجود لوگوں سے مانگے ‘ جب وہ قیامت کے دن آئے گا ‘ تو اس کے چہرے پر داغ موجود ہوگا (یہاں تک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) ۔ عرض کی گئی یارسول اللہ ! خوشحالی سے مراد کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا چاہے درہم یا ان کی قیمت جتنا سونا۔
1977 - حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الأَنْطَاكِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ بَكْرِ بْنِ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَهُوَ غَنِىٌّ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَفِى وَجْهِهِ كُدُوحٌ وَخُدُوشٌ » . فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا غِنَاهُ قَالَ « أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا ذَهَبًا ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب وہ خوشحالی جو مانگنے کو حرام کردیتی ہے
1978 حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے حوالے سے یہ رایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ‘ تاہم اس میں پچاس درہم ‘ کے الفاظ ہیں۔

امام دارقطنی بیان کرتے ہیں پہلی روایت میں راوی کو وہم ہوا ہے ‘ انھوں نے اسے ابواسحق کے حوالے سے نقل کردیا ہے ‘ یہ صاحب حکیم بن جبیر ہیں اور یہ ضعیف ہیں ‘ شعبہ اودیگرمحدثین نے انھیں متروک قراردیا ہے۔
1978 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَهُ وَقَالَ « خَمْسُونَ دِرْهَمًا ». قَالَ الشَّيْخُ الأَوَّلُ وَهَمٌ قَوْلُهُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ وَإِنَّمَا هُوَ حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ تَرَكَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৭৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب وہ خوشحالی جو مانگنے کو حرام کردیتی ہے
1979 حضرت عبداللہ (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جو شخص کسی سے کچھ مانگے حالانکہ وہ خوشحال ہو ‘ تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو اس کے چہرے پر داغ ہوگا (یہاں پر ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) ۔ عرض کی گئی یارسول اللہ ! اس کی خوشحالی سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پچاس درہم یا ان کی قیمت جتنا سونا (موجود ہونا) ۔ حکیم بن جبیرنامی راوی متروک ہے۔
1979 - قُرِئَ عَلَى أَبِى الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِى إِسْرَائِيلَ أَبُو يَعْقُوبَ الْمَرْوَزِىُّ حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ سَأَلَ وَلَهُ غِنًى جَاءَ وَفِى وَجْهِهِ كُدُوحٌ أَوْ خُدُوشٌ أَوْ خُمُوشٌ ». قِيلَ وَمَا غِنَاهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ ». حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ مَتْرُوكٌ.
tahqiq

তাহকীক: