সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)

سنن الدار قطني

زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৮২ টি

হাদীস নং: ১৯৪০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب مکاتب غلام جب تک آزاد نہ ہوجائے ‘ اس کے مال میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی
1940 علی بن سلیم بیان کرتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک (رض) سے زیورات کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو انھوں نے فرمایا اس میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی۔
1940 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِى رَجَاءٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَلِىِّ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْحُلِىِّ فَقَالَ لَيْسَ فِيهِ زَكَاةٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৪১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب مکاتب غلام جب تک آزاد نہ ہوجائے ‘ اس کے مال میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی
1941 نافع بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی صاحبزادیوں میں سے ایک خاتون کو ایک ہزاردرہم دیئے گئے ‘ اس خاتون نے اس کے زیورات بنالیے جو چار سو دینا رکے بنے ‘ لیکن حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے نزدیک ان پر زکوۃ لازم نہیں ہوتی تھی۔
1941 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَنَاتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ تُصْدَقُ أَلْفَ دِينَارٍ فَتَجْعَلُ لَهَا مِنْ ذَلِكَ حُلِيًّا بِأَرْبَعِمِائَةِ دِينَارٍ وَلاَ يَرَى فِيهِ صَدَقَةً.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৪২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب مکاتب غلام جب تک آزاد نہ ہوجائے ‘ اس کے مال میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی
1942 حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں زیورات پر زکوۃ لازم نہیں ہوتی۔
1942 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ لاَ زَكَاةَ فِى الْحُلِىِّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৪৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب مکاتب غلام جب تک آزاد نہ ہوجائے ‘ اس کے مال میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی
1943 نافع بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنی صاحبزادیوں کے لیے چارسودینار کے زیورات بنواے لیکن حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے ان کی زکوٰ ادا نہیں کی۔
1943 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُحَلِّى بَنَاتِهِ بِأَرْبَعِمِائَةِ دِينَارٍ وَلاَ يُخْرِجُ زَكَاتَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৪৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب مکاتب غلام جب تک آزاد نہ ہوجائے ‘ اس کے مال میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی
1944 سیدہ اسماء بنت ابوبکر (رض) کے بارے میں یہ بات منقول ہے انھوں نے اپنی صاحبزادیوں کے لیے سونے زیورات بنوائے اور ان کی زکوۃ ادا نہیں کی ‘ ان زیورات کی قیمت پچاس ہزار کے قریب تھی۔
1944 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى رَجَاءٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِى بَكْرٍ أَنَّهَا كَانَتْ تُحَلِّى بَنَاتِهَا بِالذَّهَبِ وَلاَ تُزَكِّيهِ نَحْوًا مِنْ خَمْسِينَ أَلْفًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৪৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بچے اور یتیم کے مال میں زکوۃ واجب ہوتی ہے
1945 عمروبن شعیب اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ایسے ییتم کا سرپرست بنے جس یتیم کا مال موجود ہو ‘ تو وہ اس یتیم کے لیے اس مال کی تجارت کرے ‘ اس مال کو ایسے ہی نہ چھوڑدے کہ اسے زکوۃ ختم کر دے۔
1945 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِىُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ غُلَيْبٍ الأَزْدِىُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَامَ يَخْطُبُ النَّاسَ فَقَالَ « مَنْ وَلِىَ يَتِيمًا لَهُ مَالٌ فَلْيَتَّجِرْ لَهُ وَلاَ يَتْرُكْهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الصَّدَقَةُ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৪৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بچے اور یتیم کے مال میں زکوۃ واجب ہوتی ہے
1946 عمروبن شعیب والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے یتیموں کے مال کی حفاظت کرنا ‘ انھیں زکوۃ ختم نہ کردے۔
1946 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ بِالْكُوفَةِ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا مِنْدَلٌ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِىِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « احْفَظُوا الْيَتَامَى فِى أَمْوَالِهِمْ لاَ تَأْكُلُهَا الزَّكَاةُ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৪৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بچے اور یتیم کے مال میں زکوۃ واجب ہوتی ہے
1947 عمروبن شعیب اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے یتیم کے مال میں زکوۃ لازم ہوگی۔
1947 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِىٍّ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ حَدَّثَنَا رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فِى مَالِ الْيَتِيمِ زَكَاةٌ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৪৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بچے اور یتیم کے مال میں زکوۃ واجب ہوتی ہے
1948 سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں حضرت عمربن خطاب (رض) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے یتیموں کے مال کا خیال رکھو ‘ انھیں زکوۃ ختم نہ کردے۔
1948 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى طَالِبٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ ابْتَغُوا بِأَمْوَالِ الْيَتَامَى لاَ تَأْكُلُهَا الصَّدَقَةُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৪৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بچے اور یتیم کے مال میں زکوۃ واجب ہوتی ہے
1949 ابن ابورافع بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے اموال حضرت علی (رض) کے پاس تھے ‘ جب حضرت علی (رض) نے اموال انھیں واپس کیے تو ان لوگوں نے ان میں کچھ کمی پائی ‘ پھر جب انھوں نے زکوۃ کے ساتھ اس کا حساب کیا ‘ تو انھیں مکمل پایا۔ وہ لوگ حضرت علی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت علی (رض) نے فرمایا کیا تم لوگ یہ سمجھتے تھے کہ میرے پاس کیا مال موجود ہوگا اور میں اس کی زکوۃ ادا نہیں کروں گا۔
1949 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الصُّوفِىُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِى ثَابِتٍ عَنْ صَلْتٍ الْمَكِّىِّ عَنِ ابْنِ أَبِى رَافِعٍ قَالَ كَانَتْ أَمْوَالُهُمْ عِنْدَ عَلِىٍّ فَلَمَّا دَفَعَهَا إِلَيْهِمْ وَجَدُوهَا بِنَقْصٍ فَحَسَبُوهَا مَعَ الزَّكَاةِ فَوَجَدُوهَا تَامَّةً فَأَتَوْا عَلِيًّا فَقَالَ كُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنْ يَكُونَ عِنْدِى مَالٌ لاَ أُزَكِّيهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بچے اور یتیم کے مال میں زکوۃ واجب ہوتی ہے
1950 حضرت ابورافع (رض) کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابورافع (رض) کو کچھ زمین گیر کے طورپر عطاء کی ‘ جب حضرت ابورافع (رض) کا انتقال ہوا تو حضرت عمر (رض) نے اس زمین کو ٨٠ ہزار کے عوض میں فروخت کردیا اور وہ مال حضرت علی بن ابوطالب (رض) کے سپرد کیا ‘ حضرت علی (رض) اس کی زکوۃ ادا کرتے رہے ‘ جب حضرت ابورافع (رض) اپنی اولاد نے اس مال کو اپنے قبضے میں لیا ‘ تو انھوں نے اپنے مال کی گنتی کی تو اسے کم پایا ‘ وہ لوگ حضرت علی (رض) کے پاس آئے اور انھیں اس بارے میں بتایاتو حضرت علی (رض) نے دریافت کیا کیا تم نے اس کی زکوۃ کا حساب لگایا ہے ‘ انھوں نے جواب دیا اس ! راوی بیان کرتے ہیں ان لوگوں نے اس کی زکوۃ کا حساب لگایا تو اسے پوراپایا۔ تو حضرت علی (رض) نے فرمایا کہ تم لوگ سمجھتے تھے کہ میرے پاس کوئی مال موجود ہوگا اور میں اس کی زکوۃ ادا نہیں کروں گا۔
1950 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِى ثَابِتٍ عَنْ صَلْتٍ الْمَكِّىِّ عَنِ ابْنِ أَبِى رَافِعٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ أَقْطَعَ أَبَا رَافِعٍ أَرْضًا فَلَمَّا مَاتَ أَبُو رَافِعٍ بَاعَهَا عُمَرُ بِثَمَانِينَ أَلْفًا فَدَفَعَهَا إِلَى عَلِىِّ بْنِ أَبِى طَالِبٍ رضى الله عنهما فَكَانَ يُزَكِّيهَا فَلَمَّا قَبَضَهَا وَلَدُ أَبِى رَافِعٍ عَدُّوا مَالَهُمْ فَوَجَدُوهُ نَاقِصًا فَأَتَوْا عَلِيًّا فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ أَحَسَبْتُمْ زَكَاتَهَا قَالُوا لاَ. قَالَ فَحَسَبُوا زَكَاتَهَا فَوَجَدُوهَا سَوَاءً فَقَالَ عَلِىٌّ أَكُنْتُمْ تَرَوْنَ يَكُونُ عِنْدِى مَالٌ لاَ أُؤَدِّى زَكَاتَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب یتیم کے مال میں سے وصی کا قرض کے طورپر کچھ لینا
1951 نافع بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے پاس ایک یتیم کا مال موجود تھا “ وہ اس میں سے قرض کے طورپر کچھ لے لیتے تھے ‘ بعض اوقات وہ اس کے ضامن بن جاتے تھے اور جب وہ یتیم کے مال کے سرپرست بنتے تھے تو اس کی زکوۃ بھی ادا کیا کرتے تھے۔
1951 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ وَصَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ عِنْدَهُ مَالُ يَتِيمٍ فَكَانَ يَسْتَقْرِضُ مِنْهُ وَرُبَّمَا ضَمِنَهُ وَكَانَ يُزَكِّى مَالَ الْيَتِيمِ إِذَا وَلِيَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب یتیم کے مال میں سے وصی کا قرض کے طورپر کچھ لینا
1952 عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں حضرت عمربن خطاب (رض) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے یتیموں کے اموال کو خیال رکھو ‘ انھیں زکوۃ ختم نہ کردے۔
1952 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ ابْتَغُوا بِأَمْوَالِ الْيَتَامَى لاَ تَسْتَهْلِكُهَا الزَّكَاةُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب یتیم کے مال میں سے وصی کا قرض کے طورپر کچھ لینا
1953 نافع بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) یتیم کے مال کی زکوۃ ادا کیا کرتے تھے ‘ وہ اس میں سے فرض طورپر کچھ لیتے تھے اور اسے مضاربت کر طورپر آگے دے دیتے تھے۔
1953 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِىُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُزَكِّى مَالَ الْيَتِيمِ وَيَسْتَقْرِضُ مِنْهُ وَيَدْفَعُهُ مُضَارَبَةً.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب یتیم کے مال میں سے وصی کا قرض کے طورپر کچھ لینا
1954 مجاہد ‘ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے غلام حضرت ابورافع (رض) کو کچھ زمین عطاء کی ‘ وہ اس کا خیال نہیں رکھ سکے ‘ ان کا انتقال ہوگیا ‘ حضرت عمربن خطاب (رض) نے اس زمین لاکھ اسی ہزاردینار کے عوض میں فروخت کردیا ‘ انھوں نے حضرت علی بن ابوطالب (رض) کو اس رقم کا نگران مقرر کیا ‘ علی (رض) ہر سال اس کی زکوۃ ادا کرتے رہے ‘ یہاں تک کہ جب حضرت ابورافع (رض) کے بچے بڑے ہوگئے تو حضرت علی (رض) وہ مال کم لگا ہے ‘ حضرت علی (رض) نے دریافت کیا کیا تم لوگوں زکوۃ کا حساب لگایا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا حضرت علی (رض) نے جواب دیا اس کی زکوۃ کا حساب لگاؤ ‘ جب انھوں نے اس کا حساب لگایاتو اسے پوراپایا۔
1954 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الْقِرْمِيسِينِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الأَصْبَهَانِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا مُنِيرُ بْنُ الْعَلاَءِ عَنِ الأَشْعَثِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِى ثَابِتٍ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَعْطَى أَبَا رَافِعٍ مَوْلاَهُ أَرْضًا فَعَجَزَ عَنْهَا فَمَاتَ فَبَاعَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِمِائَتَىْ أَلْفٍ وَثَمَانِيَةِ آلاَفِ دِينَارٍ وَأَوْصَى إِلَى عَلِىِّ بْنِ أَبِى طَالِبٍ رضى الله عنه فَكَانَ يُزَكِّيهَا كُلَّ سَنَةٍ حَتَّى أَدْرَكَ بَنُوهُ فَدَفَعَهُ إِلَيْهِمْ فَحَسَبُوهُ فَوَجَدُوهُ نَاقِصًا فَأَتَوْهُ فَقَالُوا إِنَّا وَجَدْنَا مَالَنَا نَاقِصًا. فَقَالَ أَحَسَبْتُمْ زَكَاتَهُ قَالُوا لاَ. قَالَ احْسِبُوا زَكَاتَهُ . فَحَسَبُوهُ فَوَجَدُوهُ سَوَاءً.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب یتیم کے مال میں سے وصی کا قرض کے طورپر کچھ لینا
1955 عبدالرحمن بن ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں حضرت علی (رض) نے حضرت ابورافع (رض) کی اولاد کے مال کی زکوۃ ادا کی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں جب حضرت علی (رض) نے وہ مال ان لوگوں کے سپرد کیا ‘ تو ان لوگوں نے اس مال کو کم پایا ‘ ان لوگوں نے کہا ہمیں یہ مال کم لگا ہے ‘ حضرت علی (رض) نے فرمایا کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ میرے پاس کوئی مال ہوگا اور میں اس کی زکوۃ ادا میں کروں گا۔
1955 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الأَصْبَهَانِىِّ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِى الْيَقْظَانِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى لَيْلَى أَنَّ عَلِيًّا زَكَّى أَمْوَالَ بَنِى أَبِى رَافِعٍ - قَالَ - فَلَمَّا دَفَعَهَا إِلَيْهِمْ وَجَدُوهَا بِنَقْصٍ فَقَالُوا إِنَّا وَجَدْنَاهَا بِنَقْصٍ فَقَالَ عَلِىٌّ رضى الله عنه أَتَرَوْنَ أَنَّهُ يَكُونُ عِنْدِى مَالٌ لاَ أُزَكِّيهِ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب یتیم کے مال میں سے وصی کا قرض کے طورپر کچھ لینا
1956 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں نابالغ کے مال پر زکوۃ لازم نہیں ہوتی ‘ اس وقت زکوۃ لازم ہوتی ہے جب اس پر نماز پڑھنا بھی لازم ہوجائے (یعنی جب وہ بالغ ہوجائے) ۔

اس روایت کے راوی ابن لہیعہ کو مستند قرار نہیں دیا گیا۔
1956 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرِ بْنِ جَبَلَةَ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَسْوَدِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لاَ يَجِبُ عَلَى مَالِ الصَّغِيرِ زَكَاةٌ حَتَّى تَجِبَ عَلَيْهِ الصَّلاَةُ.

ابْنُ لَهِيعَةَ لاَ يُحْتَجُّ بِهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب یتیم کے مال میں سے وصی کا قرض کے طورپر کچھ لینا
1957 عمروبن شعیب اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں یمن سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اپنی صاحبزادی کے ساتھ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی ‘ اس کے ہاتھ میں سونے سے بنے ہوئے دوکنگن تھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا کیا تم نے اس کی زکوۃ ادا کی ہے ؟ اس نے عرض کی نہیں ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا کیا تم یہ بات پسند کروگی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے دوکنگن پہنائے۔ راوی بیان کرتے ہیں اس نے ان دونوں کو اتاردیا اور عرض کی یارسول اللہ اور اس کے رسول کی نذر ہیں۔
1957 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ ذَكْوَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ وَابْنَتُهَا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَفِى يَدِهَا مَسَكَتَانِ غَلِيظَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ « هَلْ تُعْطِينَ زَكَاةَ هَذَا ». قَالَتْ لاَ. قَالَ « فَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِسِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ ». قَالَ فَخَلَعَتْهُمَا وَقَالَتْ هُمَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب اونٹ اور بکریوں کی زکوۃ
1958 حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں ہم نے حضرت عمر (رض) کی تحریر میں یہ بات پائی ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹوں کی زکوۃ کے بارے میں یہ فرمایا ہے

پانچ اونٹوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ دس اونٹوں میں دوبکریوں کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ پندرہ میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ بیس میں چار کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ پچیس بکریوں کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ پھر جب وہ زیادہ ہوجائیں کے تو ان میں بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ اگر وہ نہ ملے ‘ تو ایک ابن لبون کی ادائیگی لازم ہوگی جو نرہو ‘ ١٣٣ اونٹوں تک یہی لازم ہوگا اگر وہ ایک بھی زیادہ ہوجائے تو ان میں ٤٥ تک ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ پھر اگر وہ ایک بھی زیادہ ہوجائے ان میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ ساٹھ تک یہی حکم چلے گا ‘ پھر اگر ان میں ایک بھی زیادہ ہوجائے تو ان میں ایک جذعہ کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ ٧٥ تک یہی حکم ہے ‘ پھر اگر ان میں ایک بھی زیادہ ہوجائے تو ان میں دوبنت لبون کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ یہ حکم اگر ان میں ایک بھی زیادہ ہوجائے تو ان میں دوحقہ کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ یہ حکم ١٢٠‘ اونٹوں تک ہے ‘ اگر ان سے ایک بھی زیادہ ہوجائے تو ہر چالیس میں ایک جذعہ کی ادائیگی لازم ہوگی اور ہر پچاس میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہوگی۔ سلمان بن ارقم نامی راوی نے اسی طرح روایت کیا ہے اور یہ شخص ضعیف الحدیث ہے اور متروک ہے۔
1958 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ قُوهِى بِالْمَفْتَحِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الدُّولاَبِىُّ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَرْقَمَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وَجَدْنَا فِى كِتَابِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فِى صَدَقَةِ الإِبِلِ « فِى خَمْسٍ مِنَ الإِبِلِ سَائِمَةٍ شَاةٌ وَفِى عَشْرٍ شَاتَانِ وَفِى خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلاَثُ شِيَاهٍ وَفِى عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ وَفِى خَمْسٍ وَعِشْرِينَ خَمْسُ شِيَاهٍ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ فَإِنْ لَمْ تُوجَدْ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاَثِينَ فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ إِلَى سِتِّينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِى كُلِّ أَرْبَعِينَ جَذَعَةٌ وَفِى كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ ». كَذَا رَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ مَتْرُوكٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৯৫৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب اونٹ اور بکریوں کی زکوۃ
1959 حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں حضرت ابوبکر (رض) کو خلیفہ مقرر کیا گیا ‘ تو انھوں نے حضرت انس مالک (رض) کو بحرین بھیجا اور انھیں یہ تحریرلکھ کردی

یہ زکوۃ کے بارے میں حکم نامہ ہے ‘ جسے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں پر فرض قراردیا ہے ‘ جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیا تھا ‘ جس مسلمان سے اس کے مطابق مطالبہ کیا جائے وہ اس کی ادائیگی کردے ‘ جس سے اس سے زیادہ کا مطالبہ کیا جائے وہ ادائیگی نہ کرے ‘ ٢٤ تک یا اس سے کم میں بکریوں کی ادائیگی کی جائے گی جن میں سے ہر پانچ کے عوض میں ایک بکری دی جائے گی ‘ جب وہ پچیس ہوں تو ٣٣ تک میں ایک بنت مخاض مونث کی ادائیگی کی جائے گی ‘ جب وہ ٣٦ سے لے کر ٤٥ تک ہوں تو ان میں ایک بنت لبون مونث کی ادائیگی کی جائے گی ‘ ٤٦۔ ٦٠ تک میں ایک حقہ کی ادائیگی کی جائے گی ‘ جسے جفتی کے لیے دیا جاسکے ‘ جب ان کی تعداد ٢١۔ ٧٥ تک ہو ‘ تو ان میں جذعہ کی ادائیگی ہوگی ‘ جب ان کی تعداد ٧٦۔ ٩٠ تک ہو ‘ تو ان میں دو بنت لبون کی ادائیگی ہو ‘ جب ان کی تعداد ٩١۔ ٥١٢٠ تک ہو ‘ تو ان میں ایک حقہ کی ادائیگی ہوگی ‘ جنہیں جفتی کے لیے دیا جاسکے ‘ جب ان کی تعداد ١٢٠ سے زیادہ ہوجائے تو ہر چالیس میں ایک بنت لبون کی اور ہر پچاس میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ اگر اونٹوں کی عمر اس سے مختلف ہو جس کی ادائیگی زکوۃ میں لازم ہوتی ہے تو جس شخص نے جذعہ زکوۃ میں اداکرناہو اور اس کے پاس جذعہ نہ ہو ‘ بلکہ حقہ موجود ہو ‘ تو اس سے حقہ وصول کیا جائے اور گا اور اس کے ساتھ دو بکریاں لی جائیں گی ‘ اگر وہ آسانی سے دے سکتا ہے ‘ یا پھر بیس درہم لیے جائیں گے ‘ جس شخص نے حقہ ادا کرنا تھا اور اس کے پاس حقہ نہیں تھا ‘ بلکہ اس کے پاس جذعہ تھا ‘ اس سے جذعہ وصول کیا جائے گا اور زکوۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یادوبکریاں اداکردے گا ‘ جس شخص نے زکوۃ میں حقہ ادا کرنا تھا اور اس کے پاس صرف بنت لبون موجود ہو ‘ تو اس سے بنت لبون وصول کی جائے گی اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں دے گایابیس درہم دے گا ‘ جس شخص نے بنت لبون زکوۃ میں ادا کرنا تھی اور وہ اس کے پاس نہیں تھی ‘ بلکہ اس کے پاس حقہ موجود تھا تو اس سے حقہ کو وصول کرلیا جائے گا ‘ اور زکوۃ وصول کرنے والے شخص سے بیس درہم یادوبکریاں اداکرے گا ‘ جس شخص نے بنت لبون ادا کرنی تھی اور اس کے پاس وہ نہیں ہو اور اس کے پاس بنت مخاض موجود ہو ‘ تو اس سے بنت مخاض قبول کی جائے گی اور اس کے ساتھ اسے بیس درہم دیئے جائیں گے ‘ یادوبکریاں ادا کی جائیں گی ‘ جس شخص نے بنت مخاض ادا کرنا تھی اور اس کے پاس وہ نہ ہو ‘ بلکہ اس کے پاس بنت لبون ہو ‘ تو اسے اس سے لے لیا جائے گا اور صدقہ وصول کرنے والا شخص اسے بیس درہم یادوبکریاں اداکر دے گا ‘ اگر اس شخص کے پاس بنت مخاض نہ ہوبل کہ اس کے پاس ابن لبون مذکرہو ‘ تو اس سے وہی وصول کیا جائے گا اور اس کے ساتھ کوئی چیز نہیں لی جائے گی ‘ جس شخص کے پاس صرف چار اونٹ ہوں اس پر زکوۃ لازم نہیں ہوگی ‘(البتہ اگر ان کا مالک چاہے تو ادائیگی کرسکتا ہے) جب اونٹوں کی تعداد پانچ ہوجائے گی ‘ تو ان پر ایک بکری کی ادائیگی لازم ہوجائے گی ‘ اس طرح بکریوں کے بارے میں حکم یہ ہے جب ان کی تعداد ٤٠۔ ١٢٠ تک ہو ‘ تو ان میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ اگر تعداد ١٢٠ سے زیادہ ہوجائے تو ٢٠٠ تک میں دوبکریوں کی ادائیگی لازم ہوجائے گی ‘ جب تعداد ٢٠٠ سے زیادہ ہوجائے تو ٣٠٠ تک میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ جب تعداد ٣٠٠ سے زیادہ ہوجائے تو ایک سو میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہوجائے گی۔

زکوۃ میں ٹوٹے ہوئے سینگ والی ‘ کانی ‘ لنگڑی بکری قبول نہیں کی جائے گی ‘(البتہ اگر صدقہ وصول کرنے والا چاہے تو ایسے کسی جانور کو قبول کروصول کرسکتا ہے) اور زکوۃ سے بچنے کے لیے الگ ‘ الگ مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور اکٹھے مال کو الگ ‘ الگ نہیں کیا جائے گا ‘ جو چیز دو آدمیوں کی مشترکہ ملکیت ہو ‘ تو ان دونوں سے برابر کی بنیاد پر وصول کی جائے گی۔ اگر کسی شخص کی بکریاں ٤٠ سے ایک بھی کم ہوں تو ان پر زکوۃ کی ادائیگی واجب نہیں ہوگی ‘ البتہ اگر ان کا مالک چاہے تو کوئی ادائیگی کرسکتا ہے۔ غلاموں میں ’ عشر ‘ کے چوتھائی حصے (یعنی اصل قیمت کا اڑھائی فیصد) کی ادائیگی لازم ہوگی۔

اگر کسی شخص کے مال میں صرف ١٩٠ (درہم) ہوں تو ان پر زکوۃ لازم نہیں ہوگی ‘ البتہ اگر ان کا مالک چاہے تو کوئی ادائیگی کرسکتا ہے۔

یوسف نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں حضرت ابوبکرصدیق (رض) نے یہ تحریر انھیں اس وقت لکھ کردی تھی جب انھیں بحرین بھیجا تھا۔ّاس میں یہ الفاظ ہیں )

اللہ تعالیٰ کے نام سے آغاز کرتا ہوں جو رحمن اور رحیم ہے ‘ یہ زکوۃ کی فرضیت (کا حکم نامہ) ہے۔

فضل نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الظاظ نقل کیے ہیں حضرت ابوبکر (رض) کو خلیفہ مقرر کیا گیا ‘ تو انھوں نے حضرت انس بن مالک (رض) کو بحرین بھیجا اور انھیں یہ تحریرلکھ کردی اور اس پر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مہرلگائی ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مہر مبارک پر یہ الفاظ کندہ تھے لفظ محمد ایک سطر میں ‘ لفظ رسول ایک سطر میں اور لفظ اللہ ایک سطر میں ۔

یہ زکوۃ کی فرضیت کا حکم نامہ ہے ‘ جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر فرض قراردیا ہے ‘ جس کے بارے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے۔
1959 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ فِى آخَرِينَ وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ وَالْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِىُّ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ لَمَّا اسْتُخْلِفَ وَجَّهَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ إِلَى الْبَحْرَيْنِ فَكَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِى فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِى أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلاَ يُعْطِهِ فِى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ فَمَا دُونَهَا الْغَنَمُ فَفِيهَا فِى كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاَثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ أُنْثَى فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلاَثِينَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ أُنْثَى فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ إِلَى سِتِّينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ إِلَى تِسْعِينَ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِى كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِى كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَإِنْ تَبَايَنَ أَسْنَانُ الإِبِلِ فِى فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ مَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنْ تَيَسَّرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ الْحِقَّةَ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ حِقَّةٌ وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ الْحِقَّةَ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلاَّ ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ لَبُونٍ وَيُعْطِى مَعَهَا شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ وَيُعْطِى مَعَهَا عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ وَعِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ لَبُونٍ وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ عَلَى وَجْهِهَا وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَىْءٌ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ إِلاَّ أَرْبَعٌ مِنَ الإِبِلِ فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ فَفِيهَا شَاةٌ وَصَدَقَةُ الْغَنَمِ فِى سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِيهَا شَاةٌ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا شَاتَانِ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى مِائَتَيْنِ إِلَى ثَلاَثِمِائَةٍ فَفِيهَا ثَلاَثُ شِيَاهٍ فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلاَثِمِائَةٍ فَفِى كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ وَلاَ يُخْرَجُ فِى الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلاَ ذَاتُ عَوَارٍ وَلاَ تَيْسٌ إِلاَّ مَا شَاءَ الْمُصَدِّقُ وَلاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ وَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً وَاحِدَةً فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا وَفِى الرِّقَةِ رُبُعُ الْعُشُورِ فَإِذَا لَمْ يَكُنْ مَالٌ إِلاَّ تِسْعِينَ وَمِائَةً فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلاَّ أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا. وَقَالَ يُوسُفُ فِى حَدِيثِهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ كَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ. وَقَالَ الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَمَّا اسْتُخْلِفَ وَجَّهَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ إِلَى الْبَحْرَيْنِ وَكَتَبَ لَهُ هَذَا الْكِتَابَ وَخَتَمَهُ بِخَاتَمِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَكَانَ نَقْشُ خَاتَمِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مُحَمَّدٌ سَطْرٌ وَرَسُولُ سَطْرٌ وَاللَّهِ سَطْرٌ هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِى فَرَضَ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِى أَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-
tahqiq

তাহকীক: