সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮২ টি
হাদীস নং: ১৯২০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دو چیزوں کو ملانے کی وضاحت ‘ دوملی ہوئی چیزوں پر زکوۃ لازم ہونے کا حکم
1920 سائب بن یزید بیان کرتے ہیں میں حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کے ساتھ رہاہوں ‘ اس کے بعد انھوں نے کوئی کلام ذکر کیا ‘ پھر انھوں نے یہ بھی بتایا ایک دن انھوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے (زکوۃ کی وصولی یاز کوٰۃ سے بچنے کے لیے) اکٹھے مال کو الگ ‘ الگ نہیں کیا جائے اور الگ ‘ الگ مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور دوحصے داروہ لوگ ہوں گے جو حوض ‘ چرواہے اور (جفتی کے لیے دینے والے جانور کے بارے میں حصے دارہوں گے۔
1920 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ صَحِبْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِى وَقَّاصٍ فَذَكَرَ كَلاَمًا فَقَالَ إِلاَّ أَنِّى سَمِعْتُهُ ذَاتَ يَوْمٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَالْخَلِيطَانِ مَا اجْتَمَعَ عَلَى الْحَوْضِ وَالرَّاعِى وَالْفَحْلِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دو چیزوں کو ملانے کی وضاحت ‘ دوملی ہوئی چیزوں پر زکوۃ لازم ہونے کا حکم
1921 حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے مشیرہ (یعنی وہ گائے چلانے کے لیے استعمال ہوتی ہے) میں زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔
1921 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ الْكُوفِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِى مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى مُوسَى حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَيْسَ فِى الْمُثِيرَةِ صَدَقَةٌ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دو چیزوں کو ملانے کی وضاحت ‘ دوملی ہوئی چیزوں پر زکوۃ لازم ہونے کا حکم
1922 ابن جریج بیان کرتے ہیں میں نے عطاء سے ایسے لوگوں کے بارے میں دریافت کیا جو ایک دوسرے کے حصے دارہوں ‘ ان کی چالیس بکریاں ہوں تو ان سب پر ایک بکری کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ میں نے دریافت کیا اگر ان میں سے ایک شخص کی ٣٩ بکریاں ہوں اور دوسرے شخص کی ایک بکری ہو ؟ تو انھوں نے یہی فرمایا ان دونوں پر ایک بکری کی ادائیگی لازم ہوگی۔
1922 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَأَلْتُ عَطَاءً عَنِ النَّفَرِ الْخُلَطَاءِ لَهُمْ أَرْبَعُونَ شَاةً فَقَالَ عَلَيْهِمْ شَاةٌ. قُلْتُ فَإِنْ كَانَتْ لِوَاحِدٍ تِسْعٌ وَثَلاَثُونَ وَلآخَرَ شَاةٌ. قَالَ عَلَيْهِمَا شَاةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دو چیزوں کو ملانے کی وضاحت ‘ دوملی ہوئی چیزوں پر زکوۃ لازم ہونے کا حکم
1923 حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں ایک شخص حسن بصری کے پاس ایک صحیفہ لے کر آیا جس میں مختلف مسائل تحریر تھے ‘ اس نے ان سے اس صحیفے کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو انھوں نے ان مسائل میں کوئی غلطی نہیں نکالی ‘ البتہ جب یہ مسئلہ آیا کہ چالیس بکریاں دولوگوں کی مشترکہ ملکیت ہوں تو انھوں نے فرمایا ان دونوں پر ایک بکری کی ادائیگی لازم ہوگی۔
1923 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الْحَسَنِ بِصَحِيفَةٍ فِيهَا مَسَائِلُ يَسْأَلُهُ عَنْهَا فَمَا تَتَعْتَعَ فِى شَىْءٍ مِنْهَا حَتَّى أَتَى عَلَى أَرْبَعِينَ شَاةً بَيْنَ نَفْسَيْنِ فَقَالَ « فِيهَا شَاةٌ عَلَيْهِمَا ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دو چیزوں کو ملانے کی وضاحت ‘ دوملی ہوئی چیزوں پر زکوۃ لازم ہونے کا حکم
1924 حضرت سوید بن غفلہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے زکوۃ وصول کرنے والا شخص ہمارے پاس آیا ‘ میں اس کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ راوی بیان کرتے ہیں میں نے اسے یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ مجھے اس بات کا پابند کیا گیا ہے ‘ میں دودھ پلانے والا کوئی جانوروصول نہ کروں اور (زکوۃ کی وصولی کرتے ہوئے) الگ ‘ الگ سال کو اکٹھا نہ کیا جائے اور اکٹھے مال کو الگ ‘ الگ نہ کیا جائے۔ (راوی بیان کرتے ہیں ) اس کے پاس ایک شخص اونچی کوہان والی اونٹنی لے کر آیا اور بولا تم اسے وصول کرلو ‘ اس نے اسے وصول کرنے سے انکار کردیا۔
1924 - حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِى إِسْرَائِيلَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ حَدَّثَنَا هِلاَلُ بْنُ خَبَّابٍ عَنْ مَيْسَرَةَ أَبِى صَالِحٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ أَتَانَا مُصَدِّقُ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِهِ - قَالَ - فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ فِى عَهْدِى أَنْ لاَ آخُذَ مِنْ رَاضِعِ لَبَنٍ شَيْئًا قَالَ وَلاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ. وَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ كَوْمَاءَ فَقَالَ خُذْ هَذِهِ. فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دو چیزوں کو ملانے کی وضاحت ‘ دوملی ہوئی چیزوں پر زکوۃ لازم ہونے کا حکم
1925 حضرت سوید بن غفلہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے زکوۃ وصول کرنے والے ایک شخص ہمارے پاس آیا ‘ میں اس کے پاس بیٹھ گیا ‘ میں نے اس سے دریافت کیا تمہاری تحریر میں کیا لکھا ہے ؟ اس نے بتایا اکٹھے مال کو الگ ‘ الگ نہ کروں اور الگ ‘ الگ مال کو اکٹھا نہ کروں۔ (راوی کہتے ہیں ) پھر ایک شخص اس کے پاس اونچی کوہان والی اونٹنی کر آیا تو اس نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔
1925 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو حُمَيْدٍ الْجَلاَّبُ أَحْمَدُ بْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ هِلاَلِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِى صَالِحٍ مَيْسَرَةَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ أَتَانَا مُصَدِّقُ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَعَدْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ أَيْشٍ فِى كِتَابِكَ فَقَالَ أَنْ لاَ أُفَرِّقَ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَلاَ أَجْمَعَ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ كَوْمَاءَ فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب دو چیزوں کو ملانے کی وضاحت ‘ دوملی ہوئی چیزوں پر زکوۃ لازم ہونے کا حکم
1926 حضرت سوید بن غفلہ (رض) بیان کرتے ہیں ہمارے پاس نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے زکوۃ وصول کرتے ایک شخص آیا۔ راوی بیان کرتے ہیں میں نے اس کی تحریر میں یہ بات پڑھی کہ الگ ‘ الگ مال کو اکٹھا نہ کیا جائے اور اکٹھے الگ الگ ‘ الگ نہ کیا جائے ‘ زکوۃ (ادائیگی یاوصولی) سے بچنے کے لیے۔ راوی بیان کرتے ہیں پھر اس کے بعد اس کے پاس شخص بڑی اونٹنی لے کر آیاجوبہت خوبصورت اور صحت مند تھی ‘ تو اس نے اونٹنی کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔
وہ بولا اگر میں نے ایک مسلمان کے مال میں سے اسے وصول کرلیا “ تو پھر میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں کیا کروں گا۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے ‘ تاہم اس میں کچھ اختلاف ہے۔
وہ بولا اگر میں نے ایک مسلمان کے مال میں سے اسے وصول کرلیا “ تو پھر میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں کیا کروں گا۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے ‘ تاہم اس میں کچھ اختلاف ہے۔
1926 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَالْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِى زُرْعَةَ عَنْ أَبِى لَيْلَى الْكِنْدِىِّ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا مُصَدِّقُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فَقَرَأْتُ فِى كِتَابِهِ لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ قَالَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ عَظِيمَةٍ حَسْنَاءَ مُلَمْلَمَةٍ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا وَقَالَ مَا عُذْرِى عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا أَخَذْتُ هَذِهِ مِنْ مَالِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ. قَالَ يَحْيَى ثُمَّ سَمِعْتُ شَرِيكًا بَعْدُ يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ فَذَكَرْتُهُ لِوَكِيعٍ فَقَالَ إِنَّمَا سَمِعْنَاهُ مِنْهُ عَنْ عُثْمَانَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب جس مال کی زکوۃ اداکردی جائے اسے کنز نہیں کہا جائے گا
1927 عطاء بیان کرتے ہیں سیدہ ام سلمہ (رض) نے سونے کا ہارپہنا ہوا تھا ‘ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں دریافت کیا ‘ انھوں نے دریافت کیا کیا اسے کنزکہا جائے گا ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب تم نے اس کی زکوۃ اداکردی تو یہ کنزشمار نہیں ہوگا۔ اس کا مفہوم ایک ہی ہے۔
1927 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِىُّ الْبَاهِلِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَنْطَاكِىُّ قَاضِى الْمِصِّيصَةِ حَدَّثَنَا أَبُو حُمَيْدٍ الْحِمْصِىُّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الْحِمْصِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ عَنْ ثَابِتٍ يَعْنِى ابْنَ عَجْلاَنَ حَدَّثَنَا عَطَاءٌ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا كَانَتْ تَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ فَسَأَلَتْ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَتْ أَكَنْزٌ هُوَ فَقَالَ « إِذَا أَدَّيْتِ زَكَاتَهُ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب جس مال کی زکوۃ اداکردی جائے اسے کنز نہیں کہا جائے گا
1928 عبداللہ بن شدادبیان کرتے ہیں ہم لوگ سیدہ عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں نے فرمایا ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ہاتھ میں چاندی کے کنگن دیکھے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا اے عائشہ ! یہ کہاں سے آئے ہیں ؟ میں نے عرض کی انھیں میں نے بنایا ہے تاکہ انھیں پہن کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آؤں ‘ یارسول اللہ ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا کیا تم نے ان کی زکوۃ ادا کی ہے ؟ میں نے عرض کیا نہیں ! (یا جو بھی اللہ نے چاہا) تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ تمہارے جہنم (میں عذاب ہونے ) کے لیے کافی ہیں۔
محمد بن عطاء نامی راوی مجہول ہے۔
محمد بن عطاء نامی راوی مجہول ہے۔
1928 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو نَشِيطٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى جَعْفَرٍ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَطَاءٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَرَأَى فِى يَدَىَّ فَتَخَاتٍ مِنْ وَرِقٍ فَقَالَ « مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ ». فَقُلْتُ صَنَعْتُهُنَّ أَتَزَيَّنُ لَكَ فِيهِنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ « أَتُؤَدِّينَ زَكَاتَهُنَّ » فَقُلْتُ لاَ أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ « هُنَّ حَسْبُكِ مِنَ النَّارِ ». مُحَمَّدُ بْنُ عَطَاءٍ هَذَا مَجْهُولٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯২৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب جس مال کی زکوۃ اداکردی جائے اسے کنز نہیں کہا جائے گا
1929 امام شعبی بیان کرتے ہیں میں نے سیدہ فاطمہ بنت قیس (رض) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک زنجیر لے کر آئی جس میں سترمثقال سونا تھا ‘ میں نے عرض کی یارسول اللہ ! آپ اس میں سے زکوۃ وصول کرلیں ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں سے ایک مثقال اور تین چوتھائی مثقال وصول کرلی۔ اس روایت کا ایک راوی ابوبکرہذلی متروک ہے اور اس روایت کو اس کے علاوہ اور کسی نے نقل نہیں کیا۔
1929 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِىُّ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ بْنِ مَسْعَدَةَ الْفَزَارِىُّ حَدَّثَنَا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ عَنْ أَبِى بَكْرٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ عَنِ الشَّعْبِىِّ قَالَ سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ تَقُولُ أَتَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- بِطَوْقٍ فِيهِ سَبْعُونَ مِثْقَالاً مِنْ ذَهَبٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ خُذْ مِنْهُ الْفَرِيضَةَ. فَأَخَذَ مِنْهُ مِثْقَالاً وَثَلاَثَةَ أَرْبَاعِ مِثْقَالٍ. أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِىُّ مَتْرُوكٌ وَلَمْ يَأْتِ بِهِ غَيْرُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب جس مال کی زکوۃ اداکردی جائے اسے کنز نہیں کہا جائے گا
1930 یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں میں نے عرض کی یارسول اللہ ! کیا مال میں زکوۃ کے علاوہ بھی کوئی حق ہوتا ہے ؟ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہاں ! پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی ” اور وہ اپنی ہی پسند کے ساتھ اپنا مال دیتا ہے “۔
1930 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مُزَاحِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِىُّ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ بِهَذَا مِثْلَهُ وَزَادَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِى الْمَالِ حَقٌّ سِوَى الزَّكَاةِ قَالَ « نَعَمْ ». ثُمَّ قَرَأَ ( وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ)
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب جس مال کی زکوۃ اداکردی جائے اسے کنز نہیں کہا جائے گا
1931 سیدہ فاطمہ بنت قیس (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں زیورات میں زکوۃ ہوتی ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بتاتے ہیں زیورات میں زکوۃ نہیں ہوتی۔ اس روایت کا راوی ابوحمزہ اس کا نام میمون ہے اور یہ ضعیف الحدیث ہے۔
حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بتاتے ہیں زیورات میں زکوۃ نہیں ہوتی۔ اس روایت کا راوی ابوحمزہ اس کا نام میمون ہے اور یہ ضعیف الحدیث ہے۔
1931 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْخُتُّلِىُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ غَالِبٍ الزَّعْفَرَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ صَالِحِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِى حَمْزَةَ مَيْمُونٍ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « فِى الْحُلِىِّ زَكَاةٌ ».وَعَنْ أَبِى حَمْزَةَ عَنِ الشَّعْبِىِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَيْسَ فِى الْحُلِىِّ زَكَاةٌ. أَبُو حَمْزَةَ هَذَا مَيْمُونٌ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب جس مال کی زکوۃ اداکردی جائے اسے کنز نہیں کہا جائے گا
1932 سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں زیورات پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے جب ان کی زکوۃ اداکردی جائے۔ عمروبن شعیب اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں انھوں نے اپنے منشی سالم کو یہ خط لکھا کہ ان کی صاحبزادیوں کے زیورات کی ہر سال زکوۃ اداکردیاکریں۔
1932 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لاَ بَأْسَ بِلُبْسِ الْحُلِىِّ إِذَا أَعْطَى زَكَاتَهُ. وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ إِلَى خَازِنِهِ سَالِمٍ أَنْ يُخْرِجَ زَكَاةَ حُلِىِّ بَنَاتِهِ كُلَّ سَنَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب جس مال کی زکوۃ اداکردی جائے اسے کنز نہیں کہا جائے گا
1933 حضرت عبداللہ (بن مسعود) (رض) بیان کرتے ہیں ایک خاتون نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی ‘ نے عرض کی میرے پاس کچھ زیورات ہیں اور میرے شوہرغریب آدمی ہیں ‘ میرے کچھ بھتیجے بھی ہیں ‘ تو کیا میرے لیے یہ بات جائز ہوگی کہ میں ان زیورات کی زکوۃ ان لوگوں پر خرچ کردوں ؟ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جی ہاں ! یہ روایت وہم ہے ‘ درست یہ ہے یہ روایت ابراہیم کے حوالے سے ‘ حضرت عبداللہ سے مرسل اور موقوف روایت پر منقول ہے۔
1933 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ الرَّازِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الأَزْهَرِ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَتْ إِنَّ لِى حُلِيًّا وَإِنَّ زَوْجِى خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ وَإِنَّ لِى بَنِى أَخٍ أَفَيَجْزِى عَنِّى أَنْ أَجْعَلَ زَكَاةَ الْحُلِىِّ فِيهِمْ قَالَ « نَعَمْ ». هَذَا وَهَمٌ وَالصَّوَابُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مُرْسَلٌ مَوْقُوفٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب جس مال کی زکوۃ اداکردی جائے اسے کنز نہیں کہا جائے گا
1934 علقمہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی اہلیہ نے ان سے اپنے زیورات کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو انھوں نے فرمایا جب وہ دو سو (درہم جتنے قیمتی) ہوں تو ان میں زکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی۔ اس خاتون نے کہا میرے بھتیجے میرے زیر پرورش ہیں ‘ کیا میں اسے ان پر خرچ کردوں ؟ تو حضرت عبداللہ نے جواب دیا جی ہاں ! یہ روایت ” موقوف “ ہے۔
1934 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِى مَرْيَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّ امْرَأَةَ ابْنِ مَسْعُودٍ سَأَلَتْهُ عَنْ حُلِىٍّ لَهَا قَالَ « إِذَا بَلَغَ مِائَتَيْنِ فَفِيهِ الزَّكَاةُ » . قَالَتْ إِنَّ فِى حَجْرِى بَنِى أَخٍ لِى أَفَأَضَعُهُ فِيهِمْ قَالَ « نَعَمْ ». مَوْقُوفٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب مکاتب غلام جب تک آزاد نہ ہوجائے ‘ اس کے مال میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی
1935 حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے مکاتب غلام کے مال میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی جب تک وہ آزادنہ ہوجائے۔
1935 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْبَاقِى بْنُ قَانِعٍ وَعَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِىٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الصَّوَّافُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلاَنَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَزِيعٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَيْسَ فِى مَالِ الْمُكَاتَبِ زَكَاةٌ حَتَّى يَعْتِقَ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب مکاتب غلام جب تک آزاد نہ ہوجائے ‘ اس کے مال میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی
1936 عمروبن شعیب اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے داداکایہ بیان نقل کرتے ہیں یمن سے تعلق رکھنے والی دوخواتین نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں ‘ انھوں نے سونے کنگن پہنے ہوئے تھے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں سے دریافت کیا کیا تم دونوں اس بات کو پسند کروگی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے ؟ انھوں نے جواب دیا جی نہیں ! نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا پھر تم دونوں اس کا حق اداکرو۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ان دونوں نے سونے کے کنگن پہنے ہوئے تھے ‘ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں (نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ) پھر تم دونوں اس کا حق اداکروجوتم پر لازم ہے۔ (راوی کہتے ہیں ) اس سے مراد زکوۃ تھی۔ اس روایت کا راوی حجاج ‘ یہ حجاج بن ارطاء ہے اور یہ مستند نہیں ہے۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ان دونوں نے سونے کے کنگن پہنے ہوئے تھے ‘ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں (نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ) پھر تم دونوں اس کا حق اداکروجوتم پر لازم ہے۔ (راوی کہتے ہیں ) اس سے مراد زکوۃ تھی۔ اس روایت کا راوی حجاج ‘ یہ حجاج بن ارطاء ہے اور یہ مستند نہیں ہے۔
1936 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَحَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ الْكُرْدِىِّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَعَلَيْهِمَا أَسْوِرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَيَسُرُّكُمَا أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ بِأَسْوِرَةٍ مِنْ نَارٍ ». قَالاَ لاَ. قَالَ « فَأَدِّيَا حَقَّ هَذَا ». وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ عَلَيْهِمَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَقَالَ أَيْضًا « فَأَدِّيَا حَقَّ هَذَا عَلَيْكُمَا ». يَعْنِى الزَّكَاةَ. حَجَّاجٌ هُوَ ابْنُ أَرْطَاةَ لاَ يُحْتَجُّ بِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب مکاتب غلام جب تک آزاد نہ ہوجائے ‘ اس کے مال میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی
1937 حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا میری بیوی کے بیس مثقال کے زیورات ہیں ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم ان کی نصف مثقال زکوۃ اداکرو۔
اس روایت کا ایک راوی یحییٰ بن ابوانیسہ متروک ہے ‘ اور یہ روایت وہم ہے ‘ درست یہ ہے یہ روایت مرسل ہے اور موقوف ہے۔
اس روایت کا ایک راوی یحییٰ بن ابوانیسہ متروک ہے ‘ اور یہ روایت وہم ہے ‘ درست یہ ہے یہ روایت مرسل ہے اور موقوف ہے۔
1937 - وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الصَّوَّافُ حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ ثَابِتٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى أُنَيْسَةَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- إِنَّ لاِمْرَأَتِى حُلِيًّا مِنْ عِشْرِينَ مِثْقَالاً. قَالَ « فَأَدِّ زَكَاتَهُ نِصْفَ مِثْقَالٍ ».
يَحْيَى بْنُ أَبِى أُنَيْسَةَ مَتْرُوكٌ وَهَذَا وَهَمٌ وَالصَّوَابُ مُرْسَلٌ مَوْقُوفٌ.
يَحْيَى بْنُ أَبِى أُنَيْسَةَ مَتْرُوكٌ وَهَذَا وَهَمٌ وَالصَّوَابُ مُرْسَلٌ مَوْقُوفٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب مکاتب غلام جب تک آزاد نہ ہوجائے ‘ اس کے مال میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی
1938 ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی اہلیہ نے ان سے اپنے ایک ہار کے بارے میں دریافت کیا جو بیس مثقال کا تھا اور سونے سے بنا ہوا تھا ‘ اس خاتون نے دریافت کیا کیا میں اس کی زکوۃ اداکروں گی ؟ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے جواب دیا جی ہاں ! اس خاتون نے دریافت کیا کتنی ؟ تو حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے جواب دیا پانچ درہم ‘ اس خاتون نے دریافت کیا کیا میں یہ فلاں شخص کو اداکردوں ‘ اس خاتون نے اپنے بھتیجے کے بارے میں دریافت کیا جو یتیم تھا اور اس خاتون کے زیر پرورش تھا ‘ تو حضرت عبداللہ نے فرمایا اگر تم چاہوتو ایسا کرسکتی ہو۔
1938 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ أَبِى مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ امْرَأَةَ ابْنِ مَسْعُودٍ سَأَلَتْهُ عَنْ طَوْقٍ لَهَا فِيهِ عِشْرُونَ مِثْقَالاً مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَتْ أُزَكِّيهِ قَالَ نَعَمْ قَالَتْ كَمْ قَالَ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ قَالَتْ أُعْطِيهَا فَلاَنًا ابْنُ أَخٍ لَهَا يَتِيمٌ فِى حَجْرِهَا. قَالَ نَعَمْ إِنْ شِئْتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৩৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب مکاتب غلام جب تک آزاد نہ ہوجائے ‘ اس کے مال میں زکوۃ واجب نہیں ہوتی
1939 ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی اہلیہ کے زیورات تھے ‘ اس خاتون نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے دریافت کیا کیا میں اس کی زکوۃ اداکروں گی ؟ انھوں نے جواب دیا جی ہاں ! اس خاتون نے دریافت کیا کیا میں اپنے یتیم بھتیجے کو یہ دے دوں ؟ انھوں نے فرمایا جی ہاں !
1939 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِىُّ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ كَانَ لاِمْرَأَةِ ابْنِ مَسْعُودٍ حُلِىٌّ فَقَالَتْ لاِبْنِ مَسْعُودٍ أُعْطِى زَكَاتَهُ قَالَ نَعَمْ. قَالَتْ أُعْطِى ابْنَ أَخِى يَتِيمًا قَالَ نَعَمْ.
তাহকীক: