সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮২ টি
হাদীস নং: ১৯০০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1900 حضرت ابوسعید خدری (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کھیت (یعنی زرعی پیداوار) میں سے زکوۃ وصول نہ کی جائے ‘ جب تک اس کی پیداوار پانچ وسق نہ ہوجائے۔
1900 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ حَدَّثَنَا جَدِّى حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَمْعَانَ أَخْبَرَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ تُؤْخَذُ الصَّدَقَةُ مِنَ الْحَرْثِ حَتَّى يَبْلُغَ حَصَادُهُ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯০১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1901 حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے میں نے تمہیں تمہارے (غلاموں ‘ کنیزوں) اور گھوڑوں کی زکوۃ معاف کردی ہے ‘ البتہ تم اپنی چاندی ‘ زرعی پیداوار اور جانوروں کی زکوۃ لے کر آؤ۔
1901 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ حَدَّثَنَا السَّيِّدُ بْنُ عِيسَى عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِىٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « قَدْ عَفَوْتُ لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ أَرِقَّائِكُمْ وَخَيْلِكُمْ وَلَكِنْ هَاتُوا صَدَقَةَ أَوْرَاقِكُمْ وَحَرْثِكُمْ وَمَاشِيَتِكُمْ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯০২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1902 حضرت ابوسعید خدری (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک مرفوع حدیث کے طورپر یہ بات نقل کرتے ہیں پانچ وسق سے کم میں زکوۃ لازم نہیں ہوگی اور ایک وسق ساٹھ مختوم کے برابر ہوتا ہے۔
1902 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الأَدَمِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ح وَحَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ السَّرِىِّ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِدْرِيسُ الأَوْدِىُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِى الْبَخْتَرِىِّ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ زَكَاةٌ وَالْوَسْقُ سِتُّونَ مَخْتُومًا ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯০৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1903 حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے پانچ وسق سے کم میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی اور ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔
1903 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِسْحَاقَ الرَّاشِدِىُّ حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ عَنْ إِدْرِيسَ الأَوْدِىِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِى الْبَخْتَرِىِّ عَنْ أَبِى سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ ». وَالْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯০৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1904 طاؤس بیان کرتے ہیں حضرت معاذ (رض) کی خدمت میں گائے کا بچہ لایا گیا ‘ تو انھوں نے فرمایا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں ان کی تعداد ٣٠ سے کم تھی۔
1904 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا الْيَسَعُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ طَاوُسٍ قَالَ أُتِىَ مُعَاذٌ فِى وَقَصِ الْبَقَرِ فَقَالَ لَمْ يَأْمُرْنِى النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فِيهَا بِشَىْءٍ . قَالَ وَهِىَ مَا دُونَ الثَّلاَثِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯০৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1905 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ (رض) کو یمن بھیجا تو انھیں یہ حکم دیا کہ وہ ہر تیس گائے میں سے ایک تبیع یا ایک تبیعہ ‘ ایک جذع یا ایک جذعہ وصول کریں اور ہر چالیس گائے میں سے ایک مسنہ وصول کریں ‘ لوگوں نے دریافت کیا گائے کے بچوں کا کیا حکم ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا مجھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بارے میں کوئی حکم نہیں دیا ‘ جب میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جاؤں گا ‘ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں دریافت کرلوں گا ‘ پھر جب حضرت معاذ (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گائے کے بچھڑے کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہوگی۔
مسعودی نامی راوی بیان کرتے ہیں اوق اس (سے مراد یہ ہے ) جب ان کی تعدادتیس سے کم ہو ‘ جب گائے کی تعداد چالیس سے ساٹھ تک ہو ‘ تو اس میں دو تبیعہ کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ جب وہ ستر ہوجائیں گی ‘ تو ایک مسنہ کی ادائیگی اور ایک تبیع کی ادائیگی لازم ہوگی جب وہ اسی ہوجائیں گی ‘ تو اس میں دومسنہ کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ جب وہ نوے ہوجائیں گی ‘ تو تین تبیع کی ادائیگی لازم ہوگی۔
مسعودی فرماتے ہیں لفظ اوق اس ’ س ‘ کے ساتھ لکھاجاتا ہے ‘ تم اسے ” ص “ کے ساتھ نہ لکھو۔
مسعودی نامی راوی بیان کرتے ہیں اوق اس (سے مراد یہ ہے ) جب ان کی تعدادتیس سے کم ہو ‘ جب گائے کی تعداد چالیس سے ساٹھ تک ہو ‘ تو اس میں دو تبیعہ کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ جب وہ ستر ہوجائیں گی ‘ تو ایک مسنہ کی ادائیگی اور ایک تبیع کی ادائیگی لازم ہوگی جب وہ اسی ہوجائیں گی ‘ تو اس میں دومسنہ کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ جب وہ نوے ہوجائیں گی ‘ تو تین تبیع کی ادائیگی لازم ہوگی۔
مسعودی فرماتے ہیں لفظ اوق اس ’ س ‘ کے ساتھ لکھاجاتا ہے ‘ تم اسے ” ص “ کے ساتھ نہ لکھو۔
1905 - حَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِىُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنِى الْمَسْعُودِىُّ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلاَثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً جَذَعًا أَوْ جَذَعَةً وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً بَقَرَةً مُسِنَّةً. فَقَالُوا فَالأَوْقَاصُ قَالَ مَا أَمَرَنِى فِيهَا بِشَىْءٍ وَسَأَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سَأَلَهُ عَنِ الأَوْقَاصِ فَقَالَ « لَيْسَ فِيهَا شَىْءٌ ». قَالَ الْمَسْعُودِىُّ وَالأَوْقَاصُ مَا دُونَ الثَّلاَثِينَ وَمَا بَيْنَ الأَرْبَعِينَ إِلَى السِّتِّينَ فَإِذَا كَانَتْ سِتُّونَ فَفِيهَا تَبِيعَانِ فَإِذَا كَانَتْ سَبْعُونَ فَفِيهَا مُسِنَّةٌ وَتَبِيعٌ فَإِذَا كَانَتْ ثَمَانُونَ فَفِيهَا مُسِنَّتَانِ فَإِذَا كَانَتْ تِسْعُونَ فَفِيهَا ثَلاَثُ تَبَابِيعَ قَالَ بَقِيَّةُ قَالَ الْمَسْعُودِىُّ الأَوْقَاصُ هِىَ بِالسِّينِ الأَوْقَاسُ فَلاَ تَجْعَلْهَا بِصَادٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯০৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1906 حضرت معاذبن جبل (رض) بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں یمن بھیجا تو ارشاد فرمایا تم اناج (زکوۃ میں) اناج وصول کرنا ‘ بکریوں کی زکوۃ میں بکری وصول کرنا ‘ اونٹوں کی زکوۃ میں اونٹ وصول کرنا اور گائے کی زکوۃ میں گائے وصول کرنا۔
1906 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِى سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَرَوِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى نَمِرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ « خُذِ الْحَبَّ مِنَ الْحَبِّ وَالشَّاةَ مِنَ الْغَنَمِ وَالْبَعِيرَ مِنَ الإِبِلِ وَالْبَقَرَةَ مِنَ الْبَقَرِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯০৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1907 حضرت معاذبن جبل (رض) نے اہل یمن سے یہ کہا تھا تم میرے پاس خمیس یالبیس لے کر آؤ ‘ میں تم سے زکوۃ وصول کروں گا ‘ یہ تمہارے لیے آسان بھی ہوگا اور مدینہ منورہ میں رہنے والے مہاجرین کے لیے پس یہی زیادہ بہت رہے۔
عمرونامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں تم میرے پاس چوڑے کپڑے لے کر آؤ۔
یہ روایت مرسل ہے کیونکہ طاؤس نامی راوی نے حضرت معاذ (رض) کا زمانہ نہیں پایا ہے۔
عمرونامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں تم میرے پاس چوڑے کپڑے لے کر آؤ۔
یہ روایت مرسل ہے کیونکہ طاؤس نامی راوی نے حضرت معاذ (رض) کا زمانہ نہیں پایا ہے۔
1907 - حَدَّثَنَا أَبُو رَوْقٍ الْهِزَّانِىُّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ بِالْبَصْرَةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رَوْحٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لأَهْلِ الْيَمَنِ ائْتُونِى بِخَمِيسٍ أَوْ لَبِيسٍ آخُذُ مِنْكُمْ فِى الصَّدَقَةِ فَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ وَخَيْرٌ لِلْمُهَاجِرِينَ بِالْمَدِينَةِ . قَالَ عَمْرٌو ائْتُونِى بِعَرْضِ ثِيَابٍ. هَذَا مُرْسَلٌ. طَاوُسٌ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯০৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1908 حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں مقاثی ان چیزوں میں نہیں تھے جنہیں حضرت معاذ (رض) لے کر آئے تھے ‘ حضرت معاذ (رض) نے گندم ‘ جو ‘ کھجوروں اور کشمش میں زکوۃ وصول کی تھی ‘ مقاثی میں کوئی چیز وصول نہیں کی تھی ‘ ہمارے پاس مقثات (زرعی زمین) تھی جس سے دس ہزار کی پیداوار ہوتی تھی ‘ لیکن اس میں کوئی چیز (یعنی زکوۃ ) لازم نہیں ہوئی۔
1908 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَاجِيَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَرْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ عَدِىِّ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ لَمْ تَكُنِ الْمَقَاثِى فِيمَا جَاءَ بِهِ مُعَاذٌ إِنَّمَا أَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنَ الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَلَيْسَ فِى الْمَقَاثِى شَىْءٌ وَقَدْ كَانَتْ تَكُونُ عِنْدَنَا الْمَقْثَأَةُ تُخْرِجُ عَشْرَةَ آلاَفٍ فَلاَ يَكُونُ فِيهَا شَىْءٌ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯০৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1909 مالک بن اوس بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عثمان غنی (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ‘ اسی دوران حضرت ابوذرغفاری (رض) ان کے پاس آئے اور انھیں سلام کیا ‘ حضرت عثمان (رض) نے ان سے دریافت کیا اے حضرت ابوذرہ آپ کا کیا حال ہے ؟ انھوں نے جواب دیا ٹھیک ہوں ‘ پھر وہ ایک ستون کے پاس جاکرکھڑے ہوگئے ‘ لوگ بھی اٹھ کر ان کی طرف گئے اور انھیں گھیرلیا ‘ میں بھی انھیں گھیرنے والوں میں شامل تھا ‘ لوگوں نے کہا اے ابوذر ! آپ ہمیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے کوئی حدیث سنائیں تو انھوں نے بتایا میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے اونٹوں میں زکوۃ لازم ہوتی ہے ‘ بکریوں میں زکوۃ لازم ہوتی ہے ‘ گائے میں زکوۃ لازم ہوتی ہے اور کتان (ریشم) میں زکوۃ لازم ہوتی ہے۔
راوی کہتے ہیں انھوں نے یہ لفظ ” ز “ کے ساتھ ذکر کیا۔
راوی کہتے ہیں انھوں نے یہ لفظ ” ز “ کے ساتھ ذکر کیا۔
1909 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ حَدَّثَنِى عِمْرَانُ بْنُ أَبِى أَنَسٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ عُثْمَانَ جَاءَهُ أَبُو ذَرٍّ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ كَيْفَ أَنْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ قَالَ بِخَيْرٍ. ثُمَّ قَامَ إِلَى سَارِيَةٍ فَقَامَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَاحْتَوَشُوهُ فَكُنْتُ فِيمَنِ احْتَوَشَهُ فَقَالُوا يَا أَبَا ذَرٍّ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « فِى الإِبِلِ صَدَقَتُهَا وَفِى الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا وَفِى الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا وَفِى الْبَزِّ صَدَقَتُهُ ». قَالَهَا بِالزَّاىِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1910 مالک بن عوف بیان کرتے ہیں حضرت ابوذرغفاری (رض) نے یہ بات نقل کی کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے اونٹوں میں زکوۃ لازم ہوتی ہے ‘ بکریوں میں زکوۃ لازم ہوتی ہے ‘ گائے میں زکوۃ لازم ہوتی ہے اور بز (ریشم) زکوۃ جزم ہوتی ہے ‘ جو شخص دینار ‘ درہم ‘ سونے کا ٹکڑا ‘ چاندی اکٹھی کرے گا جسے اس نے فرض کی ادائیگی کے لیے نہیں رکھا ‘ یا اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے نہیں رکھا تو یہ خزانہ شمار ہوگا جس کے ذریعے قیامت کے دن اسے داغ لگایا جائے گا۔
1910 - حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا مُوسَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِى أَنَسٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ عَنْ أَبِى ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « فِى الإِبِلِ صَدَقَتُهَا وَفِى الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا وَفِى الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا وَفِى الْبَزِّ صَدَقَتُهُ وَمَنْ دَفَعَ دَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ أَوْ تِبْرًا أَوْ فِضَّةً لاَ يَعُدُّهَا لِغَرِيمٍ وَلاَ يُنْفِقُهَا فِى سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ كَنْزٌ يُكْوَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ». كَتَبَهُ مِنَ الأَصْلِ الْعَتِيقِ وَفِى الْبَزِّ مُقَيَّدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1911 مالک بن اوس ‘ حضرت ابوذرغفاری (رض) کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے اونٹوں میں زکوۃ ہوتی ہے ‘ بکریوں میں زکوۃ ہوتی ہے ‘ گائے میں زکوۃ ہوئی ہے اور بھیڑوں میں زکوۃ ہوتی ہے۔
1911 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ الرَّقِّىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِى أَنَسٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ عَنْ أَبِى ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فِى الإِبِلِ صَدَقَتُهَا وَفِى الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا وَفِى الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا وَفِى الْبَزِّ صَدَقَتُهُ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1912 حضرت معاذبن جبل (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں یمن بھیجا تو انھیں ہدایت کی کہ وہ ہر تیس اونٹ میں سے ایک تبیع یا ایک تبیعہ وصول کریں اور ہر چالیس گائے میں سے ایک مسنہ وصول کریں اور ہر بالغ شخص سے ایک دیناریا اس کے برابر ” معافر “ وصول کریں۔
1912 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الأَعْمَشِ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ وَالثَّوْرِىُّ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ بَعَثَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى الْيَمَنِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلاَثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1913 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ‘ تاہم اس کے ایک لفظ کے بارے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے۔
1913 - حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ الْحَضْرَمِىُّ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ وَسُفْيَانَ الثَّوْرِىِّ عَنِ الأَعْمَشِ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. وَقَالَ فِيهِ قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِىُّ حَالِمٌ. وَقَالَ مَعْمَرٌ حَالِمَةٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1914 حضرت معاذ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں یمن بھیجا تو انھیں یہ ہدایت کی کہ وہ ہر تیس گائے میں سے ایک تبیع یا ایک تبیعہ اور ہر چالیس گائے میں سے ایک مسنہ وصول کریں اور ہر بالغ شخص سے ایک دیناریا اس کے براء ” معافر “ وصول کریں۔
1914 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى الْيَمَنِ أَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلاَثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً وَمِنْ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب گھریلواستعمال کے جانوروں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1915 عمروبن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے داداکایہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا گھریلواستعمال کے اونٹوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی۔
1915 - حَدَّثَنِى أَبِى حَدَّثَنِى أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الصُّوفِىُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الْمُؤَدِّبُ الْمَرْوَزِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْزَةَ الرَّقِّىُّ عَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَيْسَ فِى الإِبِلِ الْعَوَامِلِ صَدَقَةٌ ». كَذَا قَالَ غَالِبٌ الْقَطَّانُ وَهُوَ عِنْدِى غَالِبُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب گھریلواستعمال کے جانوروں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1916 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ارشاد فرمایا ہے گھریلواستعمال کی گائے میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی تاہم ہر تیس گائے میں ایک تبیع اور چالیس گائے میں ایک مسنہ کی ادائیگی لازم ہوتی ہے۔
1916 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَمْعَانَ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِىُّ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِىُّ حَدَّثَنَا سَوَّارٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ وَطَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَيْسَ فِى الْبَقَرِ الْعَوَامِلِ صَدَقَةٌ وَلَكِنْ فِى كُلِّ ثَلاَثِينَ تَبِيعٌ وَفِى كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنٌّ أَوْ مُسِنَّةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب گھریلواستعمال کے جانوروں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1917 حضرت علی (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں گھریلواستعمال کی گائے میں کوئی چیزلازم نہیں ہوتی۔ ایک دوسری روایت میں الفاظ کچھ مختلف ہیں۔
1917 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِى حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ وَعَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِىٍّ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَيْسَ فِى الْبَقَرِ الْعَوَامِلِ شَىْءٌ ». وَفِى حَدِيثِ الْحَارِثِ « لَيْسَ عَلَى الْبَقَرِ الْعَوَامِلِ شَىْءٌ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب گھریلواستعمال کے جانوروں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1918 حضرت علی (رض) ارشاد فرماتے ہیں گھریلواستعمال کی گائے میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی۔
1918 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَنْجِىٍّ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِى زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ عَنْ عَلِىٍّ قَالَ « لَيْسَ فِى الْبَقَرِ الْعَوَامِلِ صَدَقَةٌ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯১৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب گھریلواستعمال کے جانوروں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1919 حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں جس گائے کو کھیتی باڑی میں استعمال کیا جاتا ہو ‘ اس میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی۔
1919 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لاَ يُؤْخَذُ مِنَ الْبَقَرِ الَّتِى يُحْرَثُ عَلَيْهَا مِنَ الزَّكَاةِ شَىْءٌ.
তাহকীক: