সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)

سنن الدار قطني

زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৮২ টি

হাদীস নং: ১৮৮০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب (سونے یا چاندی کے) ٹکڑے میں کوئی چیزلازم نہیں ہوگی
1880 حضرت معاذ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں جب یمن بھیجا تو انھیں یہ ہدایت کی کہ وہ (سونے یا چاندی کے کسی) ٹکڑے میں سے کچھ بھی وصول نہ کریں ‘ جب چاندی دوسودرہم جتنی ہوجائے تو اس میں سے پانچ درہم وصول کرلینا ‘ اس سے زیادہ میں اس وقت تک کچھ مزید وصولی نہ کرنا جب تک وہ چالیس درہم نہ ہوجائے ‘ جب وہ چالیس درہم جائے تو پھر اس میں سے ایک درہم وصول کرنا (یعنی ہر چالیس کے حساب سے ایک وصول کرنا) ۔

اس روایت کا ایک راوی ہمنہال بن جراح متروک الحدیث ہے ‘ اس کی کنیت ابوعطوف ہے جبکہ اس کا نام جراح بن منہال ہے ‘ ابن اسحق نامی راوی نے اس کے نام کو الٹ نقل کردیا ہے ‘ اس روایت کے دوسرے راوی عبادہ بن نسی نے حضرت معاذ سے احادیث کا سماع نہیں کیا۔
1880 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ الإِصْطَخْرِىُّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَقِيهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ الْجَرَّاحِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ نَجِيحٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَىٍّ عَنْ مُعَاذٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَمَرَهُ حِينَ وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ أَنْ لاَ تَأْخُذَ مِنَ الْكَسْرِ شَيْئًا إِذَا كَانَتِ الْوَرِقُ مِائَتَىْ دِرْهَمٍ فَخُذْ مِنْهَا خَمْسَةَ الدَّرَاهِمِ وَلاَ تَأْخُذْ مِمَّا زَادَ شَيْئًا حَتَّى يَبْلُغَ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا فَخُذْ مِنْهَا دِرْهَمًا. الْمِنْهَالُ بْنُ الْجَرَّاحِ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ وَهُوَ أَبُو الْعَطُوفِ وَاسْمُهُ الْجَرَّاحُ بْنُ الْمِنْهَالِ وَكَانَ ابْنُ إِسْحَاقَ يَقْلِبُ اسْمَهُ إِذَا رَوَى عَنْهُ وَعُبَادَةُ بْنُ نُسَىٍّ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب (سونے یا چاندی کے) ٹکڑے میں کوئی چیزلازم نہیں ہوگی
1881 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ (رض) کو یمن بھیجا تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ کو کس بات کا حکم دیا گیا ہے ؟ انھوں نے فرمایا مجھے یہ حکم دیا گیا ہے ‘ میں ہر تیس گائے میں سے ایک تبیع تبیعہ اور ہر چالیس گائے میں سے ایک مسنہ وصول کروں۔

ان سے پوچھا گیا کیا آپ کو اوقاص کے بارے میں بھی کوئی حکم دیا گیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا نہیں ! میں اس بارے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کروں گا جب انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا ‘ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں ! (یعنی اس میں کوئی ادائیگی لازم نہیں ہوگی) ۔

راوی بیان کرتے ہیں؛اس سے مراد وہ جانور ہے جو دوبرسوں کے درمیان میں ہو اور الفاظ سے مراد یہ ہے اس میں سے کوئی چیزوصول نہیں کی جائے گی۔
1881 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِى حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ عَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قِيلَ لَهُ بِمَا أُمِرْتَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ آخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلاَثِينَ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً وَمِنْ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً. قِيلَ لَهُ أُمِرْتَ فِى الأَوْقَاصِ بِشَىْءٍ قَالَ لاَ وَسَأَسْأَلُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَسَأَلَهُ فَقَالَ « لاَ وَهُوَ مَا بَيْنَ السِّنَّيْنِ ». يَعْنِى لاَ تَأْخُذْ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب کتنے اناج میں زکوۃ لازم ہوتی ہے
1882 عمروبن شعیب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمرو سے جواہر ‘ موتیوں قیمتی پتھروں ‘ چھوٹے موتیوں (یاحبشی موتیوں) کے بارے میں اور زمین میں اگنے والے نباتات جیسے جواہرات موتی ‘ نگینہ ‘ ریشم ‘ زمین میں سے اگنے والی سبزی ‘ ترکاری ککڑی وغیرہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انھوں نے فرمایا کسی بھی پتھر میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی اور سبزیوں میں بھی زکوۃ لازم نہیں ہوتی ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف گندم ‘ جو ‘ کھجور اور انگور میں (عشر کی) ادائیگی فرض کی ہے۔
1882 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ عَطَّافٍ حَدَّثَنَا الْعَرْزَمِىُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنِ الْجَوْهَرِ وَالدُّرِّ وَالْفُصُوصِ وَالْخَرَزِ وَعَنْ نَبَاتِ الأَرْضِ الْبَقْلِ وَالْقِثَّاءِ وَالْخِيَارِ فَقَالَ لَيْسَ فِى الْحَجَرِ زَكَاةٌ وَلَيْسَ فِى الْبُقُولِ زَكَاةٌ إِنَّمَا سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب کتنے اناج میں زکوۃ لازم ہوتی ہے
1883 حضرت جابربن عبداللہ (رض) اور حضرت ابوسعید خدری (رض) یہ دونوں بیان کرتے ہیں زراعت ‘ کھجور اور کھجور کے درخت میں زکوۃ کی ادائیگی اس وقت تک لازم نہیں ہوتی جب تک وہ پانچ وسق نہ ہوجائے۔
1883 - أَخْبَرَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ قِرَاءَةً عَلَيْهِ أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَمْرٍو الْمُسَيِّبِىَّ حَدَّثَهُمْ فِى سَنَةِ سِتٍّ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِىُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبِى سَعِيدٍ الْخُدْرِىِّ قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ صَدَقَةَ فِى الزَّرْعِ وَلاَ فِى الْكَرْمِ وَلاَ فِى النَّخْلِ إِلاَّ مَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1884 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) ‘ حضرت علی بن ابوطالب (رض) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوگی ‘” عرایا “ میں زکوۃ لازم نہیں ہوگی ‘ پانچ وسق سے کم (اناج) میں زکوۃ لازم نہیں ہوگی ‘ عوامل میں زکوۃ لازم نہیں ہوگی اور پیشانی میں زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔

صقر بن حبیب نامی راوی بیان کرتے ہیں پیشانی سے مراد گھوڑا ‘ خچر اور غلام ہے۔
1884 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ النَّحْوِىُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَصْرِىُّ حَدَّثَنَا الصَّقْرُ بْنُ حَبِيبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِىَّ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَلِىِّ بْنِ أَبِى طَالِبٍ رضى الله عنه أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَيْسَ فِى الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ وَلاَ فِى الْعَرَايَا صَدَقَةٌ وَلاَ فِى أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ وَلاَ فِى الْعَوَامِلِ صَدَقَةٌ وَلاَ فِى الْجَبْهَةِ صَدَقَةٌ ». قَالَ الْصَقْرُ الْجَبْهَةُ الْخَيْلُ وَالْبِغَالُ وَالْعَبِيدُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1885 سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) ‘ بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے زمین سے جو سبزیاں اگتی ہیں ‘ ان میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی۔
1885 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ وَهْبٍ الْبُنْدَارُ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِىُّ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَيْسَ فِيمَا أَنْبَتَتِ الأَرْضُ مِنَ الْخُضَرِ زَكَاةٌ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1886 حضرت محمد بن عبداللہ (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاز بن جبل (رض) کو جب یمن بھیجا تھا تو انھیں یہ ہدایت دی تھی کہ وہ ہر چالیس دینار میں سے ایک دیناروصول کریں ‘ ہر دوسودرہم میں سے پانچ درہم وصول کریں اور پانچ وسق سے کم میں زکوۃ لازم نہیں ہوگی ‘ پانچ اونٹوں سے کم میں زکوۃ لازم نہیں ہوگی اور سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔
1886 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنِى عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِى حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى يَحْيَى عَنْ أَبِى كَثِيرٍ مَوْلَى ابْنِ جَحْشٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ أَمَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ دِينَارًا دِينَارًا وَمِنْ كُلِّ مِائَتَىْ دِرْهَمٍ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ وَلاَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ وَلَيْسَ فِى الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1887 موسیٰ بن طلحہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔
1887 - حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِىُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو عَنِ الْحَارِثِ بْنِ نَبْهَانَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَيْسَ فِى الْخَضْرَاوَاتِ زَكَاةٌ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1888 موسیٰ بن طلحہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ارشاد فرمایا ہے سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔
1888 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَرَّاحِ الضَّرَّابُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّوْرَقِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَيْسَ فِى الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৮৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1889 موسیٰ بن طلحہ ‘ حضرت انس بن مالک (رض) سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے سبزیو میں زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔

اس روایت کا راوی مروان سنجاری ضعیف ہے۔
1889 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِى الثَّلْجِ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ السِّنْجَارِىُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ السِّنْجَارِىُّ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « لَيْسَ فِى الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ ». مَرْوَانُ السِّنْجَارِىُّ ضَعِيفٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1890 موسیٰ بن طلحہ ‘ حضرت عمربن خطاب (رض) کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں انھوں نے یہ بات بیان کی ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان چار چیزوں میں زکوۃ کی ادائیگی کو مقرر کیا ہے ‘ گندم ‘ جو ‘ کشمش اور کھجور۔
1890 - قُرِئَ عَلَى عَلِىِّ بْنِ إِسْحَاقَ الْمَادَرَائِىِّ بِالْبَصْرَةِ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمُ الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ إِنَّمَا سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الزَّكَاةَ فِى هَذِهِ الأَرْبَعَةِ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1891 موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں ہمارے پاس حضرت معاذبن جبل (رض) کا مکتوب موجود ہے ‘ جس میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے یہ بات تحریر ہے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گندم ‘ جو کشمش اور کھجور میں زکوۃ وصول کی ہے۔
1891 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ عِنْدَنَا كِتَابُ مُعَاذٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ إِنَّمَا أَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنَ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1892 موسیٰ بن طلحہ ‘ معاذبن جبل (رض) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جس زمین کو آسمان ‘ بعل (پانی کے قریب کھجور کا درخت لگاناتا کہ وہ درخت خود ہی زیرزمین پانی سے سیراب ہوجائے) اور بہتے ہوئے پانی (یعنی نہر وغیرہ) کے ذریعے سیراب کیا جائے ‘ اس میں عشر کی ادائیگی لازم قراردی جائے گی اور جس زمین کو پائی چھڑک کر (یعنی مصنوعی طریقے سے) سیراب کیا جائے ‘ اس میں نصف عشر کی ادائیگی لازم ہوگی۔

کھجور ‘ گندم ‘ دانوں میں زکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی ‘ البتہ ککڑی ‘ تربوز ‘ سیب ‘ قصب اور دیگر سبزیوں میں یہ معاف ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے معاف قراردیا ہے۔
1892 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الأَزْرَقِ بِمِصْرَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ النَّفَّاحِ الْبَاهِلِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ابْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْبَعْلُ وَالسَّيْلُ الْعُشْرُ وَفِيمَا سُقِىَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ ». يَكُونُ ذَلِكَ فِى التَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالْحُبُوبِ فَأَمَّا الْقِثَّاءُ وَالْبِطِّيخُ وَالرُّمَّانُ وَالْقَصَبُ وَالْخُضَرُ فَعَفْوٌ عَفَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1893 حضرت معاذ (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی۔
1893 - حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنِى أَبِى عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ عَنِ الْحَكَمِ وَعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ مُعَاذٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَيْسَ فِى الْخَضْرَاوَاتِ زَكَاةٌ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1894 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ معاذبن جبل (رض) کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے۔
1894 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ الْبُهْلُولِ حَدَّثَنَا جَدِّى حَدَّثَنِى أَبِى حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنِ الْحَكَمِ وَعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1895 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت معاذبن جبل (رض) کے حوالے سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے۔
1895 - حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ مُعَاذٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِهَذَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1896 موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات سے منع کیا ہے ‘ سبزیوں میں سے زکوۃ وصول کی جائے۔
1896 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِى طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِىُّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى أَنْ يُؤْخَذَ مِنَ الْخَضْرَاوَاتِ صَدَقَةٌ. 2/98
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1897 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ موسیٰ بن طلحہ کے حوالے سے حضرت معاذبن جبل (رض) سے منقول ہے۔
1897 - حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ مِثْلَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1898 ابوبردہ ‘ حضرت موسیٰ اشعری (رض) اور حضرت معاذبن جبل (رض) کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں حضرات کو یمن بھیجا تو ان دونوں نے لوگوں کو دینی احکام کی تعلیم دی ‘(اور یہ فرمایا ) تم لوگ صرف ان چار چیزوں میں سے زکوۃ وصول کرنا جو ‘ گندم ‘ کشمش اور کھجور۔
1898 - حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِىُّ حَدَّثَنَا الْحُنَيْنِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِى بُرْدَةَ عَنْ أَبِى مُوسَى وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى الْيَمَنِ يُعَلِّمَانِ النَّاسَ أَمْرَ دِينِهِمْ لاَ تَأْخُذُوا الصَّدَقَةَ إِلاَّ مِنْ هَذِهِ الأَرْبَعَةِ الشَّعِيرِ وَالْحِنْطَةِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৮৯৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سبزیوں میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی
1899 حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کسی بھی کھیت (زرعی پیداوار) میں زکوۃ کی ادائیگی لازم نہیں ہوتی ‘ جب تک وہ پانچ وسق تک نہ پہنچ جائے جب وہ پانچ وسق تک پہنچ جائے گی ‘ تو اس پر زکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی اور ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور چاندی میں زکوۃ اس وقت تک فرض نہیں ہوتی جب تک وہ پانچ اوقیہ نہ ہوجائے اور ایک اوقیہ چالیس درہم کے برابر ہوتا ہے۔
1899 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِى الثَّلْجِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّسَائِىُّ بُنَانٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِى أُنَيْسَةَ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لاَ زَكَاةَ فِى شَىْءٍ مِنَ الْحَرْثِ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسَاقٍ فَإِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسَاقٍ فَفِيهِ الزَّكَاةُ وَالْوَسْقُ سِتُّونَ صَاعًا وَلاَ زَكَاةَ فِى شَىْءٍ مِنَ الْفِضَّةِ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوَاقٍ وَالْوُقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا ».
tahqiq

তাহকীক: