সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮২ টি
হাদীস নং: ২০৪০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب صدقہ دینے کی ترغیب اور اس کی تقسیم کا طریقہ
2040 عاصم بن ضمرہ بیان کرتے ہیں شام سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ گھوڑے اور غلام لے کر آئے ‘ انھوں نے حضرت عمربن خطاب (رض) سے کہا آپ ان کی زکوۃ وصول کرلیں ‘ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا میرے علم کے مطابق مجھ سے پہلے کسی نے ایسا نہیں کیا ‘ میں اس بارے میں دریافت کروں گا (اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے) ۔
2040 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدَيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حَرْبٍ الْجُنْدَيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ قَدِمَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ بِخَيْلٍ وَرَقِيقٍ فَقَالُوا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خُذْ صَدَقَتَهَا. فَقَالَ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا فَعَلَهُ قَبْلِى حَتَّى أَسْأَلَ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৪১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب صدقہ دینے کی ترغیب اور اس کی تقسیم کا طریقہ
2041 حضرت ابودرداء (رض) بیان کرتے ہیں ‘ انھوں نے مرفوع حدیث کے طورپریہ بات نقل کی ہے ‘(یعنی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے ) اللہ تعالیٰ نے اپنے کتاب میں جس چیز کو حلال قراردیا ہے ‘ وہ حلال ہے اور جس چیز کو حرام قراردیا ہے ‘ وہ حرام ہے اور جس چیز کے بارے میں کوئی حکم ذکر نہیں کیا وہ عافیت ہے ‘ تو تم اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی ہوئی اس کی عافیت کو قبول کرو ‘ اللہ تعالیٰ کوئی بات بھولا نہیں ہے (یابھولتا نہیں ہے) ۔
پھر انھوں نے یہ آیت تلاوت کی
” اور تمہارا پروردگاربھولنے والا نہیں ہے “۔
پھر انھوں نے یہ آیت تلاوت کی
” اور تمہارا پروردگاربھولنے والا نہیں ہے “۔
2041 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ - يَرْفَعُ الْحَدِيثَ - قَالَ « مَا أَحَلَّ اللَّهُ فِى كِتَابِهِ فَهُوَ حَلاَلٌ وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَافِيَةٌ فَاقْبَلُوا مِنَ اللَّهِ عَافِيَتَهُ فَإِنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُنْ نَسِيًّا ». ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ الآيَةَ (وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا)
তাহকীক: