সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
زکوۃ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৮২ টি
হাদীস নং: ১৯৮০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب وہ خوشحالی جو مانگنے کو حرام کردیتی ہے
1980 حسن بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت علی اور حضرت عبداللہ (بن مسعود) (رض) یہ فرماتے ہیں جس شخص کے پاس پچاس درہم یا ان کی قیمت جتنا سونا موجود ہو ‘ اس کے لیے کسی سے کچھ مانگنا جائز نہیں ہے۔
1980 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا وَعَبْدَ اللَّهِ قَالاَ لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِمَنْ لَهُ خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ١٧ سال گزرنے سے پہلے زکوۃ ادا کردینا
1981 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زکوۃ کی ادائیگی کا حکم دیاتو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا گیا ابن جمیل ‘ خالد بن ولید اور عباس بن عبدالمطلب نے زکوۃ کی ادائیگی سے انکار کردیا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جمیل کا قصور یہ ہے وہ غریب تھا ‘ اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول نے اسے غنی کردیا ‘ خالد کا جہاں تک تعلق ہے تو تم لوگوں نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے کیونکہ اس نے تمام زرہیں اور اپنا تمام ترسازوسامان اللہ تعالیٰ کی راہ کے لیے وقف کردیا ہوا ہے جب تک جناب عباس کا تعلق ہے تو یہ ادائیگی میرے ذمہ ہے اور اس کے ساتھ اتنی ہی مزید ادائیگی میں انھیں بھی کردوں گا۔
1981 .حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِالصَّدَقَةِ فَقِيلَ لَهُ مَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا نَقَمَ ابْنُ جَمِيلٍ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا قَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتُدَهُ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَهِىَ عَلَىَّ وَمِثْلُهَا مَعَهَا هِىَ لَهُ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ١٧ سال گزرنے سے پہلے زکوۃ ادا کردینا
1982 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) کو زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو ابن جمیل ‘ خالد بن ولید اور حضرت عباس (رض) نے زکوۃ ادا کرنے سے انکار کردیا (جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بارے میں بتایا گیا) تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ابن جمیل نے یہ حرکت اس لیے کی ہے ‘ پہلے وہ غریب تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسے خوشحال کردیا ہے جہاں تک خالد کا تعلق ہے تو تم نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے کیونکہ اس نے اپنی زرہیں اور سازوسامان پہلے ہی اللہ کی راہ میں وقف کردیئے ہوئے ہیں جہاں تک حضرت عباس (رض) کا تعلق ہے تو وہ اللہ کے رسول کے چچا ہیں ‘ ان کی ادائیگی میرے ذمے ہوگی اور اس کے ساتھ مزید اتنی ہی ادائیگی ہوگی ‘ پھر آپ نے ارشاد فرمایا کیا تمہیں پتا نہیں ہے ‘ آدمی کا چچا اس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے۔
1982 - حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْدَلِىُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِىُّ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ بَعَثَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- عُمَرَ سَاعِيًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَمَنَعَ ابْنُ جَمِيلٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْعَبَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا يَنْقِمُ ابْنُ جَمِيلٍ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ فَقِيرًا فَأَغْنَاهُ اللَّهُ وَأَمَّا خَالِدٌ فَإِنَّكُمْ تَظْلِمُونَ خَالِدًا وَقَدِ احْتَبَسَ أَدْرَاعَهُ وَأَعْتَادَهُ فِى سَبِيلِ اللَّهِ وَأَمَّا الْعَبَّاسُ فَعَمُّ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَهِىَ عَلَىَّ وَمِثْلُهَا مَعَهَا ». ثُمَّ قَالَ « أَمَا شَعَرْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ أَوْ صِنْوُ الأَبِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ١٧ سال گزرنے سے پہلے زکوۃ ادا کردینا
1983 حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں حضرت عباس (رض) نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کیا وہ اپنے مال کی زکوۃ مخصوص وقت گزرنے سے پہلے اداکرسکتیے ہیں ؟ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اس بات کی اجازت دی۔
1983 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَاضِى حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْمُسَيَّبُ بْنُ الأَسْوَدِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِىٍّ عَنْ عَلِىٍّ أَنَّ عَبَّاسًا سَأَلَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَيُعَجِّلُ زَكَاةَ مَالِهِ قَبْلَ مَحِلِّهَا فَرَخَّصَ لَهُ فِى ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ١٧ سال گزرنے سے پہلے زکوۃ ادا کردینا
1984 ایک اور سند کے ہمراہ یہ بات منقول ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ہم نے حضرت عباس (رض) سے اس سال کی زکوۃ گزشتہ سال ہی وصول کرلی تھی۔
1984 - حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا بِهَذَا أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « إِنَّا قَدْ أَخَذْنَا مِنَ الْعَبَّاسِ صَدَقَةَ الْعَامِ عَامَ الأَوَّلِ ».خَالَفَهُ إِسْرَائِيلُ فَقَالَ عَنْ حُجْرٍ الْعَدَوِىِّ عَنْ عَلِىٍّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ١٧ سال گزرنے سے پہلے زکوۃ ادا کردینا
1985 حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) سے یہ فرمایا تھا ہم نے حضرت عباس (رض) سے اس کی زکوۃ گزشتہ سال ہی وصول کرلی تھی۔
1985 حَدَّثَنَا ابْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِىُّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ حُجْرٍ الْعَدَوِىِّ عَنْ عَلِىٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِعُمَرَ « إِنَّا قَدْ أَخَذْنَا مِنَ الْعَبَّاسِ زَكَاةَ الْعَامِ عَامَ الأَوَّلِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ١٧ سال گزرنے سے پہلے زکوۃ ادا کردینا
1986 حضرت طلحہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عمر ! کیا تم جانتے ہو کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے ‘ ہمیں اس وقت کچھ مال کی ضرورت تھی تو ہم نے حضرت عباس (رض) کے مال کی زکوۃ دو سال پہلے ہی وصول کرلی تھی۔
اس روایت کی سند میں حکم نامی راوی سے اختلاف کیا گیا ہے ‘ صحیح یہ ہے یہ روایت حسن بن مسلم نامی راوی سے مرسل روایت کے طور پر منقول ہے۔
اس روایت کی سند میں حکم نامی راوی سے اختلاف کیا گیا ہے ‘ صحیح یہ ہے یہ روایت حسن بن مسلم نامی راوی سے مرسل روایت کے طور پر منقول ہے۔
1986 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُتْبَةَ حَدَّثَنَا وَلِيدُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ طَلْحَةَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « يَا عُمَرُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ إِنَّا كُنَّا احْتَجْنَا إِلَى مَالٍ فَتَعَجَّلْنَا مِنَ الْعَبَّاسِ صَدَقَةَ مَالِهِ لِسَنَتَيْنِ ». اخْتَلَفُوا عَلَى الْحَكَمِ فِى إِسْنَادِهِ وَالصَّحِيحُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ مُرْسَلٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ١٧ سال گزرنے سے پہلے زکوۃ ادا کردینا
1987 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) کو زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا ‘ وہ حضرت عباس (رض) کے پاس آئے اور ان سے ان کے مال کی زکوۃ کا مطالبہ کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں حضرت عباس (رض) نے ان کے ساتھ سختی کا مظاہرہ کیا ‘ حضرت عمر (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بارے میں بتایا۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا حضرت عباس (رض) نے اس سال اور آئندہ سال کی زکوۃ پہلے ہی ہمیں دے دی تھی۔
1987 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَائِلَةَ الأَصْبَهَانِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلاَمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عُمَرَ سَاعِيًا - قَالَ - فَأَتَى الْعَبَّاسَ يَطْلُبُ صَدَقَةَ مَالِهِ قَالَ فَأَغْلَظَ لَهُ الْعَبَّاسُ فَخَرَجَ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَخْبَرَهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ الْعَبَّاسَ قَدْ أَسْلَفَنَا زَكَاةَ مَالِهِ الْعَامَ وَالْعَامَ الْمُقْبِلَ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ١٧ سال گزرنے سے پہلے زکوۃ ادا کردینا
1988 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) کو زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا وہ واپس آئے تو انھوں نے حضرت عباس (رض) کا شکوہ کیا اور بتایا انھوں نے اپنی زکوۃ مجھے ادا نہیں کی ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے عمر ! کیا تم یہ بات جانتے ہو کہ آدمی کا چچا اس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے ‘ حضرت عباس (رض) نے دو سال کی زکوۃ پہلے ہی) ایک ساتھ اداکردی تھی۔
راوی نے دوسرے راوی کا نام عبید اللہ بن عمر نقل کیا ہے ‘ لیکن ان کی مراد یہ تھی کہ یہ روایت محمد بن عبید اللہ سے منقول ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
راوی نے دوسرے راوی کا نام عبید اللہ بن عمر نقل کیا ہے ‘ لیکن ان کی مراد یہ تھی کہ یہ روایت محمد بن عبید اللہ سے منقول ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔
1988 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَطِيرِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو خُرَاسَانَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّكَنِ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا مِنْدَلُ بْنُ عَلِىٍّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ الْحَكَمِ - وَقَالَ الْمَطِيرِىُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ الْحَكَمِ - عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعَثَ عُمَرَ عَلَى الصَّدَقَةِ فَرَجَعَ وَهُوَ يَشْكُو الْعَبَّاسَ فَقَالَ إِنَّهُ مَنَعَنِى صَدَقَتَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا عُمَرُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ إِنَّ الْعَبَّاسَ أَسْلَفَنَا صَدَقَةَ عَامَيْنِ فِى عَامٍ ». كَذَا قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَإِنَّمَا أَرَادَ مُحَمَّدَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৮৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ١٧ سال گزرنے سے پہلے زکوۃ ادا کردینا
1989 حضرت ابورافع (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) کو زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا اور دوران ان کی حضرت عباس (رض) کے ساتھ کچھ تکرار ہوگئی ‘ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ آدمی چچا اس کے باپ کی جگہ ہوتا ہے ‘ حضرت عباس نے اس سال کی زکوۃ گزشتہ سال ہمیں پہلے ہی دے دی تھی۔
1989 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ عَنْ أَبِى رَافِعٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- بَعَثَ عُمَرَ سَاعِيًا فَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْعَبَّاسِ شَىْءٌ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ إِنَّ الْعَبَّاسَ أَسْلَفَنَا صَدَقَةَ الْعَامِ عَامَ الأَوَّلِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯০
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ١٧ سال گزرنے سے پہلے زکوۃ ادا کردینا
1990 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جہنم سے بچنے کی کوشش کرو ایک کھجور کے ٹکڑے کے ذریعے ایساکرو ‘ چونکہ یہ بھوکے کے لیے بھی اسی طرح رکاوٹ بنتی ہے جس طرح سیراب شخص کے لیے
1990 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنَّهَا تَسُدُّ مِنَ الْجَائِعِ مَا تَسُدُّ مِنَ الشَّبْعَانِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯১
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ١٧ سال گزرنے سے پہلے زکوۃ ادا کردینا
1991 سیدہ فاطمہ بن قیس (رض) بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے مال میں زکوۃ کے علاوہ بھی حق ہوتا ہے ‘ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی ” نیکی صرف یہ نہیں ہے ‘ تم اپنے چہروں کو پھیردو “۔ یہ آیت آخرتک ہے۔
1991 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِى حَمْزَةَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ فِى الْمَالِ حَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ ». ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ الآيَةَ (لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ) إِلَى آخِرِ الآيَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯২
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ١٧ سال گزرنے سے پہلے زکوۃ ادا کردینا
1992 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
1992 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِى مُزَاحِمٍ أَبُو نَصْرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯৩
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب ١٧ سال گزرنے سے پہلے زکوۃ ادا کردینا
1993 ابو عمروبن حماس اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں سالن اور ترکش فروخت کیا کرتا تھا ‘ ایک مرتبہ حضرت عمربن خطاب (رض) میرے پاس گزرے اور انھوں نے مجھ سے فرمایا تم اپنے مال کی زکوۃ اداکرو ‘ میں نے کہا اے امیرالمومنین ! یہ سالن میں ہے ‘ تو انھوں نے فرمایا تم اس کی قیمت کا اندازہ لگاؤ ‘ پھر اس کی زکوۃ اداکرو۔
1993 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِى بَكْرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِى عَمْرِو بْنِ حَمَاسٍ أَوْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى عَمْرِو بْنِ حَمَاسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ أَبِيعُ الأُدْمَ وَالْجِعَابَ فَمَرَّ بِى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ لِى أَدِّ صَدَقَةَ مَالِكَ.
فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّمَا هُوَ فِى الأُدْمِ. قَالَ قَوِّمْهُ ثُمَّ أَخْرِجْ صَدَقَتَهُ.
فَقُلْتُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنَّمَا هُوَ فِى الأُدْمِ. قَالَ قَوِّمْهُ ثُمَّ أَخْرِجْ صَدَقَتَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯৪
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب تجارت کے مال کی زکوۃ اداکرنانیز گھوڑے اور غلام کی زکوۃ معاف کرنا
1994 امام جعفر صادق (رض) اپنے والد (امام محمد الباقر (رض)) کے حوالے سے حضرت جابر (رض) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں گھوڑے کے بارے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ایک گھوڑے کی طرف سے ایک دینار ادا کیا جائے گا۔ امام جعفر صادق (رض) سے اس روایت کو نقل کرنے میں غورک نامی راوی منفرد ہے اور یہ بہت زیادہ ضعیف ہے۔
1994 - أَخْبَرَنِى أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَانَ الشِّيرَازِىُّ فِيمَا كَتَبَ إِلَىَّ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مُوسَى الْحَارِثِىَّ حَدَّثَهُمْ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بَحْرٍ الْكِرْمَانِىُّ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ حَمَّادٍ الإِصْطَخْرِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ عَنْ غُورَكِ بْنِ الْحِصْرِمِ أَبِى عَبْدِ اللَّهِ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فِى الْخَيْلِ السَّائِمَةِ فِى كُلِّ فَرَسٍ دِينَارٌ ». تَفَرَّدَ بِهِ غُورَكٌ عَنْ جَعْفَرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا وَمَنْ دُونَهُ ضُعَفَاءُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯৫
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب تجارت کے مال کی زکوۃ اداکرنانیز گھوڑے اور غلام کی زکوۃ معاف کرنا
1995 حارثہ بن مضرب بیان کرتے ہیں مصر سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ حضرت عمربن خطاب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں نے بتایا ہمیں کچھ زمین اور کچھ غلام ملے ہیں ‘ ہم چاہتے ہیں ‘ ان کی زکوۃ ادا کردیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا مجھ سے پہلے میرے دو آقاؤں نے جو عمل نہیں کیا ‘ میں بھی وہ اس وقت تک نہیں کروں گا ’ جب تک اس بارے میں مشورہ نہ لوں ‘ پھر حضرت عمر (رض) نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب سے اس بارے میں مشورہ لیا ‘ تو ان سب نے اسے ٹھیک قراردیا ‘ حضرت علی (رض) خاموش رہے ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا اے ابوالحسن ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی بات کیوں نہیں کررہے ؟ تو حضرت علی (رض) بولے ان حضرات نے آپ کو جو مشورہ دیا ہے یہ ٹھیک ہے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ وہ ایسا ٹیکس نہ ہو جو آپ کے بعد بھی انھیں اداکرناپڑے تو حضرت عمر (رض) نے ایک غلام کی طرف سے ١٠ درہم وصول کیے اور انھیں گندم کے دوجریب ماہانہ خوراک کی فراہمی لازم قراردی۔ گھوڑے کی طرف سے ١٠ درہم وصول کیے۔ اور اسے جو کے دس جریب ماہانہ خوراک کی فراہمی لازم قراردی۔ عام گھوڑے کی طرف سے ٨ درہم وصول کیے اور اسے ٨ جریب جو ماہانہ خوراک کی ادائیگی لازم قراردی۔ خچر کی طرف سے ٥ درہم وصول کیے اور اسے ٥ جریب جو ماہانہ خوراک کے طور پر دینا لازم قراردیا۔
ابواسحاق نامی راوی کہتے ہیں حجاج کے زمانے میں ہم سے یہ وصول کرلی جاتی تھی مگر ہمارے حصے کی ادائیگی نہیں کی جاتی تھی۔ شیخ (امام دار قطنی) فرماتے ہیں ” مقرف “ وہ گھوڑا ہوتا ہے جو تیزرفتار گھوڑے سے کم رفتار ہی چلتا ہے۔
ابواسحاق نامی راوی کہتے ہیں حجاج کے زمانے میں ہم سے یہ وصول کرلی جاتی تھی مگر ہمارے حصے کی ادائیگی نہیں کی جاتی تھی۔ شیخ (امام دار قطنی) فرماتے ہیں ” مقرف “ وہ گھوڑا ہوتا ہے جو تیزرفتار گھوڑے سے کم رفتار ہی چلتا ہے۔
1995 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى الشُّونِيزِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ إِنَّ قَوْمًا مِنْ أَهْلِ مِصْرَ أَتَوْا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالُوا إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا كُرَاعًا وَرَقِيقًا وَإِنَّا نُحِبُّ أَنْ نُزَكِّيَهُ قَالَ مَا فَعَلَهُ صَاحِبَاىَ قَبْلِى وَلاَ أَفْعَلُهُ حَتَّى أَسْتَشِيرَ فَشَاوَرَ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالُوا حَسَنٌ. وَسَكَتَ عَلِىٌّ فَقَالَ أَلاَ تَكَلَّمُ يَا أَبَا حَسَنٍ فَقَالَ قَدْ أَشَارُوا عَلَيْكَ وَهُوَ حَسَنٌ إِنْ لَمْ تَكُنْ جِزْيَةً رَاتِبَةً يُؤْخَذُونَ بِهَا بَعْدَكَ. قَالَ فَأَخَذَ مِنَ الرَّقِيقِ عَشْرَةَ الدَّرَاهِمِ وَرَزَقَهُمْ جَرِيبَيْنِ مِنْ بُرٍّ كُلَّ شَهْرٍ وَأَخَذَ مِنَ الْفَرَسِ عَشْرَةَ الدَّرَاهِمِ وَرَزَقَهُ عَشْرَةَ أَجْرِبَةٍ مِنْ شَعِيرٍ كُلَّ شَهْرٍ وَأَخَذَ مِنَ الْمَقَارِيفِ ثَمَانِيَةَ دَرَاهِمَ وَرَزَقَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْرِبَةٍ مِنْ شَعِيرٍ كُلَّ شَهْرٍ وَأَخَذَ مِنَ الْبَرَاذِينِ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ وَرَزَقَهَا خَمْسَةَ أَجْرِبَةٍ مِنْ شَعِيرٍ كُلَّ شَهْرٍ. قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهَا جِزْيَةً تُؤْخَذُ مِنْ أَعْطِيَاتِنَا زَمَانَ الْحَجَّاجِ وَمَا نُرْزَقُ عَلَيْهَا. قَالَ الشَّيْخُ الْمُقْرِفُ مِنَ الْخَيْلِ دُونَ الْجَوَادِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯৬
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب تجارت کے مال کی زکوۃ اداکرنانیز گھوڑے اور غلام کی زکوۃ معاف کرنا
1996 حارثہ نامی راوی بیان کرتے ہیں شام سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انھوں ے بتایا ہمیں کچھ اموال حاصل ہوئے ہیں ‘ جو گھوڑے ہیں اور غلام ہیں ‘ ہم یہ چاہتے ہیں ‘ ان میں سے بھی ہم سے زکوۃ وصول کی جائے تاکہ یہ پاک ہوجائیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا مجھ سے پہلے میرے دو آقاؤں نے جو کام نہیں کیا میں وہ کروں گا ‘ پھر حضرت عمر (رض) نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب سے یہ مشورہ لیا ‘ ان اصحاب میں حضرت علی (رض) بھی شامل تھے ‘ حضرت علی (رض) نے فرمایا یہ ٹھیک ہے اگر اسے ایساجزیہ قرارنہ دیا جائے جو آپ کے بعد بھی ان سے وصول کیا جاتا رہے۔
1996 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ قَالَ جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ إِلَى عُمَرَ فَقَالُوا إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا أَمْوَالاً خَيْلاً وَرَقِيقًا نُحِبُّ أَنْ يَكُونَ لَنَا فِيهَا زَكَاةٌ وَطَهُورٌ فَقَالَ مَا فَعَلَهُ صَاحِبَاىَ قَبْلِى فَأَفْعَلُهُ فَاسْتَشَارَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَفِيهِمْ عَلِىٌّ فَقَالَ هُوَ حَسَنٌ إِنْ لَمْ تَكُنْ جِزْيَةً يُؤْخَذُونَ بِهَا مِنْ بَعْدِكَ رَاتِبَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯৭
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب تجارت کے مال کی زکوۃ اداکرنانیز گھوڑے اور غلام کی زکوۃ معاف کرنا
1997 حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے میں نے گھوڑوں اور غلاموں کی زکوۃ تمہیں معاف کردی ہے اور دو سو (درہم ) سے کم میں زکوۃ لازم نہیں ہوگی۔
1997 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ عَلِىٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « عَفَوْتُ لَكُمْ عَنِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ الْمِائَتَيْنِ زَكَاةٌ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯৮
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب تجارت کے مال کی زکوۃ اداکرنانیز گھوڑے اور غلام کی زکوۃ معاف کرنا
1998 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے گھوڑے اور غلام میں زکوۃ لازم نہیں ہوگی ‘ البتہ غلام کی طرف سے صدقہ فطرادا کیا جائے گا۔
1998 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِى زَائِدَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَيْسَ فِى الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ صَدَقَةٌ إِلاَّ أَنَّ فِى الرَّقِيقِ صَدَقَةَ الْفِطْرِ ».
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৯৯
زکوۃ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب تجارت کے مال کی زکوۃ اداکرنانیز گھوڑے اور غلام کی زکوۃ معاف کرنا
1999 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے غلام میں کوئی صدقہ اداکرنالازم نہیں ہوگا ‘ البتہ صدقہ فطرادا کیا جائے گا۔
1999 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمِّى أَخْبَرَنِى مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَيْسَ فِى الْعَبْدِ صَدَقَةٌ إِلاَّ صَدَقَةُ الْفِطْرِ ».
তাহকীক: