সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)
سنن الدار قطني
روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৮ টি
হাদীস নং: ২১৬১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سحری کا وقت
2161 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں ” میں نے یہ کہا چوڑائی کی سمت روشنی ہے اور وہ سرخ ہے۔ تو حضرت ابوبکرصدیق (رض) نے فرمایا اب میرے لیے پینے کا سامان لے آؤ۔
راوی بیان کرتے ہیں ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ایک دن حضرت ابوبکرصدیق (رض) نے فرمایا تم دروازے پر کھڑے رہو (میرے اور فجر کے درمیان) اور جب (فجر ہوجائے) تو مجھے بتا دینا۔ یہ روایت مستند ہے۔
راوی بیان کرتے ہیں ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ایک دن حضرت ابوبکرصدیق (رض) نے فرمایا تم دروازے پر کھڑے رہو (میرے اور فجر کے درمیان) اور جب (فجر ہوجائے) تو مجھے بتا دینا۔ یہ روایت مستند ہے۔
2161 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ وَقَالَ فَقُلْتُ قَدِ اعْتَرَضَ فِى السَّمَاءِ وَاحْمَرَّ فَقَالَ ائْتِ الآنَ بِشَرَابِى قَالَ وَقَالَ يَوْمًا آخَرَ قُمْ عَلَى الْبَابِ بَيْنِى وَبَيْنَ الْفَجْرِ . وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سحری کا وقت
2162 عبداللہ بن نعمان بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ رمضان کے مہینے میں رات کے آخری حصہ میں حضرت قیس بن طلق (رض) میرے پاس آئے ‘ اس وقت صبح کے خوف کی وجہ سے سحری کھانا بند کیا جاچکا تھا ‘ انھوں نے مجھ سے سالن مانگا ‘ میں نے کہا اے چچاجان ! اگر رات کا ابھی کچھ حصہ باقی ہے تو میں آپ کو کھانے اور پینے کا سامان دیتاہوں ‘ انھوں نے فرمایا تمہارے پاس ہے ؟ پھر وہ اندر تشریف لے آئے تو میں نے سامنے (ثریر) گوشت اور نبیذ ‘ دیئے ‘ انھوں نے انھیں کھا بھی لیا اور پی بھی لیا اور مجھے بھی مجبور کیا ‘ تو میں نے بھی کھا اور پی لیا اور مجھے صبح ہوجانے کا اندیشہ تھا ‘ پھر حضرت طلق نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے تم لوگ (سحری میں) کھاتے پیتے رہو اور لمبائی کی سمت میں پھیلنے والی روشنی تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے ‘ تم لوگ اس وقت تک کھاتے پیتے رہو ‘ جب تک سرخی چوڑائی کی سمت میں تمہارے سامنے نہیں پھیل جاتی ۔ راوی نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کرکے یہ بات بیان کی۔ اس کے راوی قیس بن طلق مستند نہیں ہیں۔
2162 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْمَحَامِلِىُّ وَأَخُوهُ أَبُو عُبَيْدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ حَدَّثَنَا مُلاَزِمُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ النُّعْمَانِ السُّحَيْمِىُّ قَالَ أَتَانِى قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ فِى رَمَضَانَ فِى آخِرِ اللَّيْلِ بَعْدَ مَا رَفَعْتُ يَدِى مِنَ السَّحُورِ لِخَوْفِ الصُّبْحِ فَطَلَبَ مِنِّى بَعْضَ الإِدَامِ فَقُلْتُ يَا أَبَا عُمَارَةَ لَوْ كَانَ بَقِىَ عَلَيْكَ مِنَ اللَّيْلِ شَىْءٌ لأُدْخِلَنَّكَ إِلَى طَعَامٍ عِنْدِى وَشَرَابٍ. قَالَ عِنْدَكَ فَدَخَلَ فَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ثَرِيدًا وَلَحْمًا وَنَبِيذًا فَأَكَلَ وَشَرِبَ وَأَكْرَهَنِى فَأَكَلْتُ وَشَرِبْتُ وَإِنِّى لَوَجِلٌ مِنَ الصُّبْحِ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنِى طَلْقُ بْنُ عَلِىٍّ أَنَّ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلاَ يَغُرَّنَّكُمُ السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَعْرِضَ لَكُمُ الأَحْمَرُ » وَأَشَارَ بِيَدِهِ. قَيْسُ بْنُ طَلْقٍ لَيْسَ بِالْقَوِىِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سحری کا وقت
2163 حضرت سمرہ بن جند ب (رض) نے خطبہ دیتے وقت یہ بات بیان کی بلال کی اذان تمہیں سحری کرنے نہ روکے اور (اس طرح لمبائی کی سمت میں) افق میں پھیلنے والی روشنی بھی تمہیں نہ روکے جب تک وہ چوڑائی کی سمت میں پھیل جاتی (تم سحری کھاسکتے ہو) ۔
یہ روایت مستند ہے۔
یہ روایت مستند ہے۔
2163 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عِيسَى بْنِ أَبِى حَيَّةَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِى إِسْرَائِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِىِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يَمْنَعَنَّ مِنْ سَحُورِكُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ وَلاَ بَيَاضُ الأُفُقِ الَّذِى هَكَذَا حَتَّى يَسْتَطِيرَ ». إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سحری کا وقت
2164 حضرت سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے بلال کی اذان تمہیں غلط فہمی کا شکارنہ کرے اور یہ سفیدی بھی۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات صبح کے وقت لمبائی میں پھیلنے والی روشنی کے متعلق فرمائی اور فرمایا جب تک یہ چوڑائی کی سمت میں نہیں پھیل جاتی تم (سحری) کھاسکتے ہو۔
2164 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ يَغُرَّنَّكُمْ أَذَانُ بِلاَلٍ وَلاَ هَذَا الْبَيَاضُ - لِعَمُودِ الصُّبْحِ - حَتَّى يَسْتَطِيرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2165 حسین بن حارث جدلی بیان کرتے ہیں مکہ کے گورنرنے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے لوگوں کو یہ قسم دی اور دریافت کیا کس شخص نے ” فلاں پہلی “ کا چاند دیکھا تھا ‘ پھر اس نے بتایا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں (ہدایت کی تھی کہ ہم عید الاضحی کے دن قربانی کریں) اگر ہم خود چاند نہ دیکھیں اور دوعادل گواہ اس بات کی گواہی دیں تو ہم ان دونوں کی گواہی پر قربانی (یعنی عیدالاضحی) کرلیں۔ راوی بیان کرتے ہیں میں نے حسین بن حارث سے دریافت کیا کہ وہ گورنرکون شخص تھا ‘ تو انھوں نے جواب دیا مجھے معلوم نہیں ‘ اس کے بعد میری ملاقات ہوئی ‘ تو انھوں نے بتایا وہ صاحب حارث بن حاطب تھے ‘ جو حضرت محمد بن حاطب کے بھائی تھے۔ اس کی سند متصل ہے اور یہ روایت مستند ہے۔
2165 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِىُّ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَارِثِ الْجَدَلِىُّ جَدِيلَةُ قَيْسٍ أَنَّ أَمِيرَ مَكَّةَ خَطَبَنَا فَنَشَدَ النَّاسَ فَقَالَ مَنْ رَأَى الْهِلاَلَ لِيَوْمِ كَذَا وَكَذَا ثُمَّ قَالَ عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ نَنْسُكَ فَإِنْ لَمْ نَرَهُ وَشَهِدَ شَاهِدَا عَدْلٍ نَسَكْنَا بِشَهَادَتِهِمَا. قَالَ فَسَأَلْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ الْحَارِثِ مَنْ أَمِيرُ مَكَّةَ قَالَ لاَ أَدْرِى ثُمَّ لَقِيَنِى بَعْدُ فَقَالَ هُوَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ أَخُو مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ. هَذَا إِسْنَادٌ مُتَّصِلٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2166 حسین بن حارث جدلی بیان کرتے ہیں مکہ کے گورنرنے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ہدایت کی تھی ہم (چاند دیکھ کر قربانی کریں) یعنی عیدالاضحی منائیں اور اگر ہم خود چاند نہ دیکھیں اور دوعادل لوگ اس کی گواہی دے دیں تو دونوں کی گواہی کی بنیاد پر قربانی کرلیں۔ راوی بیان کرتے ہیں میں نے حسین بن حارث سے دریافت کیا وہ گورنرکون تھے ؟ تو انھوں نے جواب دیا وہ حارث بن حاطب تھے ‘ جو محمد بن حاطب کے بھائی تھے۔
اس گورنرنے یہ بات بھی کہی کہ تمہارے درمیان وہ شخص موجود ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے (احکامات) میں سب سے زیادہ علم رکھتے ہیں ‘ پھر اس گورنرنے وہاں موجود ایک شخص کی طرف اشارہ کیا۔
راوی بیان کرتے ہیں وہ صاحب کون تھے ؟ تو انھوں نے جواب دیاـ وہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے یہ بات بیان کی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اسی بات کا حکم دیا ہے (یعنی ہم دوگواہوں کی گواہی کی بنیاد پرچاند نظر آجانے کا فیصلہ کردیں) ۔
ابوبکرنیشاپوری بیان کرتے ہیں میں نے ابراہیم حربی سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا ‘ انھوں نے بیان کیا سعید بن سلیمان نے ہمیں یہ روایت سنائی ہے ‘ اس کے بعد ابراہیم نے یہ بات بیان کی وہ صاحب حارث بن حاطب بن حارث بن معمر بن خبیب بن وہب بن حذیفہ بن جمعہ تھے ‘ جنہیں حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا شرف حاصل ہے۔
اس گورنرنے یہ بات بھی کہی کہ تمہارے درمیان وہ شخص موجود ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے (احکامات) میں سب سے زیادہ علم رکھتے ہیں ‘ پھر اس گورنرنے وہاں موجود ایک شخص کی طرف اشارہ کیا۔
راوی بیان کرتے ہیں وہ صاحب کون تھے ؟ تو انھوں نے جواب دیاـ وہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے یہ بات بیان کی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اسی بات کا حکم دیا ہے (یعنی ہم دوگواہوں کی گواہی کی بنیاد پرچاند نظر آجانے کا فیصلہ کردیں) ۔
ابوبکرنیشاپوری بیان کرتے ہیں میں نے ابراہیم حربی سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا ‘ انھوں نے بیان کیا سعید بن سلیمان نے ہمیں یہ روایت سنائی ہے ‘ اس کے بعد ابراہیم نے یہ بات بیان کی وہ صاحب حارث بن حاطب بن حارث بن معمر بن خبیب بن وہب بن حذیفہ بن جمعہ تھے ‘ جنہیں حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا شرف حاصل ہے۔
2166 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ عَنْ أَبِى مَالِكٍ الأَشْجَعِىِّ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَارِثِ الْجَدَلِىِّ جَدِيلَةُ قَيْسٍ أَنَّ أَمِيرَ مَكَّةَ قَالَ عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ نَنْسُكَ لِلرُّؤْيَةِ فَإِنْ لَمْ نَرَهُ وَشَهِدَ شَاهِدَا عَدْلٍ نَسَكْنَا بِشَهَادَتِهِمَا. فَسَأَلْتُ الْحُسَيْنَ مَنْ هُوَ قَالَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ أَخُو مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ. وَقَالَ إِنَّ فِيكُمْ مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَشَارَ إِلَى رَجُلٍ خَلْفَهُ قُلْتُ مَنْ هُوَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ بِذَلِكَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- . قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ الْحَرْبِىَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ حَدَّثَنَا بِهِ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثُمَّ قَالَ إِبْرَاهِيمُ هُوَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ خُبَيْبِ بْنِ وَهْبِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ جُمَحٍ كَانَ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْحَبَشَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2167 عبدالرحمن بن زید (رض) بیان کرتے ہیں ہمیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کی صحبت میں رہنے کا شرف حاصل ہے ‘ ہم نے ان سے علم حاصل کیا ہے ‘ انھوں نے ہمیں یہ بات بتائی ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں یہ بات ارشاد فرمائی ہے
” اسے (پہلی کے چاند کو) دیکھ کر روزے رکھنے شروع کرو اور اسے دیکھ کر ہی روزے رکھنے بند کرو اور اگر بادل چھائے ہوئے ہوں توتیس کی تعداد پوری کرلو ‘ اگر دوعادل لوگ گواہی دیں تو (ان کی گواہی کی بنیاد پر) روزے رکھنے شروع کرو ‘ عیدالفطر کرویا قربانی کرو (یعنی عیدالاضحی مناؤ) ۔
” اسے (پہلی کے چاند کو) دیکھ کر روزے رکھنے شروع کرو اور اسے دیکھ کر ہی روزے رکھنے بند کرو اور اگر بادل چھائے ہوئے ہوں توتیس کی تعداد پوری کرلو ‘ اگر دوعادل لوگ گواہی دیں تو (ان کی گواہی کی بنیاد پر) روزے رکھنے شروع کرو ‘ عیدالفطر کرویا قربانی کرو (یعنی عیدالاضحی مناؤ) ۔
2167 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الأَزْهَرِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ يَقُولُ إِنَّا صَحِبْنَا أَصْحَابَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَتَعَلَّمْنَا مِنْهُمْ وَإِنَّهُمْ حَدَّثُونَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِىَ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلاَثِينَ فَإِنْ شَهِدَ ذَوَا عَدْلٍ فَصُومُوا وَأَفْطِرُوا وَانْسُكُوا »
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2168 ربعی ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روزہ رکھا ہوا تھا اور یہ رمضان کا تیسواں دن تھا ‘ دودیہاتی آئے اور ان رونوں نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور انھوں نے یہ بتایا انھوں نے گزشتہ رات چاند دیکھ لیا تھا ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ عیدالفطر منائیں۔ یہ حدیث مستند ہے۔
2168 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِىٍّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- أَصْبَحَ صَائِمًا لِتَمَامِ الثَّلاَثِينَ مِنْ رَمَضَانَ فَجَاءَ أَعْرَابِيَّانِ فَشَهِدَا أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّهُمَا أَهَلاَّهُ بِالأَمْسِ فَأَمَرَهُمْ فَأَفْطَرُوا. هَذَا صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2169 عبدالرحمن بن ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں عیدالفطر اور عیدالاضحی کا چاند دیکھنے کے بارے میں حضرت عمر (رض) نے ایک شخص کی گواہی کو قبول کیا تھا۔
عیدالاعلیٰ نامی راوی نے ابن ابی لیلیٰ کے حوالے سے اسی طرح نقل کیا ہے ‘ لیکن عبدالاعلیٰ نامی راوی ضعیف ہے ‘ اسی طرح ابن ابی لیلیٰ نامی راوی نے حضرت عمر (رض) کا زمانہ نہیں پایا ہے۔
ابو وائل ‘ شقیق بن سلمہ نے اس سے مختلف روایت نقل کی ہے ‘ انھوں نے حضرت عمر (رض) کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ‘ حضرت عمر (رض) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ” تم لوگ روزے رکھنے اس وقت تک بندنہ کرو جب تک دو آدمی گواہی نہ دیں (کہ انھوں نے چاند دیکھا ہے) “۔
اس روایت کو اعمش نے اور ان کے حوالے سے منصور نے روایت کیا ہے۔
عیدالاعلیٰ نامی راوی نے ابن ابی لیلیٰ کے حوالے سے اسی طرح نقل کیا ہے ‘ لیکن عبدالاعلیٰ نامی راوی ضعیف ہے ‘ اسی طرح ابن ابی لیلیٰ نامی راوی نے حضرت عمر (رض) کا زمانہ نہیں پایا ہے۔
ابو وائل ‘ شقیق بن سلمہ نے اس سے مختلف روایت نقل کی ہے ‘ انھوں نے حضرت عمر (رض) کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ‘ حضرت عمر (رض) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ” تم لوگ روزے رکھنے اس وقت تک بندنہ کرو جب تک دو آدمی گواہی نہ دیں (کہ انھوں نے چاند دیکھا ہے) “۔
اس روایت کو اعمش نے اور ان کے حوالے سے منصور نے روایت کیا ہے۔
2169 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِى لَيْلَى أَنَّ عُمَرَ أَجَازَ شَهَادَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فِى رُؤْيَةِ الْهِلاَلِ فِى فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى . كَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الأَعْلَى عَنِ ابْنِ أَبِى لَيْلَى. وَعَبْدُ الأَعْلَى ضَعِيفٌ وَابْنُ أَبِى لَيْلَى لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ . وَخَالَفَهُ أَبُو وَائِلٍ شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ رَوَاهُ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ لاَ تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ. حَدَّثَ بِهِ الأَعْمَشُ وَمَنْصُورٌ عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2170 شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں ہمارے پاس حضرت عمر (رض) کا خط آیا ‘ ہم اس وقت خانقین میں موجود تھے ‘ حضرت عمر (رض) نے اپنے خط میں یہ فرمایا تھا چاند بعض اوقات چھوٹابڑا ہوتا ہے تو جب تم دن کے وقت چاند دیکھو تو عیدالفطر اس وقت تک نہ کروجب تک دو آدمی گواہی نہ دیں۔ اس روایت کو شعبہ نے اعمش کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
حضرت عمر (رض) نے فرمایا تھا جب تم دن کے ابتدائی حصے میں پہلی کا چاند دیکھ لو ‘ تو عیدا س وقت تک نہ کروجب تک دو آدمی گواہی نہ دیں کہ انھوں نے گزشتہ رات چاند دیکھ لیا تھا۔ یہ روایت ابن ابی لیلیٰ کی روایت کے مقابلے میں زیادہ مستند ہے۔
حضرت عمر (رض) نے فرمایا تھا جب تم دن کے ابتدائی حصے میں پہلی کا چاند دیکھ لو ‘ تو عیدا س وقت تک نہ کروجب تک دو آدمی گواہی نہ دیں کہ انھوں نے گزشتہ رات چاند دیکھ لیا تھا۔ یہ روایت ابن ابی لیلیٰ کی روایت کے مقابلے میں زیادہ مستند ہے۔
2170 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ حَرْبٍ وَسَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ وَقَالَ فِى كِتَابِهِ إِنَّ الأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَكْبَرُ مِنْ بَعْضٍ فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ نَهَارًا فَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ. وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنِ الأَعْمَشِ فَقَالَ إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ أَنَّهُمَا رَأَيَاهُ بِالأَمْسِ. هَذَا أَصَحُّ إِسْنَادًا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِى لَيْلَى وَقَدْ تَابَعَ الأَعْمَشَ مَنْصُورٌ كَتَبْنَاهُ بَعْدَ هَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2171 ابو وائل بیان کرتے ہیں ہمارے پاس (خانقین کے مقام پر) حضرت عمر (رض) کا خط آیا (جس میں یہ تحریر تھا) پہلی کا چاند بعض اوقات چھوٹا بڑا ہوتا ہے تو جب تم دن کے ابتدائی حصے میں چاند دیکھ لوتو اس وقت تک عیدنہ کرو ‘ جب تک دو آدمی اس بات کی گواہی نہ دیں کہ وہ گزشتہ رات اس چاند کو دیکھ چکے ہیں۔
2171 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسَلَّمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو أُمَيَّةَ وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ قَالُوا حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالُوا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِى وَائِلٍ قَالَ أَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بِخَانِقِينَ إِنَّ الأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَعْظَمُ مِنْ بَعْضٍ فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ أَنَّهُمَا رَأَيَاهُ بِالأَمْسِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2172 ابن ابی لیلیٰ بیان کرتے ہیں میں حضرت عمر (رض) کے پاس موجود تھا ‘ آپ کے پاس ایک سوار آیا اور اس نے بتایا اس نے پہلی کا چاند دیکھ لیا ہے تو حضرت عمر (رض) نے لوگوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ عیدالفطر کریں۔
محمد بن علی بیان کرتے ہیں میں نے ابونعیم سے دریافت کیا کیا ابن ابی لیلیٰ نے حضرت عمر (رض) سے حدیث کا بیان کیا ہے ‘ تو انھوں نے جواب دیا مجھے نہیں معلوم۔
محمد بن علی بیان کرتے ہیں میں نے یحییٰ بن معین سے دریافت کیا کیا ابن لیلیٰ نے حضرت عمر (رض) سے حدیث کا سماع کیا ہے ‘ تو انھوں نے اسے درست قرار نہیں دیا۔ عبدالاعلیٰ نامی راوی عبدالاعلیٰ بن ثعلبی ہیں ‘ جو مستند نہیں ہیں۔
ابو وائل کی روایت سند کے اعتبار سے زیادہ مستند ہے ‘ جسے اعمش اور منصور نے ابو وائل کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
محمد بن علی بیان کرتے ہیں میں نے ابونعیم سے دریافت کیا کیا ابن ابی لیلیٰ نے حضرت عمر (رض) سے حدیث کا بیان کیا ہے ‘ تو انھوں نے جواب دیا مجھے نہیں معلوم۔
محمد بن علی بیان کرتے ہیں میں نے یحییٰ بن معین سے دریافت کیا کیا ابن لیلیٰ نے حضرت عمر (رض) سے حدیث کا سماع کیا ہے ‘ تو انھوں نے اسے درست قرار نہیں دیا۔ عبدالاعلیٰ نامی راوی عبدالاعلیٰ بن ثعلبی ہیں ‘ جو مستند نہیں ہیں۔
ابو وائل کی روایت سند کے اعتبار سے زیادہ مستند ہے ‘ جسے اعمش اور منصور نے ابو وائل کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
2172 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِىٍّ الْوَرَّاقُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى عَنِ ابْنِ أَبِى لَيْلَى قَالَ كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فَأَتَاهُ رَاكِبٌ فَزَعَمَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلاَلَ فَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِىٍّ قُلْتُ لأَبِى نُعَيْمٍ سَمِعَ ابْنُ أَبِى لَيْلَى مِنْ عُمَرَ قَالَ لاَ أَدْرِى. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِىٍّ قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ سَمِعَ ابْنُ أَبِى لَيْلَى مِنْ عُمَرَ فَلَمْ يُثْبِتْ ذَلِكَ . عَبْدُ الأَعْلَى هُوَ ابْنُ عَامِرٍ الثَّعْلَبِىُّ غَيْرُهُ أَثْبُتُ مِنْهُ وَحَدِيثُ أَبِى وَائِلٍ أَصَحُّ إِسْنَادًا عَنْ عُمَرَ مِنْهُ رَوَاهُ الأَعْمَشُ وَمَنْصُورٌ عَنْ أَبِى وَائِلٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2173 ابو وائل بیان کرتے ہیں ہمارے پاس حضرت عمر (رض) کا خط آیا تو ہم اس وقت خانقین کے مقام پر موجود تھے (اس میں یہ تحریر تھا ) پہلی کا چاند بعض اوقات چھوٹا بڑا ہوتا ہے تو جب تم دن کے ابتدائی حصے میں چاند دیکھ لوتو اس وقت تک عیدنہ کروجب تک دوعادل آدمی اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ وہ گزشتہ رات چاند دیکھ چکے ہیں۔ ابوب کرنے یہ بات بیان کی ہے اگر مومل نامی راوی کو یہ روایت غریب ہے ‘ کیونکہ امام عبدالرحمن مہدی نے اس سے مختلف روایت نقل کی ہے۔
2173 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِى مَنْصُورٌ عَنْ أَبِى وَائِلٍ قَالَ جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ إِنَّ الأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَعْظَمُ مِنْ بَعْضٍ فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ لأَوَّلِ النَّهَارِ فَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ رَجُلاَنِ ذَوَا عَدْلٍ أَنَّهُمَا أَهَلاَّهُ بِالأَمْسِ عَشِيَّةً. قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ إِنْ كَانَ مُؤَمَّلٌ حَفِظَهُ فَهُوَ غَرِيبٌ وَخَالَفَهُ الإِمَامُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2174 ابو وائل بیان کرتے ہیں ہمارے پاس حضرت عمر (رض) کا خط آیا ‘ ہم لوگ اس وقت خانقین میں موجود (اس میں یہ تحریر تھا ) پہلی کا چاند بعض اوقات چھوٹا بڑا ہوتا ہے تو جب تم دن کے وقت چاند دیکھ لوتوشام ہونے تک افطاری کرو ‘ جب تک دو مسلمان اس بات کی گواہی نہ دیں کہ وہ گزشتہ رات چاند دیکھ چکے ہیں (تو تم روزہ توڑ کر عیدالفطر مناؤ) ۔
2174 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِى وَائِلٍ قَالَ جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ إِنَّ الأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَكْبَرُ مِنْ بَعْضٍ فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلاَلَ نَهَارًا فَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تُمْسُوا إِلاَّ أَنْ يَشْهَدَ رَجُلاَنِ مُسْلِمَانِ أَنَّهُمَا أَهَلاَّهُ بِالأَمْسِ عَشِيَّةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2175 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
2175 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2176 ربعی بن حراش ایک صحابی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں رمضان کے آخری دن کے بارے میں لوگوں کے درمیان اختلاف ہوگیا ‘ دودیہاتی آئے اور انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اللہ کے نام کی قسم اٹھاکریہ گواہی دی کہ ان دونوں نے گزشتہ رات چاند دیکھا تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو ہدایت کی (وہ روزہ توڑدیں اور عیدالفطر منائیں) ۔
خلف نامی راوی نے یہ بات اضافی نقل کی تھی ‘(نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ہدایت کی) لوگ عیدگاہ کی طرف (عید کی نماز کے لیے) آئیں۔ یہ سند حسن ہے اور ثابت ہے۔
خلف نامی راوی نے یہ بات اضافی نقل کی تھی ‘(نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ہدایت کی) لوگ عیدگاہ کی طرف (عید کی نماز کے لیے) آئیں۔ یہ سند حسن ہے اور ثابت ہے۔
2176 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْمُقْرِئُ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِىِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِى آخِرِ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ فَقَدِمَ أَعْرَابِيَّانِ فَشَهِدَا عِنْدَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِاللَّهِ لأَهَلاَّ الْهِلاَلَ أَمْسِ عَشِيَّةً فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا . زَادَ خَلَفٌ وَأَنْ يَغْدُوا إِلَى مُصَلاَّهُمْ . هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ ثَابِتٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2177 ابوعمیر بن انس اپنے چچاؤ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے یہ گواہی دی گئی کہ لوگوں نے چاند دیکھ لیا ہے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کے حکم دیا (وہ روزہ توڑدیں اور اگلے دن صبح عید کی نماز کے لیے جائیں) ۔
یہ روایت حسن ہے اور اس کے بعد والی روایت بھی حسن ہے۔
یہ روایت حسن ہے اور اس کے بعد والی روایت بھی حسن ہے۔
2177 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّائِغُ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ عَنْ أَبِى عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ عُمُومَتِهِ قَالُوا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ عِنْدَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلاَلَ فَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا وَأَنْ يَغْدُوا مِنَ الْغَدِ إِلَى عِيدِهِمْ. هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ وَمَا بَعْدَهُ أَيْضًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2178 ابوبشر بیان کرتے ہیں میں نے ابوعمیربن انس کو اپنے بعض چچاؤں کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے ابونضراپنے انصاری چچاؤں کے حوالے سے بیان کرتے ہیں وہ لوگ دن کے آخری حصے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس موجود تھے ‘ کچھ سواروہاں آئے اور انھوں نے گواہی دی کہ وہ گزشتہ رات چاند دیکھ چکے ہیں تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو یہ ہدایت کی ‘ وہ (روزہ توڑدیں اور اگلے دن عیدگاہ کی طرف) عید کی نماز کی ادائیگی کے لیے جائیں۔
2178 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالُوا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى بِشْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُمَيْرِ بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ عَنْ عُمُومَتِهِ مِنَ الأَنْصَارِ وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ آخِرِ النَّهَارِ فَجَاءَ رَكْبٌ فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلاَلَ بَالأَمْسِ فَأَمَرَهُمُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يُفْطِرُوا وَإِذَا أَصْبَحُوا أَنْ يَغْدُوا إِلَى مُصَلاَّهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৭৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2179 فاطمہ بنت حسین بیان کرتی ہیں ایک شخص نے حضرت علی بن ابوطالب (رض) کے سامنے رمضان کا چاند دیکھنے کی گواہی دی تو حضرت علی بن ابوطالب (رض) نے روزہ رکھا۔
راوی بیان کرتے ہیں انھوں نے لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ اور فرمایا میں شعبان کے دن میں روزہ رکھ لوں ‘ یہ میرے نزدیک اس سے بہتر ہے ‘ میں رمضان کے دن میں روزہ نہ ہوں۔
امام شافعی فرماتے ہیں اگر عام لوگوں نے رمضان کا چاند نہ دیکھا ہو اور ایک عادل شخص اسے دیکھ لے ‘ تو میں اس بات کو جیح دوں گا کہ میں اس کی گواہی قبول کرلوں کیونکہ اثر سے بھی یہ بات منقول ہے اور احتیاط بھی اسی میں ہے۔ لیکن اس کے بعد امام شافعی نے یہ فتوی دیا رمضان کے لیے کم ازکم دو آدمیوں کی گواہی شرط ہے۔ امام شافعی اور ہمارے بعض اصحاب نے یہ بات بیان کی ہے میں اس بارے میں کم ازکم دو آدمیوں کی گواہی قبول کروں گا رقیاس یہی ہے ‘ ہر غائب چیز کے بارے میں گواہی کا یہی حکم ہے۔
راوی بیان کرتے ہیں انھوں نے لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ اور فرمایا میں شعبان کے دن میں روزہ رکھ لوں ‘ یہ میرے نزدیک اس سے بہتر ہے ‘ میں رمضان کے دن میں روزہ نہ ہوں۔
امام شافعی فرماتے ہیں اگر عام لوگوں نے رمضان کا چاند نہ دیکھا ہو اور ایک عادل شخص اسے دیکھ لے ‘ تو میں اس بات کو جیح دوں گا کہ میں اس کی گواہی قبول کرلوں کیونکہ اثر سے بھی یہ بات منقول ہے اور احتیاط بھی اسی میں ہے۔ لیکن اس کے بعد امام شافعی نے یہ فتوی دیا رمضان کے لیے کم ازکم دو آدمیوں کی گواہی شرط ہے۔ امام شافعی اور ہمارے بعض اصحاب نے یہ بات بیان کی ہے میں اس بارے میں کم ازکم دو آدمیوں کی گواہی قبول کروں گا رقیاس یہی ہے ‘ ہر غائب چیز کے بارے میں گواہی کا یہی حکم ہے۔
2179 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا الشَّافِعِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أُمِّهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ أَنَّ رَجُلاً شَهِدَ عِنْدَ عَلِىِّ بْنِ أَبِى طَالِبٍ رضى الله عنه عَلَى رُؤْيَةِ هِلاَلِ رَمَضَانَ فَصَامَ أَحْسَبُهُ قَالَ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَصُومُوا وَقَالَ أَصُومُ يَوْمًا مِنْ شَعْبَانَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أُفْطِرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ. قَالَ الشَّافِعِىُّ فَإِنْ لَمْ يَرَ الْعَامَّةُ هِلاَلَ شَهْرِ رَمَضَانَ وَرَآهُ رَجُلٌ عَدْلٌ رَأَيْتُ أَنْ أَقْبَلَهُ لِلأَثَرِ وَالاِحْتِيَاطِ. وَقَالَ الشَّافِعِىُّ بَعْدُ لاَ يَجُوزُ عَلَى رَمَضَانَ إِلاَّ شَاهِدَانِ قَالَ الشَّافِعِىُّ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا لاَ أَقْبَلُ عَلَيْهِ إِلاَّ شَاهِدَيْنِ وَهُوَ الْقِيَاسُ عَلَى كُلِّ مُغَيَّبٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب چاند دیکھنے کی گواہی
2180 امام شافعی فرماتے ہیں جو شخص اکیلا رمضان کا چاند دیکھ لے ‘ تو وہ اس دن روزہ رکھے اور جو شخص شوال کا چاند دیکھ لے ‘ وہ اس دن روزہ نہ رکھے اور اس بات کو مخفی رکھے (لیکن اس کیلے کی گواہی پر دوسرے لوگ روزہ رکھنے یا نہ رکھنے والے نہیں ہوں گے) ۔
2180 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِىُّ مَنْ رَأَى هِلاَلَ رَمَضَانَ وَحْدَهُ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ رَأَى هِلاَلَ شَوَّالٍ وَحْدَهُ فَلْيُفْطِرْ وَلْيُخْفِى ذَلِكَ.
তাহকীক: