সুনানুদ্দারা ক্বুতনী (উর্দু)

سنن الدار قطني

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫৮ টি

হাদীস নং: ২১৪১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بلاعنوان
2141 حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے روزے رکھنے اس وقت تک شروع نہ کروجب تک پہلی کا چاند نہ دیکھ لو اور اس وقت تک ختم نہ کرو جب تک پہلی کا چاند نہ دیکھ لو ‘ اگر بادل چھائے ہوئے ہوں تو تیس دن روزے رکھو۔

یہ روایت موطا میں نافع کے حوالے سے ‘ ابن دینار کے حوالے سے ‘ ابن عمر (رض) سے منقول ہے ‘ جس میں یہ الفاظ ہیں تم اس کی گنتی پوری کرو۔
2141 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ مِنْ أَصْلِهِ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِىُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُومُوا ثَلاَثِينَ ». هُوَ فِى الْمُوَطَّإِ عَنْ نَافِعٍ وَابْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ « فَاقْدُرُوا لَهُ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৪২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بلاعنوان
2142 حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے (مہینہ) بعض اوقات انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ تم اس وقت تک روزہ رکھنا نہ شروع کروجب تک اسے (رمضان کے چاند کو) دیکھ نہیں لیتے اور اس وقت تک روزے رکھنابندنہ کروجب تک اسے یعنی (شوال کے) چاند کو نہیں دیکھ لیتے ‘ اگر بادل چھائے ہوں تو اس کی گنتی پوری کرلو “۔ (ابن مرشدنامی راوی نے یہ بات اضافی نقل کی ہے ‘ نافع بیان کرتے ہیں ) جب شعبان کے انتیس دن گزرجاتے تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کسی سے کہتے جو چاند نظر آنے کا جائزہ لے ‘ اگر نظر آجاتا توٹھیک ‘ اگر نظرنہ آتا تو اس دوران چاند کو دیکھنے میں کوئی بادل یاغبارحائل نہ ہوتا تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) اگلے دن روزہ نہیں رکھتے تھے اور اگر (چاند نظر نہ آتا تو ) اور اسے دیکھنے میں غباریابادل حائل ہوتا تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) اگلے دن روزہ رکھتے تھے۔

راوی بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) لوگوں کے ساتھ ہی روزے رکھنے ختم کرتے تھے۔
2142 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُرْشِدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَلاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ ». زَادَ ابْنُ مُرْشِدٍ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا مَضَى شَعْبَانُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ يَبْعَثُ مَنْ يَنْظُرُ فَإِنْ رَأَى فَذَاكَ وَإِنْ لَمْ يَرَ وَلَمْ يَحُلْ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ وَلاَ قَتَرٌ أَصْبَحَ مُفْطِرًا وَإِنْ حَالَ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرٌ أَصْبَحَ صَائِمًا قَالَ وَكَانَ لاَ يُفْطِرُ إِلاَّ مَعَ النَّاسِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৪৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بلاعنوان
2143 ربعی بن حراش ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حوالے سے بیان کرتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خبردار ! (رمضان کے) مہینے سے پہلے (احتیاط کے طور پر روزہ نہ رکھو) اس وقت تک جب تک تم چاند نہیں دیکھ لیتے تیس دنوں کی تعدادپوری کرلو) اور روزے رکھنے اس وقت تک بندنہ کروجب تک تم چاند نہیں دیکھ لیتے (یا تعداد پوری نہیں کرتے) ۔

اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
2143 - حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ التَّيْمِىُّ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنْ رِبْعِىِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ». كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৪৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بلاعنوان
2144 ربعی بن حراش ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک صحابی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے

”(رمضان کے) مہینے سے پہلے (احتیاط کے طورپر روزہ) نہ رکھو ‘ روزے رکھنے اس وقت تک شروع نہ کروجب تک چاند نہ دیکھ لویاتیس کی تعداد مکمل نہ کرلو ‘ پھر روزے رکھنے شروع کرو اور اس وقت تک روزے رکھنے ختم نہ کرو۔ جب تک (شوال کا چاند) نہ دیکھ لو یاتیس کی تعدادمکمل نہ کرلو “۔
2144 - حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُبَشِّرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِىِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ لاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاَثِينَ ثُمَّ تَصُومُوا وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوُا الْهِلاَلَ أَوْ تُتِمُّوا أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاَثِينَ ». وَهَذَا مِثْلُهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৪৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بلاعنوان
2145 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ‘ جو اس کی مانند ہے۔
2145 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَغَوِىُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِىِّ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৪৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بلاعنوان
2146 ابوبختری بیان کرتے ہیں ہمیں ذات شقوق کے مقام پر عید کا چاند نظر آیا ‘ ہمیں اس بارے میں شک ہوا ‘ کیا پہلی کا چاند ہے یا دوسری یا تیسری تاریخ کا ہے ‘ تو ہم نے ایک شخص کو حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے پاس بھیجا تو حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے کہا اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو چاند دیکھنے کے ساتھ متعلق کیا ہے ‘ اگر تم پر بادل چھائے ہوں توشعبان مہینے کی تیس کی تعداد پوری کرلو۔

یہ روایت شعبہ سے منقول ہونے کے حوالے سے مستند ہے۔ دیگر راویوں نے اسے عمروبن مرہ کے حوالے سے نقل ہے۔ صرف آدم نامی راوی نے اس حدیث میں ” شعبان کی تعداد “ کے الفاظ نقل کیے ہیں۔ اور یہ راوی ثقہ ہے۔
2146 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِى إِيَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِى عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِىِّ الطَّائِىَّ يَقُولُ أَهْلَلْنَا هِلاَلَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ الشُّقُوقِ فَشَكَكْنَا فِى الْهِلاَلِ فَبَعَثْنَا رَجُلاً إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ اللَّهَ أَمَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِىَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلاَثِينَ ». صَحِيحٌ عَنْ شُعْبَةَ. وَرَوَاهُ حُصَيْنٌ وَأَبُو خَالِدٍ الدَّالاَنِىُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ. وَلَمْ يَقُلْ فِيهِ « عِدَّةَ شَعْبَانَ » غَيْرُ آدَمَ وَهُوَ ثِقَةٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৪৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بلاعنوان
2147 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ‘(راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں ) حضرت ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ” اسے (پہلی کے چاند کو) دیکھ کر روزے رکھنے شروع کرو اور اسے دیکھ کر ہی روزے رکھنے ختم کرو اور اگر بادل چھائے ہوئے ہوں توتیس کی تعدادپوری کرو۔

امام دار قطنی بیان کرتے ہیں یعنی شعبان کے تیس دن کی تعداد پوری کرلو۔ یہ روایت شعبہ سے منقول ہونے کے حوالے سے مستند ہے۔ امام بخاری نے اس روایت کو آدم کے حوالے سے شعبہ سے نقل کیا ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں ” تم شعبان کے مہینے کی تیس دن کی تعداد پوری کرلو “۔ اس روایت میں لفظ ” یعنی “ نقل نہیں کیا گیا ہے۔
2147 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَوْ قَالَ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ -صلى الله عليه وسلم- « صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُبِّىَ عَلَيْكُمُ الشَّهْرُ فَعُدُّوا ثَلاَثِينَ ». يَعْنِى عُدُّوا شَعْبَانَ ثَلاَثِينَ. صَحِيحٌ عَنْ شُعْبَةَ كَذَا رَوَاهُ آدَمُ عَنْ شُعْبَةَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِىُّ عَنْ آدَمَ عَنْ شُعْبَةَ وَقَالَ فِيهِ « فَعُدُّوا شَعْبَانَ ثَلاَثِينَ » وَلَمْ يَقُلْ يَعْنِى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৪৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بلاعنوان
2148 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے رمضان کے لیے شعبان کی پہلی کے چاند کا حساب رکھو اور شعبان کو رمضان کے ساتھ نہ ملاؤ ‘ البتہ اگر کسی شخص کے دوسرے ان کے معمول کے مطابق اس دن روزہ ہو (تو اس کا حکم مختلف ہوگا) پہلی کے (چاند کو) دیکھ کر روزے رکھے شروع کرو اور اسے دیکھ کر ہی روزے رکھنے بندکرو اور اگر بادل چھائے ہوں تو تعداد پوری کرنا تمہارے لیے مشکل نہیں ہوگا۔
2148 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَبُو الْحُسَيْنِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَحْصُوا هِلاَلَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ وَلاَ تَخْلِطُوا بِرَمَضَانَ إِلاَّ أَنْ يُوَافِقَ ذَلِكَ صِيَامًا كَانَ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ وَصُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَإِنَّهَا لَيْسَتْ تُغَمَّى عَلَيْكُمُ الْعِدَّةُ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৪৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بلاعنوان
2149 حضرت قیس بن طلق اپنے والد سے روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ” اللہ تعالیٰ نے پہلی کے چاند کو لوگوں کے لیے دنوں کا حساب رکھنے کے لیے رکھا ہے ‘ جب تم اسے دیکھو توروزے رکھنے شروع کرو اور جب تم اسے دیکھو توروزے رکھنے بندکرو اور اگر تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس کی تعداد پوری کرلو۔

محمد بن جابرراوی بیان کرتے ہیں میں نے یہ روایت ان سے سنی ہے ‘ اس کے علاوہ مزید دوروایات سنی ہیں۔ محمد بن جابرنامی راوی مستند نہیں ہیں ‘ یہ ضعیف ہیں۔
2149 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا لُوَيْنٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « جَعَلَ اللَّهُ الأَهِلَّةَ مَوَاقِيتَ لِلنَّاسِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا الْعِدَّةَ ثَلاَثِينَ ». قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ سَمِعْتُ هَذَا مِنْهُ وَحَدِيثَيْنِ آخَرَيْنِ. مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ لَيْسَ بِالْقَوِىِّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بلاعنوان
2150 حضرت رافع بن خدیج (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا رمضان کے لیے شعبان کی تعداد کا خیال رکھو ‘ رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے روزہ نہ رکھو ‘ جب تم اسے (پہلی کے چاند کو) دیکھ لو توروزے رکھنے شروع کرو اور جب تم اسے دیکھ لوتوروزے رکھنے بند کرو ‘ اگر تم پر بادل چھائے ہوں تو تیس دن کی تعدادپوری کرلو اور پھر روزے رکھنے بند کرو ‘ کیونکہ مہینہ بعض اوقات اتنا ‘ اور اتنا بھی ہوتا ہے ‘ تیسری مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے انگوٹھے کو اندر کی طرف کرلیا۔
2150 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِىِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِىٍّ الأَسْلَمِىِّ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَحْصُوا عِدَّةَ شَعْبَانَ لِرَمَضَانَ وَلاَ تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِصَوْمٍ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلاَثِينَ يَوْمًا ثُمَّ أَفْطِرُوا فَإِنَّ الشَّهْرَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ». وَخَنَسَ إِبْهَامَهُ فِى الثَّالِثَةِ. الْوَاقِدِىُّ لَيْسَ بِالْقَوِىِّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بلاعنوان
2151 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں مہینہ بعض اوقات انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ‘ اس لیے تم روزے رکھنے اس وقت تک شروع نہ کرلو ‘ جب تک تم چاند دیکھ نہ لو اور روزے رکھنے اس وقت تک بندنہ کرو جب تک اسے نہ دیکھ لو اور اگر بادل چھائے ہوں توتیس کی تعداد پوری کرلو ‘ تمہاری عیدالفطر اس دن ہوگی جب سب لوگ عیدالفطرکریں گے اور عیدالاضحی اس دن ہوگی جب سب لوگ عیدالاضحی کریں گے۔ عرفہ سارے کا ساراوقوف کرنے کی جگہ ہے ‘ منی سارے کا سارا قربانی کرنے کی جگہ ہے اور مکہ کی ہرگلی قربانی کرنے کی جگہ ہے۔

حماد بن زید نے اس روایت کو ایوب کے حوالے سے نقل کیا ہے اور اسے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک مرفوع روایت کے طورپرنقل کیا ہے۔
2151 - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ.وَحَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبُسْرِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَلاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا الْعِدَّةَ ثَلاَثِينَ فِطْرُكُمْ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَأَضْحَاكُمْ يَوْمَ تُضَحُّونَ وَكُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ مَنْحَرٌ. رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ وَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بلاعنوان
2152 یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے ‘ تاہم اس میں ‘ اس کے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہونے کا تذکرہ ہے جبکہ اسی روایت کی متابعت بھی موجود ہے۔
2152 - حَدَّثَنَاهُ ابْنُ مِرْدَاسٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ وَذَكَرَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَهُ. وَتَابَعَهُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بلاعنوان
2153 حضرت ابوہریرہ (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ” چاند کو دیکھ کر روزے رکھنے شروع کرو “۔

پھر انھوں نے اس کے حسب سابق حدیث نقل کی ہے ‘ لیکن اس میں اس بات کا ذکر نہیں کیا ” مہینہ بعض اوقات انتیس دن کا ہوتا ہے۔

اس روایت کے راوی روح بن قاسم ثقہ ہیں۔
2153 - حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ جَمِيلٍ حَدَّثَنَا ابْنُ سَوَاءٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- « صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ ». ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَى آخِرِهِ وَلَمْ يَذْكُرِ « الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ ». رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ مِنَ الثِّقَاتِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بلاعنوان
2154 حضرت ابوہریرہ (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں تمہارے روزے اسی دن ہوگے ‘ جب سب لوگ روزہ رکھیں گے اور تمہاری عیداسی دن ہوگی جب سب لوگ عید کریں گے۔
2154 - حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّاغَانِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ خَالِدٍ وَثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ جَمِيعًا عَنِ الْمَقْبُرِىِّ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « صَوْمُكُمْ يَوْمَ تَصُومُونَ وَفِطْرُكُمْ يَوْمَ تُفْطِرُونَ ».
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب بلاعنوان
2155 حضرت ابوہریرہ (رض) ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں روزہ اسی دن ہوگا جب تم سب روزہ رکھو گے اور عیدالفطر اسی دن ہوگی جب تم سب عیدالفطر کروگے اور بڑی عیداسی ہوگی جب تم سب لوگ عید قربان کروگے۔

اس روایت کا راوی واقدی ضعیف ہے۔
2155 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِىِّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ حَدَّثَنَا الْوَاقِدِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الزُّهْرِىُّ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ الْمَقْبُرِىِّ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « الصَّوْمُ يَوْمَ تَصُومُونَ وَالْفِطْرُ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَالأَضْحَى يَوْمَ تُضَحُّونَ ». الْوَاقِدِىُّ ضَعِيفٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سحری کا وقت
2156 حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جب کوئی شخص اذان کی آوازسنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو ‘ تو اس وقت نہ رکھے جب تک اس سے اپنی ضرورت پوری نہ کرے۔

امام ابوداؤد بیان کرتے ہیں اس روایت کی سند کو روح بن عباد ہ نامی راوی نے اسی طرح نقل کیا ہے ‘ جیسے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ہے۔
2156 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِى سَلَمَةَ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِذَا سَمِعَ أَحَدُكُمُ النِّدَاءَ وَالإِنَاءُ عَلَى يَدِهِ فَلاَ يَضَعْهُ حَتَّى يَقْضِىَ حَاجَتَهُ مِنْهُ ». قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَسْنَدَهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ كَمَا قَالَ عَبْدُ الأَعْلَى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سحری کا وقت
2157 عبدالرحمن بن عائش ‘ جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی ہیں ‘ وہ یہ فرماتے ہیں فجر دوطرح کی ہوتی ہے ‘ ایک وہ جو آسمان میں لمبائی کی سمت میں پھیلتی ہے ‘ یہ آدمی کی سحری میں رکاوٹ نہیں ہوتی ‘ اس وقت میں نماز (فجر) اداکرناجائز نہیں لیکن جب یہ چوڑائی کی سمت میں پھیل جائے تو اس وقت (سحری کا) کھان احرام ہوجاتا ہے اور اس وقت آپ صبح کی نماز ادا کرسکتے ہیں۔ یہ روایت مستند ہے۔
2157 - حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ أَبُو الْفَضْلِ الْخَوَارِزْمِىُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَائِشٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ الْفَجْرُ فَجْرَانِ فَأَمَّا الْمُسْتَطِيلُ فِى السَّمَاءِ فَلاَ يَمْنَعَنَّ السَّحُورَ وَلاَ تَحِلُّ فِيهِ الصَّلاَةُ وَإِذَا اعْتَرَضَ فَقَدْ حَرُمَ الطَّعَامُ فَصَلِّ صَلاَةَ الْغَدَاةِ. إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سحری کا وقت
2158 محمد بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں مجھے اس بات کا پتہ چلا ہے ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمایا ہے فجر دوطرح کی ہوتی ہے ‘ ایک جو بھیڑیے کی دم کی طرح کی ہوتی ہے ‘ وہ کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتی تاہم جو چوڑائی سمت میں پھیلتی ہے ‘ اس میں نماز پڑھناحلال ہوجاتا ہے اور سحری کا (کھانا) حرام ہوجاتا ہے۔ یہ روایت مرسل ہے۔
2158 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ أَبُو سَلَمَةَ الْمَخْزُومِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى فُدَيْكٍ عَنِ ابْنِ أَبِى ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « هُمَا فَجْرَانِ فَأَمَّا الَّذِى كَأَنَّهُ ذَنَبُ السِّرْحَانِ فَإِنَّهُ لاَ يُحِلُّ شَيْئًا وَلاَ يُحَرِّمُهُ وَأَمَّا الْمُسْتَطِيلُ الَّذِى عَارَضَ الأُفُقَ فَفِيهِ تَحِلُّ الصَّلاَةُ وَيَحْرُمُ الطَّعَامُ ». هَذَا مُرْسَلٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৫৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سحری کا وقت
2159 حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بات ارشاد فرمائی فجر دوطرح کی ہوتی ہے ‘ ایک وہ ہے جس میں (فجر کی) نماز پڑھنا جائز نہیں ہوتا ‘(سحری کا کھانا) کھاناحلال ہوتا ہے ایک فجر وہ ہے جس میں (سحری) کا کھانا ‘ کھاناجائز نہیں ہوتا ‘ اس میں (فجر کی نماز) اداکرناجائز ہوتا ہے۔ اس روایت کو زبیری نے مرفوع روایت کے طورپرنقل کیا ہے۔

فریابی اور دیگرمحدثین نے اسے موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ جبکہ ابن جریج کے شاگردوں نے ان کے حوالے سے موقوف روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔
2159 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِىِّ بْنِ مُحْرِزٍ الْكُوفِىُّ بِمِصْرَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الْفَجْرُ فَجْرَانِ فَجْرٌ تَحْرُمُ فِيهِ الصَّلاَةُ وَيَحِلُّ فِيهِ الطَّعَامُ وَفَجْرٌ يَحْرُمُ فِيهِ الطَّعَامُ وَتَحِلُّ فِيهِ الصَّلاَةُ ».

لَمْ يَرْفَعْهُ غَيْرُ أَبِى أَحْمَدَ الزُّبَيْرِىِّ عَنِ الثَّوْرِىِّ. وَوَقَفَهُ الْفِرْيَابِىُّ وَغَيْرُهُ عَنِ الثَّوْرِىِّ. وَوَقَفَهُ أَصْحَابُ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْهُ أَيْضًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৬০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب سحری کا وقت
2160 سالم بن ابوعبید بیان کرتے ہیں میں حضرت ابوبکرصدیق (رض) کے زیر تربیت تھا ‘ ایک رات انھوں نے جتنا الہ کو منظور تھا ‘ اتنی دیر نماز ادا کی ‘ پھر فرمایا صبح صادق ہوگئی ہے ؟ سالم بیان کرتے ہیں میں باہر آیا اور واپس آکر بتایا آسمان میں سفیدی اوپر کی طرف جارہی ہے (لمبائی کی سمت میں ہے) تو حضرت ابوبکرصدیق (رض) نے جتنا اللہ کو منظور تھا ‘ اتنی دیرنوافل اداکیے پھر فرمایا جاؤجاکردیکھو کیا صبح صادق ہوگئی ہے ؟ میں پھر آیا اور آکر جواب دیا کہ آسمان میں چوڑائی کی سمت میں سرخی پھیل گئی ہے ‘ تو انھوں نے فرمایا ہاں ! اب وقت ہوگیا ہے ‘ میرا سحری کا کھانالے آؤ۔
2160 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ هِلاَلِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ كُنْتُ فِى حِجْرِ أَبِى بَكْرٍ الصِّدِّيقِ فَصَلَّى ذَاتَ لَيْلَةٍ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ اخْرُجْ فَانْظُرْ هَلْ طَلَعَ الْفَجْرُ. قَالَ فَخَرَجْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَقُلْتُ قَدِ ارْتَفَعَ فِى السَّمَاءِ أَبْيَضَ فَصَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ اخْرُجْ فَانْظُرْ هَلْ طَلَعَ الْفَجْرُ فَخَرَجْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَقُلْتُ لَهُ قَدِ اعْتَرَضَ فِى السَّمَاءِ أَحْمَرَ. فَقَالَ هِيتَ الآنَ فَأَبْلِغْنِى سَحُورِى.
tahqiq

তাহকীক: